اگست ۲۰۱۰ پاکستان میں بڑی بھیانک اور کربناک راتوں کا آغاز ہوا جس میں بچے بوڑے جوان مرد اور عور تیں اور خاص طور پر حاملہ عورتیں ایک لا محدود وسعتوں والے سیلاب میں ڈوب رہے تھے جبکہ ملک کا چاند اپنی راتوں کو ستاروں کے ساتھ رچا رہا تھا کبھی ملکی معیشت کی قیمت پر غیر ملکی دورے کبھی إنگلستان میں محل کبھی اپنی ۔ اور حواریوں کی کرپشن اور کبھی ملکی حالات سے پردہ پوشی۔وغیرہ وغیرہ ۔جیسے روم جل رہا ہو اور نیرو بنسری بجا رہا ہو اور جب میڈیا نے واویلا مچا کر آئینہ دکھایا تو حلیف جماعت (ایم کیو ایم) کے منہ سے غیر پارلیمانی بیان دلوا کر شاطرانہ چال چلی تاکہ تمام عوام اور غیر ملکی رائے عامہ کی توجہ ہٹائی جائے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ ویسے بھی یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ بقول کسے سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ اور یہ بھی چاہتے تھے کہ کراچی میں جو خون خرابہ ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں ہوا عوام اس کو بھول جائے۔ اور اس طرح کچھ کچھ ماں بیٹی میں گول ہو جائے ۔ چیف جسٹس صاحب تو پہلے سے ہی جناب اعتزاز صاحب کے ہاتھوں بلیک میل شدہ ہیں عدالتیں ویسے ہی ہجڑوں سے بھری پڑی ہیں اکیلا چ ج کیا خاک کرے گا اور پھر ان کے حکم پر عمل درآمد کون کرے گا آرمی چیف جنکو ابھی ابھی تو ایکسٹنشن ملی ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ کا واقعہ۔ إنگلینڈ میں کر کٹ کا واقعہ۔ لاہور اور کوئٹہ میں وحشیا نہ واقیات وغیرہ وغیرہ آخر یہ سب توجہ ہٹانے کے چونچلے نہیں ہیں تو اور کیا ہے ؟ سیالکوٹ کا اصل مجرم جس کے إیما پر دو بچوں کو قتل کیا گیا یا وہ إسلام آباد محل سے یا گورنر ہائوس لاہور سے ملے گا۔ کرکٹ میچ فکسنگ کا حصے دار کون ہے۔ اگر کراچی میں فرانس کے گیاراں نیوی افسران دھماکوں سےاڑ انے کا راز افشاں نہیں ہو سکتا تو لاہور اور کوئٹہ کے تازہ دھماکوں کا راز کیسے افشاں ہو سکتا ہے۔ یہ صرف توجہ ہٹانے کے چونچلے ہیں ۔ کہاوت ہے کہ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو کہا ارے بھائی تمہارا کان ایک کتا لے اڑا ہے یہ سنتے ہی وہ آدمی کتے کے پیچھے بھاگا۔ بعین ہی یہی حال ہمارے میڈیا کا اور دوسرے تمام إداروں یا سیاسی پارٹیوں کا ہے یہ تمام کے تمام کتے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں
In session with Asma Chaudhry – HEHE – LOL
A0SAF said:
In session with Asma Chaudhry – HEHE – LOL
——————————————————————————————————–
اگست ۲۰۱۰ پاکستان میں بڑی بھیانک اور کربناک راتوں کا آغاز ہوا جس میں بچے بوڑے جوان مرد اور عور تیں اور خاص طور پر حاملہ عورتیں ایک لا محدود وسعتوں والے سیلاب میں ڈوب رہے تھے جبکہ ملک کا چاند اپنی راتوں کو ستاروں کے ساتھ رچا رہا تھا کبھی ملکی معیشت کی قیمت پر غیر ملکی دورے کبھی إنگلستان میں محل کبھی اپنی ۔ اور حواریوں کی کرپشن اور کبھی ملکی حالات سے پردہ پوشی۔وغیرہ وغیرہ ۔جیسے روم جل رہا ہو اور نیرو بنسری بجا رہا ہو اور جب میڈیا نے واویلا مچا کر آئینہ دکھایا تو حلیف جماعت (ایم کیو ایم) کے منہ سے غیر پارلیمانی بیان دلوا کر شاطرانہ چال چلی تاکہ تمام عوام اور غیر ملکی رائے عامہ کی توجہ ہٹائی جائے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ ویسے بھی یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ بقول کسے سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ اور یہ بھی چاہتے تھے کہ کراچی میں جو خون خرابہ ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں ہوا عوام اس کو بھول جائے۔ اور اس طرح کچھ کچھ ماں بیٹی میں گول ہو جائے ۔ چیف جسٹس صاحب تو پہلے سے ہی جناب اعتزاز صاحب کے ہاتھوں بلیک میل شدہ ہیں عدالتیں ویسے ہی ہجڑوں سے بھری پڑی ہیں اکیلا چ ج کیا خاک کرے گا اور پھر ان کے حکم پر عمل درآمد کون کرے گا آرمی چیف جنکو ابھی ابھی تو ایکسٹنشن ملی ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ کا واقعہ۔ إنگلینڈ میں کر کٹ کا واقعہ۔ لاہور اور کوئٹہ میں وحشیا نہ واقیات وغیرہ وغیرہ آخر یہ سب توجہ ہٹانے کے چونچلے نہیں ہیں تو اور کیا ہے ؟ سیالکوٹ کا اصل مجرم جس کے إیما پر دو بچوں کو قتل کیا گیا یا وہ إسلام آباد محل سے یا گورنر ہائوس لاہور سے ملے گا۔ کرکٹ میچ فکسنگ کا حصے دار کون ہے۔ اگر کراچی میں فرانس کے گیاراں نیوی افسران دھماکوں سےاڑ انے کا راز افشاں نہیں ہو سکتا تو لاہور اور کوئٹہ کے تازہ دھماکوں کا راز کیسے افشاں ہو سکتا ہے۔ یہ صرف توجہ ہٹانے کے چونچلے ہیں ۔ کہاوت ہے کہ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو کہا ارے بھائی تمہارا کان ایک کتا لے اڑا ہے یہ سنتے ہی وہ آدمی کتے کے پیچھے بھاگا۔ بعین ہی یہی حال ہمارے میڈیا کا اور دوسرے تمام إداروں یا سیاسی پارٹیوں کا ہے یہ تمام کے تمام کتے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں
Video Not Working
@ Ali Murtaza
i just watched tha whole show itz workin properly….
but this iz not insession thiz iz policy matters with naseem zehra…..
Leave your response!
You must be logged in to post a comment.
Recent Comments
Discuss Topics
Blog Comments
Search