July 21, 2011

Apologies for inconvenience, the video is scheduled to be restored and will be restored between 2 and 8 weeks. Please contact admin @ pkpolitics dot com if you want this video earlier.

Today’s episode of Jirga with Saleem Safi.

9 Comments

  1. Salam says:

    ایک شکست خوردہ سرخے سے اس کے سوا اور کیا امید کہ وہ پھونکیں مار مار کر موجودہ صلیبی جنگ کی شکست کو فتح میں بدلے، یہ بیچارہ جلا ہوا سرخا بھی اسی کوشش میں لگا ہے، ضیاء کے دور سے اپنی شکست کے غصہ سے آغاز کیا اور موجودہ صلیبی جنگ کا ایندھن بننے پر تلا بیٹھا ہے

    ان کا نظریہ تو مر گیا کہ ماننے والوں نے اس کو ترق کر دیا لیکن غصہ اور بغض ان کا ابھی تک نہیں گیا

  2. edcoym says:

    Kia waja hey kay 1979 jang may toh Pakistan nay khus dilli say inka saath diya, aur aaj kiun Pakistan bay dilli say inka saath dey rahi hey?? In question may sari cheez hey.

    I know majority of common pathans of KP don’t like ANP at all, except those are getting money through Asfend Wali/ANP. One of the pathan told me that, Asfend Wali (bikao wali) is buying tremendous amount of properties in Singapore. with the money he is getting (you know where he is getting money from?) to keeping quiet on KP’s situation.

  3. Salam says:

    یہ شکست خوردہ سرخے گاندھی کی باقیات ہیں جن کی مری ہوئی روح میں سرمایادار ڈالروں سے مصنوئی اور وقتی جان ڈال رہے ہیں

    آج بھی یہ اپنی ذلت آمیز شکست نہیں بھولے اور نفرتوں سے بھرے بیٹھے ہیں، لال ٹوپی پہن کر اپنے مردہ کفن گردیدہ نظریات کو چھوڑ کر سرمایادار کی گود میں بیٹھے ہیں، جلد آپ دیکھیں گے کہ لال ٹوپی سے سبز ٹوپی ہو جائے گی، جس رنگ کا نوٹ اس رنگ کی ٹوپی

  4. Hakka Bakka says:

    فیاض طورو صاحب مولانا فضل الللہ کو ٢٠٠٧ اور ٢٠٠٨ میں عوام
    میں انتہائی مقبول قرار دے رہے ہیں- ایم ایم اے کی حکومت کھل کر ان
    کی حمایت کرتی رہی ہے- مگر کیا وجہ ہے کے فضل اللہ کا ایف ایم
    ریڈیو متواتر چلا کرتا تھا مگر جب ٢٠٠٨ کے انتخابات ہوتے ہیں تو
    لوگ ووٹ فضل اللہ کے حمایتیوں کو ڈالنے کی بجاءے اے این پی کے
    امید واروں کو ڈال کر آ جاتے ہے؟

  5. Salam says:

    بالآخر سرخا مرغا دانے کے پیچھے آ ہی گیا، کیسے ہو سکتا ہے کہ شکست کے داغ کو بھول جائیں

    :mrgreen:

  6. Hakka Bakka says:

    Salam said:
    بالآخر سرخا مرغا دانے کے پیچھے آ ہی گیا، کیسے ہو سکتا ہے کہ شکست کے داغ کو بھول جائیں
    ——————————————————————-

    جناب سلام صاحب
    مرغا تو مومن پرندہ ہے ، اذان بھی خوب دیتا ہے اور شکل ہی سے عبادت گزار معلوم ہوتا ہے
    اپنی تن آسانی کے وجہ سے پر رکھنے کے باوجود اڑنا نہیں چاہتا- اس پاس کی مرغیوں کو اپنی
    ذاتی ملکیت سمجھتا ہے- دانے دنکے سے حلوے جیسی رغبت رکھتا ہے

    مگر کیا کریں خود فریبی ! انسان جس چیز کو جیسا دیکھنا چاہے اس کو ویسی ہی نظر آنی شروع
    ہو جاتی ہے – جنرل ضیا صاحب کو اپنی آنکھیں ہیما مالنی کی آنکھوں کے جیسی معلوم ہوتی تھیں
    سلام صاحب صاحب کو اس ہی طرح مرغے جیسے مومن پرندے بھی سرخے معلوم ہو رہے ہیں

  7. Salam says:

    اسے کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکہ

    ف ج بھائی آپ نے سرغے مرغے کو کافی دانے ڈالے لیکن مرغا ہوشیار تھا لیکن یہاں بیچارہ رہ نہ سکا اور پھس گیا

    اپنی نئی دلہن کو زبدرستی چھٹی پر بھیج کر اب پرانی سے کام چلانے کی کوشش ہو رہی ہے، نہیں دیکھیں ابھی نئی والی آئے گی اور کہے گی کہ میں چھٹی پر ہوں، کہتی چھٹی کا ہے لیکن سارا دن بیچاری کمپیوٹر کے سرہانے بیٹھی مزدوری کرتی ہے

    کیا زمانہ آ گیا ہے اب تو ہٹ دھرم سرخے بھی اللہ اللہ کرنے لگے ہیں، لگتا ہے کہ ان کا ایمان کمزور پڑ گیا ہے

  8. بلیک شِیپ says:

    محترم ہکا بکا صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مُحبی یاجوج ماجوج نامی دو جاسوس آپ کے پیچھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو یاجوج ماجوج خلافتی سُرمہ بیچتے ہیں لیکن ان دنوں یہ پارٹ ٹائم جاسوسوں کا کام بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کام کا دوسروں کو تو فائدہ ہو نہ ہو لیکن مومنین کے گاؤں میں خلافتی سُرمہ بہت بک رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اصل میں پچھلے دنوں کسی نے مومنین کے گاؤں کے چوہدری سالارِ مومنین کو چیلنج کیا کہ میں فلاں دن تمھاری پگڑی اتاروں گا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بندہ مقررہ دن پر چپ چاپ گاؤں میں آیا پگڑی اتاری اور چلا گیا لیکن واپسی پر اس نے سیدھا راستہ لینے کی بجائے ایک چالاکی کی۔۔۔۔۔۔ وہ پہلے ایک گاؤں میں گیا پھر واپس آیا اور دوسرے گاؤں میں گیا۔۔۔۔۔ لہذا یوں اس نے اپنے قدموں کے نشانات مختلف گاؤں میں پھیلا دئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے دن صبح چوہدری صاحب پگڑی اترنے پر واویلا کر رہے تھے کہ یاجوج ماجوج وہاں پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ اُن وقت یاجوج ماجوج چوہدری کی پریشانی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے کھرا دکھاتے کبھی اِس گاؤں لے جاتے ہیں کبھی اُس گاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری پہلے خلافتی سرمے کے بہت خلاف تھا لیکن آج کل صبح اُٹھ کر سب سے پہلے خلافتی سُرمہ آنکھ میں ڈالتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ الحمد اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاجوج ماجوج کے آپ کے ساتھ غصے کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دنوں ایک اور بندہ نمودار ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے پیچھے نشان چھوڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یاجوج ماجوج گاؤں کو لے کر اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بندہ کسی جگہ نمودار ہوتا ہے یاجوج ماجوج کو دیکھ کر ٹھٹھا لگاتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاجوج ماجوج اب بہت پریشان ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہر بندے کو وہی بندہ سمجھ رہے ہیں جو ان کو پیچھے لگا کر غائب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری پریشانی یہ ہے کہ چوہدری کب تک خلافتی سرمہ خریدے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری کا سُرمہ خرید خرید کر دیوالیہ نکل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    😉 😉

Leave a Reply