l
LAHORE – A spokesman for Tehreek-e-Insaaf party said Imran Khan had complained of severe stomach pain after his regular exercise routine at his residence in Lahore this morning.
“He suffered cramps in his small intestine during the exercises and was taken to the Shaukat Khanum hospital for diagnosis where doctors decided to do the surgery,” he said.
Post his operation, Imran has been shifted to a private room and doctors have advised him rest for three to four days.
Wish him a speedy recovery
الله تعالیٰ عمران بھی کو صحت کاملہ اتا فرماے اور سارے پاکستان پر رحم فرماے. میری دعائیں عمران خان اور سب پاکستانیوں کے لئے ہیں. یا اللہہمارے حال پر رحم فرما .اس مملکت خداداد کو عمران خان جیسے لوگوں کی بری ضرورت ہے.
god bless u imran…hope u will recover soon…we all love u…
I pray for imran khan for his long life ….
lets pray all pakistanis together for his health….we need sincere people like him
may ALLAH bless him with good health
Allah Khair karay
May ALLAH be with you and we pray for your early recovery……..
You are our pride….Get well soon…..
May Allah bless our cricketing hero
God bless u Imran Khan
May Allah bless you My leader
I am praying for you
GOD bless imran khan
Get Well Soon !!!
Wish Imran Khan a speedy recovery
May Allah give him health… our last hope…
Imran! Live long and prosper
Get well soon, Imran… Allah Bless you the best of health
Sorry for Typo,
May Allah Bless you the best of health
Get well soon Imran Bhai, we love you very much, and are praying for your fast recovery.
May you be healthy very soon.
might be a good time for imran to go home and rest. he doesnt deserve to remain in politics.
dear affendi
only ghaddari needs to be in politics, right ? only he and other mir jaffar + mir sadiq shoulstay there to make sure they sell each nook & corner of country, right ? or u must be mqm bhayaa
@affendi
Cudnt agree more
Get well really really soooooon ,my dear Imran.
Aamir khan : Chief organisor Attock (1996).
get well soon. God bless.
Get well soon Khan………
Get well soon this nation needs you great man.
http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Columns/16-Nov-2009/6081
شوکت خانم میموریل ہسپتال میں اتنے گلدستے پڑے تھے جتنے شائد مریض بھی ادھر نہیں ہوں گے۔ مریض بھی پھولوں کی طرح ہوتے ہیں۔ عمران خان نے پھولوں کو مرجھانے سے بچانے کا جو بندوبست کیا اس پر پاکستانی عوام ہی نہیں دنیا اس کی شیدائی ہے۔ سیاستدان کی حیثیت سے شاید کم لوگ اسے جانتے ہیں مگر کینسر ہسپتال کے بانی کی حیثیت سے کون اسے نہیں جانتا؟ میرے خیال میں یہ اس کا ایسا کارنامہ ہے جو اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا، چنانچہ جب اس کے آپریشن کی اطلاع ملی تو مجھے ذرا تشویش نہیں ہوئی جس کے ساتھ کروڑوں لوگوں کی دعائیں ہوں اسے کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔ شوکت خانم میموریل ہسپتال میں اس کے لئے بہت سے گلدستے مریضوں کی طرف سے بھی رکھے گئے تھے۔ ان میں سے بہت سے صحت یاب ہو کر واپس چلے گئے مگر ہسپتال میں جو محبت، خلوص اور توجہ انہیں ملی اس کی بنیاد پر ہسپتال کے بانی کے ساتھ ان کی محبت ان کے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ سے عیاں تھی۔ ایک مریض کے گلدستے کے ساتھ چمٹی ہوئی چٹ نے مجھے رلا کر رکھ دیا۔ ’’مجھے نہیں معلوم میری زندگی اور کتنی ہے، مگر میں دعاگو ہوں میری عمر بھی تمہیں لگ جائے‘‘
ایسی سینکڑوں چٹیں،کارڈز اور پوسٹرز شوکت خانم ہسپتال کے اس کمرے کے باہر لگے تھے جس میں قومی ہیرو موجودہ نظام اور اس کے ’’پہرے داروں‘‘ کے خلاف یوں گرج برس رہا تھا کہ اس کے بیمار ہونے کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔ ارادہ یہی تھا ایک سیکنڈ کے لئے اسے دیکھیں گے، دعا دیںگے اور اجازت چاہیں گے کہ مریض کے پاس زیادہ دیر رکنا اخلاقی روایات کے برعکس ہے۔ سو اپنے عزیز رائے اشفاق احمد کے ساتھ اس کی عیادت کے لئے پہنچا تو دوردراز علاقوں سے تشریف لائے ہوئے سینکڑوں لوگ اس کے انتظار میں تھے کہ کب سو کر اٹھے اور اس کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔ برادرم حفیظ اللہ خان نیازی نے اسے شاید بتا دیا تھا کہ انتظارگاہ میں ایک قلم کار بھی ہے سو عمران خان کی ہمشیرہ اور ہماری بھابھی بیگم حفیظ اللہ خان باہر آئیں اور مجھے اندر لے گئیں۔ وہ کرسی پر بیٹھا تھا اور اب وہ ایک واحد شخص ہے جسے لوگ ’’کرسی‘‘ پر بیٹھے دیکھنا بھی نہیں چاہتے ہیں۔ میں نے ہاتھ ملایا، دعا دی، اجازت چاہی تو اس نے ہاتھ پکڑ کر مجھے پاس بٹھا لیا۔ اس کا یہ جملہ میرے لئے اعزاز تھا کہ ’’جتنی دلیری سے تم لکھ رہے ہو، کم لوگ لکھتے ہیں‘‘ عرض کیا یہ دلیریاں ہمارے کھاتے میں پڑ جاتی ہیں ورنہ اصل دلیر تو وہ ہے جو سب کچھ چھاپ دیتا ہے، تب جناب مجید نظامی کے لئے جن نیک جذبات کا اظہار اس نے کیا اس پر الگ کالم درکار ہے!
خیال تھا میں جب اسے ملوں گا تو تکلیف سے کراہ رہا ہو گا، چہرہ ویران ہو گا جیسے آپریشن کے بعد عموماً مریضوں کا ہوتا ہے، وہ واقعی تکلیف سے کراہ رہا تھا مگر یہ تکلیف اس کی اپنی نہیں تھی۔ وہ ان کروڑوں عوام کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا تھا جنہیں آٹا ملتا ہے نہ چینی، انصاف ملتا ہے نہ روزگار ، جن کی عزت محفوظ ہے نہ جان و مال۔ ان کے مقابلے میں کون سی نعمت، سہولت، آسائش اور آرام ایسا ہے جو حکمرانوں کے مقدر میں نہیں لکھا؟ تو کیا یہ ملک صرف فوجی اور غیر فوجی حکمرانوں کے لئے بنا ہے؟ وہ آئیں، کھائیں اور بھاگ جائیں؟ پاکستانی عوام کے ساتھ یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟ ہم کب تک اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے؟… غم و غصے سے بے قرار قومی ہیرو کی خدمت میں، میں نے عرض کیا کچھ دن آرام فرما لیں پھر یہ سارے دکھ سکھ مل کر بانٹیں گے۔ بے ساختہ اُس کے منہ سے نکلا ملک مقتل گاہ بنا ہوا ہے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ آرام خاک فرمائیں؟
میں نے محسوس کیا کہ بپھرے ہوئے سمندر کے آگے بند باندھنا اب خاصا مشکل ہے۔ اُمید کی یہ کرن سورج کب بنتی ہے میرے خیال میں وقت زیادہ دور نہیں باربار آزمائے ہوئے حکمرانوں نے ایک بار پھر ملک وقوم کو آزمائش سے دوچار کردیا ہے تو ان کے ہاتھوں میں پلتے اور کھیلتے ہوئے نظام کا کچلا جانا ضروری ہے۔ وہ درست کہتا ہے ’’تبدیلی آرہی ہے‘‘۔ برس ہا برس سے سوچوں کے جو دروازے بند پڑے تھے آہستہ آہستہ کھلنے لگے ہیں۔ میں غم وغصے سے بے قرار قومی ہیرو کی اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ اوپر اور نیچے مل ملا کر حکومت کرنے والے ایک جیسے کردار کے مالک ہیں۔ ان میں سے کون ہے جو لوٹ مار میں ایک دوسرے سے ماضی میں پیچھے رہا ہو یا اب پیچھے رہنے کے جذبے سے سرشار ہو؟ ان کے بیانات پڑھئے، ان کی باتیں سنئیے یوں محسوس ہوتا ہے ملک وقوم کا جتنا درد ان کے سینوں میں ہے شاید ہی کسی ملک کے حکمرانوں کے سینوں میں ہوگا جبکہ یہ راز روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک وقوم کوجتنا درد انہوں نے دیا شاید ہی کسی اور ملک کے حکمرانوں نے دیا ہوگا۔
باسٹھ برسوں میں کون سا سیاست دان یا جرنیل ہے اقتدار میں آنے کے بعد جس کی زمینوں، جائیدادوں، ملوں، فیکٹریوں اور بینک بیلنسوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ اتنا کہ کوئی ان میں سے تیسرے نمبر کا دولت مند بن گیا تو کوئی دوسرے بڑے نمبر کا ہے کوئی جو تحقیق کرے غیر ملکی بینکوں میں ان کے نام سے اور ’’بے نام سے‘‘ اکاؤنٹس کی تفصیلات کیا ہیں؟ کیری لوگر بل پر منظور ہے منظور ہے منظور ہے، کے نعرے لگانے کا اعزاز حاصل کرنے والوں سے تو کوئی امید ہی نہیں کہ ان کی غیرت تو غیروں کے پاس گروی پڑی صاف دکھائی دیتی ہے۔ حیرت اُن پر ہے جو اپنی ’’غیرت‘‘ جگائے بغیر سرکار کی غیرت جگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کیا تیسرے بڑے نمبر کا دولت مند سیاست دان دوسرے بڑے نمبر کے دولت مند سیاست دان سے اپنی کسی برادرانہ ملاقات میں گزارش نہیں کرسکتا تھا کہ بھیا غیر ملکی بینکوں میں اپنی دولت کے جوانبار لگے ہیں اس کا کچھ حصہ پاکستان کی نذر کردیں؟ تاکہ ہمیں کسی کیری لوگر بل کی ضرورت ہی نہ پڑے… جی نہیں ایسی کوئی بات کسی ملاقات میں کیسے ہوسکتی ہے ؟ کہ ایسی باتوں سے’’ مشترکہ ذاتی مفادات ‘‘ پر جو زد پڑتی ہے اُسے کون برداشت کرے؟!
تو جناب یہ واقعی تبدیلی کا وقت ہے۔ بار بار آزمائے جانے والوں کا کھیل اب آخری دموں پر ہے یہ کریڈٹ بھی اُنہی کو جاتا ہے کہ کل تک جسے لوگ سیاست دان ہی تسلیم نہیں کرتے تھے آج اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں اب کے بار اسے کیوں نہ آزمایا جائے سو وہ سرپر کفن باندھ کر نکل آیا تو مجھے یقین ہے اُسے اتنی پذیرائی ملے گی جس کا خود اس نے تصور نہیں کیا ہوگا! ؎
اب اتنے دنوں بعدجو نکلا ہے تو سورج……. لائے مری گم گشتہ بصارت بھی کہیں سے
Leave your response!
You must be logged in to post a comment.
Recent Comments
Discuss Topics
Blog Comments
Search