May 9, 2012

NO DISCUSSION ON RELIGIONS HERE.
Click here to post religious topics.

Share and discuss the latest Pakistani Political News and Views here. Feel free to include links to interesting videos, news, and articles from electronic media, newspapers or blogs. Always pretext a link with some explanation about the content of a link.

147 Comments

  1. Bawa says:

    saleem raza said:
    محترم جاوید شیخ صاحب
    آپ فرماتے ہیں کہ بھولا —لال قلندر — پورے جلال میں اچکا تھا –
    اور پھر بھولے نے اپکو چلنے کا اشارہ کیا –وغیرہ وغیرہ

    تو محترم شیخ صاحب تو کیا یہ — وہ ہی قلندر ہے جس کی ڈیفی نیشن اپ نے پچھلے دنوں
    بتائی تھی –یا — یہ اور قلندر ہے –
    اپ اپنی ہی باتوں پر غور کریں ورنہ پھر ہم سے شکایت نہ ہوگی ۔

    السلام و علیکم

    رضا بھائی

    بھٹو اور اسکے پجاریوں نے اپنی ڈکشنری میں سے غیرت، شرم، سچ اور اخلاق جیسے الفاظ نکال دیے ہیں. اس لیے انہیں کچھ یاد دلانے کی ضرورت نہیں

    جس طالبعلم کا گزٹ میں نتیجہ فیل لکھا ہوا ہو وہ یونیورسٹی داخلے کے لیے نہیں چل پڑتا بلکہ اپنے مکمل رزلٹ کا انتظار کرتا ہے

    یاد کریں جب بھٹو قومی اتحاد کی تحریک پانچ سو پاکستانی شہید کرنے کے بعد استیفہ دینے اور نئے الیکشن کی بجائے مڈل ایسٹ کے دورے پر نکل گیا تھا تو پوری دنیا کے پریس نے اسکے منہ پر جوتے مارے تھے اور واپس آنے پر جنرل ضیاء الحق نے قتل کیس میں اس قاتل عوام کو الٹا لٹکا دیا تھا. اسی کی پیروی کرتے ہوئے اسکا بے غیرت پجاری ملتانی نوکرانی کورٹ کے تفصیلی کا انتظار کیے بغیر بیرونی ممالک کو اپنی اوقات دکھانے نکل پڑا. اسے بھی واپسی پر اپنے کالے کرتوتوں کی سزا بھگتنی ہوگی

    بھٹو کے پجاریوں کی چیخ و پکار انکے منہ پر لگی کلک مٹا نہیں سکتی اور انہیں اپنے انجام تک پہنچنا ہی ہے. وہی عبرتناک انجام جو سارے بھٹو خاندان کا ہوا ہے

  2. Javed Ikram Sheikh says:

    ایک دن بھولے لال قلندر کے ساتھ—–
    آج ھم—بھولےلال قلندر کے —-ڈیرے پر گئے——
    بھولے کے حجرے سے آواز آ رھی تھی….
    اینکر دی ، اوپڑ دی ، گڑ گڑ دی ، بے دھیانا دی ، واۓ گرو دی . وال آف دی لالٹین دی ،
    سٹیٹ اف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ ہندوستان دی در فٹے مونھ——
    ہم نے —سلام کرنے کے بعد ——-
    بھولے لال سے پوچھا—–
    یہ بھٹو—مر جانے کے بعد بھی –آج تک زندہ —کیوں ھے—-
    کچھ لوگ اسے مردود —مردود —کہتے کہتے—-دماغی –توازن بھی —کھو چکے ہیں—
    بھولے لال قلندر نے ہمارے سوال کا کوئی جواب نہ دیا —-
    بلکہ زور زور سے —– اینکر دی ، اوپڑ دی ، گڑ گڑ دی ، بے دھیانا دی ، واۓ گرو دی . وال آف دی لالٹین دی —– کہتا رہا—-
    ہمارے بار بار اصرار پر —اس نے جواب دے دیا ——-
    بھٹو کو —مردود کہنے والے —-اس سے زیادہ –مردود اور مودود ہیں ——-
    اینکر دی ، اوپڑ دی ، گڑ گڑ دی —ان کی مردودیت اور مودودیت —-بھٹو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے گی
    اب بھولا لال قلندر –پورے جلال میں آ چکا تھا ——-اور پورے زور کے ساتھ اپنا مخصوص ترانہ گانے لگا —
    اینکر دی ، اوپڑ دی ، گڑ گڑ دی ، بے دھیانا دی ، واۓ گرو دی . وال آف دی لالٹین دی ،
    سٹیٹ اف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ ہندوستان دی در فٹے مونھ——
    اس کا مطلب تھا —کہ بھولے نے ہمارے سوال کا جواب دے دیا –اور چلے جانے کا اشارہ ت
    ———————————————
    Bhola Lal Qalandar talks like a Philosopher– after taking the full piyala of Bhang syrup.

  3. saleem raza says:

    شیخ صاحب
    اپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا – یہ کون سا قلندر ہے جس کے اشارے
    پر اپ چلتے ہیں –
    :)

  4. saleem raza says:

    anyname said:
    What a Qalandar and an internet Philospher and Thinker!!
    —–
    سر شیخ صاحب نے جو قلندر کے معنی بتاے ہیں – وہ کمنٹ ایڈمن صاحب نے شرما کر
    ختم کر دہیے ہیں –
    اچھا ہے شیخ جی اس کی تشریح خود ہی کریں –
    ورنہ یہ نیک کام میں ہی کر دوُں گا –
    :d

  5. saleem raza says:

    وعلیکم السلام باوا جی
    یہ پی پی پی والے کہہ رہے ہیں عدالت نے جگ ہنسائی کروائی ہے –
    اپنے وزیزاعظم کو لندن دورے پر ٹور کر پیچھے سے یہ فیصلہ سنا دیا ہے –
    :)

  6. saleem raza says:

    Bawa said:
    saleem raza said:

    یاد کریں جب بھٹو قومی اتحاد کی تحریک پانچ سو پاکستانی شہید کرنے کے بعد استیفہ دینے اور نئے الیکشن کی بجائے مڈل ایسٹ کے دورے پر نکل گیا تھا

    ———
    باوا جی اپ جس دور کی بات کر رہے ہیں میں اُس وقت پیدا ہوا تھا اور بہت ہی
    چھوٹا پیدا ہوا تھا – اس لیے مھجے کچھ یاد نہیں-

    :) :) :) :)

  7. saleem raza says:

    عدالت کے تفصيلي فيصلے پر حيرت نہيں ہو ئي،وزير اعظم يوسف گيلاني
    ——-
    ڈنگر گواچی گاں کا دماغ خراب ہوگیا ہے – کہتا ہے پہلے عمران اور نواز شریف
    رکن قومی اسمبلی بنیں پھر مجھ سے بات کریں –
    واہ وہی واہ اس کو دیکھ کر کسی نے کہا تھا- عقل سے بھنس بڑی ہوتی ہے

  8. زالان says:

    فیض ،حبیب جالب اور اب خلیل جبران ، لگتا ہے اسلامو فاشسٹ غیرت بریگیڈ ، علامہ اقبال کو خوب گھس گھس کر ختم کر چکے

  9. hasankhan says:

    pity on the nation who sacrificed so much for this judiciary but this indulged in politics,it was better for the judiciary not to touch the old political cases.

  10. Bawa says:

    پجاریوں میں ہیں لعنتی کیسے کیسے 

    😉 😉 😀 😀 :mrgreen: :mrgreen:
    .
    .
    [img]http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/09-05-2012/updates/5-9-2012_106231_1.gif[/img]

  11. aliimran says:

    آخر کار وہی ہونے جا رہا ہے جس کو ڈیزائن نواز شریف نے کیا مگر کچھ وجوہات کی بنا پر کام روک دیا گیا
    اور تب یہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا —– میرا اشارہ پاک انڈیا ٹریڈ اور تعلقات کی جانب ہے
    پھرمشرف نے یہ سہرا اپنے سر پر باندھنے کی کوشش کی مگر شائد اس کی کوئی بات خدا کو اچھی لگی کہ وہ
    باوجود انتہائی کوشش کے یہ بدنامی اپنے نام نہ لکھوا سکا
    مگر پی پی پی والوں کو یہ موقع ملا تو انہوں نے اسے غنیمت جانا کہ اس سے انڈیا امریکا اور عرب سب کو خوش
    کرنے اور اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ساتھہ میں لمبا مال بنانے کا دیرینہ خواب بھی پورا ہو
    رہا ہے لہذا ایک تیر سے دو شکار — بد قسمتی کہ ہمارے کسی سیاست دان بیورو کریٹ کسی ماہر معاشیات نے
    اس پر غور کرنا پسند نہیں کیا کہ اس کے ہماری معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں
    میں بھی عام آدمی کی طرح دنیا اور خصوصا ہمسایوں سے اچھے تعلقات کے حق میں ہوں مگر اس کا مطلب ہرگز
    نہیں کہ اپنے ملکی و قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی منفعت لالچ پر اس کا سودا کیا جاۓ
    بھارت کی بدنیتی اور مکاری سے کون واقف نہیں انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ ڈسنے سے باز نہیں آتے اور ہمارے
    حکمران ان سے کسی بھی قیمت پر محبت کی معراج تک پہنچنا چاہتے ہیں
    دوسرا بڑا اہم مسئلہ جس پر غور بہت ضروری ہے وہ نۓ صوبوں کا قیام ہے اس میں بھی بھارت اور مغربی طاقتوں کا
    بڑا عمل دخل ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اس ملک کو پہلے چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیں تاکہ مستقبل
    میں اسے توڑنے میں آسانی ہو
    میری سب سے درخواست ہے کہ ان حکمرانوں کا کڑا احتساب کریں اور جلد ان سب سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑوا لیں
    اس سے پہلے کہ دیر ہو جاۓ

  12. Bawa says:

    بھٹو کی پجاری ملتانی نوکرانی کے منہ سے ہڈی چھین کر نئی نوکرانی کو دینے کا فیصلہ ہوگیا

    کتنا برا ہوا؟ – اب پجاری کو پھر مریدوں سے دو دو روپے بھیک مانگنا پڑے گی
    .
    .
    [img]http://www.nawaiwaqt.com.pk/E_Paper/10-05-2012/Lahore/p1-27_27.gif[/img]

  13. Bawa says:

    سندھ کارڈ اور سرائیکی کارڈ کی ناکام کے بعد پجاریوں کی چیخیں
    .
    😀 😀 😀 😀

    .
    [img]http://www.nawaiwaqt.com.pk/E_Paper/10-05-2012/Lahore/p8-54_54.gif[/img]

  14. EasyGo says:

    یہ “پٹی دی نیشن” ہے تو تھوڑی قانون سے ہٹ کر لیکن پتہ نہیں کیوں ایسا لگتا ہے اس سے تمغہٴ شہادت کی آرزو مٹی میں مل گیی ہے

    اب جتنا مرضی ہر کوئی اپنی اپنی “پٹی دی نیشن” پیش کرے، یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ جج اتنے سادہ نہیں جتنے حکومت سمجھ رہی ہے

  15. EasyGo says:

    باوا جی

    ایسا لگتا ہے سرائیکی صوبے والا اشو بھی ٹھس ہو گیا ہے

    اب دیکھتے ہیں پی پی کی کمان سے کونسا تیر نکلتا ہے

  16. nadaan says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    Over 11000 hits within three months.

    A concept with reality is appealing for ever.

    ————————————————————————————————————–

    Congratulations to you for the landmark achieved. I revisted YouTube to watch and noticed that your replies to certain visitors comments are there but the comments of the visiotors have been removed. In particular a comment by Mr. Naqvi who pointed out that the first part of the poetry was not written by you but by someone else. Your reply without the original comments do not make sense.

    With due respect to you I think it is intellectual dishonesty. Either you should restore the original comments or remove your resplies as well. I have chosen to say this to here rather than on YouTube and I hop you wil not feel offended.

  17. Javed Ikram Sheikh says:

    I am sure the respectable blogger is not so NADAAN to miss the very First Tag about the introduction of the Episode:
    The First part was circulating at the Internet for several years and NO LOYAL PERSON CAME FORWARD TO PUT THE NAME OF KHALID IRFAN———-
    ___________________
    MY RESPONSE TO THE COMPLAINT WAS RELEASED AND POSTED AT THE DISCUSS FORUM OF THE—– PKPOLITICS ——
    CONFIRM FROM MR. S.E.MIRZA OR MADAM BEENAI——WHO CLEARED MY COMPOSITION FOR POSTING IN FEBRUARY 2009.
    —————————————————————————–

    IT WAS AFTER THE RELEASAE OF MY CONCEPT AT THE YOU TUBE—————THAT SOME SLEEPING QALANDARS STARTED DANCING.
    ————————————————————————
    NOT MUCH PEOPLE, OUT OF AMERICA, KNEW ABOUT MR. KHALID IRFAN.
    MY EPISODE HELPED TO DISCOVER THE COMPOSER OF THE COMPLAINT TO AMERICA. ______

    Muslim’s Complaint and American Response
    The “Complaint to America” was written by Mr. Khalid Irfan.
    “American Respond” was written by Javed Ikram Sheikh in January 2009

    ______
    Muslim’s Complaint and American Response
    The “Complaint to America” was written by Mr. Khalid Irfan.
    “American Respond” was written by Javed Ikram Sheikh in January 2009

    ______
    Muslim’s Complaint and American Response
    The “Complaint to America” was written by Mr. Khalid Irfan.
    “American Respond” was written by Javed Ikram Sheikh in January 2009

    _____
    Muslim’s Complaint and American Response
    The “Complaint to America” was written by Mr. Khalid Irfan.
    “American Respond” was written by Javed Ikram Sheikh in January 2009
    _____________________________
    BETTER THIS BITCHING MUST BE STOPPED—–OR —-DON’T WATCH ANY OF THE PRESENTATIONS FROM THE
    PROGRESSIVE PRODUCTIONS
    AT THE YOU TUBE.

  18. Javed Ikram Sheikh says:

    جب قلندر اور قلندری کا مفہوم سمجھا دیا گیا …
    خودی کا سر نہاں—-
    بھی اچھی طرح دکھلا دیا گیا —-
    تو پھر مسلسل –باں–باں–باں–باں
    کئے جانا—–نادانی ھے

  19. Javed Ikram Sheikh says:

    American Response
    (33 posts)
    1.
    javedsheikh
    Members
    It has, almost, become a fashion, habit and tradition to blame America for most of the problems faced by the Muslim world.
    To make a rational judgment and conclusion one must also examine the validity of such charges after reading the American Response to such criticism and condemnation.
    (This poem was presented at Friends Literary Forum in Washington, last year.)
    http://i47.tinypic.com/2i20xgm.jpg
    http://i47.tinypic.com/2ufpylx.jpg
    POSTED 2 YEARS AGO ON 09 FEB 2010 15:39 #

  20. پیارا دن says:

    کانا، کبڑا، لولا، لنگڑا گیت چور بڑھا گبھرائے گا
    دوا تو کیا دے گا یہ ظالم قوم کو چوری کا روگ لگائے گا

  21. Shirazi says:

    @FJ Saab

    You should applaud Obama for being sensitive to your thoughts …

    “And I was sensitive to the fact that for a lot of people the word ‘marriage’ was something that invokes very powerful traditions, religious beliefs and so forth”

  22. Shirazi says:

    @Black Sheep Saab

    As Nizami saab said Aslam Baig absolving himself from MehranGate is a joke. And even bigger and imminent joke ‘d be when ‘Khalil Jibran Judiciary – Pity the Nation’ will accept his plea.

    :)

  23. nadaan says:

    Javed Ikram Sheikh

    This is what I was afraid of. Please forgive me. All I said was that the original post of Mr.Naqvi should not have been removed and I do apologise for saying that. I hope you will gorgive me.

    As far not watching your video, I thought the reason you posted the news of 10,000 views was that you wanted the readers to watch your video. Did I do anything wrong?

  24. Bawa says:

    EasyGo said:
    باوا جی

    ایسا لگتا ہے سرائیکی صوبے والا اشو بھی ٹھس ہو گیا ہے

    اب دیکھتے ہیں پی پی کی کمان سے کونسا تیر نکلتا ہے

    بھائی جی

    بھٹو کے لعنتی پجاری نوں لیگ کے بال پر سرائیکی بیٹ سے چھکا مار کر نوں لیگ کو آوٹ کرکے اگلے انتخابات کے لیے پنجاب سے اپنی جیت یقینی بنانے کی کوشش کر رہے تھے. نوں لیگ نے صوبہ بہاولپور کی بال سے بانسر کروا کر انکے منہ توڑ دیے ہیں. اب انکی چیخیں نکل رہی ہیں اور یقین ہے کہ اب وہ کبھی سرائیکی صوبہ کا نام زبان پر نہیں لائیں گے بلکہ اب تو پجاری سندھ کارڈ ہاتھ سے نکل جانے پر بھی چیخ چیخ کر نوں لیگ پر سندھ میں تعصب پھیلانے کا شور مچا رہے ہیں

    جھوٹ اور مکار کی دلدادہ بے ضمیر، بے شرم اور بے غیرت کالی بھیڑوں کا ایسے ہی منہ کالا ہوتا ہے

    😀 😀 😀 :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

    Soba Politics can be a dangerous sport

    http://www.youtube.com/watch?v=lyt2vd0Za4k&feature=related

    Well Done Shehbaz Shafeer and Thanks for Soba Bahawalpur Bouncer

    :) :) :)

  25. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear Mr. Nadan,
    I am not angry but feel bad when a Piece of Art and Literature is twisted into a non-productive debate and controversy due to a personal hatred.

    Out of 11000 viewers, only one AQALMAND JIYALA, came forward with a negative comment——and I know —the CHENNEL OF ORIGIN.

    I HAVE CLARIFIED MY POSITION AT THIS PRODUCTION, and even Mr. Khalid has appreciated my efforts to glorify both of the messages—-with the help of
    PICTORIAL ILLUSTRATIONS.
    After that there is nothing left to condemn or criticize.

    THE FORMAT OF THE—- SCREENPLAY FOR POETRY —- WAS NOT AN EASY JOB.

  26. Bawa says:

    پیٹھ دکھا کر میدان سے بھاگنا بھٹو کے پجاریوں اور ملکہ کرپشن کی کالی بھیڑوں کی خاص نشانی ہے

    😀 😀 😀 😀

    [img]http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/10-05-2012/updates/5-10-2012_106320_1.gif[/img]

  27. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان میں توڑ پھوڑ، قتل و غارت ، آتش زنی،
    مار کٹائی، احتجاج ، دھرنے، دھماکوں اور لانگ مارچ —-کا جو سلسلہ
    شروع ہو چکا ھے —-اور رکنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رها—-
    مجھے تو لگتا ھے کہ —-پاکستانیوں نے —-کسی بیرونی امداد کا—
    انتظار کے بغیر—–خود ھی پاکستان کو توڑنے کا —فیصلہ کر لیا ھے .
    بہت بری بات ھے —–

  28. saleem raza says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    جب قلندر اور قلندری کا مفہوم سمجھا دیا گیا …
    خودی کا سر نہاں—-
    بھی اچھی طرح دکھلا دیا گیا —-
    تو پھر مسلسل –باں–باں–باں–باں
    کئے جانا—–نادانی ھے
    ————
    محترم شیخ صاحب
    اگر مفہوم اتنی آسانی سے ہماے مہین سے دماغ میں اجاتا —
    تو یقین کریں ہم اپ کی طرح اج ،ایڑیاں ، رگڑ رگڑ کر نہ جی رہے ہوتے -آر یا پار ہو چُکے ہوتے
    ہمیں -اپ کا اور الفاظ کا تقدس عزیز ہے ورنہ ہم بھی کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان میں ایسے دنداں شکن جواب دیتے کہ زندہ تو درکنار مردہ بھی ایک دفعہ کفن پھاڑ کر سوال و جواب کے لیے اٹھ بیٹھے -اپ تھوڑا حوصلہ رکھیو کیونکہ اس کے اگے مقامات – آہ وفغاں اور بھی ہیں-

  29. بلیک شِیپ says:

    Shirazi said:
    Nusrat Javed rocks, loved his show today (May 10th)

    نصرت جاوید کے کمال کے طنز۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉
    خیر اس فورم کے مجاہدین تو بڑے دعوے کر رہے تھے کہ امریکی آگئے نا اپنی اوقات پر۔۔۔۔۔۔ ایسا لگ رہا ہے کہ امریکی واقعی اپنی اوقات پر آگئے ہیں اور ہمارے باغیرت عوام لوڈشیڈنگ میں اپنی اوقات بھول رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب کافر و سیکولر ممالک میں بیٹھے ہوئے یہ مجاہدین اپنی خودی کو بلند کرتے رہیں۔۔۔۔۔۔
    ویسے کیا ن لیگ نے اٹھارویں ترمیم پر دستخط کرتے ہوئے سوچا نہیں تھا کہ آگے کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ اب کیا اپنے ہاتھوں سے دستخط کی ہوئی ترمیم کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ آخر منافقت کی کوئی تو حد ہوگی۔۔۔۔۔۔ لیکن لیگی حضرات پر ساری حدیں ختم ہیں۔۔۔۔۔۔

  30. Zia M says:

    I condemn this senseless and barbaric act in the strongest terms!
    Made me sick to my stomach.
    Pity the nation that has lost the dignity of humanity.

    Kidnapped Red Cross official found beheaded.

    QUETTA: The decapitated body of a kidnapped British doctor working for the International Committee of the Red Cross (ICRC) was found by the roadside on Sunday in Quetta, police and Red Cross officials said.
    Sixty-year-old Dr Khalil Rasjed Dale, a Yemen-born British national, was kidnapped on January 5 by armed men near his office in the Chaman Housing Scheme — a high-security zone where offices of all international organisations are located.

    http://tribune.com.pk/story/371965/kidnapped-red-cross-official-found-beheaded/

  31. بلیک شِیپ says:

    کاشف عباسی صاحب نے اس پروگرام میں واقعی جہالت کا ثبوت دیا ہے۔۔۔۔۔۔ بار بار کاشف عباسی صاحب ایک بات دہرائے جارہے تھے کہ وزیرِ اعظم نے جلسے میں یوں کہا تھا فلاں نے یوں کہا تھا۔۔۔۔۔۔ اس اینکر کو کوئی سمجھائے کہ قانونی حلقوں میں یہ بنیادی تصور ہوتا ہے کہ جو جو شواہد یا گواہ کسی مقدمے میں کسی ملزم کے خلاف پیش کئے جارہے ہوں تو جج صرف انہی شواہد یا گواہیوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے جو عدالت کے سامنے پیش کئے گئے ہوں ناکہ اس ملزم کے عدالت سے باہر پھیلے ہوئے مبینہ عوامی تاثر پر۔۔۔۔۔۔ لیکن جب اینکرز کی میڈیا عدالت ہوگی تو ایسے ایسے شاہکار ہی ملیں گے۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہمارے جج حضرات بھی جو انہی اینکرز کے پروگراموں یا اخباری خبروں کی بنیاد پر فیصلے دیں گے۔۔۔۔۔۔

    کچھ دنوں پہلے میں نے ندیم سعید کی ایک تحریر پڑھی تھی۔۔۔۔۔۔

    چونتیس سالہ ڈاکٹر تھیوڈیرا ڈیلس برطانیہ کی یونیورسٹی آف بیڈفرڈشائر میں نفسیات کی لیکچرر تھیں ۔ گزشتہ سال وہ ایک زیرسماعت مقدمہ میں جیوری کی رکن تھیں۔ مقدمہ میں ملزم بیری ولیم پر ایک شخص کو جان بوجھ کر جسمانی ایذا پہنچانے کا الزام تھا۔ ڈاکٹر ڈیلس نے مقدمے کی سماعت کے دوران وقفے میں جیوری کے بعض دوسرے ارکان سے ذکر کیا کہ انہوں نے ملزم کے بارے میں انٹرنیٹ پر پڑھا ہے۔ ان کا یہ انکشاف عدالت تک پہنچا تو جج نے مقدمہ کی سماعت روک دی اور حکام سے نئی جیوری بنانے کے لیے کہہ دیا۔
    مقدمہ کی سماعت سے پہلے جج جیوری کے ارکان کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ کمرہ عدالت سے باہر کے کسی عنصر کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دینگے۔اپنے جذبات اور تعصبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف ان عوامل کو مدنظر رکھیں گے جو عدالت میں ان کے روبرو پیش کیے گئے۔ وہ مقدمے سے متعلق عدالتی فائل سے ہٹ کر نہ تو کوئی مواد پڑھیں گے اور نہ ٹی وی پر مقدمے سے متعلق خبریں اور تبصرے ملاحظہ کرینگے ۔ غیرجانبدار فیصلہ کرنے کے لیے یہ کم سے کم معیار عام آدمی کے لیے ہے جو جیوری سروس کے لیے بلایا جاتا ہے جبکہ جج اپنے لیے اس سے بھی کڑے معیار کواپناتے ہیں۔

    عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر ڈیلس پر توہین عدالت کا مقدمہ چلا اور اس سال جنوری میں انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی، اگرچہ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ملزم کے بارے انٹرنیٹ پر تحقیق نہیں کی تھی، بلکہ کسی اور موضوع پر گوگلنگ کرتے ہوئے انہیں بیری ولیم پر کچھ معلومات پڑھنے کو مل گئیں جس کا ذکر انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں سے کردیا۔ ڈاکٹرڈیلس اب جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی ہیں۔

  32. asif65 says:

    Our religious preachers might have some personal faults but, as long as they are conveying to us the commandments of Allah from the Holy Qur’an and the sayings of the Holy Prophet, (Sallallaho alaihe wasallam) we are bound to listen to them. Not even a fool would say that the official orders should not be followed, simply because they were communicated by a lowly servant.

    You think the teachings of Mullahs are a hindrance in the path of our (worldly) progress. Don’t you think that our worldly progress can be very helpful to the Mullahs, for then we would be in a better position to serve them. Then why should they oppose us, to their own loss? As a matter of fact, they are sacrificing their own worldly interests by speaking the truth, When whatever our religion scholars tell us is in fact based on the teachings of the Holy Qur’an, then is it sensible for us to turn away from them?

    People usually make the sweeping statement that those who have devoted themselves to the sacred cause of Islam hanker after worldly gains and interest. True preachers of Islam are never selfish, and never ask anything for themselves; the more they worship Allah, the less attention they pay to worldly offerings.

    It has been reported by Abu Hurairah (Radhiyal- laho anho) that the Holy Prophet (Sallallaho alaihe wa- sallam) said, “When my followers will begin to adore the worldly benefits, their hearts will be deprived of the dignity and love of Islam; and when they stop the preaching of truth, and preventing transgression, they will be deprived of the blessings of the Revelation; and when they will abuse each other, they will fall from the esteem of Allah.”

    “The heart of a Muslim whose object is the life Hereafter does not care for the worldly pleasures, yet the world is brought to his feet; on the other hand, who- ever goes after the world, he is overpowered by miseries and calamities, yet he cannot receive more than his allotted portion.”

    The Holy Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) read the above-mentioned verse, and said: Allah says: “0 son of man! devote yourself to My worship, and I will free your bosom from the worldly anxieties and will remove your poverty, otherwise I will fill your heart with a thousand worries and will not remove your poverty.”

    The well-wishers of the nation should ponder why their efforts result in failure instead of success. If we believe our Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) and his teachings to be true and educative, then why do we take those things as useful that are declared harmful by him. He says such and such thing will aggravate our disease, but we think they will bring health to us.

    The Holy Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) said:

    “None of you can be a true Muslim, unless his desires are subject to the religion that I have brought.”

    But contrary to this, we think that religion is an obstacle in the way of our individual and national progress on the lines of other nations. Says Allah in the Holy Qur’an:

    “Whoever desires the harvest of the Hereafter, We grant increase in his harvest; and whoever desires the Exvest of this world we give him the fruit thereof but there is no portion for him in the Hereafter.”

    We can maintain a balance between the two, and can carry out our duties about our religion as well as about our worldly ‘life. So, if we devote ourselves wholly or mainly to the worldly requirements, then we are unjust and negligent. The sense of justice requires that we should be faithful to both, that is, to the requisites of life as well as to the hereafter, so that both are catered for because Islam does not advocate withdrawal from this world.

  33. EasyGo says:

    زالان said:
    How Pakistan Lets Terrorism Fester
    By HUSAIN HAQQANI
    =======

    Who saved who at that time?

    It’s always easy to blame others without doing an iota on your part.

    [img]http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20110510/Sub_Images/1101237458-1.jpg[/img]

  34. EasyGo says:

    کچھ بکھرے خیالات
    ========

    عدالت کا حق ہے کہنے کا کہ ہمارے احکامات نہیں مانے جاتے حتکہ مذاق اڑایا جاتا ہے

    حکومت کا حق ہے کہنے کا کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے اور ہم اس ثالثی کو حتکہ ثالثی نظام کو نہیں مانتے

    اپوزیشن کو حق ہے حکومت کے مخالف نقطۂ نظر اپنانے کا اور اس پر لوگوں کو موبلائز کرنے کا

    بحثیت عام آدمی مجھے حق ہے، اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظراپنی آزادانہ رایے بنانے کا کہ کون زیادہ غلط ہے

    پلیز کوئی یہ نہ کہے/کرے کہ “ساڈا حق ایتھے رکھہ” ا

  35. Javed Ikram Sheikh says:

    Pity on a Judiciary,
    which lacks the courage to investigate about the Illegal Entry of Osama Bin Laden into Pakistan and staying under protection.

  36. EasyGo says:

    ماشااللہ لگتا ہے انہوں نے بھی فوجیوں میں “اعتدال پسندی” کو فروغ دینے کے لئے، ہماری فوج سے ٹریننگ لے لی ہے

    امریکہ کے ایک سینیئر فوجی افسر نے امریکی فوج کے اعلیٰ سکولوں میں اسلام کے بارے میں پڑھائے جانے والے نصاب کی مذمت کی ہے۔

    امریکی سکولوں میں پڑھائے جانے والے کورس میں امریکی فوجیوں کو بتایا جاتا تھا کہ اسلام میں اعتدال پسندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ ان کے مذہب کو اپنا دشمن تصور کریں۔

    انہوں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ امریکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے اور یہ ممکن ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کو جوہری حملوں کے ذریعے تباہ کرائے۔

    دوسری جانب امریکی محکمۂ دفاع پینٹا گون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر موجود نصاب کا مواد اصلی ہے۔
    http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/05/120511_us_commander_rwa.shtml

  37. anyname says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    Pity on a Judiciary,
    which lacks the courage to investigate about the Illegal Entry of Osama Bin Laden into Pakistan and staying under protection.

    Mr. Sheikh why don’t you take courage and file a petition in the Supreme Court so that the judiciary can be held to court? No point in just doing wah-vela, just do something for a change.

  38. Zia M says:

    بلیک شِیپ said:
    محترم ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    اگر آپ نے یہ پروگرام نہ دیکھا ہو تو ضرور دیکھیں۔۔۔۔۔۔

    Richard Dawkins on The Big Questions – 7th April 2008

    http://www.youtube.com/watch?v=of-8Q3HySjE&feature=relmfu
    ————————-
    Black Sheep Sb,
    Thank you for the link.I enjoyed the discussion.
    Can you imagine such a discussion taking place in our society?
    Interesting comment on the existence of “Devil” by the Rabbi at the end of discussion.

  39. Bawa says:

    اگر ذرا سی ہی غیرت ہے تو جوتا پکڑ لو اور تمہارے جو بڑے انڈیا سے بھاگے بھاگے پاکستان آئے تھے مار مار کر انکا حلیہ بگاڑ دو. انکے منہ کالا کرکے انکے منہ پر تھوکو اور ان سے پوچھو کہ وہ پاکستان امب لینے آئے تھے؟

    اس ملک کی شہریت واپس کرو اور باپو کے دیس کر کر بندے ماترم گاو کیونکہ یہی تمھاری اوقات ہے

  40. Bawa says:

    کاش پاکستان کی خاطر قربانیاں دینے والے مہاجرین کو پتہ ہوتا کہ انکی آنے والی نسل میں سے بے ضمیر، بے غیرت، بے شرم اور ملت فروش بھٹو کے پجاری بھی نکلیں گے جو انکی قربانیوں کو خاک میں ملا دیں گے اور چند سکوں کی خاطر اپنے ہی ملک و قوم اور ملک کے محسنوں سے نمک حرامی کریں گے وہ کبھی ایسے لعنتی بچے ہی پیدا نہ کرتے

  41. Javed Ikram Sheikh says:

    Mr. Justice Iftikhar Chaudhry could have taken a Sue Moto Action, without any petition.

    The incident was a serious violation of Sovereignty of Pakistan.
    More serious than Drone attack.

  42. Javed Ikram Sheikh says:

    First axctionTO MIGRATE, must be taken by the followers of Jamaat-e-Islami,
    who opposed the very creation of Pakistan, and declared Mohammad Ali Jinnah as
    ‘Kaafir’,
    also announced that the All India Muslaim League under the leadership of Mr. Jinnah was creating,
    NAPAKISTAN

  43. anyname says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    Mr. Justice Iftikhar Chaudhry could have taken a Sue Moto Action, without any petition.

    The incident was a serious violation of Sovereignty of Pakistan.
    More serious than Drone attack.

    Mr. Sheikh
    Try to understand this. He could have done this or should have done this is history. Point is what can be done now. Are you for ever lecture other people to do this and do that or you are actually doing to do something. I strongly recommend that you either take a legal action against the judiaicay or abstain from your lectures.

    Incidently what punishment do you recommend for someone who has known this secret and kept quiet despite being in the Government?

  44. Javed Ikram Sheikh says:

    1. I have no legal status to file a petition in Pakistan.
    2. This could be done by those who talk most about morality, sovereignty, law, ethics etc….
    3. All those responsible, including Military , Political, religious or civilinas persons who provided shelter to an International Terrorist, must be punished according to Law.

    4. A Rule of ZERO Tolerance might help to save the sinking Titanic of Pakistan.

  45. anyname says:

    1. I have no legal status to file a petition in Pakistan.

    You are wrong Mr. Sheikh

    Every citizen has a right and legal status to file a petition even against the President. Please study the constitution of Pakistan if you get time from YouTube presentations.

  46. Javed Ikram Sheikh says:

    جس ملک میں —–ابھی تک پتہ نہیں چل سکا —
    معین قریشی —-شوکت عزیز —-
    —کہاں سے آیےتھے -اور پتہ نہیں —کہاں چلے گیے——–
    ایوب خان نے —- –دس سال تک—–کس طرح —بحر ظلمات میں————-گھوڑے دوڑ اے —
    ضیاء الحق نے——-دس سال تک —- کس طرح—بے گناہ –لوگوں کی پیٹھ پر –کوڑے برساۓ—
    پرویز مشرف نے —دس سال تک —–کس طرح— تمام ملکی اداروں کے ——–پرخچے ا ڑآے—–
    اس ملک میں —-آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی —- کے ذکر کی —— گردان کئے جانا —-
    دماغی خلل —یا—مالیاخولہا —– کی علامت لگتی ھے—–

  47. بلیک شِیپ says:

    Zia M said:

    بلیک شِیپ said:
    محترم ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    اگر آپ نے یہ پروگرام نہ دیکھا ہو تو ضرور دیکھیں۔۔۔۔۔۔
    Richard Dawkins on The Big Questions – 7th April 2008
    http://www.youtube.com/watch?v=of-8Q3HySjE&feature=relmfu

    Black Sheep Sb,
    Thank you for the link.I enjoyed the discussion.
    Can you imagine such a discussion taking place in our society?
    Interesting comment on the existence of “Devil” by the Rabbi at the end of discussion.

    ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    اس سیریز کے اور بھی پروگرامز بہت عمدہ ہیں۔۔۔۔۔۔ موضوعات کے عمدہ انتخاب کے ساتھ ساتھ اینکر کی موضوع پر گرفت اور مہمانوں کا انتخاب بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔۔

  48. بلیک شِیپ says:

    Zia M said:

    بلیک شِیپ said:
    محترم ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    اگر آپ نے یہ پروگرام نہ دیکھا ہو تو ضرور دیکھیں۔۔۔۔۔۔
    Richard Dawkins on The Big Questions – 7th April 2008
    http://www.youtube.com/watch?v=of-8Q3HySjE&feature=relmfu

    Black Sheep Sb,
    Thank you for the link.I enjoyed the discussion.
    Can you imagine such a discussion taking place in our society?
    Interesting comment on the existence of “Devil” by the Rabbi at the end of discussion.

    ضیاء ایم صاحب۔۔۔۔۔۔
    اس سیریز کے اور بھی پروگرامز بہت عمدہ ہیں۔۔۔۔۔۔ موضوعات کے عمدہ انتخاب کے ساتھ ساتھ اینکر کی موضوع پر گرفت اور مہمانوں کا انتخاب بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔۔
    آپ کا یہ مشاہدہ کہ کیا ہماری سوسائٹی میں ایسی ڈسکشن ہوسکتی ہے تو میرا کہنا یہ ہے کہ ہمیں یہ ماننے میں کوئی تامل نہیں کرنا چاہئے کہ ہم لوگوں میں اور ان مغربی لوگوں میں کچھ صدیوں کا فرق بہرحال موجود ہے۔۔۔۔۔۔ مغربی لوگوں نے بھی اپنا سبق بڑی خون ریزی کے بعد سیکھا ہے ہم شاید چاہتے تو شارٹ کٹ لینے کی کوشش کرسکتے تھے کہ دوسروں کو دیکھ کر سبق حاصل کرتے لیکن اپنی ترکیب میں خاص یہ قومِ ہاشمی شاید خود ٹھوکر کھا کر سبق سیکھنے پر یقینِ کامل رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ لہٰذا انتظار فرمائیں۔۔۔۔۔۔
    :-) 😉 :-)

  49. Bawa says:

    جس ملک میں —– ابھی تک پتہ نہیں چل سکا —

    ایوب خان نے —- – دس سال تک—– کس طرح —بحر ظلمات میں ————- گھوڑے دوڑ اے

    .
    .
    .

    گھوڑے کے بارے میں تو شاید کوئی نہیں جانتا لیکن اس گدھے کو سب جانتے ہیں جو ایوب خان کو ڈیڈی کہتا تھا

    وہ گدھا جو ایوب خان کا چیف پولنگ ایجنٹ بنا تھا اور جس نے مادر ملت کو ہرانے کی خاطر اسی ڈیڈی کی طرف سے سیاسی پارٹیوں میں بھاری رقوم بھی تقسیم کی تھیں

    اس گدھے کا نام ذوالفقار لی بھٹو تھا اور یہ قاتل عوام پانچ سو سے زائد پاکستانیوں کو شہید کروا کر خود کو قاید عوام کہلواتا تھا

  50. Shirazi says:

    @Black Sheep Saab

    In today’s Lekin top notch 5 business tycoons from India and Pakistan discussed mutual business environment. Fabulous program. The guests were Mansha and Bashir Saab (Ahmed Lawn) from Pakistan and Bhajaj, Mital and Godrej from India.

    In one of the answers I think Godrej Saab said the old saying of ‘best business for gov is to stay out of business ‘ is out of the window. Even Milton Friedman ‘d agree trickle down philosphy doesn’t work. Gov has to step in to bridge the gap, build infrastructure, health, education and regulate economy.

  51. EasyGo says:

    حکومت کے لئے اب جیسی کرنی ویسی بھرنی والی مثال ہے
    انہوں نے لوگوں کے لئے کچھ نہیں کیا
    تو اب لوگ چاہے انکے ساتھ زیادتی بھی ہو تو خوش ہی ہونگے

  52. saleem raza says:

    anyname said:
    1. I have no legal status to file a petition in Pakistan.

    You are wrong Mr. Sheikh

    Every citizen has a right and legal status to file a petition even against the President. Please study the constitution of Pakistan if you get time from YouTube presentations.
    ———
    اینی نیم صاحب
    میں بڑی جُرت کے ساتھ اختلاف کروں گا – کہ اپ بجاے عمر کے اس حصے میں اپ شیخ صاحب کو اوسان بحال رکھنے کی کوئی دوائی تجویز کریں اُلٹا اپ ان کو کس پاسے لگا رہے ہیں -میرے بھائی اس عمر میں تو اپنا اور اپنے دوستوں کا نام یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے –
    اس لیے میری ساری ہمدردی شیخ صاحب کے ساتھ – ہے

  53. aliimran says:

    فرض کرو
    فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ،فرض کرو دیوانے ہوں
    فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
    فرض کرو یہ جی کی بپتا ،جی سے جوڑ سنائی ہو
    فرض کرو ابھی اور بھی ہو اتنی ،آدھی ہم نے چھپائی ہو
    فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
    فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا ، جھوٹی بپت ہماری ہو
    فرض کرو اس بپت کے روگ میں سانس ہم پہ بھاری ہو
    فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
    فرض کرو بس یہی حقیقت ،باقی سب کچھ مایا ہو

  54. پاکستانی سیاستدان says:

    امریکی فوجی اکیڈمیوں کے نصاب میں اسلام کے خلاف عالمی جنگ کی تیاری کا سبق شامل۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیڑھہ ارب مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کی ہرزہ سرائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکہ مدینہ پر ایٹمی حملے کے امریکی منصوبے کا انکشاف

    http://ummat.com.pk/2012/05/12/news.php?p=news-03.gif

  55. Bawa says:

    [img]http://e.jang.com.pk/05-12-2012/pindi/images/638.gif[/img]

    اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو پھر ہر سال پاکستان کو امریکہ سے امداد لینے کی بجائے اسے امداد دینا پڑے گی

    چلیں اسی بہانے ہم بھی امریکہ کو امداد دینے والے ممالک میں شامل ہو جائیں گے

    اس سے عوام پر تو کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا لیکن بھٹو کے بے غیرت پجاری بھوکے مر جائیں گے

  56. پاکستانی سیاستدان says:

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=619921

    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں . . . طلوع…ارشاد احمد عارف

    پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب ا سمبلی کو یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ انہیں بہاولپور صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کی تشکیل کے لئے رانا ثناء اللہ کی پیش کردہ قرار داد کی حمایت کرنا پڑی جنہیں سردار لطیف کھوسہ، راجہ ریاض اور شوکت بسرا روزانہ بے نقط سناتے اور مختلف القاب سے نوازتے ہیں۔ وفاق میں حکمران اتحاد نے مسلم لیگ (ن) کے لئے جو گڑھا کھودا تھا اس میں گرنے سے قبل شریف برادران سنبھل گئے اور اب اس میں سر کے بل گری پی پی قیادت، یہ سوچ وہی ہے اسے دھکا کس نے دیا؟ کیونکہ پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد کی آئینی، قانونی اور اخلاقی حیثیت ہے جبکہ قومی اسمبلی کی قرارداد مسلم لیگ (ن)کا کمبل چرانے کی واردات تھی جو فی الوقت ناکام ہوگئی ہے۔
    نئے صوبوں کی تشکیل کا شوشہ جسے مخدوم یوسف رضا گیلانی صاحب 2009ء میں ملک دشمنی قرار دے چکے ہیں اب ایک ایسی چھچھونڈر ہے جسے اگلنا اور نگلنا حکمران اتحاد بالخصوص پیپلز پارٹی کے لئے مشکل ہے ۔ سرائیکستان، سرائیکی صوبہ اور پنجاب کی تقسیم کے تصور نے بہاولپور بحالی صوبہ تحریک سے جنم لیا، بحالی صوبہ کے ایشو پر 1970ء میں ایک پرتشدد تحریک برپا ہوئی جسے یحییٰ خان حکومت نے لاٹھی گولی کے ذریعے دبا دیا مگر یہ ایک بار پھر انتخابی نتائج کے ذریعے منعکس ہوئی اور قومی اسمبلی کی سات نشستوں میں سے چھ بحالی صوبہ کے علمبردار امیدواروں مخدوم نور محمد ہاشمی، عبدالنبی کانجو، خواجہ جمال محمد کوریجہ، میاں نظام الدین حیدر، سعید الرشید عباسی اور چشتیاں کے صاحبزاہ مہاروی نے جیت لیں۔ پنجاب میں کشتوں کے پشتے لگانے والی پیپلزپارٹی کو بہاولنگر کی ایک نشست پر کامیابی ملی جو ایک آباد کار میاں رفیق نے برادری کے زور پر جیتی ۔ میجر عبدالنبی کے پاس ٹکٹ پیپلز پارٹی کا تھا مگر نعرہ صوبہ بحالی کا لگاتے اور عوام سے وعدہ کرتے کہ وہ کامیاب ہو کر بھٹو صاحب کو صوبہ بنانے پر مجبور کریں گے۔ مخدوم زادہ محمود محض صوبہ بحالی تحریک کی مخالفت کی وجہ سے بری طرح ناکام ہوئے۔
    مسلم لیگ (ن) نے آئینی طریقہ کار کے مطابق قراردادیں منظور کرکے گیند پیپلز پارٹی اور حکمران اتحاد کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اب اگر سرائیکی صوبہ کی تشکیل اور بہاولپور صوبہ کی بحالی میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پیپلز پارٹی قرار پائے گی جسے سینٹ اور قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے صرف بہاولپور اور سرائیکی صوبہ نہیں ہزارہ اور فاٹا صوبہ بھی اتنا ہی ضروری ہے مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم نہ صرف اس کے حق میں ہیں بلکہ مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت گوہر ایوب خان اور دیگر کے دباؤ کی وجہ سے زیادہ عرصہ تک خاموش نہیں رہ سکتی۔ پنجاب کی تقسیم کے علاوہ لوڈشیڈنگ کے عذاب کی وجہ سے مسلم لیگ (ق) کے کئی ارکان پارلیمینٹ پریشان ہیں اور حکمران اتحاد سے نکلنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ اگر ہزارہ صوبہ کے معاملے پر چودھری شجاعت حسین نے کمزوری دکھائی تو انہیں پنجاب اور ہزارہ دونوں جگہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ ہزارہ اور فاٹا کے الگ صوبوں کے علاوہ ڈپٹی سپیکر فضل کریم خان کندی کی طرف سے ڈیرہ اسماعیل خان کو سرائیکی صوبہ کا حصہ بنانے کی تجویز اے این پی کو سرخ رومال دکھانے کے مترادف ہے اس لئے پیپلز پارٹی کے لئے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔ مگر مشکل صرف یہی نہیں ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
    احساس محرومی، دارالحکومت سے فاصلے، وسطی پنجاب کے سیاسی غلبے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے حوالے سے جو دلائل پنجاب کی تقسیم کے حق میں دیئے جا رہے ہیں وہ سارے کے سارے سندھ و پنجاب کی ان نسلی و لسانی اکائیوں اور قوم پرستوں کو متاثر کرتے ہیں جو سندھی اور بلوچی اشرافیہ کی بالادستی کے خلاف ہیں اس لیے جو پنڈوراباکس مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قوت پر کاری ضرب لگانے کے لئے کھولا گیا اب پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے لئے درد شقیقہ بننے والا ہے جو دن کا چین اور رات کا سکون برباد کردے گا۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور لوڈشیڈنگ کے مارے عوام کی بے چینی، اضطراب اور ہیجانی کو احتجاجی تحریکوں میں تبدیل کرنے کے لئے یہ مطالبات ایندھن کا کام دیں گے اور مختلف کارڈ کھیلنے کے شوقینوں کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔
    عقلمندی اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ اب بھی قومی کمیشن بنا کر انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کی تشکیل کا عمل اتفاق رائے سے مکمل کیا جائے تاکہ نسلی و لسانی تنازعات، بدگمانیوں اور رنجشوں کو پروان چڑھنے کاموقع نہ ملے۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی کی صورت میں دارالحکومت بغداد الجدید بہاولپور ہوگا۔ سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے ملتان کی اہمیت مسلم مگر گرد، گرما، گداو گورستان کے ساتھ گیلانی نے اس قدیمی تہذیبی و ثقافتی شہر کی شہرت کو داغدار کیا ہے اس لئے ڈیرہ غازی خان کے بارے میں سوچا جائے جو صحت افزا مقام فورٹ منرو کے قریب اور 1960ء میں وفاقی دارالحکومت کے لئے موزوں قرار پایا تھامگر فیلڈ مارشل کی جائے پیدائش ریحانہ کی قربت کی وجہ سے قرعہ فال اسلام آباد کے نام نکلا۔ پیپلز پارٹی کے سرائیکی ارکان اور مخلص کارکن حیران ہیں کہ جلد باز اور غیر سنجیدہ قیادت نے انہیں کہاں لا کھڑا کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت ہی ہمارا مقدر تھی تو قومی اسمبلی میں دھما چوکڑی مچانے کی ضرورت کیا تھی۔؟

  57. anyname says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    Every citizen has a right and legal status

    _______
    What about that who is not a CITIZEN?

    For any intetelligent person the answer should have been obvious.

    A not-citizen has no right whatsoever and therefore should keep his nose out of the internal affairs of Pakistan.

  58. EasyGo says:

    شیخ رشید تو ہمیشہ ہی “سچی اور کھری” باتیں کرتا ہے، اب چوہدری افتخار کی خیر نہیں
    :)

  59. Javed Ikram Sheikh says:

    —–A not-citizen has no right whatsoever and therefore should keep his nose out of the internal affairs of Pakistan———
    ______
    Absolutely illogical argumnet.
    ————————————————
    Whole of the Education System would collapse under such twisted mindset.
    _____________________
    Every citizen at the Globe has an academic right to keep an eye at the flow of International current affairs and to express his/her opinion, impression and comments.
    _______________
    According to this twisted approach half of Allama Iqbal’s poetry would become useless where he has discussed each and every region of his choice without being a CITIZEN of that Country.
    ——
    All political literature would be dumped as Trash.

  60. Salam says:

    لو جی موقع ملتے ہی علامہ اقبال کی چھتری اوڑھ لیتے ہیں
    کہاں فلسفہ اقبال اور کہاں ہمارے پیپل پارٹی کے بزرگ سپورٹر

    😛 😛

  61. anyname says:

    Every citizen at the Globe has an academic right to keep an eye at the flow of International current affairs and to express his/her opinion, impression and comments

    Mr. Sheikh
    Use the above argument and say on any blog/paper/tv in the country you live in or any similar source of Israel that you do not beleive in the eixistence of holocaust and then see if you have this global right to the flow of information. Once you have done this please come back and tell us what happened.

  62. anyname says:

    aliimran

    Thank for the link. I almost cried. These unortunate people do not realise that they have been given an opportunity by God to do some good but they do not seem to realise. It is a fact that people voted them in but the sad thing is that people do not exercise the power they have to boot them out before their term comes to an end.

    We are not a dysfunctional or impotent society but we have definitely become an indifferent society.

  63. Javed Ikram Sheikh says:

    @ anyname,
    Pleaase watch the International TV/ Print media and you will be amazed to experience the freedom of Expression.

    Any one with humanitarian thinking, would never overlook or ignore the events going on in Pakistan—-what might effect the Global Peace, directly or indirectly.

    This would be criminal to overlook the state of terrorism, crime, , honor killings, child labor—–and so many social evils dominating the civic life in Pakistan.

  64. anyname says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    @ anyname,
    Pleaase watch the International TV/ Print media and you will be amazed to experience the freedom of Expression.

    Does your freedom of expression also incluse what I said above and reproduce here for the reason of ease;

    Mr. Sheikh
    Use the above argument and say on any blog/paper/tv in the country you live in or any similar source of Israel that you do not beleive in the eixistence of holocaust and then see if you have this global right to the flow of information. Once you have done this please come back and tell us what happene.

    Answer the question Mr. Sheikh. Will you be allowed the freedom to express this in the country you live in? And do not attempt to side track as usual.

  65. aliimran says:

    @anyname
    گمنام کے نام
    اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
    ———————————–

    دہقاں تو مر کھپ گیا ، کس کو جگاؤں؟
    ملتا ہے کہاں ؟ خوشہ گندم کہ جلاؤں
    شاہین کا ہے گنبد شاہی پہ بسیرا
    کنشک فرمایا کو کس سے لڑاؤں؟
    ہر داڑھی میں تنکا ہے،ہر آنکھ میں شہتیر
    مومن کی نگاہوں سے اب بدلتی نہیں تقدیر
    توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
    اب ذوق یقین سے کٹتی نہیں کوئی زنجیر
    شاہین کا جہاں آج، کرگس کا جہاں ہے
    ملتی ہوئی ملاں سے مجاہد کی آذان ہے
    مانا کہ ستاروں سے آگے ہیں جہاں اور
    شاہین میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
    بے باکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
    مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
    جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
    وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے اب مومن
    جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ،ذاتوں کے، نسب کے
    اگتے ہیں تہہ سایہ گل، خار غضب کے
    یہ دیس ہے سب کا،مگر اس کا نہیں کوئی
    اس کے تن خستہ پہ ،اب دانت ہیں سب کے
    محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
    جمہور سے ،سلطانی جمہور ڈرے ہے
    تھامے ہوۓ دامن ہیں ، یہاں پر جو خودی کا
    مر مر کے جئے ہے، کبھی جی جی کے مرے ہے
    دیکھو تو ذرا، محلوں کے پردوں کو اٹھا کر
    آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ ——— رنگیلے
    تقدیر امم سو گئی ، طاوس پہ آ کر
    مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
    اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
    قاری سے کہنا تو ،بڑی بات ہے یارو
    اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
    کردار کا ، گفتار کا ، اعمال کا مومن
    قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
    سرحد کا ہے مومن ، کوئی بنگال کا ہے مومن
    ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
    ——————————————–

  66. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    آج بارہ مئی کا دن یقیناً اس تاریک دن کی یاد تازہ کرتا ہے جب ایک مردود اور پلید جنرل نے اپنے کرائے کے قاتلوں سے کراچی میں یچاس لوگوں کا قتل عام کرایا تھا اور اسلام آباد میں بلٹ پروف شیشوں کے سامنے کھڑا ہو کے بزدل بے غیرت مکے لہرا کے کہہ رہا تھا کہ میں نے کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کردیا۔ اس جلسے میں بھی عوام کے پیسوں سے کرائے کے بندے لا کے جلسہ کررہا تھا۔

    جتنی لعنت اس مردود بزدل اور ان کرائے کے قاتلوں جن کا سرغنہ ایجویر روڈ پہ بیٹھا ہے۔ دونوں ہی بھرپور لعنت کے مستحق ہیں۔ خنزیر مردود

  67. Zia M says:

    Mr. Sheikh
    Use the above argument and say on any blog/paper/tv in the country you live in or any similar source of Israel that you do not beleive in the eixistence of holocaust and then see if you have this global right to the flow of information. Once you have done this please come back and tell us what happened.
    ————————
    @anyname
    I don’t know where you live but there is even an American Nazi Party.You can pretty much say anything you like, maybe with the exception of inciting violence.
    If you deny holocaust they will just think you just got out of a mental asylum. :)

    http://www.americannaziparty.com/

  68. anyname says:

    @anyname
    I don’t know where you live but there is even an American Nazi Party.You can pretty much say anything you like, maybe with the exception of inciting violence.
    If you deny holocaust they will just think you just got out of a mental asylum.

    http://www.americannaziparty.com/

    ZiaM
    You have just said it all, except that when you deny honocaust, certain forces will be after you to teach you a lesson. Try is my friend to have a taste. They in fact will put you in a mental asylum claiming that you have not been cured properly.

    Having a naziparty does not mean anything as long as they do not deny holocaust.

  69. Javed Ikram Sheikh says:

    آج بھولے لال قلندر کے ڈیرے پر بہت ہجوم دیکھا—-
    ملاقات کا دن تھا —-
    سردائی، بھنگ کولا اور شکر کے شربت کا وافر انتظام تھا —
    بھولا لال قلندر بھی آج پورے جلال پر تھا —-
    آج بھولے نے سردائی میں تخم ملنگاں ڈال کر دو پیالے پی لئے تھے –
    بھولے لال کے درشن کے لئے آنے والوں کا بس ——-ایک ھی سوال تھا —-
    پاکستان کو کیسے ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکتا ہے —–اور بحران سے کیسے نکالا جا سکتا ہے –
    بھولے نے سوال بڑے غور سے سنا—-سردائی میں شکر کا شربت ملا کر ایک اور پیالہ پیا-
    اپنے مخصوص اندداز میں —اینکر دی– اوپڑدی -گڑ گڑ دی – بے دھیانا دی-منگ دی وال آف دی پاکستان —-کا فلسفہ دہرایا –
    بھولے نے دیکھا حاضرین اس کے فلسفہ کوپوری طرح سمجھ نہیں سکے —-
    اس نے سردائی کا ایک پیالہ اور پیا—— پھر زوز زور سے بولا—-
    اینکر دی– اوپڑدی -گڑ گڑ دی – بے دھیانا دی-منگ دی وال آف دی پاکستان اینڈ ٹوبہ ٹیک سنگھ دی جلیانوالہ باغ —در فٹے مونھ—-
    اس کا مطلب تھا —کہ پاکستان کو بحران سے بچانے کے لئے —-آدھے پاکستان کی —گلیاں، بازار اور مکان گرا کر ——-توڑ کر —
    ٹوبہ ٹیک سنگھ سے امرتسر کی طرف لانگ مارچ کرنے سے ھی —پاکستان کی بہتری ہو سکتی ھے —–

  70. Bawa says:

    ضرورت سے زیادہ سمارٹ بننے والے بھٹو کے پجاریوں کے منہ پر زبردست تھپڑ
    .

    اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
    .
    .

    سندھ میں بھی نیا صوبہ بنائیں:ایم کیو ایم اراکین
    .
    حسن مجتبیٰ
    .
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
    .
    آخری وقت اشاعت: اتوار 13 مئ 2012 ,‭ 11:53 GMT 16:53 پست
    .

    [img]http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/12/23/111223195419_altaf-hussain-2.jpg[/img]
    .
    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق وزاء سمیت کچھ سابق اراکین اسبملی اور رابطہ کمیٹی کے اراکین نے نیویارک میں سندہ میں انتظامی بنیاد پر الگ صوبے کا مطالبہ کردیا ہے۔
    انہوں نے مجوزہ صوبے کو جنوبی سندھ کا نام دیا ہے۔ تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے کہ اس نئے صوبے کی جغرافیائی حدود کیا ہوں گی تاہم انہوں نے سندھ کو جنوبی اور شمالی حِصّوں میں انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا پر زور الفاظ میں مطالبہ کیا۔
    نیویارک میں ایم کیو ایم کے آدھ درجن سے زائد سابق منتخب اراکین اسمبلی اور زونل کیمٹی کے سابق اراکین نے، جو اب بھی ایم کیو ایم کے بنیادی ممبران ہیں، کہا کہ ان کے الگ صوبے کا مطالبہ کرنے میں ایم کیم ایم یا متحدہ کی قیادت یا پارٹی کا کوئي عمل دخل نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ وہ ایم کیم ایم کی قیادت سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ سندھ کی شہری آبادی کی اکثریت کے مطالبے پر توجہ دیتے ہوئے جنوبی سندھ نامی صوبے کے قیام کی حمایت کریں۔
    یہ باتیں سنیچر کی شام نیویارک کے علاقے جیکسن ہائیٹس کے ایک ریستوران میں ایم کیو ایم کے کراچی کے سابق ڈپٹی میئر، دو سابق صوبائی وزراء اور دو ایم این اے اور آدھ درجن بھر سابق رابطہ کیمٹی اور ارگنائزنگ کمیٹی کے اراکین نے ایک پریس کانفرس کے ذریعے کی۔
    متحدہ کے کراچی کے سابق ڈپٹی میئر متین یوسف نے آٹھ صفحات پر مشتمل اردو میں لکھی ہوئي پریس تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ ’حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے جہاں ملک میں مزید صوبوں کی بات کی جارہی ہے، اس سلسلے میں اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کی جارہی ہیں، قانون سازی کی جارہی ہے، ایسے میں سندھ میں بھی ایک اور صوبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘
    متحدہ قومی موومنٹ کے ان سابق منتخب نمائندوں کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں شہری علاقوں کی آبادی پچاس فی صد سے زیادہ ہے اور سندہ کی شہری آبادی سندھ کے محصولات کا پچانوے فی صد سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے لیکن اختیارات میں اس کا حصہ پانچ فی صد سے بھی کم ہے۔‘
    انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری عوام کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، وہ موجودہ نظام اور حکومتی ڈھانچے سے مایوس ہوچکے ہیں اور اب اپنے حقوق کے حصول کے لیے نئے صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مہاجر صوبے کی بات کر رہا ہے تو کوئی کراچي کے صوبے کی۔
    متحدہ کے سابق اراکین اسبملی نے اس موقع پر موجود میڈیا کے اراکین سے کہا کہ وہ ميڈیا کے ذریعے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی پر یہ زور دلانا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ میں ’شہری عوام کے جائز مطالبے جنوبی سندھ صوبے کی حمایت کریں۔‘
    ان اراکین نے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے مطالبے کی سندھ اسبملی میں قرارداد مذمت کی متحدہ کے اراکین کی طرف سے حمایت کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
    انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’ہم آج آپ کے ذریعے واضح طور پر اور دو ٹوک انداز مین دنیا کے سامنے جنوبی سندہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
    انہوں نے کہا کہ ’ملک میں نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بنیں اسی لیے ہم کسی مہاجر صوبے یا کراچي کے صوبے کی حمایت کے بجائے چاہتے ہیں کہ موجودہ صوبہ سندھ کو مساوی طور پر دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کردیا جائے: یعنی بالائي یا اپر سندھ اور لوئر یا زیریں سندھ یعنی جنوبی سندھ میں تقسیم کردیا جائے۔‘
    انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے پس منظر میں دیوار پر اس نعرے کے ساتھ ’جینے کا منصوبہ ہوگا ، رہنے کو جب صوبہ ہوگا‘ کے نیچے صدرن سندھ پراونس موومنٹ کے نام سے ایک نقشہ بھی لگایا ہوا تھا جس پر کراچي اور حیدرآباد سمیت تھرپارکر، میرپور خاص، بدین اور ٹھٹہ ’جنوبی سندھ‘ میں شامل دکھائے گئے تھے۔
    انہوں نے بی بی سی اردو کی طرف سے یہ سوال کہ ایسے مطالبے کی صورت میں اندرون سندھ میں رہنے والی اردو بولنے والی آبادی کیلیے مشکلات پیدا ہوں گی یا لسانی خون خرابے کے راستے کھول سکتا ہے کے جواب میں کہا کہ ’غلامی ختم کرنے کیلیے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں‘۔
    نیویارک میں سنيچر کی شام جنوبی سندھ کے مطالبے کی پریس کانفرنس کرنے والوں میں دو سابق اراکین قومی اسبملی رفیق عیسانی اور فرخ نعیم صدیقی، دو سابق وزراء عارف صدیقی اور عابد اختر، سابق ایم پی اے ایس معین الدین، سابق ڈپٹی میئیر کراچی متین یوسف اور ایک سابق زونل انچارج مسعود نبی خان شامل تھے۔

  71. Bawa says:

    ضرورت سے زیادہ سمارٹ بننے والے بھٹو کے پجاریوں کے منہ پر زبردست تھپڑ
    .

    اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
    .
    .

    سندھ میں بھی نیا صوبہ بنائیں:ایم کیو ایم اراکین
    .
    حسن مجتبیٰ
    .
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
    .
    آخری وقت اشاعت: اتوار 13 مئ 2012 ,‭ 11:53 GMT 16:53 پست
    .

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق وزاء سمیت کچھ سابق اراکین اسبملی اور رابطہ کمیٹی کے اراکین نے نیویارک میں سندہ میں انتظامی بنیاد پر الگ صوبے کا مطالبہ کردیا ہے۔
    انہوں نے مجوزہ صوبے کو جنوبی سندھ کا نام دیا ہے۔ تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے کہ اس نئے صوبے کی جغرافیائی حدود کیا ہوں گی تاہم انہوں نے سندھ کو جنوبی اور شمالی حِصّوں میں انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا پر زور الفاظ میں مطالبہ کیا۔
    نیویارک میں ایم کیو ایم کے آدھ درجن سے زائد سابق منتخب اراکین اسمبلی اور زونل کیمٹی کے سابق اراکین نے، جو اب بھی ایم کیو ایم کے بنیادی ممبران ہیں، کہا کہ ان کے الگ صوبے کا مطالبہ کرنے میں ایم کیم ایم یا متحدہ کی قیادت یا پارٹی کا کوئي عمل دخل نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ وہ ایم کیم ایم کی قیادت سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ سندھ کی شہری آبادی کی اکثریت کے مطالبے پر توجہ دیتے ہوئے جنوبی سندھ نامی صوبے کے قیام کی حمایت کریں۔
    یہ باتیں سنیچر کی شام نیویارک کے علاقے جیکسن ہائیٹس کے ایک ریستوران میں ایم کیو ایم کے کراچی کے سابق ڈپٹی میئر، دو سابق صوبائی وزراء اور دو ایم این اے اور آدھ درجن بھر سابق رابطہ کیمٹی اور ارگنائزنگ کمیٹی کے اراکین نے ایک پریس کانفرس کے ذریعے کی۔
    متحدہ کے کراچی کے سابق ڈپٹی میئر متین یوسف نے آٹھ صفحات پر مشتمل اردو میں لکھی ہوئي پریس تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ ’حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے جہاں ملک میں مزید صوبوں کی بات کی جارہی ہے، اس سلسلے میں اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کی جارہی ہیں، قانون سازی کی جارہی ہے، ایسے میں سندھ میں بھی ایک اور صوبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘
    متحدہ قومی موومنٹ کے ان سابق منتخب نمائندوں کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں شہری علاقوں کی آبادی پچاس فی صد سے زیادہ ہے اور سندہ کی شہری آبادی سندھ کے محصولات کا پچانوے فی صد سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے لیکن اختیارات میں اس کا حصہ پانچ فی صد سے بھی کم ہے۔‘
    انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری عوام کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، وہ موجودہ نظام اور حکومتی ڈھانچے سے مایوس ہوچکے ہیں اور اب اپنے حقوق کے حصول کے لیے نئے صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مہاجر صوبے کی بات کر رہا ہے تو کوئی کراچي کے صوبے کی۔
    متحدہ کے سابق اراکین اسبملی نے اس موقع پر موجود میڈیا کے اراکین سے کہا کہ وہ ميڈیا کے ذریعے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی پر یہ زور دلانا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ میں ’شہری عوام کے جائز مطالبے جنوبی سندھ صوبے کی حمایت کریں۔‘
    ان اراکین نے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے مطالبے کی سندھ اسبملی میں قرارداد مذمت کی متحدہ کے اراکین کی طرف سے حمایت کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
    انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’ہم آج آپ کے ذریعے واضح طور پر اور دو ٹوک انداز مین دنیا کے سامنے جنوبی سندہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
    انہوں نے کہا کہ ’ملک میں نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بنیں اسی لیے ہم کسی مہاجر صوبے یا کراچي کے صوبے کی حمایت کے بجائے چاہتے ہیں کہ موجودہ صوبہ سندھ کو مساوی طور پر دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کردیا جائے: یعنی بالائي یا اپر سندھ اور لوئر یا زیریں سندھ یعنی جنوبی سندھ میں تقسیم کردیا جائے۔‘
    انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے پس منظر میں دیوار پر اس نعرے کے ساتھ ’جینے کا منصوبہ ہوگا ، رہنے کو جب صوبہ ہوگا‘ کے نیچے صدرن سندھ پراونس موومنٹ کے نام سے ایک نقشہ بھی لگایا ہوا تھا جس پر کراچي اور حیدرآباد سمیت تھرپارکر، میرپور خاص، بدین اور ٹھٹہ ’جنوبی سندھ‘ میں شامل دکھائے گئے تھے۔
    انہوں نے بی بی سی اردو کی طرف سے یہ سوال کہ ایسے مطالبے کی صورت میں اندرون سندھ میں رہنے والی اردو بولنے والی آبادی کیلیے مشکلات پیدا ہوں گی یا لسانی خون خرابے کے راستے کھول سکتا ہے کے جواب میں کہا کہ ’غلامی ختم کرنے کیلیے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں‘۔
    نیویارک میں سنيچر کی شام جنوبی سندھ کے مطالبے کی پریس کانفرنس کرنے والوں میں دو سابق اراکین قومی اسبملی رفیق عیسانی اور فرخ نعیم صدیقی، دو سابق وزراء عارف صدیقی اور عابد اختر، سابق ایم پی اے ایس معین الدین، سابق ڈپٹی میئیر کراچی متین یوسف اور ایک سابق زونل انچارج مسعود نبی خان شامل تھے۔

  72. بلیک شِیپ says:

    برملا۔۔۔۔۔۔ نصرت جاوید۔۔۔۔۔۔

    [img]http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120514/Sub_Images/1101522121-2.gif[/img]

  73. hasankhan says:

    nawaz hsreef and shabaz shreef were meant to protect punjab and intact it,i never thought they can go so low,for political benefits they will agree to break punjab in three parts.

  74. SCheema says:

    @ Bawa Gee.

    دیکھیں ۔

    بواسیر کئی قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک تو بواسیر کا سب کو پتہ ہے جو کہ بیماری کا نام ہے ۔ جو کہ اکثر آخری عمر میں ہوتی ہے ۔ آخری عمر میں کئی قسم کی بواسیریں ہو سکتی ہیں ۔ مثلاً سوچ کی بواسیر ۔ زبان کی بواسیر ۔ پھر سوچ اور زبان کی بواسیر کو تحریری شکل دینے کی بواسیر ۔

    پھر ایک اور قسم کی بواسیر ہوتی ہے جو کہ نئی ہے لیکن اتنی بھی نئی نہیں ہے ۔ جو کہ ہے حق نمک حلالی کی بواسیر ۔ اس کی کئی شکلیں ہیں مثلاً عطاء الحق قاسمی ناروے کی سفارت کا حق نمک آج تک نواز شریف کے حق میں کالم لکھ کر رہا ہے اس بواسیر کی ایک اور شکل بھی ہے وہ یہ کہ کسی بڑی شخصیت کے ساتھ اگر آپ کی تتصویر وغیرہ ہے تو اس کے پورے خاندان کے سات خون معاف ۔ بس آپ نے اس تصویر کا حق ادا کرتے ہوتے اپنی زبان اور سوچ کی بواسیر کو تحریری شکل دینی ہے
    تحریری شکل دیتے ہوئے آپ نے اپنی عمر کا اور دوسرے کی عزت کا رتٌی بھر خیال نہیں کرنا

    ہاں یہ یاد رہے کہ ایسی بواسیریں آخری عمر میں ہوتی ہیں ۔
    بواسیر کی ایک اور قسم کا آپ کو پتہ ہی ہے جو کہ چوراہے میں منجی رکھنے والی ہے اور آتے جاتے لوگوں کو دعوتِ ۔ ۔ ۔ دینا ہے اس کا کوئی علاج نہیں کیونکہ خاص مقام پر “کھرک“ کا کوئی علاج نہیں ہوتا ۔[img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif[/img]

  75. ukpaki1 says:

    السلام علیکم
    آج صبح بی بی سی ون پہ پروگرام دی بگ کویسچن میں بڑا ہی فکر انگیز موضوع زیر بحث تھا جس کا عنوان تھا کہ کیا یہاں موجود پاکستانی کمیونٹی کو اپنا گھر سیدھا کرنا چاہیے۔ اس پر بہت سے دلائل دئیے گئے اور اس خبر کو جس میں آٹھ پاکستانیوں اور ایک افغانی کو مجموعی طور پہ 77 سال کی سزا ہوئی نو عمر لڑکیوں کو ورغلانے ان کو استعمال کرنے اور پھر ان کو اگے مزید تیار کرنے کے جرم میں۔ ٹھیک ہے وہ لوگ اس سزا کے مستحق تھے اگر انہوں نے یہ جرم کیا تھا اور اس پہ یہاں کے ذرائع ابلاغ نے بڑا شور مچایا لیکن کتنی حیرت کی بات ہے کہ اسی دوران سکاٹ لینڈ میں ہونے والے اسی طرح کے ایک واقعے جس میں سفید فام ملوث تھے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ 52 میں سے پانچ بچوں والے واقعے میں پاکستانی ملوث تھے اور میڈیا نے آسمان سر پہ اٹھا لیا اور باقی 47 کا کوئی ذکر ہی نہیں۔

    خیر ان شرکا میں سے ایک حقیقت پسند انگریز نے صحیح بات کی کہ ہم پاکستانیوں پہ تو انگلی اٹھاتے ہیں لیکن یہاں جو کچھ انگریز گھرانوں میں ہورہا ہے وہ کیا کسی سے کم ہے سب سے زیادہ ٹین ایجرز کونٹراسیپشن کی طرف جارہے ھیں۔

    ویسے پاکستانی جہاں پہ تھوڑا بہت ملوث پائے جائیں تو اس بات کو میڈیا رائی کا پہاڑ بنا دیتا ہے۔ مجھے اب بھی وہ خبر یاد ہے جب گزشتہ سال ناروے میں ایک 32 سالہ شخص جو اپنے آپ کو کروسیڈر کہتا تھا نے 92 لوگوں کو قتل اور زخمی کردیا تھا اور اس واقعے سے کچھ گھنٹوں کیلیے ناروے سمیت پورا یورپ ہل کے رہ گیا تھا اور جب تک یہ پتہ نہیں لگا تھا کہ یہ وہیں کا مقامی بندہ ہے جس نے یہ سب کیا اس سے پہلے بی بی سی اس واقعے کا تعلق وہاں موجود پاکستانی کمیونٹی اور پاکستانی علاقوں میں موجود طالبان سے جوڑ رہی تھی اور ان کے صحافی اور تجزیہ نگار اپنا بڑا منہ کھول کے یہی باتیں کررہے تھے لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو کسی نے معذرت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

    شب بخیر۔

  76. SCheema says:

    EasyGo said:
    شیخ رشید تو ہمیشہ ہی “سچی اور کھری” باتیں کرتا ہے، اب چوہدری افتخار کی خیر نہیں
    ————————
    ایزی گو بھائی جی ۔

    آپ ذرا اپنا فقرہ درست کر لیں ۔

    شیخ رشید جب حکومت میں نہ ہو تو “سچی اور کھری” باتیں کرتا ہے ۔

    اگر نہیں یقین تو ڈمہ ڈولہ پر حملے کے وقت جب یہ وزیر اطلاعات تھا تو اس کے تاثرات دیکھ لیں ۔ میرا خیال ہے آپ کی یادداشت ابھی ٹھیک ہے

  77. Salam says:

    http://pkpolitics.com/2012/05/09/visitors-views-news-%E2%80%93-may-20122/#comment-430163
    ———————————————————————————————-
    زرداری کی شان میں اتنی تعریف پڑھ کر تو خود بے شرم زرداری بھی شرمندہ ہو گیا ہوگا
    یہ بھی ایک انداز ہے زرداری کے گن گانے کا اور اپنی سیاسی وابستگی کے اظہار کرنے کا

    ویسے عموماّ پرانے، بوسیدہ و بیمار جیالے زرداری کو اتنا سپورٹ نہیں کرتے، ان کی بینظیر کے بعد بس ہو گئی تھی لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ جائیں بھی تو اور کہاں جائیں ان کے پاس کوئی چوائس بھی تو نہیں
    ———————————————————————————————-
    چیمہ جی

    بہت خوب
    آپ نے تو ان کی جوتی لے کر انہی کے سر مار دی

    آداب

    😛 😛

  78. EasyGo says:

    چیمہ صاحب
    پہلے تو امید ہے اب آپ کام نمٹا کر آیے ہونگے اور جلدی واپس نہیں جائینگے
    :)
    میرے شیخ رشید والے کومنٹس کے اوپر جاوید شیخ صاحب نے ایک ویڈیو لگائی ہوئی ہے
    مجھے تو انکو خوشی دیکھ کر خوشی ہوئی تھی

    اب پیش ہے یاسر پیر زادہ کے کالم میں سے اقتباس
    (پورے کالم سے مجھے اتفاق نہیں ہیں)

    میری مرضی کا سچ!!!…ذراہٹ کے…یاسر پیر زادہ
    دنیا کا آسان ترین کام گھسی پٹی باتیں کرنا ہے اور یہ خاکسار اس فن میں ید طولی رکھتا ہے ۔تاہم کچھ عرصے سے مجھے اس میدان میں اپنی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہورہا ہے کیونکہ اب اس فیلڈ میں”انصاف پسند“ نوجوانوں نے اپنا سکہ جمانا شروع کر دیا ہے ۔چند دن پہلے ایسے تین”منصفوں“ سے ملاقات ہوئی۔تینوں پڑھے لکھے تھے،سمارٹ تھے،پر اعتماد تھے اورحسب توقع گھسی پٹی گفتگو کر رہے تھے۔سسٹم کرپٹ ہے، پاکستان میں ہر کام رشوت سے ہوتا ہے،کوئی نوکری سفارش کے بغیر نہیں ملتی ،اسمبلیوں میں جاگیردار بیٹھے ہیں،جمہوریت فراڈ ہے ،پاکستان میں ترقی کرنے کا کوئی سکوپ نہیں ،یہاں غنڈہ گردی کا راج ہے ،وغیرہ وغیرہ۔میں کچھ دیر خاصی بیزاری سے ان کی گفتگو سنتا رہا، پھر عزت کی امان پا کر پوچھا کہ جس کالج میں وہ پڑھتے ہیں ،کیا وہاں بھی کرپشن ہے ؟ ان میں سے ایک جھٹ سے بولا ”جی بالکل،وہاں داخلے کے لئے پیسے چلتے ہیں ۔“ میں نے پوچھا”تو اس کا مطلب کہ آپ نے بھی اس کالج میں پیسے دے کر داخلہ لیا ہوگا؟“جواب آیا”نہیں میرا داخلہ تو میرٹ پر ہو گیا تھا۔“میں نے پھر پوچھا ” تو کیا آپ کے کسی دوست نے پیسے دے کر داخلہ کروایا؟“ جواب آیا ”نہیں دوست نے بھی نہیں البتہ لیکن کرپشن تو ہے ناں یہ تو آپ بھی جانتے ہیں ۔“

    دلیل ملاحظہ فرمائیے ،یعنی اپنے ہی کی کالج کی کرپشن ثابت کرنے کیلئے محض اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ سب ایسا کہتے ہیں، چاہے اپنا تجربہ اس سے بالکل الٹ ہو!مگر کیا کیجئے ،پوری قوم کا مزاج ہی ایسا ہے کہ منفی بات سوچتے ہیں اور زہر میں بجھے ہوئے نشتر چبھوتے ہیں۔ لوگوں کی کردار کشی کرنے میں لذت محسوس کرتے ہیں اوربغیر دلیل کے، محض خبث باطن کی وجہ سے لوگوں پر ایسے ایسے الزام لگاتے ہیں جنہیں پڑھ کر یوں لگتاہے جیسے اپنی حسرت کا اظہار کر رہے ہوں کہ کاش یہ الزامات سچ ہوتے اور خود ان پر لگائے جاتے !کسی زمانے میں میرے ایک بزرگ کے پاس سرکاری ادارے میں چند بھرتیاں کرنے کا اختیار تھا،انہوں نے قواعد کے مطابق اشتہار دیا اور پھر ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد میرٹ پر بھرتیاں کر لیں۔جب ان نوجوانوں کو تعیناتی کا حکمنامہ جاری ہو گیا تو بزرگوار نے انہیں اپنے دفتر بلایا اور کہا ”بچو! کیا تم میں سے کسی نے اس نوکری کیلئے مجھے کوئی سفارش کروائی؟ “جواب آیا، نہیں ۔”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ نوکری تمہیں محض اپنی قابلیت کی بنا پر صرف میرٹ پر ملی ہے ؟“ جواب آیا،جی ہاں۔ ”گڈ تو اب باہر جاکر لوگوں کو یہ بات بتانا کہ اس ملک میں ایسے بھی کام ہو جاتا ہے ۔“
    http://jang.net/urdu/archive/details.asp?nid=620229

  79. EasyGo says:

    aliimran said:
    Are we dysfunctional and impotent society?
    we are raped and insulted by these Goofs on daily bases and we still support them———
    Do we really support them or ????
    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=BcKsXzWMsPo#!

    =======
    علی عمران صاحب
    یقین مانیں دکھہ ہوا میرے وزیراعظم کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا دیکھہ کر، اپنوں اور غیروں دونوں کی طرف سے
    لیکن افسوس اس بات کا بھی ہے کہ یہ حکمران ہر دفعہ بھول جاتے ہیں کہ عوام پیچھے نہ ہو تو یہ وقت آ جاتا ہے
    جمہوریت صرف وعدوں، قربانیوں / شہادتوں کی داستانیں سنا کرووٹ لینے کا نام نہیں، عوام تک اسکے ثمرات بھی پہنچنے چاہئیں

  80. EasyGo says:

    ڈیموکریسی ایسے نظام کا نام ہے جس میں عوام اس توقع پر اپنے میں سے زیادہ ذمہ دار ، معتبر اور قابل افراد کو با اختیار بناتے ہیں تاکہ وہ ایک مخصوص مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد عوام کی بنیادی ضرورتوں اور آزادیوں کو بلا امتیاز یقینی بناتے ہوئے روزمرہ اور دورس داخلی و خارجی مسائل کو اخلاص کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔جو اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں انہیں دوبارہ موقع مل جاتا ہے۔جو نہیں اترتے انہیں ووٹر عارضی یا مستقل طور پر گھر یا حزبِ اختلاف کی بنچوں پر بھیج دیتے ہیں۔

    جبکہ الیکٹو کریسی ایسے نظام کا نام ہے جس میں کچھ پیشہ ور خواب فروش عوام کو بار بار سپنوں کا دھتورا پلا کر خود کو منتخب کرواتے ہیں اور ہر مرتبہ نئے خوابوں میں نیا نشہ ملا کر بیچتے ہیں۔اور جب یہ نسخہ کام نہیں کرتا تو سیاسی و سماجی پلاسٹک سرجری کروا کے سادہ لوحوں کو کسی نئے سپنے کے بانس پر بٹھا دیتے ہیں۔اور جب اس سے بھی کام نہیں چلتا تو نشہ اور تیز کرنے کے لیے خواب میں تعصب کی اجوائن ، جوارشِ مغلظات ، تنگ نظر قوم پرستی کا معجون ، جوشاندہِ سازش ، برگِ فرقہ ، سفوف ِ برادری ، شربتِ وعدہ اور عرقِ معذرت ملا کر خوب گھوٹتے ہیں۔

    یہ آمیزہ پی کر جب دھت ووٹر بیلٹ بکس کی طرف بڑھتا ہے تو پیر کہیں پڑتا ہے اور ووٹ کہیں ۔وہ خوش خوش گھر واپس آتا ہے اور سوجاتا ہے۔جب نشہ اترتا ہے تو وہی خواب فروش سامنے پاتا ہے کہ جنہیں بدلنے کے لیے اس نے اتنا کشٹ کاٹا ۔
    پچھلے پینسٹھ برس سے یہاں ہر وردی اور شیروانی والا ننگ دھڑنگ لوگوں کو ڈیموکریسی کے نام پر الیکٹو کریسی بیچ رہا ہے۔تم نے پچھلی دفعہ ووٹ دیا تھا تو تمہیں شلوار ملی تھی نا۔اس دفعہ ووٹ دو گے تو قمیض بھی ملے گی۔تین حامی اور لاؤ تو جوتا بھی دیں گے۔خود جاؤ گے تو جوتا بھی نہیں پڑے گا۔

    لوگ واقعی چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ لیکن مافیا ، کارٹیل اور گلڈ کی سفاکی سے کیسے چھٹکارا پائیں جہاں سائے نے بھی سائے سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔جہاں وقت بھی اندر خانے پروفیشنل خرکاروں سے ملا ہوا ہے۔رات اپنے شکار کو اگل کر جعلی دن کے حوالے کردیتی ہے اور دن پھر اس شکار کو چچوڑ چچاڑ کر رات کے سیاہ جبڑوں میں واپس دے دیتا ہے۔

    یہ کروڑوں بے سکون و بے چہرہ لوگ اس بے چارے کی طرح ہیں جو بدفعلی کی خبر سن کر مدرسے پہنچا اور چیختے ہوئے کہا کہ اب میں اپنے بچے کو ایسی واہیات جگہ نہیں پڑھاؤں گا۔مدرسہ انچارج مسکراتے ہوئے بولا ’ تھکنے سے کوئی فائدہ نہیں۔جہاں بھی داخل کراؤ گے نصاب کم وبیش یہی پاؤ گے‘۔
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/05/120513_baat_say_baat_nj.shtml

  81. Shirazi says:

    @hasankhan saab

    Smaller provinces are carved for devolution of power. The people in Saraki belt believe they don’t get their due share as most of the money allotted to Punjab based on the population of Punjab goes to Lahore. They believe if Southern Punjab is separate province their money won’t be channeled through Lahore. I think it’s a legitimate political demand and we all should support it.

  82. SCheema says:

    aliimran said:
    Are we dysfunctional and impotent society?
    we are raped and insulted by these Goofs on daily bases and we still support them———
    Do we really support them or ????
    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=BcKsXzWMsPo#!

    ——————————————-
    ویل ڈن ۔ علی عمران ۔

    اس مسکراہٹ کے پیچھے وہی سوچ اور زبان کی بواسیر ہے جو کہ انتہائی بدبوار ہوتی ہے لیکن کچھ لوگ اسی بدبو میں رہنا پسند کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کو بتائے کہ یہ بدبو ہے تو وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر ثابت کرتے ہیں کہ “یہ تو خوشبو ہے“

    میں اکثر ایک سوال کرتا ہوں کہ

    “غیرت برگیڈ کا اکثر ذکر ہوتا ہے
    کیا بے ۔ غیرت برگیڈ کا بھی وجود ہے“

  83. saleem raza says:

    یہ کالم پڑھکر اپنے بال نوچیں اور اپنی بے بسی پر ماتم کریں کیونکہ جن بے غیرتوں
    کا اس قوم کو سامنہ ہے یہ کوئی معمولی چور چُکے نہیں ہیں –
    اس کالم کو پزھ کر اپ کو اندازہ ہو گا ان بے غیرتوں نے اپنے منہ کی بواسیر کے حوالے سے
    کیا کیا جواز گھڑ رکھے ہیں
    ———

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=620472#

  84. saleem raza says:

    چمیہ جی
    اپ دیر بعد تشریف لاے ہیں اور یہ اچھا کیا جو بواسیر کا علاج بھی
    تلاش کر کے لے اے ہیں – لیکن بواسیر لگتی کیسے ہے یہ زرا بتا دیں میرے خیال میں کسے دوسری
    نسل کے بچے کو جب اپنی گود میں بیھٹا کر بھوکنا سکھایا جاے تو یہ بیماری اُس وقت لگتی ہے –
    اپ کا کیا حال اور کیا خیال ہے –

  85. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان کے گھر گھر میں کیوں چونسٹھ سال سے ماتم ھے؟
    قائد ا عظم زندہ ھے ، کس بات کا پھر ھم کو غم ھے
    دو قومی نظریہ دیکھ ، جس میں اب بھی جان ھے ، دم ھے
    چوپتے جاؤ ، چوپتے جاؤ ، گنے میں کیا میٹھا کم ھے ؟

  86. saleem raza says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    پاکستان کے گھر گھر میں کیوں چونسٹھ سال سے ماتم ھے؟
    قائد ا عظم زندہ ھے ، کس بات کا پھر ھم کو غم ھے
    دو قومی نظریہ دیکھ ، جس میں اب بھی جان ھے ، دم ھے
    چوپتے جاؤ ، چوپتے جاؤ ، گنے میں کیا میٹھا کم ھے ؟
    —-
    محترم شیخ صاحب اپ اپنی یاداشت بہتر کریں پاکستان کے ،،،،،، کسی ،،،،،، گھر میں قائداعظم کی وجہ سے ماتم نہیں ہے – یہ اپکے اپنے دل کا حال ہے – باقی پاکستان میں جو ماتم ہے شاہد وہ اپکے کسی چاہنے والے کی وجہ سے جو قتل ہو کر خود تو شہد بن گے مگر
    عوام کا بیڑا غرق کر گیے –

  87. saleem raza says:

    ویسے شیخ صاحب
    جب اپ زرداری کو جس رزادری سے بھولے لال قلندر کے نام سے لکھتے ہیں – پڑھ کر میں جھوم اُٹھتا ہوں –
    :)

  88. saleem raza says:

    ایزی گو لڑکے سلام
    اپ کو کس بات کا افسوس ہوا ہے ذرا اس بات پر ٹارچ ماریں ۔ آخر وزیراعظم کے ساتھ کیا ہوا ہے جس کو اپ دیکھنا یا سننا پسند نہیں ایا

  89. Javed Ikram Sheikh says:

    @ Saleem raza,
    The Shaheed, you have mentioned,was not in power for 64 years.

    People of Pakistan are grumbling against economic, social, political, cultural and moral problems, since 1947.

    Camel is not sitting properly after several attempts.

  90. EasyGo says:

    سلیم رضا صاحب
    واعلیکم السلام
    کچھ کونفیوذژڈ ہو گیا تھا ویڈیو دیکھ کر
    شائد ایک سویلین ہائیسٹ اتھارٹی کی اتنی زیادہ ذاتی تضحیک اچھی نہیں لگی
    لیکن کیا کریں قصور انکا اپنا ہی ہے، عوام کو تو یہ جاہل سمجھتے ہیں

  91. ukpaki1 says:

    السلام علیکم سلام بھائی

    ابھی فورم پہ آتے ہی اس ویڈیو لنک پہ نظر پڑی جو آپ نے پوسٹ کیا ہے، پورا 14 منٹ دیکھنے کی تو برداشت یا وقت نہیں تھا کچھ آگے کر کر کے دیکھا تو میں یہ سوچنے پہ مجبور ہوگیا کہ ٹھیک ہے حکومت تو گھٹیا اور غلیظ ترین ہے ہی لیکن پاکستان میں جو تھوڑا سا بڑا منہ کھول لیتا ہے اور بے تکی باتوں میں اور چوّل مارنے میں تھوڑا بہت ماہر ہے وہ ٹی وی پہ بیٹھ کے دانشوروں کے طرح تبصرے کررہا ہوتا ہے۔

    اب اسی میزبان کی مثال ہی لے لیں، کتنی بے تکی اور فضول اس نے باتیں کیں جب اس نے کہا کہ اس خاتون نے اپنے کوٹ ٹھیک کیا اور گیلانی سے کہا کہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بتاؤ دیکھیں اس طرح ایک حاکم ایک محکوم ملک کے سربراہ سے بات کرتا ہے۔۔۔ کیا بکواس ہے، کس طرح کے فارغ اور بے سروپا افسانوی باتیں کرنے والے میزبان بنے ہوئے ھیں اور لوگوں کو کس طرف لگا رہے ھیں۔ بی بی سی پہ ایک ٹاک شو لگتا ہے ہارڈ ٹاک نام ہے اس کا اس میں بین الاقوامی سطح کی شخصیات سے انٹرویو لیا جاتا ہے اور وہاں کے مقامی وزیروں سے بھی اور ان سے اس بھی دوگنے طریقے سے یا انداز سے سخت لیکن متعلقہ سوالات کیے جاتے ھیں ان پھاپھے کٹنیوں کی طرح نہیں جو ریٹنگ بڑھانے کیلیے سیاستدانوں کو لڑواتے ھیں اور عابدی جیسے میراثی کو شو میں بلا کے سیاسی دنگل کرواتے ھیں۔

  92. Bawa says:

    پجاریوں کے بعد – نائیوں کی صفائیاں

    😀 😀 😀
    😀 😀 😀

    طواف کوئے ملامت…سویرے سویرے…نذیر ناجی

    دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے۔ ہمارے سیاسی حکمران بار بار چوٹ کھانے اور رسوا ہونے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھ سکتے۔ مشرقی پاکستان کا سارا کھیل یحییٰ ٹولے نے کھیلا۔ مگر جنرلوں کے روایتی کارندوں نے سارا الزام ذوالفقار علی بھٹو پر دھر دیا۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ بھٹو صاحب کے پاس نہ کوئی سرکاری محکمہ تھا۔ نہ کوئی انتظامی اختیار تھا اور نہ وہ افواج پاکستان کو حکم جاری کر سکتے تھے۔ لیکن توتے آج تک یہی کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان بھٹو صاحب کی وجہ سے علیحدہ ہوا اور بعض بقراط تو یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ بھٹو صاحب نائب وزیراعظم کی حیثیت سے بااختیار تھے۔ ایسی دھوکہ دہی کے لئے انتہائی درجے کی بدنیتی درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ بھٹو صاحب کو جب نائب وزیراعظم بنایا گیا تو مشرقی پاکستان پر بھارتی افواج کا عملاً قبضہ ہو چکا تھا۔ اسوقت بھٹو صاحب تو کیا‘ پاکستان کی پوری فوجی قیادت زمینی حالات بدلنے کی صلاحیت کھو چکی تھی۔ بھٹو صاحب کچھ کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود آج بھی ان کا دامن داغدار کرنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے

    http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/16-05-2012/col1.htm

  93. rollcall says:

    Greeks pull funds from banks:

    Greeks are withdrawing euros from banks, apparently afraid of the prospect of rapid devaluation if the country leaves the European single currency, minutes of Papoulias’s negotiations with political leaders showed.

    Central bank head George Provopoulos told him savers withdrew at least 700 million euros (560 million pounds) on Monday, the president told party chiefs.

    “Mr Provopoulos told me there was no panic, but there was great fear that could develop into a panic,” the minutes quoted the president as saying.

    http://uk.reuters.com/article/2012/05/16/uk-greece-idUKBRE8440DC20120516

  94. Javed Ikram Sheikh says:

    پہلے ھی مشکلات اور مصیبتیں کچھ کم نہیں تھیں —
    اب بحری قزاق —-ٹپک پڑے——
    مجھے ڈر ھے ——اگر ان لٹیروں نے —–یرغمالی فلسفہ –اورلوٹ کا سلسلہ جاری رکھا —-
    تو پاکستان کی بچی کچھی دولت–سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں پڑے خزانے —
    چند سالوں کے اندر —–بحری قزاقوں کے قبضے میں ھوں گے —–
    پاکستان کا بجٹ —–صومالیہ کے بحری قزاق بنایا کریں گے ——–
    بحر ظلمات میں ہمارے گھوڑے –کب دوڑیں گے ——-
    لازم ھے کہ ہم بھی دیکھیں گے —–پھر دیکھیں گے —- کچھ پتہ نہیں کب دیکھیں گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  95. پاکستانی سیاستدان says:

    @Javed Ikram Sheikh

    امریکہ کو صومالی قزاقوں کی دہشتگردی کیوں نظر نہیں آتی؟ امریکہ صومالی قزاقوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتا؟ کہیں امریکہ کے کسی بڑے بزنس مین کا صومالی قزاقوں کی کاروائیوں کے پیچھے ہاتھہ تو نہیں؟

  96. Shirazi says:

    @Bawa Ji

    I think Nazir Naji is spot on – Military dictates Politicians.

    It sounds like you don’t agree with his conclusion. Could you please elaborate what part you don’t agree with?

  97. Bawa says:

    شیرازی جی

    نہ تو سیاستدان اتنے معصوم اور بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ ڈکٹیشن لیتے وقت یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ فوجی ڈکٹیشن کیوں دے رہے ہیں اور نہ ہی نذیر ناجی کوئی دودھ پیتا بچہ ہے جو نہ سمجھتا ہو کہ بھٹو نے ڈکٹیشن کیوں لی تھی

    یہ اقتدار کی ہڈی کی ہوس ہوتی ہے جو انہیں فوجیوں کی ڈکٹیشن لینے پر مجبور کرتی ہے اور بھٹو میں یہ ہوس اسقدر زیادہ تھی کہ وہ اقتدار کی ہڈی کی خاطر ملک توڑنے پر تیار ہوگیا

    ضیاء الحق سے تمام تر اختلافات کے باوجود اسکی اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ

    میں جس سیاستدان کو اقتدار کی ہڈی دکھوں وہ دن ہلاتا ہلاتا میرے پیچھے چلا آئے گا

    نذیر ناجی نے انتہائی صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھٹو کے وہ سارے کالے کرتوت اور مکروو کارنامے نظر انداز کر دیے جو نائب وزیر اعظم سے پہلے سر انجام دیے. اس نے تو اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا کہ

    بھٹو نے کبھی مجیب الرحمان کی اکثریت اور حکومت کے حق کو تسلیم کیا ہی نہ تھا

    مزید وہ یہ بھی بھول گیا کہ

    کس نے اراکین قومی اسمبلی کو ڈھاکہ اجلاس میں شرکت کرنے پر ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی تھی

    حتی کہ وہ یہ بھی بھول گیا کہ

    کس نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر کہا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کو بچا لیا گیا ہے

    صحافتی بددیانتی کی کوئی انتہا ہوتی ہے اور بھٹو کے پجاری اور نائی ہر انتہا عبور کر جاتے ہیں

  98. زالان says:

    مزید صوبے بنانے کے لیہ مسلم لیگ کے پاس نہ کوئی یجنڈا ہے اور نہ تیاری ، صرف پیپلز پارٹی کا جواب دینا ہے ، کچھ بیوقوف لیگی جذباتی پن میں پنجاب میں صوبوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ سند میں مہاجر صوبے کی حمایت کرنے لگے یہ سوچ کہ پیپلز پارٹی اس سے خطرے میں آجاے گی
    میرا خیال ہے کہ کراچی کو صوبہ بنانے میں محترم صدر جناب آصف علی زرداری کی رضا مندی اور دور اندیشی شامل ہے اور جو اندروں اور شہری سندھ دونوں کے لیہ بہتر ہوگا پر سندھی قوم پرستوں کا راضی کرنا مشکل کام ہوگا ،اسی لیہ نواز شریف کا یہ بیان کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے آنے والے دنوں میں سندھی قوم پرستوں کی حمایت لینے کے لیہ ہے

  99. Javed Ikram Sheikh says:

    Only two persons would rock in the History of Pakistan:
    1. Mohammad Ali Jinnah as a Statesman
    2. Zulfiqar Ali Bhutto as a Politician.
    End of the Story.

  100. Bawa says:

    میرا خیال ہے کہ کراچی کو صوبہ بنانے میں محترم صدر جناب آصف علی زرداری کی رضا مندی اور دور اندیشی شامل ہے

    .
    .
      قاتل عوام  کو” قاید عوام” اور بی بی این آر او والی کو” شہید” بنانے کے بعد  توقع تھی کہ پجاری اور نائی اس چور لٹیرے کو بھی محترم بنا دیں گے 

    شرم ایسی چیز ہی نہیں ہے جوبھٹو کے  پجاریوں 
    اور نائیوں کے  لیے بنی ہو 

    بے شرماں دیاں موجاں ا ی موجاں  

     😉 😉 😉
    😀 😀 😀
    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

  101. Shirazi says:

    @Bawa Ji

    I am baffled by your critique on politicians. Politician wishing and striving for getting to power is like writer trying to nail down his ideas, athlete or soldier trying to perform on field. On one hand you criticize IK and NS (some times) to be little too idealist and on the other hand you are criticizing politicians for making compromises to get in power.

    Nazir Naji blamed Army for policies that they had for 20 odd years based on which separatist tendencies nurtured in east Pakistan and Mujeeb got that over whelming majority.

    Now would you blame Nawaz Sharif for Kargil or Zardari or Gillani for double cross, it’s all GHQ and I am sure nobody knows better than you but in election year last thing you want is consolatory tone and that is totally understandable.

    BTW I like your back handed compliment to late Gen. Zia ul Haq. I won’t be surprised if you upgrade to fore handed in coming weeks and months.

    :)

  102. Bawa says:

    شیرازی جی

    سیاستدانون پر تنقید پڑھکر پریشان نہ ہوا کریں. انکے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ انکو بھگو بھگو کر جوتے مارنے کو جی چاہتا ہے

    فوجیوں کی تو بات ہی چھوڑیں کیونکہ آئین توڑنا اور اپنا ہی ملک فتح کرنا انکا پیشہ ہے لیکن انکا کیا کریں جنھیں ہم اپنے ووٹ دے کر اپنی نمائیندگی کے لیے منتخب کرتے ہیں اور جو دن رات پارلیمنٹ کی بالا دستی کے ترانے گاتے ہیں لیکن پس پردہ فوجیوں کے بوٹ چوم رہے ہوتے ہیں

    یہ بے غیرت ایک طرف جمہوریت کے علمبردار بن رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف اکثریتی پارٹی کو اقتدار کی منتقلی کی مخالفت کر رہے ہوتے ہن، ایک طرف عوامی نمائیندگی کا دعوا کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی عوام پر ٹینک چڑھانے اور جزوی مارشل لا لگانے کے احکامات صادر کر رہے ہوتے ہیں. ایک طرف عوام کے ساتھ جینے مرنے کے وعدے کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف فوجیوں سے مک مکا کرکے راتوں رات ملک سے بھاگ رہے ہوتے ہیں، ایک طرف میثاق جمہوریت کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف جرنیلوں سے این آر او پر دستخط کر رہے ہوتے ہیں اور ایک طرف انٹی اسٹبلشمنٹ ہونے کا راگ الاپ رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اپنے جسم کے کپڑے تک اتار کر فوجیوں کے سپرد کر رہے ہوتے ہیں

    سچی اور کھری بات دشمن بھی کہہ رہا ہو تو دشمنی ایک طرف رکھکر اسکی بات پر توجہ دینی چاہئیے. ضیاء الحق نے جو ہڈی والی بات کی ہے وہ بلا مبالغہ درست ہے اور اسمیں کسی شک و شبہے کی گنجایش نہیں ہے. دو دن پہلے چاچے کپی المعروف بریگیڈیر ہارون الرشید نے میاں شریف کے بارے میں جو بات کہی ہے میں منتظر تھا کہ شاید کوئی اسکی تردید کرے گا لیکن ابھی تک کوئی تردید نظر سے نہیں گزری. کیا یہ باتیں ان سیاستدانوں اور انکے خاندانوں کی اوقات دکھانے کے لیے کافی نہیں ہیں؟

  103. Zia M says:

    I knew our Hazrat Dr Sir Allama Iqbal’s ancestors were Kashmiri Pundit Brahimins, but I didn’t know the Indian’s Cacha Nehru’s grandfather Ganga Dhar was in reality a Sunni Muslim, in fact he was a Mughal Nobelman.His real name was Ghiasuddin Ghazi and was a Kotwal at Delhi during the time of Bahadur Shah Zafar.

    How ironic is this “two nation theory” in the light of the above mentioned facts.
    It simply sounds like a “veggie” and “beef” options on a menu of our national identity.

  104. بلیک شِیپ says:

    Shirazi said:
    BTW I like your back handed compliment to late Gen. Zia ul Haq. I won’t be surprised if you upgrade to fore handed in coming weeks and months.

    اگر کوئی باخبر میری رہنمائی کرسکے کہ آیا پاکستان کے دورِ ضیاع میں مسلم لیگ کا اسٹوڈنٹ ونگ المعروف مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی حمایت اسلام کے عظیم سپاہی کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔۔

    ویسے اس سوال پر واقعی تحقیق کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں مسلم لیگ ہمیشہ فوجیوں کی لونڈی کیوں رہی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا کوئی جینیٹک فالٹ ہے۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  105. بلیک شِیپ says:

    برملا۔۔۔۔۔۔ نصرت جاوید۔۔۔۔۔۔

    [img]http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101524416&Issue=NP_LHE&Date=20120517[/img]

  106. بلیک شِیپ says:

    برملا۔۔۔۔۔۔ نصرت جاوید۔۔۔۔۔۔

    [img]http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120517/Sub_Images/1101524416-2.gif[/img]

  107. پیارا دن says:

    ان کو بھگو بھگو کر جوتے اس لئے بھی مارنے چاہییں کیونکہ یہ نظام کو بدلنے کی بڑ ہانکتے تو دیر نہیں لگاتے پر جب دور ضیائی کے رائج کردہ ہوشربا قوانین کو بدلنے کا وقت آتا ہے تو قادریوں کے خوف سے ہی ان کو اچھو لگ جاتا ہے …چارو نہ چار نظام بدلنے کی بڑ اور اس کو ہانکنے والے وھیں گھس جاتے ہیں جہاں سے وارد ہوئے تھے اور یاد دہانی کے لئے چھوڑ جاتے ہیں بیچارے نائی ملک کو جو ایک اور سدا دے کر گٹکیں چوسنے پے لگ جاتا ہے….

    دراصل جب سے ایوب اور سکندر مرزا کے برساتی ملاپ کے نتیجے میں بھٹو اور “فل آف کرپشن لیگ ” کا ناقص جین قوم کے خون میں داخل ہوا ہے اس وقت سے ہی صرف ‘قوم کی قیادت سے ہیجڑے’ اور ‘سوجھ بوجھ کے نہیجار’ اپنے سیاسی کاما سترا کے کرتب مسلسل دکھاتے ہی چلے جا رہے ہیں….

    جیسے:

    ملک کو دو لخت کرنے کے بعد اسلامیہ جمہوریہ قانون بنانا اور پھر بنگالی انسانوں کو سور کہنا …مگر جن سوروں نے بدر اور شہاب بنا کر بنگالی خون اور عزت کو تاراج کیا ان سمیت بزدل و عیار جرنیلوں کو قومی پرچم میں لپیٹ کر پورے کروفر سے دفن کرنا –نتیجہ : ابھی کوئی چار سال پہلے تک خنزیر مشرف مملکت پاکستان کے قانون سے بدی کرتا ہوا نظر آیا

    اسلامی جمہوریہ کے قانون میں ترامیم کر کے سیاسی اجتہاد کی ایسی عظیم مثال قائم کی کہ پاکستان کی شہریت کے حامل مرد و زن کو ایک گروہ اور پھر اچھوت بنا کے انسانی حقوق سے ہی مستثنیٰ قرار دے دیا گیا –نتیجہ : آج کا دکھ بھرا اور یاسیت زدہ پاکستانی معاشرہ

    عوام کی حق حلال کی پونجی کو پہلے بنکوں میں جمع کرنے کے لئے لمبی چوڑی سکیمیں متعرف کروائیں پھر بی.سی .سی .آئی کی طرز پر، قومیائے گئے بنکوں میں منی لانڈرنگ اور پھر کوآ پریٹو فراڈ کو رواج بنایا–نتیجہ: نہ نجی سیکٹر ابھرا اور نہ ہی قومی وسائل عوام کی دسترس میں آئے

    شریف کی قدر تبھی ہوتی اگر یہ امریکہ جانے سے پہلے مشرف اور اس کے خنزیر حواریوں کو ہٹا دیتا ….شائد اس کو امریکہ
    جانے ہی کی ضرورت نہ پڑتی …. کبھی اپنے ذور بازو کو اپنایا ہی نہیں پر پلاٹوں اور گالیوں والی صحافتی سرکار ناجی نائی میں یہ سچ لکھنے کی سکت نہیں

    اسی طرح بی بی چورنی کو اپنی وزارت عظمیٰ کے ہمہ کو اسلم بیگ کے گھر کی لونڈی نہیں تھا بنانا چاہیے، اس کو طالبان اور نصیر بابر کی کھرلی کو نہیں تھا تسلیم کرنا چاہیے …مگر ناجی نائی یہ بھی نہیں لکھے گا

    مداری اور اس کی نوکرانی کی کیا بات کرنی …. پہلے فحاشا جرنیلوں کی لونڈی بنے “معافی آئے گی تو پھر …” کے سدے دیتے رہے، پارلیمانی ایوانوں میں گھاس چرنے اور نیٹو سپلائی نہ کھولنے کی بدبو دار ڈکاریں مارتے رہے اب وزارت خارجہ کی الیاس بوبی کو قومی غرور کا گھونٹ نگلنے کے لئے آگے کر دیا گیا ہے….

    ناجی نائی تجھ میں تو اتنی بھی صحافتی صداقت نہیں جتنی کل نجم سیٹھی نے ہوائی فائرنگ کر کے کی —

Leave a Reply