March 21, 2013
Zahid Qurban Alvi

PMLN has strongly protested against the appointment of controversial caretaker Chief Minister Sindh. Zahid Qurban Alvi was appointment jointly by PPP and MQM after MQM took role of opposition just days before the end of tenure of Sindh assembly.

3 Comments

  1. mhansari says:

    -قائداعظم کا کل اور ھمارا آج
    ھمارے قائد اعظم ھمیشہ انگریزی میں عوام سے خطاب فرماتے تھَے – اس وقت تعلیم کا جو معیار ھو گا وہ سب کو معلوم ھے۔ ھزاروں کے مجمع میں سے صرف چند ایک کو ھی اس کی سمجھ آتی تھی۔ لیکن اس زبان سے نا بلد ھونے کے با وجود عوام اتنے انھماک سے ان کا خطاب سنتے تھے جیسے ان کا ایک ایک لفظ ذہن نشین ہو رہا ہو۔ ایسے ھی ایک مجمع میں ایک دیھاتی سے جب پو چھا گیا کہ کیا تمھیں انگریزی سمجھ آتی ھے؟ تو اس نے جواب دیا “نھیں” سوال کیا گیا کہ بھائ تم تو اتنے غور سے سن رھے ھو جیسے سب سمجھ آرہا ھے تو اس نے اپنی زبان میں جواب دیا، ” اے تے مینوں پتا نئیں کہ قائد کی کہہ ریا اے، پر اے یقین اے کہ جو کہہ ریا اے سچ کہہ ریا اے-” یہ انتہا تھِی اس اعتماد کی جو قوم کو اپنے لیڈر پر تھا
    کیا آپ یقین کریں گے کہ قوم کو اپنے لیڈروں پر آج بھی ویسا ہی یقین اور اعتماد ھے؟ جی ھاں بالکل ھے۔
    سندھ کے وزیر اعلی کی تقرری ہوئی اور اور علوی صاحب کا نام سامنے ایا- ان صاحب کے بارے میں عمومی رائے یہ ھے کہ ان کو کوئی نھیں جانتا کہ کون ہیں، کہاں سے تعلق ھے اور ان کی شھرت پر کوئ دھبہ بھی نہیں دکھائی دیتا۔ سوائے اس کے کہ انہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل ھے۔
    بس صاحب اتنا جاننا ھی کافی تھا موصوف کے بارے میں- اب ھر شخص مشکوک ھے کہ ھو نہ ھو علوی صاحب کو ئ بھلے آدمی نہیں ھو سکتے۔
    تو جناب اعتماد کا لیول تو وھی ھے صرف اسکی جہت بدل گئ ھے۔
    یعنی “جس نوں اے چنگا کہن، او چنگا کدے نئیں ہو سکدا-“۔۔۔۔۔۔۔۔

    • Bawa says:

      انصاری صاحنب – دراصل بات ہے اعتماد کی

      جب لیڈر اور قوم میں اعتماد کا رشتہ قایم ہوتا ہے تو قوم لیڈر کی زبان سمجھے بغیر بھی اسکے پیچھے سیسہ پلائی کی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے لیکن جب اعتماد کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے تو بھٹو اور نواز شریف جیسے مقبول لیڈروں کو بھی پھانسی چڑھنا پڑتا ہے یا جلا وطن ہونا پڑتا ہے

      سیاسی لیڈروں نے قوم کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے کہ اب قوم کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے

      بقول غالب

      ابنِ مریم ہُوا کرے کوئی
      میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

      کیا کیا خضر نے سکندر سے
      اب کسے رہنما کرے کوئی

      جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
      کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

Leave a Reply