سجاد میر صاحب!
آپ ضیاء الحقی سے کام لے رہے ہیں ۔ آپ عام فہم مسلمانوں کو یہ تائثر دے کر اشتعال دلا رہے ہیں کہ گویا
حسین نقی صادق اور امین کی اصطلاحات سے متنفر ہیں ۔آپ کے مرشد مرد مومن مرد حق نے بھی عوام کے مذہبی جذبات کو ایکسپلائیٹ کرکے وقتا فوقتا اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ۔ آپ سادہ لوح عوام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ حسین نقی سرخا ہے ، کیمونسٹ ہے ، ملحد ہے اور ایسے لوگ ہی نفاذ شریعت میں رکاوٹ ہیں ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ حسین نقی کو ان لفظوں کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ آپ پنجگانہ نماز کا عادی ، متقی اور مومن وغیرہ کے الفاظ کا اضافہ بھی کر دیں تو حسین نقی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ حسین نقی کی تشویش وہ ذہنیت ہے جس نے ان الفاظ کو آئین میں شامل کروایا ، بدنام زمانہ ریفرینڈم کے الفاظ اور اس سے پیدا ہونے والے نتیجے کی طرح ۔ الفاظ یہ تھے کہ کیا آپ اسلامی نظام کے حامی ہیں؟ آپ کا جواب اگر ہاں میں ہوا تو نتیجہ اس کا یہ ہو گا کہ آپ ضیاءالحق کو پانچ سال کے لیئے صدر منتخب کر رہے ہیں !!
اسی ریفرینڈم والے مرد مومن نے آرٹیکل باسٹھ کے ذریعے صادق اور امین کے الفاظ آئین میں شامل کر دیئے تھے ۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ ملک میں با کردار لوگ ہی عوام کے نمائیدے منتخب ہوں بلکہ درپردہ مقصد یہ تھا کہ تمام منتخب نمائیدوں کے اوپر یہ تلوار لٹکتی رہے اور جو سر اٹھانے کی کوشش کرے اسے صادق اور امین کی خود ساختہ سولی پر لٹکا دیا جائے ۔ حسین نقی اس ذہنیت، اور اس ذہنیت کو فروغ دینے کی مذمت کر رہا ہے اور لائق تحسین ہے کہ وہ معاشرے کو رجعت پسندی ، جہالت ، تنگ نظری، فرقہ واریت ، انتہا پسندی اور بالآخر دہشت گردی کی طرف لے جانے والے اور بظاہر بالکل سادہ ، معصوم اور بے ضرر نظر آنے والے ذرائع کی نشاندہی کر رہا ہے ۔
جہالت ہماری مجموعی بدقسمتی تو ہے ہی ، مذہب کے حوالے سے جہالت نے ایک اور ہی رنگ دکھایا ہے ۔ اسلامی عقائد ، احکام ، حقوق ، فرائض اور عبادات وغیرہ کے فلسفہ سے جو شخص جتنا زیادہ جا ہل اور ناواقف ہوگا ، اتنی ہی جلدی اسے اسلام ، شریعت اور مذہب کے نام پر مشتعل کیا جا سکتا ہے ۔ نفسیاتی وجہ اس کی یہ ہے کہ علم اور عمل کے حوالے سے تو اسے اپنا دامن خالی نظر آتا ہے ، اس لیئے اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان کہلوانے کا اسے یہ بہترین اور آسان موقع نظر آتا ہے کہ اس آواز میں اپنی آواز شامل کر دو جو یہ اعلان کر رہی ہے کہ اسلام خطرے میں ہے ۔ چنانچہ جہلا اور بے عمل ایسی تحریکوں میں پیش پیش ہوتے ہیں اور ان کو ایکسپلائیٹ کرنے والے بڑے علم فاضل اور باعمل نظر آتے ہیں -
Abbas Athar commited a serious mistake in formatting this show. Hussain Maqi is a well groomed former left winger student leader, journalist and human rights activist. Sajjad Mir is Nawai Waqti style advocate of Nazria e Pakistan and an achor person. How could he let Hussain Naqi speak. Abbas Athar should invite Husaain Naqi on some other time. I have seen him afer a long time and love to listen to his opnion.
I agree with Barristor Said, Itzaz will destroy Zardari.
سجاد میر صاحب!
آپ ضیاء الحقی سے کام لے رہے ہیں ۔ آپ عام فہم مسلمانوں کو یہ تائثر دے کر اشتعال دلا رہے ہیں کہ گویا
حسین نقی صادق اور امین کی اصطلاحات سے متنفر ہیں ۔آپ کے مرشد مرد مومن مرد حق نے بھی عوام کے مذہبی جذبات کو ایکسپلائیٹ کرکے وقتا فوقتا اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ۔ آپ سادہ لوح عوام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ حسین نقی سرخا ہے ، کیمونسٹ ہے ، ملحد ہے اور ایسے لوگ ہی نفاذ شریعت میں رکاوٹ ہیں ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ حسین نقی کو ان لفظوں کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ آپ پنجگانہ نماز کا عادی ، متقی اور مومن وغیرہ کے الفاظ کا اضافہ بھی کر دیں تو حسین نقی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ حسین نقی کی تشویش وہ ذہنیت ہے جس نے ان الفاظ کو آئین میں شامل کروایا ، بدنام زمانہ ریفرینڈم کے الفاظ اور اس سے پیدا ہونے والے نتیجے کی طرح ۔ الفاظ یہ تھے کہ کیا آپ اسلامی نظام کے حامی ہیں؟ آپ کا جواب اگر ہاں میں ہوا تو نتیجہ اس کا یہ ہو گا کہ آپ ضیاءالحق کو پانچ سال کے لیئے صدر منتخب کر رہے ہیں !!
اسی ریفرینڈم والے مرد مومن نے آرٹیکل باسٹھ کے ذریعے صادق اور امین کے الفاظ آئین میں شامل کر دیئے تھے ۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ ملک میں با کردار لوگ ہی عوام کے نمائیدے منتخب ہوں بلکہ درپردہ مقصد یہ تھا کہ تمام منتخب نمائیدوں کے اوپر یہ تلوار لٹکتی رہے اور جو سر اٹھانے کی کوشش کرے اسے صادق اور امین کی خود ساختہ سولی پر لٹکا دیا جائے ۔ حسین نقی اس ذہنیت، اور اس ذہنیت کو فروغ دینے کی مذمت کر رہا ہے اور لائق تحسین ہے کہ وہ معاشرے کو رجعت پسندی ، جہالت ، تنگ نظری، فرقہ واریت ، انتہا پسندی اور بالآخر دہشت گردی کی طرف لے جانے والے اور بظاہر بالکل سادہ ، معصوم اور بے ضرر نظر آنے والے ذرائع کی نشاندہی کر رہا ہے ۔
جہالت ہماری مجموعی بدقسمتی تو ہے ہی ، مذہب کے حوالے سے جہالت نے ایک اور ہی رنگ دکھایا ہے ۔ اسلامی عقائد ، احکام ، حقوق ، فرائض اور عبادات وغیرہ کے فلسفہ سے جو شخص جتنا زیادہ جا ہل اور ناواقف ہوگا ، اتنی ہی جلدی اسے اسلام ، شریعت اور مذہب کے نام پر مشتعل کیا جا سکتا ہے ۔ نفسیاتی وجہ اس کی یہ ہے کہ علم اور عمل کے حوالے سے تو اسے اپنا دامن خالی نظر آتا ہے ، اس لیئے اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان کہلوانے کا اسے یہ بہترین اور آسان موقع نظر آتا ہے کہ اس آواز میں اپنی آواز شامل کر دو جو یہ اعلان کر رہی ہے کہ اسلام خطرے میں ہے ۔ چنانچہ جہلا اور بے عمل ایسی تحریکوں میں پیش پیش ہوتے ہیں اور ان کو ایکسپلائیٹ کرنے والے بڑے علم فاضل اور باعمل نظر آتے ہیں -
صدر زرداری اعتزاز احسن کے مشوروں سے دور رہیں.اعتزاز احسن کے مشوروں پرعمل کیا گیا تو صدر زرداری کی سیاسی موت جلد واقع ہو جاے گی. بیرسٹر سیف
http://www.ummatpublication.com/2010/01/23/lead26.html
Abbas Athar commited a serious mistake in formatting this show. Hussain Maqi is a well groomed former left winger student leader, journalist and human rights activist. Sajjad Mir is Nawai Waqti style advocate of Nazria e Pakistan and an achor person. How could he let Hussain Naqi speak. Abbas Athar should invite Husaain Naqi on some other time. I have seen him afer a long time and love to listen to his opnion.
I agree with Barristor Said, Itzaz will destroy Zardari.
Leave your response!
You must be logged in to post a comment.
Recent Comments
Discuss Topics
Blog Comments
Search