March 23, 2013

The 8 members parliamentary committee has failed to develop consensus on the name of caretaker Prime Minister after 3 days.

As per constitution, the matter has now been passed to the election commission, which will finalise the name of caretaker PM within 2 days.

9 Comments

  1. mhansari says:

    Failure of politicians once again…..!!

    Its a pity. One thing is very visible now. The politicians have politicized the impartiality. This is MY impartial person, that is HIS impartial person.
    Isn’t it hurting the dignity of those who are named as caretakers?
    Childish stuff.

  2. mhansari says:

    غیر جانبدار۔

    جب سارے غیر جانب دار
    پھر بھی اتنی تکرار ۔
    معصوم نہیں ہیں یہ یار
    سب بڑھ چڑھ کر عیار۔

    یہ میرا غیر جانبدار ہے
    وہ تیرا غیر جانبدار ہے۔
    میں تجھ سے بڑا چالاک ہوں
    تو مجھ سے بڑا عیار ہے ۔

    لعنت ہے ایسی جمہوریت پر
    پھٹکار ہے ایسی سیاست پر۔

    غالب نے کہا تھا۔
    بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی۔ بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر پائیں

    یہ لیڈر نہیں بردہ فروشوں کا ٹولا ہے جو اس ملک کے عوام پر مسلط ہو گیا ھے۔

    • Bawa says:

      انصاری صاحب

      ہم اپنے کرتوتوں کا الزام جمہوریت پر کیوں لگا دیتے ہیں؟

      کیا جمہوریت بری ہے یا ہم خود برے ہیں؟

      کیا یہی جمہوریت دنیا کے ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں میں انتہائی کامیابی سے نہیں چل رہی ہے؟

      خرابی جمہوریت میں ہے یا خود ہمارے اندر ہے؟

      حقیقیت یہ ہے کہ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے ہزار گنا بہتر ہوتی ہے

      جب ہم سیاسی لوگوں کی ناقص کارکردگی کی بات کرتے ہیں تو بہت ساری چیزوں کو گڈمڈ کر جاتے ہیں

      کیا حکومت کی بری کارکردگی کو قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کی بری کارکردگی کہا جا سکتا ہے؟

      کیا حکومت اور منتخب لوگوں کی بری کارکردگی کو جمہوریت کی بری کارکردگی کہا جا سکتا ہے؟

      نہیں بالکل نہیں، ہمیں حکومت، منتخب سیاسی لوگوں یعنی پارلیمنٹ اور جمہوریت کو الگ الگ دیکھنا چاہئیے

      حکومت کی ناکامی کا مطلب پارلیمنٹ کی ناکامی نہیں ہوتا ہے اور اسی طرح حکومت اور پارلیمنٹ کی ناکامی کا مطلب جمہوریت کی ناکامی نہیں ہوتا ہے

  3. mhansari says:

    کیا یہی جمہوریت دنیا کے ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں میں انتہائی کامیابی سے نہیں چل رہی ہے؟

    باوا صاحب آپ نے بجا فرمایا۔
    یہی میرا نقطہ نظر بھی تھا۔
    ایک سابق امریکی صدر روزویلٹ نے کہا تھا کہ “جمہوریت کا حقیقی تحفظ صرف اور صرف تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ ”
    اور بد قسمتی سے ہماری قوم کی اکثریت تعلیم کی نعمت سے محروم ہے۔ ستم بالاءے ستم یہ کہ تعلیم دینے کا کام بھی انھی حکومتی کرداروں کے ہاتھ میں ہے جو اس جہالت کی وجہ سے عوام پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ تو اپ کا کیا خیال ہے یہ لوگ کبھی ملک میں جمہوریت برداشت کر سکتے ہیں؟ یہ لوگ ملک میں کبھِی تعلیم عام نہیں ہونے دیں گے۔ تو پھر کیا خیال ہے انہی سے امیدیں رکھیں؟ یا جب تک تعلیمی نظام بہتر نہ ہو کسی اور طرز حکومت کی طرف دیکھا جائے۔ ۱۹۴۹ سے لے کر ۱۹۵۸ تک ملک انہی سیاستدانوں کے پاس تھا۔ فوج کو یہ خود دعوت دے کر لائے اور ایک سرونگ جنرل اسکندر مرزا کو وزیر دفاع بنا دیا۔ یہ سیا ستدان اس وقت بھی نا اھل تھے اور ان کی نئ نسل بھی آج اتنی ہی نا اھلی سے حکومت کر رھی ہے۔
    اگر آپ اب بھی اس جمہوریت اور سیاست دانوں سے امید رکھتے ہیں کہ یہ تعلیم لے آئیں گے تو پھر آپ کی نظر یہ شعر کر دیتا ہوں
    میر کیا سادہ ہیں ہوئے بیمار جس کے سبب
    اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔

  4. Bawa says:

    انصاری صاحب

    آپکی بات سے کافی حد اتفاق کرتا ہوں کہ جمہوریت کا حقیقی تحفظ صرف اور صرف تعلیم میں پوشیدہ ہے اور یہ جموریت کا لبادہ ہورہے لوگ ملک میں کبھِی تعلیم عام نہیں ہونے دیں گے لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں حقیقی جمہوریت کبھی رہی ہی نہیں ہے

    ہمارے ملک کی آزادی سے لیکر اب تک کا آدھا عرصۂ ہم پر فوج مسلط رہی ہے. جمہوریت اگر کبھی تھوڑی بہت آئی بھی ہے تو وہ فوج کی چھتری کے نیچے رہی ہے. کبھی جمہوری حکمرانوں نے اپنی مرضی اور پلاننگ سے حکومت نہیں کی ہے. ابھی بھی جو حکومت ختم ہوئی ہے وہ کتنی آزاد تھی؟ دفاع، خارجہ اور داخلہ امور سبھی تو فوج کے پاس تھے

    ملک پر فوج کو مسلط کرنے میں سیاستدانوں کا کوئی اتنا بڑا کردار نہیں ہے. فوج بذات خود قیام پاکستان کے وقت سے ہی اقتدار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی. قائد اعظم نے جنرل ایوب خان کے خیالات کو بھانپتے ہوئے ہی اسکے اسٹارز اتروا دیے تھے اور اس پر کڑی نظر رکھنے کو کہا تھا. لیاقت علی کی شہادت کے بعد فوج بے لگام ہوگی اور شنید تو یہ بھی ہے کہ لیاقت علی خان کی شہادت میں بھی فوج ملوث تھی. آخر فوج نے بیوروکریسی کی مدد سے سیستدانوں کو لڑا کر کمزور کیا اور پھر ان کی کمزوری کا فایدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا

    میں ان چور جمہوری حکمرانوں کی حمایت نہیں کر رہا لیکن ساری کی ساری زمہ داری بھی ان پر ڈالنا فیئر نہیں ہے. جمہوریت جیسی بھی لنگڑی لولی ہے اگر اسے کچھ عرصۂ چلنے دیا جائے تو وہ اپنی خرابیاں خود ہی دور کر لے گی

    تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے لیکن ہماری فوج اور مذہبی حلقے (ملا ملٹری اتحاد) اسکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. یہ ملا نہیں چاہتے کہ لوگ پڑھ لکھ کر انکے تسلط سے آزاد ہو جائیں. یہ چاہتے ہیں کہ سکولز، کالز اور یونیورسٹیوں کی بجائے جگہ جگہ مدرسے قایم کیے جائیں اور لوگوں کو جدید تعلیم سے محروم رکھا جائے

    میرے خیال میں عوام کی تعلیم کی راہ میں سیاسی حکمرانوں کی نسبت فوج اور ملا زیادہ بڑی رکاوٹ ہیں

  5. mhansari says:

    ملٹری ملا اتحاد
    اگر اس بات کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جاۓ تو پھر لال مسجد . اور طالبان یا دیگر تشدد پسند اسلامی اداروں کے خلاف ملٹری جو ایک طویل جنگ لڑ رہی ہنے اسے کیا نام دیا جا سکتا ہنے؟
    ملٹری جب بھی بر سر اقتدار ہوئی وہ صرف ملا ملٹری اتحاد نھیں کرتی ، بلکہ اس میں سیاستدان بھی برابر کے شریک جرم رهتے ھیں اور سول انتظامیہ بھی – لیکن سیاستدان کمال چالاکی سے ساری کا لک صرف فوج کے منہ پر مل کر خود معصوم بن جاتےھیں – اور فوج کا دفاع کرنے کے لیےکوئی نہیں اتا- کیا پاکستان کا ایک بھی موجودہ سیاستدان یہ کہ سکتا ہنے کہ وہ کبھی کسی جرنیل کا دست و بازو نہیں رہا؟
    ذولفقارعلی بھٹو سے لے کرنواز شریف اور بگٹی سے لے کر عمران خان تک سب کی پوسٹنگز ملٹری کے ہاتھوں سے ہی ہوئی ھیں – یہ ایک ناقابل یقیں لیکن تلخ حقیقت ہے – پاکستان میں سب سیاستدان ہی پیدا ہونے ھیں آج تک کوئی لیڈر پیدا نہیں ہو سکا
    افسوس کا مقام ہنے اور ہماری بد قسمتی بھی کہ پاکستان بننے کے بعد ہمیں صرف بونے ہی میسر ایے، کوئی لیڈر نہ مل سکا

    • Bawa says:

      انصاری جی

      یہ ملا ملٹری اتحاد کا نتیجہ ہی ہے کہ آج پورا ملک خون میں نہایا ہوا ہے. کبھی فوجی وردی عزت و احترام کی علامت سمجھی جاتی تھی اور آج فوجیوردی پہن کر عوام میں آتے ڈرتے ہیں. کیوں؟

      آج ہماری فوج اپنے ہی بنائے ہوئے طالبان کے ہاتھوں اپنی فوجی جوانوں کی گردنیں کٹوا کر بھی طالبان کی حمایت ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے. کیوں؟

      آج ہمارے ملا چالیس ہزار لوگوں کی جانیں گنوا کر بھی کھل کر طالبان کی مخالفت کیوں نہیں کرتے ہیں؟

      ملا ملٹری اتحاد کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا؟

      جہاں تک آپ نے سیاستدانون کی بات کی ہے تو فوج کے بنائے ہوئے سیاستدان فوج کے دست و بازو کیوں نہیں بنیں گے؟ ہاں، جب انکو عوامی حمایت ملتی ہے تو وہ فوج کے تسلط سے آزاد ہو جاتے ہیں بے شک انہیں اسکی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے – کبھی پھانسی لگ کر اور کبھی ملک بدر ہو کر

      آپکی اس بات سے بھی اختلاف کرتا ہوں کہ سیاستدان کمال چالاکی سے ساری کا لک صرف فوج کے منہ پر مل کر خود معصوم بن جاتےھیں اور فوج کا دفاع کرنے کے لیےکوئی نہیں اتا. حقائق تو یہ ہیں کہ فوج کا دفاع کرنے کے لیے نہ صرف انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں جو زبانیں کھولنے والوں کو اغوا کرکے لاشیں چوراہوں میں پھینک جاتی ہیں بلکہ ملا، میڈیا اور فوج کے جوتے پالش کرنے والے سیاستدان اور بیوروکریٹس فوج کے ایک اشارہ ابرو کے منتظر ہوتے ہیں

      آپکی اس بات سے ضرور اتفاق کرتا ہوں کہ افسوس کا مقام ہے اور ہماری بد قسمتی بھی کہ پاکستان بننے کے بعد ہمیں صرف بونے ہی میسر ایے، کوئی لیڈر نہ مل سکا لیکن اسکی زمہ دار بھی فوج ہی ہے جس نے پاکستان کے اقتدار پر غیر آئینی، ناجائز اور دھونس اور زبردستی سے قبضہ جما رکھا ہے اور یہاں جمہوریت کو اور عوامی قیادت کو ایک سازش کے تحت پنپنے ہی نہیں دیا گیا ہے

Leave a Reply