Kashif Sahib:
aap issueless batoon ko issues banatey hain. Mulki mufad main agar foji gernal aur secreteries mil bheethey to kia hoya. Asal hukmran to foji he hain. Sarey politicians ko pata hey aap bhooley badsha ban rahey hain.
Faqeroon ko ager aik meeting sey america say kuch mil jaye ga to iss baat ko janey do bhai.
Chai key piali main toofan uthaney key lai aur be barey issues hain.
I am your old fan.How is your freind Sheikh Rashid these days?You tried your best for him.Javed Chaudhry sahib invited him on his show just one hour before the end of the election compaign but even then Sheikh Rashid lost.I think it was a match not between Sheikh Rashid and Shakeel Awan but between Kashif Abbasi and Hamid Mir.Who won the march in the end?You know Kashif bhai.
ایک” دُکھی“ پاکستانی لیڈر کی بارسلونا یاترا
پاکستانی قوم اسوقت بے شمارگردابوں میں گھری ہوئی ہے، نادان حکمرانوں کے غلط فیصلو ں نے امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر جنت نظیر وطن عزیز کوجہنم بنا دیا ہے ۔ایک جانب امریکی ڈرون حملے آئے روز گھروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں تو دوسری جانب دہشت گردی کا عفریت قریباََ ہر صبح میرے وطن کے بے گناہ اور معصوم باسیوں کو نگلے جا رہا ہے۔ایک جانب حکومتی ایوانوں میں آئے روز پر تکلف ظہرانوں ،عشائیوں اور دعوتوں میں حکومتی بیت المال کے ہزاروں یا لاکھوں نہیں کروڑوں روپے اڑ رہے ہیں تو دوسری جانب آٹے اور چینی کے حصول کے لئے چلچلاتی دھوپ میں لگی لمبی قطاروں میں کئی محنت کش نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جان کی بازی ہا ر جا تے ہیںاو ر کئی خواتین پورا پورا دن خود اور اپنے معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر شام کو سٹاک ختم ہونے کااعلان سن کر اگلے روز امید لگا کر گھروں کو لوٹ جا تی ہیں،ظلم در ظلم پورا دن انکی چادر اور حرمت کا کئی مرتبہ تقدس پامال ہو تا ہے۔ایک طرف حکمرانوں کے کتوں،بلیوںاور گھوڑوں کے علاج اور معالجے او ر انکی بہتر نگہداشت پر روپیہ پانی کی طرح بہہ جاتا ہے تو دوسری جانب بنی آدم یعنی انسان دوائی نہ ملنے پر اس جہان فانی کو داغ مفا رقت دے جاتا ہے،یا کئی بستر مرگ پر ایڑیا ں رگڑ رگڑ کر مر جا تے ہیں ان میں کئی گھروں کے واحد کفیل ہو تے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے کنبے کو بھی موت کی دہلیز پر کھڑا کر جا تے ہیں۔
معصوم پاکستانی عوام کے روشن مستقبل کے دعوے توہر روزکئے جاتے ہیں مگرحال لوڈشیڈنگ سے تاریک ہے اور اس تاریکی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،اس آسیب سے بچی کھچی صنعت کا پہیہ بھی رک گیا ہے ، فیصل آبادمیں ٹیکسٹائل ،گجرات میں پنکھا سازی ،گوجرانوالہ میں سینٹری اور واشنگ مشین ،سیالکوٹ میں سپورٹس اور سرجیکل ،قصور میں چمڑہ سازی غرض لاہور ،کراچی ،راولپنڈی ،پشاور،کوئٹہ اور ہربڑے اور چھوٹے شہر کی فیکٹریوںپر تالے اور ان فیکٹریوں کی چمنیوںسے دھواں نکلنا بند ہو گیا ہے ،کاروباری مراکز میں ہو کا عالم ہے۔مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آگیا ہے اور عام آدمی کی قوت خرید سے تعیشیات تو دور کی بات بنیادی ضروریات زندگی کاخریدنا بھی مشکل ترین ہو گیا ہے تودوسری جانب میرے وطن کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے اثاثے اور کاروبارمسلسل انڈے اور بچے دینے میں مصروف ہیں ،لیڈروں کے کاروباراور جائیدادوں کی وسعتیں چاروں اطراف میں َ”جنگل کی آگ“کی طرح پھیل رہی ہیں۔وطن عزیز میں معصوم بچے بغیر چھت کے سکولوں میں تعلیم لینے سے بھی قاصر ہو تے جا رہے ہیںاور دوسری جانب میرے لیڈروں کے شہزادے امریکہ ،کینڈااور برطانیہ کے اعلیٰ اور انتہائی مہنگے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے بیروز گاری کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہیں۔کوئی لخت جگر بیچنے پر مجبور ہے تو کوئی اپنی بیٹی کا سوداگر بن گیا ہے توکوئی گھر کا سر براہ بننے کی بجائے حالات کے ہاتھوں گھر والوں کیلئے جلاد بن گیا ہے،کوئی اپنی جوانی کو خود موت کی وادی میں اتار رہا ہے۔ غریب محنت کش کی جوان بیٹیاں جہیز کی لعنت کی وجہ سے بن بیاہی رہ جا تی ہیںتو دوسری جانب میرے لیڈروں کے عزیزوں کے جنازوں،قل ،چہلم اور برسیوں پر کروڑوں اڑ جاتے ہیںاور ”خانواں دے خان پروہنے“کے مصداق یہ تقریبات بھی سوسائٹی کے وڈیروں کے لئے
رہ گئیں ہیںان میں پہلے قرآن خوانی کیلئے بیٹھ کر غریب بھی شکم سیری کر لیا کرتاتھامگر اب کہاں۔صوبوں کی حالت زار دیکھیں توبلوچستان میں حکمرانوں کی غلطیوںسے سازشیں پل رہی ہیں،سرحد میں فوجی آپریشن جاری ہے،سندھ میںکبھی ٹارگٹ کلنگ،کبھی گینگ وار،کبھی لسانی فسادات اورکبھی دنگا فسادکی وبا ءپھیل جاتی ہے،پنجاب میںآئے روز خود کش حملوں کے واقعات معمول بن گئے ہیںمگر حکمران ہیں ذاتی اللے تللے،اقتدار کی چیھنا جھپٹی اورذاتی مفادات کیلئےمصروف عمل ہیں۔
لیڈروں کے چہروں کو دیکھیں گال انگاروں کی طرح چمک رہے ہیں،آنکھیں خوشی سے دمک رہی ہوتی ہیں،جسم ہیں کہ پھول ہی نہیں روز بروز پھیل بھی رہے ہیں،چہرے ہیں مسکراہٹوں کے گلدستے بنے ہوئے ہیں۔قوم کا تن بدن بے لباس ہونے کو ہے اور میرے وطن کے لیڈر صبح سے شام تک کئی قبائیں بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں۔قوم پینے کے پا نی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے اور لیڈروں کے محلات کی خوبصورتی کو دوبالا کر نے کے لئے نت نئے فوارے صبح سے شام تک اپنے دلفریب نظارے دکھا رہے ہیں۔غریب عوام کے زندگی بھاری سے بھاری بوجھ بنتی جا رہی ہے اور دوسری جانب لیڈروں کی زندگیاں دنیا ہی میں جنت کی مانند گزر رہی ہے۔آئے روز بم دھماکے غریبوں کے بدنوں کے چیتھڑے اڑا رہے ہوتے اور دوسری جانب حکومتی ایوان میلوں دور سے حصاروں اور فیصلوں میں گھرے ہو ئے ہیں،سیکورٹی فورسز عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ کرلیڈروں یعنی” ظل سبحانوں“ کی ہٹو بچو میں لگی ہو ئی ہے۔پانی اور بجلی نہیں ،صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں،علاج اور معالجے کی سہولتیں نہیں،گیس بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے،ماحول کی پراگندگی بے مثال ہے،داخلی صورتحال انتہائی مخدوش ہے مگر اسکے باوجود وزیر بجلی اور پانی،وزیر صنعت ،وزیر صحت ، وزیرگیس،وزیر ماحولیات اوروزیر داخلہ جیسے بہروپئے موجود ہیں۔
وطن عزیز کے لیڈروں کی مانندابھی دو روز پہلے ایک” دکھی سیاستدان“اور لیڈرشیخ رشید احمد اپنی انتخابی سیاست میں ناکامی اور اس سے بڑھکر انتخابی مہم کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو جانےوالے”تین جانثاروں “اور” دو زخمی جانثاروں“ کے غم کو بھلانے کیلئے یورپ آئے اور سپین کو بھی اپنی ”زیارتکاشرف“بخشا۔موصوف بارسلونامیں غالباَ پانچ روز رہے اور کسی موقع پر بھی وہ غمزدہ نظر نہیں نظر آئے ہاں جب وہ کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے یا کسی عوامی اجتماع میں خطابت کے جوہر دکھا رہے ہوتے تو انہیں اپنے اوپر ہونیوالا قاتلانہ حملہ اور اپنے ہلاک ہو جا نیوالے ساتھی بھی یاد آجاتے ورنہ خود ساختہ عوامی لیڈرخوشی خوشی بارسلونا کی گلیوں،بازاروں اور شاپنگ مالز کے اندر گھومتے پھرتے ہی دیکھے گئے یالوگوں سے واہ واہ کرواتے،ظہرانے اور عشائیے اڑاتے ہی نظر آئے یا ہوٹل کی لابی میں دوستوں اور مداحوںکے درمیان بیٹھ کر مہنگے سگاروں کے کش لگاتے پائے گئے یا اپنی انتخابی ناکامی کا ذمہ دار پاکستانی چینلز اور انکے اینکرز کو قراردیتے سنے گئے ۔
کیا ہی بہتر ہوتا کہ شیخ صاحب اپنے مرحوم ساتھیوں کی مغفرت اور اپنے زخمی ساتھیوں کی صحت کی دعا کیلئے خانہ خدا اور بارگاہ رسالت ماب ﷺکا رخ کرتے مگر موصوف شاید براستہ یورپ سعودی عرب جائیں مگر میرا یہ گمان ، گمان ہی رہا جب پتہ چلا کہ وہ توپی آئی اے کی ڈائریکٹ فلائٹ پر پاکستان چلے گئے ہیں۔مگر ہاں یاد آیا کہ ہمارے لیڈرسرکاری خرچ پر عمرے اور حج بھی” شکرانے “کے لئے یا ”دکھاوے“ کے لئے کر تے ہیںاس میں بھی وہ اپنے جانثاروں اور چاہنے والوں کو کیونکر یاد رکھیں،ہاں شیخ صاحب کو راولپنڈی کے عوام ایوان اقتدارمیں پہنچا دیتے تووہ لازماََسعودی عرب جاتے اب تو انتخابات میںاللہ کا فضل وکرم ہوا ہی نہیں توپھرشکر کیسا؟(معاذاللہ)۔ہمارے لیڈروں کی اللہ سے بھی یاری خوشی میں ہے غمی میں کون اسے یاد کرے ،غم تو دنیا کی رنگنیاں دور کرتی ہیں۔شاید اسی لئے شیخ رشید احمد یورپ کی ”پوتر“یاتر ا پر نکلے تھے۔
مرزا ندیم بیگ،بارسلونا
Kaira could not answer the question on the meeting between army chief and secretaries. his logic was flawed and it seemed that he was just trying to defend it.
Kashif sahib at the start of the programme questioned whether 18th amendment is a bigger issue or the problems of general public is a bigger issue. I think Kashif sahib clearly was of the opinion that the general public issues are more important , shall get high priority and I totally agree with him. The issue I have is that if general public issues shall get preference and their issues shall be discussed more forcefuly than why did Kashif sahib spent more than half of the time on discussing the topic of army chief and secretaries meeting.
I am also not sure whether these meida perosnell shall ask questions, present facts or shall present their own position. All along Kashif sahib was trying to interrogate and present his view point as the right point of view. Seems totally against the ethics of the profession Kashif represents or may be just like other media personnel Kashif thinks that he is the moral standard and bastion of moral values in the country.
Javed Hashmi sahib realy shows what a mature and honorable person and politican shall look like. What a balance and polished person this great man is. Pity that people like Javed Hashmi sahib dont get important roles.
this is the first time I agree with the minister kashif is just pushing the issue he just want to increase his show rating thats all bull crap
Kashif Sahib:
aap issueless batoon ko issues banatey hain. Mulki mufad main agar foji gernal aur secreteries mil bheethey to kia hoya. Asal hukmran to foji he hain. Sarey politicians ko pata hey aap bhooley badsha ban rahey hain.
Faqeroon ko ager aik meeting sey america say kuch mil jaye ga to iss baat ko janey do bhai.
Chai key piali main toofan uthaney key lai aur be barey issues hain.
Kashif Bhai,
I am your old fan.How is your freind Sheikh Rashid these days?You tried your best for him.Javed Chaudhry sahib invited him on his show just one hour before the end of the election compaign but even then Sheikh Rashid lost.I think it was a match not between Sheikh Rashid and Shakeel Awan but between Kashif Abbasi and Hamid Mir.Who won the march in the end?You know Kashif bhai.
ایک” دُکھی“ پاکستانی لیڈر کی بارسلونا یاترا
پاکستانی قوم اسوقت بے شمارگردابوں میں گھری ہوئی ہے، نادان حکمرانوں کے غلط فیصلو ں نے امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر جنت نظیر وطن عزیز کوجہنم بنا دیا ہے ۔ایک جانب امریکی ڈرون حملے آئے روز گھروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں تو دوسری جانب دہشت گردی کا عفریت قریباََ ہر صبح میرے وطن کے بے گناہ اور معصوم باسیوں کو نگلے جا رہا ہے۔ایک جانب حکومتی ایوانوں میں آئے روز پر تکلف ظہرانوں ،عشائیوں اور دعوتوں میں حکومتی بیت المال کے ہزاروں یا لاکھوں نہیں کروڑوں روپے اڑ رہے ہیں تو دوسری جانب آٹے اور چینی کے حصول کے لئے چلچلاتی دھوپ میں لگی لمبی قطاروں میں کئی محنت کش نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جان کی بازی ہا ر جا تے ہیںاو ر کئی خواتین پورا پورا دن خود اور اپنے معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر شام کو سٹاک ختم ہونے کااعلان سن کر اگلے روز امید لگا کر گھروں کو لوٹ جا تی ہیں،ظلم در ظلم پورا دن انکی چادر اور حرمت کا کئی مرتبہ تقدس پامال ہو تا ہے۔ایک طرف حکمرانوں کے کتوں،بلیوںاور گھوڑوں کے علاج اور معالجے او ر انکی بہتر نگہداشت پر روپیہ پانی کی طرح بہہ جاتا ہے تو دوسری جانب بنی آدم یعنی انسان دوائی نہ ملنے پر اس جہان فانی کو داغ مفا رقت دے جاتا ہے،یا کئی بستر مرگ پر ایڑیا ں رگڑ رگڑ کر مر جا تے ہیں ان میں کئی گھروں کے واحد کفیل ہو تے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے کنبے کو بھی موت کی دہلیز پر کھڑا کر جا تے ہیں۔
معصوم پاکستانی عوام کے روشن مستقبل کے دعوے توہر روزکئے جاتے ہیں مگرحال لوڈشیڈنگ سے تاریک ہے اور اس تاریکی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،اس آسیب سے بچی کھچی صنعت کا پہیہ بھی رک گیا ہے ، فیصل آبادمیں ٹیکسٹائل ،گجرات میں پنکھا سازی ،گوجرانوالہ میں سینٹری اور واشنگ مشین ،سیالکوٹ میں سپورٹس اور سرجیکل ،قصور میں چمڑہ سازی غرض لاہور ،کراچی ،راولپنڈی ،پشاور،کوئٹہ اور ہربڑے اور چھوٹے شہر کی فیکٹریوںپر تالے اور ان فیکٹریوں کی چمنیوںسے دھواں نکلنا بند ہو گیا ہے ،کاروباری مراکز میں ہو کا عالم ہے۔مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آگیا ہے اور عام آدمی کی قوت خرید سے تعیشیات تو دور کی بات بنیادی ضروریات زندگی کاخریدنا بھی مشکل ترین ہو گیا ہے تودوسری جانب میرے وطن کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے اثاثے اور کاروبارمسلسل انڈے اور بچے دینے میں مصروف ہیں ،لیڈروں کے کاروباراور جائیدادوں کی وسعتیں چاروں اطراف میں َ”جنگل کی آگ“کی طرح پھیل رہی ہیں۔وطن عزیز میں معصوم بچے بغیر چھت کے سکولوں میں تعلیم لینے سے بھی قاصر ہو تے جا رہے ہیںاور دوسری جانب میرے لیڈروں کے شہزادے امریکہ ،کینڈااور برطانیہ کے اعلیٰ اور انتہائی مہنگے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے بیروز گاری کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہیں۔کوئی لخت جگر بیچنے پر مجبور ہے تو کوئی اپنی بیٹی کا سوداگر بن گیا ہے توکوئی گھر کا سر براہ بننے کی بجائے حالات کے ہاتھوں گھر والوں کیلئے جلاد بن گیا ہے،کوئی اپنی جوانی کو خود موت کی وادی میں اتار رہا ہے۔ غریب محنت کش کی جوان بیٹیاں جہیز کی لعنت کی وجہ سے بن بیاہی رہ جا تی ہیںتو دوسری جانب میرے لیڈروں کے عزیزوں کے جنازوں،قل ،چہلم اور برسیوں پر کروڑوں اڑ جاتے ہیںاور ”خانواں دے خان پروہنے“کے مصداق یہ تقریبات بھی سوسائٹی کے وڈیروں کے لئے
رہ گئیں ہیںان میں پہلے قرآن خوانی کیلئے بیٹھ کر غریب بھی شکم سیری کر لیا کرتاتھامگر اب کہاں۔صوبوں کی حالت زار دیکھیں توبلوچستان میں حکمرانوں کی غلطیوںسے سازشیں پل رہی ہیں،سرحد میں فوجی آپریشن جاری ہے،سندھ میںکبھی ٹارگٹ کلنگ،کبھی گینگ وار،کبھی لسانی فسادات اورکبھی دنگا فسادکی وبا ءپھیل جاتی ہے،پنجاب میںآئے روز خود کش حملوں کے واقعات معمول بن گئے ہیںمگر حکمران ہیں ذاتی اللے تللے،اقتدار کی چیھنا جھپٹی اورذاتی مفادات کیلئےمصروف عمل ہیں۔
لیڈروں کے چہروں کو دیکھیں گال انگاروں کی طرح چمک رہے ہیں،آنکھیں خوشی سے دمک رہی ہوتی ہیں،جسم ہیں کہ پھول ہی نہیں روز بروز پھیل بھی رہے ہیں،چہرے ہیں مسکراہٹوں کے گلدستے بنے ہوئے ہیں۔قوم کا تن بدن بے لباس ہونے کو ہے اور میرے وطن کے لیڈر صبح سے شام تک کئی قبائیں بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں۔قوم پینے کے پا نی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے اور لیڈروں کے محلات کی خوبصورتی کو دوبالا کر نے کے لئے نت نئے فوارے صبح سے شام تک اپنے دلفریب نظارے دکھا رہے ہیں۔غریب عوام کے زندگی بھاری سے بھاری بوجھ بنتی جا رہی ہے اور دوسری جانب لیڈروں کی زندگیاں دنیا ہی میں جنت کی مانند گزر رہی ہے۔آئے روز بم دھماکے غریبوں کے بدنوں کے چیتھڑے اڑا رہے ہوتے اور دوسری جانب حکومتی ایوان میلوں دور سے حصاروں اور فیصلوں میں گھرے ہو ئے ہیں،سیکورٹی فورسز عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ کرلیڈروں یعنی” ظل سبحانوں“ کی ہٹو بچو میں لگی ہو ئی ہے۔پانی اور بجلی نہیں ،صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں،علاج اور معالجے کی سہولتیں نہیں،گیس بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے،ماحول کی پراگندگی بے مثال ہے،داخلی صورتحال انتہائی مخدوش ہے مگر اسکے باوجود وزیر بجلی اور پانی،وزیر صنعت ،وزیر صحت ، وزیرگیس،وزیر ماحولیات اوروزیر داخلہ جیسے بہروپئے موجود ہیں۔
وطن عزیز کے لیڈروں کی مانندابھی دو روز پہلے ایک” دکھی سیاستدان“اور لیڈرشیخ رشید احمد اپنی انتخابی سیاست میں ناکامی اور اس سے بڑھکر انتخابی مہم کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو جانےوالے”تین جانثاروں “اور” دو زخمی جانثاروں“ کے غم کو بھلانے کیلئے یورپ آئے اور سپین کو بھی اپنی ”زیارتکاشرف“بخشا۔موصوف بارسلونامیں غالباَ پانچ روز رہے اور کسی موقع پر بھی وہ غمزدہ نظر نہیں نظر آئے ہاں جب وہ کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے یا کسی عوامی اجتماع میں خطابت کے جوہر دکھا رہے ہوتے تو انہیں اپنے اوپر ہونیوالا قاتلانہ حملہ اور اپنے ہلاک ہو جا نیوالے ساتھی بھی یاد آجاتے ورنہ خود ساختہ عوامی لیڈرخوشی خوشی بارسلونا کی گلیوں،بازاروں اور شاپنگ مالز کے اندر گھومتے پھرتے ہی دیکھے گئے یالوگوں سے واہ واہ کرواتے،ظہرانے اور عشائیے اڑاتے ہی نظر آئے یا ہوٹل کی لابی میں دوستوں اور مداحوںکے درمیان بیٹھ کر مہنگے سگاروں کے کش لگاتے پائے گئے یا اپنی انتخابی ناکامی کا ذمہ دار پاکستانی چینلز اور انکے اینکرز کو قراردیتے سنے گئے ۔
کیا ہی بہتر ہوتا کہ شیخ صاحب اپنے مرحوم ساتھیوں کی مغفرت اور اپنے زخمی ساتھیوں کی صحت کی دعا کیلئے خانہ خدا اور بارگاہ رسالت ماب ﷺکا رخ کرتے مگر موصوف شاید براستہ یورپ سعودی عرب جائیں مگر میرا یہ گمان ، گمان ہی رہا جب پتہ چلا کہ وہ توپی آئی اے کی ڈائریکٹ فلائٹ پر پاکستان چلے گئے ہیں۔مگر ہاں یاد آیا کہ ہمارے لیڈرسرکاری خرچ پر عمرے اور حج بھی” شکرانے “کے لئے یا ”دکھاوے“ کے لئے کر تے ہیںاس میں بھی وہ اپنے جانثاروں اور چاہنے والوں کو کیونکر یاد رکھیں،ہاں شیخ صاحب کو راولپنڈی کے عوام ایوان اقتدارمیں پہنچا دیتے تووہ لازماََسعودی عرب جاتے اب تو انتخابات میںاللہ کا فضل وکرم ہوا ہی نہیں توپھرشکر کیسا؟(معاذاللہ)۔ہمارے لیڈروں کی اللہ سے بھی یاری خوشی میں ہے غمی میں کون اسے یاد کرے ،غم تو دنیا کی رنگنیاں دور کرتی ہیں۔شاید اسی لئے شیخ رشید احمد یورپ کی ”پوتر“یاتر ا پر نکلے تھے۔
مرزا ندیم بیگ،بارسلونا
Kaira could not answer the question on the meeting between army chief and secretaries. his logic was flawed and it seemed that he was just trying to defend it.
Kashif sahib at the start of the programme questioned whether 18th amendment is a bigger issue or the problems of general public is a bigger issue. I think Kashif sahib clearly was of the opinion that the general public issues are more important , shall get high priority and I totally agree with him. The issue I have is that if general public issues shall get preference and their issues shall be discussed more forcefuly than why did Kashif sahib spent more than half of the time on discussing the topic of army chief and secretaries meeting.
I am also not sure whether these meida perosnell shall ask questions, present facts or shall present their own position. All along Kashif sahib was trying to interrogate and present his view point as the right point of view. Seems totally against the ethics of the profession Kashif represents or may be just like other media personnel Kashif thinks that he is the moral standard and bastion of moral values in the country.
Javed Hashmi sahib realy shows what a mature and honorable person and politican shall look like. What a balance and polished person this great man is. Pity that people like Javed Hashmi sahib dont get important roles.
Leave your response!
You must be logged in to post a comment.
Recent Comments
Discuss Topics
Blog Comments
Search