June 2, 2012

NO DISCUSSION ON RELIGIONS HERE.
Click here to post religious topics.

Share and discuss the latest Pakistani Political News and Views here. Feel free to include links to interesting videos, news, and articles from electronic media, newspapers or blogs. Always pretext a link with some explanation about the content of a link.

232 Comments

  1. Javed Ikram Sheikh says:

    I might be wrong—but sometimes—– feel—-
    That if each and every—- household in Pakistan—- is awarded with
    $ 10,000,000——-in the Budget
    Still—– they will be asking for more —more—–more—-and—more.

  2. Javed Ikram Sheikh says:

    مسلم لیگ نواز نے –اپنے کو—- اصلی اور صحیح –حزب اختلاف
    ثابت کرنے کے لئے —جو حرکتیں —اختیار کی ہیں ——
    ان سے —اپنا چہرہ —مزید –مکروہ بنا لیا ھے —-
    جو کچھ بھی کر لیں——عمران خان کے عذاب سے بچ نہیں سکتے—-.

  3. Bawa says:

    انقلابیوں کے بعد پجاریوں میں لٹر پولا شروع 

    [img]http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/02-06-2012/updates/6-2-2012_108867_1.gif[/img]

  4. Bawa says:

    [img]http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/02-06-2012/updates/6-2-2012_108870_1.gif[/img]
    .
    .
    امید ہے پجاریوں میں لٹر پولا جاری ساری رہے گا  . . . . . . 

    😀 😀 😀 😀

  5. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان کی سیاسیات —
    مشرف کی باقیات —
    ضیاءالحق کی باقیات—-
    یحییٰ خان کی باقیات—
    ایوب خان کی باقیات —-
    انگریزوں کی باقیات —-
    ——-کہاں گئی –اسلامی –اخلاقیات ؟؟؟؟؟؟
    اور دو قومیت کے نظریات ؟؟؟؟؟؟؟؟
    اینکردی– گڑ گڑ دی –اوپردی -بے دھیانہ دی
    بند کر بکواس واہیات —–

  6. Qaiser Nadeem says:

    —عمران خان کے عذاب سے بچ نہیں سکتے

    مخالف ویبسایٹ پر لکھی گئی ایک دلچسپ تحریر جو نورا لیگ کی بوکلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے

    اب تو یقینًا نورے مُکمل طور پر بوکھلا چُکے ہیں۔

    اگر کل کلاں عمران خان اعلان کر دے کہ، “پارلیمنٹ کے سامنے زرداری حکومت کے خِلاف کپڑے اُتار کر ایک جلوُس نِکالا جائے گا” تو نورا لیگ کی اب تک کی چابک دستیاں دیکھ کر بڑے آرام سے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان سے سبقت لینے کے شوق میں مُبتلا نواز شریف، اسمبلی میں موجود اپنے ارا کین کو فون پر کہہ دے گا کہ فوراً سے پہلے شلواریں اُتار کر ننگے باہر سڑک پر جلوس شُروع کرو میں بھی شلوار اُتار کر پہنچتا ہوں۔

    اراکینِ پارلیمنٹ کو اِس میں ’’ننگا‘‘ کرنے کی ایک وجہ یہ ہوگی کہ ہنگامی بُنیادوں پر پٹواریوں کی مدد کے بغیر تو سو بندے اکھٹے کرنا بھی محال ہے اور میچ ٹی ٹونٹی کا ہے، وہ بھی عمران خان کے ساتھ۔

    یہ گھبراہٹ میں ذرا سی دیر کو رُک کر اتنی سی بات نہیں سوچیں گے کہ عمران خان نے ’’کپڑے اُتار کر‘‘ جلوس نکالنے کا کہا ہے ننگے ہونے کو نہیں۔
    بلکہ عین مُمکن ہے چوری نِثار تو فرسٹ آنے کے چکر میں وِگ بھی اُتار دے۔

  7. Bawa says:

       بے چارے بھٹو کے پجاری 

    قاتل  عوام  کے  ستو  ختم  ہونے کے  بعد  اب 
    عمران خان کے ستووں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں 

    😉 😉 😉
    😀 😀 😀
    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

  8. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    بیس فیصد اضافہ ایک غریب کی تنخواہ میں واقعی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ اور تنخواہ میں اضافہ بنیادی تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کی ماہانہ تنخواہ سات ہزار ہے جو کم از کم ہے پاکستان میں سرکاری سطح پہ تو اس کی بنیادی تنخواہ چار یا ساڑھے چار ہزار ہی ہوگی اس حساب سے سب سے کم آمدنی والے کی تنخواہ میں ماہانہ اضافہ ساڑھے آٹھ یا نو سو روپے بنتا ہے۔ اور آٹھ نو سو روپے کی پاکستان میں اب کوئی وقعت نہیں رہ گئی ہے۔ اور اس مہنگائی کی حساب سے یہ اضافہ انتی تنخواہ والے کیلیے نہ ہونے کے برابر ہے۔

    پچھلے جند سالوں میں جس طرح غریب کی کمر توڑی گئی ہے اس کے مثال ماضی میں نہیں ملتی، جس طرح لوگ اپنے بچے سڑکوں پہ بیچنا شروع ہوگئے ھیں اور خود سوزی کرنے پہ مجبور ہوگئے ھیں تو اس کا سہرا بھی اس حکومت کے سر ہے۔

    لیکن پھر بھی سندھ کے غریب عوام جن کو پی پی پی پینے روٹی کپڑا اور مکان تو دور کی بات پینے کا صاف پانی بھی مہیا نہ کرسکی، شاید آئندہ انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے ان پلید لوگوں کو پھر منتخب کروائے شاید انہوں نے یہ سوچا ہوا ہے کہ وہ اس پی پی پی کے نام نہاد شہدا کی مقبروں کی زیارت اور زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگانے کیلیے ہی پیدا ہوئے ھیں۔

  9. حاجی بغلول says:

    Crazy vs. batsh*t crazy

    http://youtu.be/mv45vclmCPo

    One of Louis Farrakhan (The 2012 Ghayoor Overseas Paki Idol winner) followers waxes eloquent to the followers of the cult of Abdul Wahab.

    Oh Louis Farrakhan, if only we had a sane and venerable leader like you! :'( sniff!

  10. Bawa says:

       یہ درست ہے کہ عوام فوجیوں اور انہیں ڈیڈی کہنے والوں کے عذاب کے  بعد اب فوجیوں کے دلالوں کے عذاب سے بھی بچ نہیں پائیں گے 

    أه بے چارے مظلوم و بے  بس 
    عوام 

    😉 😉 😀 😀

  11. Bawa says:

    I might be wrong—but sometimes—– feel—-
    That if each and every—- household in Pakistan—- is awarded with
    $ 10,000,000——-in the Budget
    Still—– they will be asking for more —more—–more—-and—more.

    .
    .
       پاکستان کے عوام  انتہائی صبر کرنے والے ہیں. وہ  ان لوگوں کی طرح پیسے اور اقتدار کی ہڈی کے بھوکے نہیں  جو  گلے میں پھندا دلوا لیتے ہیں لیکن اقتدار کی ہڈی منہ سے نہیں چھوڑتے ہیں اور جو ملک لوٹ کر بنک بھرنے کے بعد مزیر دولت سمیٹنے کی  ہوس میں این آر او کرکے واپس آتے این اور کتے کی موت مارے  جانتے ہیں  

    یہ قوم عظیم اور صابر ہے اور ہم اسے سلام کرتے  ہیں 

  12. ukpaki1 says:

    تبدیلی کا مطلب صرف نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ اصل تبدیلی سوچ کی تبدیلی ہوتی ہے اور جس روز پی پی پی لاڑکانہ اور دیگر سندھ سے شکست سے دوچار ہوگئی اور ان کے امیدواروں کی وہاں سے ضمانتیں ضبط ہوگئیں اس دن شاید کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے لیکن فی الحال اگر یہ ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔

  13. saleem raza says:

    یوکے پاکستانی ون جناب وعلیکم السلام !
    میرے خیال میں تو اُس وقت تک تبدلی کی ناممکن لگتی ہے جب تک پاکستان میں
    علم اور انصاف عام ادمی کو نہیں ملتا ، اپ خود اندزہ لگاہیں جن ممالک میں کم علمی ہے
    وہاں کے عوام یا تو مولوی تعویز گنڈے کرنےوالوں کے یا پھر ایسے ہی حکمرنوں کے رحِم کرم پر ہیں – جو ان کو انے والے کل کی نوید سنا سنا کر بےوقوف بنا رہے ہیں ۔
    اس عوام کو ایک سازش کے تحت ان بنیادی چیزوں سے محروم رکھا گیا ہے – تاکہ نہ تو یہ لوگ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں اور نہ ہی ان کی امید ہم سے ٹوٹے –
    آنیدہ انے والے الیکشن میں سندھ والوں کو بنیظیر انکم سپورٹ کے نام پر بےوقوف بنایا جاے
    گا اور وہ بن بھی جاہیں گے –
    اور پنجاب میں لیپ ٹاپ کے نام پر بےوقوف بنایا جاے گا –
    دیکھاجاے تو اس بےوقوف عوام کو تو ہمدردی کے دہ بول ہی کافی ہیں بےوقوف بنانے کےلیے

  14. saleem raza says:

    Bawa said:
    I might be wrong—but sometimes—– feel—-
    That if each and every—- household in Pakistan—- is awarded with
    $ 10,000,000——-in the Budget
    Still—– they will be asking for more —more—–more—-and—more.

    .
    .
       پاکستان کے عوام  انتہائی صبر کرنے والے ہیں. وہ  ان لوگوں کی طرح پیسے اور اقتدار کی ہڈی کے بھوکے نہیں  جو  گلے میں پھندا دلوا لیتے ہیں لیکن اقتدار کی ہڈی منہ سے نہیں چھوڑتے ہیں اور جو ملک لوٹ کر بنک بھرنے کے بعد مزیر دولت سمیٹنے کی  ہوس میں این آر او کرکے واپس آتے این اور کتے کی موت مارے  جانتے ہیں  

    یہ قوم عظیم اور صابر ہے اور ہم اسے سلام کرتے  ہیں 
    —————–
    باوا جی السلام علیکم
    باقی باتیں تو ہوتی رہے جب میں پیدا ہوا تو بہت چھوٹا تھا ( لیکن بعد میں یہ اعزاز میں سے چھن گیا تھا( اس لیے مھجے یاد نہیں کہ اس عورت نے کیا کیا قربانی دے کر مادرِ جمہوریت کا اعزاز حاصل کیا تھا،
    جب مادرِ جمہوریت نضرت مری تھی تو اُس کے سوگ میں کتنے دن سوگ منایا گیا تھا ،۔
    لیکن ابھی جو اتنے فوجی جوان جو برف کے تھلے اکر شہید ہوے ہیں اُن کے لیے کتنےدن
    کا سوگ منایا گیا ہے ،

  15. saleem raza says:

    Bawa said:
       یہ درست ہے کہ عوام فوجیوں اور انہیں ڈیڈی کہنے والوں کے عذاب کے  بعد اب فوجیوں کے دلالوں کے عذاب سے بھی بچ نہیں پائیں گے 

    أه بے چارے مظلوم و بے  بس 
    عوام 

    ——-

    باوا جی تو گروُ نے وقت انے پر فوجی کو ڈیڈی کہا تھا تو پجاری کیوں نہ اپنے گروُ کے نقش قدم پر چلتے ہوے اپنے مفاد کی خاطروقت انے پر اپنے باپ کو باپ مان لیں –
    😀

  16. ukpaki1 says:

    رضا بھائی آپ نے ٹھیک باتیں لکھی ہیں۔ سندھ میں دیگر صوبوں کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ پسماندگی اور ناخواندگی ہے اور یہ واقعی اس سرمایہ دار اور جاگیردارانہ نظام کے مفاد میں ہے۔
    یہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ وہاں کی عوام باشعور اور خواندہ ہو لیکن اس میں قصور عوام کا بھی ہے۔

  17. SCheema says:

    سلیم رضا صاحب ۔

    سسی پلیجو سے وزارت کا قلمدان واپس لینے پر آپ سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہوں ۔

    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_sad.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_sad.gif[/img]

  18. SCheema says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    I might be wrong—but sometimes—– feel—-
    That if each and every—- household in Pakistan—- is awarded with
    $ 10,000,000——-in the Budget
    Still—– they will be asking for more —more—–more—-and—more.
    ———————————–
    شیخ صاحب ۔

    اگر زرداری گروپ سے کچھ بچ گیا تو عوام کو بھی دے دیجیئے گا ۔

    [img]http://a1.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/s320x320/549164_287852467970253_100002365078207_657944_704286362_n.jpg[/img]

  19. SCheema says:

    نیٹو سپلائی پر 100 گنڈے اور 100 چھتر کھانے کے بعد اب بے ۔ غیرت برگیڈ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس میں 100 گنڈے اور 100 چھتر کھانے کی تیاری کر رہا ہے ۔

    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif[/img]

  20. SCheema says:

    saleem raza said:

    باوا جی السلام علیکم
    باقی باتیں تو ہوتی رہے جب میں پیدا ہوا تو بہت چھوٹا تھا ( لیکن بعد میں یہ اعزاز میں سے چھن گیا تھا
    ———————————

    کچھ لوگ اس طرح دعا دیتے ہیں

    “اللہ تینوں میرے جیڈا وڈا کاکا دئے“

    اب میں اس دعا مطلب سمجھا ہوں ۔ کسی کی دعا قبول ہوئی ہو گی جو آپ کو اپنے چھوٹے پیدا ہونے پر افسوس ہو رہا ہے ۔

    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif[/img]

  21. saleem raza says:

    SCheema said:
    سلیم رضا صاحب ۔

    سسی پلیجو سے وزارت کا قلمدان واپس لینے پر آپ سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہوں ۔
    —-
    چمیہ جی افسوس کرنے کا بہت شکریہ ،
    چمیہ جی یہ جوان عورت کو دیکھیں اور اُس بے غیرت بڈھے کو ساری منھ متھے لگنےوالیاں
    لڑکیاں اپنے پاس مشورے دینے کے بہانے رکھ چھوڑی تھی اور ہمارا کزن اس کو خط لکھنے
    کے جرم میں اب تک جیل میں چھتر کھا رہا ہے –
    لیکن جب اس جوان کی بچی کو پتہ چلا کہ اس بڈھے کو حیکم بھی کھڑا نہیں کر سکتے
    اور یہ اب باتوں سے ہی کام چلاے گا تو اس نے نخرے دکھانے شروع کر دیے تھے -اس لیے
    اس کو فارغ کر دیا گیا ہے اور لگتا ہے ہمارے کزن کی جان بھی چھوٹ جاے گئ ۔
    یاد رہے خط لکھنے کے جرم میں جتنے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے میں ان کو اپنا کزن
    ہی کہتا ہوں – اپکو بھی اپنا کزن لکھنا شروع کروں یا پھوپھا ہی چلے گا –
    :) 😀

  22. SCheema says:

    Bawa said:
    یہ درست ہے کہ عوام فوجیوں اور انہیں ڈیڈی کہنے والوں کے عذاب کے بعد اب فوجیوں کے دلالوں کے عذاب سے بھی بچ نہیں پائیں گے

    أه بے چارے مظلوم و بے بس
    عوام

    ————————–

    باوا جی ۔

    ہر وقت روتے رہنا اور اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنا ان لوگوں کا وطیرہ ہے ۔ لیکن

    “اپنی منجی تھلے کبھی ڈانگ نہیں پھریں گے بلکہ دوسری کی ڈانگ کے ساتھ پینگ پا لیں گے “

    اس قوم کے 34 سال فوج کھا گئی اور 17 سال بھٹو اور اس کے پجاری کھا گئے ۔ فوج تو ہے ہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    انہوں نے عوام کے لئے کیا کیا ۔ حتٰی کہ سندھ اپنے گڑھ میں عوام کو سندھی ٹوپی کے سوا علاوہ کیا دیا ہے اور عوام بھی اتنی صابر ہے کہ صرف ٹوپی (سندھی) کے نشے کو لئے پھر رہی ہے بلکہ کچھ لوگوں کا باہر جا کر بھی ٹوپی (سندھی) کا نشہ نہیں اترا ۔
    [img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img][img]http://pkpolitics.com/wp-includes/images/smilies/icon_biggrin.gif[/img]

  23. saleem raza says:

    چمیہ جی
    ٹوپی لکھتے وقت سندھی پہلے لکھا جاے نہ کے بعد میں ، اور اگر ٹوپی لکھنا ہے
    تو پھر سندھی لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کچھ لوگ تو کہتے بھی سنے گیے ہیں
    ٹوپی تو ٹوپی ہو تی ہے وہ چاہیے جہاں پا لیں وہ ٹوپی ہئ رہتی ہے
    :) :)

  24. Zia M says:

    Health R&D gets ZERO rupees (out of 7845 Million).

    Religious “affairs” gets 701 Million.
    ——————

    Who cares about R&D on Health?
    It is more important to do research on proper way of doing “Istinja”.
    :) :)

  25. Bawa says:

    [img]http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/04-06-2012/topst/pic02.gif[/img]
    .
    .
    یہ تصویر دیکھکر مجھے وہ ایم این اے یاد آگیا ہے

    جو اپنے علاقے کے لوگوں سے ووٹ لینے کے بعد غایب ہوگیا تھا اور دوبارہ کبھی لوٹ کر اپنے حلقے میں نہیں آیا. جونہی نئے الیکشن کا اعلان ہونے کی خبریں منظر عام پر آئیں تو ایم این اے صاحب نے اپنے خاص لوگوں سے میٹنگ کے بعد عوامی رابطے کا پروگرام بنایا. پہلے مرحلے میں وہ اپنے حامی ایک شخص کے گھر گیا اور پانچ سال پہلے فوت ہو جانے والے اسکے والد صاحب کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنا چاہی. وہ حامی ایم این اے صاحب سے دو منٹ کی اجازت لیکر باہر نکلا اور جا کر ساتھ والی مسجد میں اعلان کروا دیا کہ

    حضرات ایک ضروری اعلان سنیے. ہمارے ایم این اے صاحب میرے گھر تشریف فرما ہیں. پچھلے پانچ سالوں میں جنکا بھی کوئی عزیز رشتہ دار فوت ہوا ہے وہ آ کر ان سے فاتحہ خوانی کروا لیں. بہت شکریہ

    😀 😀 😀
    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

  26. zalaaan said:
    Shaheen Sehbai about CJ’s Son scandal
    https://www.youtube.com/watch?v=v0hNxhiknLc&feature=player_embedded
    ======================================================

    ذلان صاحب

    ہمیشہ کی طرح آپ ایک اہم پروگرام کی طرف توجہ دلانے میں بازی لے گئے .زیادہ خوشی یہ ہوئی کھ ایک پنجابی دانشور کو پروگرام کی میزبانی کرتے دیکھا

    جہاں تک خبر کی بات ہے اسے تو حامد میر آصف زرداری کی بیماری کے دوران ایک پروگرام میں بریک کر چکا ہے . اس دوران سپریم کورٹ نۓ نہ وزیر اعظم کو ہٹایا ہے اور نہ اسے بجٹ پیش کرنے سے روکا ہے .نہ افتخار چوہدری اور نہ ہی حکومت نۓ ارسلان افتخار کے خلاف کوئی کاروائی کی ہے اس وقت بظاہر حکومت کو افتخار چوہدری کو نشانہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں .

  27. zalaan says:

    smsupportmovement

    ایک عجیب بات لگی وہ یہ کہ شاہین صہبائی اور شاہد مسعود چیف جسٹس سے پوچھ رہے ہیں کہ اس کا جواب دیا جائے ،مجھے لگتا ہے کہ یہ بھی ایک ڈرامہ تیار ہو رہا ہے ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس اس کا نوٹس لے ،عدالت فیصلہ کررے اور ارسلان بےقصور نکال آے پھر چیف جسٹس کی واہ واہ ہو جائے اور ہیرو بن جائے
    عمران خان کا پچھلے ہفتے کہنا کہ چیف جسٹس کے خلاف سازش تیار ہو رہی ہے اسی طرح ہے جیسے میمو کی کہانی آنے سے پہلے عمران کو استمعال کیا گیا
    چیف کے داؤ خالی جا رہے ہیں میمو اور توھین عدالت کیس نے بیک فائر کیا ہے اب ہیرو کو ایک سکینڈل کی ضرورت ہے

  28. کیا یہ نہیں ہو سکتا کھ اس میں ایجنسیوں کا ہاتھ ہو اور افتخار چوہدری سچ مچ نشانہ ہو ….. میں یہ نہیں کہہ رہا کھ ارسلان افتخار پر الزام جھوٹا ہو گا

  29. zalaan says:

    چودھری افتخار کے خلاف حکومت تو ہو سکتی ہے پر ایجنسی ہے یا نہیں کہنا مشکل ہوگا
    اس وقت سپریم کورٹ ایک سیاسی اپوزیشن کے طور پر حکومت کو گرانے میں لگا ہوا ہے اور ایسے میں شاہین صہبائی جیسے بندے کا جو پی پی کا سخت مخالف ہے چیف جسٹس کے خلاف اسکینڈل لے کر آنا سمجھ نہیں آتا
    پھر انصار عباسی کا کالم اور شہد مسعود کا ٹویٹر پر چیف جسٹس سے جواب طلب کرنا اور بھی مشکوک بنا دیتا ہے
    اور ڈرامہ یہ ہو کہ, کمیشن بنے اور الزامات جھوٹے ثابت ہو جائیں پھر تو چیف جسٹس جانثار بے شمار بے شمار –

  30. zalaan says:

    علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جب سے امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تب سے طالبان شدت پسند بھی منتشر ہوگئے ہیں اور وہ مکان یا کمرے میں آرام کرنے کی بجائے کھلے آسمان تلے اور ایک دوسرے سے دور سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    ڈرون طیارے کا نیا نام

    مقامی افراد نے آج کل امریکی ڈرون طیارے کوایک نیا نام دیا ہے ( دہ طالبانوں پلار) یعنی طالبان کا باپ۔ مقامی افراد کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ طالبان علاقے میں سوائے امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتے۔

    مقامی افراد بتاتے ہیں کہ جب کسی شدت پسند طالب سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کی پہلی فریاد یہ ہوتی ہے کہ ڈرون بہت بڑا غذاب ہے، نہ رات کو نیند آتی ہے اور نہ دن کو، بس اللہ کے بھروسے پر گزارہ کرتے ہیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/06/120604_drone_analysis_sa.shtml

  31. @zalaan
    I developed this theory few weeks back, what if IMC is really the hero? What if he did what he was taught by AA and AZ? Looking back I am getting convinced that IMC played a vital role in providing democratic government support that ensured a complete 5 years term. It seems that at every step IMC actually pushed back the well co-ordinated attack by the military against the democratic government in probably the most cunning way. My theory is based on following premises.
    1. IMC spent a lot of time with AA, I will be really disappointed (and actually I was) if a person who has been under the able guidance of AA does not learn to respect democracy.
    2. IMC never did anything detrimental to the existence of democratic government.

    It was few weeks back when IMC gave a very strange statement in Quetta about how constitution provides the solution to any situation. To me looked as if military is now fed up with the AA & IMC’s tactics. It was obvious from the tones of all ISI’s tout anchors that for military it was “enough is enough” and they wanted IMC to take the final step, the ISI judges like Saqib Nisar , Khosa etc.. were all set to do the bidding.

    This is not without reason that the ISI tout anchor’s tone is getting harsh against IMC and SC. This new scandal is by military to black mail IMC and force him to do what they want. If you carefully hear Shaheen Sehbai’s interview, the crux of his interview is the threatening tone to IMC that he should ask military’s help and look into accusations of “obstructing the justice” , or he need to pay for the sins of his son. The way he described how his son was filmed and his conversation recorded etc.. has all the features of an ISI controlled operation.

    My conviction tells me that IMC might actually become a hero one more time by making sure a smooth election and a complete five year term by the President Zardari.
    As a politician Zardari do want to be the next president as well, which NS wants to stop at ANY cost, but it looks like IMC might have a refresher course for NS and their might be again be a “good” relationship between NS & AAZ.

  32. zalaan says:

    کیا چیف جسٹس کے پیچھے بندوق رکھ کر کام کروایا جا رہا ہے؟
    کیا سپریم کورٹ یرغمالبنی ہوئی ہے ؟
    کیا میمو گیٹ بھی اسی سازش کا حصہ تھا ؟
    کسی ایک دہشتگرد کو سزا نہ ہونا ، لال مسجد کے مولوی کی رہائی اور مدرسے کے نیے پلاٹ کے لیہ سپریم کورٹ کی کوششیں عجیب سی کہانی لگتی ہے

  33. Guilty says:

    مصر کے سابق صدر حسنی مبّارک کو سزا بول گئی۔

    اے ایجنٹوں کو بٹھانے ، کا م لینے اور کام کے بعد ایجنٹوں کو انجام تک پہنچانے والو تمہاری مہارت کو سلام۔
    برائے مہربانی ان بڑے ایجنٹوں کے انجام کے بعد دنیا میں پائے جانے والے
    چھوٹے چھوٹے ایجنٹوں، حسین حقانی، ھود بھائیوں اور میر جعفروں کو بھی ایسے ھی انجام سے دوچار کرنا۔
    بلکہ ان سے بھی چھوٹے کیڑوں مکڑوں کے لیئے بھی انجام کا بندوبست کریں جو دنیا اور انٹرنیٹ پر والنٹیئر ایجنٹیاں کررھے ھیں۔

    اے حسنی مبارک اور قذافی کو ٹھکانے لگانے والو تم کو پراجیکٹ مبارک ھو۔
    لیکن یہ آپ کا فرض ھے کہ چھوٹے ایجنٹوں، حقانیوں،
    ھودبھائیوں اور میر جعفروں کو بھی اوقات کے مطابق انجام سے دو چار کریں۔
    بلا شبہ کام ختم ھونے کے بعد خطرناک ٹولز کو سمیٹ دینا ھی سپر پاور کی عقلمندی ھے۔
    اور بے شک تمام ایجنٹوں کا حال قذافی جیسا ھی ھونا چاھیے چا ھے وہ قصر صدارت میں ھوں
    ایمبیسی میں لگے ھوں یا انٹرنیٹ پر چڑھے بیٹھے ھوں

  34. aheemraza said:
    اب اتنی خاموشی کیوں اب تو راز راز نھیں رھا اب سولوموٹو کھاں ھے ارسلان دودھ پیتا بچاھے

    =============================================

    بظاہر نظر یہ آ رہا ہے کھ اس وقت پاکستان میں کوئی بہت بڑی طاقت موجود ہے جو یا تو اس خبر کو کنٹرول کر رہی ہے یا جس کا خوف سب کو اس پر بات کرنے سے روک رہا ہے . یہ طاقت کسی سیاسی پارٹی کے پاس نہیں ہو سکتی . لیکن کیا صرف ملک ریاض ، یا سپریم کورٹ یا فوج اتنی بڑی طاقت ہو سکتی ہے کھ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو اتنا کنٹرول کر سکے . کیا سب کو صرف کسی ایک ذریعے سے خبر کے جاری ہونے کا انتظار ہے یا شاہین صہبائی ہی وہ ذریعہ تھا جس کی وساطت سے یہ خبر جاری کرنا تھی . لیکن شاہین صہبائی نۓ بھی منظور اعجاز صاحب کا سہارا لیا . اس سارے قصے کی پرسراریت سے صرف ایک حقیقت آشکار ہوئی ہے پاکستان میں خبر کس حد تک کنٹرول کی جا سکتی ہے

  35. افتخار چوہدری کے متلعق یہ سوال ذہن میں آتا ہے کھ پچھلے چند ماہ میں جب سے حامد میر نۓ اس وڈیو کی بات کی افتخار چوہدری نۓ کیا کیا ؟ کیا اس دوران کچھ قوتوں سے مذاکرات ہویے ؟ کیا افتخار چوہدری نۓ یہ سارا وقت انتظار میں گزارا ؟ یا یہ سارا وقت شواہد مٹانے میں صرف ہوا ؟ شاہین صہبائی اور انصار عبّاسی کے مطابق شواہد بہت مضبوط ہیں تو پھر معاملہ کیا صرف ارسلان افتخار کے خلاف کیس سے ختم ہو جائے گا ؟

  36. ntdr says:

    SMSM, Okay if media is controlled by a superier controlling power then how could Aietzaz Ahsan has been able to stop the publishing of the news in the UK news paper as the reports and tweets are indicating??? Who could provide him this support???

  37. zalaan says:

    Nadeem F. Paracha ‏@NadeemfParacha

    @marvisirmed @ssehbai1 If judiciary & military involved in corruption, then it’s a trick. If politicians involved, then it’s an outrage!

  38. ntdr says:

    تو پھر معاملہ کیا صرف ارسلان افتخار کے خلاف کیس سے ختم ہو جائے گا ؟
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    وہ معاملہ کیا ہو سکتا ہے؟؟؟ جنسی دوا کا کیس جس میں بیرونی طاقتوں کے ملوث ہونے کا امکان ہو سکتا ہے ؟؟؟ اور ایک تیر دو شکار والا معاملہ کہ فارماسوٹیکل اداروں کو بھی بچایا جائے اور جمہوریت کے علم برداروں کی جان بھی بخشوا دی جائے ؟؟؟

    تمام صحافی ایک بات جس کا ذکر کر رہے ہیں کہ عدالت دہشتگردوں کو سزا کے بغیر ہی چھوڑ دیتی ہے … تو کیا وہ بڑی طاقت جو ملک کے تمام اداروں سے زیادہ مضبوط ہے …چوہدری کو سبق سکھانا چاہتی ہے؟؟؟؟

    میرے خیال میں وہ بڑی طاقت فوجی جرنیلوں کا ٹولا ہی ہے جو بلوچستان کےکیس میں جس بری طرح ذلیل ہوا ہے تو اب چوہدری کو سبق سکھانے کے لئے اس کے درپے ہے !!! کیانی نے پہلے گیلانی کے ساتھ مل کر سیاسی حل پہ زور دیا اور پھر اپنے ایف سی کے جرنیل کو معمول کے مطابق پریس کانفرنس کرنے کا اشارہ دیا جس میں صرف ایک یہی پیغام تھا کہ کوئی کچھ بھی کر لے ایف سی صرف گولیوں سے محبت بانٹے گی …. صرف یہی ایک صورت نظر آتی ہے جس میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ عیتزاز احسن نے عدالت کی مدد کے لئے کسی طرح اس روپوٹ کو بیرونی اخبار میں چھپنے سے روکا اور یقینن اس میں حکومت بھی ساتھ ہے…مگر اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اے اے آگ سے کھیل رہا ہے اور مثال کے طور پر عاصمہ بی بی کو قتل کی دھمکی دی جا چکی ہے

  39. اس سارے قصے میں میرے لیے کوئی مفروضہ قائم کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہے لیکن ایک بات میں تیقن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کھ اعتزازاحسن اس وقت پاکستان میں وہ واحد نوع ہے جس کے ملٹری ، عدلیہ ، نواز شریف اور زرداری کے ساتھ برابر کے تعلقات ہیں .
    کہا یہ جا رہا ہے کھ جو دستاویزات یو کے کے پریس کو فراہم کی گئی ہیں اس کی ‘کانسنٹ’ میں یہ شرط ہے کھ اشاعت کا وقت دستاویزات کے مالک کی اجازت سے طے ہو گا . اگر اعتزاز مذاکرات کاری کر رہا ہے تو دستاویزات کے مالک سے وقت لینا مذاکرات کا حصہ ہو گا .

  40. rangbaaz says:

    آیا ہی چاہتا ہے چیف جسٹس کا ’فیملی گیٹ‘ سکینڈل
    Published on 05. Jun, 2012

    اسلام آباد ( مریم حسین) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے بیٹے ارسلان کی وجہ سے ایک بار پھر مشکل صورتحال سے دوچار ہونے والے ہیں۔ چیف جسٹس کے بیٹے پر ملک کے پراپرٹی کنگ سمجھے جانے والی ایک کاروباری شخصیت سے چالیس کروڑ روپے لینے کا الزام سامنے آ رہا ہے، جس کے سارے ثبوت بھی موجود ہیں جو ’پراپرٹی کنگ‘ آج کل اسلام اباد کے صحافیوں کو گھر بلا بلا کر دکھا رہے ہیں۔
    پراپرٹی کنگ تقریباً ہر چھوٹے بڑے ٹی وی اینکر پرسن کو گھر بلا کر ارسلان کے خلاف اپنے الزامات کے دستاویزی ثبوت اور اس کی ویڈیوز دکھا چکا ہے کہ کیسے چیف جسٹس کا بیٹا ساؤتھ آف فرانس میں چھٹیاں گزارنے گیا تھا اور اس کی ادائیگی کس نے کی اور کس اکاؤئنٹ سے ان کے سفر کے اخراجات ادا کیے گئے تھے۔ لندن میں میریٹ ہوٹل میں رہائش کے اخراجات بھی اس کارڈ سے ادا کیے گئے ہیں جو اس پراپرٹی کنگ کے بیٹے کے نام پر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت سب کو علم ہے کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف سکینڈل تیار ہے اور کسی لحمے بھی سامنے آ سکتا ہے۔
    تاہم کچھ قابل اعتماد زرائع کے مطابق کسی زمانے میں جسٹس افتخار چوہدری اور اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس معاملے کو دبا دیا جائے۔ وہ اس سلسلے میں فریقین سے مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ان کی چیف جسٹس سے ملاقات کی خبر بھی اسلام آباد میں پھیلی ہوئی ہے۔
    جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کا نام پہلی بار اس وقت سامنے آیا تھا جب جنرل پرویز مشرف انہیں چیف جسٹس کے عہدے سے فارغ کرتے ہوئے ایک ریفرنس دائر کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے ڈاکٹر ارسلان کو بلوچستان کے صوبائی محکمہ صحت سے وفاقی حکومت کے محکمہ پولیس میں اے ایس پی لگوایا گیا تھا۔

    مختلف ذرائع سے اکھٹی کی جانے والی اطلاعات کے مطابق پچھلے پراپرٹی کنگ نے ارسلان کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اس وقت سے اس پر کام شروع کیا ہوا تھا جب سے اس کے ایک پراپرٹی علاقے میں کار ریس ہوئی جس میں پانچ لوگ مارے گئے تھے اور چیف جسٹس نے اس پر سو موٹو لے کر مذکورہ پراپرٹی کنگ کے بیٹے پر ایف آئی آر درج کرا دی تھی۔ پراپرٹی کنگ کا بیٹا بیرون ملک فرار ہوا تو عدالتی حکم پر اسے واپس ملک لایا گیا اور اس کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہلاک ہونیوالے افراد کے ورثاء کو دوکروڑ روپے قصاص کے طور پر دلائے گئے۔ لیکن پھر کچھ عرصہ بعد کیس کو دوبارہ کھول دیا گیا۔
    اس صورتحال میں پراپرٹی کنگ ارسلان کے قریب ہوا جس میں اسے وزیراعظم گیلانی کے قریبی سمجھے جانے والے ایک بزنس مین احمد خلیل کی معاونت بھی حاصل تھی۔ جلد ہی ارسلان پراپرٹی کے کاروبار میں مصروف پائے گئے اور انہیں مختلف طریقوں سے چالیس کروڑ روپے کی ناجائز ادائیگیاں کی گئیں۔ اسی طرح ارسلان نے اسی پراپرٹی کنگ کے پیسوں پر بیرون ملک سیر و تفریح بھی کی جس کے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ساتھ آڈیو اور وڈیو ثبوت بھی محفوظ کیے گئے۔ یہ سب ثبوت اب صحافیوں کو دکھائے جا رہے ہیں۔

    اب تک جن اینکرز کو یہ ثبوت دکھائے گئے ہیں ان میں حامد میر، کامران خان، نجم سیٹھی وغیرہ شامل ہیں اور ان سب کا تعلق جنگ گروپ سے ہے۔ پاکستان کے مشہور کالم نگار ہارون الرشید نے اپنے کالم میں پہلی دفعہ اس سکینڈل کے بارے میں یہ اشارہ دیا تھا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف الزام تراشی کی ایک نئی مہم شروع ہونے والی ہے۔ ان کا اشارہ اس سکینڈل کی طرف تھا جس کے بارے میں اب اسلام آباد کا ہر صحافی جانتا ہے تاہم ابھی تک اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ انصار عباسی نے بھی سوموار کو اپنے کالم میں اس طرف اشارہ کیا ہے تاہم انہوں نے بھی اس بارے میں مکمل بات نہیں کی اور اشاروں کنایوں میں بات کی کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے اور کون حکومتی سازش کا شکار ہونے والا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انصار عباسی بھی ان صحافیوں میں شامل تھے جنہیں پراپرٹی کنگ نے بلا کر ثبوت دکھائے تھے۔
    دی نیوز کے گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی نے پنتیس منٹ کے اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں پوری تفصیل سے اس سکینڈل پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ انہوں نے اسے حکومت کی سازش سے تعبیر کیا ہے اور بچ بچا کر بات کرنے کی کوشش کی ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ سارا سکینڈل بھی سامنے آجائے اور ان پر کوئی بات بھی نہ آئے۔شاہین صہبائی نے اسے ’فیملی گیٹ‘ سکینڈل کا نام دیا ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مشہور برٹش خاتون صحافی جو پاکستان کے بارے میں سکینڈل چھاپتی رہتی ہیں کے ساتھ بھی اس پراپرٹی کنگ کی بات چیت ہوئی ہے اور اسے وہ تمام ثبوت حوالے کیے گئے تھے تاکہ وہ لندن میں سنڈے ٹائمز میں وہ سکینڈل چھاپ سکے۔ تاہم یہ سکینڈل اب تک نہیں چھپ سکا کیونکہ بتایا جارہا ہے کہ اس خاتون رپورٹر کے ساتھ یہ بات باقاعدہ تحریری طور پر طے ہوا ہے کہ وہ اس وقت شائع کرے گئی جب اسے کہا جائے گا۔ ایک وقت یہ بھی پلان کیا گیا تھا کہ اس سکینڈل کو اس وقت چھاپا جائے جب چیف جسٹس لندن میں اپنا ایوارڈ لینے کے لیے پچھلے ہفتے گئے تھے۔ تاہم بعد میں اعتزاز احسن کی مداخلت سے بات وقتی طور پر رک گئی تھی۔

    http://www.topstoryonline.com/chief-justice-son-scam-about-to-hit-headlines

  41. ntdr says:

    رنگباز جی …شکریہ

    تو اس کا مطلب ہے کہ جرنیل، چوہدری کو بتانا چاہتے ہیں کہ جہاں تک بلوچستان کا معاملہ ہے تو پھر صرف دو پارٹیاں یہاں کام کریں گی …ایک گولی کی سرکار اور دوسری سیاسی سرکار …عدلیہ اس معاملے میں فریق نہیں اور اس کو فریق بن کر نہ تو کوہستان میں بچیوں کے قتل کا کیس سننے ، نہ ایم آئی اور ایف سی کے بندوں کو تاریخیں دینے ، اور نہ ہی بلوچوں کے اغوا کی فلمیں چلانے کی ضرورت ہے …. یعنی کہ عدلیہ کے لئے لکیر کھینچ دی گئی ہے کہ سٹاف کالج میں آ کر آئیں اور قانون کی پاسداری کے لکچر دیے جا سکتے ہیں پر بلوچوں کو اغوا کرنے والوں کی فلمیں چلا کر جرنیلوں کو تاریخیں بھگتنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی…. عاصمہ بی بی بھی خوب کھل کر جرنیلوں کی بلوچستان میں پاکستانیوں کی نسل کشی کے خلاف بول رہی تھی …. اور اس لئے اسے بھی خاموش کرنے کے لئے قتل کرنے کے منصوبے سے دھمکی دی جا رہی ہے

    اور اس سارے منصوبے میں ملک ریاض کو اپنے بیٹے پر چلنے والے کیس میں کوئی چھوٹ ملنے کی غرض کو استمعال کرتے ہوئے اسے اسلام آباد میں صحافیوں کو مدعو کر کے فضا بنانے کا کام سونپا گیا ہے

    اور اعتزاز احسن کو بات چیت کر کے معاملات کو نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے

    اور اگر بات چیت نا کام ہو جائے تو پھر اس کھلے راز کو صالح ظفر کے قلم کی نظر کر دیا جائے…. جنگ اخبار کو سچائی کی ایک اور سند مل جائے گی اور جرنیلوں کے من میں ٹھنڈک پڑ جائے گی… مگر کیسے ؟؟؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ چوہدری کہے کہ لاؤ ثبوت …پھر تو ملک ریاض کو لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں …قانون کی مو شگفیاں اور عدلیہ کا میدان …یہاں کون ان کو چت کرے گا ؟؟؟جس طرح دبے دبے انداز میں یہ معاملہ اٹھایا جا رہا ہے اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو ہزار وسوسے ہیں…اور اس دفعہ تو استفا دینے والا بکرا بھی نہیں ہے !!!

    شائد جرنیلوں کی ایک اور خواہش بھی ہو کہ اس معاملے میں عدلیہ نئی ووٹر لسٹیں بنانے کی ضد چھوڑ دے اور الکشن کمیشن کے ضیاء الحقی نظام میں دخل اندازی نا کرے جس کا سب سے زیادہ نقصان الطاف اور مشرف کے گروہ کو آئندہ انتخابات میں ہو گا …

    دور کی کوڑیاں لانے میں کیا حرج ہے…میں تو یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ شائد زرداری نے پاکستان انسانی حقوق کے بل کو بھی اسی لئے پاس کیا ہے تا کہ بلوچوں کے کیس کو سیاسی ادارے فوج کے ساتھ مل کر سنبھالیں اور عدالتیں اس میں فریق نا بنیں… اس بل کو اس وقت وارد کرنا شائد جرنیلوں کے لئے ایک سیاسی حل کے طور پڑ پیش کیا گیا ہو فیملی گیٹ کو سنبھالنے کی کوشش کے طور پر ؟؟؟

    ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا …. اگر میرا مفروضہ درست ہے اور چوہدری ایک بار پھر بالوں سے گھسیٹے جانے کے لئے تیار ہے تو پھر یہ جرنیل کیا کریں گے ؟؟؟؟ پچھلی دفعہ بھی تو اس نے کہا تھا کہ اگر غیر قانونی کام ہوا ہے تو پھر اس میں میرا کیا قصور!!!

  42. ukpaki1 says:

    salam
    @Guilty wrote:
    ے ایجنٹوں کو بٹھانے ، کا م لینے اور کام کے بعد ایجنٹوں کو انجام تک پہنچانے والو تمہاری مہارت کو سلام۔
    برائے مہربانی ان بڑے ایجنٹوں کے انجام کے بعد دنیا میں پائے جانے والے
    چھوٹے چھوٹے ایجنٹوں، حسین حقانی، ھود بھائیوں اور میر جعفروں کو بھی ایسے ھی انجام سے دوچار کرنا۔
    بلکہ ان سے بھی چھوٹے کیڑوں مکڑوں کے لیئے بھی انجام کا بندوبست کریں جو دنیا اور انٹرنیٹ پر والنٹیئر ایجنٹیاں کررھے ھیں۔
    _________________________________________________________________

    ان سے بھی بڑے ایجنٹ اور غدار، بلوچوں اور بلوچستان کے اصل دشمن سوئیٹزرلینڈ میں بیٹھ کے اور اپنے غیر ملکی آقاؤن سے ڈالر لے کے بلوچستان میں فراری کیمپ چلا رہے ھیں، اور یہی ہے غدار ھیں، جنہوں نے کبھی بلوچستان کو ترقی نہیں ہونے دی اور ہمیشہ سے باہر سے اسلحہ اور پیسہ لے اپنی ذاتی ملیشیا اور جاگیریں بنائی ھیں۔

    ویسے یہ غدار پوری کوشش کررہے ھیں کہ عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ بلوچستان پہ مرکوز ہوجائے لیکن فی الحال ابھی شام میں بشارالاسد کا معاملہ چل رہا ہے عالمی ذرائع ابلاغ میں۔ اللہ نہ کرے اگر اس بیرونی میڈیا نے لیبیا کی طرز کا پروپیگنڈہ بلوچستان کے معاملے میں شروع کردیا کہ کس طرح قذافی اپنے لوگوں کی نسل کشی کررہا تھا، تو پھر بڑی مشکل بن جانی ہے پاکستان کیلیے۔ آگے ہی ہمارے سامنے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی مثالیں موجود ہیں۔

  43. zalaan says:

    بلوچوں کے نزدیک بیرون مداخلت کا مطلب پنجاب کی بلوچستان میں اثر رسوق اور وہاں پر قبضہ کرنا ہے

  44. کیپٹل تاک میں خواجہ آصف کا کہنا ہے کھ ملک ریاض نۓ ایک وش لسٹ ارسلان افتخار کے ذریعے افتخار چوہدری تک پہنچائی ہے جس میں اس کے اپنے اور حکومت کے کیس شامل ہیں . خواجہ صاحب ارسلان افتخار کو ‘بچہ ‘ کہہ رہے ہیں. اپنے حامد میر صاحب وڈیو سے ہی مکر گئے ہیں

  45. Guilty says:

    سپہ سالار مشرف کے ھاتھوں جانے والے اور سپہ سالار کیانی کے ھاتھوں واپس آنے والے
    سپر جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار کا سکینڈ ل تیار ھوگیا۔
    (خبر)

    اے سپر پا ور امریکہ
    اے فوج کے بجائے ایجنٹوں سے دنیا کو فتح کرنے والے سپرکنٹری
    اے بگٹیوں، زرداریوں،الطافوں، مخدوموں، پگا روں، کھروں کو پال کر حکومتیں بنوانے والے
    اے جرنیلوں اور ججوں کی ٹیم سے پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے والے عظیم ملک

    اے ایجنٹوں سے کام لے کر ان کو ٹھکانے والی قوت تیری مہارت اور ایفی شینسی کو سلام۔

    جسطرح تونے حسنی مبارک، قذافی ، صدام حیسن، احمد شاہ کے لائیو انجام تو نے دنیا پر چلائے ھیں۔

    اسی طرح پاکستان کے مشہور ایجنٹ اداروں میں پلتے ایجنٹ سپر جسٹس افتخار کو انجام سے دو چار کردے۔

    بے شک ھر ایجنٹ اور میر جعفر کا انجام عبرت ناک ھی ھونا چاھیے
    چاھےوہ عرب کے محل میں ھو۔ صدر ھاؤس میں ھو بیورو کریسی میں ھو۔
    ایمبیسی میں لگا ھو یا انٹرنیٹ فورم سے لٹکا ھوا ھو۔۔

  46. Zia M says:

    Joumana Haddad: ‘Arab women have been brainwashed’

    Haddad’s polemic is the credo behind Superman is an Arab: On God, Marriage, Macho Men and Other Disastrous Inventions, the soon-to-be-published sequel to I Killed Scheherazade: Confessions of an Angry Arab Woman (2008) in which she tackled Arab machismo, which she says makes men think they are as invincible as superheroes, and is responsible for many of the evils perpetrated in the region. And, if it unleashes another avalanche of opprobrium, Beirut-born Haddad is bracing herself; she has already spent most of her 41 years swimming against the tide.

    “The macho culture is how religious leaders become terrorists, bosses become slave owners and husbands become obsessive,” she tells me. In her new book, due to be published in the UK in September, Haddad tackles the Arab world’s macho culture, which she says is responsible for atrocities on both a global and personal scales, from the rise to power of Muammar Gaddafi and Hosni Mubarak to the condescension shown by husbands to their wives.

    http://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/joumana-haddad-arab-women-have-been-brainwashed-7804762.html

  47. aliimran says:

    کچھ عرصہ قبل کسی نے جمہوریت کی تعریف پوچھی تھی —- مذاہب کو زیر بحث لایا گیا
    میرے خیال میں ان یہودی راہب سے بہتر تشریح کسی مسلمان عالم فاضل نے نہیں بھی کی
    ہو گی — جس جرأت اور بے خوفی سے ان راہب نے کی ہے اور اسلام کو جتنا انہوں نے
    سراہا یہ شائد میں بھی نہ سرہا سکتا — اور جمہوریت کی تشریح اتنے کم الفاظ میں ممکن
    نہ تھی
    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=w9a6blduFb0#!

  48. Bawa says:

    پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے گماشتوں کے منہ پر تماچہ 

    😀 😀
    .
    [img]http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/05-06-2012/updates/6-5-2012_109199_1.gif[/img]

  49. Zia M says:

    میرے خیال میں ان یہودی راہب سے بہتر تشریح کسی مسلمان عالم فاضل نے نہیں بھی کی
    ہو گی — جس جرأت اور بے خوفی سے ان راہب نے کی ہے اور اسلام کو جتنا انہوں نے
    سراہا یہ شائد میں بھی نہ سرہا سکتا — اور جمہوریت کی تشریح اتنے کم الفاظ میں ممکن
    نہ تھ
    —————-

    The “morons” the orthodox Jews are not any better than the “idiots” the Islamic Fundos.They are the chips of the same block (The Abrahimic Goons).No sensible Jew takes the meaning of the Old Testament literally.
    The world will be a much better place without these extremists.
    Here is a story of a Hasidic Jewish lady.Does it sound familiar?
    Footsteps into a New Life………

    When Chana was in her teens, she told her mother that she wanted to go to college. Her mom’s response was immediate and vitriolic. “She told me she’d have me locked me up in a psych ward if I applied,” she recalls.

    Now a 33-year-old Manhattanite with a family of her own, Chana says that she was ashamed, but not surprised, by this reaction. In the insular ultra-Orthodox (or Hasidic) Jewish enclave in which she lived, college attendance was unheard of. In fact, books, movies, newspapers, television, the Internet—indeed, all connections to the secular world—were verboten.””

    http://www.brooklynrail.org/2012/06/local/footsteps-into-a-new-life

  50. aliimran says:

    Bawa said:

    پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے گماشتوں کے منہ پر تماچہ

    باوا صاحب
    میں افتخار چوہدری کا کوئی فین تو نہیں مگر چوہدری صاحب نے جو کام کیا ہے اس کے لیے میں مجبور ہو گیا ہوں کہ
    ان کے اس اقدام کو سرھاؤں —— افتخار چوہدری نے تو ہمارے اسلاف کی تاریخ کو زندہ کردیا ہے
    اب مزہ آۓ گا جب زرداری کے فرنٹ مین ریاض ملک ( جو زداری کے گندے دھندے کا کرتا دھرتا ہے ) کو عدالت
    میں سوال جواب کئے جائیں گے اور اس کے باس کے متعلق پوچھا جاۓ گا ——- اور یہ زرداری کے خلاف وعدہ
    معاف گواہ بنے گا ——— میں بڑی بے تابی سے اس دن کا انتظار کروں گا
    افتخار صاحب آپ انصاف سے کام لینا —- اور اگر آپ نے انصاف کیا تو—- تاریخ کے اوراق میں آپ کا نام ہمیشہ کے
    لیے امر ہو جاۓ گا اور خدا کے حضور آپ سرخ رو ہوں گے ———- میں آپ کی استقامت کی دعا کرتا ہوں

  51. aliimran says:

    ضیاء صاحب
    میں کوئی مذہبی شخص نہیں ہوں اور نہ ہی خود کو افلاطون اور ارسطو سمجھتا ہوں اور نہ ہی الفاظ کا
    ہیر پھیر کرنا جانتا ہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ
    سیدھی اور سچی بات کو سمجھ جاتا ہوں — شائد اس لیے کہ سچائی خوشبو کی طرح ہوتی ہے اور
    اس کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفے اور علم و حکمت کی ضرورت نہیں ہوتی اور مجھے ان راہب کی
    باتوں میں سچائی نظر آئی ہے
    آرتھوڈکس یہودی ہوں یا انتہا پسند عیسائی یا جذباتی انتہا پسند مسلمان ——— اگر یہ سب سچی اور کھری
    بات کر رہے ہوں تو ان کی تعریف کرنی چاہئیے
    اور کسی ایک فرد کے انتہا پسندانہ فعل کو میزان مقرر مت کریں کیوں کہ اس کی ہمارے دین میں ممانعت
    ہے
    اور عقل کے میزان پر بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی

  52. Bawa says:

    aliimran said:
    Bawa said:

    پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے گماشتوں کے منہ پر تماچہ

    باوا صاحب
    میں افتخار چوہدری کا کوئی فین تو نہیں مگر چوہدری صاحب نے جو کام کیا ہے اس کے لیے میں مجبور ہو گیا ہوں کہ
    ان کے اس اقدام کو سرھاؤں —— افتخار چوہدری نے تو ہمارے اسلاف کی تاریخ کو زندہ کردیا ہے
    اب مزہ آۓ گا جب زرداری کے فرنٹ مین ریاض ملک ( جو زداری کے گندے دھندے کا کرتا دھرتا ہے ) کو عدالت
    میں سوال جواب کئے جائیں گے اور اس کے باس کے متعلق پوچھا جاۓ گا ——- اور یہ زرداری کے خلاف وعدہ
    معاف گواہ بنے گا ——— میں بڑی بے تابی سے اس دن کا انتظار کروں گا
    افتخار صاحب آپ انصاف سے کام لینا —- اور اگر آپ نے انصاف کیا تو—- تاریخ کے اوراق میں آپ کا نام ہمیشہ کے
    لیے امر ہو جاۓ گا اور خدا کے حضور آپ سرخ رو ہوں گے ———- میں آپ کی استقامت کی دعا کرتا ہوں

    .
    .

    علی عمران بھائی

    میں بھی آپکی طرح ہی افتخار چوہدری کا ایک ناقد ہوں. اس نے کھلی عدالت میں یہ کیس چلانے کا اعلان کرکے نہایت جرات کا مظاہرہ کیا ہے. اس کے پاس ایک نادر موقع ہے کہ پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے شاہین صہبائی جیسے ایجنٹوں کا منہ کالا کر سکے

    ہر باپ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایک ہی باپ کے کچھ بچے اعلی ا مقام حاصل کرکے باپ کا نام روشن کرتے ہیں اور کچھ بچے کالی بھیڑیں بن کر باپ کی عزت خاک میں ملانے کی کوشش کرتے ہیں. اسمیں باپ کا قصور نہیں ہوتا

    اب یہ افتخار چوہدری کا امتحان ہے اور ہمیں اور ساری دنیا نے دیکھنا ہے کہ وہ اسمیں کہاں تک کامیاب ہوتا ہے؟ وہ ایک باپ بن کر فیصلہ کرتا ہے یا ایک انصاف پسند منصف بن کر؟

    اب تک سامنے آنے والی خبروں کے مطابق یہ کھیل بھٹو کے پجاریوں نے شروع کیا تھا لیکن افتخار چوہدری کا پردہ فاش کرنے کے چکر میں اپنا ہی پردہ فاش ہو جانے کے ڈر سے انہوں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے سے گریز کیا. اسٹبلشمنٹ جو کہ افتخار چوہدری کے مسنگ پرسنز پر جرات مندانہ اقدامات کی وجہ سے تنگ آئی ہوئی تھی، اپنے دلالوں کی مدد سے چیف جسٹس کو اسکے راستے سے باز رکھنے، بلوچستان میں اغوا کی وارداتوں سے توجہ ہٹانے اور اسے اپنے خاندانی معملات پر دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی غرض سے یہ کھیل اسٹبلشمنٹ نے خود پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا

    اگر افتخار چوہدری اس امتحان میں سرخرو ہو جاتے ہیں تو یہ کیس ججز بحالی کیس کی طرح ایک نئی تاریخ درج کرے گا اور اسکے کے نتیجے میں پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے دلالوں کو منہ چھپانے کو جگہ نہیں مل سکے گی

  53. Guilty says:

    • aliimran said:
    ضیاء صاحب
    سچائی خوشبو کی طرح ہوتی ہے اور
    اس کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفے اور علم و حکمت کی ضرورت نہیں ہوتی
    اور مجھے ان راہب کی باتوں میں سچائی نظر آئی ہے
    آرتھوڈکس یہودی ہوں یا انتہا پسند عیسائی یا جذباتی انتہا پسند مسلمان
    اگر یہ سب سچی اور کھری بات کر رہے ہوں تو ان کی تعریف کرنی چاہئیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علی عمران آپ نے ٹھیک کہا ھے سچائی کوانسان سمجھ جاتا ھے۔
    دوسرے اگر یہودی راھب اسلام کی تعریف کی ھے تو یہ کوئی اچمنبھے کی بات نہیں
    کیونکہ جو خالص مذھبی انسان ھو چاھے یہودی ھو یا عیسائی وہ خدا کے دین
    کی سمجھ رکھتا ھے ۔ اور کبھی کسی آسمانی دین کو برا نہیں کہے گا۔ کیونکہ اس کو معلوم ھے کہ
    عرب میں نازل ھونے والے تینوں مزاھب عیسائیت، یہودیت اور اسلام خدا کے دین کے ھی تین مختلف
    ورژن ھیں اور تینوں مذاھب کی کتابیں اور پیغمبر اللہ کے بیجھے ھوئے تھے۔
    ۔ ویسے بھی مذھبی اعتبار سے یہودیت مذھب اسلام کے نزدیک ترین مذھب ھے

    کیونکہ یہودی بھی خدا پر ایمان رکھتے ھیں اور حرام نہیں کھاتے۔ پردہ اور داڑھی وغیرہ وغیرہ
    وہ بے چارہ راھب کوئی واقعی ھی مذھبی یہودی ھوگا جو آپ کو اووروں سے مختلف لگا۔
    ورنہ آپ کو پتہ ھے آج کے زمانے میں جس بھی معمولی آدمی سے آپ ملیں گے
    وہ سی این این کی خبریں پڑھنا شروع کردیتا ھے۔

  54. Zia M says:

    میں کوئی مذہبی شخص نہیں ہوں اور نہ ہی خود کو افلاطون اور ارسطو سمجھتا ہوں اور نہ ہی الفاظ کا
    ہیر پھیر کرنا جانتا ہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ
    سیدھی اور سچی بات کو سمجھ جاتا ہوں — شائد اس لیے کہ سچائی خوشبو کی طرح ہوتی ہے اور
    اس کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفے اور علم و حکمت کی ضرورت نہیں ہوتی اور مجھے ان راہب کی
    باتوں میں سچائی نظر آئی ہے
    ———————-

    aliimran Sb,
    I don’t know what is “truth”.
    Not too long ago people used to think earth is flat and the sun revolves around the earth but the science proved them wrong.Still some people believe that diseases, earthquakes, floods and tsunamis are acts of deity and won’t accept the scientific explanations for such calamities.
    All living organisms have a common ancestor (unicellular microorganism) is a scientific fact, but most people rather believe in the Adam and Eve story because of their religious beliefs.One does not need to be a philosopher to find the truth of a claim, just need to look at the evidence.
    If history is any indication, the future belongs to democracy and science – and not any religion.
    Who would have thought a couple of years ago that even the Arabs would opt for democracy?

    Everyone has a right to believe in whatever nonsense they like, but when they want to impose their beliefs on others like Taliban or other religious fundamentalist, it can have a disastrous effect on the rest of humanity.

  55. ارسلان افتخار کے کیس میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے ایک متعلقہ مقالہ

    When a judge does not step down in an appropriate case, any ensuing decision is said to be tainted by bias. Normally, a higher court would step in to correct this error, and would normally, if final judgment has already been delivered, vacate that judgment. Where, however, the alleged error of not stepping down when recusal is required is committed by a judge of a court of last resort, a question arises as to the appropriate response of the legal system. In the United States, the answer to that question is “nothing”………..
    Most recently, there was the hunting trip of U.S. Vice President Richard (Dick) Cheney and Supreme Court Justice Antonin Scalia (“Scalia J.”). Scalia J. and Mr. Cheney had a “cozy relationship” as friends.15 They spent a weekend hunting ducks at a private camp in Louisiana. Scalia J. and some members of his family had accepted a free ride on Mr. Cheney’s “Air Force 2” jet to this hunting location. At the time of the hunting trip, the Supreme Court was due to hear a case in which Mr. Cheney was involved as a party,16 and Scalia J. was one of the Supreme Court Justices who would hear that case. One of the parties in the case filed a formal motion for Scalia J. to recuse himself.17 However, Scalia J. refused to step down. He delivered a lengthy and controversial opinion explaining his decision to stay on the case.18 The Supreme Court proceeded to hear the appeal with his full participation, and, in a 7-2 majority judgment, decided the appeal in favour of Mr. Cheney.19 Scalia J. was one of the majority.

    http://v-scheiner.brunel.ac.uk/bitstream/2438/417/1/Regulating%20Supreme.pdf

  56. ایک اور متعلقہ مقالہ

    C. Bias
    Alaska Statutes section 22.20.020 identifies specific situations
    that require disqualification:
    (a) A judicial officer may not act in a matter in which
    (1) the judicial officer is a party;
    (2) the judicial officer is related to a party or a party’s
    attorney by consanguinity or affinity within the third degree;
    (3) the judicial officer is a material witness;
    (4) the judicial officer or the spouse of the judicial officer,
    individually or as a fiduciary, or a child of the judicial officer
    has a direct financial interest in the matter;
    …………………………….

    Judicial Disqualification in Alaska Courts

    Available at: http://scholarship.law.duke.edu/alr/vol17/iss1/3

  57. EasyGo said:
    اندازہ کریں
    ہر طرف چیف چیف ہو رہی ہے
    اور نصرت جاوید “میرا” پر کالم لکھہ رہا ہے

    ========================

    شاید اس لیے کھ اسے اصل کھیل کا پتہ ہے

  58. سپریم کورٹ کی کاروائی سے محسوس ہوتا ہے کھ مخصوص اہداف حاصل ہونا شروع ہو گئے ہیں . ابھی تک سپریم کورٹ نۓ وہی کیا ہے جو شاہین صہبائی اور انصار عبّاسی نۓ تجویز کیا تھا . ایک سیاسی ، تشہیر پسند اور جذباتی سپریم کورٹ کا تصور سپریم کورٹ کی موت ہے . دیکھنا یہ ہے کھ کیا افتخار چوہدری صاحب سپریم کورٹ کی تحلیل یا ایک غیر جانبدار اعلی آئینی عدالت کی تشکیل سے بچ پائیں گے ؟

  59. ntdr says:

    SMSM thank you for the journal articals on judicial recuse norms.

    1. I am pretty surprised on the news that Arsalan talked to media after the hearing and talked unintelligently of him being asked by his father to leave the house until verdit is reached in the case. What was this guy thinking?? A super top notch argument that how could his actions, life style and wealth be hidden from the other inhabitants of the house?

    2. Ofcouse recusal is a corner stone to maintain impartial and unbiased image of all the members of the hearing justice bench. I liked the observance in the journal artical where it states that ” This is a trite principle. In enunciating it, the point is often made that the “judge’s actual state of mind, purity of heart, incorruptibility, or lack of partiality are not the issue.”22″. But in our Judicial System and specially with every d!ck and harry had been lodging petitions which were accepted by Supreme Court for hearings in political matters, just goes on to show that the above mentioned principle has already been severly compromised. It may not have been envisiged by the full society which is tattered in political party dogmas and cults but foreign judical system historians will not record impartial and unbiased analytics of the current course of Pakistan judical forwardings.

    3. Attorney General’s stand in today’s hearing is quite impungent for the bench formed with CJ himself charing it. Certainly, he is arguing the very fact which is quite succiently authored as ” It is also clear that the inquiry into whether recusal is required in any
    case is limited “to outward manifestations and reasonable inferences drawn therefrom”
    23 and that it is “objectively ascertainable” facts, rather than the explanations
    of judges that “can avoid the appearance of partiality”.24 This is a “manifestation
    of a broader preoccupation about the image of justice,”25 in which “justice
    must satisfy the appearance of justice”26—a principle inextricably linked with due
    process.27″. In today’s hearing reports it seems the judges took the defensive posture and abysmally failed to objectively appraise the appearance of the justice right at the start of this case. This is exactly why I think AG played the songs to Justices of being sensitive rather than rational in proceeding with due dilligence.

    4. This was a master class to end the section in the artical: “For these reasons the views and recusal decision of an impugned judge ought not to be final and conclusive. For, if the decision of the impugned judge is final, it becomes impossible to maintain the objective appearance of impartiality, and justice cannot be seen to satisfy the appearance of justice. This would frustrate the objectives of the rule against bias, because the affected judge would, both in appearance and reality, be a judge in his or her own cause. Public confidence in the administration of justice would suffer”. This is exactly why Asma Jahangir said that she will stand by the Judical organ which implies that not to an individual.

    5. It is also very bamboozling to see that there is no grieving party if we talk about legal due diligence. I mean no one went to police and lodged a FIR against Arsalan for financial misappropriation. No one officially reported a crime in this case. So not surprisingly, SC bench will now set up a commission for investigation (and ask police to register a case??), if we go by the precedence.

    6. I am interested in seeing what are the contents of the wish list which was handed over to Arsalan for favours: the motives behind this whole saga. Given our system and politics, that will set the tone of the case proceedings and will depict which p!g wants to mark others boundaries.

  60. zalaan says:

    فیصلہ قرانی احکام کے مطابق ہوگا -چیف جسٹس – پھر پاکستانی قانون اور آئین بنانے کی کیا ضرورت ملا عمر کی شریعت ہی کافی ہے

  61. زلان جی ، میرا ابھی تک یہ خیال ہے کھ کرنے والوں نۓ افتخار چوہدری کا یہ رد عمل ضرور کیلکولیٹ کیا ہو گا اور افتخار چوہدری حسب توقع غیر قانونی حرکات کر رہا ہے
    . صبح سے ابھی تک افتخار چوہدری نۓ مندرجہ ذیل حرکتیں کی ہیں
    خود کو اس الزام سے خود ہی بری کر لیا ہے کھ جس گھرانے میں دو سال تک پیسہ آتا رہا اور خرچ ہوتا رہا اس کے سربراہ کو اس کا کوئی علم نہیں تھا .اور وہ اسلامی اور عدالتی روایات کے تحت ان پر نظر نہیں رکھ سکا
    اپنے تبصروں میں یہ فیصلہ دے دیا ہے کھ یہ ایک سازش تھی
    ملک ریاض کو جواب کے لیے وقت نہیں دیا اور اس کے ادارے کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے
    خود ہی استغاثہ کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے

    اسلامی یا جدید قوانین کے تحت اس کیس میں کم از کم یہ ہونا چاہئیے تھا کھ افتخار چوہدری چھٹی پر چلے جاتے . قائم مقام چیف جسٹس اس معاملے کا جائزہ لیتا اور حکومت کو حکم دیتا کھ ایک تفتیشی ٹیم بنائی جائے یا خود ہی کسی تفتیشی ٹیم کی سفارش کر دیتا

  62. Guilty says:

    • EasyGo said:
    اندازہ کریں
    ہر طرف چیف چیف ہو رہی ہے
    اور نصرت جاوید “میرا” پر کالم لکھہ رہا ہے
    …………………………………….
    ٹھیک ھی توکررھا ھے۔ سپر چیٖف جسٹس اپنی تاریخی قومی واردات کے بعد نکل جائیں گے
    جیسے پاکستان کے پہلے سپر صدر مشرف نکل گئے یا پہلے کے
    جرنیل اور جج قومی وارداتوں کے بعد منظر سے غائب ھوگئے ۔

    چیف جسٹس آج ھیں کل یہ یہ مشرف اور تیمزالدین کی طرح منظر سے غائب ھوںگے۔
    میرا بے چاری کی واردتیں صرف ڈیفینس کے بنگلوں پلاٹوں تک ھیں۔ وہ یہیں رھے گی۔
    اس کا نام بدنامِ زمانہ عدلیہ اور جی ایچ کیو کے روائتی ایجنٹو ں کے ساتھ نہ لیا جائے۔

  63. saleem raza says:

     

    اسلام آباد… چيف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارچودھري نے ناجائز مراعات لينے کے الزام کا سامنا کرنے والے اپنے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کو گھر سے بيدخل کردياہے. اپنے خلاف زير سماعت نوٹس کيس ميں پيشي کيلئے ڈاکٹر ارسلان افتخار اپنے وکيل کے ہمراہ سپريم کورٹ آئے. ايک موقع پر جيونيوز نے جب ان سے پوچھا کہ ، کيا آپ کو والد نے گھر سے بيدخل کرديا ہے تو انہوں نے اس کي تصديق کي. ڈاکٹر ارسلان کاکہناتھاکہ ان کے والد نے کہاہے کہ گھر آنے کي ضرورت ہے نہ گھر والوں رابطہ رکھنے کي کوئي کوشش کي جائے. مقدمہ کي سماعت کے بعد ڈاکٹر ارسلان نے جيونيوز سے بات چيت ميں کہاکہ وہ عدالت پر مکمل اعتماد کرتے ہيں اور عدالت نے جو بھي فيصلہ ديا وہ ان کي سر آنکھوں پر ہوگا.

  64. Bawa says:

    السلام و علیکم رضا بھائی

    قدرت نے بھٹو کے پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے دلالوں کا منہ کالا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے. ہر آنے والا دن انکے منہ پر اور زیادہ کالک مل جاتا ہے. انکو انکی آئیں و قانون شکنی، لوٹ مار اور اقتدار کی ہڈی کی ہوس کی سزا مل رہی ہے

    بقول انکے جمہوریت بہترین انتقام ہے اور قدرت ان سے جمہوری طریقے سے ہی انقتام لے رہی ہے

    خود کو انٹی اسبلشمنٹ کہنے والے بھٹو کے پجاری آج ہمیشہ کی طرح اسی اسٹبلشمنٹ کے دلالوں سے ملکر عدلیہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں

    پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے اور عدلیہ مخالفوں کے منہ پر تھوک رہی ہے

    :) :)

  65. saleem raza says:

    وعلیکم السلام باوا جی
    باوا جی اپ اور میں اور کافی سارے لچ تلنے والے اس جج کو پسند نہیں کرتے لیکن
    لیکن اس کا اپنے پتر کو عدالت میں بلوانا اور گھر سے بے دخل کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے
    جس کا میں احترام کرتا ہوں –
    اکاش قبر کی کمائی کھانے والا بے غیرت اپنے پتر سے استفا ہی لے لیتا اور کہتا چل پُتر
    پہلے اپنے اوپر لگے الزام سے بری ہو کر آ
    لیکن لگتا ہے رسوائی جس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہو اُس کو کوئی سکندر بھی نہیں بدل سکتا

  66. Bawa says:

    saleem raza said:
    کاش قبر کی کمائی کھانے والا بے غیرت (گیلانی) اپنے پتر سے استفا ہی لے لیتا اور کہتا چل پُتر پہلے اپنے اوپر لگے الزام سے بری ہو کر آ
    لیکن لگتا ہے رسوائی جس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہو اُس کو کوئی سکندر بھی نہیں بدل سکتا

    .
    .

    رضا بھائی

    رسوائی بھٹو خاندان اور اسکے پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے دلالوں کا مقدر ہے. بھٹو نے ریکارڈ دھاندلی کرنے اور پانچ سو بندے گولیوں سے بھون دینے کے باوجود نہ دوبارہ الیکشن کروائے تھے اور نہ ہی استیفہ دیا تھا لیکن اقتدار کی لالچ میں پھانسی کا پھندا گلے میں دلوا لیا تھا. دوسرے پجاریوں کی بھی یہی تاریخ ہے

    زرداری کو دیکھ لو کتے کی موت مر جائے گا سوئس کیسز نہیں اوپن ہونے دے گا اور اسی طرح گیلانی عدالت سے منہ پر جوتے کھانے کے باوجود اقتدار کی ہڈی چھوڑنے پر تیار نہیں ہے

    چیف جسٹس نے اپنے بیٹے کے خلاف بنچ تشکیل دے کر بھٹو کے پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے دلالوں کے منہ پر وہ تماچہ رسید کیا ہے جو وہ ہمیشہ یاد رکھیں

  67. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    امریکہ اور کتنا جھوٹ بولے گا اور کتنے ڈرامے کرے گا۔ پچھلے سال اسامہ کی ہلاکت کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ القاعدہ میں بن لادن کے بعد دوسرے نمبر پہ یا دوسرا سب سے بڑا ہدف ایمن الظواہری ہے۔ لیکن کل ڈرون حملے میں ابو یحییٰ کے مارے جانے کے بعد یہ دعویٰ کے یہ اسامہ کے بعد القاعدہ کا سب سے بڑا رہنما تھا سراسر بکواس ہے۔ ایمن الظواہری والی بات سچ تھی یا یہ سچ ہے۔
    بات صرف اتنی ہے کہ الیکشن کے سال اوبامے کو کوئی کارنامہ تو چاہیے اور ڈرون حملوں میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے احتجاج کا بھی کوئی جواب دینا تھا تو اس لیے اس طرح کے ڈرامے تو یقیناً غیر متوقع نہیں تھے۔ اور یہ بیانات کتنے مضحکہ خیز ہیں کہ اس طرح کے لوگوں کی ہلاکت سے امریکہ محفوظ ہوگیا۔ کیا امریکہ کی سرحد پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے جو یہ مارے جانے والے لوگ پاکستان میں بیٹھ کے امریکہ میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ھیں۔ امریکہ انہیں مار کے یہ امریکہ میں بسنے والوں کو محفوظ بنانے کا ڈرامہ کررہے ھیں، اگر امریکہ کے محفوظ ہونے سے انکی مراد افغانستان میں موجود امریکی فوجی ہیں تو وہ تو اس وقت تک محفوظ نہیں ہوسکتے جب تک امریکہ وہاں سے دفع ہوجاتا ورنہ روزانہ انکی فوجی جہنم میں جاتے رہیں گے۔

    خیر یہ صہیونی کوئی بھی ڈرامے کریں کتنا بھی سفید جھوٹ بولیں لوگ ان کی باتوں پہ یقین کرہی لیتے ھیں۔ عراق میں مہلک ہتھیاروں والا معاملہ ہو۔ نو گیارہ کے بعد جل کر خاک ہوجانے والی عمارت کے ملبے سے برآمد ہونے والے عربوں کے صحیح سلامت پاسپورٹ ہوں۔ اور اسی طرح کے دوسرے ڈرامے۔ صہیونی طاقتوں کے یہ ڈرامے سمجھنے کیلیے کوئی راکٹ سائنسدان ہونا ضروری نہیں۔ امریکہ اور نیٹو اس وقت بری طرح پھنسے ہوئے ھیں۔ افغانستان میں گیارہ سال کتے کی طرح ذلیل ہونے بعد بھی کابل سے باہر اپنی رٹ قائم نہیں کرسکے، وہاں حقانی نیٹ ورک کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو اب ملبہ پاکستان پہ گرا رہے ھیں۔

  68. Bawa says:

    چیف جسٹس سے تو استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جنکے اس کیس میں کسی طرح بھی ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن

    کیا کبھی پجاریوں نے ریکارڈ دھاندلی کرنے پر بھٹو استعفے کا مطالبہ کیا تھا؟

    کیا زرداری کو سوئس کورٹ سے سزا اور سپریم کورٹ سے اسکے خلاف فیصلہ آ جانے کے باوجود اسکے استعفے کا مطالبہ کیا تھا؟

    کیا گیلانی کے بیٹے کے کرپشن میں ملوث ہونے اور خود گیلانی کو عدالت سے سزا ہونے کے باوجود گیلانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا؟

    تمام سزا یافتہ اور چور ڈاکو حکومت میں بیٹھے ہیں اور جو اپنے بیٹے کو انصاف کے کٹہرے میں لے آیا ہے اس سے استیفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

    پجاریووں کی یہی منافقت انہیں دوسروں سے “منفرد مقام” دلاتی ہے اور منہ کالا کرواتی ہے

    😀 😀 😀
    😀 😀 😀

  69. ukpaki1 says:

    امریکہ اور برطانیہ میں بھی ایک طبقہ ڈرون کو موثر قرار نہیں دیتا بیشک ڈرون میں سترہ گھنٹے فضا میں رہنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ زمین پہ موجود مقامات اور لوگوں کی تصاویر بھی اتار لیتا ہے، لیکن اس میں زیادہ تر غلطی ہوتی ہے اور غلط نشاندہی کے باعث بے گناہ افراد زیادہ مارے جاتے ھیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں دانشور اور غیرجانبدار طبقہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔

  70. آج اپنے مہربان شاہد مسعود کی باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کھ وہ ایکسپریس نیوز سے بھی باہر ہو چکے ہیں . کیا کسی کے پاس کوئی خبر ہے ؟

    آج سارا دن ہر کامیاب اور ناکام کردار نۓ ارسلان افتخار کے معاملے کی اپنے انداز سے تشریح کی ہے

    معاملہ شاید اتنا سادہ نہیں ہے . میرا ابھی بھی خیال ہے کھ جن لوگوں نۓ ملک ریاض سے اس معاملے کی تشہیر کی فرمائش کی تھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں

  71. ukpaki1 said:
    امریکہ اور برطانیہ میں بھی ایک طبقہ ڈرون کو موثر قرار نہیں دیتا بیشک ڈرون میں سترہ گھنٹے فضا میں رہنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ زمین پہ موجود مقامات اور لوگوں کی تصاویر بھی اتار لیتا ہے، لیکن اس میں زیادہ تر غلطی ہوتی ہے اور غلط نشاندہی کے باعث بے گناہ افراد زیادہ مارے جاتے ھیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں دانشور اور غیرجانبدار طبقہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔
    ==============================

    آپ کو شاید پتہ ہو کھ برطانیہ کی مقامی آبادی میں لیفٹسٹ اور سیکولر ڈرون کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے ہیں

  72. پاکستانی سیاستدان says:

    محترم ایس ایم سپورٹ صاحب

    ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب ممکن ہے بہت جلد وقت نیوز جائن کرلیں۔

  73. پاکستانی سیاستدان says:

    لگتا ہے دہری شہریت والے معاملے پر اور چیف جسٹس کے بیٹے والے ایشو پر صحافیوں میں بھی ٹھیک ٹھاک لتر پولا ہوگا۔

  74. ukpaki1 says:

    smsupportsahab

    ہاں جی اور یہی وہ طبقہ بھی ہے جو آج تک ٹونی بلئیر پہ بھی لعنت بھیجتا ہے عراق جنگ کی وجہ سے۔

  75. saleem raza says:

    smsupportmovement said:

    اسلامی یا جدید قوانین کے تحت اس کیس میں کم از کم یہ ہونا چاہئیے تھا کھ افتخار چوہدری چھٹی پر چلے جاتے . قائم مقام چیف جسٹس اس معاملے کا جائزہ لیتا اور حکومت کو حکم دیتا کھ ایک تفتیشی ٹیم بنائی جائے یا خود ہی کسی تفتیشی ٹیم کی سفارش کر دیتا

    —————
    محترم اپ ایک بہت ہی وسیع تجربہ رکھنے والے ہیں مھجے اپ سے اس قسم کے تجزے کی امید نہیں تھی –
    اور اگر وہ چھٹی پر چلے جاتے تو پھر اپ نے کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے دال میں ڈوئی مروا دی ہے –
    بہت کہنے سننے کی ہمت رکھتا ہوں لیکن کہہ نہیں سکتا ۔ یہ بھی عادت سے مجبور ہو کر
    رہا ہوں

  76. saleem raza says:

    Guilty said:
    • EasyGo said:
    اندازہ کریں
    ہر طرف چیف چیف ہو رہی ہے
    اور نصرت جاوید “میرا” پر کالم لکھہ رہا ہے
    …………………………………….
    ٹھیک ھی توکررھا ھے۔ سپر چیٖف جسٹس اپنی تاریخی قومی واردات کے بعد نکل جائیں گے
    جیسے پاکستان کے پہلے سپر صدر مشرف نکل گئے یا پہلے کے
    جرنیل اور جج قومی وارداتوں کے بعد منظر سے غائب ھوگئے ۔

    چیف جسٹس آج ھیں کل یہ یہ مشرف اور تیمزالدین کی طرح منظر سے غائب ھوںگے۔
    میرا بے چاری کی واردتیں صرف ڈیفینس کے بنگلوں پلاٹوں تک ھیں۔ وہ یہیں رھے گی۔
    اس کا نام بدنامِ زمانہ عدلیہ اور جی ایچ کیو کے روائتی ایجنٹو ں کے ساتھ نہ لیا جائے۔

    ————–
    بِلے وائی بِلے گلٹی بھائی واپس اگیے ہیں ۔ فر — تے موجاں ہی موجاں –

    السلام وعلیکم گلٹی بھائی،، میرا،، نے اج تک کسی کا دل نہیں دکھایا اس لیے اس کا
    چور اور ڈاکوں کے ساتھ نام نہ لیا جاے –
    بلکہ ہم اس کا نام ازخود چوری چوری لیں گے تاکہ کوئی سُن نہ لے –

  77. ukpaki1 says:

    ملک ریاض یقیناً وہ بندہ ہے جو آج سے پندرہ بیس سال تک پہلے تک کوئی اتنا اہم نہیں تھا لیکن چند سالوں کے دوران ہی منظر عام پہ آیا ہے اور اس کی پی پی پی اور زرداری سے قربت بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اور اس معاملے کے پیچھے زرداری کا ہاتھ ہونے کے بھی واضح امکانات اس حوالے سے ھیں کہ زرداری جب سے حکومت میں آیا ہے کھانے کھلانے یا مل بانٹ کے کھانے کی پالیسی پہ عمل کررہا ہے یہاں تک کہ کیانی کے بھائی تک کو ٹھیکے دلوانے میں اس نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس طرح کیانی کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اس نے۔ اس لیے اس کہانی کا مرکزی کردار زرداری بھی ہوسکتا ہے۔

  78. saleem raza says:

    یوکے پاکستان ون جی اپکو بھی السلام وعلیکم
    یہ ملک ریاض کہیں وہ بندہ تو نہیں جس کی سزا زرداری معاف کی تھی اور یہ دہ دن جیل میں گزرا کے باہر اگیا تھا-

  79. پاکستانی سیاستدان says:

    صدر زرداری اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لئے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ موجودہ حکومتی اور ملٹری ٹولہ اپنے روحانی والد پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے چیف جسٹس کے خلاف بہت جلد ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔ آج اٹارنی جرنل اور خالہ فردوس عاشق اعوان کے بیانات بھی کچھہ اسی قسم کے تھے۔

  80. ukpaki1 says:

    @bawa bhai wrote:
    چیف جسٹس سے تو استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جنکے اس کیس میں کسی طرح بھی ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہ
    کیا کبھی پجاریوں نے ریکارڈ دھاندلی کرنے پر بھٹو استعفے کا مطالبہ کیا تھا؟
    _____________________________________________________________

    السلام علیکم باوا بھائی

    ویسے جو بھی چیف جسٹس کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ھیں تو یہ بڑی ہے بے تکی اور غیر منطقی بات ہے اس حساب سے تو جب ڈوگر کی بیٹی کو بیس اضافی نمبر دئیے جانے کا سکینڈل منظر عام پہ آیا تھا تو اس کو بھی اسی وقت استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا کیونکہ اس میں یقینی طور پہ اثر و رسوخ استعمال ہوا تھا۔

  81. ukpaki1 says:

    وعلیکم السلام رضا بھائی امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

    میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا، شاید ان میں ریاض نامی کوئی بندہ تھا اب پتہ نہیں وہ یہ تھا یا کوئی اور اس بارے میں شاید دوسرے دوست کچھ زیادہ روشنی ڈال سکیں۔

  82. Zia M says:

    I really can’t understand what all the fuss is about.What is the charge against CJ’s son?
    Somebody gave him lot of money for what purpose?If it was a bribe to influence his father, CJ should know if his son asked for any favors and should have acted at that time.
    Taking a suo moto action does not make any sense.There is no crime committed, no FIR registered.
    If CJ thinks that someone has conspired to defame him and wants to investigate the matter then he should establish a commission to do so.It is not the job of the CJ to investigate.

    The second issue here is CJ is violating the constitution by not recusing himself from the case.It is obvious conflict of interest.

    Even if his son has committed a crime we can’t blame CJ for it.

  83. ukpaki1 says:

    salam
    @Zia M sahab
    taking suo moto on the basis of any accusation has been in practice by cj iftikhar chudhry for quite some time now. we’ve seen that cj took suo moto notice many times by just considering the news on any tv channel or in paper. this actually conveys a very strong message, although some ppl may not like it.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  84. ukpaki1 says:

    @Zia M
    we’ve seen in the past that media or cyber warfare is the preliminary step towards the actual assault or to turn general perception in one’s favor. whether it be the case of libya, iran, iraq, pakistan….a huge huge campaign of propaganda and lies r launched though media.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  85. Bawa says:

    ukpaki1 said:
    @bawa bhai wrote:
    چیف جسٹس سے تو استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جنکے اس کیس میں کسی طرح بھی ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہ
    کیا کبھی پجاریوں نے ریکارڈ دھاندلی کرنے پر بھٹو استعفے کا مطالبہ کیا تھا؟
    _____________________________________________________________

    السلام علیکم باوا بھائی

    ویسے جو بھی چیف جسٹس کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ھیں تو یہ بڑی ہے بے تکی اور غیر منطقی بات ہے اس حساب سے تو جب ڈوگر کی بیٹی کو بیس اضافی نمبر دئیے جانے کا سکینڈل منظر عام پہ آیا تھا تو اس کو بھی اسی وقت استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا کیونکہ اس میں یقینی طور پہ اثر و رسوخ استعمال ہوا تھا۔

    .
    و علیکم السلام بھائی جی

    یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے. ابھی چیف جسٹس نے ایک سوموٹو ایکشن لیا ہے. جب باقایدہ کیس شروع ہو جائے گا تو وہ خود ہی رضا کارانہ طور پر اس کیس سے الگ ہو جائیں گے. اگر وہ الگ نہیں بھی ہوتے تب بھی کیس کی پروسیڈنگ ایسی ہوگی کہ کسی کو انگلی اٹھانے کی جرات نہیں ہوگی

    اس طرح کا اس سٹیج پر مطالبہ کرنے والی کھسیانی بلیاں ہیں جو کل تک چیف جسٹس سے سوموٹو ایکشن کا مطالبہ کر رہی تھیں

    آپ انشاء الله دیکھیں گے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہونگے اور عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا اور بھٹو کے پجاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے دلالوں کا منہ کالا ہوگا

    :) :)

  86. Javed Ikram Sheikh says:

    عقل —-بڑی —یا—بھینس؟؟؟؟؟؟؟؟
    اگر پاکستان کی بات کرتے ھو ———–
    تو —-آجکل — سب سے بڑا——- ملک ریاض

  87. پاکستانی سیاستدان says:

    http://www.topstoryonline.com/nicl-audit-report-alarming-for-amin-faheem

    نیشنل انشورنس آڈٹ، مخدوم کے لیے خطرے کی گھنٹی

    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) وفاقی وزیرتجارت مخدوم امین فہیم کے لیے جو اس وقت نیشنل انشورس کارپوریشن کے سکینڈل میں کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں ، اب مزید مصیبت کا شکار ہونے والے ہیں کیونکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں اس طرح کے نکات اٹھائے ہیں جو ان کے لیے گلے کا پھندہ بن سکتے ہیں۔ ٹاپ سٹوری آن لائن کو ملنے والی اس تازہ ترین آڈٹ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جو کیس این آئی سی ایل میں ان کے خلاف بنایا گیا ہے اس کا تذکرہ اس رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے اور باقاعدہ ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

    امین فہیم کے خلاف بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے دبئی کے ایک نائٹ کلب چلانے والے شخص کو کراچی بلا کر نیشنل انشورس کا چیرمین لگا دیا جس نے ان کی مرضی کے مطابق تمام ڈیلز کیں اور جب تک ایاز خان نیازی پکڑا نہیں گیا، سب نے مل کر کھایا۔
    اس سے پہلے یہ سکینڈل سامنے آیا تھا کہ نیشنل انشورس کارپوریشن نے دو ہزار نو میں کراچی کورنگی میں د س ایکڑ زمین نوے کروڑ روپے میں خریدی تھی اور اس میں سے چار کروڑ روپے امین فہیم کی بیوی اور بھائی کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہوئے تھے۔ اس پر امین فہیم نے وہ چار کروڑ روپے یہ کہہ کر واپس کر دیے گئے کہ وہ کسی نے غلطی سے ان کی بیوی کے اکاؤنٹ میں ڈال دیے ہونگے۔

    اس پر کچھ عرصے کے لیے خاموشی ہوگئی تھی۔ تاہم اب دوبارہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پچھلے ہفتے حکم دیا ہے کہ امین فہیم کے خلاف کارروائی کی جائے چاہے انہوں نے وہ چار کروڑ روپے واپس ہی کیوں نہیں کر دیے تھے۔

    اب جب کہ ایف آئی اے امین فہیم کے خلاف کارروائی کا سوچ رہی ہے کہ اب ایک نئی سپیشل آڈٹ رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بہت سارے انکشافات کیے گئے ہیں کہ کیسے نیشنل انشورنس کارپوریشن نے اگست دو ہزار نو میں دس ایکڑ زمین خریدی اور ایک ایکڑ کی قمیت نو کروڑ روپے کے حساب سے ادا کی گئی۔ یہ زمین کورنگی کراچی میں خریدی گئی تھی اور زمین بیچنے والے کا نام خالد انور تھا۔ رپورٹ کے مطابق کل نوے کروڑ روپے کی زمین خریدی گئی اور حیرانی کی بات ہے کہ دو دنوں کے اندر اندر این آئی سی ایل کی انتظامیہ نے خالد انور کے اکاؤنٹ میں یہ نوے کروڑ روپے دو قسطوں میں ٹرانسفر کیے۔ اٹھارہ اگست کو پنتالیس کروڑ اور بیس اگست کو پنتالیس کروڑ ادا کیے گئے۔

    آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اس کی انکوائری شروع کی تو پتہ چلا کہ کتنے بڑے پیمانے پر گھپلا کیا گیا ہے اور تمام قوانین کی دھبجیاں اڑائی گئی تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ سارا معاملہ جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا تھا تاکہ اسی پارٹی سے زمین خریدی جا سکے جس سے بعد میں خریدی گئی اور بہت زیادہ قیمت پر خریدی گئی تھی۔ آین ائی سی ایل نے کراچی میں دو ایسے اخبارات میں اشتہارات دیے کہ انہیں کورنگی میں دس ایکٹر زمین خریدنے کے لیے پارٹیوں کی ضرورت تھی، جو کہ زیادہ نہیں پڑھے جاتے تھے۔ اس پر ایک پارٹی نے ہی اپلائی کیا اور اس سے ہی وہ دس ایکڑ زمین خرید لی گئی۔ تاہم اس سے پہلے ایک فرمTri Star انٹرنشینل کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ وہ اس زمین کی قمیت کا اندازہ لگائیں۔ این ائی سی ایل انتظامیہ کو ان کا تخمینہ پسند نہ آیا کیونکہ انہوں نے زمین کی وہ قمیت نہیں لگائی تھی جس پر وہ خریدنا چاہتے تھے۔ جونہی آڈٹ نے انکوئرای شروع کی تو ٹرائی سٹار نے ایک ای میل آڈٹ ٹیم کو بھیجی جس میں کہا گیا کہ ان پر این آئی سی ایل کی انتظامیہ نے دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اس دس ایکڑ کی قیمت ڈبل لگائیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ زمیں خریدنے کے لیے این آئی سی ایل کے بجٹ میں کوئی منصوبہ اور پیسے نہیں تھے۔ یہ منصوبہ بیٹھے بٹھائے بنا یا گیا اور اٹھا کر نو ے کروڑ روپیہ ایک پارٹی کو ادا کر دیا گیا۔ بعد میں نیسپاک نے ان دس ایکڑ کا تخمینہ لگایا تو اس کی لاگت اکتالیس کروڑ روپے نکلی اور یوں اڑتالیس کروڑ روپے خالد انور کو زیادہ ادا کیے گئے۔

    آڈٹ نے پوچھا کہ انہیں بتایا جائے کہ بھلا کورنگی میں جا کر دس ایکڑ زمین خریدنے کا کیا تک بنتا تھا اور پھر اہم اخبارات میں اشتہار بھی نہیں دیا گیا کہ انہیں کورنگی میں کوئی دس ایکڑ زمین کی ضرورت تھی۔ اس پر این آئی سی ایل کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ اس ڈیل کی منظوری پہلے والے بورڈ آف ڈاریکٹرز نے دی تھی جو کہ ختم ہو چکا تھا۔ تاہم یہ بورڈ بھی امین فہیم کی مرضی سے بنایا گیا تھا اور اس بورڈ نے ان کی مرضی پر ہی اس ڈیل کی منظوری دی تھی۔

    اب یہ کیس ایف ائی اے کے پاس ہے جو اس پر کارروائی کرنے سے اس لیے گریزاں ہے کہ اس میں بڑے بڑے لوگوں کے نام آتے ہیں جن کو چھوتے ہوئے بھی ایف آئی اے کے اعلی افسران کانپ کر رہ جاتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین آڈٹ رپورٹ اس کیس میں اہم ثبوت بن سکتی ہے کہ کیسے امین فہیم اور ان کے ساتھیوں نے مل کر اکتالیس کروڑ روپے کی زمین نوے کروڑ میں این آئی سی ایل کو بیچ کر اڑتالیس کروڑ آپس میں بانٹ لیے تھے۔ یہ اور کہانی ہے کہ وزیرموصوف کو اس لوٹ مار میں صرف چار کروڑ روپیہ ملا اور وہ بھی انہیں واپس کرنا پڑ گیا۔ اب سپریم کورٹ کے امین فہیم کے خلاف ایکشن کے حکم کے علاوہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی یہ نئی آڈٹ رپورٹ بھی ان کے کے وبال جان بن سکتی ہے۔ تاہم باقی کے چوالیس کروڑ روپے کا علم کسی کو نہیں ہے کہ وہ کس کس کی جیب میں گیا اور کس نے کتنا لیا۔

  88. پاکستانی سیاستدان says:

    http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=53103

    ڈاکٹر ارسلان کيس، چيف جسٹس کا بينچ سے عليحدگي کا اعلان

    اسلام آباد… ارسلان افتخار ازخود نوٹس ميں چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري نے بينچ سے عليحدگي کا اعلان کر ديا ہے. کيس کي سماعت کي ابتداء سے اٹارني جنرل کي جانب سے يہ اعتراض اٹھايا جارہا تھا کہ انہيں باپ ہونے کي وجہ سے بيٹے کے کيس ميں نہيں بيٹھنا چاہيے. آج بھي جب سماعت شروع ہو ئي تو اٹارني جنرل نے پھر اپنا اعتراض دہرايا کہ پہلے چيف جسٹس کے اس بينچ ميں بيٹھنے کا فيصلہ کيا جائے. بعد ازاں عدالتي حکم ميں چيف جسٹس نے بينچ سے عليحدگي کا اعلان کر ديا. اس حوالے سے جاري عدالتي حکم ميں کہا گيا کہ ہم اللہ پر يقين اور ايمان رکھتے ہيں، اسلامي احکامات ميں اپنے بيٹوں کوبھي سزادينے کي مثال موجودہے، اسلامي تعليمات ہيں کہ انصاف کے وقت کسي سے امتيازنہيں برتاگيا. عدالتي حکم ميں مزيد کہا گيا کہ قانوني مثاليں موجودہيں کہ جج کوفيصلے کااختياراسي پرچھوڑدياگيا، ابتدائي سماعت ،اٹارني جنرل کے دلائل پرچيف جسٹس کے اس بنچ ميں نہ بيٹھنے کافيصلہ کيا. اس کے بعد چيف جسٹس بنچ سے اٹھ کر چلے گئے، باقي 2 جج آج ايک بجے سماعت کرينگے. اس سے قبل چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري نے بينچ سے نے ريمارکس ديئے کہ مجھے اپنے ججز پر اعتماد ہے،يہ عدليہ کے 16ستون ہيں. آج ہونے والي سماعت ميں جيو نيوز کے چيف ايگزيکٹو اور پروگرام آج کامران خان کے اينکر پرسن کامران بھي سپريم کورٹ آف پاکستان ميں پيش ہو گئے. کامران خان نے کہا کہ عدالت عظمي نے آج توازن قائم رکھا ہے، سپريم کورٹ کو سليوٹ کرتا ہوں، عدالتي وقار سے زيادہ کوئي چيزنہيں ہے. کامران خان نے بيان ديتے ہوئے کہا کہ کرپشن خاتمے کيلئے سپريم کورٹ کے کردار کو نماياں کيا، عدالت کے وقار سے زيادہ کوئي چيز نہيں، سپريم کورٹ کو سلوٹ کرتا ہوں. انہوں نے کہا کہ سپريم کورٹ جيسے ادارے کو کمزور کيا گيا تو کچھ باقي نہيں رہے گا. چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ يہ معاملہ انتہائي سنجيدہ ہے، ہم فيصلے کرتے رہيں گے، ابھي تو بات 30يا 40کروڑ کي ہے، کل يہ بات اربوں کي ہوگي.

  89. zalaan says:

    افتخار چودھری : بیٹا جب سے میں بحال ہوا ہوں تم نے سرکاری نوکری کیوں چھوڑ دی ؟
    ارسلان : ہا ہا جیسے آپ کو ہی نہیں
    افتخار چودھری : بیٹا تم نوکری تو نہیں کر رہے پر یہ اتنی قیمتی کار کہاں سے ؟
    ارسلان : ہا ہا ہا ہا ،کیا آپ کو پتا نہیں ؟
    افتخار چودری : بیٹا تم نے خاندان والوں کے ساتھ یورپ میں مزے کیے اتنا پیسا آخر کہاں سے آیا ؟
    ارسلان : آپ بھی بہت معصوم بنتے ہیں ابا جان

  90. saleem raza says:

    zalaan said:
    افتخار چودھری : بیٹا جب سے میں بحال ہوا ہوں تم نے سرکاری نوکری کیوں چھوڑ دی ؟
    ارسلان : ہا ہا جیسے آپ کو ہی نہیں
    افتخار چودھری : بیٹا تم نوکری تو نہیں کر رہے پر یہ اتنی قیمتی کار کہاں سے ؟
    ارسلان : ہا ہا ہا ہا ،کیا آپ کو پتا نہیں ؟
    افتخار چودری : بیٹا تم نے خاندان والوں کے ساتھ یورپ میں مزے کیے اتنا پیسا آخر کہاں سے آیا ؟
    ارسلان : آپ بھی بہت معصوم بنتے ہیں ابا جان

    7 June 2012 at 12:24 pm
    ——————
    زلاان میاں اگر اپکے والد صاحب اپکو کہیں بھائی تم اخر ایسی بے تُکی حرکتیں کیوں
    کرتے ہو لگتا ہے تم میرے بیٹے نہیں ہو کیونکہ میں تو ایسی ویسی حرکتیں نہیں کرتا تو
    اپ بھی اسی طرح کا جواب مت دینا – ہا -ہا- ہا – جیسے تم کو تو پتہ نہیں

  91. Bawa says:

    نجم سیٹھی کے پروگرام کے آخیر میں منیب فاروق نے نجم سیٹھی کی دم پر یہ کہہ کر پاؤں رکھ دیا کہ

    لوگ کہتے ہیں کہ نجم سیٹھی کی چڑیا ملک ریاض ہے

    نجم سیٹھی نے جواب نہ دینے کا تاثر دینے کے باوجود دس منٹ تک جواب دیا. مجھے معلوم نہیں تھا کہ سچ سامنے آنے پر نجم سیٹھی اسقدر بوکھلا جائیں گے

    نجم سیٹھی کے کانوں سے اتنا دھواں نکلا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ ابھی دھماکے سے پھٹ جائے گا
    .

    http://www.youtube.com/watch?v=BsuT-yFDYoA&feature=player_embedded#!

    :) :) 😀 😀

  92. saleem raza says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    عقل —-بڑی —یا—بھینس؟؟؟؟؟؟؟؟
    اگر پاکستان کی بات کرتے ھو ———–
    تو —-آجکل — سب سے بڑا——- ملک ریاض
    ———-
    شیخ صاحب خدا نظر بد سے بچاے اپ اتنے دن کہاں تھے کسی بد چلن کی نظر تو نہیں
    لگ گی تھی ؛

  93. آج افتخار چوہدری نۓ خود کو پہنچنے والے نقصان کا کچھ ازالہ کیا ہے .

    افتخار چوہدری کے بنچ سے علیحدہ ہونے اور ملک ریاض اور ارسلان افتخار دونوں کو جواب کے لیے وقت دے کر عدالت نۓ خود کو کچھ مسائل سے نکالا ہے
    تاہم مختصر حکم میں افتخار چوہدری کا اسلامی احکام کے تحت بنچ میں بیٹھنے اور عدالتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا حق افتخار چوہدری کی مستقبل کی من مانی کی خواہش کا اظہار ہے جو کھ اچھا اشارہ نہیں ہے
    اٹارنی جنرل نۓ کل کی طرح پھر آج ایک اور اچھا مشورہ دیا ہے کھ عدالت خود کو اور ارسلان کو علیحدہ رکھے . لیکن عدالت اس کو ملانے پر مصر ہے . اس کے ساتھ ہی افتخار چوہدری قسم کھاتے ہیں کھ ان کو ارسلان کے کاروبار کا کوئی علم نہیں . اگر عدالت واقعی افتخار چوہدری کو ملوث رکھنے پر مصر ہے تو بات صرف افتخار چوہدری کی قسم تک محدود نہیں ہو گی . افتخار چوہدری کو بطور ملزم عدالت میں یا سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنی حیثیت واضح کرنی ہو گی

    ویسے میرا خیال ہے کھ اس مفروضے کے تحت کھ جج ٹی وی دیکھتے ہیں اور اخبار پڑھتے ہیں اگر کوئی کھیل کھلا گیا ہے تو کھلاڑی اپنے ابتدائی مقاصد میں خاصے کامیاب ہیں

  94. zalaan says:

    موسیٰ گیلانی پر بھی الزام تھا اسے پورے پاکستان نے اور میڈیا نے چور کہتا شروع کر دیا

  95. saleem raza says:

    zalaan said:
    موسیٰ گیلانی پر بھی الزام تھا اسے پورے پاکستان نے اور میڈیا نے چور کہتا شروع کر دیا
    ——
    چیف جسٹس نے اپنے بیٹے کو عدالت میں طلب کر لیا ہے اور اس الزام پر گھر سے بھی نکال
    دیا ہے – تو کیا بے غیرت گیلانی نے بھی ایسا ہی کیا تھا کہ بیٹا پہلے اپنے اوپر لگے الزام
    صاف کروا کر اسمبلی میں انا –
    اور اگر گیلانی نے ایسا نہیں کیا تھا تو اپ اپنے چہرے پر لگی ہو انکھیں استمال کرنا شروع
    کریں اور جو پچھوڑے پر لگی انکھ کو ریسٹ کرنے دیں

  96. پچھلے دو دن سے میں اس کیس کی پیچیدگی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا . میری آخری رائے یہ ہے کھ اس کیس میں افتخار چوہدری اور عدالت کے وقار کو بچانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ تھا کھ افتخار چوہدری استعفیٰ دے کر اس ملک کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حرفوں میں لکھوا جاتا . اس طرح ادارہ بھی بچتا اور عدالت کے لیے آیندہ نظام کے اندر رہتے ہوئے عدالتی فعالیت کرنے کے امکانات موجود رہتے.موجودہ صورتحال میں یہ معاملہ ایک سیاسی حیثیت اختیار کرکے آخرکار عدالت کو نقصان پہنچاسکتا ہے .

    ا

  97. Javed Ikram Sheikh says:

    میں نے پہلے کہ دیا تھا
    پاکستان کا مطلب ھے کیا
    پیسہ پھینک ، تماشہ دیکھ
    ڈالر هو یا هو روپیہ

  98. پاکستانی سیاستدان says:

    چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اسٹیبلشمنٹ کے لئے ناقابل قبول ہوچکے ہیں، موجودہ حکومت کے ساتھہ تو ان کی ٹسل پہلے سے ہی چل رہی تھی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے موجودہ حکومت کے کپشن کیسز پر جراءتمندانہ انداز میں فیصلے دیئے اپنی اسی بےباکی کی وجہ سے وہ موجودہ حکومت کے لئے شروع دن سے ہی ناقابل قبول تھے۔ زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی کا موجودہ ٹولہ انہیں بحال نہیں کرنا چاہتا تھا، چیف جسٹس عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں بحال ہوئے۔

    چیف جسٹس صاحب آئندہ آنے والے دنوں میں مزید کچھہ کیسز کے فیصلے کرنے والے ہیں، چیف جسٹس نے بلوچستان کے ایشو پر اور مسنگ پرسنس کے ایشو پر نوٹس لے لیا ہوا ہے، کچھہ سینیئر صحافیوں کا خیال ہے کہ یہ بات مقدس گائے کو پسند نہیں آئی ہے اور چیف صاحب اب مقدس گائے کے لئے ناقابل قبول ہوچکے ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں جب چیف جسٹس حکومت کی کرپشن کے خلاف فیصلے سنائیں گے تو ممکن ہے پیپلز پارٹی کنفرنٹیشن کی طرف جائے۔ موجودہ کیس چیف جسٹس صاحب کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ موجودہ کیس میں تواتر سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ لارجر بینچ بنایا جائے اور چیف جسٹس صاحب الگ ہوجائیں اس کیس سے۔ خبریں گرم ہیں کہ تمام ججز چیف جسٹس کے ساتھہ نہیں ہیں۔ ممکن ہے حکومت اپنے خلاف مزید سخت فیصلے آنے پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیج دے۔ جب اداروں کے درمیان ٹکراؤ ہوگا تو ہمیشہ کی طرح مقدس گائے بیچ میں آ سکتی ہے، اس لئے ممکن ہے آئندہ آنے والے کچھہ دنوں میں مارشل لاء کی منحوس گھڑی آوے آوے۔

  99. نمبری آ ب پ ت / ١٢٣٤
    مورخہ ١٢ / ٣٤/ ٥٦٧٨

    عنوان : مقدمہ تیار ہے

    صدر بد عنوان ہے اور صدارت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں
    وزیراعظم سزا یافتہ ہے اور استعفیٰ نہیں دے رہا
    چیف جسٹس کا خاندان بدعنوانی میں ملوث ہے

    فائل برائے ملاحظہ و مناسب حکم پیش خدمت ہے

    ……………………………………………………………..

    اگلے دو ماہ تک مزید دھول اڑائ جائے اس کے بعد فائل برائے تبصرہ جناب سفیر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو پیش کی جائے اور وزیراعظم کے تقرر کے لیے سفارشات طلب کی جائیں . اس دوران ٹرپل بریگیڈ میں مناسب تیاریاں کی جائیں . شاہین صہبائی کو شاباش دی جائے . حامد میر کو ایم آئ کی طرف سے چیک دیا جائے اور آئ ایس آئ کی طرف سے ہمیشہ کی طرح سڑک پر کان پکڑوا ئے جائیں . کامران خان کے مشاہرے اور عہدے میں ترقی دیجائے
    ……………………………………………………………

  100. saleem raza says:

    zalaan said:
    کہیں یہ ڈرامہ چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد صدر بنانے کا پروپگرام تو نہیں ؟
    —–

    اگرافتخار چوھدری کو کرپٹ ثابت کر کے صدر بنایا جاےتو پھر تو اپکو قبول قبول ہوگا- اور یہ مقام صرف زداری کے حصے ایا ہے –
    افتخار چوھدری کے بیٹے کو فریم کر کے افتخار چوھدری پر دباوُ رکھنا تھا کہ اگر تم باز
    نہیں اے تو ہم پردہ چاک کر دیں گے ، لیکن افتخار چوھدری نے اس کے خلاف کنواہ کھودنے
    والوں کا ہی بیڑا غرق کر دیا ہے
    اور یہ ،، مہین ، یعنی پتلی سی بات بھی اپ کی کھوپڑی میں ,موری ,کر کے ڈالنی پڑے گی
    یہ میری سمجھ سے باہر ہے –

  101. Shirazi says:

    @SM Support Movement Saab

    You are implying GHQ/ISI is behind Family Gate? Let’s not focus who is behind this. Shed some light who is in it? CJ who “didn’t know” his son and family’s life style for 4 years. His Judicial activism was not taking Pakistan anywhere anyway. It’s OK if he falls flat like this. He is not trapped he is exposed.

  102. Shirazi said:
    @SM Support Movement Saab

    You are implying GHQ/ISI is behind Family Gate? Let’s not focus who is behind this. Shed some light who is in it? CJ who “didn’t know” his son and family’s life style for 4 years. His Judicial activism was not taking Pakistan anywhere anyway. It’s OK if he falls flat like this. He is not trapped he is exposed.
    ================================

    جنوبی پنجاب کے ایک سیشن جج صاحب کا ایک واقعہ مشھور ہے کس طرح ایک بار انہوں نۓ اپنے گھر میں نئی کراکری اور سامان دیکھا انھیں شک ہوا کھ تنخواہ میں سے اتنی بچت نہیں ہے . تحقیق پر پتہ چلا کھ بیگم صاحبہ کو ایک پارٹی نۓ رقم پہنچائی ہے . فورا اپنی آبائی زمین بیچ کر رقم ادا کی اور ہائی کورٹ کو پورا واقعہ لکھ بھیجا . اگر اس فورم پر کسی کا تعلق بہاول پور ڈویزن سے ہے تو اس نۓ ان جج صاحب کا نام سنا ہوگا یہ سوال آئندہ آنے والے دنوں میں ضرور اٹھیں گے کھ بیٹے کے ٹھاٹھ افتخار چوہدری کی نظر سے کیسے پوشیدہ رہے .

  103. پاکستانی سیاستدان says:

    آئندہ آنے والے دنوں میں مزید اسکینڈل سامنے آسکتے ہیں۔ اگر واقعی ارسلان افتخار نے ملک ریاض سے فوائد اٹھائے ہیں اور اس کی ویڈیو ریکارڈنگ ملک ریاض کے پاس موجود ہے تو پھر جس کسی کو بھی ریاض ملک نے فائدے پہنچائے ہوں گے ان کی ویڈیوز ملک ریاض کے پاس موجود ہوسکتی ہیں اور مزید اسکینڈلز سامنے لائے جاسکتے ہیں۔

  104. ukpaki1 says:

    السلام علیکم باوا بھائی

    شکریہ آپ نے نجم سیٹھی والا لنک یہاں چسپاں کیا۔ یہ دیکھنے سے لگتا ایسا ہی ہے کہ آخری جو کال تھی جو بندہ ڈرون کی حمایت میں بات کررہا تھا وہ اس نے خود ہی کروائی ہوگی۔ بات غور کرنے کی یہ ہے کہ کل تک اسامہ والے ڈرامے کے بعد امریکہ یہ ہی کہہ رہا تھا کہ القاعدہ کا دوسرے نمبر کا رہنما الظواہری ہے اور اب انہیں اس کی تلاش ہے لیکن کل اب ڈرون حملہ کرکے یہ دعویٰ کرنا کہ ابو یحییٰ دوسرے نمبر کا رہنما ہے، کیا یہ سفید جھوٹ اور من گھڑت کہانی نہیں ہے، پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ھیں۔
    اور پاکستان میں خود کش حملوں کا ڈرون سے براہ راست تعلق ہے، کیونکہ ڈرون گرنے سے جو شہری مارے جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ ردعمل کے طور پہ یہ سب کرتے ھیں۔

    اور جہاں تک اجازت کی بات ہے تو مردود مشرف نے اس کی اجازت دی ہوئی تھی اور اب اداکار شیخ رشید اس بات کو تسلیم بھی کرتا ہے کہ مشرف نے اجازت دی ہوئی تھی ورنہ ایک ایٹمی قوت چاہے وہ اندورنی طور پہ جتنی بھی کمزور ہو، امریکہ بغیر اجازت ڈرون گرانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ بش کے دور میں ڈرون کم ہونا اور اوبامہ کے دور میں زیادہ ہونا، اس کی وجہ یہ ہے کہ بش کا اپنے دور اقتدار میں زیادہ دھیان افغانستان پہ تھا اسی لیے اس کے دور میں پاکستان میں ڈرون حملے کم ہوئے لیکن یہ ڈیموکریٹ کی حکومت اس کے ایجنڈے مین پاکستان کے خلاف سخت اقدامات شامل تھے۔ اور دوسری بات یہ کہ بش کے دور میں جو باجوڑ میں خود کش حملہ ہوا تھا جس مین 80 کم عمر طالبعلم شہید ہوگئے تھے اور اس کی ذمہ داری پہلے مردود مشرف نے خود لینے کی کوشش کی پھر بعد میں ظاہر ہے یہ بات چھپ نہیں سکی۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں نابالغوں کے حوالے سے کیا قوانین ہیں اور ہمارے ملک کے بچوں کیلیے کوئی قانون نہیں۔

    اور یہ نجم سیٹھی کیسے اپنے دل کی خواہش بیان کررہا تھا کہ اس کی باقاعدہ اجازت مل جائے۔ اجازت تو خیر پہلے سے ہی ملی ہوئی ہے۔ لیکن اس کی خواہش پہ بھر کھلے عام اجازت ملے اور کتنا ہی اچھا ہو کہ پہلا ڈرون اس کے گھر پہ آکے گرے اور امریکہ پھر کہے کے اس کے ساتھ والے گھر میں القاعدہ کا تسیرے نمبر کا رہنما چھپا ہوا تھا۔

  105. ukpaki1 says:

    salam
    @shirazi wrote:
    Judicial activism was not taking Pakistan anywhere anyway
    _________________________________________________
    if u consider frequent suo moto notices by cj iftikhar chaudhry as ”judicial activism”… then i would say that it’s absolutely in accordance with law and constitution and cj has authority to exercise this.
    May ALLAH bless Pakistan and Pakistanis.

  106. Zia M says:

    بات غور کرنے کی یہ ہے کہ کل تک اسامہ والے ڈرامے کے بعد امریکہ یہ ہی کہہ رہا تھا کہ القاعدہ کا دوسرے نمبر کا رہنما الظواہری ہے اور اب انہیں اس کی تلاش ہے لیکن کل اب ڈرون حملہ کرکے یہ دعویٰ کرنا کہ ابو یحییٰ دوسرے نمبر کا رہنما ہے، کیا یہ سفید جھوٹ اور من گھڑت کہانی نہیں ہے، پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ھیں۔
    ————–
    @ukpaki1 Sb,
    Are you really that naive?
    After Osama was killed the Al-Qaeda had promoted Zawahiri to the no. 1 spot and the Liby guy was supposed to be the number 2 guy.

  107. ukpaki1 says:

    @Zia M sahab
    what exactly they said was… abu yahya was the 2nd most wanted man after osama, it implies that 1st was osama and then abu yahya. anyhow i m quite certain that all this hierarchy is formed in pentagon or in white house.

  108. zalaan says:

    میں ایسے کئی لوگوں کوانتا ہوں جو طالبان کی حمایت اور امریکہ کی مخالفت میں روزانہ اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں
    ان کے نزدیک پہلے اسامہ مجاہد تھا ، پھر امریکہ کا ڈرامہ تھا ، پھر مجاہد بنا ،پھر اس کے مرنے کے بعد اور کنفیوز ہیں ایک دن مجاہد کہتے ہیں دوسرے دن ڈرامہ
    کبھی انکے نزدیک القاعدہ امریکہ کا فسانہ ہوتی ہے اور کبھی امام مہدی کے ظہور کی نشانی

    یہ سارا کنفیوز پروپگینڈا منصورہ سے نکلتا ہے

  109. پاکستانی سیاستدان says:

    شاہد بھائی سیاپا سیاپا سیاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہد مسعود صاحب کو چاہیئے کہ چاچے ہارون الرشید، مبشر لقمان، حسن نثار، روداد خان، شاہین صہبائی، صالح فاخر اور اوریا مقبول جان کو ساتھہ ملا کر اپنا نیا نیوز گروپ کھول لیں اور روز مل بیٹھہ کر سیاپا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاکہ ڈاکٹر صاحب کو روز روز چینل تبدیل نہ کرنا پڑے۔

    خبریں ہیں کہ ڈاکٹر صاحب وقت جوائن کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر گزشتہ دو دنوں سے ڈاکٹر صاحب مبشر لقمان کے پروگرام میں آرہے ہیں، اس کو دیکھہ کر لگتا ہے کہ ممکن ہے ڈاکٹر صاحب دنیا نیوز سے پروگرام کریں گے۔

  110. ukpaki1 says:

    ن کے نزدیک پہلے اسامہ مجاہد تھا ، پھر امریکہ کا ڈرامہ تھا ، پھر مجاہد بنا ،پھر اس کے مرنے کے بعد اور کنفیوز ہیں ایک دن مجاہد کہتے ہیں دوسرے دن ڈرامہ
    __________________________________________________________
    لوگوں کے نزدیک نہیں امریکہ کے اپنے نزدیک اسامہ مجاہد تھا اور روس کے خلاف ان کا مرد اول تھا اور دوسری بات یہ کہ اسامہ کے بارے میں یہ اطلاعات بہت پہلے سے تھیں کہ وہ بہت پہلے ہی مارا جا چکا ہے، بے نظیر اور حامد میر نے اس بارے میں کافی پہلے اس طرح کے بیانات دئیے تھے۔ اور اگر اسامہ واقعی ایبٹ آباد میں موجود تھا، اور امریکی فوجیں اس کو گھیر چکی تھیں تو اس کو مارنے کے بعد یا زندہ پکڑ کے اس کی تصویریں پوری دنیا کو انہوں نے دکھانی تھیں، جس طرح صدام کے کیس میں انہوں نے عرب دنیا میں عید والے دن اس کی پھانسی کو دکھایا تھا تو اسامہ کی دفعہ وہ کیسے یہ موقع چھوڑ سکتے تھے۔ اور اس کے کافی وقت بعد جو سر میں گولی لگی ہوئی تصویر شائع ہوئی ہے وہ بالکل جعلی ہے اور ایڈاب فوٹو شاپ کا مدد سے وہ بنائی گئی تھی اور ہاں طالبان کی اتنی پہنچ، اتنی طاقت اور اتنی ٹیکنالوجی نہیں ہے کہ وہ امریکی ریڈار ناکارہ بنا کے جہاز پنٹاگون پہ ٹکرا دیں اور پھر ڈیڑھ گھنٹے تک کوئی فوجی کارروائی نہ ہو ادھر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور جہاز ٹکرا دیا گیا ہا ہا ہا، یہ کام دنیا کی بڑی بڑی سپر طاقتیں نہ کرسکتیں جو طالبان نے کردکھایا، واہ جی واہ کیا ٹیکنالوجی تھی ان کی۔ وہ تو وائٹ ہاؤس کی قسمت اچھی تھی کہ جہاز وہاں تک نہ پہنچ سکا اور فنی خرابی ہونے کے باعث گر کے رستے میں ہی تباہ ہوگیا ورنہ تو وائٹ ہاؤس بھی اڑ گیا تھا اس دن۔ اور ذرا ورلڈ ٹریڈ ٹاور گرنے کی فلم ذرا دیکھنا پھر اور بار بار دیکھنا اور غور کرنا کہ عمارت صرف جہاز ٹکرانے سے نیچے آئی تھی یا عمارت میں کچھ مواد بھی رکھا ہوا تھا جس سے عمارت نیچے گرنے میں تھوڑی تیزی آئی تھی۔ جہاز ٹکرانے سے جو دھماکہ ہوتا تھا اگر صرف اسی سے عمارت نیچے آئی تھی تو پھر تو نسبنتاً کم درجہ حرارت سے آنی چاہئے تھی جبکہ درجہ حرارت بتاتا تھا کہ اندر پہلے سے کچھ موجود تھا۔

    ویسے اگر امریکہ کہہ دے تو کیا کوا سفید ہو جائے گا۔

  111. SCheema says:

    This is what politics in Pakistan means. “Sister of Prime minister” is an official designation now. Like a designation of queen mother or Prince of Multan or Princess of Karachi.

    [img]http://a5.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/s320x320/599060_10150999776954882_462812685_n.jpg[/img]

  112. saleem raza says:

    شیخ صاحب بہت خوُب صورت بایتں اپ نے کی ہیں ،
    چلیں پاکستان تو گیا گزرا ہے لیکن انڈیا واپس جانے میں کون سے قباحت ہے – کچھ لوگوں
    نے اپنی ازادی کی خاطر ہجرت کی تھی ان لوگوں کو پاکستان کو کوستے نہیں سنا -لیکن
    جتنے بھی لوگوں نے اس وقت کسی لالچ کے چکر میں ہجرت کی تھی وہ اپنی ارزوُ
    اور سُہانے خواب پورے نہ ہونے پر پاکستان کو کوستے ہیں –
    سارے ملکوں میں پرابلم ہوتی ہیں لیکن خدا کے واسطے ہم پر رحم کریں
    جن لوگوں کو اپ نے پاکستان واپس چلنے کا کہا ہے ان کو واپس انڈیا چلنے کا مشورہ دیں
    شکریہ

  113. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear saleem raza,

    Most of the People speak truth—when they are out of Pakistan.
    Hypocrisy is not approved by Allah Almighty.

    Most of Pakistanis have realized the Reality of Two Nation Theory—-but are not courageous enough to EPXPRESS THEIR TRUE FEELINGS, might be due to some
    THREAT—- OR— DIPLOMACY.

    Just Examine ‘ AMAN KI AASHA’ MOVEMENT.

  114. hypocrite says:

    Why I Left Pakistan?
    ___________

    Javed sahib

    Brilliant production.

    Saying, facing and listening truth is not easy but no one can hide form truth.

    Pakistan could have become a great country and may still become one but since 1970 or so, things have gone south rather than up.

    It is good to have hope but I dont have belief in my false hope.

    Thanks for sharing

  115. hypocrite says:

    جن لوگوں کو اپ نے پاکستان واپس چلنے کا کہا ہے ان کو واپس انڈیا چلنے کا مشورہ دیں

    ______________

    محترم سلیم رضا صاحب
    سلام
    آپکی بات سمجھ میں نہیں آئی
    کچھ زیادہ ہی گہری ہے
    اگر آپ کہتے کے ایک پاکستانی کو ترکی یا ملیشیا یا انڈو نیشیا
    جانا چاہیے تو شاید میری سمجھ میں آ جاتی
    یہ کہاں آپ ہم کو ایک گھٹیا ملک کی طرف جانے کا کہہ رہے ہیں

  116. hypocrite says:

    محترم سلیم رضا بھائی
    پتا نہیں آپ پاکستان میں قیام پذیر ہیں یا بیرون ملک
    مگر میں پاکستان سے باہر ہوں
    اور اپنی خوشی سے نہیں بلکے ان حالات کی وجہ سے باہر ہوں
    جو مجھ جیسے پاکستانیوں نے ہی پیدا کیے تھے
    اور اگر مجھ جیسے لوگ وہ حالات پیدا نہ کرتے تو پاکستانیوں کی ایک بہت ہی قلیل
    تعداد ملک سے باہر ہوتی
    یہ ہندوستان، امریکا، روس بہانہ ہیں
    وجہ مرے اپنے گریبان میں ہے
    نہ کے ایک امریکی یس کسی اور کے گریبان میں

  117. saleem raza says:

    hypocrite said:
    جن لوگوں کو اپ نے پاکستان واپس چلنے کا کہا ہے ان کو واپس انڈیا چلنے
    یہ کہاں آپ ہم کو ایک گھٹیا ملک کی طرف جانے کا کہہ رہے ہیں
    ——

    ہپوکریٹ بھائی جی اپکو بھی سلام
    پہلے تو بڑی خوشی ہوئی کہ اپ فورم پر نظر اے
    باقی ملک انذیا ہو یا پاکستان ہو ہم لوگ اپنی حرکتوں کی وجہ سے گھٹیا بناتے ہیں
    اور یہ گھٹیا پن ہمارے اندر ہوتا ہے جس دن ہم نے اپنے اندر سے گھٹیا پن ختم کر دیا تو سب اچھا ہو جاے گا ، ہم کو اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر میری شکل منحسوس
    تو مھجے نحسوت پھلانی چاہیے ،

  118. Bawa says:


    قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے علم نہیں ارسلان کیا کاروبار کرتا ہے – چیف جسٹس افتخار چوہدری

    چیف جسٹس نے کہا کہ جو کوئی رشوت دیتا ہے تو اس کے بدلے میں کوئی فائدہ بھی تو حاصل کرتا ہے، اگر بیٹے کے علاوہ بھی کوئی رشتہ دار ملوث ہے تو اس کا بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہم نے خدا کو بھی جواب دینا ہے، قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ آپ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، اپنی اولاد کے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے بزنس میں رشوت کا کیا مقصد ہو سکتا ہے، اس کا مقصد ججوں پر اثرانداز ہونا ہے، 22 سال سے جج ہوں اور بہت سے ہائی پروفائل کیس کئے اور مجھے اور میرے خاندان کی ز ندگیوں کو ہمیشہ خطرہ رہا لیکن ہمیشہ کیسز کا فیصلہ انصاف سے کیا ہے، اپنا گھر ہے اور نہ ہی اپنی گاڑی ہے، مشترکہ خاندان کا گھر ہے. قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے علم نہیں ارسلان کیا کاروبار کرتا ہے، یہ کیس کھلی عدالت میں چلے گا

    http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/National/08-Jun-2012/88610

    .
    .

    سب درست ہے مگر

    دوسروں کی کرپشن پر نظر رکھنے والا خود اپنے گھر سے بے خبر کیسے ہوگیا؟

    اسے بیٹے سے یہ بھی پوچھنے کی ہمت نہ ہو سکی کہ تمھاری عیاشیوں کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے اور تمہارا کیا کاروبار ہے؟

    اسکی بیوی اور بیٹیاں غیر ملکی دورے کرتی رہیں اور مہنگے ترین گھروں میں جنکا ایک دن کا کرایہ ہزاروں پونڈ تھا, قیام کرتی رہیں اور دوسروں کے کریڈٹ کارڈز سے شاپنگ کرتی رہیں. انہوں نے اپنے خاوند اور باپ کو صورتحال بتانا یا اپنے بیٹے اور بھائی سے اسکے ذرائع آمدن پوچھنا کیوں مناسب نہیں سمجھا؟

    چیف جسٹس نے اپنے خاندان کے غیر ملکی دوروں اور شاپنگ پر آنکھیں کیوں بند کر لی تھیں؟

    تین سال تک یہ کھیل کھیلا جاتا رہا اور چیف جسٹس یہ معاملہ کیوں نہ سمجھ سکے؟

    اپنا گھر اور گاڑی نہ ہونے کا دعوا کرنے والا اپنے گھر میں دولت کی ریل پیل دیکھکر خاموش کیوں رہا؟


    چیف جسٹس صاحب – یہ گھریلو فرائض سے کوتاہی نہیں مجرمانہ غفلت ہے

    اس سے یقینا آپ کی شہرت بری طرح متاثر ہوگی اور حکومتی ایوان میں بیٹھتے ڈاکوؤں اور لٹیروں اور اسٹبلشمنٹ کے دلالوں کو خوب بھونکنے کا موقع ملے گا

  119. Bawa says:

    لیجیئے – بھونکنے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں
    .
    .

    [img]http://www.nawaiwaqt.com.pk/E_Paper/08-06-2012/Lahore/p8-23_23.gif[/img]

    😀 😀 😀 😀

  120. EasyGo says:

    http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101541957&Issue=NP_LHE&Date=20120608

    جاوید چوہدری اپنے کالم کے دلچسپ آخری پیرے میں پتہ نہیں کس مشہور اور سینیئر صحافی کا ذکر کر رہا ہے
    ملک ریاض کے بارے میں ابھی تک صرف ہارون الرشید اور جاوید چوہدری کی تحریر نظر آئ ہے، باقی سب لکھنے والوں نے اس اشو پرچپ سادھ رکھی ہے، لگتا ہے سب تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں

  121. pkpolitician says:

    چیف جسٹس غلطی سے کامران خان کے اوپر لچ تل گئے

    http://www.topstoryonline.com/family-gate-kamran-khan-deposed

    کامران خان کی تعریف کرتے ہوئے چیف جسٹس کے منہ سے غلطی سے نکل گیا کہ وہ ( کامران خان) کرپشن کو بہت سپورٹ کرتے ہیں۔ حالانکہ چیف جسٹس کہنا چاہتے تھے کہ وہ کرپشن کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اس پر پوری عدالت میں بہت بڑا قہقہ پڑا تو چیف جسٹس کو فوراً خیال آیا اور انہوں نے بھی مسکراتے ہوئے اپنا فقرہ درست کیا۔

  122. saleem raza says:

    ہپوکرہٹ بھائی جی اگر اپکو بھی نہیں پتا کہ میں کہاں ہوں تو پھر میرا یقین کریں
    مھجے بھی اس کا پتہ نہیں
    :)

    لیکن اپ نے جو چوٹ کی ہے وہ میں سمجھتا ہوں لیکن بھائی جی اس کا یہ مطلب تو نہیں
    کہ بندہ ہر وقت اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان ہئ کو گردانے،
    جو لوگ کچھ کرنے کی جرُت رکھتے ہیں وہ کہیں پر بھئ ہوں کر گزرتے ہیں ،
    شیخ صاحب ایک جگہ پر دورً کی کوڑی لاتے ہوے فرماتے ہیں
    گند سے مینڈک ہی پیدا ہوتے ہیں لیکن ان کو اس بات کا علم نہیں گندے پانی میں کنول
    کے پھول بھی کھلتے ہیں ،
    اب ان کے دیکھنے اور میرے دیکھنے میں بہت فرق ہے –

    اپ کے لیے ایک شعر

    احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ، ورنہ کفن بھی اُسی تار سے بنتا ہے اور آنچل بھی ،

  123. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear saleem raza,

    8 million Pakistan who, decided or were forced, to leave Pakistan, could not find a single
    Flower of Kanwal since 1947.

    In reality, Kanwal was forced to vacate the muddy pond due to abundance of FROGS.

  124. saleem raza says:

    ڈان نیوز کے طلعت حسین نے نجھم سیھٹی کے مہنہ پر ایک بھر پوُر طمانچہ مارا ہے،
    جس کی بازگشت کافی دن سنائی دے گی ، لگتا ہے ذلیل ہونا کچھ لوگوں کے مقدر میں لکھ
    دیا گیا ہے –

  125. Javed Ikram Sheikh says:

    I remember once Late Ch. Zahoor Elahi challenged Indian Prime Minister Indira Gandhi to contest Elections against him from Gujrat.
    As a result of that news Chaudry Sahib was also known in India.

    Talaat Hussain is trying to get recognition where all his efforts to sell ISI Agenda, failed.

    He tried his best to prove that Osama Bin Laden was never in Abbotabad.

    Due to that Episode he lost his journalistic credibility in the circles.
    He is trying to survive as blackmailer, now.
    Najam Sethi, as a Journalist is one of the best commentator.
    Most of his political analyses turn out correct.

    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=uZAH6Rcctfg

  126. aliimran says:

    آج تک کے حالات و واقعات کے مطابق میری ناقص عقل میں جو بات آ رہی ہے
    یہ سارا ڈرامہ چیف کو بد نام کرنے کے لیے تیار کیا گیا — لیکن اس ڈرامے کے سب سے
    اہم کردار ارسلان چودھری اس سارے ڈرامے میں برابر کا شریک ہے اور اسے یہ سب معلوم تھا
    کہ وہ کیا کر رہا ہے اس پوری سکرپٹ کو زرداری ، ملک رحمان اور ملک ریاض نے تیار کیا ایک
    بات بتاتا جاؤں کہ ملک ریاض کی دوستی صرف زرداری سے ہی نہیں ہے — ملک رحمان اور ملک
    ریاض کا تعلق سیالکوٹ سے شروع ہوتا ہے اور دونوں کا ماضی اور حال دنیا کے سامنے ہے اس لیے
    اس تعلق کو کاروباری سمجھیں تو حالات کو جاننا زیادہ آسان ہو جاۓ گا —– ملک ریاض صرف ایک
    مہرہ ہے اس سازش کے پیچھے ہاتھہ کسی اور کے ہیں
    اب آتے ہیں اصل کی طرف ——- یہ سارا جھوٹ پیپلز پارٹی کے گند کو چھپانے کے لیے تیار کیا
    گیا اس میں گیلانی اور اس کے بیٹوں کی کرپشن زرداری کا غبن اور کئی گوشہ نشینوں کے نام بھی جلد
    دنیا کے سامنے آ جائیں گے
    میں خود باپ ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کی اپنی اولاد سےمحبت اور مجبوری کو سمجھتا ہوں – مگر
    اب تک کے واقعات اوران کے ایکشن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انصاف کریں گے اور اپنے بیٹے کی محبت
    میں انصاف کا دامن ہاتھہ سے نہیں چھوڑیں گے — میں ان کی استقامت کے لیے خدا سے دعا کرتا ہو اور
    امید کرتا ہوں کہ وہ جو جو بھی اس سازش میں شامل ہے ان کو قرار واقعی سزا دیں اور پدرانہ شفقت اور
    محبت کو ایک طرف رکھ کر ایک مثال قائم کر دیں گے———- اگر ایسا ناں کیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف
    نہیں کرے گی

  127. rangbaaz says:

    ملک ریاض، فوج، پی پی اور امریکہ نے مشترکہ طور پر چیف جسٹس کے خلاف ا علان جنگ کر رکھا ہے. اس کیس میں سب سے اہم رول سپریم کورٹ کے باقی ججوں کا ہو گا کیونکہ کچھ حلقوں کے مطابق ملک ریاض چند ججوں اور میڈیا کے بڑے حصے اور سارا نام نہاد روشن طبقہ کو خرید چکا ہے.
    جب بھی پاکستان کے عوام کو انصاف دینے کے لئے کوئی جج اٹھتا ہے تو یہ سارے ایک ہی جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں. اگر یہ سب مل کر چیف جسٹس کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کا مستقبل بھی میکسیکو کی ڈرگ مافیا کی طرح پراپرٹی مافیا کے ہاتھوں گروی ہو جائے گا

  128. Bawa says:


    اب کسے رہنما کرے کوئی؟

    ہم کبھی بھی چیف جسٹس کی کارکردگی سے مطمین نہیں تھے لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں افتخار چوہدری کی صورت میں ایک امید اور بہتری کی کرن نظر آتی تھی. خوش فہمی تھی اور ابھی بھی ہے کہ شاید یہ کرن کبھی ہمارے اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے کا باعث بن جائے لیکن اس سکینڈل سے دل ٹوٹ گیا ہے اور وہ روشنی کی ہلکی سی کرن بھی نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے

    ہم افتخار چوہدری کی انصاف کی فراہمی میں حائل مجبوریاں بھی سمجھتے تھے خصوصا جب حکومت، بیروکریسی، مافیا اور فوج انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو. اس لیے اس سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کر رکھی تھیں. افتخار چوہدری پر تنقید کے ساتھ ساتھ اسکے کاموں کو جا بجا سراہتے بھی تھے

    یہ درست ہے کہ اس سکینڈل کے پیچھے حکومت ہے، اسٹبلشمنٹ ہے، لینڈ مافیا ہے اور بے ضمیر صحافیوں کا پورا گروہ ہے جو لینڈ مافیا کے ٹکروں پر پلتا ہے. انکا مقصد چیف جسٹس کو خریدنا تھا جس طرح وہ حکومتی ارکان، سیاستدانوں، جرنیلوں، سول سوسایٹی اور صحافیوں کو خریدتے ہیں لیکن اسمیں ناکامی اور منہ کی کھانے کے بعد انہوں نے یہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا. یہ سب تفصیل اس کیس کی سماعت میں سامنے آ جائے گی

    ہم یہ توقع نہیں کرتے تھے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری اپنے ہی گھر میں پلنے والے “ناسور” سے اسقدر بے خبر رہیں گے اور اپنے گھر میں دولت کی ریل پیل اور اپنی فیملی کی عیاشیاں دیکھکر کچھ نہ سمجھ سکیں گے. وہ گھر میں کسی سے یہ بھی نہ پوچھ سکیں گے کہ تمھاری عیاشیوں کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے اور بیٹے کا کیا کاروبار ہے؟ اور نہ ہی انکے ساتھ ایک لمبی ازدوازی زندگی گزارنے والی بیوی انہیں بتا سکی کہ اس نے غیر ملکی دوروں میں کتنی پر تعیش زندگی گزاری اور کتنی مہنگی شاپنگ کی. ایک عام آدمی اپنے گھر میں ہونے والی معمولی تبدیلی محسوس کر سکتا ہے تو اتنا بڑا منصف تین سال تک کوئی تبدیلی کیوں محسوس نہیں کر سکا؟ کیا سب نظریں دوسروں کی برائیوں پر رکھنے کے لیے ہی ہیں اور اپنے گھر پر کوئی نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ یہ کیوں فرض کر لیا جاتا ہے کہ سب برائیاں دوسروں میں ہیں اور میری ذات ان سے بالاتر ہے؟

    یہ درست ہے کہ اس سیکنڈل میں افتخار چوہدری کی ذات ملوث نہیں ہے لیکن کیا ہم انکے گھر کو انکی ذات سے الگ کر سکتے ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ عدلیہ کی عزت پر کوئی حرف نہیں آیا ہے لیکن کیا ہم کسی اور جج پر جسے عوام نے اتنی زیادہ عزت نہ دی ہو، بھروسہ کر سکتے ہیں؟ حکومت، پارلیمنٹ, مافیا، فوج، بیوروکریسی، سیاستدان، صحافی، پیشہ ور لوگ، جاگیر دار طبقہ، کاروباری طبقہ، مفاد پرست طبقہ، مراعات یافتہ طبقہ اور مذہبی لوگ تو ناقابل اعتبار تھے ہی لیکن کیا ہم قابل بھروسہ سمجھے جانے والے لوگوں پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟

    کیا کیا خضر نے سکندر سے
    اب کسے رہنما کرے کوئی
    جب توقع ہی اٹھ گئی غالبٓ
    کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

    اب عدالت ارسلان افتخار کو سزا دے یا بری کر دے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے. یہاں روزانہ کتنے مجرموں کو سزا ہوتی ہے اور کتنے جرم کرکے بچ نکلتے ہیں، یہ ایک روٹین ہے. افتخار چوہدری اور عوام کا رشتہ ایک اعتبار اور ایک اعتماد کا رشتہ تھا. اعتماد کا رشتہ بہت نازک ہوتا ہے اور کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جاتا ہے. عوام نے افتخار چوہدری کا دو ہزار سات سے پہلے والا ماضی بھلا کر اس پر اندھا اعتماد کیا تھا لیکن افسوس آج وہ اعتماد متزلزل ہو گیا ہے. عوام آج پھر مایوس ہو گئے ہیں. امید کی ایک کرن جو انہیں اجالوں کا پیغام دے رہی تھی ایک بار پھر نظر آنا بند ہو گئی ہے. عوام پھر تاریکی میں ڈوب گئے ہیں. ہر طرف گھپ اندھیرا ہے اور کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے

    کاش یہ سب نہ ہوتا – کاش یہ امید کی کرن تاریکی میں نہ بدلتی

    کاش – اے کاش

  129. pkpolitician says:

    @rangbaaz

    رنگ باز جی

    آپ کی بات درست لگتی ہے کہ ملک ریاض میڈیا کے کچھہ حلقوں کو خرید چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت جلد چیف جسٹس کے خلاف ایک منظم انداز میں ایک پہم شروع ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پچھلے دنوں ایک تجزیہ سن رہا تھا کہ شاید تمام ججز چیف جسٹس کے ساتھہ نہیں بے شمار ایسے ججز ہیں جو چیف جسٹس کے خلاف ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چیف جسٹس کا کرپشن کیسز سننا تو زرداری اور پیپلز پارٹی کو ناپسند تھا ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر جب سے چیف صاحب نے بلوچستان ایشو اور مسنگ پرسنز کے کیسز کو چھیڑا ہے اس دن سے شاید چیف جسٹس مقدس گائے کے لئے ناقابل قبول ہو چکے ہیں اور اب انہیں فارغ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا پتہ آئدنہ آنے والے دنوں میں اسٹبلشمنٹ کی ایماء پر حکومت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیج دے اگر انہوں نے عہدہ نہ چھوڑا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب کی بار ویسی تحریک بھی شاید نہ چل سکے کیوں کہ وکلاء برادری کا ایک حصہ پیپلز پارٹی کے ساتھہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعتزاز احسن، علی احمد کرد، عاصمہ جہانگیر اینڈ کمپنی وغیرہ

  130. Javed Ikram Sheikh says:

    Pakistan was created for the Indian Muslims and for ISLAM?
    NO…..
    Pakistan was created for persons like Achha Shookar Wala and Malik Riaz.

  131. Bawa says:

    شاید پاکستان ان لوگوں کے لیے بھی بنایا گیا تھا جو

    سینما کی ٹکٹیں بلیک میں بیچتے بیچتے کسی لالچی اور چور وزیر اعظم کے شوہر بن جائیں، ملک کی دولت لوٹ کر اپنے غیر ملکی بنک اکاونٹس بھریں، جعلی وصیت بنا کر پارٹی پر قبضہ کریں، غیر ملکیوں اور فوجیوں کے منت ترلے کرکے منصب صدارت تک پہنچیں، پھر اپنے غیر منتخب حواریوں کے ساتھ ملکر لوٹ مار کا بازار گرم کریں، جمہوریت کو بدنام کریں اور عوام کا جینا محال کر دیں

  132. Javed Ikram Sheikh says:

    Question:
    In Pakistan,
    Sovereignty Belongs To,
    Almighty Allah—–or
    The People——-or
    MALIK RIAZ??????????
    ____________________
    Answer:
    Modified Law Of Sovereignty……..

    You Can’t Move A Finger Without Disturbing Malik Riaz

  133. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    ویسے اس وقت ساری دنیا میں پاکستان کا جو مذاق بنا ہوا ہے اس میں بہت ساری وجوہات کے ساتھ ایک وجہ ڈرون حملے بھی ہیں۔ جس طرح ایک دو دن پہلے پنیٹا نے بھارت میں اس طرح کا بیان دیا تھا کہ پاکستان پہ ڈرون حملے جاری رہیں گے میرے خیال میں اب بین الاقوامی سطح پہ پاکستان ایٹمی صلاحیت ہونے کے باوجود صومالیہ، یوگنڈا، برونڈی یا اس جیسے دوسرے ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے، کیونکہ ان افریقی ممالک میں امریکا کی ڈرون مہم کھلے عام جاری ہے۔

    پاکستان اتنا اہم ملک جغرافیائی اور ایٹمی حوالے سے ہونے کے باوجود ڈرون حملے نہیں رکوا سکتا میری خیال ہے اس سے بڑی لعنت فوج اور حکومت کیلیے کوئی اور ہو نہیں سکتی۔ جب سے ایک مردود آمر حفیہ طریقوں سے امریکا کو اجازت دے کے اور خودمختاری بیچ کے اور فوج کو بے غیرتی کا ٹیکا لگا کے دفعہ ہوا ہے تب سے یہ لعنت پاکستان کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ جب سے پاکستان میں ڈرون حملے ہونا شروع ہوئے ھیں تب سے ہی خیبر پختنوخواہ اور دوسرے علاقوں میں خودکش حملے تیز ہونا شروع ہوئے ھیں۔ اور پشاور میں کل ہونے والے حملے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر تشویش کا اظہار کرتی ہیں اور متاثرین کو معاوضہ کے بھی مطالبہ کرتی ہیں اور ہمارا بے غیرت صدر چند سال پہلے امریکنوں سے کہتا ہے کہ ڈرون کے نتیجے میں جو جانی نقصان ہوتا ہے اس کی مجھے تو کوئی فکر نہیں آپ کو ہو تو ہو۔

    لگتا ایسا ہی ہے کہ امریکہ کے اپنے غلاموں سے معاوضہ پہ کوئی ڈیل ہوگئی ہے اور اب پاکستانی راستہ دوبارہ کھل جائے گا اور اوبامہ نے مزید ڈرون حملوں کیلیے منظوری دے دی ہے۔ پھر امریکی جوتیوں میں دال بانٹے گا اور یہ بے غیرت وہ دال بھی کھا لیں گے اور ساتھ ہی جوتی بھی۔

  134. ukpaki1 says:

    اور پھر نجم سیٹھی سے ایجنٹ اور بے غیرت چینل پہ بیٹھ کے کہتے ھیں کہ اگر پاکستان اجازت دے دے کھلے عام ڈرون کی تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ یعنی وہ پاکستان کے بنیادی موقف سے ہی ہٹ گیا وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ امریکا پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کردے جو پاکستان کا مطالبہ بھی ہے لیکن اس نے جو بات کی ہے وہ سن کے تو مزید اس کی حقیقت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    پہلے ہی جب ایک خنزیر نے خفیہ اجازت دی تو یہ حال ہے اگر باضابطہ طریقے سے دے دی تو پھر اسلام آباد کے اندر ڈرون آکے گریں گے۔

    فوج، حکومت، میڈیا، انٹرنیٹ کسی جگہ بھی ایجنٹوں کی کمی نہیں ہے۔

  135. Guilty says:

    • rangbaaz said:
    .
    جب بھی پاکستان کے عوام کو انصاف دینے کے لئے کوئی جج اٹھتا ہے

    ………………………….
    لیکن افسو س کی بات ھے کہ ھر جج فوج کی گود سے ھی اٹھتا ھے۔
    یہ سپر چیف جسٹس سپہ سالار کیانی کے فون سے بحال ھو کر اٹھے
    اور اس پہلے یہ سپر چیف جسٹس سپہ سالار مشرف کے کرم سے ھیرو بن کر اٹھے۔
    پہلے یہ سوئٹزر لینڈ کے خزانوں کی فلم کورٹ میں لگا کر بیٹھے تھے
    اب ان کے بیٹے کے خزانے کی فلم کورٹ میں لگ گئی ھے۔

    جیسے لوگ ویسی سروس

    جسٹس کھرا ھوتا کیانی کے فون کو رد کردیتا
    جسٹس کھرا ھوتا آج بیٹے کو گھر سے نکالنے سے پہلے خود مستعفی ھوجاتا ھے۔
    سفارشوں سے آنے والے سفارشوں سے خاندان پالنے والے کرسی نہیں چھوڑا کرتے

    سفارشوں سے رزق حاصل کرنے والے ٹی پی کل سرکاری ملازم خاندان آخر کرپٹ ھی نکلا

    دل پاک نہیں ھے تو پاک ھوسکتا نہیں انساں
    ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت

  136. geele.mitti says:

    Dual nationality is , to me , a very illogical concept. Being a “National” of a country requires one to take oath of allegiance to the country who’s nationality one is seeking. This oath requires one to have complete loyalty to that country and demands one to take side with that country in case conflict arises with the country of origin. for example citizenship oath of Canada says

    “I swear (or affirm) that I will be faithful and bear true allegiance to Her Majesty Queen Elizabeth II, Queen of Canada, Her Heirs and Successors, and that I will faithfully observe the laws of Canada and fulfil my duties as a Canadian citizen.[10]” ( wikipedia)

    Thus citizenship is a binding contract and should be taken very seriously, ofcourse breaking of this contract may lead to ones death as case of treason.

    So when a Pakistani national takes this oath , he is bound by his honour and law of Canada to uphold Canadian soverignity , and place it over and above even to his religious responsibilities and ideologies. At that moment he is biggest hypo crate because on one side his heart is with Pakistan since he was born, raised and educated there and most likely has a big family and on other side he has just signed a contract to defend another country should she attack Pakistan and Pakistani soil, which in a way is case at this moment. More over he is obligated to pay taxes , part of which goes directly to the very troops killing his other countrymen . So he is sending money to Pakistan directly supporting Pakistani establishment (though money could be sent for many reasons it filters through taxes, direct or indirect to establishment) and military complex to wage war against his new country and ideologies and also paying his taxes in his new country. Funding both sides of the war so to speak. Therefore first generation Pakistanis are , well perfect example of what a hypocrate is. This is just one example.

    Western countries realize this and therefore donot give first grade citizen rights to new immigrants, thought they never claim that to be the case. IT is only second or third generation of Pakistanis, born, bread and moulded in Western thoughts and ideologies, that is allowed to participate and indeed progress to first citizen level.

    So when these countries safe gaurd themselves against hypo crates why should not Pakistan do the same. granted that they send a lot of foreign exchange to Pakistan but it is liking thinking Money as solution enough for the suffering of ones relatives in Pakistan. Need is for these educated , smart and so called successful Pakistanis to pay a little more attention to Pakistan .

    But then again, how many of them are willing to sacrifice thier dodge caravans and toyota camrys , their basements and mortgages to do so.

    may be attay main namak kay baraber?

  137. Javed Ikram Sheikh says:

    Why Pakistan Military Complex cannot develop her own Drone Technology, in stead of begging from America?

    Why Pakistan Military don’t destroy the Drones, violating the Soveriegnty of Pakistan?

    If Pakistan Military cannot perform these two actions—-then no logic to cry against America or to bash TV anchors.

    ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

  138. saleem raza says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    Pakistan was created for the Indian Muslims and for ISLAM?
    NO…..
    Pakistan was created for persons like Achha Shookar Wala and Malik Riaz.
    ———–
    YES
    شیخ صاحب ملک بنا تو مسلمانوں کے لیے تھا ، لیکن پھر بھٹو مافیا کے شکنجے میں
    پھس گیا ہے ،ملک کے ٹوٹے بھی کر دہیے – ملک ریاض تو بعد میں پیدا کیے گیے ۔اور یہ بھی تو بھٹو مافیا کے ہی پالے ہوے بھیڑہے ہیں جو ملک اور اس میں بسنے والے لوگوں کو نوچ رہے ہیں ۔ اپ بادام کھایا کریں تاکہ حافظے کی سند رہے

    اور قاعدہ ہے کہ جسیے جسیے حافظہ کم زور ہوتا جاتا ہے -ماضی اور بھی سہانا معلوم ہوتا ہے ۔

  139. حاجی بغلول says:

    Judiciary fighting amongst themselves
    Journalists fighting amongst themselves
    Lawyers acting like goons and fighting amongst themselves

    The nexus of these forces, which presented the biggest threat to zameer farosh pakistani establishment (mullah+feudal+military+bureaucracy) is neutralized.

    Mission Accomplished! … or is it?

  140. cricketmaster100 says:

    supreme court asked behria town for their last 4 yrs tax retrun in arsalan iftakhar case which i think its a clear message to bheria town if u said something in this case then be ready for the consequences aswell.

  141. بلیک شِیپ says:

    مجاہدِ اول و آخر صاحب۔۔۔۔۔۔
    آخر آپ جیسی بابرکت ہستی ہی کوئی ایسی راہ دکھا سکتی ہے جس کو اختیار کرنے سے پاکستان کے عوامی و عسکری نمائندے امیریکہ کا ٹیٹوا دباسکیں اور پھر وہ ڈرون حملے بند کردے۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  142. aliimran says:

    ہمارا نشر و اشاعت کا ہر ادارہ اور ہر ٹی وی اینکر پرسن ان غیر ملکی اخباروں اور خبروں
    کا حوالہ دیتا ہے جب کہ ان کی اتھنسیٹھی خود ان کے لوگوں کے درمیان ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے
    اس نوجوان کو سیلوٹ ہے ———- شائد ہم میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے تو پاکستان کا یہ حال نا
    ہوتا
    http://www.youtube.com/watch?v=yyUShBp-iAg&feature=player_embedded

  143. Javed Ikram Sheikh says:

    ———- شائد ہم میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے تو پاکستان کا یہ حال نا
    ہوتا
    There were so many persons like this young man——-but they were from the
    East Pakistan—-
    and finally they succeeded to get FREEDOM.

    from West Pakistan—-such persons were put behind the bars or were killed.

  144. بلیک شِیپ says:

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس صاحب اخلاقی طور پر اس فیملی گیٹ اسکینڈل میں بری طرح پھنس گئے ہیں لیکن چیف جسٹس صاحب کے خلاف تو کوئی ٹھوس ثبوت فل الحال نظر نہیں آرہا ہے وہ بھی ایک مفروضہ کی بنیاد پر صرف یہ ہے کہ شاید انہوں نے سب کچھ دیکھتے ہوئے پردہ پوشی کی۔۔۔۔۔۔

    لیکن میرے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان چیف جسٹس صاحب کی زیرِ سربراہی میں جو عدلیہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تخلیق ہوا ہے اور جو جوڈیشئل ایکٹوازم شروع ہوگیا ہے یہ ملک کیلئے صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ جس طرح اس عدلیہ نے اپنے آپ کو بذاتِ خود آئین کی محافظ قرار دینا شروع کردیا ہے یہ اصل مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔ جس طرح عدلیہ نے انتظامیہ کا کردار ادا شروع کرنا شروع کردیا ہے یہ اصل مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔ آج جس طرح عدلیہ بہت سیاست زدہ ہوچکی ہے یہ اصل مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔
    آخر عاصمہ جہانگیر ایسے ہی تو نہیں کہتی کہ عدالت میں جڑواں بچیاں بیٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ ایسی عدلیہ بن چکی ہے جس کے ہائی کورٹ جج اپنے آپ کو افتخار چوہدری کا سپاہی کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔

    عدلیہ ایک غیر منتخب ادارہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ عدلیہ اس حد تک چلی گئی ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت سے کی گئی آئینی ترمیم پر کیس سننا شروع کردیا ہے۔۔۔۔۔۔ کیا یہ اختیار عدلیہ کا پاس ہے کہ وہ طے کرے گی کہ پارلیمنٹ کے منتخب نمائندے کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔
    انڈیا میں بھی ایسا ایک فیز آیا تھا۔۔۔۔۔۔ اندرا گاندھی کے زمانے میں وہاں کی عدلیہ بھی جوڈیشئل اکٹیوازم کا شکار ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ لیکن کچھ عرصہ بعد وہاں کی عدلیہ نے ہوش کے ناخن لئے اور اپنی حیثیت میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔ انڈیا میں آج بھی بہت بڑے بڑے کرپشن کے اسکینڈل ہوتے رہتے ہیں لیکن وہاں کے چیف جسٹس ہمارے یہاں کی طرح بڑھکیں نہیں مارتے۔۔۔۔۔۔

  145. Bawa says:

    فوجیوں کے نئے دلال – عدلیہ کو بدنام کرنے میں فوجیوں کے شانہ بشانہ
    .
    .

    [img]http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/10-06-2012/updates/6-10-2012_109646_1.gif[/img]

  146. Bawa says:

    عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش کے مرکزی کردار کون کون ہیں؟

    حکومت فوج کی صفائیاں کیوں دے رہی ہے؟

    عمران خان اصل کرداروں کا نام لیتے کیوں گھبراتا ہے؟


    بات نکلے گی تو پھر…!…لیکن …ثناء بُچہ

    خلاف توقع کھیل کے مرکزی کردار شروع میں ہی سامنے آگئے ۔سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ریٹائرڈ) شوکت سلطان، آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کے سابق انچارچ میجر جنرل (ریٹائرڈ) احتشام ضمیر، ریٹائرڈ ایئرکموڈور الیاس اور ریٹائرڈ ونگ کمانڈر ایاز، ملک کے دفاع کے بعداب ملک صاحب کے دفاع میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ بحریہ کے نام کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ کو کتنا کچھ دیا ہے۔ یہ تنقید نہیں ، حقیقت ہے۔ پاکستان ایک آزاد ملک ہے، اور اس کے آزاد شہری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر دکھائی یہی دے رہا ہے کہ یا تو ریٹائرڈ فوجی افسران پاکستان تحریک انصاف کے سونامی میں غوطے لگا رہے ہیں یا ملک صاحب کے سمندر میں تیر اکی کے جوہر دکھا رہے ہیں

    سوال یہ ہے کہ ملک صاحب اس وقت اس معاملے کو اچھال کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک معمولی حیثیت سے ریئل اسٹیٹ ٹائیکون بننے والا شخص ٹائم اور ٹائمنگ کی اہمیت سے ناواقف نہیں ہو سکتا۔ اس وقت دو ہی باتیں بہت اہم تھیں ۔حکومت کی کرپشن اورلاپتا افراد کے مقدمات۔ اول الذکر کا تعلق صدرآصف زرداری سے ہے جبکہ دوسرے کا تعلق فوج اور خفیہ اداروں سے ہے۔ حسن اتفاق ہے کہ ملک صاحب ان دونوں ہی کے منظور نظر ہیں۔ پتا نہیں کہ اشارہ اسلام آباد سے آیا ہے یا راولپنڈی سے ، کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھا بیٹھے۔ لیکن بڑا قدم آنے والے بڑے سانحے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی لپیٹ میں صرف ایک بیٹا ہی نہیں آئے گا، بات نکلے گی تو پھر بہت دور تلک جائے گی ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے بھائی کا نام بھی زبانوں پر آنے لگے۔ کیونکہ جب ایک مقدس گائے کی قربانی کا ذکر چھڑے گا تو پھر کئی بکرے بھی چھری کے نیچے آئیں گے

    http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/10-06-2012/col12.htm

  147. اگلے چند سالوں کی کچھ مجوزہ ذاتی مصروفیا ت کی وجہ سے فورم والوں سے اب رابطہ نہیں رہے گا . زندگی رہی تو شاید کبھی ……لیکن ممکن نہیں لگتا کھ دوبارہ بات کا موقعہ ملے . خدا حافظ

  148. zalaan says:

    ریپ کیس : کسی مولوی کی طرف سے مزمت نہیں آئی ،منور حسن کے بقول خاموشی اختیار کی جائے اچھالا نہ جائے

  149. pkpolitician says:

    سی ایس ایس …ذراہٹ کے…یاسر پیر زادہ

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=627026

    اکیس برس کی عمر میں جب میں نے سی ایس ایس کا امتحان دینے کے لئے اپنا فارم جمع کروایاتو اس وقت میرے فرشتوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں نہ صرف پہلی کوشش میں یہ امتحان پاس کر لوں گا بلکہ سب سے کم عمر میں سی ایس ایس کرنے کا ریکارڈ ہولڈر بھی بن جاؤں گا۔یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں اور احوال اس کا دلچسپی سے خالی نہیں ۔آپ میں سے جو لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں وہ قریب آ جائیں ،پاکٹ ماروں سے ہشیار ،جھوٹے پر خدا کی لعنت،نابالغ حضرات اسے نہ پڑھیں ،بچے تم پیچھے ہٹ جاؤ…ہاں تو مہربان…! سخت گرمیوں کے دن تھے ،ہم چھت پر سویا کرتے تھے۔میں روزانہ تقریباً ڈیڑھ دو کروڑ تارے گن کر سوتا تھا،ایسی ہی ایک رات جب میں تقریبا ً ایک کرروڑ پینتیس لاکھ تارے گن چکا تو یکایک میرے دل میں خیال آیا کہ اس ملک میں سرکاری بدمعاشی کے مروجہ قانونی طریقے پر عمل کرنے(مراد سی ایس ایس کرنے) کا جو فیصلہ میں نے کر رکھا ہے،اسے اسی سال عملی جامہ پہنانے میں کیا امر مانع ہے ۔فکرو تدبر کے بعد دماغ نے جواب دیا کہ ”کچھ نہیں۔“ سی ایس ایس کا امتحان کلئیر کرنے کے تین مواقع ہوتے ہیں اورمیری پلاننگ کے مطابق ایم اے کرنے کے بعدمیں نے پہلی attemptکرنی تھی اوراس وقت میں بی اے کر چکا تھا ۔چونکہ یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ پہلی attempt صرف ایم اے کے بعد ہی ہو سکتی ہے اور نہ یہ لکھا ہے کہ اگر پہلی دفعہ ناکام ہو گئے تو دوسری دفعہ امتحان دینے والے کو کوڑے مارے جائیں گے چنانچہ میں نے سوچا کیوں نہ اسی سال قسمت آزمائی کی جائے ،زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ نہیں کر پاؤں گا، تو کوئی بات نہیں۔ہر سال سات آٹھ ہزار نوجوان امتحان دیتے ہیں ،ان میں سے چار پانچ سو پاس ہوتے ہیں جبکہ افسری صرف ڈیڑھ پونے دو سو خوش نصیبوں کے حصے میں ہی آتی ہے (ممکن ہے آج کل یہ اعداد و شمار کچھ اور ہوں)۔یہ فیصلہ کرنے کے بعد میں نے مزید تارے گننے بند کئے اور یوں مطمئن ہو کرسو گیاگویا خواب میں سی ایس ایس کی بشارت دی جائے گی ۔تاہم افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا،الٹا کچھ اس قسم کا خواب آیا کہ میں امتحان دینے جا رہا ہوں اورراستے میں میرے ہاتھوں چار بندے قتل ہو جاتے ہیں ۔سگمنٹ فرائیڈ زندہ ہوتا تو اسے تعبیر پوچھتا۔ اگلی صبح میں نے لسی کا پورا جگ پینے کے بعد نیم غنودگی کے عالم میں ان تمام اہم امور کی فہرست بنائی جن کا براہ راست تعلق اس امتحان سے تھا۔اس عمل کے دوران انکشاف ہوا کہ سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری میں ایک اہم مرحلہ ان لوگوں سے ملاقاتوں کا ہوتا ہے جنہوں نے سالہاسال کی محنت شاقہ کے بعد فیل ہو کر کچھ ایسے زریں اصول وضع کئے ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے سے آپ کے پاس ہونے کے چانسز 25%بڑھ جاتے ہیں جبکہ عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ تناسب 50%تک بڑھ جاتاہے۔ان اہل حکمت و دانش سے بالمشافہ مل کر فرسٹ ہینڈ نالج حاصل کرنا سی ایس ایس کی کلید کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ایسے ہی ایک سیانے سے ،جو پچھلے سات سالوں سے سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھنے کی ”دھمکی “ دے رہا تھا،مشورہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ مضامین رکھے جائیں جن میں بغیر محنت کے نمبر زیادہ آ جاتے ہیں مثلا ً پنجابی،جغرافیہ،تاریخ،فاریسٹری وغیرہ۔جب میں نے اسے اشارتاً کہا کہ میں تو ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اورمیرا ارادہ سیاسیات میں ایم اے کرنا ہے اس لئے میں سیاسیات رکھوں گا،ایک انگریزی اخبار میں رپورٹنگ کر چکا ہوں اس لئے جرنلزم بھی چل جائے گا اوربین الاقوامی تعلقات اورconstitutional lawتو ویسے ہی سیاسیات کا حصہ ہیں چنانچہ یہ دونوں مضامین پر زیادہ وقت صرف نہیں ہوگا تو موصوف نے حقارت آمیز قہقہہ لگایا اور یہ تاریخی جملہ کہا ”تسی کر چکے سی ایس ایس!“شائد وہ وقت قبولیت کا تھا۔جس زمان و مکاں میں یہ گفتگو ہو رہی تھی اس وقت امتحان میں صرف تین ماہ باقی تھے اور میں نے ابھی تک کتابیں بھی نہیں خریدیں تھیں چنانچہ میں نے اس مرد عاقل سے گفتگو وہیں ختم کی، موٹر سائیکل کو کک مار ی اور آندھی اور طوفان کی رفتار سے اردو بازار سے کتابیں خرید کر گھر لے آیا ۔ انہیں سائز کے اعتبار سے ترتیب دے کر بک شیلف میں کھڑا کیا اور پھرمختلف زاویوں سے گھور گھور کے دیکھا۔دل کو بڑی فرحت محسوس ہوئی ۔ مجھے یہ بتانے میں بہت فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ان تین مہینوں میں سی ایس ایس کی تیار ی میں نے اس ٹائم ٹیبل پر کاربند رہتے ہوئے کی جسے میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرتا تھا۔چونکہ اپنے کیس کا میں خود ہی جج بھی تھا ،مقننہ بھی اور انتظامیہ بھی لہذا جب بھی ٹائم ٹیبل میں ترمیم کا مرحلہ درپیش ہوتا ،میں بطور چیف ایگزیکٹو اس کا فیصلہ کرتا ،قانون بنا کر اس میں ترمیم کرتا اور پھر بطور جج اپنے اس فیصلے کا رویو بھی کرتا ۔تینوں مراحل لگ بھگ تین منٹ میں طے ہو جاتے ۔آپ کی آسانی کے لئے میں ٹائم ٹیبل کا ایک اجمالی سا خاکہ یہاں بیان کر دیتا ہوں: صبح سات بجے اٹھنا ہے ،ورزش کرنی ہے،ناشتہ کرنا ہے اور ساتھ میں انگریزی اخبار کا ایڈیٹوریل پڑھنا ہے جس سے وقت کی بچت ہوگی اور English Essay،کرنٹ افئیرز اور پاکستان افئیرز کی آٹو میٹک تیاری بھی ہو جائے گی ۔آٹھ بجے سے ایک بجے تک نان سٹاپ پڑھنا ہے ،ایک سے دو بجے تک کھانے اور آرام کا وقفہ۔دو سے پانچ بجے تک پھر ٹکا کے پڑھنا ہے ،پانچ بجے چائے پینی ہے اور ٹی وی پر کوئی معلوماتی پروگرام دیکھنا ہے۔چھ سے رات دس بجے تک دوبار ہ پڑھائی میں جت جانا ہے ،پھر رات کے کھانے کے بعد دن بھر کے مطالعے کو سرسری طور سے دہراتے ہوئے چار قل پڑھ کر اپنے اوپر پھونک مارنی ہے اور سو جانا ہے ۔ دوستو،میں نے خدا کو جان دینی ہے ،میرا رب جانتا ہے کہ اس ٹائم ٹیبل کا وہی حال ہوا جو ریلوے کے ٹائم ٹیبل کا ہوتا ہے ۔یہ ٹائم ٹیبل دراصل ایک live documentتھا جس میں ہر پل تبدیلی کی گنجائش رہتی تھی ۔مثلاً صبح سات بجے میں صرف اس روز اٹھا جس روز میرا سی ایس ایس کا پہلا پرچہ تھا، اس سے پہلے کسی دن میں نے یہ بد پرہیزی نہیں کی۔انگریزی اخبار کا ایڈیٹوریل البتہ کسی قدر باقاعدگی سے پڑھا اور شائد میری یہی ادا ممتحن حضرات کو بھا گئی ۔باقی رہی نان سٹاپ پڑھنے کی بات تو اس کا حال بھی وہی ہوا کو ہمارے ہاں نان سٹاپ ریل گاڑیوں کا ہوا کرتا ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ سارا دن گذارنے کے بعد رات کو ٹائم ٹیبل میں یوں ترمیم کی جاتی کہ آج کے دن جو گھنٹے ضائع ہوئے ہیں ان کی کمی اگلے روز فارغ اوقات میں پڑھائی کرکے پوری کی جائے گی ۔اگلے روز کے ٹائم ٹیبل میں چونکہ کوئی گھنٹہ فارغ نہ ہوتا اور مزید نئے گھنٹے ضائع شدہ گھنٹوں میں شامل ہو کرbacklogمیں اضافہ کر دیتے اس لئے یہ سارے گھنٹے ملا کر اگلے روز کے لئے carry forwardکر لئے جاتے اوریوں ایک ہفتے بعد یہ carry forwardگھنٹے اتنے زیادہ بن جاتے کہ مجھے دو تہائی اکثریت سے انہیں ٹائم ٹیبل سے ہمیشہ کے لئے منہا کردینا پڑتا۔ تین مہینے پلک جھپکتے گذر گئے ۔امتحان بھی ہو گیا اور نتیجہ بھی آ گیا۔میں پاس ہوگیا۔اس واقعے کو کئی سال گزر گئے ہیں ،آج بھی سوچتا ہوں تویقین نہیں آتالیکن پھر جب خدا کی کرم نوازیوں کا شمار کرنے بیٹھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ بھی خدا کا خاص کرم ہی تھا ورنہ ہم کہاں کے دانا تھا،کس ہنر میں یکتا تھے!

  150. pkpolitician says:

    @smsupportmovement

    ایس ایم سپورٹ موومنٹ صاحب آپ کی کمی محسوس ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعاگو ہوں کہ جہاں رہیں خوش رہیں۔

  151. حاجی بغلول says:

    آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ‘جاؤں؟’
    مانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
    جاتے ہوئے کہتے ہو ‘قیامت کو ملیں گے’
    کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

  152. ukpaki1 says:

    السلام علیکم
    ایس ایم سپورٹ صاحب۔۔ کوشش کیجیے گا کہ اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کے فورم پہ آجایا کریں اگر ہوسکے تو۔

    اللہ نگہبان۔

  153. saleem raza says:

    Javed Ikram Sheikh said:
    سلیم رضا صاحب،
    تم پکارو بھٹو بھٹو میں پکاروں گا ضیاء
    ———

    شیخ صاحب میرے خیال میں بھٹو اور ضیا دونوکو ایک رِسے سےپھانسی دینی چاہیے تھی ،

  154. saleem raza says:

    smsupportmovement said:
    اگلے چند سالوں کی کچھ مجوزہ ذاتی مصروفیا ت کی وجہ سے فورم والوں سے اب رابطہ نہیں رہے گا . زندگی رہی تو شاید کبھی ……لیکن ممکن نہیں لگتا کھ دوبارہ بات کا موقعہ ملے . خدا حافظ
    ——————
    کیوں جانے کی باتیں کرتے ہیں ،دل دکھانے کی باتیں ،

  155. ukpaki1 says:

    السلام علیکم

    بلیک شیپ جی یہ جو آپ جوڈیشل ایکٹیوزم کا راگ الاپ رہے ھیں، میرے خیال میں تو یہ بے معنی ہے۔ اگر آپ مسلسل چیف جسٹس کے ازخود نوٹس لینے کے حوالے سے یہ بات کررہے ھیں تو یہ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

    بات صرف اتنی ہے کہ اگر یہ حکومت پہلے دن سے عدلیہ سے محاذ آرائی کی فضا نہ بناتی تو شاید یہ حالات نہ ہوتے۔ ہوسکتا ہے کچھ چیزیں جو پارلیمان کے دائرہ کار میں ہوں عدلیہ نے اس پہ ایکن لیے ہوں۔ مگر اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہی ہے۔ اس حکومت نے ہمیشہ عدلیہ کو نیچا دکھانے کا تاثر دیا ہے۔ عدلیہ جو تفتیشی افسر تعینات کرتی یہ حکومت اس کو کھڈے لائن لگانے کی پوری کوشش کرتی، آپ کو این آئی سی ایل اور ابھی ایفی ڈرین والے کیس یاد ہی ہوں گے۔ کس طرح بدعنوان حکومت نے عدلیہ کے آگے رکاوٹیں ڈالیں۔ اس کے علاوہ عدلیہ کے خلاف ٹاک شوز میں اور جلسوں میں جس طرح حکومت نے تقرریں کی ہیں اس ایکٹوزم کو آپ کیا کہیں گے۔ جس طرح اس حکومت نے عدلیہ کے ساتھ رویہ رکھا ہے اور بدعنوان اور مجرموں جن کی نشاندہی عدلیہ نے کی ان کو دوبارہ اعلیٰ عہدوں پہ لگانا، یہ سب کیا تھا، بہت سارے نام لیے جاسکتے ھیں اس سلسلے میں۔

    بات صرف اتنی ہے کہ زرداری ٹولہ پہلے دن سے ہی یہ چاہتا نہیں تھا کہ افتخار چوہدری بحال ہوں۔ اور جب ہوگئے تو پھر عدلیہ کے اپنے بدعنوان وررا کے خلاف فیصلوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیا۔ لیکن یہ عدلیہ بہت احتیاط سے چلی ہے اس نے حکومت کے معاملے میں بہت لچک دکھائی ہے اور ابھی بھی سزایافتہ وزیراعظم کا کیس اسپیکر کے حوالے کردیا تھا۔

  156. Guilty says:

    zalaan said:
    ریپ کیس : کسی مولوی کی طرف سے مزمت نہیں آئی ،منور حسن کے بقول خاموشی اختیار کی جائے اچھالا نہ جائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولوی آ پ کی خواھش بھی پوری کردیں گے پہلے کوئی اچھا سا ریپ تو ھونے دیں۔

  157. Guilty says:

    د رخواست برائے ارسلان افتخار

    جناب چیف جسٹس صاحب جس طرح آپ نے گیلانی کو چند سیکنڈ کی انتہائی کڑی سزا دے کر

    ملک و ملت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا

    اس پر سارے مجروموں نے اپنے کیس چوھدری صاحب کی عدالت میں لگوانے کے خواب دیکھنے شروع کردیئے ھیں۔

    سپر جسٹس صاحب آپ سے درخواست ھے کہ ارسلان کو بھی اسی طرز پر

    کوئی پندہ سیکنڈ کی سزا دے کر ارسلان اور پیسوں دونوں کو بچالیں۔

    تاکہ نہ سزا کا پتہ چلے اور نہ چالیس کرروڑ کا پتہ چلے۔۔

    اور نہ انصاف کا ۔

  158. Bawa says:

    Guilty said:
    د رخواست برائے ارسلان افتخار

    جناب چیف جسٹس صاحب جس طرح آپ نے گیلانی کو چند سیکنڈ کی انتہائی کڑی سزا دے کر

    ملک و ملت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا

    اس پر سارے مجروموں نے اپنے کیس چوھدری صاحب کی عدالت میں لگوانے کے خواب دیکھنے شروع کردیئے ھیں۔

    سپر جسٹس صاحب آپ سے درخواست ھے کہ ارسلان کو بھی اسی طرز پر

    کوئی پندہ سیکنڈ کی سزا دے کر ارسلان اور پیسوں دونوں کو بچالیں۔

    تاکہ نہ سزا کا پتہ چلے اور نہ چالیس کرروڑ کا پتہ چلے۔۔

    اور نہ انصاف کا ۔

    سب دوستوں کو سلام

    گلٹی بھائی

    اسی لیے گیلانی تیس سیکینڈ کی سزا کا مزہ لینے کے بعد چیف جسٹس کا منت ترلہ کر رہا ہے کہ خدا کے لیے میرے بیٹے کا کیس بھی آپ سن لیں تاکہ سارا لوٹا ہوا مال گھر میں ہی رہ سکے اور اس پیسے کو قانونی حیثیت بھی مل جائے

  159. بلیک شِیپ says:

    مجاہدِ اول و آخر صاحب۔۔۔۔۔۔
    اگر آپ اپنے سَر پر انتہائی مضبوطی سے کسَے گئے آہنی ہیلمٹ کو تھوڑی دیر کیلئے اتار کر میرے ایک سوال کا جواب دے سکیں۔۔۔۔۔۔
    کیا یہ سارا معاملہ جو ابھی پاکستان میں ہوا کہ جس طرح چند صحافیوں نے بغیر کسی ثبوت کے ایک خبر بریک کی۔۔۔۔۔۔ پھر اس بغیر کسی ثبوت کی خبر پر چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لیا اور بغیر کوئی ایف آئی آر کے بغیر کوئی ثبوت کہ کوئی جرم کے وقوع پذیر ہوا ہے، کیا ایسا واقعہ آپ کے موجودہ یا سابقہ رہائشی ملک برطانیہ میں ہوسکتا تھا جس کی عدالتی اور صحافتی اقدار کی بڑی دھوم ہے۔۔۔۔۔۔
    😉 :-) 😉

  160. EasyGo says:

    ایس ایم سپورٹ صاحب
    کبھی کوئی اونچ نیچ ہو گیی تو ادھرفورم پر ہی دفن کر جائیگا
    جہاں رہیں، خوش رہیں

  161. Bawa says:

    حکومت اپنی کرپشن پر چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے اقدامات سے تنگ ہے جبکہ اسٹبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ اڈیالہ جیل، لال مسجد اور بلوچستان کے معاملے کچھ لوگوں نے چیف جسٹس کو ٹریپ کیا اور اسے فوج کے خلاف استعمال کیا جس کے جواب میں فوج نے حکومت اور ملک ریاض کے ساتھ ملکر یہ کھیل کھیلا. ہر کسی کو اسمیں فوج کا ہاتھ صاف دکھائی دے رہا ہے اور یہ سکینڈل فوج کے خاص دلالوں شاہیں صہبائی، انصار عباسی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کے ذریعے منظر عام پر آیا ہے

    ایک طویل خاموشی کے بعد عمران خان کا اس سکینڈل کے بارے میں زبان کھولنا اور پھر اس سکینڈل میں فوج کے کردار کو چھپانا عمران خان اور فوج کے تعلق کو روز روشن کی طرح عیاں کر رہا ہے. عمران خان اپنے حالیہ انٹرویو میں سارا ملبہ حکومت پر گرا دیا اور اسٹبلشمنٹ کا ذکر دانستہ طور پر بالکل گول کر گئے حالانکہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس سکینڈل کے پیچھے اصل ہاتھ اسٹبلشمنٹ کا ہے جو بلوچستان کے مسلے پر چیف جسٹس سے تنگ تھی. فوجیوں کے کرتوت سامنے آنے پر عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی اور ہارون الرشید کی بولتی بند ہے

    بظاہر چانسز یہی ہیں کہ یہ سکینڈل آگے نہیں بڑھ سکے گا کیونکہ اس سے حکومت اور فوج کے علاوہ سول سوسایٹی، سیاستدانوں، صحافیوں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے مکروو چہرے سامنے آنے کا خدشہ ہے. حکومت اور اسٹبلشمنٹ نے جو مقصد حاصل کرنا تھا وہ کر لیا ہے. انہوں نے کامیابی سے اپنے مقصد کے لیے اپنے دلال صحافیوں کو استعمال کیا اور انہیں گندہ کرکے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا. کل کرسٹینا لیمب کسی سٹوری اور ڈیل کی تردید کر چکی ہے اور کسی بھی وقت ملک ریاض کی تردید بھی آ سکتی ہے

    رات گئی بات گئی – لیکن یہ رات فوج اور حکومت کا مکروو چہرہ دکھانے اور عدلیہ کا چہرہ داغدار کرنے کے علاوہ میڈیا کی آزادی کے علمبردار صحافیوں اور فوج کے ایجنٹ سیاستدانوں کو بھی ننگا کر گئی

  162. pkpolitician says:

    @Bawa

    باوا جی اس اسکینڈل کو سامنے لانے میں اپنے ڈاکٹر صاحب کا تو کوئی کردار نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب تو آج کل ایکسپریس بھی چھوڑ بیٹھے ہیں، بیچارے مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں فون لائن پر اپنے تبصرے کرتے رہتے ہیں۔

  163. Javed Ikram Sheikh says:

    Dear Salim Raza,
    شیخ صاحب میرے خیال میں بھٹو اور ضیا دونوکو ایک رِسے سےپھانسی دینی چاہیے تھی

    Every Pakistani is sick of each and every political leader, military dictator, rulers, since 1947.
    Better they should analyze their DNA what has made them lethargic——and always expect miracles from the Government and very rarely follow the Traffic Rules……….
    They respect Mr. Jinnah just out of fear or courtesy or diplomacy.

  164. lota6177 says:

    smsupportmovement said:
    اگلے چند سالوں کی کچھ مجوزہ ذاتی مصروفیا ت کی وجہ سے فورم والوں سے اب رابطہ نہیں رہے گا . زندگی رہی تو شاید کبھی ……لیکن ممکن نہیں لگتا کھ دوبارہ بات کا موقعہ ملے . خدا حافظ
    —————————————————————————————————————-
    پیر و مرشد سمس صاحب
    انٹرنیٹ تو جیل میں بھی دستیاب ہے. رابطہ رکھئ
    Lota6177@yahoo.com
    اپنا ایمیل بھی چھاپ دیجیے

  165. Guilty says:

    کراچی میں بوری بند لاشیں ملا کرتی تھی
    کراچی میں قتل و خون مزاق سا بن کر رہ گیا تھا۔
    لیکن کراچی کےعوام الطاف حیسن کے خلاف بات تک سننے کے روادار نہ تھے
    کراچی کے عوام نے الطاف کالیئے کو پیر پکارنا شروع کردیا
    بلکہ الطاف کالیئے کو پیر و مرشد سے بھی کوئی بڑی چیز مان لیا گیا
    شخصیت پرستی کا یہ گٹھیا مرض پورے کراچی کو مکمل بربادی کےگڑھے میں لے گیا۔
    یہ سب کچھ ھمارے سامنے ھوا۔
    اب ایک ایسی شخصیت پرستی کا دورہ پورے پاکستان کو پڑ گیا ھے۔
    پورا پاکستان اور بالخوص میڈیا اینکرز و مبصریں پاکستان کے چیف جسٹس کو نہ صرف مقد س بلکہ
    الطاف کی طرح پیر و مرشد کے رتبہ پر بٹھانے پر مصر ھیں۔
    حا لانکہ اندھے کو بھی پتہ ھے پاکستان کے جرنل اور جج پاکستان کی بربادی کے خاص مہرے رھے ھیں۔
    اور سپر جسٹس تو کھلے عام جرنل کیانی کے فون سے بحال ھوئے

    سوال یہ پیدا ھوتا ھے ملک ریاض کتنا ھی برا کیوں نہ، حکومت اور زرداری کتنے ھی برے کیوں نہ ھوں
    لیکن پاکستان میں کوئی انسان ارسلان اور جسٹس افتخارخاندان کے رنگے ھاتھوں
    کروڑوں کی رشوت کو مزمت کرنے کو تیار کیوں نہیں ھے۔
    یہ لوگ اپنے محبوب چیف جسٹس کی محبت میں ایک کھلے چالیس کروڑ کی بڑی رشوت کے جرم
    کو چھپا کر ایک مجرم خاندان کو معزز ثابت کیوں کرنا چاھتے ھیں۔
    یہ لوگ ملک کے ساتھ ھیں ملک کے بد نام زمانہ ججوں اور جرنیلوں کی پرستش کے ساتھ ھیں۔

    کیا پورا میڈیا اور پورا پاکستان جسٹس افتخار کو بھی الطاف کالیئے کی طرح مقدس پیر ومرشد بنا کر ھی رکھنا چاھتے ھیں۔
    ھم روتے تھے کہ شاید کراچی والے پاگل ھوگئے ھیں جو ایک قاتل کمینے کو پیر ومرشد بنا کر بربادی شہر کو برباد کربیٹھے۔
    لیکن یہ منظر تو اور بھی خظر ناک ھے کہ پورا میڈیا دانشوری کررھا ھے کہ بے شک چیف جسٹس کا بیٹا یا چیف کا خاندان
    رنگے ھاتھوں پکڑا گیا لیکن پھر بھی وہ مقدس اور فیورٹ اور انصاف سے بالا رھیں

    بلکہ ٹی وی پروگراموں میں کہا جارھا ھے کہ اس وقت ھمیں ارسلان اور چیف جسٹس کے ساتھ کھڑا ھونا چاھیے۔
    بڑے بڑے دانشور یہ کہتے سنے گئے کہ چیف صاحب نے بیٹے کو گھر سے نکا ل دیا
    چیف نے انصاف کردیا اب اصل سزا رشوت لینے والے کو نہیں بلکہ رشوت دینے والے ملک ریاض کو ملنی چاھیے۔

    ابھی تک کسی اینکر نے ارسلان کو جرم کو ھد ف تنقید نہیں کیا
    اگر پورا پاکستان ایک کھلے جرم سے پردہ پوشی کررھا ھے اور ارسلان کو مجرم ھی نہیں کہنا چاھتا یہ وھی
    ھو بہو وھی منظر ھے اور جہالت کا جنون جو الطاف کالیئے کے وقت عروج میں دیکھے جاچکے ھیں۔
    اگر یہ سارے لوگ چیف جسٹس کو پورے پاکستان کا الطاف حیسن بنا ھی چکے ھیں تو پھر آئیے دیکھتے ھیں ھم
    گیلری میں بیٹھ کر کہ جعلی پیر کی یہ نئی فلم پاکستان کو کتنے میں پڑے گی۔
    کیونکہ کراچی کے جعلی پیر کی فلم تو ھر گھر کو ایک ایک لاش میں پڑی

  166. Bawa says:


    ملک ریاض کو ملک سے فرار کروانے میں فوجیوں کی دلال حکومت کا کردار

    .
    .

    Arsalan Iftikhar case: How Malik Riaz escaped from Pakistan
    By Shahid Abbasi – Jun 10th, 2012
    [img]http://www.thenewstribe.com/wp-content/uploads/2012/06/Malik-Riaz22.jpg[/img]

    Karachi: The ‘familygate’, which is also becoming ‘anchorgate’, is one of the most important cases in the judicial history of Pakistan.

    On June 6, Chief Justice Pakistan Iftikhar Muhammad Chaudhry took a suo motu notice against his son Arsalan Iftikhar and Chairman Bahria Town’s Malik Riaz, after reports littered news channels that Arsalan was given around Rs.400 million.

    There are reports that at the time when the Supreme Court had summoned Malik Riaz with proofs the business icon was planning to escape from the country.

    On June 6 when Arsalan Iftikhar appeared in the court, Riaz was missing. On being asked, his staff officer told the Supreme Court that he was not being contacted. Riaz was actually leaving Pakistan at that very moment. The ruling PPP and bureaucracy, according to the reports, are behind his escape to Dubai.

    Malik Riaz is also wanted by NAB in a corruption case of Rs65 billion.

    According to Civil Aviation Authority’s (CAA) record, at 1pm on that day, a plane landed at Jinnah International Airport, Karachi, which had taken off from Lahore. A CAA official told The News Tribe (TNT) that the plane was owned by Riaz, with call sign ‘Bahria Town 001’. The Beechcraft B-114 landed on the airport’s Bay Number 64.

    The News Tribe’s Karachi correspondent reported that before the plane’s landing, a Bilawal House official, along with two other men, was present at the airport’s apron area. Being a protocol officer, he was not a new face for intelligence agencies.

    No one came out of the plane when it landed, and when Federal Investigation Agency (FIA) Immigration Sub-Inspector reached the scene, he was told that the two persons would fly abroad without either an exit stamp or filling immigration card.

    At first, the Sub-Inspector showed reluctance but finally toed the line. After the process was completed, the plane took off for Dubai at 1.50pm.

    One of the two persons who were sent abroad in such an ambiguous manner was Malik Riaz, said an FIA official, who declined to be named.

    The TNT correspondent added that on June 8, just after five minutes President Zardari’s plane landed in Karachi, the ‘secret’ plane also touched the airport’s runway, though there was nobody inside.

    Now the Supreme Court is told that Riaz was abroad for ‘health’ reasons.

    One of the top-notch property tycoons, Malik Riaz is said to have links with intelligence agencies and some media personalities.

    http://www.thenewstribe.com/2012/06/10/arsalan-iftikhar-case-malik-riaz-escaped-from-pakistan/#.T9WJrLBbe1l

  167. Bawa says:

    pkpolitician said:
    @Bawa

    باوا جی اس اسکینڈل کو سامنے لانے میں اپنے ڈاکٹر صاحب کا تو کوئی کردار نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب تو آج کل ایکسپریس بھی چھوڑ بیٹھے ہیں، بیچارے مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں فون لائن پر اپنے تبصرے کرتے رہتے ہیں۔

    .
    .

    پاکستانی سیاستدان بھائی جی

    فوجی اپنے سب دلالوں کو ایک ہی کام نہیں سونپتے ہیں. مختلف دلالوں کو مختلف کام سونپے جاتے ہیں. مثلا

    شاہین صہبائی کو یو ٹیوب پر کہانی سنانے کا فریضہ سونپا گیا تھا. انصار عباسی کو اس سکینڈل کے متعلق حقایق یا تفصیلات فراہم کرنے اور کامران خان کو اسکی تصدیق کرنے پر مامور کیا گیا تھا. پجاریووں کی حکومت کو کسی ایمرجنسی میں ریاض ملک کو پاکستان سے فرار کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور نجم سیٹھی کو مقصد حاصل کر لینے کے بعد “مٹی پاو” پرروگرام کے لیے تیار کیا گیا تھا

    ڈاکٹر شاہد مسعود کا کردار بڑا دلچسپ ہے. اسے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک نئی کہانی سنانے، چیف جسٹس سے متنفر کرنے، چیف جسٹس کو پاکستان مخالفوں کے ہاتھوں میں کھیلنے اور فوجیوں کے نقطۂ نظر کو عوام کو سمجھانے کا کام سونپا گیا ہے. وہ فرماتے ہیں کہ

    چیف جسٹس پاکستان دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل گئے اور انہوں نے انکے اکسانے پر بلوچستان کے مسئلے پر سخت موقف اپنایا اور پاکستان کے مفادات کی ٹھیکیدار فوج سے ٹکر لی. یہ پاکستان دشمنوں کا منصوبہ تھا کہ چیف جسٹس کو فوج سے لڑا دیا جائے تاکہ چیف جسٹس اور فوج میں دوری پیدا ہو جائے اور فوج چیف جسٹس کو اپنا دشمن سمجھنے لگے. گویا جو کچھ پہلے ہوا اور جو کچھ اب ہو رہا ہے یہ اسٹبلشمنٹ کی نہیں بلکہ ان پاکستان دشمن لوگوں کی سازش ہے جنہوں نے چیف جسٹس کو بلوچستان کے مسئلے پر ایکشن لینے پر مجبور کیا

    تھوڑی تفصیل اس ویڈیو میں – اسے غور سے سنیے گا

    http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=MzfoMKo5_G8

  168. Bawa says:

    گیلانی نے کہا ہے کہ

    چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے

    آہستہ آہستہ خواہشیں زبان پر آ رہی ہیں

  169. Bawa says:

    پرویز مشرف کی طرح پجاری حکمرانوں کے دل میں بھی چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی خواہش مچل رہی ہے

    انہیں بھی پرویز مشرف کی طرح پہلے سے کالا منہ مزید منہ کالا کروانے کا شوق ہے

    :) :)

  170. Bawa says:

    کیا کوئی پجاری نجم سیٹھی کے اس جملے کا مطلب سمجھا سکتا ہے خصوصا اسمیں دفاعی اداروں کے بے داغ کردار سے کیا مطلب ہے؟

    دفاعی اداروں کے بے داغ کردار کے مقابلے میں سول حکومت اور اپوزیشن تو پہلے ہی ناپسندیدہ تھے مگر اب موجودہ اسکینڈل کی وجہ سے عدلیہ بھی ”کلین“ نہیں رہی

    ریفرنس: سپریم کورٹ طوفان کی زد میں…نجم سیٹھی

    http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/11-06-2012/col5.htm

  171. Javed Ikram Sheikh says:

    Unfortunately, all of the Institutions of Pakistan including,
    Executive, Legislature, Judiciary, Military, Media, Mulla and Mafias of Corruption….
    Finally have realized,
    That Pakistan has gone ———- Ungovernable.

    Now, I guess—- the whole effort has been focused——-upon——how to find an ESCAPE to wind up the GAME—–in order to save the Population from more collateral damage in the near future.
    Some Institutions are looking for External Help to rescue.
    A National Government——consisting of all of the 80 Political Parties+ Military—-could be the last alternative.

  172. Guilty says:

    کلین آ زاد عدلیہ

    جرنل کیانی کے فون سے بحال ھوگئے۔

    نواز لیگ کی بی ٹیم کلین عدلیہ حکومت کی بہترین اپوزیشن ثابت ھوگئی۔

    چیف جسٹس سپریم تصادم کورٹ کی حکومت تصادم پالیسی زاتیات تک چلی گئی۔

    کلین عدلیہ نے ملک ریاض کو ذاتی رنجش کا کیس کی بنا پر ملک ریاض کے خلاف انصاف کا فیصلہ کرلیا

  173. Bawa says:

    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

    ریاض ملک کی واپسی – زرداری کے کراچی قیام میں توسیع

    [img]http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/11-06-2012/updates/6-11-2012_109773_1.gif[/img]

  174. Bawa says:

    لکھ دی لعنت – چاچے کپی المعروف بریگیڈیر ہارون الرشید پر

    دو ہفتوں بعد کالم لکھا بھی تو عدلیہ کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کی صفائی پیش کرنے کے لیے

    انقلابیوں کو چاچے کپی کے اس کالم پر شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے

    کیا کہنے ،کیا کہنے!…ناتمام…ہارون الرشید

    http://jang.com.pk/jang/jun2012-daily/12-06-2012/col4.htm

  175. pkpolitician says:

    http://www.topstoryonline.com/klasra-column-120610

    کامیاب جج ناکام باپ، آخر کیوں؟ رؤف کلاسرا

    جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میرے دلائل چیف جسٹس کے حق میں دنیا ٹی وی کے نوجوان اینکر اجمل جامی کے پروگرام میں سنے، تو وہ مجھے ہفتہ 9جون کو اپنی سالگرہ والے دن فون کیے بغیر نہ رہ سکے کہ جناب میرے دو بیٹے بھی تو عدالتوں میں پیش ہور ہے ہیں اور وہ خود بھی چار سال سے عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں اور سزا بھی بھگت رہے ہیں۔ اس وقت تو کوئی یہ جواز نہیں دیتا اور نہ ہی ان کے بیٹوں کی بات سنی جاتی ہے۔

    گیلانی صاحب ٹاپ سٹوری آن لائن پر موسی گیلانی کی مبینہ کرپشن پر لکھا گیا میرا تبصرہ بھی پڑھ چکے تھے لہذا ان کی آواز میں ایک طنز بھی تھا کہ اب چیف جسٹس کے بیٹے کا سکینڈل سامنے آیا تھا تو میں جواز ڈھونڈنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ بلاشبہ گیلانی صاحب خوش تھے اور میں انہیں کہے بغیر نہ رہ سکا کہ عوام کا اعتماد مجروح ہونے کے باوجود مجھے اب بھی چیف جسٹس اچھے لگتے ہیں۔ میں ابھی بھی ان کے کچھ فیصلوں کا ناقد ہوں لیکن میں پھر بھی چاہتا ہوں کہ وہ چیف جسٹس رہیں۔ سوال یہ ہے کہ میں کیوں چاہتا ہوں کہ وہ چیف جسٹس رہیں۔ حالانکہ مجھے علم ہے کہ انہوں نے سابق وزیر حامد سعید کاظمی کے کیس میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا اور محض سنی سنائی باتوں پر ایک سال سے زیادہ ہونے کو ہے، انہیں جیل میں رکھا ہوا ہے ۔ وہ کئی دفعہ دوسروں کو کہہ چکے ہیں کہ وہ اخلاقی بنیادوں پر استعفی دے دیں۔ میں نے چیرمین نیب اور ان کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی جیسے وکیل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کے کے آغا کو گڑگڑاتے دیکھا ہے کہ مائی لارڈ ہماری بات تو سن لیں چاہے فیصلہ کچھ بھی کر لیں اور انہوں نے انہین سنے بغیر فیصلہ تک دیا ہے۔

    میری چیف جسٹس کو پسند کرنے کی وجہ ان کا مظلوم لوگوں کے لیے اپنی آواز بلند کرنا ہے اور اگر یہ آواز دب گئی تو پھر ایسے مظلوموں کے لیے کوئی نہیں بولے گا۔ ۔کہا جا سکتا ہے کہ وہ میری خبروں پر ایکشن لیتے رہے ہیں لہذا آج میرے دل میں ان کے لیے ہمدردی موجود ہے۔ شاید ایسا ہی ہو۔

    جب فیصل آباد کی سونیا ناز کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی پاداش میں اڈیالہ جیل بھیجا گیا اور اسے ان پولیس افسروں نے اسے اغوا کر کے ریپ کیا جن کے خلاف انصاف لینے وہ پارلیمنٹ آئی تھی تو آسے اگے بڑھ کر انصاف دینے والے یہ جج تھے۔ میں نے سونیا ناز کا سکینڈل خود فائل کیا ہوا ہے اور مجھے علم ہے کہ اگر چیف جسٹس نہ ہوتے تو اسے کب کا اپنے بچوں سمیت قتل کیا جا چکا ہوتا۔ جب بلوچستان کی پانچ عورتوں کو اس الزام پر صحرا میں زندہ گاڑ دیا گیا کہ وہ ایک ہوٹل سے نکلتی ہوئی دیکھی گئی تھیں جہاں وہ واش روم استعمال کرنے گئی تھیں، تو بھی یہ چیف جسٹس تھے جنہوں نے صحرامیں دفن ہونے والیوں کی چیخیں سنی تھیں وگرنہ سینیٹر رضا ربانی کو میں نے خود سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں ہیومین رائٹس کی ارکان ثمر من اللہ اور طاہرہ عبداللہ پر چیختے ہوئے سنا تھا کہ آپ لوگوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس وقت یاد آتی ہیں جب پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے۔ رضا ربانی کو پانچ عورتوں کے زندہ دفن ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ ان کی پارٹی کے ایک لیڈر کا نام انہیں زندہ درگور کرنے میں آرہا تھا۔

    سندھ کے وزیراعلی قائم علی شاہ اور ان کی بیٹی نفیسہ شاہ کے حلقے میں کتوں کے اگے ڈال کر قتل کی جانے والی سترہ سال تسلیم سولنگی کی چیخیں بھی اس چیف جسٹس نے سنی تھیں۔ کوہستان کی پانچ لڑکیاں آج زندہ بچ گئی ہیں تو بھی چیف جسٹس کو کریڈٹ دینا ہوگا جنہوں نے عدالت میں کہا کہ اگر فوج کا دستہ بھی ان لڑکیوں کا پتہ چلانے کے لیے بھیجنا پڑے تو بھیجا جائے۔ اس طرح کی مثالیں بہت ہیں جنہوں نے چیف جسٹس کو پاکستانی عوام میں مقبول کیا ہے۔ ایک دفعہ میں نے وزیراعظم گیلانی سے کہا تھا کہ وہ بھی چیف جسٹس کی طرح لوگوں کے دلوں میں بس سکتے ہیں اگر وہ بھی وزیراعظم ہاوس میں ایک ہومین رائٹس کا سیل بنائیں اور مظلوم لوگوں کو زیرو ٹالیرنس استعمال کرتے ہوئے انصاف دیں۔ بیوروکریسی اور پولیس کو ان کے مورال کے نام پر بچانے کی کوشش مت کریں اور پھر دیکھیں کہ لوگ کیسے آپ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور پوچھا اور بتائیں کیا ہورہا ہے ؟

    میں چیف جسٹس کا ناقد بھی رہا ہوں کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ ایک سیاسی ایجنڈا لے کر چل رہے تھے جس کا انجام شاید اس ملک کے لیے اچھا نہ ہوگا۔ یہ ملک انقلاب کی بجائے اصلاحات سے درست ہوگا اور جمہوریت ایک صبر آزما مراحل طے کرنے کے بعد ہاتھ لگتی ہے۔

    اس طرح ایک ریٹائرڈ جج نے مجھے کہا تھا کہ جج کو پتہ ہوتا ہے کہ اس نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا جس پر عمل نہ ہو۔ اس فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جس پر عمل نہ ہو۔ اس بات میں صداقت اس وقت نظر آئی جب ایک دن وزیراعلی بلوچستان نے ان کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو کرنا ہے کر لو اور چیف جسٹس کچھ نہ کر سکے۔ کیا یہ وقت چیف جسٹس کو طعنے دینے کا ہے؟

    بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ شاید مجھے بھی اس گروہ میں شامل ہونا چاہیے تھا جو اس وقت چیف جسٹس پر تنقید کر رہے ہیں۔ میں اس گروہ کا ساتھ نہیں دے پا رہا کیونکہ ابھی تک میں نے ارسلان کے خلاف کوئی دستاویز ی ثبوت نہیں دیکھے۔ دوسرے میں مانتا ہوں کہ وہ ایک ناکام باپ ثابت ہوئے ہیں جو اپنے بیٹے کے ہاتھوں ایسا زخم کھا بیٹھا ہے جیسا سیزر نے بروٹس کے ہاتھوں کھایا تھا۔ چیف جسٹس کو علم ہونا چاہیے تھا کہ وہ وہ کن لوگوں سے لڑ رہے ہیں اور انہوں نے کتنے خوفناک محاذ کھول رکھے ہیں اور انہیں کتنی احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنی اولاد کی طرف سے سستی نہیں کرنی چاہیے تھے۔ انہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ ایک طرف اگر ملک کا صدر ان کے فیصلے سے ہرٹ ہو رہا ہے تو وزیراعظم ان کی عدالت سے سزا بھگت چکا ہے۔ اصغر خان آئی ایس آئی کیس میں پاکستان آرمی کا سابق سربراہ جنرل بیگ پیش ہوکر ان کی لعن طعن سن رہا ہے تو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل درانی سارا دن ان کی عدالت میں گزراتا ہے۔ اس لیے سرونگ آرمی چیف جنرل کیانی کو یہ دھمکی دینے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ اصغر خان کیس کھول کر تاریخ سے لڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح وہ غائب ہونے والے بلوچوں کو انصاف دلوانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر کوئی بھی طاقت ور طبقہ خوش نہیں تھا۔

    تو کیا ایک باپ کو یہ مشکل جنگ لڑنے سے پہلے ایک میٹنگ اپنے بیٹے ارسلان سے اس طرح نہیں کرنی چاہیے تھی جو انہوں نے اب جا کر سکینڈل کھلنے کے بعد کی ہے۔ چیف جسٹس نے ارسلان سے یہ ملاقات کرنے میں تین سال دیر کر دی ہے۔ اب کون مانے گا کہ چیف جسٹس کو علم نہیں تھا کہ ان کے بیٹے کا کیا کاروبار تھا جیسے انہوں نے عدالت میں کہا بھی سہی ؟

    میں ماننے کو تیار ہوں کہ انہیں علم نہیں تھا۔ لیکن اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ ایک باپ کی حیثت سے اپنی زمہ داریاں پوری نہیں کر سکے تھے۔ ان کو اپنے بیٹے پر اندھا اعتماد تھا کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر ارسلان نے جہاں اپنے ایک مظلوموں کو انصاف دینے کے لیے طاقت ور لوگوں سے لڑ جانے والے باپ کے ساتھ دھوکا کیا ہے اور انہیں اتنی بڑی شرمندگی کا شکار کیا ہے، وہاں اس نوجوان نے پورے معاشرے کے ساتھ زیادتی کی ہے اور اپنے باپ کو اس اخلاقی جواز سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے جس پر سوار ہو کر وہ بے خوف و خطر ایک معمولی انسان کو انصاف دینے کے لیے ہر کسی کو ٹکر جاتے تھے۔

    ارسلان نے اپنے باپ کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اب وزیراعظم گیلانی کو بھی طعنہ دینے کا موقع مل گیا ہے کہ اگر چیف جسٹس اپنے بیٹے کا مقدمہ نہیں سن سکتے تو پھر ان کے بیٹے علی موسی گیلانی کا مقدمہ ہی سن لیں، جو ان کی عدالت میں لگا ہوا ہے۔ چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کو انصاف دینے کے نام پر اپنے باپ کے کردار سے اتنے لاتعلق نہ ہوجاتے کہ ارسلان یہ سب کچھ کر گزرا اور انہیں پتہ تک نہ چلا۔ اگرچہ ارسلان ان الزامات سے انکاری ہے لیکن کوئی اسے سچا بھی ماننے کو تیار نہیں کہ اس نے تین سال میں ایک ارب روپے کما کر چار سو لوگوں کو کیسے اپنی فرم میں ملازمت دے دی ہے ؟

    ہو سکتا ہے کہ بہت سارے کہیں کہ اگر ایک شخص اچھا باپ نہ بن سکا تو پھر ایک اچھا جج بننے کا کیا فائدہ۔

    ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چیف جسٹس کے پاس ایک آپش کھلا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ریاض ملک سے ایک ڈیل کر لیتے۔ شاید اگر میرے جیسا کمزور انسان ہوتا تو وہ اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے بلیک میل ہوجاتا لیکن چیف جسٹس نے اگے بڑھ کر اس سکینڈل کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اور انصاف کی بات ہے کہ وہ اس امتحاں میں پورے اترے ہیں۔ میں نے سپریم کورٹ میں انہیں اپنے بیٹے کو ملزم کے طور پر بلا کر اس مشکل ترین کیس کی سماعت کرتے دیکھا ہے اور میں کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک ایماندار جج ہیں۔ نہ ان کے ہاتھ کانپے اور نہ ہی زبان لڑکھڑائی اور نہ ہی ان پر خود ترسی کا حملہ ہوا۔ اگرچہ وہ یہ کہہ بغیر نہ رہ سکے کہ اس سے بڑی بے عزتی کیا ہوگی کہ ان کا بیٹا آج ان کی ہی عدالت میں ملزم بن کر کھڑا ہے !

    میں ابھی بھی سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس کو کوئی نقصان ہوا تویہ میرے جیسے رپورٹر کے لیے ایک صدمہ ہوگا جو ان کے بہت سارے فیصلوں کا ناقد رہنے کے باوجود انہیں ایک اچھا جج سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ جج رہیں۔چیف جسٹس چوہدری کی عدالت میں ارسلان کو ملزم کی حیثت سے کھڑے دیکھ کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ ایک ناکام باپ، ایک کامیاب جج کے ہاتھوں شکست کھا گیا تھا۔ چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والے اس ٹریجڈی کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ شاید اس کے پیچھے بھی تقدیر کا ہاتھ یا انسانی مصلحت کارفرما تھی کہ آج سے پچاس برس قبل جنرل ایوب کے دور میں طویل عرصے تک رہنے والے سپریم کورٹ کے ایماندار چیف جسٹس کارنیلیس نے کسی اپنے کے ہاتھوں گہرا گھاؤ کھانے سے بچنے کے لیے ساری عمر لاہور فلیٹز ہوٹل کے ایک معمولی کمرے میں گزار دی تھی !!

  176. ntdr says:

    رؤف کلاسرا جیسے چپپن کدو اپنے پلاٹوں کی خبریں سن کر اربوں کے ہرجانے کے نوٹس دائر کر دیتے ہیں پھر اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں …ان سے یہی توقع ہے کہ اب باپ کے رشتے سے اسٹبلشمنٹ کے وار کو شہ دیں …نہ تو شاہین صہبائی کے وڈیو سے چیف کو استفیٰ دینے کی امید بر آئی، نہ انگلنڈ والا کارتوس چلا، نہ انصار عباسی کی مو شگافیں تریاق بن سکیں، نہ ریفرنس کی بڑ کارگر ہوئی اس لئے اب ٹھیکے دار سے ٹھاکر بنے کلرک کو بحریہ کی کشتی میں سوار کر کے اپنا کیس خود پیش کرنے کی حکم دیا گیا ہے …. بیچارہ ہارون رشید خام خوا میں جہد و جلال کے پیکر کیانی کی پیشہ واریت کی سپاس گری کرنے کا بیڑا اٹھائے چل پڑا ہے … جیسے قوم نہیں جانتی کہ بلوچستان میں گولیوں سے محبت کون بانٹ رہا ہے اور وہاں پر توانائی کے ذخائر پہ قبضے کرنے کے لئے وردی والوں کا کیا عمل دخل ہے …

    کیس کا سو موٹو لے کر چیف نے بنچ کی سربراہی کر کے پہلے دو دن اپنے ضابطہ اخلاق کو پسے پشت ڈالا تو گیلانی کو اپنی انا کی تسکین کے لئے امید ہو چلی تھی کہ اب چیف کے خلاف ریفرنس ڈال کر اپنے ہونے والے گدی نشین سید زادوں کی بدعنوانی کا داغ دھویا جا سکے گا …. برا ہوا کہ گیلانی نے دیر کر دی… حسب معمول …. اور چیف نے اس سیاسی کیس میں پہلے دو دنوں میں پاکستانی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ہر وہ سیاسی بیان دیا جو سید زادے اپنی گدی بچانے کے لئے چاہ یوسف لکھ کر دیتے ہیں ….

    دراصل جج کے حلف نامے میں ان کے ادارے کے ضابطہ اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھنے کا وعدہ بھی شامل ہے … خبر کے مطابق ٢٠٠٩ کے نئے ضابطے میں کوئی جج براہ راست ایسا کیس نہیں سن سکتا جس وہ ایک فریق کے طور پر نظر آئے یا کیس پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہو …. اب جو چڑیاں کھیت چگ گئیں تو گیلانی کو ریفرنس کی یاد ستا رہی ہے ….

    آج تو نجم سیٹھی نے بھی کھلے الفاظ میں گیلانی کو اپنے پروگرام میں جھوٹا بنا دیا ہے … بیچارہ گیلانی جائے تو کہاں اور اپنی اولاد کے کرتوتوں پہ پردہ ڈالے تو کیسے …. مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ رؤف کلاسرا کو یہ تو کہنے کی جرات ہے کہ چیف تین سال پہلے اپنے بیٹے سے باپ بن کر میٹنگ کر لیتا تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا …. مگر اس بیمار مغز کو یہ کہنے میں شرم محسوس ہوتی ہے کہ گیلانی کو اپنے سید زادوں کی عزت بچانے کے لئے چار سال پہلے ہی میٹنگ کر لینی چاہیے تھی تا کہ حج اور جنسی دوائی کے کیسوں میں ان گدی نشینوں کو یہ دن دیکھنے نہ نصیب ہوتے…اور” کہنی مار” بدکار باپ کو بدعنوان اولاد کا روگ نا سہنا پڑتا …. آخر پلاٹ جو لئے ہیں تو پھر یہ کہتے ھوئے شرم تو آئے گی نا تھوتلے کانے کو …

  177. lota6177 says:

    ہو سکتا ہے کہ بہت سارے کہیں کہ اگر ایک شخص اچھا باپ نہ بن سکا تو پھر ایک اچھا جج بننے کا کیا فائدہ۔
    —————————————————————————————————————-
    ہو سکتا ہے کہ بہت سارے کہیں کہ اگر ایک شخص اچھا باپ نہ بن سکا تو پھر ایک اچھا خلیفہ بننے کا کیا فائدہ۔
    http://forums.islamicawakening.com/f30/did-umar-ibn-al-khattab-r-kill-11326/

  178. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان میں —رات کے اندھیرے میں—دو اہم ملاقاتیں
    پہلی —-فوجی جرنیلوں کی—جسٹس نسیم حسن شاہ سے ملاقات —-
    اور ذولفقار علی بھٹو —کو پھانسی دے دی گئی——-
    دوسری —-جسٹس افتخار چودھری —کی—ملک ریاض سے —ملاقات
    اور —اس بار —-کون ہو گا —شکار؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  179. saleem raza says:

    شہنشاہ غزل مہدی حسن انتقال کر گیے ہیں وہ ایک ایسا سورج تھے جس کی روشنی سے
    بہت سے مستند ہوے تھے ، اللہ تعالی اُن کا آخری سفر اسان فرماے اور جنت میں جگہ عطا فرماے ،
    گلوں میں رنگ بھرے ۔ باِدے نوً بار چلے ،

  180. zakaulmustafa says:

    Malik Riaz has attacked the judiciary. We, as a civil society should boycott Malik Riaz and his business venture. It will exhibit that we are indifferent of people who are playing with us and with our system.

  181. Javed Ikram Sheikh says:

    Javed Ikram Sheikh
    جناب مہدی حسن کے ساتھ یادگار لمحے

    میں ان دنوں لاہور پونچھ ہاوس کالونی میں رہائش پزیر تھا
    اور میرے ہمسایے میں محترمہ نسیم امداد رہتی تھیں جن کا تعلق
    information Ministry
    سے تھا — ان کے گھر بہت سے فنکار
    آتے رہتے تھے .ایک شام جناب مہدی حسن آے. بجلی کے کھمبے سے ٹوٹی تاریں
    سڑک پر گری ہوئی تھی اور ساری کالونی میں اندھیرا تھا –
    جناب مہدی حسن نے مجھے گھر سے بلایا اور اپنے ساتھ سڑک پر پہرا دینے کا کہا
    تا کہ سڑک سے گزرنے والوں کو بجلی کے کرنٹ سے محفوظ رکھا جا سکے
    میں اور خان صاحب ، محکمہ بجلی کے عملہ کے انتظار میں تقریبآ ایک گھنٹہ وہاں
    کھڑے رھے.
    1986
    کا یہ واقعہ ، جب یاد آتا ھے..توبحیثیت ایک دردمند انسان ، مہدی حسن صاحب کی عظمت
    کا بھی احساس ہوتا ھے

  182. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان کی تاریخ کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کر لیں—-
    آپ کو خود بخود یہ احساس ھو گا ——–
    کہ— ایک دور تھا —جب بہت سی خامیوں ، کمزوریوں –اور
    مشکلات کے باوجود — پاکستان کے عوام میں— بہتر مستقبل کی–
    امید —- اور زندگی کے جدید دور میں داخل ہونے کے لئے روشنی کی کرن
    دکھائی دیتی تھی——-
    جب سے ذوالفقار علی بھٹو —کا عدالتی قتل ھوا——1978 سے
    آج تک —پاکستان— نامرادی ، نحوست ، ناکامی ، بربادی، بد تمیزی ، بے حیائی ،
    بد معاشی ، بے کاری ، بیماری اور بد بختی —کے عذاب کا شکار ھے….
    اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دے رہا —–
    زمین پر عوام بجلی، پانی ، گیس اور خوراک کو ترس رھے ہیں…..
    آسمانوں سے ڈرون برس رھے ہیں —–
    بھٹو نے کہا تھا ——-اگر اسے قتل کر دیا گیا —–تو ہمالیہ بھی روۓ گا —
    آج— کے ٹو–سے کراچی تک——کوئتہ سے کشمیر —تک —-چیخ و پکار —
    اور ماتم جاری ھے ——-یا الله خیر —–

  183. Javed Ikram Sheikh says:

    پاکستان میں– 333 نمبر لے کر میٹرک پاس کرنے والے —
    ملک ریاض نے —عدلیہ- انتظامیہ -مقننہ -فوج–اور میڈیا —
    کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں—–ملک ریاض –زندہ باد—-
    *********جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپیدار ہو گا

  184. Javed Ikram Sheikh says:

    چیف تیرے جاں نثار ، بے شمار ، بے شمار
    کر گیا ھے داغدار ، آج تیرا سب وقار
    اپنے ھی گھر کا چراغ ، تیرا بیٹا افتخار
    کفر کعبے سے اٹھا ، ہر طرف چیخ و پکار

  185. Guilty says:

    zakaulmustafa said:
    Malik Riaz has attacked the judiciary.
    ————————————————————–

    Malik has not attached, however, Malik Provided money to the judiciary to have fun to sons, daughters and wives of judiciaty.

    Now judiciary family must return money to Malik Riaz

Leave a Reply