l Do Tok – 4 September 2010 | Pakistan Politics
{ 3 comments... read them below or add one }

  • senior said:

    اگست ۲۰۱۰ پاکستان میں بڑی بھیانک اور کربناک راتوں کا آغاز ہوا جس میں بچے بوڑے جوان مرد اور عور تیں اور خاص طور پر حاملہ عورتیں ایک لا محدود وسعتوں والے سیلاب میں ڈوب رہے تھے جبکہ ملک کا چاند اپنی راتوں کو ستاروں کے ساتھ رچا رہا تھا کبھی ملکی معیشت کی قیمت پر غیر ملکی دورے کبھی إنگلستان میں محل کبھی اپنی ۔ اور حواریوں کی کرپشن اور کبھی ملکی حالات سے پردہ پوشی۔وغیرہ وغیرہ ۔جیسے روم جل رہا ہو اور نیرو بنسری بجا رہا ہو اور جب میڈیا نے واویلا مچا کر آئینہ دکھایا تو حلیف جماعت (ایم کیو ایم) کے منہ سے غیر پارلیمانی بیان دلوا کر شاطرانہ چال چلی تاکہ تمام عوام اور غیر ملکی رائے عامہ کی توجہ ہٹائی جائے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ ویسے بھی یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ بقول کسے سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ اور یہ بھی چاہتے تھے کہ کراچی میں جو خون خرابہ ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں ہوا عوام اس کو بھول جائے۔ اور اس طرح کچھ کچھ ماں بیٹی میں گول ہو جائے ۔ چیف جسٹس صاحب تو پہلے سے ہی جناب اعتزاز صاحب کے ہاتھوں بلیک میل شدہ ہیں عدالتیں ویسے ہی ہجڑوں سے بھری پڑی ہیں اکیلا چ ج کیا خاک کرے گا اور پھر ان کے حکم پر عمل درآمد کون کرے گا آرمی چیف جنکو ابھی ابھی تو ایکسٹنشن ملی ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ کا واقعہ۔ إنگلینڈ میں کر کٹ کا واقعہ۔ لاہور اور کوئٹہ میں وحشیا نہ واقیات وغیرہ وغیرہ آخر یہ سب توجہ ہٹانے کے چونچلے نہیں ہیں تو اور کیا ہے ؟ سیالکوٹ کا اصل مجرم جس کے إیما پر دو بچوں کو قتل کیا گیا یا وہ إسلام آباد محل سے یا گورنر ہائوس لاہور سے ملے گا۔ کرکٹ میچ فکسنگ کا حصے دار کون ہے۔ اگر کراچی میں فرانس کے گیاراں نیوی افسران دھماکوں سےاڑ انے کا راز افشاں نہیں ہو سکتا تو لاہور اور کوئٹہ کے تازہ دھماکوں کا راز کیسے افشاں ہو سکتا ہے۔ یہ صرف توجہ ہٹانے کے چونچلے ہیں ۔ کہاوت ہے کہ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو کہا ارے بھائی تمہارا کان ایک کتا لے اڑا ہے یہ سنتے ہی وہ آدمی کتے کے پیچھے بھاگا۔ بعین ہی یہی حال ہمارے میڈیا کا اور دوسرے تمام إداروں یا سیاسی پارٹیوں کا ہے یہ تمام کے تمام کتے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں

  • Revolutionانقلاب said:

    پاکستان کا ہر میچ فکس ہوتا ہے : برطانوی اخبار میں یاسر حمید کا انٹرویو اور یاسر کا انکار

    05 ستمبر 2010 02 : 00

    لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ کا سکینڈل منظر عام پر لانے والے برطانوی اخبار دی نیوز آف دی رولڈ نے پاکستانی بلے باز یاسر عمر کا ایک متنازع انٹرویو جاری کیا ہے جس میں یاسر حمید نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے کئی کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔ تقریباً ہر میچ فکس ہوتا ہے اور جو پکڑا جاتاہے رف اسے ہی میچ فکسر کہا جاتا ہے ۔ دوسری جانب یاسر حمید نے ان سے منسوب برطانوی اخبار کے اس بیان کو جھوٹ پر مبنی قرار دے کر کہا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی بلکہ اخبار نے یہ بات گھڑی ہے ۔ اگر اخبار کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے سامنے لائے۔جیو نیوز کے مطا بق یا سر حمید کو بھی ایک لا کھ پا ﺅ نڈ کی آ فر کی گئی تھی ،اگر کو ئی کھلا ڑی آ ئی سی سی کے اینٹی کر پشن یو نٹ کہ یہ اطلا ع نہیںدیتا تو وہ کھلا ڑی بھی مشکلا ت میںپھنس سکتا ہے۔برطانوی اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ایک چوتھے کھلاڑی سے بھی میچ فکسنگ کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے لیکن اسکا نام ابھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ اخبار ”نیوز آف دی ورلڈ “ نے یاسر حمید سے منسوخ جو انٹرویو جار ی کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یاسر حمید نے الزام عائد کیاہے کہ پاکستان کا تقریباً ہر میچ فکس ہوتا ہے۔ برطانوی اخبار سے انٹرویو میں یاسر حمید نے الزام لگایا ہے کہ خدا جانتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی آخر کیا چاہتے ہیں۔ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ اٹھارہ صفحات پر مشتمل سپیشل سپلمنٹ آج نکال رہا ہے جس میں پاکستانی ٹیم پر الزامات عائد کئے جائیں گے۔ یاسر حمید نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کا تقریباً ہر میچ فکس ہوتا ہے کوئی ایسامیچ نہیں ہے جو ایمانداری سے کھیلا گیا ۔ یاسر حمید نے کہا جو کھلاڑی بھی میچ فکس کرنے کے الزا م میں پکڑا جاتاہے چور صرف اسے کہا جاتاہے جو پکڑا جاتا ہے ۔ یاسر حمید نے نیوز آف دی ورلڈ سے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اچھا کھیلنے کی کوشش کی لیکن ٹیم میں ان کو ہرانے والے موجود تھے۔ یاسر حمید نے کہا کہ اس نے ہمیشہ پاکستان کے وقار اور کرکٹ کے تقدس کے لئے کھیلا مگر ہر مرتبہ اس وقت مایوسی ہوئی جب وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتقام کا نشانہ بنے۔ یاسر حمید نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کبھی ساری صورتحال کو کنٹرول میں نہیں کیا۔ ادھر نیوز آف دی ورلڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ کو پانچ مرتبہ آگاہ کیا گیا کہ ان کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں اور کن لوگوں سے آپ کو دور رہنا چاہئے لیکن سلمان بٹ نے کبھی ان ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سلمان بٹ سے دس سے سے پندرہ ہزار پاﺅنڈ کے وہ نوٹ برآمد ہوئے جن پر نیوز آف دی ورلڈ نے نشان لگائے تھے اور ان کی کاپیاں بنا کر رکھی ہوئی تھیں اور یہ نوٹ سلمان بٹ کے کمرے سے برآمد ہوئے ہیں۔ اخبار نے کہا ہے کہ سلمان بٹ کے کمرے سے دیگر کاغذات بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ دریں اثناءقائمہ کمیٹی برائے کھیل کے سربراہ اقبال محمد علی نے کہا ہے کہ یاسر حمید کے بیان کی جب تفصیلات سامنے آئیں گی وہ تب کی بات ہے ابھی تو یہ واضح ہے کہ یہ پاکستان کے لئے بڑی نقصان دہ بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم سے درخواست کریں گے کہ پی سی بی کو ختم کیا جائے تا کہ پاکستان پر اٹھنے والی انگلیاں اٹھنابند ہو جائیں ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے جب ایک سیکیورٹی افسر رکھا ہے تو اس کا کیا فائدہ ہے جبکہ کھلاڑیوں نے ایسے لوگوں کو ایجنٹ رکھا ہوا ہے جو پہلے بھی لوگوں کو بلیک میل کر چکا ہے۔

    Here is the video.
    http://www.youtube.com/watch?v=5a8ODJpq734&feature=player_embedded

    بے غیرتوں کو ملک کی عزت کا ذرا بھی احساس نہیں. بات کر کے مکر جاتے ہیں. اس ملک نے ان کو اتنا پیسا اور عزت دی اور ان کی حرکتیں دیکھیں. اب اس ملک کو دنیا میں عزت حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے لٹیروں کو لٹکانا پڑے گا ورنہ آپ سیلاب میں لوگوں کا رسپانس دیکھ ہی رہے ہیں. دنیا میں ہمارا امیج بڑی بری طرح خراب کیا ہے ان سب نے جو کہ پہلے ہی زرداری جیسے لوگوں کی وجہ سے بہت بری طرح متاثر تھا.

  • pejamistri said:

    An excellent interview , Justice Fakhar ud din is one of the very few people in Pakistan who are spot on in there assessment of the situation.
    Roshan kahin bahar Kay imkan huay tu hain

Leave your response!

You must be logged in to post a comment.

Username


Password


Recent Comments
Blog Comments
Search