l Capital Talk – 18 March 2010 | Pakistan Politics
{ 4 comments... read them below or add one }

  • pashtoonkhwa912 said:

    Dear Hamid Mir Sahib,
    I really want to know why you do not invite leaders of Pashtoonkhwa Mili Awami Party of Mehmood Achakzai? Or is that they observe an undeclared boycot of your programme? Please do reply.

    Ghani Dotani,
    Århus, Denmark

  • Munir Solangi said:

    Great Program.

    Dr.Malick exposed the dirty face of intelligence agencies.Imagine?????6 Baluchis were disappeared from Islamabad on March 18th 2010 and our media was silent.Shame.

    Also shame on Nawaz Sharif who embraced a criminal like Gen.Abdul Qadir Baluch in PML-N.This criminal was also exposed in capital talk.

    Aslam Bazinju exposed the dirty face of Rehman Malik.If Malik is a legitimate son of his mother then he must resign from Interior Ministry after this show.

    Hamid Mir is now a loud voice of poor Baluchis,Pakhtuns and Sindhis.The only Punjabi journalist who is more popular in smaller provinces than Punjab.I think Punjabis like Salman Taseer and Rehman Malik hates Hamid Mir but we Sindhis and Baluchis love him.

    We also thank Mushtaq Minhas and Nusrat Javaid because they also discussed the issue of missing people from Baluchistan.

  • mirzanadeembaig said:

    ایک” دُکھی“ پاکستانی لیڈر کی بارسلونا یاترا
    پاکستانی قوم اسوقت بے شمارگردابوں میں گھری ہوئی ہے، نادان حکمرانوں کے غلط فیصلو ں نے امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر جنت نظیر وطن عزیز کوجہنم بنا دیا ہے ۔ایک جانب امریکی ڈرون حملے آئے روز گھروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں تو دوسری جانب دہشت گردی کا عفریت قریباََ ہر صبح میرے وطن کے بے گناہ اور معصوم باسیوں کو نگلے جا رہا ہے۔ایک جانب حکومتی ایوانوں میں آئے روز پر تکلف ظہرانوں ،عشائیوں اور دعوتوں میں حکومتی بیت المال کے ہزاروں یا لاکھوں نہیں کروڑوں روپے اڑ رہے ہیں تو دوسری جانب آٹے اور چینی کے حصول کے لئے چلچلاتی دھوپ میں لگی لمبی قطاروں میں کئی محنت کش نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جان کی بازی ہا ر جا تے ہیںاو ر کئی خواتین پورا پورا دن خود اور اپنے معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر شام کو سٹاک ختم ہونے کااعلان سن کر اگلے روز امید لگا کر گھروں کو لوٹ جا تی ہیں،ظلم در ظلم پورا دن انکی چادر اور حرمت کا کئی مرتبہ تقدس پامال ہو تا ہے۔ایک طرف حکمرانوں کے کتوں،بلیوںاور گھوڑوں کے علاج اور معالجے او ر انکی بہتر نگہداشت پر روپیہ پانی کی طرح بہہ جاتا ہے تو دوسری جانب بنی آدم یعنی انسان دوائی نہ ملنے پر اس جہان فانی کو داغ مفا رقت دے جاتا ہے،یا کئی بستر مرگ پر ایڑیا ں رگڑ رگڑ کر مر جا تے ہیں ان میں کئی گھروں کے واحد کفیل ہو تے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے کنبے کو بھی موت کی دہلیز پر کھڑا کر جا تے ہیں۔
    معصوم پاکستانی عوام کے روشن مستقبل کے دعوے توہر روزکئے جاتے ہیں مگرحال لوڈشیڈنگ سے تاریک ہے اور اس تاریکی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،اس آسیب سے بچی کھچی صنعت کا پہیہ بھی رک گیا ہے ، فیصل آبادمیں ٹیکسٹائل ،گجرات میں پنکھا سازی ،گوجرانوالہ میں سینٹری اور واشنگ مشین ،سیالکوٹ میں سپورٹس اور سرجیکل ،قصور میں چمڑہ سازی غرض لاہور ،کراچی ،راولپنڈی ،پشاور،کوئٹہ اور ہربڑے اور چھوٹے شہر کی فیکٹریوںپر تالے اور ان فیکٹریوں کی چمنیوںسے دھواں نکلنا بند ہو گیا ہے ،کاروباری مراکز میں ہو کا عالم ہے۔مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آگیا ہے اور عام آدمی کی قوت خرید سے تعیشیات تو دور کی بات بنیادی ضروریات زندگی کاخریدنا بھی مشکل ترین ہو گیا ہے تودوسری جانب میرے وطن کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے اثاثے اور کاروبارمسلسل انڈے اور بچے دینے میں مصروف ہیں ،لیڈروں کے کاروباراور جائیدادوں کی وسعتیں چاروں اطراف میں َ”جنگل کی آگ“کی طرح پھیل رہی ہیں۔وطن عزیز میں معصوم بچے بغیر چھت کے سکولوں میں تعلیم لینے سے بھی قاصر ہو تے جا رہے ہیںاور دوسری جانب میرے لیڈروں کے شہزادے امریکہ ،کینڈااور برطانیہ کے اعلیٰ اور انتہائی مہنگے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے بیروز گاری کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہیں۔کوئی لخت جگر بیچنے پر مجبور ہے تو کوئی اپنی بیٹی کا سوداگر بن گیا ہے توکوئی گھر کا سر براہ بننے کی بجائے حالات کے ہاتھوں گھر والوں کیلئے جلاد بن گیا ہے،کوئی اپنی جوانی کو خود موت کی وادی میں اتار رہا ہے۔ غریب محنت کش کی جوان بیٹیاں جہیز کی لعنت کی وجہ سے بن بیاہی رہ جا تی ہیںتو دوسری جانب میرے لیڈروں کے عزیزوں کے جنازوں،قل ،چہلم اور برسیوں پر کروڑوں اڑ جاتے ہیںاور ”خانواں دے خان پروہنے“کے مصداق یہ تقریبات بھی سوسائٹی کے وڈیروں کے لئے
    رہ گئیں ہیںان میں پہلے قرآن خوانی کیلئے بیٹھ کر غریب بھی شکم سیری کر لیا کرتاتھامگر اب کہاں۔صوبوں کی حالت زار دیکھیں توبلوچستان میں حکمرانوں کی غلطیوںسے سازشیں پل رہی ہیں،سرحد میں فوجی آپریشن جاری ہے،سندھ میںکبھی ٹارگٹ کلنگ،کبھی گینگ وار،کبھی لسانی فسادات اورکبھی دنگا فسادکی وبا ءپھیل جاتی ہے،پنجاب میںآئے روز خود کش حملوں کے واقعات معمول بن گئے ہیںمگر حکمران ہیں ذاتی اللے تللے،اقتدار کی چیھنا جھپٹی اورذاتی مفادات کیلئےمصروف عمل ہیں۔
    لیڈروں کے چہروں کو دیکھیں گال انگاروں کی طرح چمک رہے ہیں،آنکھیں خوشی سے دمک رہی ہوتی ہیں،جسم ہیں کہ پھول ہی نہیں روز بروز پھیل بھی رہے ہیں،چہرے ہیں مسکراہٹوں کے گلدستے بنے ہوئے ہیں۔قوم کا تن بدن بے لباس ہونے کو ہے اور میرے وطن کے لیڈر صبح سے شام تک کئی قبائیں بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں۔قوم پینے کے پا نی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے اور لیڈروں کے محلات کی خوبصورتی کو دوبالا کر نے کے لئے نت نئے فوارے صبح سے شام تک اپنے دلفریب نظارے دکھا رہے ہیں۔غریب عوام کے زندگی بھاری سے بھاری بوجھ بنتی جا رہی ہے اور دوسری جانب لیڈروں کی زندگیاں دنیا ہی میں جنت کی مانند گزر رہی ہے۔آئے روز بم دھماکے غریبوں کے بدنوں کے چیتھڑے اڑا رہے ہوتے اور دوسری جانب حکومتی ایوان میلوں دور سے حصاروں اور فیصلوں میں گھرے ہو ئے ہیں،سیکورٹی فورسز عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ کرلیڈروں یعنی” ظل سبحانوں“ کی ہٹو بچو میں لگی ہو ئی ہے۔پانی اور بجلی نہیں ،صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں،علاج اور معالجے کی سہولتیں نہیں،گیس بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے،ماحول کی پراگندگی بے مثال ہے،داخلی صورتحال انتہائی مخدوش ہے مگر اسکے باوجود وزیر بجلی اور پانی،وزیر صنعت ،وزیر صحت ، وزیرگیس،وزیر ماحولیات اوروزیر داخلہ جیسے بہروپئے موجود ہیں۔
    وطن عزیز کے لیڈروں کی مانندابھی دو روز پہلے ایک” دکھی سیاستدان“اور لیڈرشیخ رشید احمد اپنی انتخابی سیاست میں ناکامی اور اس سے بڑھکر انتخابی مہم کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو جانےوالے”تین جانثاروں “اور” دو زخمی جانثاروں“ کے غم کو بھلانے کیلئے یورپ آئے اور سپین کو بھی اپنی ”زیارتکاشرف“بخشا۔موصوف بارسلونامیں غالباَ پانچ روز رہے اور کسی موقع پر بھی وہ غمزدہ نظر نہیں نظر آئے ہاں جب وہ کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے یا کسی عوامی اجتماع میں خطابت کے جوہر دکھا رہے ہوتے تو انہیں اپنے اوپر ہونیوالا قاتلانہ حملہ اور اپنے ہلاک ہو جا نیوالے ساتھی بھی یاد آجاتے ورنہ خود ساختہ عوامی لیڈرخوشی خوشی بارسلونا کی گلیوں،بازاروں اور شاپنگ مالز کے اندر گھومتے پھرتے ہی دیکھے گئے یالوگوں سے واہ واہ کرواتے،ظہرانے اور عشائیے اڑاتے ہی نظر آئے یا ہوٹل کی لابی میں دوستوں اور مداحوںکے درمیان بیٹھ کر مہنگے سگاروں کے کش لگاتے پائے گئے یا اپنی انتخابی ناکامی کا ذمہ دار پاکستانی چینلز اور انکے اینکرز کو قراردیتے سنے گئے ۔
    کیا ہی بہتر ہوتا کہ شیخ صاحب اپنے مرحوم ساتھیوں کی مغفرت اور اپنے زخمی ساتھیوں کی صحت کی دعا کیلئے خانہ خدا اور بارگاہ رسالت ماب ﷺکا رخ کرتے مگر موصوف شاید براستہ یورپ سعودی عرب جائیں مگر میرا یہ گمان ، گمان ہی رہا جب پتہ چلا کہ وہ توپی آئی اے کی ڈائریکٹ فلائٹ پر پاکستان چلے گئے ہیں۔مگر ہاں یاد آیا کہ ہمارے لیڈرسرکاری خرچ پر عمرے اور حج بھی” شکرانے “کے لئے یا ”دکھاوے“ کے لئے کر تے ہیںاس میں بھی وہ اپنے جانثاروں اور چاہنے والوں کو کیونکر یاد رکھیں،ہاں شیخ صاحب کو راولپنڈی کے عوام ایوان اقتدارمیں پہنچا دیتے تووہ لازماََسعودی عرب جاتے اب تو انتخابات میںاللہ کا فضل وکرم ہوا ہی نہیں توپھرشکر کیسا؟(معاذاللہ)۔ہمارے لیڈروں کی اللہ سے بھی یاری خوشی میں ہے غمی میں کون اسے یاد کرے ،غم تو دنیا کی رنگنیاں دور کرتی ہیں۔شاید اسی لئے شیخ رشید احمد یورپ کی ”پوتر“یاتر ا پر نکلے تھے۔

  • pakistanvideo said:

    Bizino sahib we as pakistanis are also not satisfied with this clown minister rehman malik.
    He lot others in the PPP are going to be the greatest resason for the downfall of PPP in next election. I hope the relatives of these big clowns become missing persons.

Leave your response!

You must be logged in to post a comment.

Username


Password


Recent Comments
Blog Comments
Search