Talat is again leading the charge by setting up stage for grand operation in north and south Waziristan. The solution is not to push these terrorists from one district to another where they can re-group again. The goal ought to be to hunt them and kill them where ever they flee inside Pakistan. If they are outside Pakistan then of course its not our headache.
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حالیہ فوجی آپریشن کو شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے لیکن تاحال طالبان کے کسی اہم کمانڈر یا رہنما کو ہلاک یا گرفتار نہیں کیا جا سکا جس سےسوات کے عوام کے ذہنوں میں کئی قسم کے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن کے تین اضلاع سوات، دیر لوئر اور بونیر میں گزشتہ ماہ باقاعدہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جس میں فوج کے دعوے کے مطابق اب تک ضلع بونیر اور دیر لویر کے زیادہ تر علاقوں کو کلئر کردیا گیا ہے۔ ان دو اضلاع میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ بونیر میں ستر فیصد علاقے میں حکومت کے مختلف اداروں نے کام شروع کردیا ہے اور آئندہ چند دنوں تک وہاں مقامی انتظامیہ کو مکمل طورپر فعال کردیا جائے گا۔
تاہم فوج کے مطابق ابھی تک صرف سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کو شدت پسندوں سے مکمل طور پر صاف کیا گیا ہے۔ دو دن پہلے مینگورہ کے ایک مختصر دورے کے دوران شہر کے کسی مقام پر طالبان کی موجودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ مینگورہ میں سب سے پہلے طالبان زمرد کی کانوں سے پسپا ہونا شروع ہوئے جہاں توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے شدید شیلنگ کی تھی۔
کانوں کے قریب رہنے والے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ زمرد کی کانوں پر بمباری سے طالبان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے کئی ساتھی بھی ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ زمرد کی کانوں سے طالبان ایسے پسپا ہوئے کہ کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوسکا اور وہ راتوں رات وہاں سے چلے گئے۔ اس طرح سہراب خان چوک اور گرین چوک سے بھی شدت پسند بغیر کسی مزاحمت کے چلے گئے۔
شہر کے رہنے والے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جب شدت پسندوں کو معلوم ہوا کہ قمبر پر سکیورٹی فورسز نے قبضہ کرلیا ہے تو مینگورہ شہر میں موجود طالبان کے حوصلے پست ہونا شروع ہو گئے اور انہوں نے ایک ایک کرکے تمام علاقے خالی کردیے۔
لیکن مبصرین کا سوال یہ ہے کہ یہ شدت پسند آخر گئے کہاں؟ سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پورے سوات کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور شدت پسندوں کے نکلنے کے تمام راستے بند کردیے ہیں۔
مینگورہ میں لڑائی کے دوران گھروں کے اندر محصور رہنے والے چند افراد نے یہ بھی بتایا کہ سوات میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چند مقامات پر طالبان کے اصل ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
تاہم کئی لوگ یہ بھی کہتے رہے کہ مینگورہ شہر سے باہر ہونے والی لڑائی میں زیادہ تر عام شہریوں کے گھر نشانہ بنے ہیں جس میں شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
مینگورہ میں تین گھنٹے کے قیام کے دوران یہ بھی کھلا کہ سکیورٹی فورسز پر مکمل اعتماد ابھی بحال نہیں ہوسکا ہے اور لوگ مخمصے کا شکار نظرآتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سوال بار بار اٹھاتے رہے کہ سوات میں تازہ آپریشن کا ایک ماہ پورا ہوگیا ہے لیکن تاحال طالبان کے کسی اہم کمانڈر کو ہلاک یا گرفتار نہیں کیا سکا ہے۔
چند دن قبل صوبائی حکومت کی طرف سے سوات کے اکیس اہم ترین کمانڈروں کے نام اور تصویریں جاری کی گئیں جب کہ ان کمانڈروں کے سروں کی قیمتوں کا بھی اعلان کیا گیا۔
دوسری طرف مینگورہ میں طالبان کےلیے لوگوں میں وہ ہمدردی بھی دیکھنے کو نہیں ملی جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔
سہراب خان چوک میں ایک بزرگ نے کہا کہ ‘مینگورہ میں کوئی طالب نہیں رہا۔ طالبان کا وجود یہاں سے ختم ہوگیا ہے، ان کا اب صرف نام رہ گیا ہے‘۔
لیکن اس کے باوجود لوگ طالبان کی کھلے عام مخالفت سے بھی گریز کرتے ہیں جس سے بظاہر ان کے خوف کا اظہار ہوتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سوات کے عوام طالبان کے خوف سے اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک سکیورٹی فورسز جنگجوؤں کے خلاف کوئی بڑی اہم کامیابی حاصل نہیں کر لیتیں۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مینگورہ شہر میں طالبان کا کوئی خاص کمانڈر موجود نہیں تھا بلکہ یہاں زیادہ تر وہ جنگجو تھے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران بھرتی کئے گئے تھے۔
Talat is again leading the charge by setting up stage for grand operation in north and south Waziristan. The solution is not to push these terrorists from one district to another where they can re-group again. The goal ought to be to hunt them and kill them where ever they flee inside Pakistan. If they are outside Pakistan then of course its not our headache.
@ Kashif
I endorse your realistic comments.
@Kashif
BBC totally agrees with you.
’طالبان کی کھلی مخالفت سے گریز‘
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حالیہ فوجی آپریشن کو شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے لیکن تاحال طالبان کے کسی اہم کمانڈر یا رہنما کو ہلاک یا گرفتار نہیں کیا جا سکا جس سےسوات کے عوام کے ذہنوں میں کئی قسم کے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن کے تین اضلاع سوات، دیر لوئر اور بونیر میں گزشتہ ماہ باقاعدہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جس میں فوج کے دعوے کے مطابق اب تک ضلع بونیر اور دیر لویر کے زیادہ تر علاقوں کو کلئر کردیا گیا ہے۔ ان دو اضلاع میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ بونیر میں ستر فیصد علاقے میں حکومت کے مختلف اداروں نے کام شروع کردیا ہے اور آئندہ چند دنوں تک وہاں مقامی انتظامیہ کو مکمل طورپر فعال کردیا جائے گا۔
تاہم فوج کے مطابق ابھی تک صرف سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کو شدت پسندوں سے مکمل طور پر صاف کیا گیا ہے۔ دو دن پہلے مینگورہ کے ایک مختصر دورے کے دوران شہر کے کسی مقام پر طالبان کی موجودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ مینگورہ میں سب سے پہلے طالبان زمرد کی کانوں سے پسپا ہونا شروع ہوئے جہاں توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے شدید شیلنگ کی تھی۔
کانوں کے قریب رہنے والے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ زمرد کی کانوں پر بمباری سے طالبان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے کئی ساتھی بھی ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ زمرد کی کانوں سے طالبان ایسے پسپا ہوئے کہ کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوسکا اور وہ راتوں رات وہاں سے چلے گئے۔ اس طرح سہراب خان چوک اور گرین چوک سے بھی شدت پسند بغیر کسی مزاحمت کے چلے گئے۔
شہر کے رہنے والے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جب شدت پسندوں کو معلوم ہوا کہ قمبر پر سکیورٹی فورسز نے قبضہ کرلیا ہے تو مینگورہ شہر میں موجود طالبان کے حوصلے پست ہونا شروع ہو گئے اور انہوں نے ایک ایک کرکے تمام علاقے خالی کردیے۔
لیکن مبصرین کا سوال یہ ہے کہ یہ شدت پسند آخر گئے کہاں؟ سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پورے سوات کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور شدت پسندوں کے نکلنے کے تمام راستے بند کردیے ہیں۔
مینگورہ میں لڑائی کے دوران گھروں کے اندر محصور رہنے والے چند افراد نے یہ بھی بتایا کہ سوات میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چند مقامات پر طالبان کے اصل ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
تاہم کئی لوگ یہ بھی کہتے رہے کہ مینگورہ شہر سے باہر ہونے والی لڑائی میں زیادہ تر عام شہریوں کے گھر نشانہ بنے ہیں جس میں شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
مینگورہ میں تین گھنٹے کے قیام کے دوران یہ بھی کھلا کہ سکیورٹی فورسز پر مکمل اعتماد ابھی بحال نہیں ہوسکا ہے اور لوگ مخمصے کا شکار نظرآتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سوال بار بار اٹھاتے رہے کہ سوات میں تازہ آپریشن کا ایک ماہ پورا ہوگیا ہے لیکن تاحال طالبان کے کسی اہم کمانڈر کو ہلاک یا گرفتار نہیں کیا سکا ہے۔
چند دن قبل صوبائی حکومت کی طرف سے سوات کے اکیس اہم ترین کمانڈروں کے نام اور تصویریں جاری کی گئیں جب کہ ان کمانڈروں کے سروں کی قیمتوں کا بھی اعلان کیا گیا۔
دوسری طرف مینگورہ میں طالبان کےلیے لوگوں میں وہ ہمدردی بھی دیکھنے کو نہیں ملی جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔
سہراب خان چوک میں ایک بزرگ نے کہا کہ ‘مینگورہ میں کوئی طالب نہیں رہا۔ طالبان کا وجود یہاں سے ختم ہوگیا ہے، ان کا اب صرف نام رہ گیا ہے‘۔
لیکن اس کے باوجود لوگ طالبان کی کھلے عام مخالفت سے بھی گریز کرتے ہیں جس سے بظاہر ان کے خوف کا اظہار ہوتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سوات کے عوام طالبان کے خوف سے اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک سکیورٹی فورسز جنگجوؤں کے خلاف کوئی بڑی اہم کامیابی حاصل نہیں کر لیتیں۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مینگورہ شہر میں طالبان کا کوئی خاص کمانڈر موجود نہیں تھا بلکہ یہاں زیادہ تر وہ جنگجو تھے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران بھرتی کئے گئے تھے۔
Leave your response!
You must be logged in to post a comment.
Recent Comments
Discuss Topics
Blog Comments
Search