April 1, 2012

NO DISCUSSION ON RELIGIONS HERE.
Click here to post religious topics.

Share and discuss the latest Pakistani Political News and Views here. Feel free to include links to interesting videos, news, and articles from electronic media, newspapers or blogs. Always pretext a link with some explanation about the content of a link.

531 Comments

  1. پاکستانی سیاستدان says:

    @Javed Ikram Sheikh

    جاوید صاحب میری تجویز ہے کہ آپ اپنی اس ویڈیو کا ٹائٹل Muslim’s Complaint and American Response رکھہ دیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مسلمان خاص کر پاکستانی مسلمان اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار امریکہ کو ہی ٹھہراتے ہیں چاہے امریکہ اس کا ذمہ دار ہو یا نہ ہو۔ ہم پاکستانی مسلمان صرف شکایتیں ہی کرتے رہتے ہیں اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔

  2. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    آفرین ہے بھئی۔۔۔ محترم شیخ صاحب کو اپنے امریکہ نامے پہ بہت ہی فخر ہے جو انہوں نے شکوہ اور جواب شکوہ کی زمین پہ لکھی ہے۔ اس کا عنوان یقیناً امریکہ نامہ ہونا چاہیے تھا۔

    کیا بات ہے جی محترم امریکہ کی طرف سے فرماتے ہیں۔ میری سرحدوں میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔ واقعی ایک ہونے کا احساس تو فوراً امریکہ کے ہوائی اڈے پہ پہنچ کے ہی ہوجاتا ہے جب پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک لوگوں کیلیے الگ قطار ہوتی ہے اور باقی دنیا کے لوگوں کیلیے الگ، اور ایسے سوالات کیے جاتے ھیں جیسے کسی مجرم سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔ وہیں سے پتہ لگتا ہے کہ واقعی سب ایک ہیں۔ مساوات ہو تو ایسی واہ بھئی واہ کیا کہنے۔

    اور آپ ہی نے امریکہ کی طرف سے یہ کہا تھا مسلمانوں سے کہ کس نے کہا تھا کہ طیارہ عمارت پہ ٹکراؤ۔ ویسے یہ تو سب کو پتہ ہے کہ یہ تو امریکہ نے خود ہی کہا تھا۔ اور اس کے پیچھے بھی وہی مخصوص لابی ہے اور یہ بات تو خود امریکی دانشوروں نے ثابت کردی ہے، اور اب ابھی بھی امریکہ کی طرف سے یہ سوالات مسلمانوں سے پوچھ رہے ھیں۔

    واہ محترم مزید فرماتے ھیں امریکہ کی وکالت کرتے ہوئے۔
    دنیا میں اجالا کیا کس نے۔

    واقعی اس اجالے کی مثال بھی تو دینی تھی نہ

    مہلک ہتھیاروں کے نام پہ عراق پہ حملہ کیا کس نے(پھر بھی ہتھیار نہ ملے)۔ اسی جنگ میں صرف بیس لاکھ لوگوں کو مارا کس نے،

    بچوں کے دودھ اور دوائیوں پہ پابندی لگائی کس نے (عراق میں)۔ بوڑھے اور بچوں کو تڑپا تڑپا کے مارا کس نے۔

    پہلا ایٹم بم شہری آبادی پہ چلایا کس نے۔

    گوانتانامونے جیسی جیلیں آباد کیں کس نے اور وہاں انسانیت سوز سلوک کیا کس نے۔

    ویت نام اور کمبوڈیا تک کو بھی نہ چھوڑا کس نے۔

    افغان جنگ میں شہری آبادی پہ بھی ڈیزی کٹر بم چلائے کس نے۔

    عافیہ صدیقی جیسی خواتین پہ ظلم کے پہاڑ ڈھائے کس نے

    ساری دنیا کو اسلحہ فراہم کیا کس نے۔

    تیل نکالا ضرور پر اس پہ قبضہ بھی کیا کس نے اور جو اس کی راہ میں آیا اس کو قتل کروایا کس نے۔

    اپنے ہی ملک میں 80 لاکھ لوگوں کو بیروزگار کیا کس نے

    پوری دنیا کو کساد بازاری میں ڈالا کس نے۔

    اپنے ہی ملک میں دس فیصد غربت کو جنم دیا کس نے۔

    ابھی حال ہی میں سولہ نہتے لوگوں پہ گولیاں برسائیں کس نے۔

    مقدس کتابوں کو نذر آتش کر کے جذبات کو مشتعل کیا کس نے۔

    جناب آپ یہ ساری باتیں بھی لکھتے تو آپ کی مدح سرائی مکمل ہو جاتی۔ لیکن ابھی تو آپ نے آدھی بات کی ہے۔ کیا خیال ہے ان تمام باتوں کو بھی شامل کریں گے اپنے امریکہ نامے میں جو آپ نے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔

  3. ukpaki1 says:

    جناب محترم ہئپوکریٹ صاحب

    پچھلے دھاگے پہ شاید آخری تحری تھی آپکی جس میں آپ نے بڑی سادگی سے ایک نقطہ اٹھایا تھا۔ کہ بھارت کے جنگی جنون کا تو پتہ ہے لیکن کوریا کو کیا ہوگیا وہ کیوں اتنا اسلحہ خرید رہا ہے۔

    جنوبی کوریا اور شمالی کوریا آپس میں روایتی حریف ہیں اور شمالی کوریا جو ایک ایٹمی طاقت بھی ہے کی طرف سے جنوبی کوریا کو ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ بلکہ جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ نے پوری کوشش کی شمالی کوریا ایٹمی طاقت نہ بنے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی محنت اور کوشش سے وہ طاقت حاصل کرلی۔ اس لیے کوریا کو اسلحہ کے ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔

    اور ان ساری باتوں سے قطع نظر اسلحہ کی صنعت امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کیلیے بہت ہی نفع بخش کاروبار ہے، اور یہ بات بھی ان کے مفاد میں ہے کہ ممالک کی اور خاص کر ہمسایہ ممالک کی آپس میں دشمنیاں ہوں اور وہ ممالک ان سے اسلحہ خریدیں۔

    خیر آپ ایک اچھے لکھنے والے ھیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ آپ کے اکثر باتیں کافی معصومانہ ہوتی ہیں۔ خیر اپنا خیال رکھنا

  4. nadaan says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    Over 9000 hits within 45 days.

    I have just visited youtube and noted that the video was posted as “A conept by Javed Sheikh” but someone has pointed out that half of that concept was penned by someone else. It spoils everything. I wish this had been pointed out at the time of posting the video. Now I feel when will someone else claim the rest of the poetry.

  5. saleem raza says:

    ukpaki1 said:
    السلام علیکم

    آفرین ہے بھئی۔۔۔ محترم شیخ صاحب کو اپنے امریکہ نامے پہ بہت ہی فخر ہے جو انہوں نے شکوہ اور جواب شکوہ کی زمین پہ لکھی ہے۔ اس کا عنوان یقیناً امریکہ نامہ ہونا چاہیے
    ——-
    السلام وعلیکم جناب اپ شیخ صاحب کو کس کام پر لگا رہے ہیں ‘
    جناب وہ شیخ ہیں وہ کوئی ایسا ویسا کام نہیں کریں گے جس سے ان کی ‘زبان اور پرِ
    دونوں ، جلتے ہوں اور باقی یہ لوگ تو پاکستان اور مسلم دنیا کی نفرت کے سہارے زندہ
    ہیں اپ ان سے جینے کا مقصد نہ چھین !

    ان کو لگارہنے دیں

  6. Javed Ikram Sheikh says:

    The first part ‘Complaint to America’ was composwed by Mr. Khalid Irfani, a well known poet , living in New York and was circulating at the the Internet since 2009, without mentioning his name.
    I tried my best to find the author of the ‘ Complaint to America’, when I wrote its reply.

    On 15 JANUARY 2009 , I composed its reply ‘Response to the Complaint’, and my response was posted at the DISCUSS SECTION OF the PKPOLITICS in 2009.

    Recently, after getting motivated bysome of my friends, I decided to prepare a video for the You Tube.
    Finally, Mr. Khalid Irfani, after watching at the You Tube, called me on telephone to appreciate the production.

  7. Javed Ikram Sheikh says:

    First part was posted at the Internet without mentioning the name of its author.

    No where I claimed anything about the first Part.

    Second part is my ORIGINAL CREATION.
    Combining the both part into an Episone with pictures is my CONCEPT.
    The Video is,
    ‘PRESENTATION OF THE PROGRESSIVE PRODUCTIONS’

  8. nadaan says:

    @Javed Ikram Sheikh

    Thank you for your clarification. It would have been nice and more appropriate if the credit to Mr. Irfani had been given at the outset.

    Slight disagreement with you. You say that at no stage you claimed anything about the first part but equally you did not disclaim the first part. In absence of that you cannot blame the readers in thinking that all the work is yours.

    Anyway, all is well that ends well.

  9. Javed Ikram Sheikh says:

    جناب عالی،
    کوئی دھماکہ نہیں ھے .
    جواب شکوہ کا صحیح مفہوم سمجھنےاور سمجهانے کے لئے
    شکوہ ، شامل کرنا ضروری تھا …..
    تین سال تک شکوہ لکھنے والے شاعر کی تلاش کرتا رہا.
    جب میں نے اس کا جواب یو ٹیوب میں ڈالا . تو مجھے خوشی ہوئی
    کہ بہت سے لوگ جاگ اٹھے.
    شکوہ لکھنے والے اصلی شاعر کا پتا لگانے کا یہی طریقہ کامیاب ثابت ہوا ….

  10. Javed Ikram Sheikh says:

    Had I posted just my Response only without reciting the First part,
    the artistic impression of the Episode could have been spoiled and incomplete to uderstand.

  11. saleem raza says:

    محترم شیخ صاحب اتنی وصاحت دینے کی قطی ضرورت نہیں ہے بہت سارے مہربان
    یہئ کام کر رہے ہیں اور گوگل سے کاپی پیسٹ کر کے دانش وار بنے ہوے ہیں !
    ویسے میں اس پائی کو داد دوُں گا جس نے آ کر اپکو سچ بولنے پر مجبور کیا ہے ۔
    ورنہ ہم تو اپکا کلام سن کر ایسے، مہمیز، ہوے تھے کہ آس پاس کا ہوش ہی نہیں تھا !

  12. saleem raza says:

    محترم شیخ صاحب
    آپکی زبان شوق سے سننا چاہوں گا !
    کہ شکوہ اور جواب شکوہ لکھنے والے زیادہ قصور وار تھے جو پابند سلاسل ہوے،
    یا وہ جو سن کر بھی اس پر عمل نہ سکے ۔ اور وہ الفاظ رائیگاں ہی گیے اور ہم نے جانتے بوجھتے ہوے اس علم کے خزانے کو نظر انداز کیا !

  13. زالان says:

    جماعتی جانور جاوید چودھری تیزاب پھینکنے کو جسٹیفائی کر رہا ہے ، لعنت ہو جاوید چودری پر

    ‎http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?
    newsID=1101487647&Issue=NP_LHE&Date=20120401‏

  14. saleem raza says:

    تیزاب ڈالنے والے اس معاشرے کا ناسوُر ہیں ان کو کاٹ دینا چاہیے ۔
    لیکن ساتھ یہ بھی دیکھناچاہیے کہ ان کو ایسا ناسوز عمل کرنے پر کیوں مجبور کیا گیا !
    آخر کہیں ناں کہیں کی گڑ بڑ ہوئی ہے !
    اور سب معاشرے میں برداشت کی کمی ہونا ہے جس کے پھچے بہت سارے عامل واقع ہیں

  15. زالان says:

    جاوید چودری کی بہنوں ،بیٹیوں اور خاندان کی خواتین کو اپنے شوہروں سے محتاط رہنا ہوگا کے کہیں انکے شوہر ان پر تیزاب پھینکنے میں حق بجانب نہ ہوں

  16. زالان says:

    جاوید چوردری شیطان کا پیغام ہے کہ عورت کو قتل کرنے سے فائدہ نہیں اسے تڑپا کر پارنے کے لیہ تیزاب کا سہارا لینا ہوتا ہے ، لعنت

  17. saleem raza says:

    زلاان میاں کیا اپ یہ نہیں سمھجتے کہ اس میں سب سے بڑی قانون معزولی ہے ۔
    قانون کی شکست ہے اور اپ یہ بھی خوب جانتے ہیں اس قانون کی بے حرمتی کرنے والے
    کون ہیں ۔
    یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے نہیں کہ کسی مجرم کو سزا ملے ۔ تیزاب ڈالنے والوں سے اس
    جرم کی سزا نہ دینے والے بڑے مجرم ہیں !

  18. Javed Ikram Sheikh says:

    America Vs. Muslims

    آواز..تحریر..تصویر..اور .. تقریر کی دنیا کے دوستو….
    آم کھانے کا مزہ لو …گٹھلیوں پر مت جھگڑو …
    *******************************
    “امریکا سے شکوہ” کے خالق…خالد عرفانی نے میری کاوش …”جواب شکوہ ” کو پسند کیا ھے
    *********
    اگر باغ کے مالی کو ایک پھول توڑنے پر کوئی اعتراض نہیں…
    تو مینڈک کا ٹرانا…چیخنا…چلانا ….. مناسب نہیں ھے ……

  19. saleem raza says:

    جناب شیخ صاحب
    ام بے شک چوری کے ہوں ۔ باقی اصل کلام کی بے حرمتی کو ، مینڈک ‘
    کا ٹرانا ہی سمھجا جاے گا ۔ بہت شکریہ

  20. hypocrite says:

    عزیز سلیم رضا صاحب
    سلام
    آپکے پارو کے متعلق سوال کا جواب گزرے ہوے دھاگے پر دے دیا ہے
    ——–
    محترم یو کے پاکی اول صاحب
    آپکی بات بلکل ناگوار نہ گزرتی ہے نہ گزری ہے
    آپ نے ہاتھ کچھ ہولا رکھا ہے
    میری بات معصومانہ نہیں بلکے بے تکی ہوتی ہے
    مگر کیا کیا جائے
    انپڑھ ہونے کا بہت کچھ نقصان ہوتا ہے

  21. Javed Ikram Sheikh says:

    Shikwa by Khalid Irfani, is no doubt very impressive…….

    but my response to expose the groumd reality should not be…. or must not be …
    ingnored or …overruled.
    ………
    I honestly feel that Jawab Shilwa…is equally impressive and logical.

    America is a State and Society…where…
    Rahman…Bhagwan….Shaitan…Insaan…and… Haiwan
    have been disciplined…according to the …Constitution….of the Land
    even Rahman and Bhagwan…are not above the Rule of Law liad down at the Constitution.

  22. hypocrite says:

    لگتا ہے کے دوستوں میں سچ بولنے ، سچ سننے اور سچ برداشت کرنے کی طاقت بدتدریج بڑھتی جا رہی ہے
    بہت ہی اچھی بات ہے
    اسی طرح عادت پختہ ہوتی جاتے تو بہت کچھ اچھا ہو جانے کا امکان ہے

  23. hypocrite says:

    Rahman and Bhagwan…are not above the Rule of Law liad down at the Constitution.

    _______

    Javed sahib

    I think the constitution doesnt discriminate based on religion, race, creed, color and language etc.

    But then most progressive societies are based on the same philosophy. Even for our country, Quaid-e-Azam Jinnah sahib wanted no discrimination based on religion, caste, creed or color etc.

    Unfortunately, we deviated from the vision and now discrimination is carried out amongst those who are followers of Rehman what to talk about others.

  24. ukpaki1 says:

    salam

    I honestly feel that Jawab Shilwa…is equally impressive and logical.
    _____________________________________________________
    wow!! good example of self praising… keep it up Sir… keep exaggerating and twisting the real facts.

  25. ukpaki1 says:

    salam
    America is a State and Society…where…
    Rahman…Bhagwan….Shaitan…Insaan…and… Haiwan
    have been disciplined…according to the …Constitution….of the Land
    even Rahman and Bhagwan…are not above the Rule of Law liad down at the Constitution.
    ______________________________________________________
    guantanamo bay was the perfect example of US rule of law. obama despite his announcement of its closure couldn’t do much during his 1st year. do u really know that what law did they pass to intervene spy on muslims or to intervene in their policies.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  26. ukpaki1 says:

    محترم ہئپوکریٹ صاحب
    بہت شکریہ جواب دینے کا، میری آپکے نام جو بھی تحریر ہوتی ہے وہ ہمیشہ دوستانہ نیت سے ہوتی ہے۔ اور آپ کی بات بے تکی بالکل نہیں تھی بہت معقول تھی یقیناً، اور آپ نے بالکل صحیح نقطہ اٹھایا تھا۔ بس وہ آخری سطر جو لکھی آپ نے اس کے حوالے سے میں تھوڑا بے تکلف ہوگیا، جو کہ آپ کا بڑا پن کہ آپ نے برا نہیں مانا۔

  27. Javed Ikram Sheikh says:

    It has, almost, become a fashion, habit and tradition to blame America for most of the problems faced by the Muslim world.
    To make a rational judgment and conclusion one must also examine the validity of such charges after reading the American Response to such criticism and condemnation.

    (This poem was presented at Friends Literary Forum in Washington, last year.)

    http://i47.tinypic.com/2i20xgm.jpg

    http://i47.tinypic.com/2ufpylx.jpg

    Posted 2 years ago on 09 Feb 2010 15:39 #

  28. Javed Ikram Sheikh says:

    Why the Kafirs are Advanced and the Muslims are Backward?
    They Think————— -We Worry
    They Invent————– -We Prevent
    They Divide & Rule—– —We Divide and Kill
    They Unite and Rule——–We Divide and Fight.
    They Act—————— We Criticize
    They Live—————- -We Drag.
    They Make Laws————-We Break Laws
    They Discuss Issues ——-We Discuss Personalities
    They Target Future———We Hold the Past.
    They Construct———— We Destruct
    They Plan—————– We Discourage
    They Print—————- We Copy

  29. ukpaki1 says:

    گزشتہ سال برطانیہ میں ہونے والے ہنگاموں میں کافی حد تک انٹرنیٹ کا کردار تھا کیونکہ ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعے لوگوں کو ہنگاموں میں حصہ لینے پہ اکسایا گیا، لیکن پھر بھی ان ہنگاموں پہ کچھ دنوں کے اندر قابو پالیا گیا اور جنہوں نے ان مقاصد کیلیے نیٹ استعمال کیا تھا ان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔ اسی طرح مصر اور تیونس میں ہونے والے مظاہروں میں بھی انٹرنیٹ کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ لوگوں کو فیس بک اور ٹوئیٹر کے ذریعے اکٹھا کیا گیا۔ اسی لیے اس وقت کی حکومتوں نے انٹرنیٹ پہ پابندی بھی لگا دی تھی۔

    ویسے واقعی جس طرح سے اس کا استعمال بڑھتا جارہا ہے، جو اچھے اور برے دونوں مقاصد کیلیے استعمال ہوتا ہے تو اس سے واقعی حکومتوں کو بڑے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، خاص کر آمریتوں کو جس کا ایک مظاہرہ ہم نے پچھلے سال دیکھا تھا۔ اور اب شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے میں بھی انٹرنیٹ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس نے بھی اس پہ قدغن لگائی تھی۔ خیر واقعی اس کے ذریعے ملکوں میں خانہ جنگی بھی برپا کروائی جاسکتی ہے۔ جو لوگ پہلے سے ہی ملکی حالات سے تنگ ہوں اور ان کو فیس بک اور ٹوئیٹر کے ذریعے مزید اشتعال دلایا جائے تو صورتحال انتہائی خراب ہوسکتی ہے اور حکومت کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوسکتی ہے۔

  30. SCheema says:

    ukpaki1 said:
    انٹرنیٹ کا کردار
    ——————————————————
    یو کے پاکی بھائ جی ۔
    آپ کا تجزیہ بہت اچھا ہے ۔
    جب میں نے پاکستان چھوڑا تھا اس وقت میں اکثر کہا کرتا تھا کہ لاہور کے ایک طرف سے مرید کے کراس کر جائیں اور دوسری طرف سے ٹھوکر نیاز بیگ کراس کر جائیں تو پتھر کا دور شروع ہو جاتا ہے اور اب تو لاہور کے اندر بھی پتھر کا دور شروع ہو چکا ہے ۔
    جب 16 گھنٹے بجلی بند رہے گی تو کیا انٹرنیٹ ، گوگل، ٹوئیٹر ، اور فیس بک ۔ اس لیے ایسے انقلاب پاکستان میں آنے سے تو رہے ۔
    ویسے پاکستانی حکمران کتنے دور اندیش ہیں ۔ انٹرنیٹ کے انقلاب کو سمجھتے ہیں اسی لیے انہوں نے انقلاب کو جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا ہے
    نہ ہو گی بجلی ۔ نہ چلے گا انٹرنیٹ اور نہ آئے گا انقلاب

  31. FJ_ Pak says:

    ذات پات کا گھٹیا نظام اور تقسیم

    نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو شخص عصبیت ( یعنی ذات پات ، قبیلہ ، علاقہ ، قوم ) پر فخر کرتا ہے ، وہ ایسے ہے جیسے اپنے باپ کا عضو تناسل چباتا ہے

    The Curse of Casteism in Pakistan

    A Must watch

    http://awaztoday.com/News-Talk-Shows/21450/Fighting-caste-in-Pakistan.aspx

    I salute this guy.

    FJ

  32. SCheema says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    America Vs. Muslims

    آواز..تحریر..تصویر..اور .. تقریر کی دنیا کے دوستو….
    آم کھانے کا مزہ لو …گٹھلیوں پر مت جھگڑو …
    *******************************
    “امریکا سے شکوہ” کے خالق…خالد عرفانی نے میری کاوش …”جواب شکوہ ” کو پسند کیا ھے
    *********
    اگر باغ کے مالی کو ایک پھول توڑنے پر کوئی اعتراض نہیں…
    تو مینڈک کا ٹرانا…چیخنا…چلانا ….. مناسب نہیں ھے ……
    ——————————————
    شیخ صاحب ۔

    میں اس قبیل سے تعلق رکھتا ہوں جو امریکہ سے زیادہ خود اپنے آپ کو بربادی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔
    صرف ایک مثال دیتا ہوں ۔ امریکہ اگر ہمیں ایک ٹانگ اٹھانے کا کہے تو ہم دونوں اٹھا لیتے ہیں (مشرف) کہ پتہ نہیں کون سی ٹانگ کہی تھی ۔
    ( مثال کے لئے معذرت اس لئے کہ امریکہ کے ساتھ ہماری تاریخ ہی کچھ ایسی ہے ابھی نیٹو سپلائی میں بھی دیکھ لیجئے گا)

    آپ کی کاوش بہت اچھی ہے لیکن یہ مینڈک والی بات دل کو کچھ اچھی نہیں لگی ۔
    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img]

  33. Hakka Bakka says:

    ukpaki1 said:

    گوانتانامونے جیسی جیلیں آباد کیں کس نے اور وہاں انسانیت سوز سلوک کیا کس نے۔

    ویت نام اور کمبوڈیا تک کو بھی نہ چھوڑا کس نے۔

    افغان جنگ میں شہری آبادی پہ بھی ڈیزی کٹر بم چلائے کس نے۔

    عافیہ صدیقی جیسی خواتین پہ ظلم کے پہاڑ ڈھائے کس نے

    ساری دنیا کو اسلحہ فراہم کیا کس نے۔

    تیل نکالا ضرور پر اس پہ قبضہ بھی کیا کس نے اور جو اس کی راہ میں آیا اس کو قتل کروایا کس نے۔

    =====================

    شکوہ اکسٹنشن
    ==========
    (Shikwah Extension)

    بے موت مرنے کی ہم خواہش نرالی سی رکھتے ہیں
    غیرت و حرمت و انا ، کچھ خیالی سی رکھتے ہیں
    دل ایمان سے بھرا ، کھوپڑی خالی سی رکھتے ہیں
    ظاہر و باطن کے بیچ ایک دھاندلی سی رکھتے ہیں

    ہندو تو ہندو ہیں ، بریلوی بھی نہ چھوڑے ہم نے
    خود اپنی ہی لاشوں پہ دوڑا دیے مکوڑے ہم نے

    اپنے ہی گھر میں ترے اڈے جمانے کس نے
    ترے ڈھول کی تھاپ پہ ٹھمکے لگاۓ کس نے
    پڑوسیوں کے گھر تیرے برتن گراۓ کس نے
    سیاہ ستمبر کے مردے قبر میں دفناۓ کس نے

    ہم تو سمجھے تھے کہ تو بھی تو اہل کتاب ہے
    روس کی واڈکا حرام مگر ہلال تری شراب ہے

    تیل جس نے بھی چھڑکا، مگر آگ لگائی ہم نے
    تیلی جب بھی دکھائی، تو دوزخ سی جلائی ہم
    بم گرے ہوں جاپان پر ، کی مداح سرائی ہم نے
    ویتنام کے جلنے پر بھی خوب تالی بجائی ہم نے

    ہیں تو ہم تیرے ہی ٹٹو ، پھر بھی جانے کیا ہیں
    ناک میں تری نکیل لئے ، جانب جنت فردا ہیں

  34. ukpaki1 says:

    السلام علیکم چیمہ جی

    پاکستان کے حوالے سے ایک بات جو میرے مشاہدے میں بھی ہے وہ ہے اجتماعی بے حسی کی۔ پاکستانی عوام میں اب بے حسی کا عنصر بہت بڑھتا جارہا ہے۔ اور ایک بات اور ہم لوگ حکمرانوں کو تو بہت کہتے ھیں کہ یہ بدعنوان ہیں، کرپٹ ھیں ملک کھا گئے وغیرہ وغیرہ، جبکہ میری آنکھوں دیکھی حقیقت یہ ہے کہ بڑی بڑی عمارتوں میں پینٹ کوٹ ٹائی لگائے اے سی میں بیٹھنے والے شخص سے لے کے سائیکل پہ گرمی میں دودھ بیچنے والے گوالے تک بدعنوان لوگ بیٹھے ھیں۔ جو اچھی بھلی تنخواہوں پہ عزت سے کام کررہے ھیں انہوں نے اپنے منہ کو حرام لگا لیا ہے اور باقاعدہ وہ لوگ اپنی بدعنوانیوں کا دفاع کرنا بھی جانتے ھیں۔
    اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستان میں بیٹھے لوگوں سے زیادہ تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کی زیادہ فکر ہے۔

    اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ احساس ہو گا کہ شاید ہم اسی طرح کے حکمرانوں کے مستحق ہیں جو آج ہم پہ مسلط ہیں۔

  35. Hakka Bakka says:

    George Galloway wins Bradford West by-election

    George Galloway scored a dramatic victory in the Bradford West by-election, securing a 10,000-plus majority in what he called a “massive rejection” of mainstream parties.

    http://www.telegraph.co.uk/news/politics/9175133/George-Galloway-wins-Bradford-West-by-election.html

    برطانیہ میں لیڈز کے قریب یہ علاقہ لیبر پارٹی کا ” سٹرانگ ہولڈ “سمجھا جاتا رہا ہے – جارج گالووے نے غالبا لیبر پارٹی پانچ دس سال قبل شدید اختلافات کے وجہ سے چھوڑی تھی اور رسپیکٹ پارٹی کے نام سے ایک سوشلسٹ پارٹی بنا لی تھی – یہ امریکہ اور برطانیہ کی جنگی پالسیوں اور اسرائیل کے شدید مخالف اور نیو یارک سے شروع ہونے والی بزنس کارپوریٹ کے خلاف آکوپائی وال سٹریٹ کے شدید حمایتی ہیں -اس علاقے میں لیبر پارٹی کی یہ عبرتناک شکست کم از کم میرے نزدیک کافی حیرت انگیز ہے

  36. lota6177 says:

    FJ_ Pak said:
    ذات پات کا گھٹیا نظام اور تقسیم

    نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو شخص عصبیت ( یعنی ذات پات ، قبیلہ ، علاقہ ، قوم ) پر فخر کرتا ہے ، وہ ایسے ہے جیسے اپنے باپ کا عضو تناسل چباتا ہے
    —————————————————————————————————————————–کافی دلچسپ حدیث ہے . یہ کون سی کتاب سے ہے ؟

  37. lota6177 says:

    National honour and foreign policy
    http://tribune.com.pk/story/357883/national-honour-and-foreign-policy/
    —————————————————————————————————————–

    The direct democracy of Athens was dismissed by Aristotle as the worst kind of government because it was ruled by passions and controlled by moneylenders. (Aristotle’s abomination of moneylending predates Islam’s own). It was the directly participating public of Athens that killed Socrates and made democracy a cuss word. Aristotle also dismisses timocracy.

    Timocracy (from Greek ‘time’ pronounced ‘teemay’ meaning ‘honour’) is rule by the military. Timocracy comes about when people, instead of concerning themselves with virtue, get obsessed with the seeking of honour. The primary means of attaining honour is on the battlefield.
    ——————————————————————————————————————-
    بدمعاشی کر کے ورچیو ! ان کا کیا کیا جائے ؟

  38. EasyGo says:

    ^^^
    The power crisis has urban Pakistan seething. Inflation and disappearing jobs have deepened the gloom. Tales of corruption, incompetence and arrogance have intensified a pre-existing dislike for Zardari.

    The breakdown in law and order and rise in crime have angered urban denizens. The PPP’s disputes with the Supreme Court and perceived closeness to the US have rubbed sections of urbanites the wrong way.

    None of it bothers Zardari much. As far as the PPP brain trust is concerned, even if mineral water flowed from every tap in urban Pakistan, homes were stocked with Belgian chocolate and driveways filled with new cars, the PPP would probably still not win from urban Pakistan. So why waste resources on urban Pakistan when rural Pakistan remains far more
    amenable to the advances of the PPP?

    But in understanding that the PPP and urban Pakistan can’t be BFFs, the PPP has gone to the opposite extreme: it has virtually cultivated urban Pakistan as a sworn enemy.

    The anger, sometimes all-out hatred, felt towards the PPP in much of urban Pakistan is an unnecessary and dangerous variable that the PPP has created for itself.

    If Zardari games the system and uses money and coercion to steal the next election, a repeat of 1977 may be on the cards: horrified at the prospect of another five years of Zardari’s PPP in power, urban Pakistan could revolt.

    Zardari’s genius is in working a room full of politicians and knowing how to get 51 per cent on his side always.

    But 55 per cent of the electorate doesn’t vote. And among those who do vote in urban Pakistan, the overwhelming majority pick options other than the PPP.

  39. lota6177 says:

    EasyGo said:
    لوٹا صاحب
    مجھے ویڈیو دلچسپ لگی اور آپکو حدیث
    ہے نہ یہ بھی دلچسپی کی بات
    ——————————————————————————————————————–ہر نئی چیز میرے لئے دلچسپی کا بائیس ہوتی ہے . انهوکھی ہو تو اور بھی لطف بڑھ جاتا ہے .

  40. FJ_ Pak says:

    Lota Ji

    Here is the reference

    The Prophet (PBUH) said on the authority of Ubayy Bin Ka’b:

    “If anyone proudly asserts his descent in the manner of the pre-Islamic people, tell him to bite his father’s penis, and do not use a euphemism”.
    (Hadith – Mishkat Al-Masabih, Vol. 2, p. 1021)

    and an other hadith on the same subject

    Hadith – Narrated by Abu Hurayrah (r.a.), Ahmad, Abu Dawud

    “Indeed Allah has removed from you the blind loyalties of jahiliyyah and the pride for ancestry. Either be a pious believer or a miserable insolent. (All of) you are children of Adam, and Adam is from dust. Let some men cease to take pride in others, who are nothing but burning coal for the HellFire, it will be easier for Allah to handle them than a dung beetle driving his nose into filth”

    FJ

  41. FJ_ Pak says:

    Lota Ji

    here is the reference

    Hadith – Mishkat Al-Masabih, Vol. 2, p. 1021

    The Prophet said on the authority of Ubayy Bin Ka’b: “If anyone proudly asserts his descent in the manner of the pre-Islamic people, tell him to bite his father’s peni$, and do not use a euphemism”.

    also mentioned in

    [‘Sahih al-Jami” (567), and ‘as-Silsilah as-Sahihah’ (269)]

    Another Hadith on the same subject

    Hadith – Narrated by Abu Hurayrah (r.a.), Ahmad, Abu Dawud

    “Indeed Allah has removed from you the blind loyalties of jahiliyyah and the pride for ancestry. Either be a pious believer or a miserable insolent. (All of) you are children of Adam, and Adam is from dust. Let some men cease to take pride in others, who are nothing but burning coal for the HellFire, it will be easier for Allah to handle them than a dung beetle driving his nose into filth”

    FJ

  42. FJ_ Pak says:

    Lota Ji

    Due to A d m i n’s strange behaviour I am un able to post the actual hadith but here are the reference

    Hadith – Mishkat Al-Masabih, Vol. 2, p. 1021

    [‘Sahih al-Jami” (567), and ‘as-Silsilah as-Sahihah’ (269)]

    FJ

  43. EasyGo says:

    اب وہ مولانا فتنہ پرداز امروہوی کی قیام گاہ پر تھی۔ مولانا نے اسے خوش آمدید کہا، حلوے کی پلیٹ اس کے سامنے رکھی۔ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے حلوہ کھلانا چاہتے تھے مگر موت نے کہا ”شکریہ میرے اپنے ہاتھ موجود ہیں“ مولانا جھینپ سے گئے، مگر فرمایا کوئی بات نہیں یہ بتایئے اس گناہ گار کی طرف کیسے آنا ہوا؟ “ موت بولی ”آپ گنہگار کہاں، آپ تو گنہگاروں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں بلکہ آپ نے تو لاکھوں مسلمانوں کو عقائد میں اختلافات کی وجہ سے صرف گنہگار نہیں بلکہ کافر قرار دے رکھا ہے“ ۔ مولانا فتنہ پرداز امروہوی نے کہا ”آپ مجھے کیوں کانٹوں میں گھسیٹتی ہیں ، یہ گنہگار آپ کے ان تحسینی جملوں کا حقدار نہیں تاہم مجھ پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ میں کافر کو کافر کہنے کی ہمت رکھتا ہوں کیونکہ کافر کو کافر نہ کہا جائے تو انسان خود کافر ہو جاتا ہے۔ اللہ نے مجھے اس کا اجر بھی بہت دیا ہے۔ کئی مسلمان ممالک کے سربراہوں کی طرف سے میری ان کاوشوں کے حوالے سے مجھے مالی معاونت بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ موت بولی ”مردِ مومن کی نشانی کیا ہے؟“ مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا ”بہت سی ہیں، ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب موت آتی ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے“۔ موت نے ان کے نام کے آگے کراس لگایا اور حضرت کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی اور ان کی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی

    موت نے اپنی جیب میں سے فہرست نکالی، اس میں اگلا نام ایک سیاستدان کا تھا۔ موت اس کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو گئی، سیاستدان نے اسے دیکھا تو اس کا دل باغ باغ ہو گیا لیکن موت نے جب اسے بتایا کہ وہ موت ہے اور اس کے پاس اسی حوالے سے حاضر ہوئی ہے تو ایک لمحے کے لئے وہ گھبرا گیا۔ مگر پھر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا ”کوئی بات نہیں کل نفس ذائقة الموت، آپ تشریف رکھیں، چائے پئیں اور پھر حکم خداوندی کے تحت میری جان لے لیں“۔ سیاستدان نے اس کے لئے چائے بنائی اور اس دوران چپکے سے اس میں نیند کی گولی ڈال دی۔ چائے پیتے ہی موت گہری نیند سو گئی، اس کے سوتے ہی سیاستدان نے اس کی جیب میں سے موت کے حکم نامے کی فہرست نکالی، یہ پانچ سو افراد پر مشتمل تھی، اس نے فہرست میں اپنا نام چوتھے نمبر سے نکال کر سب سے آخر میں لکھ دیا۔ موت نیند سے بیدار ہوئی اور کہا ”میں تمہارے اخلاق اور مہمان نوازی سے بہت خوش ہوئی ہوں، چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری بجائے، میری فہرست میں جو سب سے آخری نام ہے میں وہاں سے اپنی کارروائی شروع کروں“ چنانچہ اس نے آخری نام پر کراس لگا دیا اور سیاستدان کی گردن وہیں لڑھک گئی
    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=609704

  44. FJ_ Pak says:

    پالے سے ننھے سے گگلو مگلو سے زالان بے بی

    تم اور تم جیسے جعلی لبرل کبھی بھی ذات پات کے گھٹیا اور تقسیم کے نظام کے خلاف کوئی عملی جدو جہد تو کیا کبھی کوئی بات بھی نہیں لکھو گے

    اگر کچھ کرو گے تو صرف لوگوں کو فروعی معاملات میں الجھانے کی ، لوگوں کو مزید تقسیم کرنے کی

    ذات پات کےگھٹیا نظام کو ختم کرنے کے سلسلے میں کیا خدمات ہیں تمھاری

    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    ف ج

  45. زالان says:

    ذات پات کی تقسیم میں کوئی برائی نہیں اگر سب کو اس کے حقوق ملیں اور ایک دوسرے میں نفرتیں نہ ہوں ، اگر کوئی مذہبی گروہ ذات پات کی نقسیم ختم کرنے کا دعوا کرے مگر ایک ایسا گروہ بنالے جو دوسرے مذہبی گروہ یا ان کے مذہب اور نظریات کو نہ مانے والوں سے سخت قسم کی نفرت کرے اور اچھوت سمجھے ، انہوں نے اگر ایک نفرت ختم کی تو دوسری ایسی نفرت کو جنم دے دیا جو پہلے سے بھی زیادہ شدت سے ہے

  46. FJ_ Pak says:

    لگتا ہے یا تو تم ذات پات کے تقسیم کے نظام کو یا تو سمجھتے ہی نہی ہو یا جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہو

    اور تمہارا استدلال بعینہ وہی ہے جو تم جیسوں کی آنکھوں میں خون لے آتا ہے جب لوگ ڈرون حملوں کے خلاف خود کش حملوں کے جواز میں پیش کرتے ہیں

    ذات پات کے تقسیم پر مبنی نظام کی بنیاد پیدائش پر ہے نا کہ کسی نظریے ، خیال یا فکر پر جس کو کوئی چھوڑ کر کوئی اور فکر ، نظریہ یا خیال کو اپنا لے

    لیکن تم جیسے جعلی لبرل ہمیشہ پانی کو گدلا کرنے کی کوشش کرو گے بجائے مسئلے کو حل کرنے کے

    تو لگے رہو منا بھائی

    ف ج

  47. پاکستانی سیاستدان says:

    جہانگیر بدر صاحب اپنے شریک چیئرمین صاحب کو مشورہ دیں کہ وہ بھی اپنے ملک توڑنے والے روحانی والد کی طرح تاریخ میں امر ہوجائیں اور پاکستان کے عوام کی جان چھوڑیں۔

    http://jang.com.pk/jang/apr2012-daily/02-04-2012/u102302.htm

    [img]http://jang.com.pk/jang/apr2012-daily/02-04-2012/updates/4-2-2012_102302_1.gif[/img]

  48. Javed Ikram Sheikh says:

    ہم مسلمان ہیں.
    ھمیں صرف اپنی تاریخ پر فخر ھے
    جغرافیہ تبدیل ہوتا رھے ، کچھ فکر نہیں

  49. hypocrite says:

    سیاست کیا ہے اور اسکا مقصد کیا ہے
    کیا سیاست کا مفہوم اور مقاصد ایک ترقی یافتہ اور ایک ترقی پذیر اور ایک ترقی سے نابلد ملک میں
    یکساں ہوتے ہیں
    یا پھر ان تمام ممالک میں سیاست کا مفہوم اور مقصد مختلف ہوتا ہے
    کیا وجہ ہے کے برطانیہ ، امریکا، فرانس ، کینیڈا ، جرمنی ، جاپان وغیرہ وغیرہ میں
    سیاستدان کا کم از کم زہری کردار ہمارے ملک سے مختلف ہوتا ہے
    کیا وجہ ہے کے ان ممالک میں سیاستدان کا جیل جانا افتخار نہیں سمجھا جاتا ہے
    کیا وجہ ہے کے ان ممالک میں ایک عام شہری بھی سیاستدان سے ملاقات کر سکتا ہے اور مشکل سے مشکل سوال پوچھ سکتا ہے
    کیا وجہ ہے کے سیاستدان عوام کا محتاج ہوتا ہے نے کے عوام سیاستدان کی محتاج
    ایسا کیا ہے ان میں جو ہم میں نہیں
    تاریخ ، جغرافیہ یا کچھ اور

  50. hypocrite says:

    کیا یاد ماضی صرف پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ کر خوش ہو لینے کو یا پھرصرف اداس ہو لینے کو ہے
    یا ماضی ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھنے کی کوشش میں مثبت کردار ادا کرتا ہے
    یا ماضی مستقبل کی جانب بڑھنے میں پاؤں کی بیڑی بن جاتا ہے

  51. EasyGo says:

    ایسا کیا ہے ان میں جو ہم میں نہیں
    ======
    میرے خیال میں
    واضح فرق تعلیم کا ہے
    جو انسان کو “اپنے اور صرف اپنے دماغ سے” غلط/ صحیح، سچ/جھوٹ، اچھے/برے کی تمیز کرنا سکھایے
    اپنوں/بیگانوں کی ذہنی غلامی سے نجات دلایے
    اپنے/دوسرے کے حقوق/فرائض سے آگاہی کی طرف مائل کرے
    اور ہماری سوچ کو مولویوں/دانشوروں کی “کلّی محتاجی” سے آزاد کرے

  52. saleem raza says:

    کسی جوان کوعلم ہے کہ پی کے پی والوں سے رابطہ کس طرح ممکن ہے !
    میں نے تو اپنی سی کوشش کر لی ہے لیکن رابطہ نہیں ہوسکا

  53. saleem raza says:

    اب یہ گلگت اور چلاس والوں کو کیا موت پڑ گئی ہے جو انہیوں نے بھی پنگاے شروع کر دیے ہیں جب کہ ان لوگوں کو علم ہے کہ اس حکومت کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ! جہنوں نے اپنے
    مرنے والوں کی پرواہ نہیں وہ ان کی کیا کریں گے

  54. saleem raza says:

    @ Ali Imran
    I believe my membership has expired and I would like to become a contributor but when I click on the link it returns me to the main page please let me know what i can do to correct this thank you in advance

  55. SCheema says:

    Son of _ _ _ _ _ _

    ڈاکٹرعاصم کے انتظار ميں پي آئي اے کي پروازکوڈيڑھ گھنٹہ تاخير

    کراچي…وزيرپيٹروليم ڈاکٹر عاصم حسين کے انتظار ميں پي آئي اے کي کراچي سے اسلام آباد کي پرواز ڈيڑھ گھنٹہ تاخير کا شکار ہوئي ، وزير پيٹروليم کے انتظار ميں کھڑا طيارہ ايندھن اور مسافر کوفت ميں اپنا خون جلاتے رہے.ايرلائن ذرائع کے مطابق پي آئي اے کي پرواز پي کے 368 کو صبح 10 بجے کراچي سے اسلام آباد روانہ ہونا تھا.پہلے مسافروں کوبتاياگيا کہ طيارے ميں فني خرابي ہے ليکن جلد ہي مسافروں کوطيارے ميں سوار کراديا گيا.طويل انتظار کے بعدکپتان نے مسافروں کوآگاہ کيا کہ اس پرواز کا ايک مسافر کھو گيا ہے اسے چھوڑ کر روانہ نہيں ہو سکتے. تقريباڈيڑھ گھنٹے بعد کھويا ہوا مسافر مسکراتا ہوا طيارے ميں داخل ہوا تو ديگر مسافروں کوپتاچلاکہ يہ صاحب وفاقي وزيرپٹروليم ڈاکٹر عاصم حسين ہيں.

  56. SCheema says:

    saleem raza said:
    کسی جوان کوعلم ہے کہ پی کے پی والوں سے رابطہ کس طرح ممکن ہے !
    میں نے تو اپنی سی کوشش کر لی ہے لیکن رابطہ نہیں ہوسکا
    —————————
    جب غیر حاضریاں زیادہ ہو جائیں تو گھر والے بھی دروازے بند کر دیتے ہیں ۔

    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img]

  57. saleem raza says:

    چمیہ جی ہس لیں ویسے پی کے پی والوں نے اج مھجے ذلیل اچھی طرح کیا ہے
    اور پھر بھی میں ممبر شیپ لینے بلکہ خریدنے میں کامیاب نہیں ہوسکا !
    ورنہ میں غیر حاضر نہیں تھا !

  58. saleem raza says:

    EasyGo said:
    تصویر تو اچھی ہے
    لیکن یاد ماضی کیسی ہے جاوید صاحب
    ——-
    لڑکے لڑھکنے سے باز آ جا ۔
    وہ لوٹ اہیں تو پوچھنا نہیں – دیکھنا اُنہیں غور سے –
    کہہ جن کو راستے میں یہ خبر ہوئی – کہ یہ راستہ کوئی اور ہے –

    اس شعر کو بار بار پڑھو – جب تب اس کا مطلب سمھج وچ نہ اجاے

  59. Javed Ikram Sheikh says:

    کچھ دانشور کہتے ہیں….
    …..
    یاد ماضی عذاب ھے یا رب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
    ……..
    ……..لیکن میری خواہش ذرا مختلف ھے….
    ……..
    ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح شام تو
    لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

  60. بلیک شِیپ says:

    اچھا بھٹو ، برا بھٹو

    حسن مجتبیٰ

    بھٹو دو تھے۔ ایک بھٹو کے اندر منصور بستا تھا اور دوسرے کے اندر میکاویلی۔ایک بھٹو جو سر کا بیٹا اور جاگیردار تھا، ایک بھٹو جو غریب اور غریب الوطن ماں کا بیٹا تھا۔
    اور یہی غریب ماں کی غربت نے اسے غربیوں کا بھٹو بنا دیا۔

    وہ بھٹو جو کسی بھی وڈیرے کی طرح زمین کے بڑے رقبے کے لیے دوہری شادیاں کیے ہوئے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی دلہن شیریں امیر بیگم اپنے جہیز میں ایک بڑی جاگیر بھی لے کر آئی تھی۔
    عشروں قبل کراچی کلفٹن تین تلوار کے پاس ایک فلیٹ میں رہائش پذیر بیگم شیریں امیر بیگم نے ایک انٹرویو کے دوران مجھ سے کہا تھا ’ ہمارے کسی نوکر کو بھی کبھی سزا نہیں ہوئي یہ تو ذوالفقار تھا۔ ‘
    شیریں امیر بیگم اس کا ذکر ضرور کرتی تھیں کہ فوجی آمر جنرل ضیاءالحق نے ہی ان کو بھٹو کی بڑی بیگم کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو سے راولپنڈی جیل میں آخری ملاقات کی اجازت دی تھی۔
    جوناگڑھ کے وزیر اعظم اور سندھ کی بمبئی سے آزادی کی تحریک ایک اہم ترین کردار سر شاہنواز خان بھٹو کی شیخ عبدالمجید سندھی کے ہاتھوں لاڑکانہ میں انتخابی شکسست بھٹو خاندان کی اس وقت تک ہزیمت کا باعث بنی رہی جب تک ذوالفقار علی نے سیاست میں حصہ لےکر سیاسی تاریخ کو ہی بدل ڈالا۔
    وہ بھٹو جو عوام دوست اور دانشور سیاستدان ہوتے ہوئے بھی انتقام پسند وڈیرے کو اپنے اندر سے نہیں نکال سکا تھا۔ اپنے اصلی اور تصوراتی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے والا بھٹو خود اپنے احسان فراموش جرنیلوں اور ججوں کے انتقام کا نشانہ بنا۔

    اپنے سیاسی کیریئر کے ابتداء میں وڈیرے گھرانے کا بھٹو پیر پگاڑو اور رانی پور کے پیر کو ان کے پاؤں چھوکر ملا کرتا تھا اور ایسی تصاویر میں نے بچپن میں سندھ میں حجاموں کی دکانوں پر لگي دیکھی تھیں۔
    ایک وہ بھی بھٹو تھا جو سکندر مرزا او رایوب خان سے عہد وفا باندھتا تھا اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر اپنے مخالفین پر اپنی دھاک بٹھانے کا شوقین تھا اور ایک وہ بھٹو بھی تھا جو سیلاب کے متاثرین کی حالت دیکھ کر رو دیتا تھا۔
    وہ بھٹو جو اپنی شیورلیٹ کے اوپر کسان کے ہاتھ سے اس کی گھاس کی وزنی دھڑی لے کر رکھتا اور اسے اپنے ساتھ بٹھا کر اس کے گاؤں چھوڑتا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم بننے کے بعد بھی لاڑکانہ کی بلیوں اور کتوں میں مقبول درویش کردار جمعہ فقیر کو اس کےگدھے سمیت کسی بھی وقت المرتضی ٰمیں ملنے کا کہہ رکھا تھا۔
    ایک بار کھلی کچہری میں ذوالفقار علی بھٹو نے جمعہ فقیر کو کہا: ’دعا کرنا فقیر‘۔ حاضر جواب اور نکتہ داں جمع فقیر نےجواباً کہا تھا ’بھٹو صاحب! اب اس سے زیادہ تمہیں اور کونسی دعا کروں! اب پھر ایسا کرو کہ جس جگہ میں ییھٹا ہوں وہاں آکر تم بیٹھو اور جہاں تم بیٹھے ہو وہاں مجھے بیٹھنے دو‘۔
    بنگلہ دیش، بلوچستان اور کئي خونوں کے دھبے لگا ہوا بھٹو اپریل کی ایک اداس رات پھانسی کے تختے پر لٹک کر نہ صرف شاعروں کا استعارہ اور نوحوں کا مرکزی کردار بن گیا بلکہ اس کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹنے والے بھی اس کے وکیل بن گئے۔
    Source

  61. EasyGo says:

    یار راجہ صاحب
    یہ تو بڑا آسان نسخہ ہے
    صدر زرداری کولاہور میں رکھو
    اور میاں صاحبان کو باہر
    :)

    لاہور… پنجاب اسمبلي ميں اپوزيشن ليڈر راجا رياض کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداري کے لاہور آتے ہي برائلر ليڈر ملک سے بھاگ گئے برائلر ليڈروں کو لاہور ميں شکست فاش ہو گي.لاہور ميں گورنر ہاوس کے باہر ميڈيا سے گفت گو کرتے ہوئے اپوزيشن ليڈر راجا رياض کا کہنا تھا کہ پيپلز پارٹي کي حکومت مدت پوري کرے گي اور پھر اليکشن ميں جائيں گے. صدر زرداري لاہور کے حوالے سے ميٹنگ کريں گے. راجا رياض کا کہنا تھا کہ مسلم ليگ ن نے آمريت کي گود ميں آنکھ کھولي ابھي ان کي جمہوري آنکھ نہيں کھلي. انہوں نے چيف جسٹس ہائيکورٹ سے اپيل کي کہ حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات پر انکوائري کميشن بنايا جائے.
    http://www.jang.net/urdu/update_details.asp?nid=43033

  62. Javed Ikram Sheikh says:

    The School of Thought which could not defeat Mohammad Ali Junnah in 1947,

    ….finally succeeded to satisfy the ‘Revenge’ through …..

    assassination of Zulfiqar Ali Bhutto.

    …Pakistan would stay divided for ever…into Pro-Bhutto and Anti-Bhutto camps. For pro-Bhutto people, Bhutto represents freshness for a progressing Society where Anti-Bhutto phobia represents outdated stinking traditionalism.
    For One camp Salman Taseer and for the other Mumtaz Qadri is HERO.

  63. FJ_ Pak says:

    کیا فرماتے ہیں چنی ہوئی یاداشت اور چنی ہوئی توہین کے مخالف جعلی لبرل لیکن اصلی فاشسٹ

    http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/04/120404_gunter_grass_criticism_zs.shtml

    😉 😉 😉

    زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یہ غلط رویہ ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن اس سختی اور زہریلے پن سے اسرائیل اور صیہونیوں کی مذمت نہیں ہو گی جسطرح اسلام اور مسلمانوں کی کی جاتی ہے

    ف ج

  64. FJ_ Pak says:

    اڈمن جی

    اگر آپ کو میری گزارشات پسند نہیں ہیں تو سیدھے سیدھے بتا دیں ، ہم اپنا بوریا بستر اٹھا کر کہیں اور چلے جائیں گیں

    تبصروں کو غائب کرنے کی ضرورت نہیں ہے

    ف ج

  65. Bawa says:

    صدر آصف زرداري نے کا کہنا ہے کہ شريف برادران کے پاس اتنے آدمي نہيں تھے کہ وہ والد کا جنازہ پڑھا ليتے، انہيں اپنے والد کي ميت کو داتا دربار لے جانا پڑا

    http://jang.com.pk/jang/apr2012-daily/05-04-2012/u102595.htm

    .
    .
    ایک گھٹیا اور غلیظ آدمی کے گھٹیا اور غلیظ داماد کا گھٹیا اور غلیظ بیان

  66. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان کے سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کی گفتگو
    اور انداز بیان کا معیار دیکھ کر احساس ہوتا ھے
    کہ ایک ایسی اکیڈمی کی ضرورت ھے ، جہاں
    تہذیب اور گفتار کے آداب سکھاۓ جاتے ھوں

    سنا ھے لکھنؤ کے نواب اور خاندانی لوگ ، اپنے بچوں کو
    تھذیب سکھانے کے لئے طوائفوں کے کوٹھوں پر بھیجتے تھے

  67. Bawa says:

    سنا ھے لکھنؤ کے نواب اور خاندانی لوگ ، اپنے بچوں کو
    تھذیب سکھانے کے لئے طوائفوں کے کوٹھوں پر بھیجتے تھے

    کیا ہی اچھا ہوتا اگر نتھ فورس (طوائفوں) کے اڈریس بھی پوسٹ کر دیے جاتے تاکہ بچوں کے علاوہ پاکستان کے سیاسی رہنما اور دانشور بھی ان سے تہذیب اور گفتار کے آداب سیکھنے کے لیے انکی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں

    😀 😀

  68. hypocrite says:

    کیا فرماتے ہیں چنی ہوئی یاداشت اور چنی ہوئی توہین کے مخالف جعلی لبرل لیکن اصلی فاشسٹ

    زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یہ غلط رویہ ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن اس سختی اور زہریلے پن سے اسرائیل اور صیہونیوں کی مذمت نہیں ہو گی جسطرح اسلام اور مسلمانوں کی کی جاتی ہے
    ________
    محترم فارغ جذباتی صاحب
    سلام
    انسانی تباہی اور بربادی کا ہتھیار کوئی ہندو ، کوئی عسیائی ، کوئی صہیونی ، کوئی مسلمان یا کوئی بھی بنائے
    اس پر ہر انسان کو تشویش ہونی چاہیے
    یہ تشویش مذہب، زبان، ملک ، نسل وغیرہ وغیر سے بالاتر ہو کر ہونی چاہیے
    اور ساتھ ساتھ اس طرح کے ہتھیاروں اور پروگراموں پر احتجاج کرنا چاہیے
    ایک جرمن اگر اسرایل کے اٹیمی پروگرام پر تنقید کر سکتا ہے تو میں اپنے مذہب سے بالاتر ہو کر ایسے ہتھیاروں کی تنقید کیوں نہیں کرتا
    میری تنقید انسان ہونے کے ناتے نہیں ہوتی مگر مذہب کے ناتے ہوتی ہے
    ایسا کیوں ہے
    اٹیمی ہتھیار مذہب کی پرواہ کیے بغیر کسی بھی انسانی نسل کو ختم کر سکتا ہے
    تو پھر کسی بھی مذہب کا نام لیوا اٹیمی ہتھیار پر اس وقت تنقید کیوں کرتا ہے جب یہ ہتھیار کسی اور مذہب کا نام لیوا بناتا ہے
    میری حقیر نظر میں مجھ کو اس جرمن باشندے کی تعریف کرنی چاہیے جس نے اسرایل کے اٹیمی پروگرام پر نظام کے ذریے احتجاج کیا ہے
    مگر میں اس جرمن باشندے کی حمایت نہیں کرتا
    آخر کیوں
    مگر میں تنقید کسی اور بات پر کرتا ہوں

  69. hypocrite says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=zj-sUQE-XYQ#!
    _______________

    محترم جاوید اکرام صاحب
    پاکستان کی طلوع آزادی سے لیکر آج تک کے حالت پر اس چھوٹی فلم نے کافی متاثر کیا
    کیا وجہ ہے کے ارسا چونسٹھ سال میں ہم اپنی رہ سے بھٹک گئے
    اس میں میرا اور آپ کا کتنا ہاتھ ہے
    کیا میں اور آپ اس گناہ کے ذمےدار نہیں
    اسی ملک کے آمروں ، سیاست دانوں، جاگیرداوں، صنعتکاروں، انتظامیہ وغیرہ وغیرہ نے بہت کچھ کیا
    مگر ان کو دوام کس نے بخشا
    میں نے اور آپ نے
    اگر میں اور آپ اپنا فرض ادا کرتے تو بہت ممکن ہے کے حالت بہتر ہوتے

  70. hypocrite says:

    کیا ہی اچھا ہوتا اگر نتھ فورس (طوائفوں) کے اڈریس بھی پوسٹ کر دیے جاتے تاکہ بچوں کے علاوہ پاکستان کے سیاسی رہنما اور دانشور بھی ان سے تہذیب اور گفتار کے آداب سیکھنے کے لیے انکی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں

    ____________

    باوا بھائی
    سلام
    معذرت کے ساتھ
    ایک جسم فروش تہذیب اور گفتار سے بہراور کیوں نہیں ہو سکتی
    کیا یہ ضمیر فروشوں سے کمتر ہوتی ہیں
    کیا یہ ملکی خزانے کو لوٹنے والوں سے بعد تر ہوتی ہیں
    کیا یہ مذہب ، رنگ، نسل، زبان کے نام پر تفریق کرنے اور کروانے والوں سے گری ہوئی ہوتی ہیں
    میں کتنے ایسے لوگوں کو سلام کرتا ہوں، تعریف کرتا ہوں ، انکی پیروی کرتا ہوں جو اس ملک اور تہذیب کا ستیاناس کر رہے ہیں
    مگر مجھے صرف ایک جسم فروش سے تہذیب سیکھنے پر اعترض ہے
    آخر کیوں

  71. hypocrite says:

    ======
    میرے خیال میں
    واضح فرق تعلیم کا ہے
    ____________

    ایزی گو بھائی
    آپ کی راے کا بہت شکریہ اور میں متفق بھی ہوں
    ساتھ ساتھ میرا خیال ہے کے
    میں اپنے فرض سے یا تو غافل ہوں یا ادا نہیں کرنا چاہتا
    میں چاہتا ہوں کے مرے علاوہ ہر شخص اپنا فرض ادا کرے
    مگر مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں
    جب میں اپنا فرض ادا نہیں کروں گا تو اپنا حق کیسے حاصل کروں گا

  72. hypocrite says:

    اچھا بھٹو ، برا بھٹو

    ________

    محترم بلیک شیپ صاحب
    بہت عمدہ تحریر سے متعارف کروانے کا شکریہ
    گو کے تحریر آپ کی نہیں لہٰذا آپ سے سوال کرنا درست نہیں
    مگر میں آپ کی راے لینا چاہوں گا
    کے کیا ایسے دوہری شخصیت کے مالک کو ملک
    کا نظم و نسق سنبھالنے اور چلانے کا حق اور اختیا ہونا چاہیے
    میرا خیال ہے کے نہیں
    آپ کا کیا خیال ہے

  73. aliimran says:

    ایک بحث میں کئی دہائیوں سے سن رہا ہوں کہ بھٹو شہید ہے یا نہیں؟
    دوسرا کیا اس کی سزا — سزا تھی یا عدالتی قتل؟
    میری ان سب کے لیے دعا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو شہید ہے تو الله ان سب کو بھٹو جیسی
    شہادت نصیب کریں
    دوسرا اس کو سزا قتل کی نہیں —– اس کی رعونیت اور ہٹ دھرمی کی ملی تھی
    بہرحال دعا ہے کہ اس کے چاہنے والوں کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کا قرب نصیب
    فرمائیں –امین

  74. Bawa says:

    hypocrite said:
    کیا ہی اچھا ہوتا اگر نتھ فورس (طوائفوں) کے اڈریس بھی پوسٹ کر دیے جاتے تاکہ بچوں کے علاوہ پاکستان کے سیاسی رہنما اور دانشور بھی ان سے تہذیب اور گفتار کے آداب سیکھنے کے لیے انکی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں

    ____________

    باوا بھائی
    سلام
    معذرت کے ساتھ
    ایک جسم فروش تہذیب اور گفتار سے بہراور کیوں نہیں ہو سکتی
    کیا یہ ضمیر فروشوں سے کمتر ہوتی ہیں
    کیا یہ ملکی خزانے کو لوٹنے والوں سے بعد تر ہوتی ہیں
    کیا یہ مذہب ، رنگ، نسل، زبان کے نام پر تفریق کرنے اور کروانے والوں سے گری ہوئی ہوتی ہیں
    میں کتنے ایسے لوگوں کو سلام کرتا ہوں، تعریف کرتا ہوں ، انکی پیروی کرتا ہوں جو اس ملک اور تہذیب کا ستیاناس کر رہے ہیں
    مگر مجھے صرف ایک جسم فروش سے تہذیب سیکھنے پر اعترض ہے
    آخر کیوں

    و علیکم السلام بھائی جی

    میں نے تو یہ نہیں کہا کہ ایک جسم فروش تہذیب اور گفتار سے بہرا ور نہیں ہو سکتی. میں نے تو صرف ان مہذب اور آداب گفتار سے واقف جسم فروشوں کے ادریس پوچھے ہیں تاکہ ہم بھی انکی خدامات سے فایدہ اٹھا سکیں اور تھوڑی سی دل پشوری بھی کر سکیں

    ایک بار بھٹو نے ان سب کو اکٹھا کرکے ایک نتھ فورس بنائی تھی. کاش بھٹو کا داماد بھی کوئی ایسی ہی فورس بنا دے یا کم از کم بھٹو کے ساتھ تصویریں اتروانے والے ہی کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دے دیں جس سے تہذیب اور گفتار بہتر ہوتی رہے

  75. Bawa says:

    hypocrite said:
    کیا ہی اچھا ہوتا اگر نتھ فورس (طوائفوں) کے اڈریس بھی پوسٹ کر دیے جاتے تاکہ بچوں کے علاوہ پاکستان کے سیاسی رہنما اور دانشور بھی ان سے تہذیب اور گفتار کے آداب سیکھنے کے لیے انکی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں

    ____________

    باوا بھائی
    سلام
    معذرت کے ساتھ
    ایک جسم فروش تہذیب اور گفتار سے بہراور کیوں نہیں ہو سکتی
    کیا یہ ضمیر فروشوں سے کمتر ہوتی ہیں
    کیا یہ ملکی خزانے کو لوٹنے والوں سے بعد تر ہوتی ہیں
    کیا یہ مذہب ، رنگ، نسل، زبان کے نام پر تفریق کرنے اور کروانے والوں سے گری ہوئی ہوتی ہیں
    میں کتنے ایسے لوگوں کو سلام کرتا ہوں، تعریف کرتا ہوں ، انکی پیروی کرتا ہوں جو اس ملک اور تہذیب کا ستیاناس کر رہے ہیں
    مگر مجھے صرف ایک جسم فروش سے تہذیب سیکھنے پر اعترض ہے
    آخر کیوں

    و علیکم السلام بھائی جی

    میں نے تو یہ نہیں کہا کہ ایک جسم فروش تہذیب اور گفتار سے بہرا ور نہیں ہو سکتی. میں نے تو صرف ان مہذب اور آداب گفتار سے واقف جسم فروشوں کے ادریس پوچھے ہیں تاکہ ہم بھی انکی خدامات سے فایدہ اٹھا سکیں اور تھوڑی سی دل پشوری بھی کر سکیں

    ایک بار بھٹو نے ان سب کو اکٹھا کرکے ایک نتھ فورس بنائی تھی. کاش بھٹو کا داماد بھی کوئی ایسی ہی فورس بنا دے یا کم از کم بھٹو کے ساتھ تصویریں اتروانے والے ہی کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دے دیں جس سے تہذیب اور گفتار بہتر ہوتی رہے

  76. Bawa says:

    aliimran said:
    ایک بحث میں کئی دہائیوں سے سن رہا ہوں کہ بھٹو شہید ہے یا نہیں؟
    دوسرا کیا اس کی سزا — سزا تھی یا عدالتی قتل؟
    میری ان سب کے لیے دعا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو شہید ہے تو الله ان سب کو بھٹو جیسی
    شہادت نصیب کریں

    آمین ثم آمین

    😀 😀 😉 😉

  77. SCheema says:

    Bawa said:

    صدر آصف زرداري نے کا کہنا ہے کہ شريف برادران کے پاس اتنے آدمي نہيں تھے کہ وہ والد کا جنازہ پڑھا ليتے، انہيں اپنے والد کي ميت کو داتا دربار لے جانا پڑا

    http://jang.com.pk/jang/apr2012-daily/05-04-2012/u102595.htm

    ایک گھٹیا اور غلیظ آدمی کے گھٹیا اور غلیظ داماد کا گھٹیا اور غلیظ بیان

    سنا ھے لکھنؤ کے نواب اور خاندانی لوگ ، اپنے بچوں کو
    تھذیب سکھانے کے لئے طوائفوں کے کوٹھوں پر بھیجتے تھے

    کیا ہی اچھا ہوتا اگر نتھ فورس (طوائفوں) کے اڈریس بھی پوسٹ کر دیے جاتے تاکہ بچوں کے علاوہ پاکستان کے سیاسی رہنما اور دانشور بھی ان سے تہذیب اور گفتار کے آداب سیکھنے کے لیے انکی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں

    ——————————

    باوا جی ۔

    آپ نے جواب پہلے دیا اور سوال بعد میں کیا ۔ یہ اسی تربیت کا اثر ہے ۔ ایسی باتیں اور مقام کا آپس میں تال میل نہیں بنتا ۔ لیکن یہ تربیت سب کچھ کروا دیتی ہے

    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img]

  78. FJ_ Pak says:

    محترم ہکا بکا جی اور ایس ایم سپورٹ صاحب

    آپ لوگ جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کر سکتے ہیں

    میں نے بی بی سی اردو پر انکا انٹرویو سنا تھا اور باوجود نظریاتی اختلاف کے کافی دلچسپ اور سوچ کو مہمیز دینے والا پایا

    اور بہت ہی اچھی بات جو لگی وہ ان کی نہت ہی شستہ اور خوبصورت اردو زبان تھی

    کیا انٹرنیٹ پر ان کی کتب یا مقالات دستیاب ہیں

    ف ج

  79. Javed Ikram Sheikh says:

    ھم نے تو جو بھی کام کیا
    اس کام کا ، کام تمام کیا
    یہ ملک اور قوم تو چیز ھے کیا
    مذہب کو بھی بدنام کیا
    اب کچھ بھی نہیں محفوظ یھاں
    تہذیب کو بھی نیلام کیا

  80. زالان says:

    میں نے سنا ہے کہ شہادت ہر مسلمان کی آرزو ہوتی ہے ، اور خاص طور پر ڈرون سے مرنے والے تو اعلیٰ درجہ پر ہونگے پھر مولوی احتجاج کیوں کرتے ہیں ؟

  81. Shirazi says:

    @hypocrite Saab

    کیا ایسے دوہری شخصیت کے مالک کو ملک
    کا نظم و نسق سنبھالنے اور چلانے کا حق اور اختیا ہونا چاہیے
    میرا خیال ہے کے نہیں
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    You are perhaps right per article 62 an 63 but beyond that gauge is votes not personality split or any other trait. In established democracies different parties have option to throw kitchen sink at each other before elections but once dust is settled they respect majority decision and that’s how it should be.

  82. پاکستانی سیاستدان says:

    http://www.topstoryonline.com/zardari-admonishes-badar-for-questioning-benazir-murder-investigations

    رحمان ملک نے بدر کو زرداری سے ڈانٹ پڑوا دی

    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) پیپلز پارٹی کے راہنما سینٹر جہانگیر بدر کو نوڈیرو میں اس وقت بھری محفل میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری نے ان کے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار نہ کرنے کے سوال پر بری طرح جھاڑ دیا اور کہا کہ کیا ان کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ ان کی حکومت کب کا اپنا یہ کام پورا کر چکی ہے اور اب یہ عدالتوں کا کام ہے کہ گرفتار قاتلوں کو سزائیں دے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اسلام آباد سے خصوصی جہاز پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے نوڈیرو پہنچے ہوئے تھے۔

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نوڈیرو میں پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونے والی پارٹی میٹنگ میں اس وقت ایک عجیب سی صورت حال پیدا ہو گئی جب اجلاس کے شرکاء میں موجود جہانگیر بدر نے یہ بات شروع کی کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو اب تک گرفتار نہیں جا سکا جو کہ پارٹی کے ورکرز کے لیے بہت پریشانی کی بات ہے۔ جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ چار سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی بی بی کے قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

    میٹنگ میں موجود ایک پارٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ جب جہانگیر بدر بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے گرفتار نہ ہونے پر اپنا احتجاج پارٹی کے اجلاس میں نوٹ کرا رہے تھے تو اس وقت وزیرداخلہ رحمن ملک نے تیزی سے ایک کاغذ پرکچھ لکھنا شروع کیا اور لکھ کر انہوں نے وہ چٹ سٹیج پر موجود صدر آصف زرداری کو بھجوا دی۔ جونہی آصف زرداری نے وہ چٹ پڑھی تو انہوں نے جہانگیر بدر کو درمیان میں ٹوکا اور بڑی سختی سے کہا کہ وہ یہ بات کیسے کہہ رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قاتل اب تک گرفتار نہیں ہوئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ جہانگیر بدر کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ رحمن ملک اس معاملے پر پوری تفصیل سے سب کچھ بتا چکے ہیں کہ کیسے بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا پلان بنایا گیا اور کون کون اس میں شریک تھے۔

    صدر زرداری کا اشارہ رحمن ملک کی سندھ اسمبلی میں دی گئی ایک بریفنگ کی طرف تھا جو انہوں نے پچھلے ماہ دی تھی جس میں انہوں نے بڑی تفصیل سے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے والے کون لوگ تھے اور کس طرح یہ سب کچھ پلان کیا گیا تھا اور کن کن لوگوں نے اس میں کیا کردار ادا کیا تھا۔ سندھ اسمبلی کو بریف کرنے والوں میں رحمن ملک کے ساتھ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سربراہ خالد قریشی بھی تھے اور دونوں نے مل کر پہلے سندھ اسمبلی کو بریفنگ دی اور اس کے بعد انہوں نے ارکان کے سوالات کے جوابات دیے تھے۔

    رحمن ملک کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا منصوبہ بیعت اللہ محسود نے بنایا تھا جب کہ قاتلوں کو مولانا سمیح الحق کے مدرسے میں پناہ دی گئی تھی جنہوں نے بعد میں راولپنڈی آکر بے نظیر بھٹو کو قتل کیا تھا۔ رحمن ملک نے جنرل پرویز مشرف کے بھی بے نظیر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس طرح رحمن ملک نے ناہید خان پر بھی اشارتاً قاتلوں کا ساتھ دینے کے الزامات لگائے تھے کہ بی بی اس دن لیاقت باغ جلسے سے خطاب نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن بعد میں ناہید خان انہیں زبردستی تیار کر کے لے گئیں۔ رحمن ملک نے یہ بھی حیران کن انکشاف کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی کی ذمہ داری ناہید خان کے ذمہ تھی۔

    رحمن ملک نے اپنی بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ کل نو افراد بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کے منصوبے میں شامل تھے جن میں سے بیعت اللہ مسعود سیمت پانچ لوگ مارے جا چکے تھے جب کہ باقی چار گرفتار ہیں اور ان کا چالان عدالت میں پیش ہو چکا تھا۔ اس لیے جب رحمن ملک نے جہانگیر بدر کو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی میں یہ کہتے سنا کہ ابھی تک بے نظیر بھٹو کے قاتل گرفتار نہین ہوئے تو ان سے رہا نہ گیا اور انہوں نے فوری طور پر ایک چٹ بھیج کر صدر زرداری کو خبردار کیا کہ وہ سب کو بتائیں کہ ان کی پارٹی پہلے ہی اس کیس کی تفتیش مکمل کر کے کیس عدالت میں بھیج چکی ہے لہذا یہ بات کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی تھی کہ ابھی تک بی بی کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے۔

    رحمن ملک کو یہ خوف تھا کہ اگر جہانگیر بدر کے اس سوال کے بعد پارٹی لیڈروں نے دوبارہ اس مسئلے کو کھول دیا تو پھر عوام بھی یہ سمجھے گی کہ پارٹی نے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اپنی لیڈر کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا، لہذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ فوری طور پر صدر زرداری کو بتایا جائے کہ وہ اس حساس بات کو آگے نہ بڑھنے دیں اور جہانگیر بدر کو مزید بات کرنے سے روک دیں اور صدر زرداری نے بھی وہی کچھ کیا۔

    ذرائع کہتے ہیں کہ صدر زرداری نے جہانگیر بدر کو دانٹتے ہوئے کہا کہ کیا انہیں پتہ نہیں ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیس کب کی مکمل بھی ہوچکی اور قاتل بھی گرفتار ہو چکے ہیں اور وہ ابھی بھی بیٹھے پارٹی میٹنگ میں یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت اور ان کی تفتیش کرنے والی ایجنسیوں نے اپنا کام کر دیا ہے ، اب یہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ گرفتار قاتلوں کو سزا دیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کی ڈانٹنے پر جہاں جہانگیر بدر فورا چپ کر گئے، وہاں پارٹی کے کسی دوسرے سینئر لیڈر کو بھی جرات نہ ہوئی کہ وہ بھی جہانگیر بدر کی آواز میں آواز ملانے کی کوشش کرتا۔

    تاہم ایک مبصر کے بقول اگر پیپلز پارٹی کا ایک جہانگیر بدر جیسا قدآور لیڈر بھی یہ سمجھتا ہے کہ ا ن کی حکومت ابھی تک بی بی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے تو پھر سوالات یقنیا پیدا ہوں گے کہ رحمن ملک نے کس طرح کی تفتیش کی ہے اور اپنے تئیں بی بی کے کون سے قاتل گرفتار کیے ہیں جن کے بارے میں اور تو اور ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں اور انہیں ڈنڈے کے زور پر منوانے کے لیے ملک صاحب کو زرداری صاحب کا دبکا دلوانا پڑتا ہے۔

  83. پاکستانی سیاستدان says:

    ڈرون حملے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کی ذمہ داری زرداری صاحب اور ان کی حکومت پر تو عائد ہوتی ہے کہ حکومت نے کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی ڈرون حملے بند کروانے کی نہ ہی کبھی انہیں ہمت ہوئی کہ ڈرون طیارے گرانے کا حکم دیں پاک فضائیہ کو۔

    مگر میں سمجھتا ہوں کہ ڈرون حملوں کی ذمہداری زرداری اور گیلانی صاحبان سے زیادہ جنرل مشرف، جنرل کیانی اور پاک فضائیہ کے سربراہان پر عائد ہوتی ہے۔ اگر جنرل کیانی میں ہمت ہوتی تو وہ کب کے ڈرون حملے رکوا چکے ہوتے۔

    ہماری سول ملٹری دونوں قیادتیں اعلی ترین بیغیرت ہیں۔ اگر کوئی غیرت مند ہوتا تو وہ کبھی ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دیتا اور اگر کوئی وطن عزیز کی طرف آنکھہ اٹھا کر بھی دیکھتا تو اس کا منھہ توڑ جواب دیا جاتا۔

  84. زالان says:

    اگر الله، امریکی ابابیل ڈرون نہ بھیجتا تو یہ طالبانی دہشتگرد مزید ہزاروں بے قصوروں کو ہلاک کر چکے ہوتے

  85. پاکستانی سیاستدان says:

    http://www.topstoryonline.com/obama-vows-to-continue-drone-strikes

    نیٹو سپلائی بحال ہو یا نہ ہو ڈرون بند نہیں ہونگے، اوبامہ

    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) سیول میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں امریکن صدر براک حیسن اوبامہ نے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان نیٹو سپلائی بحال کرے یا نہ کرے لیکن ڈرون حملے بند نہیں ہونگے۔ وزیراعظم گیلانی کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے امریکی صدر کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ پاکستانی وزیراعظم کو ہمت نہیں ہوئی کہ اس معاملے پر مزید کوئی بات کرتے۔

    بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے امریکی صدر سے کہا تھا کہ پاکستان میں اس بات پر شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے کہ امریکہ پاکستان پر مسلسل ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور ان حملوں میں بے گناہ شہری بھی مارے جاتے ہیں۔ گیلانی کا کہنا تھا اگر امریکہ ڈرون حملے ختم کر دے تو ملک میں امریکہ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور غصے میں کمی ہو سکتی ہے اور موجودہ حکومت کے لیے نیٹو سپلائی لائن کو دوبارہ بحال کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ ڈرون حملوں کو بند کر دیتا ہے تو موجودہ حکومت عوام، اپوزیشن اور میڈیا کو یہ جواز فراہم کرنے میں کامیا ب رہے گی کہ سپلائی لائن ڈرون حملوں کو رکوانے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے۔

    لہذا گیلانی کا اوبامہ کو کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ امریکہ پاکستانی حکومت کی مجبوریوں کو سمجھے اور ڈرون حملوں کو بند کردے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیکن وزیراعظم گیلانی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب آرام سے ان کی بات سننے والے امریکی صدر نے ان کی ڈرون حملوں کو روکنے کی بات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ وزیراعظم گیلانی اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اوبامہ نے گیلانی کو دو ٹوک جواب دیاکہ مسٹر پرائم منسٹر ایک بات آپ بھی غور سے سن لیں کہ امریکہ ہر قسمی شرط مان لے گا لیکن پاکستان کے اندر قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملے بند نہیں ہوں گے۔ ابھی اوبامہ کے اس سخت پیغام میں کوئی کسر رہ گئی تھی کہ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم کو سخت لفظوں میں اپنا پیغام نہیں پہنچایا تو انہوں نے مزید کہا کہ ’مسٹر پرائم منسٹر ایک بات اور بھی سن لیں کہ یہ ڈرون حملے بند نہیں ہونگے چاہے آپ ہمارے دوست رہتے ہیں یا نہیں۔ قطع نظر اس کے کہ آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں ڈرون حملے جاری رہیں گے۔‘

    ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اس بات پر پاکستانی سیاسی لیڈرشپ اور فوجی قیادت پر برہم تھے کہ وہ بند دروازوں کے پیچھے تو ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن عوام اور میڈیا میں جا کر امریکہ کی مذمت کرتے ہیں جس سے پاکستانی عوام میں امریکہ کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے۔

    وکی لیکس میں وزیراعظم گیلانی کے بارے میں بڑا واضح طور پر چھپا تھا کہ انہوں نے امریکیوں سے کہا تھا کہ وہ حملے جاری رکھیں اور اس پر ان کی حکومت امریکہ سے سرکاری طور پر کوئی احتجاج نہیں کرے گی۔ تاہم گیلانی کا امریکیوں کو یہ بھی کہنا تھا کہ وہ عوام اور میڈیا میں ڈرون حملوں کے خلاف بیانات جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ وہ امریکہ کے ان حملوں کے خلاف تو ہیں لیکن بے بس ہیں۔ وکی لیکس میں یہاں تک بھی چھپا تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی امریکیوں سے ایک دفعہ خود درخواست کی تھی کہ وہ چند قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کریں کیونکہ وہاں پاکستانی فوج اور طیاروں کا دہشت گردوں کو مارنا ممکن نہیں۔

    یہ وہ علاقے تھے جہاں پاکستانی افواج بھی داخل نہیں ہو سکتی تھیں۔ یوں جنرل کیانی کے کہنے پر ان علاقوں میں ڈرون حملے کیے گئے اور دہشت گردوں کا صفایا ہوا۔ تاہم عوام اورمیڈیا میں سیاسی لیڈرشپ کی طرح جنرل کیانی بھی امریکی ڈرون حملوں کی طرح مذمت کرتے پائے جاتے ہیں جس پر امریکی فرسٹریشن کا شکار ہوتے رہے ہیں کہ یہ کس طرح کی سیاسی اور فوجی قیادت ہے جو خود ڈرون حملوں کی افادیت اور استعمال کی ضرورت کو سمجھتی بھی ہے لیکن اس کے خلاف روزانہ بیانات داغنا بھی نہیں بھولتی۔

    امریکیوں کا خیال تھاکہ جب پاکستانیوں کو بھی علم ہے کہ ڈرو ن حملوں سے القاعدہ کی مرکزی قیادت کو ختم کرنے میں بھی مدد ملی ہے تو پھر اس طرح کے ڈرامے کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ القاعدہ کا خاتمہ دونوں کے مفاد میں تھا۔ امریکی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان ڈروں حملوں میں اور تو اور بیعت اللہ محسود جیسا دہشت گرد بھی مارا گیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کو قتل کرانے میں ملوث تھا۔ اس طرح امریکی پاکستانیوں سے یہ بھی گلہ کرتے رہے ہیں کہ اگر ڈرون حملے میں تین لوگ مارے جاتے ہیں تو پاکستانی سیکورٹی فورسز اور دیگر ادارے اس تعداد کو جان بوجھ کر تیرہ کر دیتے ہیں تاکہ میڈیا اور عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت پھیلے۔

    ذرائع کہتے ہیں کہ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر ڈرون حملے کی ایک فلم پاکستانی فوجی قیادت کو بھیجتے ہیں جس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ ان کا ٹارگٹ کون تھا اور اس حملے میں کتنے لوگ مارے گئے ہیں۔پچھلے دنوں امریکیوں نے اس بات پر پاکستانی قیادت سے شدید احتجاج کیا کہ ایک ڈرون حملے میں تین لوگ مارے گئے اور اس کی باقاعدہ ایک فلم بھی پاکستان کے حوالے کی گئی تھی لیکن خبر میں کہا گیا تیرہ لوگ مارے گئے۔ امریکی اس بات کا شک پاکستانی ایجنیسوں پر کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر ایسی خبریں پاکستانی میڈیا میں پلانٹ کراتے ہیں۔

    تاہم پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ ڈرون حملوں میں ٹارگٹ کے ساتھ سویلین لوگ خصوصاً بے گناہ عورتیں اور بچے بھی مارے جاتے ہیں جس سے نفرت پھیل رہی ہے اور دہشت گردی کو قابو کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس معاملے کو جب امریکن کے ساتھ اٹھایا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے چند ڈرون حملوں میں اس طرح ہوا تھا جب بے گناہ لوگ مارئے گئے۔ لیکن امریکیوں نے پاکستان کو یہ جواز پیش کیا تھا کہ دراصل بے گناہ عورتیں اور بچے اس وقت مارے جاتے ہیں جب کوئی بڑا ٹارگٹ کسی گھر میں چھپا عام لوگوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہوتا ہے، یوں جب اس گھر پر ڈرون سے حملہ کیا جاتا ہے تو پھر وہاں اس ٹارگٹ کے ساتھ اس کے بیوی، بچے اور دوسرے افراد بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ تاہم پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کے ہاتھوں بے گناہ بچوں اور عورتوں کے مارے جانے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

    ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان کا خیال تھا کہ شاید نیٹو سپلائی کھلوانے کے لیے امریکی ڈرون حملے کرنے سے باز آجائیں، لیکن صدر اوبامہ نے یہ کہہ کر ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ پاکستان چاہے خوش ہو یا ناراض ڈرون حملے جاری رہیں گے۔

  86. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear hypocrite,
    I agree, we all as a Nation or Crowd are responsible for the existing chaos in Pakistan.
    Unfortunately, looking at the standard of discussions at Opinion forums, watching the trends at Pakistan Media, lack of capacity to reach any positive conclusion over national issues, Intolerance and sharp polarization, don’t indicate for any sign of light at end of the tunnel.
    Once I expressed my sincere feelings as following:
    فوج نے کہا …..سیاستدانوں کو چھوڑ دو
    سیاستدانوں نے کہا …امریکہ کو چھوڑ دو
    امریکہ نے کہا ……طالبان کو چھوڑ دو
    طالبان نے کہا….زرداری کو چھوڑ دو
    زرداری نے کہا …نواز شریف کو چھوڑ دو
    نواز شریف نے کہا ….عمران خان کو چھوڑ دو
    عمران خان نے کہا ….رشوت لینا دینا چھوڑ دو
    رشوت لینے والوں نے کہا …..عدلیہ کو چھوڑ دو
    عدلیہ نے کہا …… انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو
    میں سمجھ گیا بس سمجھ گیا . پھر سمجھ گیا
    اور میں نے پاکستان ھی چھوڑ دیا
    اب پارو مجھے کہتی ھے…شراب چھوڑ دو
    شراب کہتی ھے …..مجھے نہ چھوڑو….بس دنیا ھی چھوڑ دو

  87. پاکستانی سیاستدان says:

    زالان صاحب امریکہ کون ہوتا ہے پاکستانی علاقوں پر حملے کرنے والا؟ اگر ان علاقوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ ہیں تو ان علاقوں میں کاروائیاں پاکستانی فوج کو کرنی چاہیئے نہ کہ امریکہ بہادر کو۔

  88. زالان says:

    پاکستانی فوج کو پچھلے چالیس سال سے امریکی سپلائی کی جا رہی ہے ، اور ہم افغانستان کے لیہ نیٹو کی سپلائی روکے بیٹھے ہیں

    کیا کبھی ان سیاسی مولویوں نے پاکستان فوج کو دی جانے والی امریکی امداد اور اسلحے کے خلاف بھی مظاہرہ کیا ہے ؟

  89. Shirazi says:

    پاکستانی سیاستدان said:

    زالان صاحب امریکہ کون ہوتا ہے پاکستانی علاقوں پر حملے کرنے والا؟ اگر ان علاقوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ ہیں تو ان علاقوں میں کاروائیاں پاکستانی فوج کو کرنی چاہیئے نہ کہ امریکہ بہادر کو۔
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    You are right it’s not America’s business to target anti-Pakistan elements but what about those who are against America? Can America go after them? We need to accept the fact America is not India. We can have Jihadi camps against India w/o much response but not America.

  90. زالان says:

    انیس سو پچاسی میں جماعتی نعرے لگاتے تھے ” امریکہ کے ایوانوں میں آگ لگا دو آگ لگادو ” جب ان سے کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ اتنے دور بیٹھے امریکہ سے پنگے کیوں لے رہے ہو
    انیس سو نوے میں وزیرستان اور افغانستان میں امریکا سے جہاد کرنے لیہ مجاہدین تیار کو رہے تھے جب نا امریکا افغانستان میں تھا اور نا ہی عراق میں ، خود نے پنگے لیہ اب جب امریکہ مار رہا ہے تو رو رہے ہیں کہ آخر امریکا کا پاکستان سے کیا لینا دینا ہے

  91. زالان says:

    فضل الرحمان گھریلو تشدد بل کے خلاف آواز اٹھا کر ملک کے لاکھوں خاموش ظالم مردوں اور مولویوں کی ترجمانی کی ہے

  92. FJ_ Pak says:

    یہ بات لکھ لیجئے

    گھریلو تشدد بل کو موجودہ حالت میں منظور کرنے کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں اور خواتین کو ہوگا

    اس بل میں موجود کچھ شقیں نادانی، نا سمجھی ، اور جذبات کو مد نظر رکھ کر شامل کی گئی ہیں جن پر ٹھنڈے دل و دماغ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے ، نا کہ لبرل پنے اور حقیقی فاشسٹ پنے کی

    جعلی لبرلز لیکن حقیقی فاشسٹوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان میں جب بھی مادر پدر آزاد مغربی ایجنڈے کو کسی بھی لبادے میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کا ردعمل رہی سہی آزادیوں کے خاتمے کی صورت میں آیا ہے

    بھٹو کے لبرل ازم کا نتیجہ ضیاء الحق کے کوڑا بردار اسلام کی صورت آیا تھا اور پرویز مشرف کی روشن خیالی کا نتیجہ طالبانی اسلام کی صورت میں سب کے سامنے ہے

    اس لئے پاکستانی معاشرے کی تاریخ ، انکے مخصوص سماجی پاس منظر اور جذبات و احساسات کو سمجھے اور خیال کئے بغیر مغربی مادر پدر آزاد ایجنڈے کا نفاز سوائے فساد کے اور کچھ نہیں لائے گا

    ف ج

  93. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستانی سیاستدان said:

    زالان صاحب امریکہ کون ہوتا ہے پاکستانی علاقوں پر حملے کرنے والا؟ اگر ان علاقوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ ہیں تو ان علاقوں میں کاروائیاں پاکستانی فوج کو کرنی چاہیئے نہ کہ امریکہ بہادر کو۔
    Yes sir,
    You are right.
    But what about that Glucose, Pakistan got for 64 years from America?
    What is wrong if America or any other country helps Pakistan to eradicate the cancer of Terrorism?
    Yes Pakistan Armed Forces should have performed the Chemotherapy by it self…..but unfortunately….a section of ….Armed Forces….secretly….protected and patronized Terrorism by providing shelter to Osama Bin Laden in Abbatabad.
    So under such circumstances, American intervention was inevitable.

  94. زالان says:

    ضیاء الحق کا کوڑا بردار اسلام بھٹو کے ریکشن میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پہلے کے مذہبی قبائلی طرز حکومت کی نقل تھا ، یہ متبرک کوڑا بڑی بڑی عظیم ہستیوں کے ہاتھوں میں رہا تھا جو موقع پر فیصلہ کرکہ کوڑے مار دیتے

  95. زالان says:

    طالبانی اسلام تو انیس سو نوے میں وجود میں آیا جب تو مشرف آرمی چیف بھی نہیں تھا ، لوگ پچھلے دس سال کے حقائق توڑ مروڑ دیتے ہیں تو ہزار سال پہلے کے حقائق پر کس طرح بھروسہ کیا جائے

  96. FJ_ Pak says:

    جعلی لبرل لیکن حقیقی فاشسٹ کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گیں اور اپنے مونہہ سے مغربی ایجنڈے کی بد بودار ریح خارج کرتے رہیں گے

    تو لگے رہو منا بھائی

    جب کل کلاں کو مغربی ایجنڈے کے ردعمل میں آنے والی حکومت میں رہی سہی آزادیاں بھی چھین لی گئیں تو اس قول کے بقول کے جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اس کو اپنے ہی مونہہ پر مار لینا چاہیے ، تو اسوقت میری کہی ہوئی بات دوبارہ پڑھ کر اپنے مونہہ پر اپنا ہی مکا مار لینا

    ف ج

  97. FJ_ Pak says:

    ہا ہا ہا ہا


    طالبانی اسلام کی بنیاد ایک لبرل اور مغربی تعلیم یافتہ خاتون جس کا نام بے نظیر بھٹو تھا کے دور حکومت میں ہی رکھی گئی تھی اور اس کو پروان چڑھایا گیا تھا

    بہت اچھا بھئی بہت اچھا . تاریخ کا اصل بلاد کار تو یہ ہے

    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

    ف ج

  98. FJ_ Pak says:

    واہ واہ واہ واہ

    ننھے سے پالے سے گگلو مگلو سے زالان بے بی کو روتے اور مونہہ بسورتے دیکھ کر دل گارڈن گارڈن ہو گیا

    اب تو یہ بات بلا شک و شبہ ثابت بھی ہو گئی ہے زالان ایک بے بی ہی ہے اور زالان بے بی کو سوائے رونے پیٹنے کے اور کچھ نہیں آتا

    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

    ف ج

  99. Shirazi says:

    @FJ Saab

    Coud you please be little more specific what clauses do you have objection on? I am sure you are advocating this for your more conservative brothers. You yourself won’t be indulged in domestic violence in any form and shape.

  100. FJ_ Pak says:

    ہا ہا ہا ہا ہا ، ہائے ظالم تو نے تو ہنسا ہنسا کر مار ہی ڈالا ہے

    زالان بے بی کی حسب عادت اور حسب معمول بونگیاں

    جب کوئی منطقی جواب نہیں بن پڑا تو ادھر ادھر سے حب التحریر کی ویڈیوز لگانی شروع کر دیں

    زالان بے بی تمھیں پہلے بھی کہا تھا یہ باتیں تمہاری عقل اور فہم سے بڑی ہیں ، تم صرف ذاکر نائک کی تقریریں دیکھا کرو اور زیادہ سے زیادہ جاوید چوہدری کی بونگیوں کے جواب میں اپنی بونگیاں مار دیا کرو

    یا زیادہ سے زیادہ اس چرسی اور نشئی ندیم پراچہ کو اپنی ٹر ٹر مطلب چہچہاہٹ سناتے رہا کرو اور خود ہی خوش ہوتے رہا کرو

    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

    ف ج

  101. FJ_ Pak says:

    شیرازی جی

    آپ خود اس بل کا مسودہ پڑھ لیں تو یقینا آپ بھی اس کی کچھ شقوں کو قابل اعتراض سمجھ کر ان پر مزید غور و غوض کا مشورہ دیں گیں

    ف ج

  102. زالان says:

    ضیاء الحق کا اسلام – ناکام
    طالبان کا اسلام – ناکام
    لال مسجد جیسے انقلاب کا خواب – ناکام
    مصر ،تیونس میں اسلامی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد -ناکام
    سوات کی شریعت جس کی ساری اسلامی جماعتوں نے حمایت کی -ناکام

    —–ایک ایف سکسٹین مل جاتا مگر وہ بھی

  103. FJ_ Pak says:

    شیرازی جی

    اس بل میں جو اصطلاحات ہیں ان کی کوئی خاص تعریف نہی کی گئی اور جیسا کہ آپ کو پاکستان کی پولیس اور عدالتوں اور حکومتوں کا پتا ہی ہے تو وہ اس سے اپنی مرضی کے مطالب نکال کر کسی بھی شخص اور خاص طور پر والدین کو ہراساں اور دھمکایا جا سکتا ہے

    ف ج

  104. FJ_ Pak says:

    زالان بے بی

    اتنا غصہ صحت کیلئے اچھا نہیں ہوتا ، اپنے نشئی دوست ندیم پراچہ سے ایک کوکین کی پڑی مانگ کر اسکو سونگو اور ٹھنڈ یعنی چل کرو

    ف ج

  105. زالان says:

    یہاں پر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ گاڑھی اردو لکھ کر مفکر بنا جا سکتا ہے ، منطق منطق کی رٹ لگا رہے ہیں ، سوچ کویں کے مینڈک جتنی ہے

    بیچارے احساس کمتری کا شکار

  106. Javed Ikram Sheikh says:

    zalaan said:
    ضیاء الحق کا اسلام – ناکام
    طالبان کا اسلام – ناکام
    لال مسجد جیسے انقلاب کا خواب – ناکام
    مصر ،تیونس میں اسلامی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد -ناکام
    سوات کی شریعت جس کی ساری اسلامی جماعتوں نے حمایت کی -ناکام

    —–ایک ایف سکسٹین مل جاتا مگر وہ بھی
    Becuase…….
    Islam has no Nizam…but a comprehensive Code of Halaal…and …Harram
    90% of existing International way of life …..is…. Haraam …in Islam.

  107. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    اسلام کسی کی ذاتی جائیداد، ملکیت یا کاروبار نہیں ہے، جو اس طرح کہا جارہا ہے کہ طالبان کا اسلام ناکام، ضیا الحق کا اسلام ناکام وغیرہ۔ قرآن و سنت کی تعلیمات، صحیح احادیث یہ سب ہے اسلام اور اس کو سمجھنے کیلیے نہ ہی طالبان، نہ ہی ضیاالحق یا کسی اور گروہ کی ضرورت ہے۔ اس اسلام کو سمجھنے کیلیے نیت کے اخلاص اور جذبے کی ضرورت ہے۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن کو سمجھنے کیلیے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے۔
    کرہ ارض کے نظام اور دیگر مذاہب سے زیادہ اگر کوئی مذہب گہری سوچ اور فکر کی دعوت دیتا ہے تو وہ اسلام۔ اگر چند گمراہ لوگ یا گروہ اسلام کی غلط تشریح کر کے معاشرے میں عدم استحکام یا انتشار پھیلا رہے ہیں تو اس کو چند اسلام سے متنفر لوگ اسلام کی ناکامی سمجھ رہے ھیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ زندگی کے ہرشعبے کے بارے میں اسلام سے رہنمائی ملتی ہے۔ عدل و انصاف پہ مبنی معاشرہ، سود اور ربا سے پاک نظام۔ حکمران کا کردار۔ حقوق العباد۔ اخوت اور بھائی چارہ وغیرہ۔ غربت کے خاتمے کیلیے زکوٰۃ کا نظام، بیت المال کے ذریعے امداد وغیرہ۔ یہ سب وہ بنیادی باتیں ہیں جن کو صحیح معنوں میں نافذ کرکے ہی ایک حقیقی فلاحی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔

    اور ہاں طالبان کہاں ناکام ہوئے ھیں بلکہ جھوٹ کی جنگ لڑنے والے 48 ممالک ذلیل و خوار ہو رہے ھیں۔ اور اپنا بھاری نقصان کروارہے ھیں۔ یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایک جنگلی جانور جارج واکر بش نے کہا تھا کہ ہم افغانستان کی ہر گلی کوچے میں گھس کے طالبان کو ڈھونڈ کے ان کی جڑ کو ہی ختم کردیں گے لیکن آج گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی وہ اس طالبان کا صفایا تو دور کی بات پچیس فیصد علاقے پہ بھی اپنی بالا دستی قائم نہ کرسکے۔

  108. Javed Ikram Sheikh says:

    ukpaki1 said,
    One must appreciate Your wishful thinking about a theoratical positive image of Islam.
    But you overlooked the ground reality where most of Islamic Philosophy has been defaced.
    I can bet…there won’t emerge any breakthrough even if America fails and Taliban wins in Afghanistan.
    What Giddar Singi came out during 11 year ‘Islamic Rule’ of Zia lul Haq?
    What progress was made in Afghanistan under Taliban Rule?
    We must try to understand the issue and its realistic solution like China, Korea, Japan and other developed countries who made progress within 40-50 years.

  109. FJ_ Pak says:

    Shirazi Ji

    The question is not “my Irk” to something. I mere stated that there has to be revision of certain areas with cool heads. Whats wrong with suggesting that.

    One of the areas of concerns for me is the inclusion of certain vague terminology and scenario under the pretext of “domestic Violence” e.g. if a father asks his son or daughter why they were late coming home (lets say arbitrary time of 11 pm) and they are grounded for doing that, now under this bill this will be considered as domestic violence. beat me now !!!

    The person (son or daughter) can go to police and get a vase registered against their parents for mere censuring them.

    there are many many scenarios and vague terminologies like that in that bill. It DOES NOT only cover “Domestic Violence” but include things in domestic violence which are just laughable.

    FJ

  110. EasyGo says:

    ساتھ ساتھ میرا خیال ہے کے
    میں اپنے فرض سے یا تو غافل ہوں یا ادا نہیں کرنا چاہتا
    میں چاہتا ہوں کے مرے علاوہ ہر شخص اپنا فرض ادا کرے
    مگر مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں
    جب میں اپنا فرض ادا نہیں کروں گا تو اپنا حق کیسے حاصل کروں گا
    ========
    ہپو کریٹ جی
    میں بھی آپکی بات سے متفق ہوں
    بس مجھے چیزیں انتہائی خراب بھی نہیں لگتیں
    کروڑوں لوگ ایک دوسرے کے ساتھہ رہ رہے ہیں
    بے حس اور خودغرض ضرور ہیں لیکن درندے بہرحال نہیں ہیں
    کہ ہر ہمسایہ دوسرے ہمسایے کو کھایے نہیں جا رہا
    تو کچھ تو ہے نہ جس سے نظام چل رہا ہے

  111. FJ_ Pak says:

    Shirazi Ji

    As the saying goes, discretion is the better part of valor, Not every thing should be corrected with the brute force of the law. Many Many things in life and societies can be and should be corrected with education, changing and molding attitudes through societal pressure, through media, through various means available.

    To me, this bill will bring mere chaos in the absence of any long term and solid educational programme for changing men’s attitude towards women.

    FJ

  112. hypocrite says:

    ایزی گو بھائی
    انتہائی معذرت اور عاجزی کے ساتھ
    کونسے نظام کی بات کر رہے ہیں آپ
    میرے خیال میں ہم میں ایک خرابی یہ بھی ہے کے حالت کی ابتری کو قبول کرنے کے بجاے
    ہم ایک اور سیڑھی نیچے اترنے پر راضی ہو جاتے ہیں
    اور اسی طرح سیڑھی پر بد تدریج نیچے اترتے جا رہے ہیں
    سب قبول ہے

  113. ukpaki1 says:

    salam
    Javaid sheikh sahab
    u wrote:
    What progress was made in Afghanistan under Taliban Rule?
    We must try to understand the issue and its realistic solution like China, Korea, Japan and other developed countries who made progress within 40-50 years.
    ________________________________________________________-
    taliban set exemplary peace during their reign in probably the most complex country of the world i.e afghanistan. the famous british journlist christina lamb also admired taliban in her writings. according to her she never felt that sense of security among her own ppl as she felt among taliban. she really spoke high of them. also one of the newspapers of india reported that taliban used to give financial support to the poor families especially to those, who had no earner or guardian. also they never forbade women to take up any legitimate jobs, during taliban rule, women were teachers, health workers etc. actually they prohibited women to act as a model etc.
    u quoted the examples of china, korea and japan etc. yes their developments r remarkable but lately i heard the news that these days china is under some difficulties. over there inflation is on higher side, they have slashed their growth rate and their employees have been made redundant.
    anyhow if we talk about the muslim world as a whole, they really way behind as compared to developed countries. actually we have abandoned our legacy, our basic teachings, our heritage etc. that’s y we as an ummah r suffering.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  114. زالان says:

    آج ملک کے کسی بھی حصہ سے دیوبندی پھٹنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی – محکمہ موسمیات

  115. saleem raza says:

    ہپوکرہٹ بھائی جی
    ہم اُس قوم سے تعلق رکھتے ہیں ! جو گزرے ہوہے اور اُنے والے دن کو کل کہتے ہیں،
    میں نے پارو والا جواب پڑھ کر اپکے لیے دُعا کی تھی ،

  116. saleem raza says:

    بلے ِ وائی بلِے بڑی رونق لگی ہوئی ہے ، جزباتی بھائی نے زلاان کوبونگی مارنے کا کہا ہے ،
    اور زلاان اپنے اپکو مارنے چلا گیا ہے !

  117. ukpaki1 says:

    اسی لیے یہ شعر شاید حالی نے ہماری حالت دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ

    حالی نشاط نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو اب
    آئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں

  118. Bawa says:

    زالان said:
    آج ملک کے کسی بھی حصہ سے دیوبندی پھٹنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی – محکمہ موسمیات

    محکمہ سیاسیات کی پشین گوئی کے مطابق بھٹو کا داماد چار دن تک لاہور میں پھٹتا رہے گا

    لاہور والوں کو وارننگ دی جاتی ہے کہ گھروں میں بند رہیں اور اپنے سامان کی خود حفاظت کریں

    😀 😀

  119. saleem raza says:

    پاکی ون بھائی اور دوسرے دوستوں کو السلام و علیکم

    باقی شعر تو مھجے حالی سے زیادہ کسے خستہ حالی کا لگتا ہے !

  120. EasyGo says:

    ہپو کریٹ بھائی
    کوئی مسئلہ نہیں آپ جیسے مرضی سمجھائیں
    کیا آپکے خیال میں ایک ایک کرکے سارے ٹھیک ہوجائیں گے

    میرے خیال میں نظام کی کم سے کم پہچان یہ ہے کہ لوگ ابھی تک حکمرانوں کو مان رہے ہیں عوام کے ہاتھہ ان کی گرد نوں تک نہیں پہنچ رہےہیں اورشائد حکمران اسی چیز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں

  121. Bawa says:

    جانتا ہوں پنجاب والوں کي گردن سے سريا کيسے نکالنا ہے،صدر زرداري

    .
    .

    یہ سالا سسر، بیوی اور سالے مروا کر بھی نہیں سمجھا کہ گردنوں سے سریہ کون نکالتے ہیں؟

    جب اسکی گردن سے سریا نکالا جائے گا تب اسے ہوش آئے گی لیکن تب تک بھٹو کی طرح اسکے ہاتھ سے بھی سب کچھ نکل چکا ہوگا

  122. ukpaki1 says:

    وعلیکم السلام رضا بھائی

    ویسے یہ شعر حالی کا ہی ہے لیکن ہے خستہ حالی کے بارے میں جو اس وقت اور آج بحیثیت امت ہماری ہے

  123. EasyGo says:

    سلیم رضا صاحب
    واعلیکم السلام
    تھوڑے دن پہلے اشفاق احمد کا بونگی پر بیان پڑھا، وہ یہاں پیسٹ کرکے گڈ نائٹ

    ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈپریشن کے مرض سے پریشان ہیں۔ کروڑوں روپے کی ادویات سے ڈپریشن ختم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور یہ مرض ایسا ہے کہ خوفناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اچھوت کی بیماری لگتا ہے۔ ہمارے بابے جن کا میں ذکر کرتا ہوں وہ بھی اس Stress یا ڈپریشن کے مرض کا علاج ڈھونڈنے میں لگے ہوۓ ہیں تا کہ لوگوں کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جاۓ۔ پرسوں ہی جب میں نے بابا جی کے سامنے اپنی یہ مشکل پیش کی تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ڈپریشن کے مریض کو اس بات پر مائل کر سکتے ہیں کہ وہ دن میں ایک آدھ دفعہ “ بونگیاں “ مار لیا کرے۔ یعنی ایسی باتیں کریں جن کا مطلب اور معانی کچھ نہ ہو۔ جب ہم بچپن میں گاؤں میں رہتے تھے اور جوہڑ کے کنارے جاتے تھے اور اس وقت میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت بھی پاپ میوزک آج کل کے پاپ میوزک سے بہت تیز تھا اور ہم پاپ میوزک یا گانے کے انداز میں یہ تیز تیز گاتے تھے :

    “ مور پاوے پیل سپ جاوے کُھڈ نوں بگلا بھگت چک لیاوے ڈڈ‌ نوں تے ڈڈاں دیاں لکھیاں نوں کون موڑ دا “

    مور ناچتا ہے جبکہ سانپ اپنے سوراخ یا گڑھے میں جاتا ہے۔ بگلا مینڈک کو خوراک کے لیے اچک کر لے آتا ہے اور اس طرح سب اپنی اپنی فطرت پر قائم ہیں اور مینڈک کی قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔

    ہم کو زمانے نے اس قدر سنجیدہ اور سخت کر دیا ہے کہ ہم بونگی مارنے سے بھی قاصر ہیں۔ ہمیں اس قدر تشنج میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہم بونگی بھی نہیں مار سکتے باقی امور تو دور کی بات ہیں۔ آپ خود اندازہ لگا کر دیکھیں آپ کو چوبیس گھنٹوں میں کوئی وقت ایسا نہیں ملے گا جب آپ نے بونگی مارنے کی کوشش کی ہو۔ لطیفہ اور بات ہے۔ وہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر موقع کی مناسبت سے سنایا جاتا ہے جبکہ بونگی کسی وقت بھی ماری جا سکتی ہے۔ روحانی ادویات اس وقت بننی شروع ہوتی ہیں جب آپ کے اندر معصومیت کا ایک ہلکا سا نقطہ موجود ہوتا ہے۔ یہ عام سی چیز ہے چاہے سوچ کر یا زور لگا کر ہی لائی جاۓ خوبصورت ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں

    بہتر ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل
    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

  124. Javed Ikram Sheikh says:

    ukpaki1 said:

    ” taliban set exemplary peace during their reign in probably the most complex country of the world i.e afghanistan.”

    Dear sir,
    A graveyard is always very peaceful.
    Unfortunately, over 1000 years history of Muslim Rule is very frustrating, when compared with other systems of governance.
    What are the contributions of Muslim Governments for humanity in the fileds of Industry, Technology, Science, Art, Sports, Medicine?
    Afterall what is there to make me feel proud ?

  125. بلیک شِیپ says:

    ukpaki1 said:
    the famous british journlist christina lamb also admired taliban in her writings. according to her she never felt that sense of security among her own ppl as she felt among taliban. she really spoke high of them.

    میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ غازی یہ جذباتی۔۔۔۔۔۔ یہ یوکے کے پاکی۔۔۔۔۔۔ یہ خدا کے پُراسرار بندے۔۔۔۔۔۔ اپنی اپنی خوابوں کی سرزمین پر جا کر کیوں نہیں رہنا شروع کردیتے۔۔۔۔۔۔
    ایک عدد خوابوں کی اس دلکش سرزمین کا نقشہ برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے کن الفاظ میں کھینچا ہے۔۔۔۔۔۔ ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

    Imagine a land where it is forbidden for women to wear lipstick, white shoes, or shoes that click on the ground. Where women are not allowed to laugh out loud, nor their silhouettes even be visible from a window. Where streets and parks cannot bear female names. A land of no music where the only entertainment is public amputations and executions.

    That’s what Afghanistan was like under the Taliban. People said even the birds had flown away. A tribal chief from Kandahar asked the Taliban leader Mullah Omar what people were supposed to do for fun. “Go and look at flowers”, he replied. But after the Taliban took over there was no rain for five years and all the flowers died.

    The Sewing Circles of Herat: My Afghan Years
    Christina Lamb

    Source

  126. ukpaki1 says:

    salam
    i read it myself, christina lamb literally praised taliban and she was treated very politely by taliban.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  127. ukpaki1 says:

    salam
    Sheikh sahab

    with due respect, i would say that u have been greatly influenced by foreign media with the likes of cnn, fox new etc. these channels r the masters of presenting fabricated stories etc. bbc and sky news r slightly different, i would say.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  128. FJ_ Pak says:

    سلیم پائی جان سلام

    لو جی کر لو گل ، کھرکاں دے مارے وی آپڑ گئے نیں ، جتھوں وی ذرا جیا کھرک کروان دا موقع نظر آوندا فورا اپنی تکلیف دا اظہار کر دیندے نیں

    :mrgreen: :mrgreen:

    FJ

  129. بلیک شِیپ says:

    hypocrite said:
    محترم بلیک شیپ صاحب
    بہت عمدہ تحریر سے متعارف کروانے کا شکریہ
    گو کے تحریر آپ کی نہیں لہٰذا آپ سے سوال کرنا درست نہیں
    مگر میں آپ کی راے لینا چاہوں گا
    کے کیا ایسے دوہری شخصیت کے مالک کو ملک
    کا نظم و نسق سنبھالنے اور چلانے کا حق اور اختیا ہونا چاہیے
    میرا خیال ہے کے نہیں
    آپ کا کیا خیال ہے

    محترم ہپوکریئیٹ صاحب۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی یہ تحریر بہت پسند آئی تھی۔۔۔۔۔۔ اور میرے بھی بھٹو کے بارے میں کچھ ایسے ہی خیالات ہیں۔۔۔۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔۔۔۔ تضادات سے بھرپور ایک انتہائی بے چین انسان۔۔۔۔۔۔
    لیکن ایک پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا کہ میری اور اس تحریر کے مصنف کی رائے آخر کار رائے ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کل کلاں میری رائے غلط ثابت ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن پاکستان کے لوگوں کو دیکھ کر لگتا ہے پاکستان کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو میری رائے سے اختلاف ہے۔۔۔۔۔۔
    جہاں تک یہ بات ہے کہ میرا اس پر کیا موقف ہے کہ ایسے دوہری شخصیت کے مالک کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنے اور چلانے کا اختیار ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔ آپ کا سوال درحقیقت ایک اور سوال پیدا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ کہ ایسی دوہری شخصیتوں کے مالک افراد کے مقابلے میں کون ہے۔۔۔۔۔۔
    آپ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ میری نظر میں پاکستان کے مسائل کے سب سے بڑے ذمہ دار پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے۔۔۔۔۔۔ اگر آج پاکستان کے سیاسی ایرینا پر نظر دوڑائی جائے تو کون سیاسی رہنما ایسا ہوسکتا ہے جو بغیر کوئی بڑا نقصان کئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کچھ قابو کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں وہ زرداری ہے۔۔۔۔۔۔ میں نواز شریف کو اتنا اہل نہیں سمجھتا کہ وہ یہ کرسکے۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر بھی یہ میری رائے ہے۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے آپ کو میری بات سے اختلاف ہو کہ زرداری تو کرپٹ ہے ایسا ہے ویسا ہے۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے وہ کرپٹ ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن میں جس بات ترجیح دیتا ہوں وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو نکیل ڈالنا ہے۔۔۔۔۔۔ بات وہی ہے کہ چھوٹی برائی اور بڑی برائی۔۔۔۔۔۔

  130. پاکستانی سیاستدان says:

    @Javed Ikram Sheikh @Shirazi

    جناب میں تو پہلے ہی لکھہ چکا ہوں کہ ہماری سول اور ملٹری دونوں قیادتیں اعلی درجے کی بیغیرت ہیں۔ اگر ہماری قیادت میں غیرت اور خودداری نام کی کوئی شے ہوتی تو ہماری افواج امریکی امداد کا سہارا کبھی نہ لیتی اور ہماری حکومتیں کبھی امریکہ سے قرض نہ لیتے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے جس طرح آج بھارت اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے۔

  131. Bawa says:

    جانتا ہوں پنجاب والوں کي گردن سے سريا کيسے نکالنا ہے،صدر زرداري

    .
    .
    [img]http://a2.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash2/26313_110614518976547_110614252309907_80761_7375456_n.jpg[/img]

  132. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear ukpaki1

    “due respect, i would say that u have been greatly influenced by foreign media with the likes of cnn, fox new etc. these channels ”

    No sir. That is not the reality.
    I made my own judgement on the bases of analytical deduction during school days, when I had no access to CNN, Fox or BBC.
    Made in England merchandize was much better than local material.

    Even Meer Taqi Meer almost 250 years before had to acknowledge:

    میر کے دین و مذہب کا کیا پوچھتے هو تم اس نے تو
    قشقہ کھینچا ، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا

  133. Hakka Bakka says:

    Tories snatch tax credits from poorest families
    by Patrick Ward

    Some 850,000 families will see their income slashed from today (Friday) as tax credits are torn from low paid workers.

    The Tory attack will leave 212,000 families who earn less than £17,000 worse off by £3,870 a year, unless they increase their working week by eight hours.

    The Tories and their Lib Dem supporters pretend that the new arrangements are “fair”. They argue that an increase in personal tax allowance will save working families money.

    But these savings, which add up to several hundred pounds, are quickly swallowed up by the tax credit changes.

    Today’s changes are just the latest step in the Tory project to shift wealth away from the poorest and into the pockets of the rich.

    http://www.socialistworker.co.uk/art.php?id=28095

  134. EasyGo says:

    اگر آج پاکستان کے سیاسی ایرینا پر نظر دوڑائی جائے تو کون سیاسی رہنما ایسا ہوسکتا ہے جو بغیر کوئی بڑا نقصان کئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کچھ قابو کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں وہ زرداری ہے۔۔۔۔۔۔ میں نواز شریف کو اتنا اہل نہیں سمجھتا کہ وہ یہ کرسکے
    ==========
    میرے خیال میں کوئی بھی اس اہل نہیں ہے
    کیونکہ انکی لڑائی اپنی ذات اپنے طبقے تک ہے
    جہاں عوام کی بات آتی ہے، سب برابر ہیں
    اوپر سے دانشور لیفٹ اور رائٹ میں الجھاتے ہیں
    مولوی حلال اور حرام میں پھنساتے ہیں
    اور دونوں جانتے بوجھتے یہ کرتے ہوے نظر آتے ہیں
    اوردونوں، ملٹری ہو یا سول ہر طرح کے طاقتوروں کو میسر ہیں
    غلامانہ سرشت رکھنے والےغریب عوام کی اکثریت کو یہ بات سمجھہ آتے آتے ہی آیے گی

  135. Hakka Bakka says:

    EasyGo said:
    اگر آج پاکستان کے سیاسی ایرینا پر نظر دوڑائی جائے تو کون سیاسی رہنما ایسا ہوسکتا ہے جو بغیر کوئی بڑا نقصان کئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کچھ قابو کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں وہ زرداری ہے۔۔۔۔۔۔ میں نواز شریف کو اتنا اہل نہیں سمجھتا کہ وہ یہ کرسکے
    ==========
    میرے خیال میں کوئی بھی اس اہل نہیں ہے
    کیونکہ انکی لڑائی اپنی ذات اپنے طبقے تک ہے
    جہاں عوام کی بات آتی ہے، سب برابر ہیں

    +++++++++++++++++++++++++++++++++++++

    محترم ایزی گو صاحب
    جہاں تک آپ نے عوام کی بات کی ہے تو یہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہوتے ہیں – انکے مفادات اصل میں گھوڑوں اور اونٹوں (سیاستدانوں) کے مفادات سے زیادہ قریب ہیں – جب تک ان بھیڑ بکریوں کے اندر ہی سے منظم سیاسی قوت نہیں پیدا ہوگی جو کہ انکے اپنے مفادات کی ترجمانی کرسکے تب تک ان بھیڑ بکریوں کو انہیں انہی گھوڑوں، اونٹوں اور خچر وغیرہ سے کام چلانا پڑے گا – فوجی بھیڑیوں اور مذہبی چیل کووں کے مفادات میں اور ان بھیڑ بکریوں کے مفادات میں کوئی بھی مماثلت نہیں بلکہ ایک کھلا تضاد ہے

  136. FJ_ Pak says:

    pejamistri said:
    I just love Taj Haider, and loved his definition of “liberal”

    لبرل پپو ھوتے ھیں

    ********************************************************************

    پیجا جی

    میرے خیال میں محترم تاج حیدر صاحب تھوڑی ڈنڈی مار گیے ہیں ..


    صرف لبرل ہی پپو نہیں ہوتے بلکہ موجودہ پیپلز پارٹی ساری کی ساری پپو ہے

    باقی تھوڑی سی مایوسی اس بات سے ہوئی کہ محترم تاج حیدر کے پائے کا دانشور بھی گاہے بگاہے جذباتیت کو ابھار کر اور لفظوں کی جادوگری سے اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے میں مشغول تھے . محترم تاج حیدر نے ترقی پسندی کے حوالے سے سارا زور عورتوں کی تعلیم کی طرف تو لگایا لیکن جاگیر داری کے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں بولا . کیا یہ سمجھا جائے کہ سندھی اور پنجابی جاگیر داروں کی موجودگی کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے اب جاگیرداری کو قبول کر لیا ہے اور اس کے خلاف جدوجہد چھوڑ دی ہے

    FJ

  137. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    پاکستان میں انتخابات جیتنے کیلیے جو چیز سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے وہ ہے نعرے۔ جس جماعت کا نعرہ زیادہ جذباتیت سے بھرپور ہوگا اور اس جماعت کا قائد زیادہ اچھی اداکاری کرسکے گا۔ وہ جماعت یقیناً نمایاں کارکردگی انتخابات میں دکھاتی ہے۔
    جو نعرہ بھٹو نے آج سے کئی سال پہلے لگایا تھا، اور جس نعرے کو پی پی پی آج بھی بیچتی ہے۔ وہ صرف ایک کھوکھلے نعرے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ جو جماعت اپنے اردگرد کے علاقوں میں عوام کی پسماندگی نہ دور کرسکی وہ کیا پورے ملک کو روٹی کپڑا اور مکان دے گی۔
    زرداری نے بھٹو کے نام کو ایک ٹکٹ کی طرح استعمال کیا ہے اپنا سیاسی گورکھ دھندہ چلانے کیلیے۔ چاہے وہ ملک کا جتنا مرضی بیڑا غرق کر لے اس کو صرف ایک جذباتی تقریر چاہیے 27 دسمبر کو اور بھر گڑھی خدا بخش میں بیٹھے لوگ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کہ فلک شگاف نعرے لگاتے اس کو یہ یقین دہانی کراتے ھیں کہ وہ مرتے دم تک زرداری کے ساتھ رہیں گے۔ ان لوگوں کو کون یہ سمجھائے کہ دن رات بھٹو بھٹو کرنے سے ان کے تقدیریں نہیں بدلیں گی، لیکن شاید وہ لوگ اپنے آپ کو بھٹو کی میراث سمجھنے ھیں۔

    اسی طرح نام نہاد مذھبی جماعتیں امریکہ کے خلاف نفرت بیچتی ہیں اور اپنی سیاسی دکانیں چمکاتی ہیں اور اقتدار کی ہڈی کیلیے بے چینی اتنی کہ امریکی سفیر کو اپنی وفاداری کا اس طرح مولانا یقین دلاتا ہے کہ ہم کلین شیو والوں سے زیادہ آپ کے اپنے ثابت ہوں گے۔

    بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ کل بھی ان نعروں کو خریدتے تھے اور آج بھی وہ اس کے طلسم میں مبتلا ہیں۔ جس ملک میں ووٹ دینے کا معیار یہ نعرے ھوں وہاں کیا بڑی تبدیلی آسکتی ہے بیلٹ کے ذریعے۔

  138. Hakka Bakka says:

    FJ_ Pak said:
    باقی تھوڑی سی مایوسی اس بات سے ہوئی کہ محترم تاج حیدر کے پائے کا دانشور بھی گاہے بگاہے جذباتیت کو ابھار کر اور لفظوں کی جادوگری سے اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے میں مشغول تھے . محترم تاج حیدر نے ترقی پسندی کے حوالے سے سارا زور عورتوں کی تعلیم کی طرف تو لگایا لیکن جاگیر داری کے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں بولا

    ===================================

    محترم ایف جے پاک صاحب
    آپ درست فرماتے ہیں کہ انھوں نے براہ راست جاگیردارانہ نظام پیداوار کو بر بھلا نہیں کہا – مگر سارے انٹرویو میں یہ کب کہا ہے کہ جاگیرداری کوئی اچھی چیز ہے ؟ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی پانی کے گلاس کو آدھا خالی کہے یا پھر آدھا بھرا ہوا – سن سنتالیس کے بعد سے یہ علما کمیٹیوں نے ہی یہ فیصلہ بار بار سنایا ہے کہ زمیندار ہاریوں کا بہترین دوست ہے اور جاگیر داری مکمل طور پر شرعی نظام ہے

    آپ کی خدمت میں اخباروں میں چھپنے والی چند خبریں

    دسمبر سن انیس سو اڑتالیس میں چھپنے والی خبر
    December. The officially appointed Bari Committee has stated in the recently published Report on Agricultural Reforms in Sindh: Feudal lords are the best friends of the peasants, who only repay their saviours with ingratitude!

    Masud Khaddarposh has written a socialist note of dissent, which has been witheld from the printed text of the Report

    مارچ انیس سو اننچاس کی ایک خبر
    Religious leaders back feudals

    March. Ishtrakiyat Aur Zraati Masawaat, a pamphlet signed by 16 religious leaders including Abdul Hamid Badauni, supports absentee landlordism and the findings of the Bari Committee.

    Masood Khaddar Posh, the dissidant member, is attacked as a socialist and therefore an atheist. It is suspected that the pamphlet is instigated by members of provincial government, since Masood’s note of dissent (frequently refered here) was never made public by the Bari Committee.

    مئی انیس سو اننچاس کی ایک خبر

    May 5 Masood Khaddar Posh files defamation against Govt of Sindh. He has allegedly found solid proofs that the ulema who wrote pamphlet against him were bribed by a provincial minister with strong feudal interests. Masood is allegedly facing pressure from the Central Govt to withdraw suit.

    http://www.therepublicofrumi.com/chronicle/1949.htm

  139. FJ_ Pak says:

    محترم ہکا بکا جی

    بات اسوقت یہ نہیں ہے کہ دوسروں کا اس خاص معاملے میں کیا موقف تھا یا ہے بات پیپلز پارٹی کے تناظر میں تھی ، ویسے بھی کہتے ہیں کہ زندگی دوسروں کی خامیوں پر نہیں بلکہ اپنے حسن عمل پر بسر کی جاتی ہے

    کیا پیپلز پارٹی یا محترم تاج حیدر جیسے دانشور دوسروں کی خامیوں یا کجیوں پر اپنے جوابات کی بنیاد رکھیں گیں

    ضمنا ایک اور بات عرض کردوں کہ میرے محدود علم اور فہم کے مطابق علما کرام نے زمین کی حد ملکیت کے بارے میں جو رائے دی تھی وہ صحیح تھی لیکن ( اور یہ لیکن ہی وہ بیان نا کر پائے ) اسلام کا یہ بھی حکم ہے کہ اگر کوئی شخص تین سال تک غیر حاضر زمیندار ہو تو وہ زمین اس سے واپس لے لی جائے گی

    ایک اور بات کی آپ سے توقع چاہوں گا کہ میرے خیالات یا تبصروں کو پاکستان میں مروج اور موجود اسلامی فہم اور تشریح سے تھوڑا ہٹ کر سمجھنے اور جاننے کی سعی کیجئے گا . میرا زیادہ تر اسلامی علم اور فہم عرب علما سے حاصل کردہ ہے جو کہ پاکستانی علما کے اسلامی فہم اور تشریح سے مختلف ہے .

    نظریاتی اختلاف اور سوچ کا اور طریقہ کار کا فرق اپنی جگہ لیکن چاہوں گا کہ اس ویب سائٹ پر موجود مواد کو بھی ایک نظر
    ضرور ماریں

    http://islamicsystem.blogspot.com/p/economics.html

    اور خاص طور پر اس کتاب پر

    http://nahdaproductions.org/media/k2/videos/resources/ebooks/HT%20books%21/The%20economic%20system.pdf

    آخر میں ایک بات ، میں نے اوپر آپ سے ڈاکٹر صلاح الدین درویش کی بابت پوچھا تھا اگر آپ کچھ معلومات فراہم کر سکیں

    ف ج

  140. FJ_ Pak says:

    Seems Like Ad min does not like posting links so this is without links and may be Ad m i n will release the post with links in due course.

    محترم ہکا بکا جی

    بات اسوقت یہ نہیں ہے کہ دوسروں کا اس خاص معاملے میں کیا موقف تھا یا ہے بات پیپلز پارٹی کے تناظر میں تھی ، ویسے بھی کہتے ہیں کہ زندگی دوسروں کی خامیوں پر نہیں بلکہ اپنے حسن عمل پر بسر کی جاتی ہے

    کیا پیپلز پارٹی یا محترم تاج حیدر جیسے دانشور دوسروں کی خامیوں یا کجیوں پر اپنے جوابات کی بنیاد رکھیں گیں

    ضمنا ایک اور بات عرض کردوں کہ میرے محدود علم اور فہم کے مطابق علما کرام نے زمین کی حد ملکیت کے بارے میں جو رائے دی تھی وہ صحیح تھی لیکن ( اور یہ لیکن ہی وہ بیان نا کر پائے ) اسلام کا یہ بھی حکم ہے کہ اگر کوئی شخص تین سال تک غیر حاضر زمیندار ہو تو وہ زمین اس سے واپس لے لی جائے گی

    ایک اور بات کی آپ سے توقع چاہوں گا کہ میرے خیالات یا تبصروں کو پاکستان میں مروج اور موجود اسلامی فہم اور تشریح سے تھوڑا ہٹ کر سمجھنے اور جاننے کی سعی کیجئے گا . میرا زیادہ تر اسلامی علم اور فہم عرب علما سے حاصل کردہ ہے جو کہ پاکستانی علما کے اسلامی فہم اور تشریح سے مختلف ہے .

    نظریاتی اختلاف اور سوچ کا اور طریقہ کار کا فرق اپنی جگہ لیکن چاہوں گا کہ اس ویب سائٹ پر موجود مواد کو بھی ایک نظر
    ضرور ماریں

    اور خاص طور پر اس کتاب پر

    آخر میں ایک بات ، میں نے اوپر آپ سے ڈاکٹر صلاح الدین درویش کی بابت پوچھا تھا اگر آپ کچھ معلومات فراہم کر سکیں

    ف ج

  141. hypocrite says:

    You are perhaps right per article 62 an 63 but beyond that gauge is votes not personality split or any other trait. In established democracies different parties have option to throw kitchen sink at each other before elections but once dust is settled they respect majority decision and that’s how it should be.

    ______________

    Shirazi jee

    No doubt the majority mandate has to be respected. The point I was trying to make is that in our half baked democracy model, voting by masses only is taken as completion of requirements of democracy. There is no democracy within the parties. The members of a party cannot launch a vote of no confidence against its leader regardless the leader is fit or not.

    Maybe it is due to our feudalistic hierarchy based society.

    Now if Late Bhutto has tendencies that affected masses as well as the party, the party members could have done something about it but they could not.

  142. hypocrite says:

    You are perhaps right per article 62 an 63 but beyond that gauge is votes not personality split or any other trait. In established democracies different parties have option to throw kitchen sink at each other before elections but once dust is settled they respect majority decision and that’s how it should be.

    _______

    Shirazi jee

    I responded to your valuable comment but I guess it breached the rules and hence disappeared.

  143. زالان says:

    pejamistri said:
    I just love Taj Haider, and loved his definition of “liberal”
    لبرل پپو ھوتے ھیں

    Must watch the whole program. PPP is blessed with people like Taj Haider, Aitzaz Ahsan, Fakhar Zaman and many many more…. these guys give the real impetus for the people like me to stick with PPP.

    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=PzWyB_mFQ7Y#!

    ————————————————

    Thanks for sharing peja

  144. hypocrite says:

    ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔۔۔۔ تضادات سے بھرپور ایک انتہائی بے چین انسان۔۔۔۔۔۔
    لیکن ایک پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا کہ میری اور اس تحریر کے مصنف کی رائے آخر کار رائے ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کل کلاں میری رائے غلط ثابت ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن پاکستان کے لوگوں کو دیکھ کر لگتا ہے پاکستان کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو میری رائے سے اختلاف ہے۔۔۔۔
    ____________

    عزیز بلیک شیپ صاحب
    بہت شکریہ
    آپ اپنی کس راے کی بات کر رہے ہیں
    جس پر آپ کو گمان ہے کے ایک اچھی خاصی تعداد کو آپ کی راے
    سے اختلاف ہے
    ویسے اگر یہ اختلاف بجا ہے تو آپ کو اپنی راے پر غور کرنا چاہیے
    اور اگر اختلاف صرف اختلاف براے ہے
    تو اس اچھی خاصی تعداد کے اختلاف سے دل برداشتہ نہ ہوں
    اپنی راے پر ڈٹے رہیے

  145. hypocrite says:

    اکستان میں انتخابات جیتنے کیلیے جو چیز سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے وہ ہے نعرے۔ جس جماعت کا نعرہ زیادہ جذباتیت سے بھرپور ہوگا اور اس جماعت کا قائد زیادہ اچھی اداکاری کرسکے گا۔ وہ جماعت یقیناً نمایاں کارکردگی انتخابات میں دکھاتی ہے۔
    جو نعرہ بھٹو نے آج سے کئی سال پہلے لگایا تھا، اور جس نعرے کو پی پی پی آج بھی بیچتی ہے۔ وہ صرف ایک کھوکھلے نعرے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ جو جماعت اپنے اردگرد کے علاقوں میں عوام کی پسماندگی نہ دور کرسکی وہ کیا پورے ملک کو روٹی کپڑا اور مکان دے گی۔
    _____________

    محترم یو کے پاکی اول صاحب
    نعروں کی سیاست
    یا سیاست کے نعرے
    آپ نے اپنی بات میں نعروں کو صرف اقتدار کے حصول کی ضرورت سے منسلک کیا ہے
    میں بہت حد تک آپ کی بات سے متفق ہوں
    ہمارے یہاں جذباتی نعرے بہت حد تک استعمال ہوتے ہیں
    مگر کیا یہ نعرے پاکستان بننے کے بعد شروع ہوے
    اب میری پاکستانیت شاید شک کی نظر میں آ جاے
    مگر غور کریں تو برصغیر کی تقسیم کے پیچھے بھی کئی جذباتی نعرے کار فرما تھے
    تو کیا ان نعروں کا مقصد بھی صرف سیاست اور حصول اقتدار تھا
    آج کی دنیا پر نظر ڈالیں تو چار ایک سال قبل
    اباما صاحب نے بھی تبدیلی کا بھرپور جذباتی نعرہ لگایا تھا
    لوگوں نے اس نعرے کو اہمیت بخشی
    تو میرا خیال ہے کے جذباتی نعرے
    لگتے رہے تھے
    لگتے رہے ہیں
    اور لگتے رہیں گے

  146. hypocrite says:

    PPP is blessed with people like Taj Haider, Aitzaz Ahsan, Fakhar Zaman and many many more
    __________

    Do you see any replacement within PPP of these intellectuals?

    Is PPP still providing the breeding ground and the nurturing to such intellectuals?

    I think the answer is NO.

  147. hypocrite says:

    اور میں نے پاکستان ھی چھوڑ دیا
    اب پارو مجھے کہتی ھے…شراب چھوڑ دو
    شراب کہتی ھے …..مجھے نہ چھوڑو….بس دنیا ھی چھوڑ دو
    ____________

    حترم جاوید صاحب
    آپکے جواب کا بہت بہت شکریہ
    آپکو تو پارو کہتی ہے کے شراب چھوڑ دو
    مگر میری قسمت میں تو پارو ہی ٹھکرا کر چلی گئی
    سمجھ نہیں اتا کیا کروں
    محترم
    کبھو کبھی مایوسی پیڑ جاکر لیتی ہے
    مگر پھر حوصلہ حاوی ہو جاتا ہے
    اور پھر پارو کو پانے کی تمنا دوبارہ پر عزم بنا دیتی ہے
    میرا خیال ہے کے ایک دن پاکستان میں بھی قوم عزم کے ساتھ
    اس رہ پر چل پڑے گی جہاں پاکستان کی قوم
    اپنا مقام حاصل کر سکے گی
    پارو کا ٹھکرانا میرے پارو کو حاصل کرنے کے عزم
    سے زیادہ طاقتور نہیں ہے

  148. hypocrite says:

    نظریاتی اختلاف اور سوچ کا اور طریقہ کار کا فرق اپنی جگہ لیکن چاہوں گا کہ اس ویب سائٹ پر موجود مواد کو بھی ایک نظر
    ضرور ماریں

    __________

    ممحترم فارغ جذباتی صاحب
    سلام
    آپکی سوچ قابل تحسین ہے
    ایک ذاتی سوال ہے
    کیا مواد پر صرف نظر دوڑاتے ہیں
    یا پھر اس پر سوچ بچاربھی کرتے ہیں
    آپ پڑھے لکھے اور زہین آدمی لگتے ہیں بلکے ہیں
    اور ہمارے بلیک شیپ صاحب کے بڑے لکھاریوں کی ایک چھوٹی سی فہرست
    میں انچا مقام رکھتے ہیں
    تو مجھے امید ہے کے اس مواد پر سوچتے بھی ہونگے
    کیا اس مواد نے نظریاتی اختلاف کو مزید پختہ کیا ہے
    یا نظریاتی فاصلوں میں کمی کی ہے
    یہ سوال میں اس لیے پوچھ رہا ہوں
    کے انسانی سوچ اور سوچنے کا عمل
    اور انسانی اعمال ہمیشہ سے میرے
    پسندیدہ مضمون رہے ہیں
    اور آپکی راے انسانی سوچ کو سمھجنے میں میری مدد کرے گی

  149. hypocrite says:

    محترم ایزی گو صاحب
    جہاں تک آپ نے عوام کی بات کی ہے تو یہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہوتے ہیں – انکے مفادات اصل میں گھوڑوں اور اونٹوں (سیاستدانوں) کے مفادات سے زیادہ قریب ہیں – جب تک ان بھیڑ بکریوں کے اندر ہی سے منظم سیاسی قوت نہیں پیدا ہوگی جو کہ انکے اپنے مفادات کی ترجمانی کرسکے تب تک ان بھیڑ بکریوں کو انہیں انہی گھوڑوں، اونٹوں اور خچر وغیرہ سے کام چلانا پڑے گا – فوجی بھیڑیوں اور مذہبی چیل کووں کے مفادات میں اور ان بھیڑ بکریوں کے مفادات میں کوئی بھی مماثلت نہیں بلکہ ایک کھلا تضاد ہے

    _______

    محترم حکا بکا صاحب
    بہت خوب
    حسب معمول آپکی راے اور انداز بیان بہت خوب ہے
    آپکی انسانی مفادات کی جانوروں سے تشبیہ
    بات کو انتہائی آسان لفظوں میں سمجھا دیتی ہے
    کچھ انتہائی بے تکے سوال یا پھر ان سے بھی زیادہ بونگے مشاہدے ہیں:

    ١) کیا دنیا میں توازن رکھنے کے لیے ان تمام جانوروں کی موجودگی ضروری ہے
    ٢) اب اگر بھیڑیوں اور چیلوں کا گزارا بھیڑوں اور بکریوں پر ہی ہے
    تو بھیڑیں اور بکریاں ان بھیڑیوں اور چیلوں سے کیسے کر محفوظ رہ سکتی ہیں
    اور اگر محفوظ ہو بھی سکیں تو ان بھیڑیوں اور چیلوں کی خوراک کا کیا ہو گا
    کیا یہ گوشت خوری چھوڑ کر سبزی خوری کر سکیں گے
    یا پھر فنا ہو جایئں گے
    ٣) اگر فنا ہو گئے تو دنیا میں توازن کیسے رہے گا
    ٤) کیا بھیڑ اور بکریوں کا اونٹوں اور گھوڑوں سے ناتا
    بھیڑوں اور بکریوں کو بھیڑیوں اور چیلوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے

  150. Hakka Bakka says:

    آخر میں ایک بات ، میں نے اوپر آپ سے ڈاکٹر صلاح الدین درویش کی بابت پوچھا تھا اگر آپ کچھ معلومات فراہم کر سکیں

    محترم ایف جے پاک صاحب
    جہاں تک آپنے صلاح الدین درویش کی بات کی ہے تو میں اس نام کے جن صاحب سے واقف ہوں وہ غالبا ایک ماہر تعلیم ہیں اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ، اور جتنا مجھے اندازہ ہے وہ پیپلز پارٹی کے ادوار کی تعلیمی پالیسیوں کی حمایت اور ترویج کرتے رہے ہیں – میں نے انکا وہ انٹرویو ابھی تک نہیں سنا جس کا آپ نے پہلے ذکر کیا ہے

  151. Hakka Bakka says:

    محترم ایف جے پاک صاحب
    میں نے نہ ہی پیپلز پارٹی کی حمایت کی ہے نہ ہی کسی کی مذمت کی ہے – پاکستان میں جاگیرداری ایک پیداواری نظام کے طور پر ایک مسلہ تو ہے ہی – مگر اصل مسلہ کوئی اور ہے – اصل مسلہ اس ذہنیت کا ہے جو پیداواری نظام کے تحت جنم لیتی ہے – جیسا کہ عورتوں پر ظلم و ستم کی بات ہے تو یہ رویہ بھی اس ہی پیداواری نظام کی دین ہے جسے جاگیرداری کہتے ہیں – بے جان چیزیں (زمین اور آلات وغیرہ) ، غیر انسانی جانیں (ڈھور ڈنگر)، انسانی جانیں (عورتیں ، ہاری وغیرہ) سب کی سب باپ کی جاگیر اور ذاتی ملکیت سمجھی جاتی ہیں – اس قدامت پسندانہ سوچ کو مذہبی لوگوں نے ہی پروان چڑھایا ہے- میں نے آپ کو مولویوں کی یا کسی اور کیٹگری میں شامل ہونے کا کوئی الزام نہیں دیا – صرف چند خبروں کو ایک ساتھ اکھٹا کرکے کچھ بتانے کی کوشش کی ہے –
    مرے نزدیک ان جاگیردارانہ رویوں (جیسا کہ عورت کو اپنی جاگیر سمجھنا) پر تنقید در اصل خود اس نظام پر تنقید ہے جو ایسے رویوں کو جنم دیتا ہے

  152. hypocrite says:

    محترم حکا بکا صاحب
    معذرت کے آپ کی بات کو اپنے انداز یا مفاد میں اخذ کر رہا
    لگتا ہے کے جاگیردار بھی بھیڑیے ہیں اور انکو جو مذہبی حمایت حاصل ہے تو وہ بھی بھیڑیوں کے رمز میں آ جاتی ہے
    جو بھیڑوں اور بکریوں یعنی عورتوں پر اپنے مفاد کی خطر ظلم کرتے ہیں اور چند مذہبی عناصر اسکی حمایت کرتے ہیں
    اور جب یہ جگیردانہ سوچ سیاست میں آ جاتی ہے تو کچھ سیاستدان بھی بھیڑیے بن جاتے ہیں اور کچھ مولوی بھی

  153. Hakka Bakka says:

    محترم هایپوکرئیٹ صاحب

    بد قسمتی سے آپ کے سوالات اتنے سادہ نہیں ہیں – مگر میں پھر بھی ایک حقیر سی کوشش کر کے دیکھوں گا

    =======================================

    ١) کیا دنیا میں توازن رکھنے کے لیے ان تمام جانوروں کی موجودگی ضروری ہے

    =========================================

    کم از کم بھیڑ بکریوں (یعنی کے عوام) کی موجودگی نا گزیر ہے – دنیا نامی اس جنگل کے نناوے فیصد جاندار یہی ہیں

    ======================================================

    ٢) اب اگر بھیڑیوں اور چیلوں کا گزارا بھیڑوں اور بکریوں پر ہی ہے
    تو بھیڑیں اور بکریاں ان بھیڑیوں اور چیلوں سے کیسے کر محفوظ رہ سکتی ہیں
    اور اگر محفوظ ہو بھی سکیں تو ان بھیڑیوں اور چیلوں کی خوراک کا کیا ہو گا
    کیا یہ گوشت خوری چھوڑ کر سبزی خوری کر سکیں گے
    یا پھر فنا ہو جایئں گے-

    =======================================================

    مغرب کے سرمایہ دار درندوں نے اسکا بہتر حل نکالا ہے – انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ ساری کی ساری بھیڑ بکریاں آج ہی کھا گۓ تو پھر کل کیا ہوگا – لہٰذا وہ انہیں کھا جانے کے علاوہ انکی خوراک کا خیال بھی رکھتے ہیں تاکہ کل کو مچرب جانور کھانے کو ملے نہ کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ، انکی صحت کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ کہیں وہ انکا لقمہ بن جانے سے پہلے کسی بیماری سے ہی نہ مر جاۓ، وہ اسکی افزائش نسل کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ کل کو بھی وافر مقدار میں بھیڑ بکریاں موجود رہیں – پھر انکا دودھ ، انکی اون یہ سب بھی تو چاہیے ہوتا ہے

    بھیڑ بکریوں کو چاہیے کہ وہ یہ بات سمجھ جائیں کہ درندوں کی بقا در اصل خود بھیڑ بکریوں کی بقا پر منحصر ہے

    ==========================================

    ٣) اگر فنا ہو گئے تو دنیا میں توازن کیسے رہے گا

    =============================

    توازن تو اب بھی نہیں ہے – بھیڑیوں کی طاقت کے مقابلے میں اگر بھیڑ بکریاں بھی ایک طاقت نہ بن سکیں تو کوئی بھی توازن قائم نہیں ہو سکتا

    ===================================

    ٤) کیا بھیڑ اور بکریوں کا اونٹوں اور گھوڑوں سے ناتا
    بھیڑوں اور بکریوں کو بھیڑیوں اور چیلوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے

    ===========================================

    اپنی بقا کی جنگ میں اپنا حلیف اس ہی کو بنایا جا سکتا ہے جسکی بقا کے تقاضے آپ کی بقا کے تقاضوں سے مماثلت رکھتے ہوں – ریاستوں کے بن جانے کے بعد سے تمام نظام ہاۓ اقتصادیات در اصل مختلف معاشی اور معاشرتی طبقات کے درمیان موجود تضادات اور مماثلتوں سے عبارت ہیں – کوئی سیاسی و اقتصادی فلسفہ اس وقت ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب تک وہ ان طبقات کے درمیان موجود ازلی اور قدرتی تضاد کو دبا کر ان طبقات کے درمیان موجود معاشی ضروریات کی یکسانیت کو پروموٹ نہیں کر سکتا –

  154. Hakka Bakka says:

    تصیح
    ========

    گزارش ہے کہ آخری جملے کو یوں آخری پڑھا جاۓ

    کوئی سیاسی و اقتصادی فلسفہ اس وقت ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب تک وہ ان طبقات کے درمیان موجود ازلی اور قدرتی تضاد کو دبا کر ان طبقات کے درمیان موجود معاشی ضروریات کی یکسانیت کو پروموٹ کرتا رہتا ہے

  155. ukpaki1 says:

    گر غور کریں تو برصغیر کی تقسیم کے پیچھے بھی کئی جذباتی نعرے کار فرما تھے
    تو کیا ان نعروں کا مقصد بھی صرف سیاست اور حصول اقتدار تھا
    آج کی دنیا پر نظر ڈالیں تو چار ایک سال قبل
    اباما صاحب نے بھی تبدیلی کا بھرپور جذباتی نعرہ لگایا تھا
    لوگوں نے اس نعرے کو اہمیت بخشی
    تو میرا خیال ہے کے جذباتی نعرے
    لگتے رہے تھے
    لگتے رہے ہیں
    اور لگتے رہیں گے
    ____________________________________________________________

    ہئپوکریٹ صاحب

    قیام پاکستان کی جو تحریک جس کا آپ ذکر کر رہے تھے وہ محض نعرے ہی نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل نظریہ، جدو جہد اور خلوص نیت شامل تھی اور اگر یہ سب نہ ہوتا تو میرا خیال ہے کہ پاکستان شاید دنیا کے نقشے پہ نہ ابھرتا، برصغیر کے جو معروضی حالات تھے اس کے پیش نظر یہ سب نعرے لگے اور نظریہ پایہ تکمیل تک پہنچا اور آپ بھی یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے۔

    آپ نے ایک اور بہت اہم نقطہ اٹھایا اپنی تحریر میں اوبامہ کے حوالے سے یا جو وہ تبدیلی کا نعرہ لے کے آیا تھا۔ یقیناً آپکی بات درست کے اس کو ووٹ تبدیلی یا ایک نعرے کی وجہ سے ہی ملے، لیکن وقت نے یہ ثابت کیا کہ اوبامہ بھی اصل حکمران نہیں ہے۔ اگر وہ واقعی اپنی تبدیلی کے نعرے پہ قائم رہتا تو گوانتا نامو بے جیسی جیل کو اپنے پہلے ہی سال بند کروا دیتا جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کام تھے جو اس نے کہا اور وہ نہ کرسکا۔ اسی کے دور میں امریکہ میں دس فیصد غربت میں اضافہ ہوا، لوگ اپنے گھر اور گاڑیاں بیچنے پہ مجبور ہوگئے۔ اس کے اور پینٹاگون کے اختلافات متعدد مواقع پہ صاف نظر آئے۔

    ایک تبدیلی واقعی رونما ہوئی ہے اس کے دور میں وہ یہ کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بڑی حد تک اس نے پاکستان منتقل کردیا ہے کیونکہ اس کو یہ ادراک ہو گیا تھا کہ افغانستان میں جنگ تو امریکہ جیت نہیں سکے گا تو اس لیے اس نے بڑی حد تک محور پاکستان کو بنا دیا۔
    جب بش وائٹ ہاؤس میں بیٹھا تھا تو بش کا تقریباً سارا دھیان افغانستان میں تھا، تباہی پاکستان میں بھی ہوئی لیکن جب اوبامہ اپنی نحوست کے ساتھ منظر عام پہ آیا تو واقعی اس نے یہ تبدیلی تو رونما کی۔

  156. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    You posted a news regarding Tories withdrawing certain subsidies unless those who are getting that subsidy extends their work week by 8 hours.

    In US Republicans have similar thought process. They believe food stamp, subsidized housing etc are counter productive. Democrats on the other hand argues slightly better distribution of wealth.

    I am confuse on this, morally I stand by Democrat and Principly by Republicans. I was actually more closer to Democrats on this until I saw first hand how such subsidies are misused and are counter productive.

    I am still not sold on the subject by either side but I think Tories action of with drawing subsidy is step in right direction. They are trying to fix a problem that Labor or Democrats ‘d never try to address due to political compulsions.

  157. Shirazi says:

    @FJ Saab

    Your reservations on Domestic Violence Bill are well placed. Looking at text it’s quite obvious the global nature of the bill can be misused as you said and needs to be revised.

  158. hypocrite says:

    morally I stand by Democrat and Principly by Republicans

    ________

    Shirazi sahib

    Very very interesting and thought provoking comment. Leads me to think what shapes morality and what develops principles.

  159. hypocrite says:

    Pakistan Domestic Violence Bill

    a) Why is it required now after 64 years since Pakistan came into existence?

    b) Why a certain section of society is opposing it?

    c) Do we have an effective and fair system to implement any law in our country? If yes, then why this bill will create confusion and if no, then what this bill is going to achieve?

  160. ukpaki1 says:

    @hypocrite sahab
    that bill is not just limited to domestic violence, actually many objectionable things have been included in that bill, like parents can’t admonish their children etc. these things need to be reviewed.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis

  161. lota6177 says:

    hypocrite said:
    morally I stand by Democrat and Principly by Republicans

    ________

    Shirazi sahib

    Very very interesting and thought provoking comment. Leads me to think what shapes morality and what develops principles.
    ————————————————————————————————————————-Every science has for its basis a system of principles as fixed and unalterable as those by which the universe is regulated and governed. Man cannot make principles; he can only discover them. A long habit of not thinking a thing wrong gives it a superficial appearance of being right. All national institutions of churches, whether Jewish, Christian or Turkish, appear to me no other than human inventions, set up to terrify and enslave mankind, and monopolize power and profit. Any system of religion that has anything in it that shocks the mind of a child, cannot be true. Belief in a cruel God makes a cruel man. I believe in the equality of man; and I believe that religious duties consist in doing justice, loving mercy, and endeavoring to make our fellow-creatures happy. Every religion is good that teaches man to be good; and I know of none that instructs him to be bad. Thomas Paine

  162. FJ_ Pak says:

    شیرازی جی

    گھریلو تشدد بل کے بارے میں میرے اٹھائے ہووے نکات کی تائید کرنے پر آپ کا شکریہ . باالاخر ہم کسی نکتہ پر تو متفق ہووے

    ایک بات جو تعجب خیز اور فکر مندی کا پہلو لئے ہووے ہے وہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں کا موجودہ شکل میں اس بل پر نظر ثانی کے خلاف رویہ اور شور و غوغا کرنا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسا منصوبہ تھا کہ بل کو اس کی موجودہ حالت میں ہر حال میں منظور کروا لیا جائے اور چونکہ یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی تو انہوں نے مولانا فضل الرحمان کیخلاف محاز کھڑا کر دیا ہے ( میں مولانا فضل الرحمان کی سیاست سے سخت اختلاف کرتا ہوں لیکن اس خاص مسئلے پر انکے موقف کی کہ اس بل پر نظر ثانی ہونی چاہئے کی مکمل حمایت کرتا ہوں ). اس سے شک پڑتا ہے کہ شائد ان غیر سرکاری تنظیموں کی دوڑیں کہیں باھر سے ہلائی جارہی تھیں اور ان کی مالی مدد شائد اس بل کے موجودہ حالت میں منظور ہونے پر مشروط تھی .

    ایک اور اہم بات جو اس معاملے سے سیکھنے والی ہے جو کہ ہر صورتحال پر لاگو ہوتی ہے وہ یہ کہ کسی بھی معاملے پر رائے دینے سے پہلے اسکے بارے میں ضروری اور تفصیلی معلومات کا پیشگی حاصل کرنا اور یہ کہ محض اس بات پر کسی کی بات کی مخالفت کر دینا کہ اس شخص سے میرا نظریاتی اختلاف ہے پرلے درجے کی حماقت ہے .

    افسوسناک بات یہ ہے کہ ملائی بند ذہن اور ذہنیت کی تو مذمت کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں سوچا جاتا کہ کھلے ذہن ، منطق اور عقلمندی کے دعویدار بھی ملا دشمنی میں کہیں ملائی بند ذہنیت کے مظاہرے تو نہیں کر رہے .

    ف ج

  163. Hakka Bakka says:

    محترم شیرازی صاحب

    میرے نزدیک ٹوریز اور ریپبلکنز دراصل اقتصادیات کے بنیادی اصولوں کو سر کے بل کھڑا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں – انکے ہاتھ میں ایک تباہی کا نسخہ ہے – خدا نہ کرے کہ آپ ریپبلکنز کے ووٹر بن جائیں (اگر آپ سرمایہ دار نہیں ہیں تو

    میرے پاس ایک ہاورڈ یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات کا اس موجودہ اقتصادی بحران کی تاریخ کے بارے میں ایک خوبصورت آرٹکل کی کاپی ہے – میں اسکا لنک گوگل پر ڈھونڈھوں گا ، اگر مل گیا تو یہاں چسپاں کردوں گا

  164. FJ_ Pak says:

    ہمدم جی
    سلام

    کیسے ہیں جناب ، معذرت کہ بر وقت آپکے سوال کا جواب نہیں دے سکا

    جہاں تک آپکے سوال کا تعلق ہے تو محترمی ہمدم جی ، میری تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہر ایک سے سیکھوں اور ہر نقطۂ نظر سے اور نظریاتی بنیاد سے سیکھوں ، اس میں کتنا کامیاب ہوں اسپر جیوری ابھی تک غوروخوض کر رہی ہے .
    ہر انسان چیزوں کو ایک خاص پس منظر میں اور ایک خاص پس منظر سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ، جو کہ ہمارے اپنے تجربات ، مشاہدات ، تعلیم و تربیت ، ماحول ، احساسات ، جذبات ، جبلتوں ، پسند ناپسند ، فطری اور بیرونی جھکاؤ ، وغیرہ وغیرہ کا آئینہ دار ہوتا ہے .

    میری ناقص رائے میں ہر نظریاتی بنیاد اپنے تئیں انسانوں کی بھلائی کی کوشش کر رہی ہوتی ہے اور اسکے پیش نظر انسانی بھلائی اور خوشی ہی ہوتی ہے ، فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ اس انسانی بھلائی اور خوشی کی تعریف اور مقصد اور نوعیت کیا ہے . میرے خیال میں اسی بات کا جھگڑا اور بحث ہے .

    میں جس نظریاتی بنیاد کو قبول کرتا ہوں اور اس کو صحیح سمجھتا ہوں اور اسکی ترویج کرتا ہوں یا چاہتا ہوں ، مجھے دوسری نظریاتی بنیاد قبول کرنے والوں سے مختلف کرتی ہے ، لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں دوسری نظریاتی بنیاد سے مونہہ پھیر لوں اور اسکے وجود اور اثرات سے انکار کردوں .

    بسا اوقات اپنی نظریاتی بنیاد کو صحیح طریقے سے سمجھنے کیلئے دوسری نظریاتی بنیاد کو پڑھنا اور سمجھنا اور بھی ضروری ہوتا ہے اور آپ دوسری نظریاتی بنیاد سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اپنے متشدد رویوں میں توازن لاتے ہیں

    ف ج

  165. بلیک شِیپ says:

    محترم ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔
    میرے ذاتی خیال میں تو ری پبلکن یا ٹوریز کی معاشی پالیسیاں ڈیموکریٹ یا لیبر سے تو بہت بہتر ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں فری مارکیٹ ایک بہت اچھی چیز ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

    Hakka Bakka said:
    خدا نہ کرے کہ آپ ریپبلکنز کے ووٹر بن جائیں (اگر آپ سرمایہ دار نہیں ہیں تو

    آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ سرمایہ دار کون ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ دوسری بات یہ بھی کہ کیا لالچ کو ختم کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔
    ایک دستاویزی فلم کا کلپ ہے۔۔۔۔۔۔ جس میں مارگریٹ تھیچر اور کان کنوں کی یونین کے درمیان کشمکش کا ذکر ہے۔۔۔۔۔۔

    http://www.youtube.com/watch?v=zENXlGfCzGk

  166. Pak1stan1 says:

    New round of Nura-Kushti has started between Nawas Sharif and Zardari.

    Zardari’s latest outburst are simply another round of Nura-Kushti between these two brothers.

    Pakistanis should not forget

  167. Hakka Bakka says:

    بلیک شِیپ said:
    محترم ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔
    میرے ذاتی خیال میں تو ری پبلکن یا ٹوریز کی معاشی پالیسیاں ڈیموکریٹ یا لیبر سے تو بہت بہتر ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
    =======================

    محترم بلیک شیپ صاحب

    پسند اپنی اپنی – مرے نزدیک تاریخی واقعات اور اعداد و شمار کچھ اور ثابت کرتے ہیں – پہلی جنگ عظیم کے بعد کا گریٹ ڈپریشن اور اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے روز ایولٹ کی اقتصادی اصطلاحات کی ریپبلکنز نے کتنی مخالفت نہیں کی – مگر وقت نے کیا ثابت کیا ؟ یہی کہ عوام دوست اقتصادی پالیسی ہی میں ہی اقتصادیات پنپتی ہیں – ایک کنزیومر مارکٹ میں کنزیومر کے ہی ہاتھوں اور جیبوں کو خالی رکھنے کے دیوانے پن پر کوئی ری پبلکن ہی یقین رکھ سکتا ہے – روز ایولٹ پر ریپبلکنز کے اعتراضات اور حملے ایسے ہی تھے جیسے ہمارے یہاں کے احمق مولویوں کے ہوتے ہیں

    ریگن اور بڑے بش صاحب کے ادوار کے اختتام پر امریکہ کی اقتصادی حالت کا جائزہ لیجیے اور پھر اسکا موازنہ بل کلنٹن کے دور کی پالیسیوں سے کیجیے -بل کلنٹن کا زمانہ بڑے سرپلس کا زمانہ – بڑے بش کا زمانہ ریکارڈ ڈیفیسٹ کا زمانہ – چھوٹے بش نے قریب قریب اس ڈیفیسٹ کا ریکارڈ توڑ دیا تھا – بل کلنٹن کی پالیسیوں کے نتیجے میں چھ سالوں میں بایئس ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں – چھوٹے بش اور بڑے بش دونوں کے زمانے کو ملا لیں – پرائیویٹ سیکٹر ایک بھی نئی ملازمت نہیں پیدا کر سکا – جی ہاں ! ایک نئی ملازمت بھی نہیں – بجٹ کا دیفیساِٹ ، روزگار کی عدم فراہمی ، سوشل سیکٹر کا سکڑاؤ، معیشت کا سمٹاؤ ، ہاوسنگ میں گراوٹ ، منڈی میں مںدی ، ایک عام آدمی کی رئیل ویجس میں کمی —- جس زاویے سے دیکھیں ، ریپبلکنز ایک تباہی ہیں – بہت سی بری چیزیں کلنٹن یا کسی اور ڈیموکریٹ کے زمانے میں بھی ہوئی ہیں ، مگر ان ری پبلکنوں کا کوئی ثانی نہیں -مجھے ایک کمیڈی فلم کا نام یاد نہیں آرہا جس میں جنگلوں سے بندر شہر میں گھس گۓ تھے اور انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک سپر مارکیٹ کو تہس نہس کر ڈالا تھا – کلنٹن کے زمانے میں اسکی اقتصادی ٹیم نے جو سپر مارکیٹ بنائی تھی ، بش اور اسکے بندروں نے اسکا ویسا ہی حال کیا

    میرے خیال میں ریپبلکن پارٹی کا فلسفہ اور اعداد و شمار کو جانچنے کا پیمانہ ہی درست نہیں ہے – ان کی اقتصادی پالسیوں کے محرکات اور اہداف ہی (میری سوچ کے مطابق) ہوش کی بجاۓ تعصبات پر مبنی ہیں – قاضی حسین احمدوں اور حمید گلوں کی یہاں بھی کوئی کمی نہیں

    —————– کس چیز کی کمی ہے خواجہ تیری گلی میں
    –(- نتھیا تیری گلی میں ، گھوڑا تیری گلی میں —– (ابن انشاء

    آپ کی من پسند فری مارکیٹ اکانومی کے بارے میں کبھی اور تفصیل سے اپنی حقیر سی راۓ ضرور پیش کروں گا – میں فی الحال اتنا ہی کہوں گا کہ کوئی بھی اقتصادی فلسفہ اچھا یا برا نہیں ہوتا
    ریاست کی سرحدوں میں رہنے والوں کا سماجی رحجان اور اسکے تحت کسی تبدیلی کی تڑپ ، وہاں کا پیداواری نظام اور اس نظام کے تحت انکے رویے اور اہداف — اقتصادی فلسفے کے اغراض و مقاصد اور محرکات (دفاعی ریاست یا فلاحی ریاست وغیرہ)—، ریاست کی گورننس کا مکینزم (جمہوریت یا آمریت وغیرہ) ، – یہ تمام چیزیں اپنے بطن میں ایسے حالات کی افزائش کرتی ہیں جن حالات میں ایک اقتصادی فلسفہ ناکام اور کوئی دوسرا کامیاب ہو سکتا ہے

  168. FJ_ Pak says:

    ہکا بکا جی

    ایک ضمنی نکتے کا اضافہ کروں گا آپ کی بات کو آگے بڑھاتے ہووے .

    سرمایہ داری نظام کی تو جو تباہ کاریاں ہیں وہ اپنی جگہ پر لیکن اس کے ساتھ اس نظام نے ایک غلامانہ سوچ اور افلاس سوچ پیدا کی ہے اس کی تباہ کاریاں سب سے بڑھ کر ہیں

    حالت یہاں تک آن پونہچی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی جھوٹی شان شوکت سے مرعوب لوگ بلا سوچے سمجھے ہر معاملے میں سرمایہ دارانہ بیان یعنی نرییٹو کو ہی اختیار کر لیتے ہیں ، اس کی مثالیں قوانین کے ماخذ سے لیکر قوانین کے نفاز تک ، اقتصادیات سے لیکر سماجی اتھل پتھل تک ، معاشرے کے رجحانات سے لیکر سیاسی اصطلاحات تک بکھری پڑی ہیں .

    یہ صورتحال اس وقت مزید مضحکہ خیز ہو جاتی ہے جب سرمایہ داری نظام کے زخم خوردہ باوجود تمام تر بری حکمت عملیوں اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی سماجی اور اقتصادی مسئلوں کیلئے مزید اپنے تکبر پن اور خواص پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور چلیں اسلام کو تو چھوڑیں ، اشتراکی اقتصادی نظام کی طرف دیکھنا اور کچھ سیکھنا بھی گناہ سمجھتے ہیں

    FJ

  169. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    I think I am more Socialist than Capitalist and certainly not Communist. I believe incentive driven Capitalist economy works and good intentions based communist economy doesn’t. I support socialist philosophy of distribution of wealth more on moral grounds than anything else. The subsidies and social programs that are part and parcel of developed economies are perhaps critical to endure progress and law and order.

    Democrats embrace Republicans free market and private enterprise – the hall mark of Clinton’s success that you pointed out. Similarly if there are flaws in social programs they need to be addressed. That’s where I agree with Tories.

    Could yo please elaborate how Republicans and Tories are trying to challenge basic principles of economy?

  170. Hakka Bakka says:

    FJ_ Pak said:
    ہکا بکا جی

    ایک ضمنی نکتے کا اضافہ کروں گا آپ کی بات کو آگے بڑھاتے ہووے .

    سرمایہ داری نظام کی تو جو تباہ کاریاں ہیں وہ اپنی جگہ پر لیکن اس کے ساتھ اس نظام نے ایک غلامانہ سوچ اور افلاس سوچ پیدا کی ہے اس کی تباہ کاریاں سب سے بڑھ کر ہیں

    =======

    محترم ایف جے پاک صاحب

    جیسا کہ میں نے بلیک شیپ صاحب کو لکھا ہے کہ کوئی بھی اقتصادی فلسفہ اچھا یا برا نہیں ہوتا – دنیا کے مختلف معروضی حالات کے تحت مختلف پیداواری نظاموں کے ذریعہ اقتصادیات نے جو جو بھی شکل اختیار کی ہے ، کسی نہ کسی حوالے سے کامیاب اور کسی نہ کسی حوالے سے ناکام کہی جا سکتی ہے

    میں نہیں سمجھتا کہ سرمایہ داری نظام نے غلامانہ سوچ کو جنم دیا ہے – بلکہ غلامی کی زنجیروں سے آزادی در اصل ایک صنعتی انقلاب کے ذریعہ سے ہوئی تھی – میری سمجھ کے مطابق اپنی ابتدا سے یہ ایک انتہائی ترقی پسندانہ اور انقلابی نظام تھا – منڈی کی معیشت کی تیز رفتاری اور مسابقت کا یہی تقاضا تھا کہ پیروں اور ذہنوں کی زنجیریں توڑ دی جائیں تاکہ تیز رفتاری کا سااتھ دیا جا سکے اور مسابقت کے لئے آزاد ذہنوں سے جنم لینے والے آئیڈیاز کو بروۓ کار لایا جا سکے

    ذرا اسکا موازنہ زرعی یا غیر صنعتی معاشرے سے کی جیے جہاں عزت ، ناموس ، دولت ، اقتدار — سب کچھ موروثی ہے – – جینے کے لئے کام کرنے والے کمی کمین ہوتے ہیں – آلات پیداوار ، زمین ، ڈھور ڈنگر ، عورت — سب کچھ جاگیر کے سااتھ وراثت میں ملتی ہیں – اسکے مقابلے میں ایک صنعتی معاشرہ ہے جہاں بنیاد موروثیت کی بجاۓ مسابقت ہے – اس مسابقت سے نبرد آزما ہونے کے لئے ذہین ، صحتمند ، ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے – اسے نت نۓ آئیڈیاز اور بزنس کرنے یا چیزوں کو بیچنے کے لئے نئی سے نئی ٹرکس کو وضح کرنے والے ذہنوں کی ضرورت ہے – اس ہی لئے اس نظام کے آتے ہی جیل خانے مسمار ہوۓ اور اس کی بجاۓ درسگاہوں ، ہسپتالوں ، لائبریریوں وغیرہ کی تعمیر ہوئی – اس وقت کے انسانوں کے نکتہ نظر سے دیکھیں – یہ تاریخ کے سفر کا مثبت سمت میں اگلا قدم تھا – اس نے انسانیت کو ایک نۓ مقام سے روشناس کرایا تھا –

    تاہم تمام تر ترقی پسندی اور روشن خیالی کے باوجود اس نظام کے اندر ایک ایسا اندرونی تضاد موجود ہے جو کسی نہ کسی شکل میں طبقہ واریت کو ہوا دیتا رہتا ہے اور خود اپنی تیز رفتاری کے آگے زنجیر بن جاتا ہے – اپنے اندر ایک طبقاتی کشمکش کا ایک ان بلٹ تضاد رکھنے والا یہ نظام ، جمہوریت اور فلاحی ریاست کے اصولوں کے ذریعہ اپنے ان اندرونی تضاد پر اب تک کنٹرول یا قابو رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور اسے کسی متبادل نظام کی ضرورت نہیں پڑی ہے – یہی بات ریپبلکنز کے موٹے دماغوں میں نہیں آ پا رہی کے عوامی فلاح و بہبود کے اداروں کو جتنا کمزور اور سکڑایا جائیگا ، نظام کا اندرونی تضاد اتنا ہی ابھر کر اس نظام کو خاکستر کر سکتا ہے – پہلی جنگ عظیم کے گریٹ ڈپریشن میں سب سے بڑا سبق ہی یہی ہے جو ان کوڑھ مغزوں کے سمجھ نہیں آ رہا – یہ وال اسٹریٹ سے ابھرنے والی اور امریکہ کے سو شہروں میں کسی نہ کسی سطح پر موجود احتجاجی تحریکوں کے پیدا ہونے کے مکینزم کو بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہیں – کیونکہ یہ ریپبلکن ماضی سے کے تجربوں سے کچھ سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس ہی لئے مجھے حمید گل جیسے معلوم ہوتے ہیں

  171. Hakka Bakka says:

    Shirazi@

    I think I am more Socialist than Capitalist and certainly not Communist. I believe incentive driven Capitalist economy works and good intentions based communist economy doesn’t.

    ریڈ رز ڈائجسٹ جیسے گھٹیا جریدوں اور فاکس فائیو جسے چینلوں نے ان اصطلاحات کے سااتھ وہی کچھ کیا ہے جو پاکستان میں نواۓ وقت نے سیکولر ازم کی اصطلاح کے سااتھ کیا تھا – مجھے یقین ہے کہ یہ دائیں بازو کے لوگ جہاں بھی ہوں ، یونہی خرافات کا پرچار کرتے رہتے ہیں – یہ وہ گدھے ہیں جو اوبامہ یا کلنٹن کو یا ڈیموکریٹک پارٹی کو کمیونسٹ سمجھتے ہیں

    محترم کوئی بھی اقتصادی فلسفہ اپنی حیثیت میں مکمل نہیں ہوتا – وقت اور ضرورتوں کے حساب سے دوسروں سے کچھ نہ کچھ مستعار لیتا رہتا ہے – نہ ہی سابقہ سوویت یونین میں لوگوں کی دھوتیوں کو قومیا یا جا سکتا تھا نہ ہی موجودہ امریکہ کی آزاد معیشت میں سڑکوں ، فوج اور ائر پورٹوں کی نج کاری کر دینے کی کوئی گنجائش موجود ہے – فوج کی بھی نیلامی کیوں نہیں کردی جاتی ؟ پولیس کا ادارہ کیوں نہیں بیچ دیا جاتا ؟- محترم چاہے وہ امریکہ کی آزاد معیشت ہو یا کوئی اور معیشت ، مرکزیت اور موثر پبلک سیکٹر کے بغیر ریاست کا کوئی تصور نہیں ہوتا – آزاد صرف معیشت ہو سکتی ہے ، یہی اس نظام کی بنیاد ہے – یعنی صرف اور صرف معیشت کی آزادی ، اور اس آزادی کو پروموٹ کرتے رہنا اور اسکے لئے راہیں ہموار کرتے رہنا حکومت کی زمہ داری ہوتی ہے – چاہے حکومت ڈیموکریٹ کی ہو چاہے ریپبلکن کی ، دونوں ہی یہی کام کرتی ہیں

  172. Hakka Bakka says:

    Shirazi@
    Democrats embrace Republicans free market and private enterprise – the hall mark of Clinton’s success that you pointed out. Similarly if there are flaws in social programs they need to be addressed. That’s where I agree with Tories

    محترم شیرازی صاحب

    یہاں آپ اور بلیک شیپ صاحب دونوں ہی ایک شدید قسم کے مغالطے کا شکار نظر آتے ہیں – ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں ہی آزاد معیشت کو ہی فروغ دیتے رہے ہیں -میں نہیں سمجھتا کہ فری مارکیٹ اکانومی نہ ہی کوئی ریپبلکنوں کی ایجاد ہے یا اس پر عملدرآمد کو ریپبلکن کے طریقہ کار سے عبارت کیا جا سکتا یا انکے لئے مخصوص کہا جا سکتا ہے – امریکہ کا اقتصادی نظام ان دونوں ہی کے ادوار میں عمومی طور پر آزاد معیشت ہی رہتا ہے – تاہم ایک پبلک سیکٹر کسی نہ کسی شکل میں جوں کا توں دونوں ہی کے زمانے میں موجود ہے – ریاست کی اقتصادیات کا طریقہ آزاد معیشت ہے اور پبلک سیکٹر اسکا ڈھانچہ – اس نظام کو ریپبلکن کے سااتھ مخصوص کر دینا اور ڈیموکریٹ کو اس کے خلاف کوئی قوت سمجھنا میرے نزدیک درست نہیں ہے – لہازا کلنٹن کی پالسیوں کو ” ریپبلکن والی پالیسی “سمجھنا کہیں سے بھی درست درست نہیں

    اب اس ہی آزاد معیشت کی حدود و قیود میں رہتے ہوۓ عام لوگوں کے لئے براہ راست بھی بہت کیا جا سکتا ہے – ریپبلکن عوام پر براہ راست خرچے کو درست نہیں سمجھتے اور انہیں ٹرکل ڈاؤن والی جنت فردا کے خواب پر ٹرخا نے کی بات کرتے ہیں – مگر اس آزاد معیشت میں بھی عام لوگوں کے لئے جو گنجائش نکالی جاسکتی ہے ، وہ کلنٹن نے ریپبلکن کے شور شرابے کے باوجود بھی نکال کر دکھائی

    بل کلنٹن اور اس سے پہلے کی ڈیموکریٹ کے صدارتی امیدوار کنزیومر کو زیادہ مضبوط بنا کر اسے اقتصادی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہیں – اس ہی لئے انکے دور میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی کامیاب منصوبہ بندی ہوئی – ریپبلکن کے پاس ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی – ری پبلکن بجٹ کے خسارے کو خاطر میں ہی نہیں لاتے – یہ انفرادی اور سوشل سیکورٹی ٹیکسوں (بزنس میں منافع کی رقم کو ان ٹکسوں سے چھوٹ حاصل ہوتی ہے ، یہ صرف عام آدمی پر لاگو ٹکس ہیں ) کو بڑھانے کی بات کرتے کرنے کے علاوہ کسی قسم کا منصوبہ بھی سامنے نہیں لاتے ہیں

    بل کلنٹن اور اسکے بعد الگور ، اسکے بعد جان کیری ، تینوں نے ہی پبلک سکٹر میں انویسٹ کرکے یہاں سے نئی ملازمتیں اور پیداوار بڑھانے کی بات کی تھی – بل کلنٹن کے دور میں یہ منصوبہ کامیاب رہا تھا – بل کلنٹن کے زمانے میں سمال بزنس کی سرکاری سرپرستی میں مد د کی گئی – اسے بھی بہت سے اقتصادی ماہرین کافی کامیاب قرار دیتے رہے ہیں – اسکے علاوہ ہیلتھ انشورنس میں حکومت کی شمولیت ، میڈی کیڈ کی مد میں مریضوں کے سااتھ سااتھ ڈاکٹروں کی آمدنی میں اضافہ ہوا – ریپبلکن سب کچھ پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں کے قصابوں کی جیب میں ڈال دیتے ہیں اور ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں

    ری پبلکن کے پاس صدارتی امیدوار کی تقاریر میں ہر بار ہی اقتصادیات پر کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا – یہ محض اپنے مقابل کے منصوبوں پر ہی تنقید کرکے انہیں کمیونسٹ وغیرہ کہتے رہتے ہیں – وہ بھی کوئی متبادل منصوبہ پیش کیے بغیر ہی

    اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ کہ محترم بلیک شیپ صاحب کو ری پبلکن کی اقتصادی پالیسی پسند آتی ہے – وہ اقتصادی پالیسی جو ہر بار ہی واضح انداز میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی – انہیں مغرب کے شعبدہ باز دائیں بازو والوں سے کچھ اتنی زیادہ عقیدت ہے کہ انکی وہ اقتصادی پالیسی جو ہر بار کہیں فضاوں میں معلق رہتی ہے ، اسے فضاوں میں جا جا کر دیکھتے اور پسند کرتے رہتے ہیں

    تجھے کیا کہوں کہ کیا ہے – یہ عقیدت بری بلا ہے

  173. EasyGo says:

    جب تک ان بھیڑ بکریوں کے اندر ہی سے منظم سیاسی قوت نہیں پیدا ہوگی جو کہ انکے اپنے مفادات کی ترجمانی کرسکے
    =======
    محترم حکا بکا صاحب
    جیسا کہ ہپو کریٹ صاحب نے کہا آپنے نہایت موزوں تشبیہات سے وضاحت کی ہے
    شکریے کے ساتھہ ایک چھوٹا سا سوال ہے
    یہ منظم سیاسی قوت کیسے پیدا ہوگی، کیا وقت کے ساتھ خود بخود
    اورآپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے چیزیں بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہیں یا دوسری سمت میں کوئی سفر شروع ہوا ہے

    دوسرے ریپبلکنز، جنگوں اور معیشت میں بھی کوئی تعلق ہے

  174. EasyGo says:

    c) Do we have an effective and fair system to implement any law in our country? If yes, then why this bill will create confusion and if no, then what this bill is going to achieve?
    =========
    In any case, at least, it would provide sense of achievement to bill contenders.

  175. FJ_ Pak says:

    محترم ہکا بکا جی

    شائد الفاظ کی کمی اور کچھ حد تک تفصیل کی کمی کی وجہ سے میں اپنی بات کی وضاحت نا کر پایا اور پھر رات کے پچھلے پہر کی غنودگی بھی تھی

    میرا غلامانہ سوچ کی طرف اشارہ ایک قسم کی مرعوبیت کی طرف تھا جو کہ تیسری دنیا ( اوہ خدایا اس اصطلاح سے مجھے کتنی نفرت ہے ) کے دانش چھلکاتے دانشوروں میں پائی جاتی ہے

    آپ کا یہ فرمانا با لکل بجا ہے کہ صنعتی انقلاب ( میں صنعتی انقلاب کو سرمایہ داری سے ایک علیحدہ شے سمجھتا ہوں ) نے معروضی حالات اور اپنے معاشی تقاضوں کی بنا پر غلامی اور غلامانہ سوچ کو ختم کر دیا تھا ، لیکن میرے خیال میں یہ وقوعہ صرف یورپ میں ہوا اور تیسری دنیا اور خاص طور پر پاکستان میں وقوع پزیر ہی نہیں ہوا . خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا

    اگر آپ دیکھیں تو بات بالکل صاف ظاہر ہوتی ہے کہ تیسری دنیا کے دانشوروں اور خاص طور پر اقتصادی ماہرین کی وسعت پرواز کبھی بھی سکہ رائج الوقت سرمایہ داری اصطلاحات ، محاوروں ، بیان ،ایک مخصوص پیرائے میں کئی گئی تعریفوں ، وغیرہ سے اگے نہیں بڑھتی. میں اس بات کو غلامانہ سوچ اور افلاس سوچ کہتا ہوں

    ف ج

  176. Javed Ikram Sheikh says:

    آے خبر جو خیر کی اس گلستان سے
    ایسا کبھی یقین نہ کرنا تو میرے یار
    اس پر بہار میں بھی نہیں پھول کھلیں گے
    نفرت کی آندھیوں نے جہاں کر دی ھو یلغار

  177. بلیک شِیپ says:

    محترم ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔
    فرض کیجئے کہ میں ایک رضاکارانہ کام کرتا ہوں جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، ناداروں کی مدد کرنا وغیرہ وغیرہ، شامل ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ تمام کام یا تو میرے اپنے پیسوں سے یا کچھ لوگوں کے رضاکارانہ طور پر میرا مالی ساتھ دینے سے ممکن ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
    کیا یہ مناسب ہوگا کہ میں زبردستی اپنے کام میں آپ کو بھی پیسہ دینے پر مجبور کروں۔۔۔۔۔۔ اور آپ پر یہ لازم ہوجائے کہ آپ کو ہر صورت میرے فلاحی کاموں میں مالی شرکت کرنی ہی کرنی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو ایسا بندوبست پسند آئے گا۔۔۔۔۔۔

    دوسری بات یہ کہ مارگریٹ تھیچر اور کان کنوں کی یونین کے درمیان جو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ اس میں آپ کس جانب کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
    ایک بات آپ سے پوچھی تھی کہ کیا انسانی فطرت میں سے لالچ کے عنصر کو ختم کیا جاسکتا ہے ؟؟؟

  178. Shirazi says:

    In an election year The Shrine Diplomacy out of no where is not an ordinary move. I am not sure GHQ will ever back such initiatives. But on political stage beside DPC everyone wants to have better relations with India. Kargil was followed by Vajpayee’s Lahore summit. I will be surprised if GHQ and it’s cronies don’t pull some stunt to yet again derail trade talks.

  179. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    The big difference in Republicans and Democrats is in direction of Public Sector investments. Former wants in defense and later in social sector. I firmly stand by Democrats on this.

    Quota system for instance in India and Pakistan were started with good intentions – to develop even playing field for certain time period but with time it was misused and become counter productive. Now Quota system is one of the major culprit behind brain drain. But it’s impossible for political parties to re-evaluate such programs.

    It’s true for some state sponsored social initiatives in developed countries. Quite a few of them work great like public schools or social security but few end up like Quota system – counter productive. Instead of pulling people out of poverty they are throwing generations after generations in same poverty network. The ease and comfort that they offer kills the motive to work hard to climb up the ladder.

    In my opinion Tories attempt to draw down the subsidies does not necessarily reflects their anti-poor policies but could also be seen as an attempt to fix the broken system.

    Now please don’t ask me why their tool kit doesn’t attempt same fixes for defense pork spending? Republicans will only try to ‘fix’ social welfare programs and Democrats defense. As long as they are taking turns society will have some sort of balance.

    BTW you stopped at Bush senior, what about Regan? Didn’t his economic policies bore fruits?

  180. Shirazi says:

    بلیک شِیپ

    محترم ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔
    فرض کیجئے کہ میں ایک رضاکارانہ کام کرتا ہوں جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، ناداروں کی مدد کرنا وغیرہ وغیرہ، شامل ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ تمام کام یا تو میرے اپنے پیسوں سے یا کچھ لوگوں کے رضاکارانہ طور پر میرا مالی ساتھ دینے سے ممکن ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
    کیا یہ مناسب ہوگا کہ میں زبردستی اپنے کام میں آپ کو بھی پیسہ دینے پر مجبور کروں۔۔۔۔۔۔ اور آپ پر یہ لازم ہوجائے کہ آپ کو ہر صورت میرے فلاحی کاموں میں مالی شرکت کرنی ہی کرنی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو ایسا بندوبست پسند آئے گا۔۔۔۔۔۔
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    In other words you are asking can charity be enforced? Progressive taxation is enforcing charity and is now almost universally accepted.

  181. پاکستانی سیاستدان says:

    http://www.topstoryonline.com/klasra-column-foreign-policy-120408

    پیپلز پارٹی امریکہ مخالف بھٹو کا انجام بھول گئی؟

    تحریر: رؤف کلاسرا

    اس وقت پیپلز پارٹی حکومت پارلیمنٹ میں ایک نئی خارجہ پالیسی پر بحث کرا رہی ہے جس کا سارے کا سارا فوکس امریکہ کے ساتھ تعلقات پر ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں جو تقریریں اب تک ہوئی ہیں، ان سب میں ایک بات کی جارہی ہے کہ امریکہ کے سامنے ڈٹ جاؤ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ کے سامنے ڈٹ سکتا ہے اور اگر ڈٹ جائے تو اس کا کیا انجام نکل سکتا ہے۔

    ہمیں بتایا جارہا ہے کہ یہ بحث فوج کی مرضی سے پارلیمنٹ میں کرائی جارہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئے تعلقات پر انہیں گائیڈ کیا جائے۔ سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فوج خود براہ راست پاکستان پر حکومت کر رہی ہوتی ہے تو اس وقت اس طرح کی بحث پارلیمنٹ میں کیوں نہیں کرائی جاتی۔ جنرل ضیاء کے دور میں بھی وزیراعظم جونیجو کی ایک پارلیمنٹ موجود تھی لیکن امریکہ کے حوالے سے کوئی بحث نہیں کرائی گئی تھی اور جی ایچ کیو میں بیٹھے جنرل براہ راست امریکیوں سے ڈیل کرتے تھے۔ اگرچہ جونیجو نے افغان مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس بلوائی تھی جس پر جنرل ضیاء ان سے شدید ناراض ہوئے اور کچھ عرصے بعد انہیں برطرف کر کے گھر بھیج دیا گیا۔ اس طرح جنرل مشرف کے دور میں بھی پارلیمنٹ کا وجود تھا جب پہلے جمالی، پھر شجاعت اور آخر پر شوکت عزیز ملک کے وزیراعظم رہے۔ مجال ہے کہ جنرل مشرف کے فارن آفس نے کوئی اس طرح کا بریف پارلیمنٹ کو بھیجا ہو جس میں کہا گیا ہو کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات کیسے ہونے چاہیے۔ سب کچھ جرنل مشرف اور ان کے پندرہ جرنیل کر رہے تھے۔

    پاکستان میں ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ یہاں فارن اور سکیورٹی پالیسی اور کوئی نہیں پاکستان کا جی ایچ کیو بناتا اور چلاتا ہے اور سیاستدانوں کو صرف اس پالیسی کو پڑھنے کے لیے دے دیا جاتا ہے۔ نواز شریف آج تک کہتے ہیں کہ ان کے دور میں انہیں پتہ نہیں تھا کہ ان کا فارن منسٹر طالبان حکومت کو تسلیم کر چکا ہے کیونکہ اسے یہ کام کرنے کو جی ایچ کیو کی طرف سے کہا گیا تھا۔ نواز شریف کو بھی اس بات کا علم اپنے اس وزیرخارجہ کے بیان سے ہوا تھا۔ اس طرح جس وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ تعلقات فوج کی مرضی کے خلاف استوار کرنے کی کوشش کی اسے بھی نہیں بخشا گیا۔

    پہلے بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کو اسلام آباد بلایا تو اسے سیکورٹی رسک قرار دے دیا گیا اور اخرکار وہ قتل ہوئیں۔ نواز شریف نے واجپائی کو لاہور بلوایا تو انہیں چند ماہ بعد وزیراعظم ہاوس سے گرفتار کر لیا گیا اور دس سال کے لیے ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ ان دو مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں فارن پالیسی کون چلاتا ہے اور کون اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اس خطے میں کس ملک سے ہمارے کیا تعلقات ہونے چاہیں58 ۔

    اور تو اور سیاسی وزیراعظم کو یہ بھی حق کبھی نہیں دیا گیا کہ وہ کہوٹہ جا کر پاکستان کے ایٹم بم کے ساتھ کھڑے ہو کر کوئی فوٹو کھنچوا سکے۔ ماضی میں کئی فوجہ جرنیل اس بات پر فخر کرتے تھے کہ انہوں نے ایٹمی پروگرام پر کبھی کسی وزیراعظم کو کوئی بریفنگ نہیں دی کیونکہ انہیں شک تھا کہ وہ امریکہ کو بم کے بارے میں بتا دیں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ فوج کے نزدیک پاکستانی عوام کے نمانئدے اس ملک کے وفاردار نہیں تھے اور فوجی ہی اکیلے اس ملک کے مفادات کے محافظ تھے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ فوجی ادوار میں ہی امریکیوں کا پاکستان میں اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا اور ان کو ہر قسمی مالی اور فوجی امداد ملتی رہی۔

    تاہم جونہی کوئی سیاسی حکومت پاکستان میں آتی تھی تو یہی امریکن پاکستان پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر پابندیاں لگا کر امداد بند کردیتے اور کوئی بھی حکومت دو سال سے زیادہ نہ چل پاتی۔ بے نظیر بھٹو ہمیشہ اس با ت کا گلہ کرتی پائی جاتی تھیں اور نواز شریف نے بھی اپنی تقریروں میں اس تلخ حقیت کا اظہار کیا کہ امریکی فوجی جرنیلوں سے زیادہ محبت پیار جتاتے ہیں جب کہ سیاستدانوں کو اس طرح لفٹ نہیں کرائی جاتی کیونکہ سیاسی لوگ اتنی آسانی سے امریکن مفادات کے لیے کام کرنے پر تیار نہیں ہوتے جتنی جلدی پاکستانی آمر ماضی میں ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے فوجی جرنیلوں کا رخ اور جھکاؤ ہمیشہ امریکہ کی طرف رہا ہے ۔

    اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی حکومت کوئی امریکہ کے خلاف ایک ایسی فارن پالیسی لا سکتی ہے جس پر یہ عمل درآمد کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہو۔ کیا پیپلز پارٹی کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ صرف پاکستانی فارن آفس ہی امریکہ کا غلام نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے تمام بڑے ملکوں کے فارن آفس اکثر امریکہ کی سنتے ہیں اگرچہ دو چار ایسی مثالیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جب امریکہ کی نہ سنی گئی۔ برطانیہ، فرانس، روس اور اب تو بھارت اور چین تک وہی کرتے ہیں، جو امریکی چاہتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ اپنے مفادات پورے کرتے ہیں۔

    عالمی سطح پر چین بھی امریکہ کا ساتھ دیتا ہے کیونکہ اس کی اربوں ڈالرز کی تجارت کا مسئلہ ہے۔ برطانیہ جیسا ملک بھی امریکہ کی لائن لیتا ہے اور بدلے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ بھارت ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدے سے امریکہ کے دباؤ پر نکل گیا۔ دنیا بھر میں کہیں بھی فارن پالیسی کو غیرت یا بے غیرتی کا معاملہ نہیں بنایا جاتا بلکہ صرف اور صرف قومی مفادات کے نام پر ساری پالیساں بنائی جاتی ہیں جذباتی نعروں سے گریز کیا جاتا ہے۔ اب آتے ہیں پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی نئی امریکی پالیسی کی طرف ۔

    اب تک جو بھی تقریریں میں نے سنی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کے اکثر اپوزیشن ارکان امریکہ سے دوستی کی بجائے اس سے دوری کی پالیسی کے خواہا ں لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ سے دور رہ سکتا ہے۔ امریکہ سے اربوں ڈالرز کی امداد بھی لینی ہے، بھارت سے لڑنے کے لیے اسلحہ بھی چاہیے اور افغانستان پر قبضہ بھی ہم کرنا چاہتے ہیں اور اوپر سے ہم امریکہ سے بھی برابری کے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہر دفعہ بھارت سے جنگ سے بچنے کے لیے ہم نے امریکن سے درخواست کی اور آج تک امریکہ سے ناراض ہیں کہ اس نے چھٹا بحری بیڑہ انیس سو اکہتر کی جنگ میں بھارت کے خلاف لڑنے کے لیے کیوں نہیں بھیجا تھا۔

    جو لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ ہمیں امریکہ کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے کیا وہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی تاریخ کے پہلے اور آخری لیڈر بھٹو تھے جنہوں نے واضح طور پر امریکی دشمنی پر اپنی فارن پالیسی تشکیل دی اور امریکہ کے خلاف کھلم کھلا تقریریں کرتے تھے۔ بھٹو کا انجام کیا ہوا ؟ جن مذہبی اور فوجی حلقوں کو خوش کرنے کے لیے وہ امریکہ کے خلاف باتیں کر رہے تھے، وہی لوگ امریکہ کے ساتھ مل گئے اور اس بھٹو کے خلاف انہی مذہبی جماعتوں نے تحریک کی بیناد رکھی جنہیں خوش کرنے کے لیے بھٹو نے احمدیوں کو کافر قرار دیا، جمعہ کی چھٹی، شراب پر پابندی، جوئے ریس پر پابندی وغیرہ جیسے کام کیے۔

    کیا نتیجہ نکلا؟

    انہی مذہبی جماعتوں نے فوج کے ساتھ مل کر بھٹو کا تختہ الٹا اور اسے پھانسی لگوا کر جنرل ضیاء کی کابینہ میں وزیر بن بیٹھے اور پھر دونوں نے مل کر امریکہ کی افغانستان میں ایک طویل جنگ لڑی جس کے اثرات آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ تو کیا اس طرح کا جال پھر پیپلز پارٹی کے لیے بچھایا گیا ہے کہ اسے بانس پر چڑھا کر امریکہ کے خلاف ایک فارن پالیسی بنانے پر مجبور کیا جائے جیسے بھٹو نے بنائی تھی اور پھر یہ جماعتیں اور ان کے ہمدرد مل کر موجودہ حکمرانوں کو وہی حال کریں جو انہوں نے بھٹو کا کیا تھا۔ بہتر ہوگا کہ پیپلز پارٹی بھٹو کی پھانسی سے اس طرح کے کچھ اور سبق سیکھے جیسے کہ یہ سبق سیکھ چکی ہے کہ اب اسٹیلبمشمنٹ کے خلاف سیاست نہیں کرنی اور وہی کچھ کرنا ہے جو اسے پاکستانی جی ایچ کیو کہے گا۔

    جہاں زرداری اور گیلانی نے انتا کچھ سیکھ لیا ہے وہاں امریکہ کے خلاف سٹینڈ لینے پر پھانسی لگنے والے بھٹو کے انجام سے یہ بھی سیکھ لیں کہ دنیا میں آزاد فارن پالیسی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، سب مفادات ہوتے ہیں، کچھ قومیں اپنا مفاد مہنگا بیچتی ہیں اور کچھ ہماری طرح بہت سستا، لیکن یہ بات طے ہے کہ بکتے سب ہیں اور جو بکنے سے انکار کرتے ہیں وہ اپنوں کے ہاتھوں ہی پھانسی لگتے ہیں !!

    بشکریہ اخبارجہاں، کراچی

  182. ریڈ رز ڈائجسٹ جیسے گھٹیا جریدوں اور فاکس فائیو جسے چینلوں نے ان اصطلاحات کے سااتھ وہی کچھ کیا ہے جو پاکستان میں نواۓ وقت نے سیکولر ازم کی اصطلاح کے سااتھ کیا تھا – مجھے یقین ہے کہ یہ دائیں بازو کے لوگ جہاں بھی ہوں ، یونہی خرافات کا پرچار کرتے رہتے ہیں – یہ وہ گدھے ہیں جو اوبامہ یا کلنٹن کو یا ڈیموکریٹک پارٹی کو کمیونسٹ سمجھتے ہیں

    Absolutely correct.

  183. پاکستانی سیاستدان says:

    http://www.topstoryonline.com/anti-pakistan-sentiments-on-rise-in-bangladesh

    بنگالیوں کی شکست اور ہمارے بھنگڑے؟ رؤف کلاسرا کا کالم

    رؤف کلاسرا

    ایشیا کپ میں پاکستان میں بنگلہ دیش کی شکت پر منائے گئے بھرپور جشن نے مجھے آج سے تین سال قبل ڈھاکہ کی ایک شام یاد دلا دی جب میں وہاں خالدہ ضیاء کی پارٹی کے ایک سرکردہ ممبر پارلیمنٹ صلاح الدین چوہدری کے گھر ڈنر پر مدعو تھا وہ مجھے بتا رہے تھے کہ کیسے پاکستان کے خلاف وہاں حالات بہت بدل رہے ہیں کیونکہ بنگالی ابھی تک آزادی کی جنگ سے باہر نہیں نکل سکے۔ رہی سہی کسر حسینہ واجد کے انتخاب جیتنے کے بعد پوری ہو گئی ہے اور وہ بیٹھے یہ پیشن گوئی کر رہے تھے کہ اب ان جیسے پاکستان کے لیے ہمدردری رکھنے والے بنگالی سیاستدانوں کے لیے برے دن آنیوالے ہیں۔ میں دو ہزار نو میں وہاں بنگلہ دیش کے ہونے والے نئے انتخابات کی کوریج کے لیے جنگ گروپ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حسینہ واجد کی پارٹی الیکشن جیت چکی تھی۔ پاکستان کو امید تھی کہ شاید خالدہ ضیاء جیت گئی تو پاکستان کے خلاف عوامی تحریک کے لیڈروں کی تقریروں کا توڑ کیا جا سکے گا۔ فوجی اور عدالتی قیادت کو توقع تھی کہ دونوں بیگمات نہیں جیت سکیں گی ۔

    کچھ دنوں بعد میں نے ششد ر کر دینے والی خبر پڑھی کہ صلاح الدین چوہدری کو ہی جنگی جرائم اور پاکستان سے ہمدردی رکھنے کے الزام میں گرفتار کر کے ان پر بدترین تشدد کیا جار ہا ہے۔ اس لیے جب میں نے پاکستان کی سڑکوں پر یہ جنوں دیکھا تو میں خود حیران رہ گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ کیا ہمیں کچھ اندازہ ہے کہ یہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد جو پاکستان کے خلاف وہاں لوگوں کے جذبات اپنے عروج پر ہیں، کیا ہم ان باتوں سے بے پرواہ ہو چکے ہیں یا ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بنگالی ہمارے بارے میں اب کیا اچھی اور بری رائے رکھتے ہیں۔ جہاں ستیاناس وہاں سوا ستیاناس۔

    وہاں کے ججوں اور فوجیوں کے تعاون سے چلنے والی حکومت کا خیال تھا کہ انہوں نے دو سال تک بنگلہ دیش کو کرپشن سے پاک کرنے کے نام پر جو ٹیکنو کریٹس کی حکومت چلوائی تھی وہ کامیاب تجربہ تھا۔ اس سے انہیں امید ہو چلی تھی کہ شاید بنگالی اب دوبارہ ان بیگمات کو ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ تاہم جب رات گئے ریزلٹ آنا شروع ہوئے تو بازی پلٹ گئی تھی۔ حسینہ واجد کی جیت سے سب سے زیادہ وہ حلقے پریشان تھے جو پاکستان کے لیے سوفٹ کارنر رکھتے ہیں۔ اگلے دن میں خالدہ ضیاء کے ایک قریبی بنگالی لیڈر صلاح الدین چوہدری کے گھر بیٹھا تھا جو خود بھی چٹاکانگ سے منتخب ہو چکے تھے۔

    ان کے گھر اس وقت نگران حکومت کی پاکستان میں ہائی کمشنر خاتون بھی موجود تھیں۔ صلاح الدین چوہدری مغربی مشرقی پاکستان اسمبلی کے پہلے سپیکر قادر چوہدری کے فرزند ہیں اور وہ بہاولپو ر کے صادق پبلک سکول میں سینٹ کے سابق چیرمین محمد میاں سومرو اور اسحاق خاکوانی کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں اور پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ میری ان سے ملاقات پاکستان میں اسحاق خاکوانی نے ہی کرائی تھی اور یہ آئیڈیا صلاح الدین چوہدری کا تھا کہ میں بنگلا دیش کے آنے والے انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ آؤں۔ یوں میں نے جنگ اور دی نیوز کے مالک میر شکیل الرحمن سے بات کی تو وہ اس آئیڈیے پر اچھل پڑے اور بولے کہ ضرور جاؤ اور انہوں نے سارے انتظامات بھی کرا دیے۔

    صلاح الدین چوہدری کے گھر پر بات ادھر ادھر سے ہوتی ہوئی حسینہ واجد پر آ گئی۔ جب اس میز پر موجود خاتون ہائی کمشنر کو علم ہوا کہ میں اسلام آباد سے آیا ہوا پاکستانی صحافی ہوں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہنا شروع کیا کہ لگتا ہے کہ اسلام آباد کو ابھی بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہاں حالات کا رخ کس طرف جا رہا ہے۔ وہ اشاروں میں بات کر رہی تھیں لیکن صلاح الدین چوہدری نے کھل کر کہا کہ رؤف اسلام آباد والوں کو سمجھاؤ کہ بنگلہ دیش میں دنیا بدل رہی ہے۔ حیسنہ واجد کے جیتنے کا مطلب ہے کہ اب بنگال میں ہر اس بنگالی کو لٹکا دیا جائے گا جو پاکستان سے دوستی کی بات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حیسنہ واجد جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو لٹکانے کا مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئی ہیں اور یہ کسی کو نہیں بخشے گی۔

    خود صلاح الدین چوہدری کو بھی خیر نہیں تھی، جنہیں بنگلہ دیش میں پاکستان کا دوست سمجھا جاتا ہے اور بھارتی لابی ان سے شدید نفرت کرتی ہے۔ صلاح الدین اس بات کے خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں بھی جنگی جرائم کے نام پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ صلاح الدین نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ ابھی تک حالات کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہے اور اب ایک ایسے شخص کو بنگلہ دیش کا ہائی کمشنر بنا کر بھیجا جا رہا ہے جس کے باپ خواجہ خیرالدین پر بنگالی حکومت جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کا سوچ رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ متوقع ہائی کمشنر خواجہ القمہ ( موجودہ وائس چانسلر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان) بہت اچھے انسان ہوں گے لیکن ان کی تقرری بنگالیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو گئی۔ انہیں یہاں حسینہ واجد کی پارٹی غدار سمجھتی ہے۔

    صلاح الدین چوہدری کا خیال تھا کہ ان حالات میں جب جنگی جرائم پر پاکستان کے حامیوں کو پھانسیوں پر لٹکانے کا منصوبہ آخری مراحل میں تھا، اس وقت خواجہ القمہ کو ہائی کمشنر بنا کو بھیجنا خود ان کے لیے بھی پشیمانی کا سبب ہوگا۔ بنگالی خاتون ہائی کمشنر نے بھی ان کی ہاں میں ہائی ملائی اور کہا کہ پاکستان حکومت دو دفعہ ان کا نام ڈھاکہ منظوری کے لیے بھیج چکی ہے اور نگران حکومت نے یہ کہہ کر منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے کہ اس کا فیصلہ انتخاب کے بعد نئی حکومت کرے گی۔ ان کا بھی یہ خیال تھا کہ اب حسینہ واجد کبھی بھی خواجہ القمہ کو ہائی کمشنر لگانے کی منظوری نہیں دے گی لہذا بہتر ہوگا کہ پاکستان اس نامزدگی کو واپس لے لے۔

    میں نے اس بریکنگ نیوز کو دی نیوز اور جنگ کے لیے فائل کیا تو مجھ سے خواجہ القمہ آج تک ناراض ہیں کہ میری خبر سے وہ ڈھاکہ میں ہائی کمشنر نہ لگ سکے۔ وہ آج تک سمجھتے ہیں کہ اگر میں وہ خبر فائل نہ کرتا تو وہ اگلی فلائٹ پکڑ کر ڈھاکہ جانے والے تھے۔ میں ان کی اس خوش فہمی پر ہنس پڑتا ہوں ۔ وہ بار بار ایک بات دہراتے تھے کہ ان کے باپ کو تو شیخ مجیب نے خود بنگلہ دیش بلوایا تھا اور ان کا ائرپورٹ پر استقبال بھی کیا تھا۔ خواجہ صاحب بھول گئے تھے کہ اب شیخ مجیب نہیں بلکہ ان کی انتقام سے بھرپور بیٹی کی حکومت تھی جو اس نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو سزا دلوائے گی اور اس نے خواجہ القمہ کے والد خواجہ خیرالدین کا نام بھی اس فہرست میں شامل کر رکھا ہے جن کو وہ جنگی جرائم کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔

    وہی کچھ ہوا ۔ چند روز بعد حیسنہ واجد نے خواجہ القمہ کی نامزدگی مستر د کر دی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے حامیوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمات بنانے کا کام شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے صلاح الدین چوہدری کو جنگی جرائم پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے آزادی کی جنگ میں پاکستان فوج کی حمایت کی تھی حالانکہ ان دنوں وہ پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور وہاں سے لندن چلے گئے۔ گرفتار کر کے صلاح الدین پر بدترین تشدد کیا گیا۔ ان کے ناخن اکھاڑے گئے اور یہ سب کچھ حیسنہ واجد کے کہنے پر ہوا کیونکہ انہیں علم تھا کہ چوہدری کو پاکستان میں بہت عزت دی جاتی ہے۔ ایک سال سے اوپر گزر گیا ہے اور صلاح الدین چوہدری ابھی تک جیل میں ہیں اور ان پر پاکستان نواز ہونے کے جرم میں تشدد جاری ہے۔ مجال ہے کہ اس کے لیے اسحاق خاکوانی اور محمد میاں سومرو کے علاوہ پاکستان میں کسی نے آواز اٹھائی ہو۔

    اب ان حالات میں جب حسینہ واجد ہر اس شخص کو تشدد کرنے پر تلی ہوئی ہے جس کا پاکستان بارے سافٹ کارنر ہو، وہاں اس طرح بنگالیوں کی شکست پر جشن منانے کو کیسے سمجھداری قرار دیا جا سکتا ہے؟ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ بنگالیوں کے ساتھ ہماری اپنی ایک تاریخ ہے۔ پاکستان بنانے کا سہرا ان بنگالیوں کے سر جاتا ہے جن کی شکست پر عوام اور میڈیا نے مل کر جشن منایا ۔ ایک طرف بنگالیوں کے آنسو دکھائے جارہے تھے تو دوسری طرف ڈھال ڈھمکے اور ڈانس کے مناطر۔ میڈیا نے بھی ایک لحمے کے لیے نہیں سوچا کہ بھار ت سے فتح کی حد تک اس طرح کے جشن سمجھ میں آتے ہیں لیکن اس وقت بنگالیوں کو یہ مناظر دکھانے کی ضرورت نہ تھی جب وہ رو رہے تھے اور ہم انہیں یہ پیغام بھیج رہے تھے کہ کیسے ہم مغربی پاکستان والے ان کی شکست پر خوش ہیں۔

    بنگالی انیس سو اکہتر کی جنگ میں پھنس کر رہے گئے ہیں اور وہ اس سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں، تو ہم بھی اس طرح کے جشن منا کر ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں اور ان کی کوئی مدد نہیں کر رہے تاکہ وہ اس زخم کو بھول کر موجودہ پاکستان کی طرف دیکھیں جہاں لاکھوں پاکستانی آج بھی بنگالیوں پر ہونے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور کئی دفعہ معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا جشن منا کر بنگلہ دیش میں اگر ابھی بھی کچھ حلقے پاکستان کے لیے کچھ جذبات رکھتے ہیں، وہ غور کریں گے کہ وہ اب کیا کریں۔ صلاح الدین چوہدری جیسے پاکستان دوست کے انجام اور اس پر پاکستانیوں اور حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی کے بعد اگر کچھ باقی بچ گیا ہے تو وہ اب پاکستانیوں کی بنگالیوں کی شکست پر جشن سے کسر پوری ہو گئی ہے۔

    ہو سکتا ہے ہم نے ایشیا کپ جیت لیا ہو، لیکن ہم نے بنگالیوں کو اس طرح کا جشن منا کر اپنے آپ سے مزید دور کر دیا ہے اور حسینہ واجد کو بھی سچا ثابت کیا ہے کہ پاکستانیوں سے نفرت میں ہی بنگالیوں کی بقاء ہے۔ فتح کے اس جشن نے شیخ مجیب کی انتقام سے بھری بیٹی کو بھی سنہرا موقع دیا ہے کہ صلاح الدین چوہدری جیسے پاکستان نواز بنگالی سیاستدانوں کو جیل میں ڈال کر ان کے ناخن اکھاڑنے کا کام جاری رکھیں اور ہم ڈھول کی تاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہیں !!

    بشکریہ اخبار جہاں، کراچی

  184. hypocrite says:

    کیسے ہیں جناب ، معذرت کہ بر وقت آپکے سوال کا جواب نہیں دے سکا
    ___________

    محترم فارغ جذباتی صاحب
    سلام
    آپکومعذرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی
    میں نے ایک ذاتی سا سوال پوچھا تھا اور آپ نے وقت پر جواب دیا
    اور جواب اچھا لگا مجھ کو
    مجھے لگتا ہے کے جہاں انسان بہت سادہ ہے وہاں انتہائی گھمبیر بھی
    اسی لیے انسانی فطرت اور عادتوں کا مشاہدہ کرنے سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں
    دوستوں کی اس محفل میں مختلف راے رکھنے والے دوستوں سے مجھ کو بھی بہت سیکھنے کو ملا ہے
    میری انگنت خامیوں میں ایک خامی یہ بھی ہے کے میں دوسرے کو اور دوسرے کی بات کو سمھجنے کے بجاے اپنی بات سمجھانے پر مضر
    ہوتا ہوں .
    اس محفل میں آکر مجھ کو اندازہ ہوا کے میری یہ کتنی بری اور بڑی خامی ہے
    کوشش کر رہا ہوں کے یہ خامی دور ہو جاے

  185. بلیک شِیپ says:

    ہمارے سوشلسٹ اور کمیونسٹ دوستوں کی توجہ کیلئے۔۔۔۔۔۔

    Milton Friedman discusses the moral values encouraged by economic systems and explains that a primary difference between capitalism and socialism is the difference between free choice and compulsory force.

    http://www.youtube.com/watch?v=DYeYPcougmA&feature=relmfu

    اس ویڈیو میں پانچ منٹ کے بعد ملٹن فریڈمین غالباً خلافتی حضرات کا ذکرِ خیر فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  186. saleem raza says:

    @ پاکستانی سیاستدان
    مھجے چمیہ صاحب کی بات پر ایمان کی حد تک یقین ہونے لگا ہے ،
    کہ لفافے کا چکر ضرور ہے ،

  187. پاکستانی سیاستدان says:

    saleem raza said:
    @ پاکستانی سیاستدان
    مھجے چمیہ صاحب کی بات پر ایمان کی حد تک یقین ہونے لگا ہے ،
    کہ لفافے کا چکر ضرور ہے ،

    ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔بھائی جی میں نے اب ایسی کون سی بات کردی ہے جو آپ کا ایمان چیمہ صاحب کے شگوفے پر مضبوط ہوچکا ہے؟

  188. زالان says:

    شیخ رشیدنےکہا ہےکہ اگرنیٹوکی سپلائی کھلی تو ردعمل خودکش حملےپھرشروع ہو جائے – پہلے تو یہ کہتے تھےکہ یہ بلیک واٹرہے

  189. saleem raza says:

    سب دوستوں کو سلام
    ہپوکریٹ بھائی جی مھجے تو اپکی یہ عادت سب سے اچھی لگتی ہے ، کہ لوگ صرف میری
    بات سے اتفاق کریں ، آخر محفل کا رنگ بھی تو چڑ ھنا ہوتا ہے ،
    :)

  190. بلیک شِیپ says:

    دنیا میں آزاد فارن پالیسی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، سب مفادات ہوتے ہیں، کچھ قومیں اپنا مفاد مہنگا بیچتی ہیں اور کچھ ہماری طرح بہت سستا، لیکن یہ بات طے ہے کہ بکتے سب ہیں اور جو بکنے سے انکار کرتے ہیں وہ اپنوں کے ہاتھوں ہی پھانسی لگتے ہیں !!

    ہماری غیرت بریگیڈ کو یہ بات کبھی سمجھ ہی نہیں آتی۔۔۔۔۔۔
    😉 :-( 😉

  191. hypocrite says:

    وئی سیاسی و اقتصادی فلسفہ اس وقت ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب تک وہ ان طبقات کے درمیان موجود ازلی اور قدرتی تضاد کو دبا کر ان طبقات کے درمیان موجود معاشی ضروریات کی یکسانیت کو پروموٹ کرتا رہتا ہے

    _________

    حترم حکا بکا صاحب
    آپ کا بہت شکریہ کے آپ نے بہت آسان زبان میں مگر مفصل انداز میں میرے عجیب سوالوں کا جواب دیا.
    آپ کے جواب کی آخری سطر سے سوال اٹھتا ہے کے
    کیا وجہ ہے کے صدیوین کے سفر کے باوجود انسان ابھی تک کوئی ایسا سیاسی اور اقتصادی فلسفہ نہ دریفات کر پایا ہے نہ اپنا سکا ہے جو معاشرے کے تمام طبقات میں ہم آہنگی لا سکے
    مذہبی، سماجی ، غیر مذہبی، بادشاہت ، جمہوریت وغیر وغیرہ پر مبنی سب نظام اپنا لیے مگر کسی نظام کو دیرپا فوقیت حاصل نہ ہو سکی
    کیا اسکی وجہ یہ ہے کے
    انسان ابھی بھی اپنے سفر کے شروع کی آسان منزلوں تک ہی نہیں پہنچ سکا ہے تو کوئی ایسا نظام جو سب کے لیے قابل قبول ہو کیسے حاصل کر سکتا ہے
    یا پھر یہ کے جب تک انسان میں مختلف طبقات ہونگے اور انکے مفادات الگ ہونگے تو کبھی بھی ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکے گی اور یہ طبقات توان پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ قایم راہیں گے
    یا پھر یہ کے آجکا ایک ( بھیڑ بکری ) کل کا دوسرا طبقہ ( بھیڑیا ) بن جاتا ہے اور اسی طرح ان طبقوں کی اتھل پتھل کی وجہ سے آپس میں جاری جدوجہد بدستور جاری رہتی ہے
    یا پھر یہ کے انسان کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتا اور وقت کے ساتھ ساتھ ہر نظام سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے
    آپ نے `قدرتی تضاد ` کا ذکر کیا ہے
    تو مجھے لگتا ہے کے یہ قدرتی تضاد ہمیشہ رہے گا اور ازل سے ابد تک انسان طبقات میں اور اپنے اپنے مفادات کی حفاظت میں بٹا رہے گا
    ممکن ہے کے وقت کے ساتھ اسکی شدت میں کمی بیشی رونما ہو
    مگر تضاد ہمیشہ رہے گا

  192. saleem raza says:

    پاکستانی سیاستدان said:
    saleem raza said:
    @ پاکستانی سیاستدان
    مھجے چمیہ صاحب کی بات پر ایمان کی حد تک یقین ہونے لگا ہے ،
    کہ لفافے کا چکر ضرور ہے ،

    ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔بھائی جی میں نے اب ایسی کون سی بات کردی ہے جو آپ کا ایمان چیمہ صاحب کے شگوفے پر مضبوط ہوچکا ہے؟
    ——-

    چمیہ جی کے شگوفے پہ کیسے یقین کر لیا ،

    کہتے ہیں ! پیر کامعل کہ یقین کامعل !
    :)

  193. hypocrite says:

    ب دوستوں کو سلام
    ہپوکریٹ بھائی جی مھجے تو اپکی یہ عادت سب سے اچھی لگتی ہے ، کہ لوگ صرف میری
    بات سے اتفاق کریں ، آخر محفل کا رنگ بھی تو چڑ ھنا ہوتا ہ

    _________________

    سلیم رضا صاحب
    سلام

    کسی نے کیا خوب کہا ہے

    یہ محفل جو آج سجی ہے اس محفل میں ہو کوئی ہم سا
    ہم سا ہو تو سامنے آے

    پارو بھی یہی کہتی ہے
    اور ہمارے سیاستدان بھی یہ کہتے ہیں
    اور میں منافق بھی یہی کہتا ہوں

  194. پاکستانی سیاستدان says:

    ایڈمن جی یہ کالی بھیڑ کے اوپر دیئے گئے کمنٹ پر میرا جوابی کمنٹ کیوں آپ ڈکار مار کر ہضم کر گئے ہیں؟ اگر بھوک لگی ہے تو کالی بھیڑ کو ذبح کر کے کھا لیں۔

  195. hypocrite says:

    جیسا کہ میں نے بلیک شیپ صاحب کو لکھا ہے کہ کوئی بھی اقتصادی فلسفہ اچھا یا برا نہیں ہوتا

    __________

    محترم حکا بکا صاحب

    درست مگر ساتھ ساتھ یہ نظام کسی کے لیے اچھے اور کسی کے لیے برے ہوتے ہیں
    اور یہ اچھائی برائی اس بات پر منحصر ہوتی کے کس طبقے کے مفادات پروان چڑھتے ہیں

    ویسے مجھے عزیز بلیک شیپ صاحب کی بات یاد آ رہی ہے
    جو اکثر کہتے ہیں کے
    کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی
    اچھائی یا برائی کا تعیین کوئی ایک شخص یا ایک معاشرہ یا ایک دور نہیں کر سکتا

  196. پاکستانی سیاستدان says:

    @saleem raza

    بھائی جی مجھے لگتا ہے کہ آپ کے پیر صاحب کا جی ایچ کیو سے لنک ہے۔

  197. hypocrite says:

    میں نہیں سمجھتا کہ سرمایہ داری نظام نے غلامانہ سوچ کو جنم دیا ہے – بلکہ غلامی کی زنجیروں سے آزادی در اصل ایک صنعتی انقلاب کے ذریعہ سے ہوئی تھی

    ______________

    محترم
    مجھے لگتا ہے کے آزادی اور غلامی بھی وقتی اور علامتی ہوتی ہیں
    ایک غلامی سے آزادی ملتی ہے تو دوسری غلامی بیڑی بن جاتی ہے
    کبھی شخصی غلامی اجتمائی غلامی بن جاتی ہے اور کبھی اجتمائی سی انسان شخصی غلامی کے جانب واپس آ جاتا ہے
    ہمارے ملک میں اب بھی کافی انسان غلام ہیں
    اور اسی طرح کافی اور معاشروں میں غلامی نظر اتی ہے
    اور یہ اکیسویں صدی ہے
    ترقی زوروں پر ہے

  198. saleem raza says:

    پاکستانی سیاستدان said:
    @saleem raza

    بھائی جی مجھے لگتا ہے کہ آپ کے پیر صاحب کا جی ایچ کیو سے لنک ہے۔
    ———–
    جی مھجے اس بات کی پرواہ نہیں کہ پیر صاحب کا لنک جی ایچ کیو سے ہے ،
    یا وہ سردار ہیں !
    ویسے مھجے لگتا ہے اپ بھی روف کلاسرا کے پکے مرید ہیں ‘

  199. پاکستانی سیاستدان says:

    @saleem raza

    بھائی جی پہلے آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ لفافے کا چکر ہے یا پیری پریدی کا۔۔۔۔۔۔۔۔فیصلہ کرنے کے لئے اپنے جی ایچ کیو والے پیر صاحب سے مدد ضرور لیجیئے گا ورنہ مزید الجھہ جائیں گے۔۔۔۔۔

  200. saleem raza says:

    ہپو کرہٹ بھائی جی — یہ بھیڑ بکری سے — بھیڑیا — کیسے بن گئی ،
    یہ اپ اپنا خیال ظاہر کر رہے ہیں یا انکھوں دیکھا حال !

  201. hypocrite says:

    ام پاکستان کی جو تحریک جس کا آپ ذکر کر رہے تھے وہ محض نعرے ہی نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل نظریہ، جدو جہد اور خلوص نیت شامل تھی اور اگر یہ سب نہ ہوتا تو میرا خیال ہے کہ پاکستان شاید دنیا کے نقشے پہ نہ ابھرتا، برصغیر کے جو معروضی حالات تھے اس کے پیش نظر یہ سب نعرے لگے اور نظریہ پایہ تکمیل تک پہنچا اور آپ بھی یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے۔

    ________

    محترم یو کے پاکستانی اول صاحب
    بہت شکریہ
    چند سوال
    ١) اگر سب کچھ درست تھا تو نتیجہ ابتر کیوں نکل رہا ہے . کیا وجہ یہ ہے کے سب کچھ جذباتی تھا
    ٢) کیا ایسا ممکن ہیں کے کسی ایک شخص کے لیے ایک نعرہ درست ہو اور دوسرے کے لیے غلط

    مجھے لگتا ہے جہاں مفاد پرست انسانی جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں وہاں وہ جذبات بھڑکا کر اپنے مفاد کا حصول چاہتے ہیں
    مگر ساتھ ساتھ کچھ جگہوں پر خلوص نیت بھی نظر اتی ہے
    بہت ممکن ہے کے پاکستان کے قیام میں خلوص نیت کار فرما تھی
    اور شاید نعرے خلوص دل سے ہی لگے جاتے ہیں مگر یہ خلوص نیت ، حقیقت کو سمھجے بغیر جذبات کا لبادہ زیب تن کر لیتی ہے
    اور جب حقیقت نمایاں ہوتی ہے تو لگتا ہے
    کے نعرے کھوکھلے تھے اور بہکاوا تھے

  202. Hakka Bakka says:

    hypocrite said
    ویسے مجھے عزیز بلیک شیپ صاحب کی بات یاد آ رہی ہے
    جو اکثر کہتے ہیں کے
    کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی
    اچھائی یا برائی کا تعیین کوئی ایک شخص یا ایک معاشرہ یا ایک دور نہیں کر سکتا

    ==================================

    محترم ہائپوکریٹ صاحب

    کسی چیز کہ اچھے یا برا نہ ہونے کہ تصور کو بلیک شیپ صاحب نے ایک آفاقی تصور کے طور پر پیش کیا ہے – میں نے یہ تصور کو محض اقتصادی فلسفے کے حوالے سے ہی لکھا ہے – میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ اچھی رہتی ہیں – مثال کے طور کچھ حضرات یہاں ” پارو ” کا ذکر فرما رہے تھے

  203. hypocrite says:

    ایک بات آپ سے پوچھی تھی کہ کیا انسانی فطرت میں سے لالچ کے عنصر کو ختم کیا جاسکتا ہے

    ___________

    عزیز بلیک شیپ صاحب
    لالچ کیا بلا ہے آپ کے نزدیک
    کیا انسان کی کامیابی کے لیے جدوجہد لالچ ہے
    کیا انسان کی اور سے اور کا حصول لالچ ہے
    اور کیا لالچ بری چیز ہے یا اچھی
    یا اپنے اپنے نکتہ نظر پر منحصر ہے

  204. hypocrite says:

    کیا یہ مناسب ہوگا کہ میں زبردستی اپنے کام میں آپ کو بھی پیسہ دینے پر مجبور کروں۔

    ____

    عزیز بلیک شیپ صاحب
    اور آپ دوسروں کو کیسے مجبور کر سکتے ہیں
    طاقت سے
    دھونس دھمکی سے
    التجا سے
    اکثریت سے
    محبت سے
    لالچ سے
    جنت کے خواب سے
    دوزخ کے خوف سے
    اپنی چرب زبانی سے
    اپنے خلوص نیت سے
    اپنے عمل سے
    یا پھر کسی اور طرح سے

  205. hypocrite says:

    اور جہاں تک مناسب ہونے کا تعلق ہے
    یہ ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ پر منحصر ہے
    ہن اگر انسان کی رضا شامل نہ ہو
    تو میرا خیال ہے کے نہ مناسب بات ہے

  206. hypocrite says:

    Every science has for its basis a system of principles as fixed and unalterable as those by which the universe is regulated and governed. Man cannot make principles; he can only discover them.

    _________

    Lota 6177 sahib

    Thanks for posting the view point of Thomas Paine. While it explains about principles, I still wonder from where and how morality evolves.

    Is it a sub set of principles or is it something totally independent. Does it governs individuals or just like principles it regulates and governs universe?

    As per principles a man can have relationships with a woman. Is it a principle?

    And if I have dont establish relationships with any woman, then am I defying principles or negating morality or depicting morality.

  207. بلیک شِیپ says:

    hypocrite said:

    بلیک شِیپ said:
    کیا یہ مناسب ہوگا کہ میں زبردستی اپنے کام میں آپ کو بھی پیسہ دینے پر مجبور کروں۔

    عزیز بلیک شیپ صاحب
    اور آپ دوسروں کو کیسے مجبور کر سکتے ہیں
    طاقت سے
    دھونس دھمکی سے
    التجا سے
    اکثریت سے
    محبت سے
    لالچ سے
    جنت کے خواب سے
    دوزخ کے خوف سے
    اپنی چرب زبانی سے
    اپنے خلوص نیت سے
    اپنے عمل سے
    یا پھر کسی اور طرح سے

    اور جہاں تک مناسب ہونے کا تعلق ہے
    یہ ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ پر منحصر ہے
    ہن اگر انسان کی رضا شامل نہ ہو
    تو میرا خیال ہے کے نہ مناسب بات ہے

    تو پھر سوشلزم اور کمیونزم آخر اور کیا ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا یہ دونوں نظام آپ کو زبردستی دوسروں کی مدد کرنے پر مجبور نہیں کرتے چاہے آپ کی مرضی ہو یا نہ ہو۔۔۔۔۔۔
    آپ ذرا خود سوچئے کہ اگر آپ کی ملکیت میں کچھ زرعی اراضی ہو جس پر کچھ لوگ تنخواہ پر کام کرتے ہوں۔۔۔۔۔۔ اور ریاست یہ حکم نافذ کردے کہ تین سال تک اگر آپ اپنی زمین پر نہ آئے تو آپ سے یہ زمین لے لی جائے گی۔۔۔۔۔۔ کیا یہ حکم آپ کی پرائیوٹ پراپرٹی میں مداخلت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کی آزادی میں مداخلت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
    درحقیقت یہی اصل مسئلہ کی جڑ ہے۔۔۔۔۔۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ خلافتی اور کمیونزم یا سوشل ازم کے خیالات کے حامل لوگوں میں خدائی فوجداری کے اثرات نمایاں ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ اسی وجہ سے کہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کہ خلافتی کمیونسٹ یا سوشلسٹ حضرات کسی دوسرے کے پیسوں سے اس کی مرضی کے بغیر کسی تیسرے کی مدد(خلافتی یا سوشلسٹ کے نزدیک مدد) کرنا فرض سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    ان لوگوں کے نزدیک ذاتی ملکیت کا تصور یا تو ہوتا ہی نہیں ہے یا انتہائی محدود ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ خلافتی کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین میں سب کچھ اللہ کا ہے اور سوشلسٹ کہتے ہیں کہ یہ سب کا مشترکہ ہے۔۔۔۔۔۔

    کیا سوشلزم اور کمیونزم یا خلافتی ازم انسان کو یہ معاشی آزادی مہیا کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام مہیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔

  208. بلیک شِیپ says:

    لالچ کیا بلا ہے آپ کے نزدیک
    کیا انسان کی کامیابی کے لیے جدوجہد لالچ ہے
    کیا انسان کی اور سے اور کا حصول لالچ ہے
    اور کیا لالچ بری چیز ہے یا اچھی
    یا اپنے اپنے نکتہ نظر پر منحصر ہے

    Phil Donahue: ….Whether GREED is a good idea to run on ?
    Milton Friedman: Well, first of all tell me is there some society you know that doesn’t run on greed ? What is GREED ? Of course none of us is greedy its only the other fellow is greedy.
    .
    .
    .
    and just tell me where in the world you find these ANGELS who are going to organize society for us, I don’t even trust you to do that.

    Milton Friedman: Socialism vs Capitalism

    http://www.youtube.com/watch?v=g-o0kD9f6wo

  209. ukpaki1 says:

    ١) اگر سب کچھ درست تھا تو نتیجہ ابتر کیوں نکل رہا ہے . کیا وجہ یہ ہے کے سب کچھ جذباتی تھا
    ٢) کیا ایسا ممکن ہیں کے کسی ایک شخص کے لیے ایک نعرہ درست ہو اور دوسرے کے لیے غلط

    مجھے لگتا ہے جہاں مفاد پرست انسانی جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں وہاں وہ جذبات بھڑکا کر اپنے مفاد کا حصول چاہتے ہیں
    مگر ساتھ ساتھ کچھ جگہوں پر خلوص نیت بھی نظر اتی ہے
    بہت ممکن ہے کے پاکستان کے قیام میں خلوص نیت کار فرما تھی
    اور شاید نعرے خلوص دل سے ہی لگے جاتے ہیں مگر یہ خلوص نیت ، حقیقت کو سمھجے بغیر جذبات کا لبادہ زیب تن کر لیتی ہے
    اور جب حقیقت نمایاں ہوتی ہے تو لگتا ہے
    کے نعرے کھوکھلے تھے اور بہکاوا تھے
    ________________________________________________________

    محترم ہئپوکریٹ صاحب

    ہم زخمی ضرور ہوئے ہیں، چوٹ بھی بہت لگی ہے، لیکن ہم خدانخواستہ ختم نہیں ہوئے۔ پاکستان جن ابتر حالات میں ہمیں ملا تھا تو ہمارے دشمنوں کی پیشن گوئی تھی کہ یہ ابتدائی چند برسوں میں ہی بالکل ناکام ہو کے ختم ہوجائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اور پاکستان یقیناً ایک نظریاتی ریاست تھی، جو اس بات سے اتفاق نہ کریں یہ ان کی مرضی۔ لیکن میں پاکستان کے بارے میں بہت پرامید ہوں۔ اب اسے میرا جاگتے میں خواب دیکھنا یا کچھ بھی کہہ سکتے ھیں۔ لیکن حالات ضرور بہتر ہوں گے انشااللہ۔

  210. Hakka Bakka says:

    تو پھر سوشلزم اور کمیونزم آخر اور کیا ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا یہ دونوں نظام آپ کو زبردستی دوسروں کی مدد کرنے پر مجبور نہیں کرتے چاہے آپ کی مرضی ہو یا نہ ہو۔۔۔۔۔۔
    آپ ذرا خود سوچئے کہ اگر آپ کی ملکیت میں کچھ زرعی اراضی ہو جس پر کچھ لوگ تنخواہ پر کام کرتے ہوں۔۔۔۔۔۔ اور ریاست یہ حکم نافذ کردے کہ تین سال تک اگر آپ اپنی زمین پر نہ آئے تو آپ سے یہ زمین لے لی جائے گی۔۔۔۔۔۔ کیا یہ حکم آپ کی پرائیوٹ پراپرٹی میں مداخلت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کی آزادی میں مداخلت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
    درحقیقت یہی اصل مسئلہ کی جڑ ہے۔۔۔۔۔۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ خلافتی اور کمیونزم یا سوشل ازم کے خیالات کے حامل لوگوں میں خدائی فوجداری کے اثرات نمایاں ہیں۔۔۔۔۔

    محترم بلیک شیپ صاحب

    امریکہ میں ایک عام تنخواہ دار ملازم کی تنخواہ کا تیس سے پنتالیس فیصد ٹیکسوں کی شکل میں کاٹ لیا جاتا ہے – اسکا ایک حصہ سوشل سیکورٹی اور ایک حصہ میڈی کیڈ (بوڑھوں کے علاج معالجہ) کے لئے کاٹا جاتا ہے – اور بغیر پوچھے ہی کاٹا جاتا ہے ، یعنی زبردستی لیا جاتا ہے – تنخواہ کی جائز کمائی کا ایک حصہ کاٹ کر غریبوں ، ناداروں اور بوڑھوں کے علاج معالجہ پر کیوں خرچ کیا جاتا ہے ؟ کیا یہ ٹیکس کوئی اپنی خوشی سے دیتا ہے ؟ یہ بھی تو ایک شخص سے اسکی مرضی کے بغیر اسکی کمائی کا حصہ لے کر کسی اور کو دے دینا ہی ہوا – اسے خدائی فوجداری کیوں نہیں کہا جاتا ؟ جن لوگوں سے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے وہ کروڑوں کی تعداد کی مڈل کلاس ہے جنکے پاس کوئی بھی جائداد نہیں ہوتی – یہاں ایک بات اور واضح کردوں کے بزنس میں حاصل ہونے والے منافع کی رقم پر سوشل سیکورٹی ٹیکس ، میڈی کیڈ اور انفرادی ٹیکس نہیں کٹتا – یعنی کے اگر کروڑوں ورکنگ کلاس کے لوگوں سے پیسے چھین کر ادھر ادھر تقسیم کر دیے جائیں تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں – اگر کسی سرمایہ دار کے منافع سے یا شرح منافع سے کچھ لے لینے کی بات کی جاۓ تو آپ کو خدائی فوجداری والی مروڑ اٹھنی شروع ہو جاتی ہے – یہ در اصل آپ کو مولویوں سے قریب کر دیتا ہے جو ہر حال میں نظام پر قابض قوتوں کی حمایت میں اور انکے حصے کا بوجھ عام ورکنگ کلاس کے کاندھوں پر ڈالنے کے لئے ایسی ہی فضول قسم کی توجیہات پیش کرتے رہتے ہیں – ان کے پاس کچھ نہ پڑھنے اور کچھ نہ سمجھنے کے لئے یہ جواز ہے کہ انکا سارا علم آسمان سے اتر چکا ہے – آپ کو کونسی چیز ایسا کرنے سے روکتی ہے ؟ مجھے اسکا علم نہیں

  211. saleem raza says:

    ہکا بکا جی
    ویسے جتنے سوال ان لوگوں نے اپ سے کیے ہیں ۔اگر اپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو
    اب تک ان لوگوں کے کپڑے پھاڑ کر خود جنگل کی طرف نکل گیا ہوتا ‘

  212. بلیک شِیپ says:

    کیپیٹل ازم ریاست کے کسی فرد کو چیریٹی کرنے سے روکتا نہیں ہے چاہے کتنے ہی افراد کتنی ہی بڑی تعداد میں کیوں نہ کریں لیکن دوسری طرف سوشلزم ریاست کے ہر فرد کو چیریٹی کرنے پر زبردستی مجبور کرتا ہے۔۔۔۔۔۔

    کس نظام میں ریاست کے افراد کو زیادہ معاشی آزادی حاصل ہے ؟؟؟۔۔۔۔۔۔

  213. بلیک شِیپ says:

    محترم ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔
    آپ کو کس نے یہ کہہ دیا ہے کہ میں زیادہ ٹیکسز کا حامی ہوں۔۔۔۔۔۔ جنابِ محترم میں کم سے کم گورنمنٹ۔۔۔۔۔۔ کا حامی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں سوشل سیکیورٹی کا زیادہ حامی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ میں تو اس کا حامی ہی نہیں ہوں کہ لوگوں(چاہے وہ مڈل کلاس ہو یا بزنس مین ہوں یا کوئی اور) سے ان کا پیسہ لیکر ان کی مرضی کے بغیر دوسرے لوگوں میں بانٹ دیا جائے۔۔۔۔۔۔
    برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ اسکیم یا دوسرے سوشل سیکیورٹی یا ویلفیئر کے ادارہ کس گورنمنٹ نے قائم کئے تھے۔۔۔۔۔۔

  214. hypocrite says:

    سی چیز کہ اچھے یا برا نہ ہونے کہ تصور کو بلیک شیپ صاحب نے ایک آفاقی تصور کے طور پر پیش کیا ہے – میں نے یہ تصور کو محض اقتصادی فلسفے کے حوالے سے ہی لکھا ہے – میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ اچھی رہتی ہیں – مثال کے طور کچھ حضرات یہاں ” پارو ” کا ذکر فرما رہے تھے

    _________

    محترم حکا بکا صاحب
    آپکی بات بھی غور طلب ہے
    بہت ممکن ہے کے کچھ چیزیں صرف اچھی ہوں
    اور کچھ صرف بری یا خراب ہوں
    غور کرتا ہوں کے آپکی بات کے سامنے کوئی دلیل یا مثال پیش کر سکتا ہوں کے نہیں
    ویسے پارو کی مثال خوب دی آپ نے
    صرف اچھائی ہی اچھائی ہے پارو
    اب پتا نہیں اسکے لیےکے جس کے نصیب میں ہے
    یا اس کے لیے جس کے صرف خوابوں میں

  215. hypocrite says:

    پ کو کس نے یہ کہہ دیا ہے کہ میں زیادہ ٹیکسز کا حامی ہوں۔۔۔۔۔۔ جنابِ محترم میں کم سے کم گورنمنٹ۔۔۔۔۔۔ کا حامی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں سوشل سیکیورٹی کا زیادہ حامی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ میں تو اس کا حامی ہی نہیں ہوں کہ لوگوں(چاہے وہ مڈل کلاس ہو یا بزنس مین ہوں یا کوئی اور) سے ان کا پیسہ لیکر ان کی مرضی کے بغیر دوسرے لوگوں میں بانٹ دیا جائے

    ________

    محترم
    شاید میں آپکی بات نہیں سمجھ سکا ہوں آپ عام آدمی پر ٹیکس کے حامی نہیں ہیں یا کاروبار پر ٹیکس کے
    اسی لیے مجھے آپکی بات کچھ ادھورری لگتی ہے .
    اگر آپ زیادہ ٹیکس کے حامی نہیں ہیں تو کیا آپ حکومتی مراعت کے حامی ہیں یا نہیں
    میرا خیال ہے کے ٹیکس اور مراعت کا چولی دامن کا ساتھ ہے
    اب اگر حکومت کو سڑکیں، صحت، تعلیم ، دفاع، قانون وغیرہ مہیا کرنے ہیں
    تو حکومت کو کہیں نہ کہیں سے تو پیسہ وصول کرنا پڑے گا ان تمام اخراجات کے لیے
    اب ان مر اعت کا زیادہ استمال کون کرتا ہے
    اور جو کرتا ہے کیا اسکو یہ سہولتیں مفت ملنی چاہییں یا ان سہولیات کی حکومت کو قیمت وصول کرنی چاہیے
    میرا خیال ہے کے بات اس وقت بگڑتی ہے جب مراعت کا غلط اور بیجا استمال ہوتا ہے
    یا حکومت کے سرکردہ لوگ عوام کا پیسہ کھا جاتے ہیں
    یا غلط استمال کرتے ہیں
    یا اسکو بےدریغ بغیر کسی مصرف کے ان لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں جو اس نظام کا غلط فایدہ اٹھاتے ہیں

  216. hypocrite says:

    دوسرے کے پیسوں

    ________

    محترم بلیک شیپ صاحب
    معذرت خواہ ہوں کے آپکی تحریر سے چند الفاظ چن کر آپ پر سوال داغ رہا ہوں

    ١) یہ دوسرے کون ہوتے ہیں اور اگر دوسرے کچھ ہوتے ہیں تو کیا کوئی پہلے اور تیسرے بھی ہوتے ہیں
    ٢) دوسروں کا پیسہ کیا چیز ہے
    ٣) دوسروں کے پاس پیسہ کہاں سے اتا ہے

    میرا خیال ہی کے پیسہ ایک دائرے کی شکل میں گھومتا رہتا ہے
    اس ہاتھ سے اس میں اور اس ہاتھ سے اس میں
    اور یہ کہیں باہر سے نہیں اتا
    اب اگر یہ ہاتھوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے تو کیا یہ دوسروں کا پیسہ ہے
    یا اسمیں ہم سب کا حصہ ہے

  217. lota6177 says:

    hypocrite said:
    Every science has for its basis a system of principles as fixed and unalterable as those by which the universe is regulated and governed. Man cannot make principles; he can only discover them.

    _________

    Lota 6177 sahib

    Thanks for posting the view point of Thomas Paine. While it explains about principles, I still wonder from where and how morality evolves.

    Is it a sub set of principles or is it something totally independent. Does it governs individuals or just like principles it regulates and governs universe?

    As per principles a man can have relationships with a woman. Is it a principle?

    And if I have dont establish relationships with any woman, then am I defying principles or negating morality or depicting morality.
    —————————————————————————————————————–اس سے پہلے کے اس ٹوپک پر بات کی جائے شیرازی صاحب کے لئے ہوم ورک
    http://en.wikipedia.org/wiki/Tradition

  218. Hakka Bakka says:

    محترم بلیک شیپ صاحب

    آپ ٹکسوں کے حامی نہیں ہیں مگر ریپبلکن کے حامی ہیں – یہ بھی ایک کھلا تضاد ہے

  219. EasyGo says:

    میرا خیال ہی کے پیسہ ایک دائرے کی شکل میں گھومتا رہتا ہے
    اس ہاتھ سے اس میں اور اس ہاتھ سے اس میں
    اور یہ کہیں باہر سے نہیں اتا
    اب اگر یہ ہاتھوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے تو کیا یہ دوسروں کا پیسہ ہے
    یا اسمیں ہم سب کا حصہ ہے
    =====
    میرے خیال میں اصل اہمیت انسانی ضرورت کی اجناس و اشیا کی ہے
    اور سب چیزوں پر سب انسانوں کا حق ہو یہ قدرت کے متوازن اصولوں کے قریب ترین لگتا ہے
    ایک جگہ فراوانی ہو اور دوسری جگہ کوئی ترس رہا ہو تو میرے خیال میں کوئی کسی کا حق مار رہا ہوتا ہے
    پیسہ انسان کا پیدا کردہ میڈیم آف ایکسچینج ہے جو اب اشیا سے زیادہ اہم ہو گیا ہے
    پیسے کو کونٹرول کرنے والا طاقتور بھی ہوجاتا ہے اور یقیناً چیزوں کا مالک بھی
    طلب و رسد سے قطع نظر صرف زیادہ نوٹ چھاپنے سے چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں

  220. Hakka Bakka says:

    بلیک شِیپ said:
    کیپیٹل ازم ریاست کے کسی فرد کو چیریٹی کرنے سے روکتا نہیں ہے چاہے کتنے ہی افراد کتنی ہی بڑی تعداد میں کیوں نہ کریں لیکن دوسری طرف سوشلزم ریاست کے ہر فرد کو چیریٹی کرنے پر زبردستی مجبور کرتا ہے۔۔۔۔۔۔

    کس نظام میں ریاست کے افراد کو زیادہ معاشی آزادی حاصل ہے ؟؟؟۔۔۔۔۔

    ===========================

    سوشل ازم میں

    (اب آپ اپنی خدائی فوجداری والی توپ نکال لیجیے اور شروع ہو جائیے)

    ایک نظام میں ننانوے فیصد لوگوں سے ٹیکس کے ذریعہ انکی کی جیب میں زبردستی ہاتھ گھسا کر پیسہ کھینچ لیا جاتا ہے – ٹیکس کے ذریعہ ہر کس و ناکس سوشل سیکورٹی کے لئے ٹیکس دینے پر مجبور ہے – یہ بھی ایک ریاستی جبر ہے – یہ خدائی فوجداری کے زمرے میں کیوں نہیں آتا ؟

    میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ریاست چاہے کوئی بھی اقتصادی فلسفہ رکھے ، اپنے اصل میں ایک جبر کے ذریعہ معاشرے میں موجود طبقوں کے درمیان تصفیہ کراتی ہے – ریاست ہے ہی ایک نظریاتی طاقت کا نام – یہ طاقت کے ذریعہ ایک طبقے کی دوسرے طبقے پر بالا دستی کا نام ہے – آزاد منڈی کی معیشت میں ایک فیصد سرمایہ داروں کی آزادی اور چھوٹ ہے مگر خود انہی کے پیدا کردہ مہنگائی ، غربت اور قلت کے بحران کو حل کرنے کے لئے ننانوے فیصد لوگوں سے زبردستی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے – سوشلسٹ معیشت میں ننانوے فیصد لوگوں کو چھوٹ دے کر پابندی صرف ایک فیصد سرمایہ دار پر عائد سمجھی جاتی ہے – لہٰذا آپ کے مقرر کردہ پیمانے کے مطابق ننانوے فیصد لوگوں پر معاشرتی جبر (سرمایہ داری نظام) کے مقابلے میں ایک فیصد لوگوں پر معاشرتی جبر (سوشلسٹ) کو زیادہ اقتصادی آزادی کہا جائیگا

  221. FJ_ Pak says:

    ہکا بکا جی

    اگر آپ نے غور کیا ہو تو میں نے اسی نظریاتی غلامی اور نظریاتی افلاس سوچ کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے شاندار مظاہرے اور نتائج آپ دیکھ رہے ہیں

    :) 😉 😉

    FJ

  222. FJ_ Pak says:

    ایک مزید بات

    میں چاہوں گا کہ جس کتاب کا رابطہ میں نے اوپر بتایا تھا اسکو ایک نظر ضرور مار لیجئے گا

    اور یہی مشورہ ان اصحاب کیلئے بھی ہے جو جانے بوجھے بغیر غیر حاضر زمینداری کے اوپر اپنے تبصرے فرما رہے ہیں

    مزید برآں یہ کہ اسلام کے اقتصادی نظام میں کسی قسم کا کوئی بھی آمدنی پر محصول نہیں لگایا جا سکتا اور کوئی بھی محصول مستقل بنیادوں پر بھی نہیں لگایا جا سکتا ، ہاں موقع ، وقت اور ضرورت کیلئے ایک محدود وقت کیلئے محصول لگائے جا سکتے ہیں جو کہ اس ضرورت کے پوری ہونے پر ختم کرنے ہونگے اور ختم ہو جائیں گیں ، مثلا اگر کسی علاقے میں کوئی سڑک بنانی ہے تو اس سڑک کیلئے ہی محصول وصول کیا جائے گا اور سڑک کے تعمیر کرنے کے ساتھ ہی اس کو ختم کرنا ہوگا

    محصولوں کے ڈھانچے کیلئے مزید تفصیلات اس کتاب سے حاصل کی جاسکتی ہے جی کا رابطہ میں نے اوپر دیا ہے

    http://pkpolitics.com/2012/04/01/visitors-views-news-%e2%80%93-april-2012/#comment-426884

    ف ج

  223. Zia M says:

    What is morality?
    In my opinion it is code of ethics to establish right or wrong.Then what is right or wrong?
    The actions that result in happiness for the society are right and the ones that cause misery are wrong.
    The ultimate goal is happiness and it is not limited to humans, you have to include other animals and even the environment.Everything is connected in the universe.
    The Golden Rule still applies………

    “Never impose on others what you would not choose for yourself.” – Confucius
    It is ironic that the moron republicans think it means – Who has the gold makes the rule. :)

  224. زالان says:

    lota6177 said:
    E-mailing Faiz Ahmed Faiz poem: Bahria University student arrested for ‘threatening’ staffers

    ————————————————————————————————-

    Contact: Arsalan Bilal

    Tel: +

    Email:

    Announcement of indefinite Hunger Strike by Mr. Arsalan Bilal

    Arsalan Bilal, a student of Bahria University, has decided to go on a hunger strike for an indefinite time period from Friday, April 6, 2012 in front of Bahria University Headquarters, Margalla Road, Islamabad. Bilal was subjected to the most appalling form of “Academic Terrorism” on campus as he was discriminated against and victimized by Bahria University’s top management and purported academics. Arsalan Bilal was rusticated from the university on the pretext that he is psychologically unstable, and had threatened his faculty members by emailing them revolutionary poems of Faiz Ahmed Faiz and Noon Meem Rashid.

    Bilal, who has been studying on merit scholarship in that same university, believes that he was victimized for raising questions, in various discussion sessions, over the manner in which the military management and pseudo intellectuals of Bahria University were governing the institution. Moreover, Bilal was marginalized as he belonged to a minority sect, which is pervasively persecuted across the country. It is noteworthy that Bilal was repeatedly discouraged from conducting his undergraduate research on “Politicization of religion in Pakistan”.

    Bilal has resolved not to call off his hunger strike until the following 14 demands are fulfilled:

    1- Dignified restoration of Arsalan Bilal with apology from university’s management

    2- Redress all grievances by reprimanding those responsible for committing atrocities on Bilal

    3- Cessation of discrimination on basis of race, caste, creed, religion, affiliation, etc. on campus

    4- All serving military officers in university be directed to return to purely military functions

    5- All retired military officers in the university be gradually supplanted by qualified civilians

    6- Post of Director Campus be occupied by a highly qualified academic

    7- Purge the university of pseudo intellectuals

    8- Constitute a special autonomous body of academics to ensure checks on faculty members

    9- Tighten the plagiarism check policy on faculty members

    10- Decision to retain faculty members should hinge on students’ feedback

    11- Empower Students’ Affairs department for addressing apprehensions of students

    12- Public proceedings of all cases before the discipline committee

    13- Abolish dress code imposed in the university

    14- Render more need-based scholarships by eliminating fee discounts for children of naval officers

    If you’d like to know more on the subject, or schedule an interview with Mr. Arsalan Bilal, please call his media spokesperson, Mohammad Hissan Khan on

  225. بلیک شِیپ says:

    ایک نظام میں ننانوے فیصد لوگوں سے ٹیکس کے ذریعہ انکی کی جیب میں زبردستی ہاتھ گھسا کر پیسہ کھینچ لیا جاتا ہے – ٹیکس کے ذریعہ ہر کس و ناکس سوشل سیکورٹی کے لئے ٹیکس دینے پر مجبور ہے – یہ بھی ایک ریاستی جبر ہے – یہ خدائی فوجداری کے زمرے میں کیوں نہیں آتا ؟

    آپ کی بات سے کس نے اختلاف کیا ہے بلکہ یہی تو میرا کہنا ہے کہ سوشل سیکیورٹی بذاتِ خود ایک جبریہ ٹیکس ہے۔۔۔۔۔۔
    لیکن محترم گوورنمنٹ ہیلتھ اسکیمز یا سوشل سیکیورٹی جیسے منصوبہ کون سی گورنمنٹ بناتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ری پبلکن۔۔۔۔۔۔ ٹوریز یا پھر ڈیموکریٹ۔۔۔۔۔۔ لیبر پارٹی وغیرہ۔۔۔۔۔۔

    ایک بات کی وضاحت دے دوں کہ مجھے ری پبلکنز پسند نہیں ہیں میں نے صرف ان کی معاشی پالیسیوں کی بات تھی اور وہ بھی لیبر یا ڈیموکریٹ کے تناظر میں۔۔۔۔۔۔

  226. Zia M says:

    ایک بات کی وضاحت دے دوں کہ مجھے ری پبلکنز پسند نہیں ہیں میں نے صرف ان کی معاشی پالیسیوں کی بات تھی اور وہ بھی لیبر یا ڈیموکریٹ کے تناظر میں۔۔۔۔۔۔

    —————–
    Could have fooled me.
    You have been posting Milton Friedman videos as if his is the final word.
    Answering a chap in one of the videos Mr Friedman told him it was the responsibility of the neighbors and friends to pay the electric bill if an elderly man failed to meet his obligations.
    WTF!
    What is the function of the State if I have to beg from my neighbors in time of need let’s go back to tribalism?
    It never bothers Mr Friedman that all these faith based organisations enjoy tax-exempt status but he gets irate if the State spends money on Social Security or Medicare which are funded by the tax-payers.
    I don’t know about the British System but in States everyone has to pay social security taxes.The government is not doing any favors and it is not a handout.

  227. بلیک شِیپ says:

    Shirazi said:
    @Black Sheep Saab

    In 2009 >b>top 1% in US paid 37% of total taxes, top 10% almost 71% and bottom 50% just 2.25%.

    People at one extreme may call it forced charity or distribution of wealth or socialism but to me it’s progressive taxation and it’s fair.

    تو پھر ہکابکا صاحب اس ایک فیصد سرمایہ داروں پر مزید کتنا ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  228. بلیک شِیپ says:

    Shirazi said:
    @Black Sheep Saab

    In 2009 top 1% in US paid 37% of total taxes, top 10% almost 71% and bottom 50% just 2.25%.
    People at one extreme may call it forced charity or distribution of wealth or socialism but to me it’s progressive taxation and it’s fair.

    تو پھر ہکابکا صاحب اس ایک فیصد سرمایہ داروں پر مزید کتنا ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔

  229. بلیک شِیپ says:

    You have been posting Milton Friedman videos as if his is the final word.

    ابھی تک ملٹن فریڈمین سے اچھا اکانومسٹ میری نظر سے نہیں گذرا۔۔۔۔۔۔
    ملٹن فریڈمین کی ویڈیوز بھی اسی لئے پوسٹ کر رہا ہوں کہ میں کیپیٹل ازم پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔

    Answering a chap in one of the videos Mr Friedman told him it was the responsibility of the neighbors and friends to pay the electric bill if an elderly man failed to meet his obligations.

    میں بھی اگر ملٹن فریڈمین کی جگہ ہوتا تو اس لڑکے کو کچھ ایسا ہی جواب دیتا۔۔۔۔۔۔ اور میں اس ویڈیو کے مندرجات سے اتفاق کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔
    مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ایسی صورتحال میں عموماً الیکٹرک کمپنی کو قصور وار ٹھہرانا شروع کردیتے ہیں کہ اس نے بجلی کی سپلائی کیوں بند کی جس کی وجہ سے وہ بوڑھا شخص مر گیا۔۔۔۔۔۔
    میری اگلی بات کو ذرا غور سے پڑھئے گا۔۔۔۔۔۔
    ہمدردی ایک بہت ہی خطرناک جذبہ ہوتا ہے جو بسا اوقات آپ کو دوسروں سے زیادتی کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہی ہمدردی آپ کو خدائی فوجداری کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔۔۔۔

  230. بلیک شِیپ says:

    ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    سروائیول آف فٹسٹ سے کون سا نظام زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔ کیپیٹل ازم یا سوشلزم۔۔۔۔۔۔

  231. بلیک شِیپ says:

    Zia M said:
    In my opinion it is code of ethics to establish right or wrong.Then what is right or wrong?
    The actions that result in happiness for the society are right and the ones that cause misery are wrong.

    اگر پاکستان کی عدالتیں سلمان تاثیر کے قاتل کو باعزت بری کردیتی ہیں تو پاکستانی معاشرے میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  232. hypocrite says:

    سروائیول آف فٹسٹ سے کون سا نظام زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔ کیپیٹل ازم یا سوشلزم۔۔۔۔۔۔

    _________
    محترم

    جنگل میں شیر زیادہ طاقت رکھتا ہے اور باقی جانور زندہ رہنے کی تگ و دو کرتے ہیں
    باغ میں ہر پھول خوش رنگ ہوتا ہے اور مہکنے کے یکساں مواقع رکھتا ہے

    اب ہماری زمین آدمی کے لیے جنگل ہو یا باغ اس کا انحصار ہم سب پر ہے

  233. Zia M says:

    ہمدردی ایک بہت ہی خطرناک جذبہ ہوتا ہے جو بسا اوقات آپ کو دوسروں سے زیادتی کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہی ہمدردی آپ کو خدائی فوجداری کی طرف لے جاتی ہے۔۔
    —————
    I did not blame the electric company.Please read my comment again.It is the responsibility of the State to take care of her citizens.If need be the State can put more burden on the corporation to look after the needy citizens.If the corporation is going to make a little bit less profit in the process, it is not as bad as losing some lives.

  234. hypocrite says:

    In 2009 top 1% in US paid 37% of total taxes, top 10% almost 71% and bottom 50% just 2.25%.

    _____________

    Shirazi sahib

    Interesting statistics. Just to have full picture, do you know what is the share of 1% in total income and what is the share of top 50% in total income.

    By the way while I agree with you that to a great extent this is a workable system, I also wonder if subsidies and social contracts help in creating a portion of population that stops functioning because they have easy access to subsidies.

    But then hardly very few things are perfect. One of the only few example is of “Paro”

  235. hypocrite says:

    ہمدردی ایک بہت ہی خطرناک جذبہ ہوتا ہے جو بسا اوقات آپ کو دوسروں سے زیادتی کرنے پر مجبور کردیتا ہ

    __________

    اور بیشتر بار محبت

  236. hypocrite says:

    It is the responsibility of the State to take care of her citizens
    ___________

    Zia sahib

    Agreed as long as citizens also fulfill their responsibilities.

  237. FJ_ Pak says:

    شیرازی جی

    کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ شماریات کی غلط جادو گری کا مظاہرہ نا کرتے

    یہ جو ایک فیصد نے ٣٧ فیصد اپنی آمدنی پر محصول ادا کیا ہے وہ ٣٧ فیصد اپنی ذاتی آمدنی ( یعنی اپنی تنخواہ پر ہے نا کہ اپنے اثاثوں پر اور اور اپنی کمپنیوں کی آمدنی پر ہے) پر ہے ناکہ حکومت کے خزانے میں جمع ہونے والا سینتیس فیصد محصول

    محق صاحب واقعی محق ہیں جو بغیر کسی تحقیق کے اپنی توپوں کے منہہ کھول دیتے ہیں

    میں اسی معلوماتی بد دیانتی کی طرف اکثر توجہ دلاتا رہتا ہوں

    ف ج

  238. hypocrite says:

    امیرے خیال میں اصل اہمیت انسانی ضرورت کی اجناس و اشیا کی ہے
    ___________

    محترم
    میرے نزدیک ضرورت ہر انسان کو برابری کی بنیاد پر مواقع دینے کی ہے
    جہاں ہر ایک کو برابر اور آزاد مواقع مل جایئں کافی کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے

  239. FJ_ Pak says:

    ہمدردی ایک بہت ہی خطرناک جذبہ ہوتا ہے جو بسا اوقات آپ کو دوسروں سے زیادتی کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہی ہمدردی آپ کو خدائی فوجداری کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔۔۔۔

    محقق اور شریک محقق کی ایک اور تہلکہ خیز اور انقلابی تھیوری

    میری توبہ ، اگر آئندہ سے کسی پیاس سے مرتے شخص ، کسی پیماری کا شکار ، کسی مصیبت کے مارے ، کسی ضرورتمند کے ساتھ ، کسی زخمی کے ساتھ ، کسی مظلوم کے ساتھ ہمدردی کی

    مجھ سے آجتک جو ہمدردی کے مظاہرے ہوتے رہے ہیں میں ان پر معافی چاہتا ہوں

    ف ج

  240. بلیک شِیپ says:

    Zia M said:
    I did not blame the electric company.Please read my comment again.It is the responsibility of the State to take care of her citizens.If need be the State can put more burden on the corporation to look after the needy citizens.If the corporation is going to make a little bit less profit in the process, it is not as bad as losing some lives.

    ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    کیا آپ انسانی فطرت سے لالچ کو ختم کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    میں آپ کو ایک خطرناک مثال دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔
    آپ کسی نابینا شخص کو اس کے کہنے پر بخوشی سڑک پار کراسکتے ہیں جو کہ میری نطر میں اچھی بات ہے لیکن کیا یہ قانون بن جانا چاہئے کہ ہر شخص پر لازم ہوگا کہ نابینا شخص کے کہنے پر اس کو سڑک پار کروائے۔۔۔۔۔۔
    آپ کہہ رہے ہیں کہ کارپوریشن کم منافع کمائیں۔۔۔۔۔۔ لیکن کیوں کم منافع کمائیں۔۔۔۔۔۔ وہ منافع کمانے کیلئے ہی تو میدان میں ہیں۔۔۔۔۔۔ ناکہ وہ کوئی خیراتی ادارہ ہیں۔۔۔۔۔۔
    اور کم منافع یا زیادہ منافع کی بات کرنے سے پہلے کوئی مجھے یہ بتادے کہ کم منافع کتنا ہوتا ہے اور زیادہ منافع کتنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں منافع کے بارے میں ایڈم اسمتھ ایک سادہ سا اصول دو سو سال پہلے ہی بتاچکا ہے۔۔۔۔۔۔
    آپ ایک اچھے دل اور اچھے احساسات رکھنے والے شخص ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ اپنے اچھے احساسات ہر ایک پر نافذ نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔ آپ سے پچھلے موضوع پر بحث کے دوران بار بار میں نے یہی کہا تھا کہ ضروری نہیں کہ جس چیز کو آپ صحیح سمجھتے ہیں دوسرے بھی اس کو صحیح سمجھیں۔۔۔۔۔۔

    ہم جتنے لوگ یہاں بحث کر رہے ہیں ان سب کا کوئی نہ کوئی ریفرنس پوائنٹ ہے۔۔۔۔۔۔ مثلاً ایف جے صاحب کو جبرائیل یونیورسل ائیرلائنز نے جو خیالی و تصوراتی پارسل لا کر دئے ہیں ان کی سوچ کا محور وہی صحیفات ہیں۔۔۔۔۔۔ بھاڑ میں جائے کسی کی آزادی یا کسی کی خوشی۔۔۔۔۔۔ اس طرح ہمارے ایزی گو صاحب ہکابکا صاحب اور کچھ کچھ آپ کا ریفرنس پوائنٹ جو میں سمجھ پایا ہوں وہ تمام انسانوں کی فلاح و بہبود ہے۔۔۔۔۔۔ اسی طرح میرا ریفرنس پوائنٹ آزادی ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے جو آپ اور ہکابکا صاحب کی اپروچ سے اختلاف ہے وہ یہ کہ کیا جس چیز کو آپ فلاح و بہبود سمجھتے ہیں کیا دوسرے بھی اس کو فلاح بہبود سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کو کسی نے نہیں روکا کہ آپ اپنے ذاتی دولت سے جتنے غریبوں کی مدد کرنی ہے کریں لیکن کیا آپ کے فلاحی کام کیلئے زبردستی میرے پیسے لئے جائیں۔۔۔۔۔۔ کیا یہ درست اقدام ہوگا۔۔۔۔۔۔

  241. Hakka Bakka says:

    محترم شیرازی صاحب اور بلیک شیپ صاحب
    شیرازی صاحب کے بھیجے حواے اعداد و شمار پر غور کی جیے – یہ صرف اور صرف انکم ٹیکس کے بارے میں ہیں – یہی اصل میں وہ دھوکا ہے جو نیم پڑھے لکھے لوگوں کو دیا جاتا ہے – گھٹیا قسم کے جریدے یہ بات گول کر جاتے ہیں کہ جو لوگ انکم ٹیکس نہیں دیتے ان میں سے ایک اکثریت سوشل سیکورٹی ٹیکس اور میڈی کئیر ٹیکس ادا کرتی ہے

    Of the 46 % of US households who will not be paying federal income tax for 2011, the vast majority will be paying social security and medicare taxes. All but 1 % of those who pay no taxes to Washington are either elderly or else have household incomes under 20,000.

    (Washington Post: September 23, 2011)

    یاد رہے کہ منافع خوروں کو سوشل سیکورٹی اورمیڈی کئیر ٹیکس دونوں سے ہی چھوٹ حاصل ہے – یہ گریٹ ڈپریشن کے اس مالی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے سرمایہ داروں پر عائد کیے گۓ تھے جو اس بحران کے زمہ دار تھے – بعد کو ریپبلکن پارٹی کے رجعت پسندوں نے اسے مکمل طور پر ننانوے فیصد لوگوں کے کاندھوں پے ڈال دیا تھا

    میرا اعتراض اب بھی بدستور برقرار ہے – جب یہ دائیں بازو کے متعصب ری پبلکن اس ریاستی جبر کا دائرہ وسیع کرکے ننانوے فیصد لوگوں کو اس میں مقید کرتے ہیں تو خلافتیوں کے اصل جا نشین تو یہ ہیں – یعنی جزیہ ، ہدیہ ، خیرات اور زکعت کے نام پر عوام سے پیسہ بٹورنے والے اور جنگیں کرنے والے خونی

  242. FJ_ Pak says:

    رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی
    سدو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نا آکھو کوئی

    سٹاک ہوم سنڈروم کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا

    :mrgreen: :mrgren: :mrgreen:

    F J

  243. hypocrite says:

    Dear Black Sheep sahib

    آپ کسی نابینا شخص کو اس کے کہنے پر بخوشی سڑک پار کراسکتے ہیں جو کہ میری نطر میں اچھی بات ہے لیکن کیا یہ قانون بن جانا چاہئے کہ ہر شخص پر لازم ہوگا کہ نابینا شخص کے کہنے پر اس کو سڑک پار کروائے۔۔۔

    What is wrong with having a law for the example given above?

    ہ تمام انسانوں کی فلاح و بہبود ہے۔۔۔۔۔۔ اسی طرح میرا ریفرنس پوائنٹ آزادی ہ

    I think both are intermingled. Freedom leads to greater good of masses and greater good of masses leads to a free environment .

    جس چیز کو آپ فلاح و بہبود سمجھتے ہیں کیا دوسرے بھی اس کو فلاح بہبود سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کو کسی نے نہیں روکا کہ آپ اپنے ذاتی دولت سے جتنے غریبوں کی مدد کرنی ہے کریں لیکن کیا آپ کے فلاحی کام کیلئے زبردستی میرے پیسے لئے جائیں

    I agree to greater extent with you that what I believe in may not be something you shall believe in. However if I have the freedom to earn money then I shall also have a responsibility towards contributing to the greater good of the society. I just cannot pick rights and not be held accountable for responsibilities.

    Responsibility and force are too different things in my humble opinion.

  244. hypocrite says:

    1)
    آپ کسی نابینا شخص کو اس کے کہنے پر بخوشی سڑک پار کراسکتے ہیں جو کہ میری نطر میں اچھی بات ہے لیکن کیا یہ قانون بن جانا چاہئے کہ ہر شخص پر لازم ہوگا کہ نابینا شخص کے کہنے پر اس کو سڑک پار کروائے۔۔
    – – – – – –

    محترم
    اس مثال میں خطرناک بات کیا ہے
    اور ایسے قانون میں کیا مضائقہ ہے
    ________

    2)
    تمام انسانوں کی فلاح و بہبود ہے۔۔۔۔۔۔ اسی طرح میرا ریفرنس پوائنٹ آزادی ہ
    – – – – – –

    محترم
    میرا خیال ہے کے یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں
    آزادی فلاح کی طرف لے جاتی ہے اور فلاح آزادی کی طرف

    ____________
    3)

    س چیز کو آپ فلاح و بہبود سمجھتے ہیں کیا دوسرے بھی اس کو فلاح بہبود سمجھتے ہیں۔

    – – – – –

    محترم
    میں اتفاق کرتا ہوں آپ سے کے جو آپکی سوچ ہو نظریہ وہ ضروری نہیں کے میری بھی سوچ ہو
    یہاں تک بات ٹھیک ہے

    جہاں میں اختلاف کرتا ہوں وہ یہ کے مجھ کو پیسا کمانے کی تو بھرپور آزادی ہو مگر معاشرے کی بھلائی کے لیے کوئی فریضہ مجھ پر لاگو نہ ہو
    اگر میں آزادی سے دولت کما سکتا ہوں تو مجھے اپنے فریضے بھی ادا کرنے ہونگے
    ہر ایک پر یکساں فریضہ میرے نزدیک زبردستی سے مختلف ہیں
    اگر زبردستی ہے تو پھر آزادی نہیں
    مگر فریضہ زبردستی سے الگ لگتا ہے مجھ کو

  245. بلیک شِیپ says:

    میرے خیال میں مسئلہ اس مائنڈ سیٹ کا ہے جس کے مطابق امیر ہونا یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کاروبار کرنا ایک بری بات ہے۔۔۔۔۔۔
    یہ سمجھنا کہ اگر ایپل جیسی کمپنیاں دن چوگنی رات آٹھ گنی ترقی کر رہی ہے تو یقیناً یہ عام لوگوں کا حق مار رہی ہے۔۔۔۔۔۔
    میں سمجھتا ہوں جو ٹاپ پوزیشن پر ہوتا ہے اس کے خلاف غیبتیں بھی سب سے زیادہ تعداد میں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
    سوشلسٹ خیالات کے حامل لوگوں کی نیت پر میں شک نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ یقیناً یہ تمام انسانوں کی بہتری چاہتے ہوں گے لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یوٹوپیا نام کی جگہ دنیا کے کسی برِاعظم میں واقع نہیں ہے اور صرف خیالات کی وسیع کائنات میں واقع ہے۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  246. hypocrite says:

    یوٹوپیا نام کی جگہ دنیا کے کسی برِاعظم میں واقع نہیں ہے اور صرف خیالات کی وسیع کائنات میں واقع ہے۔۔۔۔۔۔
    ___________

    I agree there is no Utopia and it is in a mere thought.

    So lets have robots all around me. No feelings, no happiness, no sadness no beauty, no sympathy and then I will become realistic.

    There shall be no poetry, no art, no philosophy, no sense of belonging in the world.

    There shall be no “Paro” either.

  247. بلیک شِیپ says:

    hypocrite said:
    باغ میں ہر پھول خوش رنگ ہوتا ہے اور مہکنے کے یکساں مواقع رکھتا ہے

    محترم ہپوکریئیٹ صاحب۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں یوٹوپیا تو باغوں میں بھی موجود نہیں ہے یا ہوسکتا ہے پاکستان میں ہمارے مالی نے کچھ پودوں کے بارے میں غلط معلومات دیں تھیں کہ یہ بقیہ تمام پودوں کو خراب کردیں گے۔۔۔۔۔۔

  248. Zia M says:

    آپ کہہ رہے ہیں کہ کارپوریشن کم منافع کمائیں۔۔۔۔۔۔ لیکن کیوں کم منافع کمائیں۔۔۔۔۔۔ وہ منافع کمانے کیلئے ہی تو میدان میں ہیں۔۔۔۔۔۔ ناکہ وہ کوئی خیراتی ادارہ ہیں۔۔۔۔۔
    ———————-
    Black Sheep Sb,
    The corporations too have a responsibility to act like a good citizen.If they don’t then it is the duty of the State to enforce regulations.This is a bone of contention between Democrats and Republicans.Republicans want a free hand for corporations that results in exploitation of the people.
    That is the reason every country has laws against monopolies.
    Postal Service cannot compete with UPS and FedEx, these carriers go after the lucrative markets but will not deliver a letter to some remote town for a few cents.
    Similarly major Airlines only want to fly more profitable routes ignoring the need of people.
    Utilities if they are unregulated will rape the common man.
    The current fiscal fiasco was also a result of deregulation of major Banks.
    We have to strike a balance between the profits and the needs of people.

  249. FJ_ Pak says:

    ہمدم جی

    آپ پریشان نا ہوں اور نا ہی دل چھوٹا کریں

    مانگے تانگے اور ادھار کی دانش سے ایسے ہی معرکہ الارا مضامین اور خیالات کی کالی بارش ہوتی ہے ، لیکن جب دلیل اور حقائق کا اور سچ کا روشن چمکدار سورج نکلتا ہے تو اس کالی بارش کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہتا

    پارو ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ٹوٹے دلوں پر

    ہمدردی

    کا مرہم رکھتی رہے گی

    :) :) :)

    FJ

  250. Shirazi says:

    @Black Sheep Saab

    تو پھر ہکابکا صاحب اس ایک فیصد سرمایہ داروں پر مزید کتنا ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    I don’t think it’s just Hakka Bakka Saab many on the left starting from Warren Buffet to many Billionaires down the line believe rich are not paying enough tax. The Capital gain tax in US is 15% which essentially means Warren Buffet’s bracket is 15% and his secretary tax bracket is higher than his. It’s true for every Billionaire.

    The real question is if we are running high deficits, where gov should start for belt tightening and where it ‘d be more effective. Should they start from families making less than 50k or those who make more than 500k? There are some on right who argue there should be flat tax – the infamous 999 plan. All these simplifications suggested by right will further increase the gap between rich and the poor.

  251. بلیک شِیپ says:

    Postal Service cannot compete with UPS and FedEx, these carriers go after the lucrative markets but will not deliver a letter to some remote town for a few cents.
    Similarly major Airlines only want to fly more profitable routes ignoring the need of people.
    Utilities if they are unregulated will rape the common man.
    The current fiscal fiasco was also a result of deregulation of major Banks.
    We have to strike a balance between the profits and the needs of people.

    محترم ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    یہ فرشتے آخر کہاں پائے جاتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھیں گے ان کیلئے ایک نہایت اچھا معاشرہ تشکیل دیں گے۔۔۔۔۔۔ یوٹوپیا کہیں واقع نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔۔۔۔۔۔
    میں آپ تمام لوگوں سے بار بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا آپ انسانی فطرت سے لالچ کو ختم کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر آپ ختم کرسکتے ہیں تو پھر آپ اپنا خیالی خوبصورت معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔

    باقی جہاں تک آپ نے بینکس کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی بات کی تو میں تو زیادہ سے زیادہ ڈی ریگولیشن کے حق میں ہوں۔۔۔۔۔۔ لیکن میں بیل آؤٹ کے حق میں قطعاً نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ اگر بینکس یا کوئی اور مالیاتی ادارہ اپنی آزادی سے رسک لینے پر تیار ہوتے ہیں تو فائدہ اور نقصان دونوں انہی کو ملنا چاہئے۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ نقصان کی صورت میں حکومت ان کو بیل آؤٹ پیکج دیتی پھرے۔۔۔۔۔۔
    حکومت جتنی زیادہ مارکیٹ میں دخل اندازی کرے گی اتنا ہی خراب نتائج آتے جائیں گے۔۔۔۔۔۔ فری مارکیٹ کی اپنی فورسز کو خود ہی اپنا کام کرنے دینا چاہئے۔۔۔۔۔۔

    فریڈمین کی ایک ڈاکومنٹری میں ہانک کانگ کا ذکر تھا۔۔۔۔۔۔ نسبتاً سب سے بہتر فری مارکیٹ۔۔۔۔۔۔ اور چالیس پچاس سالوں میں ہانگ کانگ نے کتنی ترقی کی یہ آپ کے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔

    اگر آپ نے یہ دستاویزی فلم نہ دیکھی ہو تو ضرور دیکھیں۔۔۔۔۔۔

    http://pkpolitics.com/2012/03/08/visitors-views-news-%E2%80%93-march-20121/#comment-424679

  252. Hakka Bakka says:

    hypocrite said:
    In 2009 top 1% in US paid 37% of total taxes, top 10% almost 71% and bottom 50% just 2.25%.

    _____________

    Shirazi sahib

    Interesting statistics. Just to have full picture, do you know what is the share of 1% in total income and what is the share of top 50% in total income.
    ================================

    محترم هایپوکرئیٹ صاحب
    محترم هایپوکرئیٹ صاحب
    شیرازی صاحب والے اعداد و شمار محض انکم ٹیکس کے حوالے سے ہیں – یعنی حکومت کو جو رقم سوشل سکیورٹی ٹیکس سے حاصل ہوتی ہے (جو بزنس کارپوریٹ پر لاگو نہیں ہوتا) اس کا اس میں حساب نہیں رکھا گیا ہے –

    علاوہ اسکے ، اگر انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو دو حصوں میں دیکھا جاۓ – یعنی سرمایہ داروں سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی رقم کو اس رقم سے الگ کرکے دیکھا جاۓ جو انکم ٹیکس کی رقم ملازمت پیشہ افراد سے حاصل ہوتی ہے تو صورتحال عام لوگوں کے لئے انتہائی بھانک ہو جاتی ہے – اور شیرازی صاحب کے بھیجے گۓ اعداد و شمار پوری طرح سے گمراہ کن ثابت ہو جاتے ہیں

    2010
    =======
    corporate Income = 191 billion
    Individual Tax = 899 billion
    social security/Medicare = 865 billion

    یعنی دو ہزار بلین ڈالر میں سے میں سے دو سو بلین ڈالر سے بھی کم در اصل بلینوں ڈالر کا منافع ہڑپ کر جانے والے بزنس کارپوریٹ والے دیتے ہیں اور باقی اٹھارہ سو بلین ڈالر ورکنگ کلاس ادا کرتی ہے – جبکہ شیرازی صاحب کے اعداد و شمار ایسا تاثر دیتے ہیں کہ سارہ بوجھ بے چارے امیروں پر ہے – اسکے بعد محترم بلیک شیپ صاحب ایک جملہ اپنے مظلوم سے سرمایہ داروں کے حق میں بھی جڑ دیتے ہیں

    —- تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے – یہ شماریات بری بلا ہے —

  253. Zia M says:

    Black Sheep Sb,
    I’m not promoting any “ism” here.It is just plain common sense when there are no regulations the result will be “too big to fail” institutions and then the governments have to bail them out otherwise the whole economic system will go down the drain.
    The point is to not let these institutions become “too big to fail”.

  254. Shirazi says:

    @FJ Saab

    Thanks for pointing out informational dishonesty. :)

    All along I meant personal income tax, even if I didn’t write so the link clearly said so.

    Few more interesting stats …

    1% of GDP is $143B

    Total US Tax Revenue as a Percentage of GDP in 2009: 15% of GDP or approx $2.15T
    Income Tax Share: 7% of GDP or $1T
    Corporate Tax Share: 1% of GDP or $143B
    Social Insurance: 6% or $850B
    Misc: under 2% of GDP or $275B

    So income tax is Lion’s share in overall tax and in income tax top 10% ‘s share is over 70%

    http://www.deptofnumbers.com/blog/2010/08/tax-revenue-as-a-fraction-of-gdp/

    I still strongly support progressive taxation.

    .

  255. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    یعنی دو ہزار بلین ڈالر میں سے میں سے دو سو بلین ڈالر سے بھی کم در اصل بلینوں ڈالر کا منافع ہڑپ کر جانے والے بزنس کارپوریٹ والے دیتے ہیں اور باقی اٹھارہ سو بلین ڈالر ورکنگ کلاس ادا کرتی ہے – جبکہ شیرازی صاحب کے اعداد و شمار ایسا تاثر دیتے ہیں کہ سارہ بوجھ بے چارے امیروں پر ہے

    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    This working class includes Mitt Romney who paid 3M on his 21M income in 2010. :)

    Top 1 % means if your joint income is over approx over $3.5k (people like FJ Saab :)); they paid 37% of 1T or over $350B

    :) :)

  256. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    One Trillion Dollar income tax includes income taxes paid by Warren Buffet, Bill Gates and all those working cl@ss salaried Billionaires and Millionairess, actually everyone who made over $3.5k comes in top 1% and their share in 1T is $370B or 37%. In overall tax 2T there share is still 18% at least.

  257. Hakka Bakka says:

    محترم شیرازی صاحب
    اوپر جو میں نے اعداد و شمار لکھے ہیں وہ ایک ہی سال کے ہیں – میں آپ کی توجہ ایک ٹرینڈ کی طرف کرنا چاہوں گا جو بہت ہی خطرناک ہے اور یہ ریپبلکنوں کا تباہی کا نسخہ ہے جو پچھلے ستر سالوں سے اس سرمایہ دارانہ نظام کو تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے

    گریٹ ڈپریشن کے بعد سوشل سیکورٹی ٹیکس محض بزنس کارپوریٹ والوں پر لگایا گیا تھا – کچھ عرصۂ بعد ٹیکس کی شکل میں وصول ہونے والی رقم کی صورتحال کچھ یوں تھی

    1943
    ==========
    corporate Income = 9.5 billion
    Individual Tax = 6.5 billion
    social security/Medicare = 3.0 billion

    اب اسکا موازنہ سن انیس سو ساٹھ کی صورتحال سے کی جیے

    1960
    ==========
    corporate Income = 21.5 billion
    Individual Tax = 40.7 billion
    social security/Medicare = 14.7 billion

    (انیس سو پچاسی میں (ریگن حکومت کو شاباش دیجیے

    1985
    ======
    corporate Income = 65 billion
    Individual Tax = 244 billion
    social security/Medicare = 158 billion

    1994
    ====
    corporate Income = 140 billion
    Individual Tax = 543 billion
    social security/Medicare = 462 billion

    اب دو ہزار دس تک بات یہاں تک جا پوھنچی ہے

    2010
    =======
    corporate Income = 191 billion
    Individual Tax = 899 billion
    social security/Medicare = 865 billion

    بات واضح سی نظر آ رہی ہے کے ٹیکسوں کے بوجھ کا حصہ سرمایہ داروں کا کاندھوں سے ہٹ کر عام آدمی کی گردنوں پر منتقل ہو رہا ہے – یا تو امریکی سرمایہ داری کا نظام سن چالیس میں غلط تھا ، یا پھر آج غلط ہے

  258. Shirazi says:

    @Black Sheep Saab

    یہ فرشتے آخر کہاں پائے جاتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھیں گے ان کیلئے ایک نہایت اچھا معاشرہ تشکیل دیں گے۔۔۔۔۔۔ یوٹوپیا کہیں واقع نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔۔۔۔۔۔
    میں آپ تمام لوگوں سے بار بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا آپ انسانی فطرت سے لالچ کو ختم کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر آپ ختم کرسکتے ہیں تو پھر آپ اپنا خیالی خوبصورت معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    The elected officials found in legislatures are suppose to be Angels to protect the interests of common man whose vote got them the power to call the shots. Greed cannot be crushed but that doesn’t mean one should stop efforts of perfecting the union.

    Zia M. Saab gave perfect example, post office cannot be replaced by FedEx or UPS. The later will deliver packages based on business need, former is mandated by Congress to have location in remote areas even if it means loss of revenues. Public education is another example, there are some services that just cannot be privatized. In some countries health is one of those services, for some its education for some it may just be defense. Based on needs and resources certain services will always remain with state for broader welfare even if it doesn’t make business sense.

  259. Hakka Bakka says:

    Consider also that while the individual income tax is partly progressive (the higher your income, the higher the percentage you pay), since 1980, it has become ever less important for Washington’s total tax revenues than the faster rising regressive social security and Medicare tax systems (the higher your income, the lower the percentage you pay).

    (Richard wolff : Capitalism Hits the Fan: pp 242

  260. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    بات واضح سی نظر آ رہی ہے کے ٹیکسوں کے بوجھ کا حصہ سرمایہ داروں کا کاندھوں سے ہٹ کر عام آدمی کی گردنوں پر منتقل ہو رہا ہے –

    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    This is based on @ssumption that in 899B rich capitalists taxes are not included, their taxes only goes to 191B pool. That’s not correct 37% of 899B are paid by top 1% or anyone making over 3.5k

    I think Rich people are paying lion’s share and they should pay even more. Capital gain tax should be bumped up to 20% when we are running these huge deficits. Republicans love two things wars and cutting taxes for rich. The result is bound to be 14T debt.

  261. Hakka Bakka says:

    Shirazi said:
    @Hakka Bakka Saab

    One Trillion Dollar income tax includes income taxes paid by Warren Buffet, Bill Gates and all those working cl@ss salaried Billionaires and Millionairess, actually everyone who made over $3.5k comes in top 1% and their share in 1T is $370B or 37%. In overall tax 2T there share is still 18% at least.
    =======================

    محترم شیرازی صاحب

    ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ تنخواہ کے طور پر حاصل کرنے والوں کو بزنس کارپوریٹ میں شمار نہیں کیا جا سکتا – ان لوگوں پر بھی سوشل سیکورٹی ٹیکس کٹتا ہے جبکہ بزنس سے منافع پر نہیں کٹتا – ساڑھے تین لاکھ تک یا اس سے کچھ زیادہ سالانہ اسمال بزنس والے بھی کما لیتے ہیں – یہ سوشل سیکورٹی ٹیکس نہیں دیتے مگر پھر بھی موٹی موٹی مچھلیاں یہ بھی نہیں ہوتے -ٹیکس کی صورت میں حاصل ہونے والے ٹیکس کی رقم کا دس فیصد سے بھی کم بزنس کارپوریٹ دیتے ہیں – یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں اور پچھلے سال نومبر کا اکانومسٹ میں اور پرانے سالوں کے سرکاری اعداد و شمار فائننشل ٹائمز کے مختلف شماروں سے اخذ کیے گۓ ہیں

  262. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    The problem with Social security and medicare is it’s 15.3% of your income up to 110k, half paid by employer and other half by employee. If you are making 110M your Social Security and Medicare will still only be on first 110k.

    Beginning in 2013, an additional HI tax of 0.9 percent is @ssessed on earned income exceeding $200,000 for individuals and $250,000 for married couples filing jointly.

    That would mean an additional Million dollar if you are making 110M as oppose to 7500 that you are paying now. Now this is called Distribution of Wealth or forced charity.

  263. Hakka Bakka says:

    Shirazi said:
    Republicans love two things wars and cutting taxes for rich. The result is bound to be 14T debt.

    =================

    تو پھر بنو امیہ اور بنو عبّاس کا خلافتی نظام کیا تھا ؟ یہ لوگ بھی جزیہ ، فدیہ ، عطیہ ، خیرات وغیرہ کے نام پر لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے اور جنگیں کرتے تھے – مجھ جیسا انتہائی بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والا کہاں سے خلافتی ہو گیا ؟

  264. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    So your argument is why only 10% of total tax is from corporations why not 50% or perhaps even more?

    The 39.2% corporate tax rate in US is highest in the developed world. US can further increase it at the risk of loosing future investments. Why companies will come to US if they can find much lower corporate taxes else where in developed world. The rates got to be competitive.

  265. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    – مجھ جیسا انتہائی بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والا کہاں سے خلافتی ہو گیا ؟

    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    :) :)

    Khilafat is an abstract idea to implement God’s will on his people. The idea is people don’t know what is good for them. God already know what’s good for m@sses and enlightened few to implement his word by hook or by crook. Now if God’s word is replaced by Marx’s bible and Omer’s sword is replaced by Stalin’s killing machine – the red can be new green.

    Everyone has right to sell his philosophy as global as he can as long as it’s peaceful. If the process becomes bloody then they all are same! God’s Soldiers – the true well wishers of the man kind infamously known as Khilafti. You and SMSM Saab by no means fall under that category. If I had ever said anything on those lines in the heat of the arguments I sincerely apologize and take it back.

  266. Hakka Bakka says:

    Khilafat is an abstract idea to implement God’s will on his people. The idea is people don’t know what is good for them.

    جیسے عراق میں صدر جارج بش ‘جمہوریت ‘ کا نفاز کرنے گۓ تھے

    (: (:

  267. lota6177 says:

    حکا بکا صاحب
    حکومت کے قیام کا مقصد انسانی تنظیم میں انصاف کی فراہمی اور تضاد کا خاتمہ ہے . اگر آپ اس پر روشنی ڈال سکیں کہ تضاد کیا ہے اور کون کون سا تضاد ختم کرنا حکومت کی ذمداری ہے . کیا سماجی تضاد ختم کرنا حکومت کی ذمداری ہے اور اگر جواب ہاں ہے تو اس کی ریسننگ کیا ہے ؟
    شیپ صاحب
    اگر آپ سے فتوے کی ایمان ملے تو ذرا اس بات کی وضاحت کر دیں کہ “آزادی ” کیا ہے ؟

  268. Hakka Bakka says:

    Shirazi said:
    @Hakka Bakka Saab

    So your argument is why only 10% of total tax is from corporations why not 50% or perhaps even more?
    ==========================

    محتم شیرازی صاحب
    میں نے کچھ تجویز ہی کب کیا ہے ؟ ):
    میں تو اعداد و شمار صرف ایک ٹرینڈ بتانے کے لئے اور اس تصور کی تردید کے لئے دیے تھے کے بیچارے سرمایہ دار ہی سارا کا سارا ٹیکس دیتے ہیں – جہاں تک کارپوریٹ ٹیکس کا تعلق ہے ، تو آپ کا بتایا ہوا نمبر اوسط سے زیادہ معلوم ہو رہا ہے – آئی آر ایس کے دو ہزار نو کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی کمپنی پر ساڑھے تین لاکھ یا اس سے زیادہ آمدنی پر ٣٥ % فیصد کارپوریٹ ٹیکس وصول کیا گیا تھا – اصل مسلہ یہ ساڑھے تین یا اس سے کم منافع کمانے والی کمپنیاں نہیں ہیں – امریکہ کی سب سے بڑی پنتالیس کمپنیوں نے ٩٢ بلین ڈالر کارپوریٹ ٹیکس دیا تھا – یہ ٹیکس سے وصول ہونے والی آمدنی کا بہت چھوٹا حصہ ہے – مگر ان اونٹ پٹانگ سے ٹاک شوز میں اس کے بالکل برخلاف تاثر دیا جاتا ہے

  269. EasyGo says:

    hypocrite said:
    امیرے خیال میں اصل اہمیت انسانی ضرورت کی اجناس و اشیا کی ہے
    ___________

    محترم
    میرے نزدیک ضرورت ہر انسان کو برابری کی بنیاد پر مواقع دینے کی ہے
    جہاں ہر ایک کو برابر اور آزاد مواقع مل جایئں کافی کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے

    =========
    ہپو کریٹ صاحب میں نے بھی یہی کہنے کی کوشش کی تھی
    کوئی غلطی ہو تو معذرت

    میرے خیال میں اصل اہمیت انسانی ضرورت کی اجناس و اشیا کی ہے
    اور سب چیزوں پر سب انسانوں کا حق ہو یہ قدرت کے متوازن اصولوں کے قریب ترین لگتا ہے

  270. Bawa says:

    بابر اعوان کی کتے والی ہو گئی
    .
    .

    نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا، کیوں سوہنے دا گلہ کراں
    میں تے لکھ واری بسم اللہ کراں

    [img]http://www.nation.com.pk/digital_images/480/2012-01-17/sc-suspends-babar-awan-s-license-1326780907-9242.jpg[/img]

    [img]http://e.jang.com.pk/04-09-2012/lahore/images/116.gif[/img]

  271. Bawa says:

    کل اور آج – عزت و احترام میں مماثلت

    ملک نہیں توڑا، عزت و احترام سے حکومت حاصل کی – ذوالفقار علی بھٹو

    گھٹیا حرکتیں نہیں کیں، عزت و احترام سے پیسہ کمایا – وینا ملک

    .

    .

    [img]http://e.jang.com.pk/04-09-2012/lahore/images/113.gif[/img]

  272. EasyGo says:

    میں آپ تمام لوگوں سے بار بار پوچھ رہا ہوں کہ کیا آپ انسانی فطرت سے لالچ کو ختم کرسکتے ہیں
    =========
    بلیک شیپ صاحب
    اور اگر ایسا کہا جایے کہ پیدائش کے وقت انسانی فطرت میں لالچ نہیں ہوتا
    چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لئے مجھے تو یہ قدرت ایک نظام لگتا ہے
    کہ ہر نیی جان خالی سلیٹ جیسا دماغ لیکر پیدا ہوتی ہے
    ویسے کیا آپکو موجودہ کیپٹلزم کا نظام اپنی صحیح روح کے مطابق نافذ لگتا ہے
    کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ نظام کافی فائدے دیکر اب استحصال کی طرف گامزن ہو
    بہت سارے لوگ اب اپنے تجزیوں میں موجودہ مالیاتی نظام کو در پیش تھریٹس کا ذکر کرتے ہیں

  273. lota6177 says:

    Liberty
    Under animism, your ancestor’s spirits say you can’t do it.
    Under theocracy, the god(s) say(s) you can’t do it.
    Under monarchy, the ruler says you can’t do it.
    Under dictatorship, the dictator says you can’t do it.
    Under democracy, the people say you can’t do it.
    Under communism, the people’s state says you can’t do it.
    Under anarchy, the guy with the most guns says you can’t do it.
    Even in a utopia, you can’t do things without spoiling the utopia for everyone else.
    In order for people to be equal, you can’t do something that might upset equality.

    If liberty is a virtuous goal, then all forms of authority stand in the way.

    تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
    یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

  274. پاکستانی سیاستدان says:

    http://www.topstoryonline.com/speaker-national-assembly-favourite-official-wanted-by-fia

    فہمیدہ مرزا کا چہیتا افسر فراڈ کیس میں مطلوب

    اسلام آباد (مریم حسین) سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے سٹاف افسر شمعون ہاشمی ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے کے ایک مبینہ فراڈ میں ایف آئی اے کو تفتیش کے لیے مطلوب ہیں جبکہ ان کے برادر نسبتی زیشان افضل جنہیں اس فراڈ کا مرکزی کردار بتایا جا رہا ہے مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیمیں لاہور اور اسلام آباد میں ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں۔

    ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی مسلسل نوازشات کے بل بوتے پر شمعون ہاشمی کو چالیس سال کی عمر میں ملک کے سب سے کم عمر جوائنٹ سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے اسلام آباد میں شمعون ہاشمی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا لیکن وہ وہاں سے غائب ہونے میں کامیاب ہوچکے تھے، جس پر ایف آئی اے نے سیکرٹری قومی اسمبلی کرامت نیازی سے رابطہ کیا ہے کہ وہ شمعون ہاشمی کی گرفتاری میں مدد کریں۔

    تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اپنے چہیتے افسر کو ایف آئی اے کی گرفت سے بچانے کے لیے اپنا پورا زور لگائے ہوئے ہیں جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسروں کی جان پر بنی ہوئی ہے کہ اگر شمعون ہاشمی اور زیشان افضل کو گرفتار نہ کر پائے تو پھر بارہ اپریل کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیشی کے موقع پر اس مقدمے کی سماعت کرنے والا بینچ ان پر چڑھائی کر دے گا جو پچھلی سماعت پر یہ کہہ چکا ہے کہ اس مقدمے کے اصل ملزمان اس لیے گرفتار نہیں ہو رہے کیونکہ وہ بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

    ایف ائی آے کے ایک اعلی عہدے دار نے ٹاپ سٹوری آن لائن سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک کروڑ بارہ لاکھ فراڈ کیس میں شمعون ہاشمی کو تلاش کر رہے ہیں کیونکہ اس فراڈ کے قدموں کے نشان ان کے گھر تک جاتے ہیں۔ انہوں نے شمعون ہاشمی کی گرفتاری کے سلسلے میں سیکرٹری قومی اسمبلی سے رابطے کی بھی تصدیق کی ہے۔

    شمعون ہاشمی خود ایک صحافی کے بیٹے ہیں۔ ان کا قومی اسمبلی میں آنا بھی سفار ش کا کرشمہ تھا ۔ شمعون ہاشمی کی قسمت اس وقت کھل گئی گئی جب ڈاکٹر فہیدہ مرزا سپیکر قومی اسمبلی بنیں اور وہ انہیں کے آر ایل ہسپتال سے ڈپیوٹیشن پر قومی اسمبلی لے آئیں ۔ شمعون ہاشمی کے آر ایل ہسپتال میں ایک معمولی پبلک ریلیشن افسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ لیکن انہیں گریڈ سترہ سے اٹھا کر گریڈ اٹھارہ میں لایا گیا اور پھر بغیر کسی تجربے کے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سیکرٹری لگادیا گیا۔ شمعون ہاشمی کو قومی اسمبلی میں کام کرتے ہوئے زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا تھا کہ پچھلے دنوں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے حیران کن طور پر نہ صرف انہیں قومی اسمبلی میں مستقل ضم کر دیا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے انہیں گریڈ بیس میں ترقی دے کر جوائنٹ سیکرٹری بھی لگا دیا ۔

    پاکستان میں پہلے اس طرح کبھی نہیں ہوا کہ کوئی دو سال پہلے قومی اسمبلی میں ڈپیوٹیشن پر لایا گیا ہو اور اسے چوبیس ماہ کے اندر پہلے ڈپٹی سیکرٹری اور پھر جوائنٹ سیکرٹری لگا دیا جائے۔ وہ موصوف اس وقت بڑے فخر سے اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے کم عمر ترین جوائنٹ سیکرٹری کہتے ہیں۔ یوں لاہور یونیورسٹی سے انجنیرنگ کی ڈگری لے کر کے آر ایل میں پی آر او کی نوکری کرنے والے شمعون ہاشمی پچھلے دو سالوں میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر پہنچ گئے۔ موصوف اس وقت سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے دفتر مین جوائنٹ سیکرٹری ہیں اور پورا قومی اسمبلی کا سیکرٹریٹ چلا رہے ہیں۔

    شمعون ہاشمی کو ایف آئی اے کیوں ڈھونڈ رہی ہے اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔

    ایک سال قبل لاہور کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی پی سی ایس آئی آر میں ایک کروڑ بیس لاکھ ستر ہزار پانچ سو روپے کا فراڈ ہوا۔ جب اس ہاؤسنگ سوسائٹی کی نئی انتظامیہ نے مئی دو ہزار گیارہ میں اس کا چارج سنبھالا تو کچھ دنوں بعد بنک الحیبب کا ایک چیک چوری ہو گیا اور انہیں پتہ نہ چلا۔ اس چیک کے چوری ہونے کے ایک ماہ بعد بنک آف پنجاب مین گلبرگ برانچ میں ایک نیا بنک اکاوئنٹ کھولا گیا جو کسی خالد محمود کے نام پر تھا۔ یہ بنک اکاؤنٹ بنک آف پنجاب کے ایک پرانے افسر کے ریفرنس سے تیس مئی کو کھولا گیا۔

    گیارہ جون دو ہزار گیارہ کو یہ چوری کیا گیا چیک وہاں جمع کرایا گیا اور تیرہ جون کو خالد محمود کے اکاؤئنٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ ستر ہزار پانچ سو روپے ٹرانسفر ہو گئے۔ چودہ جون کو ایک شخص محمد زمان بنک آکر ایک کڑور بارہ لاکھ روپے نکلوا لیتا ہے۔ جس دن یہ پیسے نکلوائے گئے اس دن کی بنک کے پاس گفتگو کی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے حالانکہ اتنی بڑی رقم دیتے وقت اس طرح کی گفتگو ریکارڈ کی جاتی ہے۔ پندرہ جون کو اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو پتہ چل جاتا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ سے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے نکل گئے ہیں اور نکلوائے بھی اس چیک سے گئے ہیں جو کہ چوری ہو گیا تھا۔ وہ فوری طور پر یہ سارا معاملہ بنک آف پنجاب کے نوٹس میں لے کر آئے۔

    اگلے دن محمد زمان باقی ماندہ رقم آٹھ لاکھ روپے کی رقم نکلوانے کے لیے دوبارہ بنک گیا تو بنک والے پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے اور انہوں نے اسے وہیں بٹھا لیا اور ساتھ ہی پولیس کو اطلاع کر دی۔ پتہ چلا کہ خالد محمود قصور کا رہنے والا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بنک آف پنجاب کے اس افسر کو بھی بلالیا گیا جن کے ریفرنس دینے پر وہ اکاؤنٹ کھولا گیا۔ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تھانہ ستوکتلہ لاہور میں ایک ایف آئی آر نمبر 819/11 درج ہوئی لیکن حیرانی کی بات ہے کہ یہ رپورٹ صرف چیک چوری کی درج کی گئی اور اس کے ساتھ ہی سب انسپکٹر شبیر کو یہ تفتیش دے دی گئی اور اس نے بندوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔

    جب گرفتار ہونیو الے لوگوں سے پوچھ گچھ شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے میں سے بیاسی لاکھ کسی ملک اسلم طاہر کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے تھے۔ ملک اسلم کا تعلق ملتان سے تھا۔ جب تفتیش آگے چلی تو پتہ چلا کہ ملک اسلم کے اکاؤنٹ سے اگلے روز نو لاکھ روپے اسلام آباد کے ایف الیون مرکز میں واقع فیصل بنک کے ذریعے آن لائن کسی ذیشان افضال کو ٹرانسفر کیے گئے۔ پندرہ جون کو پھر ذیشان افضال کے فیصل بنک کی بلیو ایریا برانچ میں ایک اور بنک اکاؤنٹ میں بہتر لاکھ روپے آن لائن ٹرانسفر کیے گئے۔

    تاہم لاہور پولیس نے روایتی سستی سے کام لیا اور انہوں نے لاہور کے ملزمان پر تو تفتیس کی لیکن انہوں نے اسلام آباد کو جانے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ پتہ کرتے کہ یہ زیشان افضال صاحب تھے جنہیں یہ رقومات بھیجی گئی تھیں۔ اس دوران پولیس نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے اکاونٹنٹ کو بھی گرفتار کر لیا جس کی تحویل میں بنک کی چیک بک تھی اور وہ چوری ہو گئی تھی جس کے زریعے بعد میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سوسائٹی کے نکلوائے گئے۔

    اس مقدمے کے دو ملزمان خالد محمود اور پرویز تو ابھی تک جیل میں تھے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ محمد زمان جس نے بنک جا کر وہ ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے نکلوائے تھے، اس کو لاہور کے ایک مجسٹریٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا جس پر سب کے کان کھڑے ہوئے کہ اس مجسٹریٹ نے کیسے ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے پچھلی پیشی پر اس مجسٹریٹ کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا۔

    اس دروان پرویز کی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل فائل کی گئی جسے جج جواد ایس خواجہ سن رہے ہیں۔ جب سپریم کورٹ کے بنچ نے دیکھا کہ اس کیس میں تو پولیس نے سرے سے کوئی کارروائی ہی نہیں کی اور اسلام آباد میں پیسے وصول کرنے والے زیشان افضال کو تو کسی نے پوچھا تک نہیں تو انہوں نے ایف آئی اے کو کہا کہ وہ اس کیس کی نئے سرے سے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے۔ یوں سولہ مارچ دو ہزار بارہ کو سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے نے پرچہ درج کر لیا۔ جب ایف آئی اے نے تفتیش شروع کی تو پھر اس سکینڈل میں نئی جان پڑ گئی۔

    اس تفتیش کے دروان پتہ چلا کہ زیشان افضال دراصل سپیکر قومی اسمبلی کے سٹاف افسر شمعون ہاشمی کا برادار نسبتی ہے اور اس کے شناختی کارڈ پر بھی شمعون ہاشمی کے جی نائین فور میں واقع گھر کا پتہ درج ہے۔ یہ شناختی کارڈ ایف آئی اے نے فیصل بنک سے لیا تھا جہاں اس کا بنک اکاونٹ تھا اور جہاں اس نے ایک کروڑ روپے کی رقومات لاہور سے آن لائن وصول کی تھیں۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ زیشان نے فیصل بنک کی بلیو ایریا برانچ سے ایک گاڑی لیز پر لے رکھی تھی اور اس کے گارنٹر بھی کوئی اور نہیں بلکہ شمعون ہاشمی اور ان کے قریبی رشتہ دار ایک سینر صحافی تھے۔

    اس پر ایف آئی اے نے شمعون ہاشمی کے گھر پر چھاپے مارے تو زیشان افضال فرار ہو گیا۔ اس دوران ایف آئی اے نے مزید تحقیقات کیں تو انہیں اس سکینڈل میں شمعون ہاشمی پر بھی شک ہوا اور اسے کہا گیا کہ وہ شامل تفتیش ہوں۔ تاہم شمعون ہاشمی نے ایف آئی اے کو ملنے سے انکار کر دیا۔ اب ایف آئی اے نے سیکرٹری قومی اسمبلی سے رابطہ کیا ہے تاکہ شمعون ہاشمی کو بارہ اپریل سے پہلے گرفتار کیا جائے کیونکہ سپریم کورٹ میں اس دن پھر اس کیس کی پیشی ہے اور عدالت پہلے ہی ایف آئی اے پر برس چکی ہے کہ وہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لے رہی۔

  275. Shirazi says:

    Hakka Bakka said:
    Khilafat is an abstract idea to implement God’s will on his people. The idea is people don’t know what is good for them.

    جیسے عراق میں صدر جارج بش ‘جمہوریت ‘ کا نفاز کرنے گۓ تھے

    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    He was definitely God’s Soldier tasked to spread the good on God’s planet.

    :)

  276. ukpaki1 says:

    salam

    some ppl here have started a debate, which they don’t have any idea whatsoever. very same people who unknowingly got into the futile discussion of majority and decision making. seems as if they don’t have any activity in life. what sort of ideas strike in these empty minds, if they find some good hobby, it’ll be good for their mental health.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  277. rollcall says:

    لالچ کو انسانی فطرت سے جوڑنے کی بجائے انسان کا انتخاب کہا جاتا تو شائد یہ زیادہ موزوں ہوتا مگر جناب ملتون فرییڈمن کیا کریں سرمایہ داری نظام کے درباری معشیت دان ہونے کی بھی تو کچھ مجبوریاں تھیں. اخر سرمایہ داری نظام کو انسانی فطرت کے قریب بھی تو ثابت کرنا ہے
    :)

  278. hypocrite says:

    ت واضح سی نظر آ رہی ہے کے ٹیکسوں کے بوجھ کا حصہ سرمایہ داروں کا کاندھوں سے ہٹ کر عام آدمی کی گردنوں پر منتقل ہو رہا ہے – یا تو امریکی سرمایہ داری کا نظام سن چالیس میں غلط تھا ، یا پھر آج غلط ہے

    ————-

    محترم حکا بکا صاحب
    اعداد و شمار مہیا کرنے کا شکریہ
    آپکا سوال بھی انتہائی دلچسپ اور بجا ہے
    میرے نزدیک اعداد جھوٹ نہیں بولتے
    لہٰذا میں اعداد کو بڑی اہمیت دیتا ہیں
    ان اعداد کے مطابق
    انیس سو تینتالیس سے لیکر سال دو ہزار دس تک ٹیکسوں میں بد تدریج اضافہ ہوا ہے
    صف نظر آ رہا ہے کے انفرادی ٹیکس اور سوشیل ٹیکس میں اضافے جی شرح کورپورٹ آمدنی
    سے زیادہ ہے
    سوال یہ ہے کے کیا کورپورٹ آمدنی اور انفرادی ٹیکس کا موزانہ درست ہے یا نہیں
    بہت ممکن ہے کے میں کچھ غلط سمھج رہا ہوں
    ویسے یہ انفرادی ٹیکس بڑھ کیسے گیا
    کیا اسکی وجہ یہ ہے کی زیادہ لوگ ٹیکس دینے لگ گئے ہیں
    یا پھر زیادہ لوگوں کی آمدنی بڑھ گئی ہے
    یاپھر پہلے ان لوگوں پر کم ٹیکس تھا
    اور اب ان پر ٹیکس بہت بڑھ گیا ہے
    یا پھر ایک کثیر تعداد کو روزگار کے مواقعہ میسر ہو گئے ہیں
    اور یہ مواقعہ کس نے میسر کیے

    اگر موقعہ ملا تو کچھ اور اعداد دیکھںنے کی کوشش کروں گا تاکے کچھ مکمل تصویر نظر اسکے

  279. hypocrite says:

    very same people who unknowingly got into the futile discussion of majority and decision making. seems as if they don’t have any activity in life. what sort of ideas strike in these empty minds, if they find some good hobby, it’ll be good for their mental health.
    ___________

    Ukpaki1 sahib

    Salam

    I think it is freedom of speech. Whoever wants to say something can. If we like the subject we participate in the discussion and if we dont, then we ignore move on.

    With utmost respect may I ask:

    a) Why do you consider this as a futile debate.

    b) Why do you think these folks may not have any activity in life. Perhaps initiation and participation in the debate may seem to be the only activity but who knows, what activities our fellow friends on this forum have in their life . (e.g. like I have an activity to think about “Paro”. Heck of hobby and mental activity it is. I like it though)

    I think these debates do help us learn. I dont know anything about any subject but have learnt a lot from all of you due to such debates. If nothing it helps me understand human nature.

  280. hypocrite says:

    انسان کا انتخاب

    ________

    رول کال صاحب
    لفظ ” انتخاب ” کا اچھا چناؤ کیا ہے آپ نے
    میں اتفاق کرتا ہوں کے انسان بہت سی عادتوں اور چیزوں کا خود انتخاب کرتا ہے
    پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے انسان کو انتخاب کرنے کی سوجھ بوجھ کس نے دی. کیا انسانی فطرت کی بدولت ہم انتخاب کر سکتے ہیں
    اور سوجھ بوجھ ہوتے ہوے بھی مجھ جیسا آدمی اکثر غلط چیزیں یا برائیاں کیوں چنتا ہے

  281. hypocrite says:

    The 39.2% corporate tax rate in US is highest in the developed world. US can further increase it at the risk of loosing future investments. Why companies will come to US if they can find much lower corporate taxes else where in developed world. The rates got to be competitive.

    ______

    Shirazi sahib

    Interesting and meaningful comment. I guess we shall also look at what benefits does corporations provide to a society. What is their contribution to the society, apart from paying low or high or no taxes

    Is it because of the corporation, that many individuals have become able to pay taxes?

  282. Shirazi says:

    A nine-member US experts’ team has arrived in Pakistan to help searching 135 people buried under snow.

    The US sent a team of experts to help Pakistan search for 135 people buried by a m@ssive avalanche that engulfed a military complex in a mountain battleground close to the Indian border.

    Pakistan will consult with the team to determine what help is needed to expedite the rescue operation.

    http://dunyanews.tv/index.php?key=Q2F0SUQ9MiNOaWQ9NzQ2Njg=
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    It seems like our strategic depth the DPC lead by Hafiz Saeed and Sheikh Rasheed can’t help with rescue operations. They are only good for waving green flag on red fort.

    :)

  283. زالان says:

    اقبال کے شاہین : زید حامد ، ضیاء الحق ، بیت الله محسود ، منگل باغ ، حمید گل ،ریاض بسرا ،مولوی فضل الله ,مسلم خان ، اجمل قصاب

  284. ukpaki1 says:

    @hypocrite sahab

    freedom of speech is right to everyone but the point is what would u say about the person who repeatedly says one thing all the time and takes pride in not agreeing with anyone, any word for such person. i think u r the witness of this thing as well. to have a debate with a person with this sort of approach to me is absolute wastage of time.

    2ndly do u only think about paro or have u ever done anything practical to get her?
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  285. FJ_ Pak says:

    لالچ کو اقتصادی بڑھوتری کے ساتھ ملانا انتہائی بچگانہ سوچ اور پرلے درجے کی حماقت ہے

    اصل انسانی جبلت ، جبلت بقاء ہے اور لالچ جبلت بقاء کے بے شمار مظاھر میں سے ایک مظاہرہ ہے

    یہاں پر یہ واضح کردوں کہ جبلتیں تین ہوتی ہے ، باقی دو انسانی جبلتیں ، جبلت روحانی اور جبلت تولید ہیں اور اسی طرح ان کے بھی بے شمار مظاھر ہیں تو انکو محدود معانی میں مت سمجھا جائے

    لالچ کو انسانی فطرت کا حصہ بنا دینا اور اس کو ماننا ایسے ہی ہوگا کہ چونکہ ہر انسان قتل کر سکتا ہے تو قتل و غارت انسانی فطرت کا حصہ ہے جو کہ انتہائی بے وقوفانہ بات ہو گی

    ف ج

  286. Javed Ikram Sheikh says:

    اجمیر کا سفر
    جانا اجمیر اک بہانہ ھے
    شائد کچھ اور ھی نشانہ ھے
    پہلے کشمیر یا بلوچستان
    کچھ حقیقت ھے، کچھ فسانہ ھے

  287. Shirazi says:

    @Hypocrite Saab

    What is their contribution to the society, apart from paying low or high or no taxes. Is it because of the corporation, that many individuals have become able to pay taxes?
    ~~~~~~~~~~~~~~~~
    Absolutely. That’s why I am saying to Hakka Bakka Saab in 2T tax collection it’s wrong to say rich’s share is just 10% or 200B. Almost half of it, 1T is from personal income tax and 370B or 37% of that is paid just by top 1 %.

    MNCs are providing employment to hundreds of millions. Their role in elevating living standards of millions is second to none. I agree the dark side is increasing gap between richest and poorest. Something needs to be done to address that issue. Declaring everything as common property is no solution. Progressive taxation is acceptable alternative but it’s far from effective.

  288. Shirazi says:

    @Fj Saab

    لالچ کو اقتصادی بڑھوتری کے ساتھ ملانا انتہائی بچگانہ سوچ اور پرلے درجے کی حماقت ہے

    اصل انسانی جبلت ، جبلت بقاء ہے اور لالچ جبلت بقاء کے بے شمار مظاھر میں سے ایک مظاہرہ ہے
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    I beg to differ. Greed might be little crude word let’s sugar coat it with something like incentive. At every stage in our life we need an incentive to work hard to get something. You like it or not Humans are driven by incentives. We work hard at school to get to college, work hard in college to find a good job, work hard in job to excel. If you pull out incentives you will barely see anyone moving beyond high school.

  289. Shirazi says:

    Just got this email from Obama’s campaign, coincidentally somewhat relevant to stuff we are discussing here …
    ________________
    Here’s a perfect example of the choice in this election:

    Right now, some millionaires and billionaires are paying a lower tax rate than their secretaries.

    President Obama wants to fix that with the Buffett Rule, which would ensure that people making more than $1 million a year can’t get special deals to pay a lower rate than many middle-cl@ss families. It’s an important part of his plan to reduce our deficit, pay for investments in programs to help our economy grow, and make the middle cl@ss stronger.

    The President, Warren Buffett himself, and hundreds of thousands of supporters think it’s the right thing to do.

    If you agree, help make it happen: Stand with President Obama and ask the richest Americans to pay their fair share.

    When it comes to our broken tax system, Romney is proposing additional breaks for the folks in the very highest brackets (folks like him, incidentally). He’d pay for them by cutting programs that invest in the middle cl@ss and help grow our economy, and by gutting Medicare and Social Security.

    It comes down to a simple contrast in priorities.

    If you believe we need commonsense solutions that ask everyone to pay their fair share to reduce the deficit and invest in the programs that grow our economy and strengthen the middle class, then show it.
    __________________________________________

    It seems like @Black Sheep Saab are standing with Romney to cut the taxes on the richest.

    :) :)

  290. Shirazi says:

    Just got this email from Obama’s campaign, coincidentally somewhat relevant to stuff we are discussing here …
    ________________
    Here’s a perfect example of the choice in this election:

    Right now, some millionaires and billionaires are paying a lower tax rate than their secretaries.

    President Obama wants to fix that with the Buffett Rule, which would ensure that people making more than $1 million a year can’t get special deals to pay a lower rate than many middle-cl@ss families. It’s an important part of his plan to reduce our deficit, pay for investments in programs to help our economy grow, and make the middle cl@ss stronger.

    The President, Warren Buffett himself, and hundreds of thousands of supporters think it’s the right thing to do.

    If you agree, help make it happen: Stand with President Obama and ask the richest Americans to pay their fair share.

    When it comes to our broken tax system, Romney is proposing additional breaks for the folks in the very highest brackets (folks like him, incidentally). He’d pay for them by cutting programs that invest in the middle cl@ss and help grow our economy, and by gutting Medicare and Social Security.

    It comes down to a simple contrast in priorities.

    If you believe we need commonsense solutions that ask everyone to pay their fair share to reduce the deficit and invest in the programs that grow our economy and strengthen the middle cl@ss, then show it.
    __________________________________________

    It seems like @Black Sheep Saab are standing with Romney to cut the taxes on the richest.

    :) :)

  291. Shirazi says:

    @ukpaki1 Saab

    So when a Mujahid explodes in Qisa Khani is it Greed or Temptation? OR when Brig. Ali decides to use F-16 on his fellow soldiers is it Greed or Temptation?

  292. rollcall says:

    ویسے کیا آپکو موجودہ کیپٹلزم کا نظام اپنی صحیح روح کے مطابق نافذ لگتا ہے
    کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ نظام کافی فائدے دیکر اب استحصال کی طرف گامزن ہو
    بہت سارے لوگ اب اپنے تجزیوں میں موجودہ مالیاتی نظام کو در پیش تھریٹس کا ذکر کرتے ہیں
    ————————————
    Easy Sahib,

    Agree with you, just see how capitalism is working, just funny :)

    http://www.youtube.com/watch?v=hjHA0PLL1p0

    We have almighty fed – printing $$$ to prosparity, lets see how long this funny system work and what comes after that 😉

  293. ukpaki1 says:

    salam
    shirazi sahab

    i think we were talking about the things in different context, i m surprised to see these remarks from u. anyhow neither will it be temptation nor greed. it’ll be insanity. i would further say that brig. ali was a brave man who raised voice against pro americanism in army and moreover hizbutahir is based on certain ideology which has nothing to do with extremism or terrorism.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  294. saleem raza says:

    یپوکرہٹ جی سلام
    “فطرت ،،
    دکھائی نہیں دیتی ،مظاہر بنا کر اپنا اپ بجھاتی ہے- مثال کے طور پر
    جب چڑیاں انڈے دینے پر اتی ہیں تو ان کے لاشعور میں یہ بات سما جاتی ہے
    کہ انے والوں کے لیے ایک نرم اور حدت سے بھر پور جگہ کا ہونا ضروری ہے اور
    اور وہ ایک لگن سے اس کام میں جُت جاتی ہیں -اور ثمر رُت کے انے تک اپنا اشیانہ
    مکمل کر لیتی ہیں ۔
    یہی حال انسانوں کا ہوتا ہے آنول جب کٹتی ہے تو نوزائیدہ بچے کو عرفان مل جاتاہے
    کہ اب اس کو خوارک نالی سے نہیں بلکہ منہ سے ملے گی ۔
    ساتھ ہی بچے کو چوسنے کا ہنر مل جاتا ہے اور بچہ ان سوتوں پر اپنا منہ رکھ دیتا ہے
    اور جب یہ نوری دھاگے اس کی بھوک مٹانے میں ناکافی ہوتے ہیں وہ ان سے بے وفائی کر کے
    ان سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
    اور پھر اس پر ایک نیا جہاں کھل جاتا ہے ۔ ماں یا باپ بننا چاہتا ہے اور اس لگن
    میں سب کچھ کر جاتا ہے ۔
    صدیوں سے یہ عمل دُیرانے جانے سے اس میں کوئی فرق نہیں ایا اور نہ ہی کبھی اے گا ،
    تن ڈھانپنے اور پیٹ پالنے کا چکر بھی فطری تقاضوں میں ہے-
    جس طرح ایک نمبر کے ہی ہائی وے پر لوگ ایک دوسرے کے مخالف جارہے ہوتے ہیں،
    اس دفعہ اپ کے پاس اوں گا مل کر اپنی اپنی پارو کی باتیں کریں گے بلکہ میں تو ،گا ، بتاوں
    گا
    :)

  295. جنسی تعلق ایک ‘ذاتی ‘ اور ‘ حیاتیاتی ‘ فعل ہے جو کہ انفرادی خواہشات کا نتیجہ ہوتا ہے یہ سماجی سطح پر قابل قبول یا نا قا بل قبول ہو سکتا ہے
    مرد کا مرد / وں سے ، عورت کا عورت / وں سے ، عورت کا مرد / وں سے ، مرد کا جانور /وں سے اور عورت کا جانور / وں سے جنسی تعلق انسانی معاشروں میں موجود رہا ہے / ہے
    —————————
    ایک یا ایک سے زیادہ افراد مل کر خاندان بناتے ہیں . عموما خاندان میں کم از کم دو افراد کے درمیان جنسی تعلق ہوتا ہے
    ابتدائی خاندان پیداوار کی ایک بنیادی اکائی تھی جس کا ایک بنیادی فعل ضروری اشیاء کی پیداوا ر تھا جس میں انسانوں کی پیداوار اور نشو و نما بھی شامل تھی
    بعض حالات میں دو افراد مل کر ایک ایسا خاندان بھی بناتے ہیں جو شادی کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتا لیکن اس میں شادی کے کئی پہلو موجود ہو سکتے ہیں
    قدیم گھرانہ خاندان کا مسکن ہوتا تھا لیکن زمانہ جدید میں ‘ غیر خاندانی ‘ گھرانے بھی وجود رکھتے ہیں
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندان ایک ‘ رضاکارانہ ‘ ادارہ بنت جا رہا ہے ،( یہی عمل مذہب کے ساتھ بھی ہو رہا ہے)
    —————————
    شادی ایک ‘ثقافتی فعل’ ہے . شادی میں جوڑے کی خواہش شامل ہو سکتی ہے اور نہیں بھی . شادی کے مختلف انفرادی ، معاشی سیاسی ثقافتی اور معاشرتی پہلو ہوتے ہیں.
    ابتدائی شادی ایک معاشرے یا خاندان کے اندر دو افراد کے جنسی رشتے کو ان افراد کے دوسرے افراد سے رشتوں سے ممتاز کرتی تھی ثقافت اور معاشرہ اپنے ارکان کے لیے شادی کے مشترکہ معیار مقرر کرتے ہیں .زمانہ قدیم میں قریبی رشتوں میں جنسی تعلق کی ممانعت اور دو مختلف نیوکلیائی یا توسیعی خاندانوں میں مرد اور عورت کی شادی کے ذریعے ‘ عورتوں ‘ کا لین دیں خاندان کے اندر ہم آہنگی اور مختلف خاندانوں کے درمیان تعلقات کی ایک مضبوط بنیاد تھا (ابتدائی انسانی سماج نے ‘الفاظ’ عورت اور اشیا کے لین دین کے ذریعے نمو پائی تھی ؟؟؟؟ )
    شادی شدہ افراد خاندان کا حصّہ بن کر آپس میں جنسی تعلق اور آپس میں اور دوسروں کے ساتھ پیداوار اور لین دین کے رشتوں سے بندھے ہوتے تھے
    شادی کہاں ہو گی کب ہو گی کیسے ہو گی ان اقدار کا تعین خاندانی پیداواری اکائی کی ضروریات کے تحت کی جاتا تھا جسے مخالف جنس کے درمیان شادی پورا کرتی تھی کیونکہ خوراک کی طرح ایک مخصوص کم سے کم تعداد میں افراد اس اکائی کی ضرورت تھے
    —————————
    قدیم زمانے سے شادی کے ادارے کے معیاروں سے رو گردانی کی مثالیں موجود ہیں
    قدیم ہندوستان میں عورت اور مرد کے درمیان کسی اور فرد کی غیر موجودگی میں صرف ذاتی زبانی معاہدے پر بغیر کسی منتر کے شادی کے شواہد موجود ہیں (گاندھرو بیاہ کی اصل شکل )
    تیسری صدی عیسوی میں مصر میں سگے بہن بھائیوں کی شادی کی رسم کے تاریخی شواہد موجود ہیں – یہ شادی ایک باقاعدہ شادی ہوتی تھی جس میں شادی کی دعوت، معاہدہ ، بچے ، طلاق سمیت کافی رسمی عناصر موجود تھے. ایسی ہی شادیاں عموما سوتیلے بہن بھائیوں کے درمیان دوسرے معاشروں میں بھی ہوتی تھیں لیکن عام طور پر یہ حق صرف اشرافیہ کو حاصل تھا ( شاید اس لیے کہ اشرافیہ کی سیاسی اور معاشی ضروریات عا میوں کی ضروریات سے مختلف تھیں ؟؟؟؟؟)
    ہم جنسی محبت مختلف زمانوں میں وجود رکھتی تھی جس سے متعلق رومانوی داستانیں بھی موجود ہیں ———————-
    شادی کا ادارہ اپنے وقت کی ضروریات کے تحت وجود میں آیا اسے مذہب یا ریاست وجود میں نہیں لائے
    تاہم بعد میں مذہب اور ریاست نے بھی شادی کے لیے مشترکہ معیار طے کرنا شروع کیے . جیسے ریاست یا / اور مذہب طے کرتے تھے کہ کس طرح کی شادی کے بچے قانونی ہیں اور کون سے حرامی .
    ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں شادی کے معاملات میں ریاست پر مذہب کو فوقیت حاصل ہے
    زیادہ تر حالات میں شادی کی موجودہ شکل مذہب کے گرد گھومتی ہے اور شادی ایک ادارے کے طور ‘سیکولر ‘ حیثیت اختیا ر نہیں کر سکی
    روایتی شادی کی موجودہ شکل اس دور میں وجود میں آئ جب عورت کی حیثیت مرد سے کم تر ہو چکی تھی . موجودہ دور میں جبکہ عورت کی حیثیت کا تعین نئے سرے سے ہو رہا ہے آزادی نسواں کے حامیوں کے نزدیک شادی فرسودگی کی علامت ہے
    جدید صنعتی معاشروں میں ایسی مثالیں موجود ہیں جھاں ریاست سے پہلے مذہب نے ہم جنس شادی کو تسلیم کیا
    بعض ملکوں میں ہم جنس جوڑوں کے قانونی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو وہ تمام فوائد دئیے گئے ہیں جو کھ شادی شدہ جوڑوں کو حاصل ہیں
    جن علاقوں میں ہم جنس جوڑوں کے قانونی حقوق کو تسلیم کیا گیا ان میں سے کئی میں اس کا ایک مقصد شادی کے روایتی تصور کو بچانا بتا یا گیا
    —————————
    صنعتی معاشروں میں پچھلی چا ر پانچ دہائیوں سے شادی کے ادارے میں کچھ تبدیلیاں آ رہی ہیں
    شادی کی شرح کم اور طلاق کی شرح زیادہ ہوئی ہے .
    صنعتی دنیا میں غربت اور نسل شادی کو براہ راست متاثر کر رہی ہیں . غریب عورتوں میں شادی کی شرح کم ہو رہی ہے
    زیادہ تعلیم یافتہ جوڑوں میں طلاق کی شرح کم ہے
    غیر شادی شدہ ماؤں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے یہ اضافہ کم تعلیم یافتہ ماؤں میں زیادہ ہے
    ایک مرد کے ایک سے زدہ عورتوں سے بچوں اور ایک عورت کے ایک سے زیادہ مردوں سے بچوں میں اضافہ ہو رہا ہے
    ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یا تو اکیلی ماں کے ساتھ پل رہے ہیں یا ایسے خاندان میں جہاں صرف ماں یا باپ میں سے ایک کے ساتھ ہی خونی رشتہ ہے
    بعض ملکوں میں ‘ سنگل پیرنٹ ‘ خاندان کو زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ عورتوں کی ترجیح بن رہی ہے اور شادی سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کی اہمیت کم ہو رہی ہیں
    عورتوں کے معاشی سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لینے سے وہ دوبارہ اسی خودمختاری کی خواہاں ہے جو اسے ہزاروں سال پہلے حاصل تھی جبکہ شادی کا ادارہ جاگیرداری اور مذہب کی طے کردہ روایات میں جکڑا ہوا ہے
    مغربی دنیا خصوصا برطانیہ میں شادی کے اخراجات بہت زدہ ہیں جس کی وجہ سے شادی جوڑوں کی ترجیح نہیں رہتی

    —————————
    شادی کے حوالے سے نئی نظریاتی بحثیں شروع ہوئی ہیں جن کا بنیدی نکتہ یہ ہے کہ شادی کی کچھ جہتیں جدید معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں
    ایک مکتبہ فکر کے نزدیک شادی چونکہ ایک ‘استحصالی ‘ ادارہ ہے اس لیے اس کی نئی تعریف متعین کی جائے اور اس کو محض ‘بچوں اور والدین ‘ کے درمیان رشتے کے طور پر دیکھا جائے. اسی سے متعلق ایک سوچ یہ بھی ہے کھ خاندان کا ایک مقصد معاشرے میں بچوں کے بڑوں پر انحصار کی ضرورت کو پورا کرنا ہے اس لیے خاندان کی تعریف میں صرف ماں اور بچوں کو شامل کیا جائے
    ایک تجویز یہ ہے کہ شادی کو خاندان کی ‘ترجیحی ‘ حیثیت کے طور پر ختم کر دیا جائے اور اس کا مرتبہ نئے سرے سے متعین کیا جائے
    ایک حلقہ یہ سمجھتاہے کہ شادی صرف دو افراد کے درمیان تعلق کا معاہدہ ہونا چاہیے اور اس کی خصوصی قانونی حیثیت ختم کر دینی چاہئیے
    کافی جگہوں پر ہم جنس شادی کو ‘قانونی شراکت’ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے . لیکن بعض حلقوں کے نزدیک یہ شراکت ‘ کم تر ‘ حیثیت رکھتی ہے اس لیے شادی کو پرائیویٹ کر دیا جائے اور شراکت کی صرف ایک قانونی حیثیت ہو جو کہ ہم جنس اور مخالف جنس رشتوں پر یکساں لاگو ہو اس قا نونی حیثیت سے تمام فرسودہ چیزیں نکال دی جائیں اور صرف وہ چیزیں رکھی جائیں جو جدید اقدار سے مطابقت رکھتی ہوں. اگر لوگ روایتی شادی کرنا چاہتے ہوں تو ‘ مذہبی شادی ‘ کر لیں
    شادی کو مکمل طور ختم کرنا اور اس کی جگہ ایک نئے قانون کو لانا کئی جگہوں پر اس لیے مشکل ہے کھ عدالتیں شادی کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر چکی ہیں
    تحقیق میں یہ بات سامنے آئ ہے کھ غیر شادی شدہ جوڑوں میں باہمی ذمہ داری کی کمی ہوتی ہے اور یہ تعلق دیرپا نہیں ہوتا . یہ شبہ ظاہر کیا جا تا ہے کھ شادی کو ختم کرکے صرف قانونی شراکت کو قائم رکھنے سے شادی سے وابستہ باہمی ذمہ داری اور تعلق کا احساس کم ہو جائے گا
    ‘قانونی شراکت ‘ کو سب کے لیے یکساں کرنے اور مذہبی شادی کو افراد کی مرضی پر چھوڑ دینے سے ایک مسلہ یہ ہو سکتا ہے کھ مذہبی لوگ قانونی شراکت کے تقاضے پورے کرنے سے انکار کر دیں اور سرکاری فوائد سے محروم ہو جائیں

  296. جناب فارغ جذباتی صاحب
    آپ نے شادی اور ریاست کے موضوع پر بات شروع کی تھی . میں نے نقلیں کرکے اوپر کچھ غیر مربوط بیانات لکھے ہیں جن پر بات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے

  297. saleem raza says:

    پاکستان کے ڈنگر اعظم نے توانائی کانفرنس جو اہم فیصلے کیے گیے ہیں ،
    ان میں ایک یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ سب کے لیے برابر ہوگی ۔ گی گی گی گے گے گے ،
    مھجے تو یہ خود بھی گی گے ہی لگتا ہے !
    اور گھڑیاں اگے پھچے کرنے کی بجاے دفتر کے اوقات تبدل کیے جاہیں گے ،

    :)

  298. Hakka Bakka says:

    ویسے یہ انفرادی ٹیکس بڑھ کیسے گیا
    کیا اسکی وجہ یہ ہے کی زیادہ لوگ ٹیکس دینے لگ گئے ہیں
    یا پھر زیادہ لوگوں کی آمدنی بڑھ گئی ہے
    یاپھر پہلے ان لوگوں پر کم ٹیکس تھا
    اور اب ان پر ٹیکس بہت بڑھ گیا ہے
    یا پھر ایک کثیر تعداد کو روزگار کے مواقعہ میسر ہو گئے ہیں
    اور یہ مواقعہ کس نے میسر کیے

    ===============
    محترم ہائپوکریٹ صاحب
    بل کلنٹن نے اپنی کتاب میں اپنی اقتصادی پالسیوں کا دفاع کرتے ہوۓ بڑی دلچسپ پاتیں بیان کیں تھیں – انکے پیشرو بڑے بش صاحب کے زمانے میں پرائیویٹ سیکٹر ایک بھی نئی ملازمت نہیں پیدا کر سکا – بل کلنٹن کے دور میں بائیس ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں – بل کلنٹن کے مطابق کام کی ابتدا پبلک سیکٹر سے ہوئی – یعنی سب سے پہلے چار ملین نئی سرکاری ملازمتیں پیدا کی گئیں – پھر سرکاری فنڈ سے ہی تین ملین نۓ اسمال بزنس کے لئے قرضے دیے گۓ – بل کلنٹن کے خیال میں اقتصادیات کی بہتری مڈل کلاس کو مضبوط کرنے سے شروع ہوتی ہے – اس ہی مڈل کلاس کے لوگوں سے ہی بزنس کارپوریٹ کے شیر ہولڈر یا حصص کے خریدار پیدا ہوتے ہیں اور اس ہی مڈل کلاس سے ہی کنزیومر پیدا ہوتا ہے – اوران دونوں باتوں سے بزنس کارپوریٹ کو مضبوط ہوتی ہے – اب اگر اس قدرتی سائکل کو چلانا ہے تو بزنس کارپوریٹ کو ٹرکل ڈاون افیکٹ کے ذریعہ مڈل کلاس کو مضبوط کرنا پڑے گا ورنہ سائکل کا پہیہ رک جائیگا

    بل کلنٹن کے فارمولے کے مطابق معاشیات کی ترقی کی ابتدا پبلک سیکٹر کی پیشرفت سے ہوتی ہے ، اور اقتصادیات کی اصل قوت مڈل کلاس ہوتی ہے نہ کہ بزنس کارپوریٹ – بزنس کارپوریٹ کا بڑھنا مضبوط مڈل کلاس کا تابع ہے ہوتا ہے – اور ایسا سرمایہ داری نظام کی حدود میں میں بھی ہوتا ہے

    لہٰذا اب موجودہ حالات کو دیکھا جاۓ تو چھوٹے بش صاحب کے زمانے میں اکانومی گر جانے کے بعد سب سے پہلے پیشرفت پبلک سیکٹر کو ہی کرنی پڑی مگر پبلک سیکٹر بجاۓ اسکے کہ مڈل کلاس کو مضبوط کرتا ، اس نے بنکوں کو بیل آوٹ کرنا اور کاریں بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ ساجھے دار بننا شروع کر دیا – یہ لوگ ایک درمیان کا اہم مرحلے یعنی مڈل کلاس کو مضبوط کرنے کا مرحلہ گول کر گۓ – اس کی توجیہ یہ پیش کی گئی کے بنکوں اور کاریں بنانے والی کمپنیاں مضبوط ہوں گی تو ٹرکل ڈاون افیکٹ ہوگا – مگر ایسا اب تک کچھ نہیں ہوا – لہٰذا مجھے تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اقتصادیات میں ترقی مڈل کلاس کی مضبوطی سے ہوتی ہے – وہ پبلک سیکٹر ہو یا ٹرکل ڈاون افیکٹ ، اگر مڈل کلاس کو مضبوط نہیں ہو گی تو اقتصادی ترقی کی سائکل رک جائیگی

  299. پاکستانی سیاستدان says:

    پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لئے کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیئے؟

    امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، چائنہ، جاپان، کوریا، ترکی، ملائیشیا میں سے پاکستان کو کس ملک کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیئے؟

  300. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان کے میڈیا پر بار بار یہ ذکر کیا جاتا ھے
    ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ایوب خان نے پیدا کیا …..
    نواز شریف کو جنرل ضیاء الحق نے پیدا کیا …….
    عمران خان کو جنرل پرویز مشرف نے پیدا کیا ……
    ********یہ بات کیوں نہیں کرتے ….
    کہ محمد علی جناح صاحب کو …انگریزوں نے پیدا کیا

  301. saleem raza says:

    پاکستانی سیاستدان said:
    پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لئے کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیئے؟

    امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، چائنہ، جاپان، کوریا، ترکی، ملائیشیا میں سے پاکستان کو کس ملک کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیئے؟
    ———

    ان سب ممالک کو پاکستان کے حکمرانوں کواپنا رول ماذل بنانا چاہیے اور سبق سکھنا چاہیے ، کہ قوم کو کیسے لوٹا اور منگائی سے کیسے کوٹا جاتا ہے ،
    کیا بات ہے اج اپ نے روف کلاسرا کا کالم نہیں لگایا ،

  302. saleem raza says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    پاکستان کے میڈیا پر بار بار یہ ذکر کیا جاتا ھے
    ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ایوب خان نے پیدا کیا …..
    نواز شریف کو جنرل ضیاء الحق نے پیدا کیا …….
    عمران خان کو جنرل پرویز مشرف نے پیدا کیا ……
    ********یہ بات کیوں نہیں کرتے ….
    کہ محمد علی جناح صاحب کو …انگریزوں نے پیدا کیا
    ——-
    شیخ جی یہ کام اپ پاکستان کے کسی بھی چوک میں کھڑے ہو کر سکتے ہیں،
    اور مھجے امید ہے اپکو رزلٹ بھی اُسی وقت مل جاے گا !

  303. Hakka Bakka says:

    hypocrite said:
    The 39.2% corporate tax rate in US is highest in the developed world. US can further increase it at the risk of loosing future investments. Why companies will come to US if they can find much lower corporate taxes else where in developed world. The rates got to be competitive.

    ______

    Shirazi sahib

    Interesting and meaningful comment. I guess we shall also look at what benefits does corporations provide to a society. What is their contribution to the society, apart from paying low or high or no taxes

    Is it because of the corporation, that many individuals have become able to pay taxes?

    ===================

    محترم شیرازی صاحب اور ہیپوکرئیٹ
    سارے کے سارے بزنس کارپوریٹ کے ٹیکس کا اوسط نکال کر پیش کرنے سے ایک گڑ بڑ ہو جاتی ہے – ساری کمپنیاں ایک جتنی امیر نہیں ہوتیں – میں پروگریسو ٹیکس کلیکشن کو زیادہ درست سمجھتا ہوں – میرے خیال میں جو بہت بڑی مچھلیاں ہیں ان پر کارپوریٹ ٹیکس بڑھانا چاہیے اور چھوٹی بزنس کارپوریشن پر کارپوریٹ ٹیکس جوں کا توں رکھا جاۓ یا پھر آپ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے چھوٹی کارپوریشنوں پر ٹیکس کم بھی کم کیا جا سکتا ہے – جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ آئی ایس آر کے سروے کے مطابق دو ہزار دس میں پنتالیس بڑی کمپنیوں نے ٩٢ بلین ڈالر کارپوریٹ ٹیکس دیا ہے – یعنی دو ٹریلین کے مجموعی ٹیکس کلیکشن میں ان سینکڑوں بلین ڈالر کے اثاثے رکھنے والی کمپنیوں سے صرف ٩٢ بلین ڈالر ؟ یہی اصل مسلہ ہے – یعنی امریکی اکانومی گویا ایسا ریسٹو رانٹ بن کر رہ گئی ہے جہاں جو جتنا زیادہ کھانا کھاۓ گا ، اتنا ہی کم بل ادا کریگا

  304. Hakka Bakka says:

    Shirazi said:
    @Hakka Bakka Saab

    So your argument is why only 10% of total tax is from corporations why not 50% or perhaps even more?

    The 39.2% corporate tax rate in US is highest in the developed world. US can further increase it at the risk of loosing future investments. Why companies will come to US if they can find much lower corporate taxes else where in developed world. The rates got to be competitive.

    =========================

    ” Some claim U.S. corporate taxes rank highest in the developed world. Others argue the opposite. When we cut through the rhetoric, a clear but complex answer emerges: Corporate taxes should be increased for most companies—and decreased for a few. The tax structure needs to be repaired to eliminate bad incentives that threaten our economy “.

    ” Many economists agree that when tax rates soar above 70 percent, growth suffers. Cutting taxes at this level definitely stimulates growth. However, these same economists also agree that when tax rates dip below 30 percent, further cuts don’t boost the economy. Entrepreneurs and investors simply don’t respond to an additional incentive. They are already as strongly incented as they can possibly be. ”

    http://www.usnews.com/opinion/blogs/economic-intelligence/2012/04/04/the-truth-about-corporate-tax-rates

    محترم شیرازی صاحب

    آپ نے لالچ کا متبادل لفظ
    Incentive
    بتایا ہے – اوپر کے لنک کا آرٹکل کو پڑھیے

    ” The tax structure needs to be repaired to eliminate bad incentives that threaten our economy “.

    یعنی ” بیڈ انسینٹیو “بھی ہوتا ہے

  305. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear Salim Raza Sahib,
    “””””
    Javed Ikram Sheikh said:
    پاکستان کے میڈیا پر بار بار یہ ذکر کیا جاتا ھے
    ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ایوب خان نے پیدا کیا …..
    نواز شریف کو جنرل ضیاء الحق نے پیدا کیا …….
    عمران خان کو جنرل پرویز مشرف نے پیدا کیا ……
    ********یہ بات کیوں نہیں کرتے ….
    کہ محمد علی جناح صاحب کو …انگریزوں نے پیدا کیا
    ——-
    شیخ جی یہ کام اپ پاکستان کے کسی بھی چوک میں کھڑے ہو کر سکتے ہیں،
    اور مھجے امید ہے اپکو رزلٹ بھی اُسی وقت مل جاے گا !
    “”””””””
    I agree to your suggestion. Looking at ground reality through Pakistan Media where we are experiencing a constant and consistent campaign about the miseries of Pakistan, one is justified ot get an impression, if proper Home Work was not done by Muslim League in 1946-47.
    Actually I wanted to convey the message that blame by politicians at Talk Shows about, ‘Who was planted by Whom’, is nonsesnse. A biological birth of a democratic child, during the Martial Law was impossible to stop.

  306. Shirazi says:

    @Javed Sheikh Saab

    یہ بات کیوں نہیں کرتے ….
    کہ محمد علی جناح صاحب کو …انگریزوں نے پیدا کیا
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

    :) :)

  307. saleem raza says:

    Shirazi said:
    @Javed Sheikh Saab

    یہ بات کیوں نہیں کرتے ….
    کہ محمد علی جناح صاحب کو …انگریزوں نے پیدا کیا
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

    ——
    اور شرم تم مگر آتی نہیں

  308. Shirazi says:

    @Hakka Bakka Saab

    Bill Clinton’s views on economics are very convincing. As they say nothing succeeds like success. Twenty two million jobs speaks for themselves but he still explained his success very well. It wasn’t fluke as few on right says. Public sector spending pays off.

    You are right we haven’t seen similar success under Obama yet but I think his biggest success is he was able to avoid another great depression. He would have been little more successful if US wasn’t engaged in any war like Clinton days. He wanted to wrap wars at the earliest but it’s hard to convince Generals to leave the battle field.

  309. saleem raza says:

    شیخ جی معزرت کے ساتھ میرا نام سیلم رضا ہے نا کہ سلِم رضا
    مانا میری صحت کمزور ہے لیکن اتنی بھی نہیں – نام مت بھگاڑیں ! شکریہ

  310. saleem raza says:

    شرازی جی جناح صاحب جس طرح بھی اے میرے لیے توفرشتہ بن کر اے ،
    اس لیے مھجے اپنی غرض سے غرض ہے ۔
    انہوں نے جو ہمارے لیے کیا سو کیا اب ہم نے دیکھنا ہے کہ اب ہم ان کے دہیے ہوے کو
    سمبال سکتے ہیں یا اپ کی طرح احسان فرموش ہو کر ان کچڑ آچھالتے ہیں،

  311. saleem raza says:

    شرازی جی میں رات کوسوتے وقت اس طرح کا موڈ بنا کر سووں گا کہ صبح غصہ کرنے
    میں کرنے میں اسانی ہو !
    گڈ نایٹ

  312. Hakka Bakka says:

    He would have been little more successful if US wasn’t engaged in any war like Clinton days.

    محترم شیرازی صاحب
    میرے خیال میں جنگوں کی طوالت کے لئے اصل دباؤ دائیں بازو والوں کا تھا – در حقیقت یہاں کی اصل اسٹیبلشمنٹ یہی ملٹی نشنل کمپنیاں ہی ہیں – جس طرح پاکستان میں جماعت اسلامی ، پی ٹی آئی یا مسلم لیگ فوج کے قابو میں ہیں اس ہی طرح یہاں کا دایاں بازو در اصل بزنس کارپوریٹ کے کنٹرول میں ہے – یہ لوگوں کو قومی مفاد اور سلامتی وہی کچھ بتاتا ہے جو بزنس کارپوریٹ کے مفاد میں ہوتا ہے – اسلحہ ساز کمپنیاں اور عراق کی ری بلڈنگ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنیاں ان جنگوں سے براہ راست مستفید ہوئی ہیں اور رجعت پسند ریپبلکن اسے قومی مفاد قرار دے رہے تھے – یہ ایسا ہی ہے کہ پاکستان کی فوج سیاچن کی پہاڑیوں کی حفاظت کے لئے کروڑوں روپے وصول کرتی ہے اور دائیں بازو والے اسے قومی مفاد قرار دیتے ہیں – بھلا کیا قوم کو ان سنگلاخ چٹانوں کے پتھر چاٹنے تھے ؟

  313. EasyGo says:

    لالچ کو انسانی فطرت سے جوڑنے کی بجائے انسان کا انتخاب کہا جاتا تو شائد یہ زیادہ موزوں ہوتا
    =========
    رول کال صاحب
    مجھے آپ سے اتفاق ہے
    مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ فطرتاً انسان برا، لالچی یا مفاد پرست ہے
    فارغ جذباتی صاحب نے انسانی جبلوتوں پراچھا بیان کیا ہے
    آخر ماں بات اولاد کو کیوں پالتے ہیں اور اسکے لے کیوں اتنا کچھ کرتے ہیں
    آخر لوگ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والے کو ہسپتال کیوں پہنچاتے ہیں
    آخر کوئی بچہ، بوڑھا، اندھا سڑک پار کر رہا تو مدد کرنے کو دل کیوں کرتا ہے

  314. EasyGo says:

    ایک اچھا متوازن قدرے غیر سیاسی بیان

    [img]http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20120410/Sub_Images/1101494887-1.gif[/img]

  315. پاکستانی سیاستدان says:

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=611428

    ایک اور سفر …جرگہ…سلیم صافی

    میاں نوازشریف کو ڈاکٹر کرمانی کی صورت میں ذاتی معاون بھی ایسا ملاہے کہ جواپنے والد احمد سعید کرمانی کی طرح سراپا شرافت ہیں۔ 5/اپریل کو انہوں نے فون پر بتایا کہ میاں نوازشریف کی خواہش ہے کہ کل (6/اپریل) کو ان کے دورہ پشاور کے دوران‘ میں بھی ان کا ہم سفر بن جاؤں تاکہ راستے میں تبادلہ خیال ہوسکے۔ میاں نوازشریف اس روز امیرمقام کو اپنی جماعت میں مقام دلوانے کیلئے پشاور جارہے تھے۔ وہ امیر مقام جنہوں نے چند سال کے مختصر عرصے میں اپنے لئے وہ مقام پیدا کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی پوری مسلم لیگ(ق) ان کی مٹھی میں بند ہوگئی اور جسے اب انہوں نے میاں نوازشریف کے قدموں میں لاکے رکھ دیا۔ ہم پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے پشاور کے لئے روانہ ہوئے تو میاں نوازشریف کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے رہنے والے سردار مہتاب احمد عباسی یہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ساتھ والی نشست پر میاں صاحب تشریف فرما تھے جبکہ پچھلی نشست پرویز رشید ‘ میجر عامر اور میرے حصے میں آئی تھی۔ میاں صاحب نے چونکہ عمران خان کے ساتھ میاں والی کے سفر سے متعلق میرے کالم کو پڑھ لیا تھا ‘ شاید اسلئے ہمارے کھانے پینے کے بارے میں اس دن ضرورت سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرکے پورے سفر کے دوران ہماری مہمان نوازی کرتے رہے حالانکہ بار بار ہم یہی فریاد کرتے رہے کہ خیبر پختونخوا میں وہ مہمان اور ہم میزبان ہیں۔لیکن یہ فرق واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ میاں والی کے سفر کے دوران زیادہ وقت میاں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کا تذکرہ ہوتا رہا لیکن پشاور کے سفر میں میاں نوازشریف نے ایک بار بھی عمران خان کا ذکر نہیں کیا۔ گاڑی میں کھانے پینے کی دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ عربی قہوے کا بھی انتظام کیا گیا تھا جسے وقتاً فوقتاً میاں صاحب کی فرمائش پر پرویز رشید ہمیں پیش کرتے رہے۔ بیٹھتے ہی میاں صاحب نے حسب عادت محبت بھرے انداز میں مجھ پر فقرے کسنے شروع کئے تو میں نے جواباً امیرمقام جیسے پرویز مشرف کے ماضی کے بھائی کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر طنز کرنا شروع کیا۔ عرض کیا کہ میاں صاحب چندسال قبل میں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ چوہدری صاحبان سمیت پورے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ صلح کر لیں اور عملی سیاست کے تقاضے کے طور پر سب کو معاف کردیں لیکن آپ کہہ رہے تھے کہ جس نے پرویز مشرف کے ساتھ ہاتھ بھی ملایا ہو‘ وہ قابل معافی نہیں لیکن آج جنرل پرویز مشرف کے پستول بردار ساتھی کو اپنی جماعت میں شامل کرنے جارہے ہیں،کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ میاں صاحب ہنسے اور کہنے لگے کہ امیر مقام نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ وفا ضرور کی ہے لیکن میرے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔ اس دوران میرے ساتھ بیٹھے بڑے بھائی میجر عامر جوگزشتہ بیس سال سے میاں نوازشریف کی فی سبیل اللہ وکالت کررہے ہیں‘ میدان میں کود پڑے ۔ کہنے لگے کہ سلیم!جنرل مشرف کا ساتھ دینے والے مسلم لیگی تین قسم کے ہیں۔ ایک وہ جنہیں میاں نوازشریف نے عزت اور منصب دیا تھا لیکن انہوں نے بے وفائی کی اور جنرل پرویزمشرف کے ساتھ جاکر تمام اخلاقی حدود پھلانگ گئے، یہ لوگ کسی صورت قابل معافی نہیں ۔ دوسرے وہ تھے کہ جوامیر مقام اور محمد علی درانی کی طرح پہلے کبھی میاں نوازشریف کی جماعت میں نہیں رہے تھے۔ وہ ایک اور پس منظر سے سیاسی افق پر نمودار ہوئے اور اپنے سیاسی کیرئیر کو بنانے کیلئے انہوں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا۔ ان لوگوں نے میاں صاحب کو دھوکہ دیا ہے اور نہ وہ کسی بے وفائی کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ لوگ اگر آتے ہیں تو انہیں عزت کے ساتھ گلے لگالینا چاہئے۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو خصلتاً بے وفا اور کم ظرف نہیں لیکن پرویز مشرف کے جبر اور دباؤ کے سامنے ٹھہر نہ سکے، میرے نزدیک یہ لوگ بھی قابل معافی ہیں۔ غیرمعمولی روابط اور تعلقات رکھنے والے میجر عامر جو دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنے کا فن جانتے ہیں‘ کے ان دلائل کے بعد میرے پاس بھی خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا اور میاں صاحب کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات جیسے ایشوز پر گفتگو شروع کردی لیکن میاں صاحب کے ذہن پر صدر آصف علی زرداری کا بیان سوار تھا ۔بار بار پوچھتے رہے کہ یہ زرداری صاحب کو کیا ہوگیا ہے اور انہوں نے میرے والد صاحب کے بارے میں یہ لہجہ کیوں اختیار کیا۔ میجر عامر کہنے لگے کہ یہ خود ہماری سمجھ سے بھی بالاتر ہے مگر یہ کہہ کر صدر صاحب نے اپنا قدچھوٹا کیا ۔ میں نے بیچ میں گرہ لگائی کہ میاں صاحب موجودہ دور میں سیاست کے اندراس روش کا آغازعمران خان اورخود آپ نے کیا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے میاں شہباز شریف صدر زرداری کے بارے میں جو سخت زبان استعمال کررہے ہیں‘ ہوسکتا ہے یہ اس کا ردعمل ہو۔ اس پر نوازشریف نے سردار مہتاب کو مخاطب کرکے کہا کہ سردار صاحب! میں تو بہت سمجھاتا ہوں لیکن آپ لوگ بھی شہباز شریف کو سمجھایا کریں کہ وہ ایسا نہ کریں۔ میں نے کل ان کا بیان پڑھا ہے کہ وہ زرداری صاحب کو صدر نہیں مانتے۔ مجھے یہ بیان جمہوری رویوں سے مطابقت رکھنے والا نہیں لگا۔ میں خود بھی ان سے بات کروں گا۔ شہباز وزیراعلیٰ ہیں اور ان کو ایسا نہیں کہنا چاہئے پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے صافی صاحب! میرا مطمح نظر اقتدار نہیں، میں نے تجربات اور حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ جس اقتدار کے ساتھ اقدار اور اختیار نہ ہوں ‘ وہ اس ملک کے مسائل حل نہیں کرسکتا ۔ میری جدوجہد کا محور یہی ہے کہ اقتدار یہ نہ ہو کہ اہم فیصلوں کا اختیار کہیں اور ہو یا پھر اس کے ساتھ ہماری اقدار نہ ہوں۔ پھر کہنے لگے کہ صدر زرداری کے بیان پر میری بیٹی مریم کا ٹوئیٹر پر ردعمل آیا جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے لیکن ہم فی الحال خاموش ہیں۔ یہ پڑھ کر میں نے مریم کو فون کیا اور اس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور مجھے خوشی ہے کہ اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔ میں تو خود پرویز مشرف کو بھی مشرف صاحب کہتا ہوں۔ پھر میں کیوں کر منتخب صدر کے بارے میں نازیبا لہجے کی تلقین کرسکتا ہوں۔
    موٹروے پر پشاور کے سفر کے دوران ادبی ذوق رکھنے والے سینیٹر پرویز رشید حسب عادت زیادہ تر باادب بیٹھے دائیں بائیں ہرے بھرے کھیتوں کے نظارے سے مسحور ہوتے رہے۔ جب زیادہ مسحور ہوجاتے تو ہم سب کو بھی موٹروے کی دونوں جانب مناظر کے مختلف رنگوں اور مختلف رویوں کی طرف متوجہ کرتے۔ اس ملک کے حسن سے بات شروع ہوتی اور مستقبل پر جاٹھہرتی۔ صوابی میں میجر عامر کے فارم ہاؤس اور پھر رشکئی انٹرچینج کے قریب میرے بھائی اور عزیزوں کے گھروں کی موٹروے سے قربت کو دیکھ کرمیاں صاحب ہنسے اور کہنے لگے کہ لگتا ہے موٹروے سے سب سے زیادہ فائدہ آپ کو اور میجر عامر کو ہوا ہے۔ میں نے اثبات میں سرہلایا تو میاں صاحب کہنے لگے کہ صافی صاحب! اس موٹروے کی مخالفت اس وقت کے صدر غلام اسحاق نے بھی کی تھی اور قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی۔ میرے خلاف چارج شیٹ میں موٹروے کی تعمیر بھی شامل تھی۔ آپ کو پتہ ہے یہ موٹروے اکیس ارب روپے کی لاگت سے بنی۔ آج اسکی صورت میں پاکستان کے پاس دو سو بہتر ارب روپے کا اثاثہ موجود ہے۔ میں نے سنا ہے کہ حکومت اس دوسو بہتر ارب روپے کے اثاثے کے خلاف بانڈز لانے والی ہے۔ یہ جو اربوں روپے آئیں گے‘ مجھے دکھ ہے کہ وہ اللے تللوں اور لوٹ کھسوٹ کی نظر ہوجائیں گے حالانکہ پہلی فرصت میں اس کی دوبارہ کارپیٹنگ ہونی چاہئے کیونکہ رولز کے مطابق دس سال بعد موٹروے کی دوبارہ کارپیٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ یہ موٹروے اپنے اکیس ارب روپے کب کے اس وطن کو لوٹا چکی ہے۔ اس کے اطراف پر صنعتی زون بننے تھے اس نے تاشقند تک پہنچنا تھا۔ اس کے نتیجے میں جو رائلٹی ہمیں ملنی تھی اور جو معاشی سرگرمیاں وقوع پذیر ہونی تھی اس کا آپ اندازہ لگالیجئے۔ یہ پشاور جو اب دہشت گردی کی زد میں ہے ‘ یہ اس کی وجہ سے اب خطے کی تجارت کا مرکز ہوتا۔ یہاں کے لوگ آج تاشقند اور سینٹرل ایشیاء میں نہایت آسانی کے ساتھ کاروبار کرتے اور ہاں کسی ماہر نفسیات سے کبھی پوچھ لیجئے کہ اس موٹروے نے نفسیاتی عوارض کس قدر کم کئے ہیں۔ آپ اسلام آباد سے پشاور جی ٹی روڈ پر جائیں۔ پہنچنے کے بعد اپنا بلڈ پریشر چیک کریں اور پھر موٹروے پرسفر کرکے چیک کرلیں ۔ عام سڑک کا سفر مصیبت ہوتی ہے جبکہ اسکا سفر ایک پکنک ڈرائیو ہے۔ یہ موٹروے پشاور سے گوادر تک بھی بننا تھا اورکراچی تک بھی۔ اندازہ کرلیں کہ اس نے صوبوں کو کس قدر قریب لانا تھا۔ اس نے ہمیں آپس میں کتنا جوڑنا تھا۔کتنا روزگار‘ کتنا منافع اور کتنی معاشی سرگرمی‘ صحت اور ذہنی سکون دینا تھا۔ اس ایک موٹروے سے اس کا اندازہ لگائیں پھر ایک طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگے سلیم!جس شخص کا بیس سال پہلے یہ معاشی وژن ہو‘ آپ سوچ سکتے ہیں‘ اسکے سینے میں آج کیسے کیسے خواب سجے ہوں گے اور اس ملک کے حوالے سے اسکے ویژن کی کیفیت کیا ہوگی ۔ان کے اس تقریر میں رکاوٹ نہیں ڈالی اور زیادہ تر میں اثبات میں سر ہلاتا رہا تو میاں صاحب نے نہایت معصومانہ انداز میں کہا کہ صافی صاحب! پھر بھی آپ سب سے زیادہ تنقید مجھ پر کرتے ہیں،کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ آخر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ میں نے بھی فوراً جواب دیا کہ ایسا میں قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتا ہوں جس پر سب نے زبردست قہقہہ لگایا اور پھر موضوع بحث کچھ حساس معاملات بننے لگے۔

  316. پاکستانی سیاستدان says:

    @saleem raza

    کل ایک کالم لگانے کی کوشش کی تھی پر آپ نے اور آپ کی جی ایچ کیو والے پیر صاحب نے انتظامیہ کی مل بھگت سے اسے لگنے ہی نہیں دیا لگنے سے پہلے ہی ٹھا کر کے اڑا دیا۔

  317. پاکستانی سیاستدان says:

    قائد اعظم کے بارے میں بھٹو لورز کے خیالات اور انگریز نواز اور کانگریس نواز ملاؤں کے خیالات میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں ایک ہی سکے کے رخ ہیں۔

  318. پاکستانی سیاستدان says:

    @EasyGo

    میاں صاحب کے انداز گفتگو اور انداز سیاست سے لگتا ہے کہ انہوں نے ماضی سے کافی کچھہ سیکھا ہے۔

  319. Bawa says:

    لکھ دی لعنت – تھوک کر چاٹنا مردود بھٹو کے پجاریوں کا شیوہ ہے

    [img]http://jang.com.pk/jang/apr2012-daily/10-04-2012/updates/4-10-2012_103078_1.gif[/img]

  320. EasyGo says:

    http://www.youtube.com/watch?v=hjHA0PLL1p0
    =========
    رول کال صاحب
    شکریہ ایک دلچسپ ویڈیو شیئر کرنے کا، برنانکے مشکل میں تھا
    اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اصل حکمرانی طاقت سے ہے
    اورآج مالیاتی و بینکاری نظام طاقتوروں کا بہت بڑا ہتھیار ہیں
    ڈالر ہیجمنی کے نتیجے میں ساری دنیا ایک پرائیویٹ ادارے کے چھاپے ہوے کاغذ پر یقین کرتی ہے
    سوچنے والی بات ہے اگرکچھ لوگ بغیرکسی بنیاد کے نوٹ چھاپ لیں اور پھر آپس میں بانٹ لیں تو کیا وہ کچھ کیے بغیر ریسورسز کے مالک نہیں بن سکتے
    اور عوام کے ذمے ڈیفیسٹ و مہنگائی ہی آیگی

  321. EasyGo says:

    @پاکستانی سیاستدان
    میاں صاحب کے انداز گفتگو اور انداز سیاست سے لگتا ہے کہ انہوں نے ماضی سے کافی کچھہ سیکھا ہے

    =======

    ذاتی طور پر میرا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے، باقی آگے دیکھتے ہیں الیکشن تک کیا کچھ ہوتا ہے
    رحمان ملک کہہ تو رہا تھا کہ وہ تھوڑے تھوڑے کر کے راز فاش کرنا شروع کردے گا

  322. پاکستانی سیاستدان says:

    کچھہ لوگوں کی رائے ہے کہ آئندہ آنے والی زندگی میں پیپر کرنسی ختم ہوجائے گی اور اس کی جگہ پلاسٹک منی (ج