News — May 14, 2011

20 comments

by Faarigh Jazbati

کیا نواز شریف اور زرداری کے درمیان فوج کی مداخلت کے خلاف کوئی خفیہ معاہدہ طے پا گیا ہے

نواز شریف کی ایبٹ آباد والے واقعے پر ہونی والی پریس کانفرنس میں ایک عدالتی کمشن بنانے کا مطالبہ اور خاص طور پر فوج اور خفیہ اداروں کی اس معاملے میں مکمل ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ بہت سی باتوں کی طرف سوچنے کی دعوت دیتا ہے

بہت سے مبصرین کے اندازوں اور خیالات کے برعکس ، نواز شریف کا سیاسی حکومت کی ناکامی پر زور نا دینا اور اس معاملے میں سیاسی حکومت کی ہلکی سی سرزنش کر دینا بعید از علّت نہیں ہے ، اور اسی طرح فی الحال کسی کے بھی استعفےٰ کا مطالبہ بھی نا کرنا بڑا معنی خیز ہے

صدر آصف علی زرداری کا اس ہنگامہ خیز ملکی صورتحال میں طویل غیر ملکی دورے پر چلے جانا باوجود اسکے کہ نواز شریف کی بیرون ملک سے واپسی پر دھواں دھار ابلاغی مہم کا خطرہ اور اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ مول لینا کسی بھی لحاظ سے سیاسی دانش مندی نہیں کہلا سکتا تھا ، اسی دوران جناب رحمان ملک کی جانب سے مسلم لیگ نون پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شدید گولہ باری اور مسلم لیگ کی طرف سے قابل ذکر جواب نا دینا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے

ایک اور سوالات طلب معاملہ جس کی طرف بہت کم لوگوں نے توجہ دی ہے وہ مسلم لیگ ق کا پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کے باوجود پی پی پی کا پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت گرانے کیلئے کسی بھی قسم کی کوشش کا نا کرنا ہے ، کیا پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نا کرنا بھی قاف لیگ اور پی پی پی کے درمیان شرکت اقتدار کے معاہدے کا حصہ ہے .

ایم کیو ایم کا اسی پرانی تنخواہ پر دوبارہ کام کرنے کیلئے پی پی پی کی حکومت میں شامل ہو جانا ،انقلاب کے نعرے مارنا اور محب وطن جرنیلوں کو بار بار دعوت دینے کا اپنا تھوکا ہوا بھی چاٹ لینا کس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے .

٢ مئی کے واقعے والے دن سے لیکر میاں نواز شیف کی پریس کانفرنس تک دور نما کے بزرجمہروں ، اخبارات کے انشائیہ نگاروں اور انٹرنیٹ کے شہسواروں نے ایک ایسی صورتحال بنائی ہوئی تھی کہ میاں صاحب کے ملک میں آتے ہی موجودہ حکومت موسم خزاں کے پتوں کی طرح لرزنے لگے گی اور میاں صاحب ایک دھواں دھار بیان دیں گیں اور اس حکومت کا پتا صاف ہو جائے گا ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ، نا تو میاں صاحب نے اس حکومت کے لتے لئے، نا کوئی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا اور نا ہی کچھ اور ، اور سب سے قابل غور بات یہ ہے کہ اس مطالبے کے باوجود کہ تین دن کے اندر اندر حکومت ایک عدالتی کمشن کو قائم کرے ، اس بات کا کوئی اشارہ یا عندیہ نہیں ہے کہ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو میاں صاحب اور مسلم لیگ نون کی آئندہ کیا حکمت عملی ہو گی،

تبصرہ نگاروں کی اکثریت اس بات پر ہی مرکوز نظر آتی ہے کہ میاں صاحب ایک دوستانہ حزب اختلاف کا کردار ہی ادا کرتے نظر آتے ہیں اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں وسطی پنجاب میں اپنی انتخابی حمایت کو نقصان پہنچنے کے ڈر سے کھل کر زرداری حکومت کے خلاف نہیں آ رہے اور فوج سے اپنی ذاتی تذلیل کا بدلہ لینا چاہتے ہیں

میرے خیال میں معاملات کسی اور ہی سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ، اس سارے ہلا گلا کے باوجود جو میں ملک میں برپا ہے اور زرداری صاحب کسی مشکل کا شکار نظر نہیں آتے تو اسکی واضح صرف یہ ہو سکتی ہے کہ میاں صاحب اور صدر آصف زرداری کے درمیان فوج کی مداخلت اور اختیار کے مکمل خاتمے کے بارے میں کوئی خفیہ سمجھوتہ طے پا گیا ہے اور شائد یہ بھی طے پا گیا ہے کہ اس سال کے آخر تک نئے انتخابات کروا دیے جائیں گیں ،اس بات کا بھی امکان ہے کہ آصف علی زرداری بدستور صدر رہیں گیں اور اگلی مدت کیلئے بھی مسلم لیگ انکی حمایت کرے گی . یہ سارا سمجھوتہ اسلئے کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں فوج اور خفیہ اداروں کی سیاسی ، خارجہ ، قومی سلامتی اور اقتصادی معاملات میں بیجا اور غیر ضروری مداخلت کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے ، نواز شریف کا کل کھل کر کہنا کہ اقتدار تو دیا جاتا ہے لیکن اختیار نہیں دیا جاتا اسی طرف اشارہ ہے

قاف لیگ اور پی پی پی کے معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ جناب زرداری کا یہ ترپ کا پتہ یعنی موجودہ شراکت اقتدار اصل میں قاف لیگ کے وجود کے خاتمے کیلئے ہے تا کہ آئندہ انتخابات میں ہیت مقتدرہ قاف لیگ کو استعمال نا کر سکے اور سیاسی قوتوں کا استحصال نا کیا جاسکے. اگر پی پی پی بجٹ پاس کروانے کے بعد قاف لیگ کا بستر گول کردیتی ہے تو یہ سیاسی یتیموں کا گروہ اپنی موت آپ مر جائے گا اور جناب زرداری کا چوہدریوں سے بھٹو کے پھانسی کے کاغذات پر دستخط والا قلم بطور تحفہ لینے کا بدلہ بھی پورا ہو جائے گا

چونکہ پی پی پی اور میاں نواز شریف دونوں ہی فوج کے ڈسے ہوئے ہیں تو ایسی کسی مطابقت یا آہنگی کا ظہور پذیر ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہو گی ، آنے والے دنوں میں فوج اور امریکا کی طرف سے میاں صاحب کے گڑے مردے اکھاڑے سے اس خیال کو تقویت ملے گی کیہہ ایسے کسی سمجھوتے کا وجود ہے ، امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کیہہ پاکستان میں فوج کا اثر و رسوخ اور قومی حکمت عملی میں اسکے موجودہ اختیار کو چھیڑا جائے ، امریکا پاکستانی فوج سے معاملات طے کرنے میں آسانی محسوس کرتا ہے اور یہ چاہے گا کہ سیاسی حکومت صرف ہیت مقتدرہ کے غلطیوں کے ملبے کو صاف کرنے کیلئے موجود ہو نا کہ قومی حکت عملی بنانے کیلئے، ایک عوامی حمایت والی حکومت جو قومی حکمت عملی کو بنانے میں آزاد ہو امریکا کیلئے بھی اتنی ہی ناقابل قبول ہے جتنی فوج کیلئے

لگتا ہے کیہہ ہیت مقتدرہ کو بھی اس سمجھوتے کی بھنک پڑ چکی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کا صدر زرداری کے دو عھدوں کے خلاف درخواست کا صدر زرداری کے خلاف فیصلہ ہیت مقتدرہ کی جوابی چال معلوم پڑتا ہے ،