Thai Airways

News — July 17, 2013

50 comments

by mbokhari

Leaked  column of a journalist on trip to China with Prime Minister.

Warning: Only for readers with strong sense of humor. Must read the censored version of column before reading further to understand the context.

This is a fictional column.

۔۔۔۔۔ ہو تو چین کو چلیے۔

زندگی واقعی عجیب و غریب واقعات اورحادثات کا نام ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کا پہلا دورہ چین تھا اور میں شاید اسلام آباد میں آخری صحافی ہوں گا جس کو وہ ساتھ لے جاتے۔ ان سے آخری ملاقات تقریباً چھہ سال قبل اس جہاز میں ہوئی تھی جس میں وہ پاکستان لوٹ رہے تھے۔ لیہ سے تعلق رکھنے والے ایک پسماندہ صحافی کے لیے وہ فلائیٹ ایک خوبصورت خواب تھی۔ قومی ائیرلائن کی مہکتی ہوئی صاف ستھری ہوائی میزبانوں نے اپنی مہمان نوازی سے دل موہ لیا تھا اور تمام سفر میاں صاحب کو سیاسی، مزہبی اور اقتصادی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے تتلیوں کی ہنسی اور چہکار کانوں میں رس گھولتی رہی تھی۔ اﷲ اﷲ، کیا دن تھا جب میں جن تھا، وزن بھی کم تھا، اب دیو ہوں، جنوں کا پیو ہوں لہزا چین کے دورے پر میاں صاحب نے جہاز میں بٹھانے سے صاف انکار کر دیا۔

یوں پچھلے پانچ سال بعد، چند دنوں میں میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے مجھے میاں صاحب کی سیاسی اور سفری پالیسوں کا ناقد بنا دیا۔ وہ مشترکہ دوست، جو لندن میں ڈیوک سٹریٹ میں ان کے دفتر میں ہمارے آنے جانے سے واقف تھے، حیران ہوتے ہیں کہ آپ ایک دم میاں صاحب کے خلاف کیوں ہو گئے۔ آخر کیوں؟ ۔ کیا جواب دوں؟ کیا کہوں؟ جو کچھ کہنا ہے اس کالم کے ذریعے کہہ رہا ہوں۔ بقول علامہ اقبال ، شاید کے تیرے سر میں اتر جائے میری بات، اورکاش اس پر میاں صاحب کہیں، میں نے بھی یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ اور پھر میں کہوں، مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت، میں گیا کریڈٹ نہیں ہوں کہ پھرآ بھی نہ سکوں۔ معزز ناظرین کو اندازہ ہو ہی گیا ہو گا کہ مجے شعر و شاعری ، فلسفہ، ادب، اور سب سے بڑھ کر ڈرامہ کتنا پسند ہے۔ آمین ثم آمین
دنیا گروپ کی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ میں چین جاؤں، خرچہ دفتر برداشت کرے گا۔ ہمارے دوست محمد مالک نے جانا تھا لیکن دفتر کی الماری سے ان کا پاسپورٹ چرا لیا گیا۔ خدا جانے کس گھٹیا شخص نے چوری کیا ، واﷲعالم ۔ خیر میں نے مجبوراً اپنا نام آگے پیش کیا۔ چند لوگوں کو ٹیلیفون کیے ،انکا رانجھا راضی کیا، اور چین کا پروگرام پکا ہو گیا۔ چینی محاورے اور چینی زبان میں شریر قسم کے لطیفے بھی رٹ لیے۔

ویزہ لینے کے لیے پاسپورٹ جمع کرایا۔ دفتر نے ڈیڑہ لاکھ نقد دیا کہ ٹکٹ خرید لوں۔ پرانی انارکلی میں ایک جاننے والے کے ذریعے لیکن سوا لاکھ کی ٹکٹ مل گئی۔ یوں پچیس ہزار، لیہ میں میرے جاننے والے ایک یتیم مسکین صحافی کے لیے بچ رہے۔ اﷲ تعالیٰ کیا کیا اسباب پیدا کرتا ہے، حیرت ہوتی ہے۔ خیر ٹکٹ غور سے دیکھی۔ لاہور سے بنکاک اور پھر بیجنگ پہنچنا تھا۔ پانچ گھنٹے بنکاک میں انتظار بنتا تھا ۔ سوچا کچھ بنکاک دیکھ لیا جائے، یار لوگوں سے بڑی عجیب وغریب اور دل گدگدا دینے والی باتیں سن رکھی تھیں ، پھر کئی دن انٹرنیٹ پر گہری قسم کی ریسرچ بھی کی تھی۔ خیال آیا کیوں نہ انوسٹی گیٹو رپورٹنگ ہو جائے۔ اب بیٹھ کر اپنے ارمانوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو رونا آتا ہے، کیا کیا سوچ کر گیا تھا۔

اگلے دن چینی ایمبیسی سے خاتون کا فون آیا۔ کھنکتی ہوئی خوبصورت آواز۔ مسٹر کڑاسالا۔۔۔ ایک دھچکہ سا لگا۔ پھر یاد آیا کہ چین، جاپان اور تھائی لینڈ کے لوگ ل، ر اور ڑ کی آوازوں میں گڑ بڑ کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا، جی فرمایے ﴿ مکمل شستہ انگریزی میں﴾۔ خاتون نے کہا، مسٹر کڑا سالا، آپکے پراٹھوں کے متعلق ہمیں کچھ معلومات ملی ہیں ۔

اب آپ سے کیا پردہ ۔۔ گڑبڑا گیا ۔ کچھ صفائی دینے کی کوشش کی کہ اتنا بھی پینڈو نہیں، ناشتے میں پراٹھوں کے علاوہ کارن فلیکس، ٹوسٹ، جیم، وافلز، موسلی، ایگز﴿انڈے﴾، جوس، پینٹ بٹر ﴿مونگ پھلی کا مربہ﴾ اور کافی بھی لیتا ہوں ، باقی جیسا ناشتے آپ کروائیں گے، کر لیں گے۔ ہماری کیا مجال ہے، ہیں جی؟ خاتون بولی نہیں نہیں، یہ انٹرنیٹ پرآپکے پراٹھوں میں کچھ فولاد پکڑا گیا تھا، اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟

کچھ سر کھجایا۔۔ پھر جیسے دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا۔

پراٹھوں میں کچھ فولاد ۔۔۔
پلاٹوں میں کچھ فراڈ
کچھ ۔ کچھ،۔۔فراڈ۔۔فراڈ۔۔پلاٹوں، پلاٹوں۔۔۔ اسکی آواز جیسے کسی گہری کھائی سے آ رہی تھی۔

ہڑبڑا کر تیز تیز بولنا شروع کیا۔ سازش، صحافتی آزادی، سازش، بے قصور، سرائیکی، ضمیر کی آواز، میرٹ پر پلاٹ، پلاٹوں میں برکت، چھوٹے چھوٹے بچے۔۔۔
جانے کیا کیا کہتا رہا۔، کیا کیا بکتا رہا جنوں میں، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ ۔ جب ہوش آیا تو فون سے ٹوں ٹوں کی آواز آ رہی تھی۔

اب انتظار کی گھڑیاں اورسوٹے پر سوٹا۔ کچھ دعائیں وغیرہ کیں اور ایک بوتل روح افزا پی کر سو گیا۔ خدا کا کرنا دیکھئے، اگلے دن ویزہ آ گیا۔ اور اسی شام لاہور سے بنکاک کی فلائیٹ پکڑ لی۔
کیا فلائیٹ تھی۔ منحنی سی دھان پان فضائی میزبان، ہر لحظہ چاک و چوبند اور خوش مزاج۔ خوش مستیوں کی تمام کوششوں کو انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور تشدد سے ہر ممکن گریز کیا ۔ بچپن کا لیہ یاد آ گیا اور میں بہت دیر سوچتا رہا کہ وقت مجہے کہاں سے کہاں لے آیا ہے۔ کہاں وہ لیہ کہ نہر اور منجھ کی دم پکڑ کر نہرعبور کرتا دھوتی پہنے ایک ہینڈ سم صحافی اور کہاں یہ تھائی فضائی میزبان اور انکی زبان سے ، مسٹر کڑا سالا، مسٹر کڑا سالا، پلیز بی ہیو یورسیلف، کی تکرار۔ محنت کا پھل میٹھا ہوتا اور جلنے والے کا منہ کالا۔

بنکاک ایرپورٹ پر سینکڑوں لوگ گزر رہے تھے۔ ابھی ہم لائن میں ہی کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک مکروہ صورت والے پھینے تھائی انسپکٹر نے گندا اشارہ کر کہ مجھے اور ایک اور پاکستانی صحافی بھٹی صاحب کو اپنے پاس بلا لیا۔ ہم گڑبڑاگیے۔ چھاپ تلک سب چھینی رے، پھینے ، نیناں ملائکے۔ ہمارا قصور کیا تھا؟ کیا اس لیے کہ ہم شکل سے پاکستانی لگتے تھے؟
دل مسوس کر رہ گیے۔ کیا کرتے۔ کڑی اور نہایت قابل اعتراض جامہ تلاشی سے گزرنے کے بعد میں اور بھٹی صاحب ایک دوسرے سے آنکھیں ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ لیکن چلو شکر ہے جان خلاصی ہوئی۔ اگلا سٹاپ چین۔ چلتے ہو تو چین کو چلیے۔ خوشی خوشی لنگڑاتے ہوے ڈپارچر لاؤنج کی طرف بڑھے ہی تھے کہ تھائی زبان میں صور اسرافیل سنائی دی۔ انسپکٹرکڑک دار آواز میں پکاررہا تھا ۔ سینے پرلگے بیج پرنام لکھا تھا انسپکٹر چھترکھا لنگھجا ۔۔

Chatturkha Langjha

میرا پاسپورٹ مشین سے گزارا گیا۔

میسٹر کالا سڑا، پلیز یو کم دس وے۔

پہلے کڑا سالا اور اب کالا سڑا؟ تلملانے کے سوا کیا کر سکتا تھا۔ صحافت قلم کی مزدوری ہے اور اس دور پرآشوب میں تلخ ہیں بہت بندہ مزدور کے حالات۔ جامہ تلاشی کا خمار ابھی ٹوٹا نہیں تھا ۔ بھٹی صاحب نے میری طرف دیکھا اور اس مرد شجاع نے میری آنکھوں میں لکھا ہوا سسکیوں بھرا انکار پڑھ لیا ۔۔۔ پنہاں تھا دام سخت قریب آشیاں کے، اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے ۔ چار و ناچار، بلکہ پانچ و ناپانچ، انسپکڑ چھترکھا لنگھجا کی طرف بوجھل قدموں سے لنگڑاتے ہوے مڑا تو میرے دل میں صرف ایک سوال تھا۔ اگر آج میاں نواز شریف ہمیں ماضی کی طرح سرکاری خرچے اور جہاز پر سفر کراتے تو کونسی قیامت آ جانی تھی؟ ہمیں اس طرح ذلیل کیوں کیا جا رہا ہے؟ اینکران قوم اور سپوتان لیہ کی اس قدر تزلیل آخر کیوں؟ کیا صرف اس لیے کہ میں نے میاں نواز شریف کی دوغلی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی جرات کی ہے؟ کیا اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی سزا ہے کہ انسپکٹر چھترکھا لنگجھا کالا سڑا کہہ کر مجھے قابل دست اندازیء پولیس بناتا رہے؟ کیا قوم کی عزت غیر ملکی ہوائی اڈوں پریوں سستے داموں نیلام۔۔۔۔

ابھی رنج و غم سے بوجھل خیالات کا خچربگٹٹ دوڑنے کے لیے بوٹ ہی پہن رہا تھا کہ سیکورٹی والی جگہ آ گئی۔

آگے جو کچھ ہوا وہ ایک خاندانی اخبار میں لکھنے کے لایق نہ ہے ۔ قصہ مختصر، عشق کے امتحاں ابھی اور بھی تھے۔اندھیرے کمرے میں ایک شرمناک مشین جو کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی وغیرہ کر دیتی ہے، سے گزارا گیا۔ بڑا بے آبرو ہو کہ تیری مشینوں سے باہر نکلا ہی تھا تو انسپکٹر چھترکھا لنگھجا نے معنی خیز مسکراہٹ سے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ کرمیرا رخ اپنی طرف کر دیا ۔ کچھ وعدوں وعیدوں ، لعنت ملامت، ہاتھ جوڑنے اور ایشیائی بھائی چارے کے واسطے دینے سے کچھ نہ بنا۔ کچھ دینے اور لینے کے بعد ۔۔۔ بہت کچھ دینے اور، بہت کچھ لینے کے بعد فراغت ہوی ۔ ہمارے گاؤں میں ایک لڑکی ڈاکٹر کے پاس گئی اور کہنے لگی ” ڈاکٹر صاحب ، میری رنگت تو بہت اچھی ھے لیکن میرا فیس کچھ زیادہ ھی ملائم ، چکنا اور حساس ھے ، میں رات کو کیا لگا کر سویا کروں؟ “ڈاکٹر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ” آپ رات کو کنڈی لگا کر سویا کریں ۔۔۔ لیکن صحافی ائیرپورٹ پر کنڈی لگا کر کیسے سوئیں؟۔ ۔۔۔ میاں نواز شریف سرکاری جہاز میں چین لے جاتے تو یہ سب نہ ہوتا۔

بہر حال، میں اس موضوع پر رپورٹر بھٹی صاحب کی تمام من گھڑت کہانیوں ، دلخراش لطیفوں اور موبایل پر بنائی واہیات ویڈیو کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور زیادہ جھوٹ بولنے والوں کی ٹانگیں فریکچر وغیرہ ہوتی رہتی ہیں ۔

خیربنکاک ائرپورٹ کے ڈپارچر لؤنج پر ابھی پانچ گھنٹے گزارنا تھے۔ تھکاوٹ سے برا حال اور ریسٹ کرنے کی شدید طلب۔ ایک ہال کے آخر میں دروازہ نظر آیا۔ بڑا بڑا لکھا تھا ریسٹ روم۔ بہت خوش ہوا کہ ریسٹ کا موقع مل گیا۔ کمرہ البتہ چھوٹا سا تھا لیکن تھا بہت صاف ستھرہ۔ خوبصورت دیدہ زیب ٹائلیں چھت تک لگی ہوئی تھیں اور مزے کی بات؟ پینے کے پانی کا بڑا سا چینی کا گھڑا فرش پررکھا تھا۔ لیکن شاید چوری کے ڈر سے خوب باندہ کر رکھا ہوا تھا۔ اتنا امیر ملک لیکن پھر بھی چوری چکاری کا خطرہ ؟ حیرت ہوتی ہے انسان کے حرص و طمع پر۔ میں نے بھی کافی زور لگایا، ٹھڈے شڈے مارے، لیکن گھڑا ہلا نہیں۔ خیر انسان کوجو کچھ مل جائے اس پر قناعت کرنی چاہیے، جیسا قبلہ ہارون رشید کبھی کبھی سر جھکائے بیٹھے رہتے ہیں اور یکلخت جھٹکے سے سر اٹھا کر فرماتے ہیں ، پلاٹ ملے تو لے لو اورنہ ملے تو صبر کرو اور کوشش جاری رکھو، آخر تم کامیاب اور پلاٹ یاب ہو گے ۔ بے شک بے شک۔

بنکاک سے جہاز چلا اور بیس گھنٹے بعد چین کے شہر پہنچا۔ کیا بھلا سا نام تھا۔ اوروموچی، آڑاماچا، ایرے میچے، ۔۔۔ ہاں، آرمچی۔ وہاں سے بیجنگ عربی گھوڑے پر صرف دس گھنٹے کے فاصلے پرہے جو کہ ہم نے بیس گھنٹے میں تبتی اونٹ سے کیا۔ ہوٹل پہنچا تو پتہ چلا کہ میں تو خوش قسمت تھا کہ چوبیس گھنٹوں کے بعد بیجنگ پہنچ گیا تھا۔ بہت سے دوست راستے میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے، کچھ کے سفینے ڈوب چکے تھے اور کچھ کو ملیریا، لیکوریا اور خسرہ جیسی موزی بیماریوں نے آ لیا اور کچھ ابھی راستے میں تیر رہے تھے۔ اگر میاں نواز شریف سرکاری جہاز میں لے جاتے تو یہ سب نہ ہوتا۔

چلیں درست ہے صحافی وزیراعظم کے جہاز میں سفر نہیں کر سکتے، تاہم اس وقت سب حیران رہ گیے جب پتہ چلا کہ یہ سلوک پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ جب مجھے اس امر کا علم ہوا تو غصے سے میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔ٹھنڈے پسنے آنے لگے اور دماغ مزید ماؤف ہو گیا۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں اپنی جگہ، میں خود کئی دفعہ ایسی زیادتیاں کر اور کروا چکا ہوں۔۔۔ لیکن پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کے ساتھ یہ ظلم اور زیاستی ؟ آخر کیوں؟ اور کچھ نہیں تو فلائیٹ کے دوران جلیل صاحب اور میں مل کر وزیراعظم کو چین پرسیاسی، مزہبی، امور خانہ داری اورادبی معاملات پر بریفنگ ھی دے سکتے تھے ﴿ آپ کو ویسے میرے فنون لطیفہ و غیر لطیفہ خصوصاُ ڈرامہ سے دلچسپی کا اندازہ ہو گیا ہو گا﴾ ۔ پچھلے ہفتے ایک مشکوک ویب سائٹ پر کچھ ویڈیو کلپ دیکھے تھے۔ چینیوں کی خوبصورتی، مہارت، لچک اور چالاکیوں کے بارے میں۔ انہی سے آگاہ کر سکتے تھے۔ اب کیا خاک مزاکرات کیے ہوں گے چینیوں سے۔ اوپر سے جو مظلوم درازقد ہینڈسم صحافی چین پہنچ ہی گئے، وہ نیند اور تھکاوٹ سے ٹوٹے ہوئے تھے۔ کیا وہ اپنی نیندیں پوری کرتے، اندرونی چوٹوں کی ٹکوریں کرتے یا کوریج ؟ بیڑہ غرق کر دیا دورہ چین کا وزیراعظم نے۔

جو سلوک ہمارے ساتھ کیا گیا ہے، اس سے ایک محاورہ یاد آگیا جو میرے گاؤں کے بڑے مجھے پیار سے سنایا کرتے تھے۔پتر اینج نی ہوندا۔۔ تباکو پینا کوڑا ، تے کم کرنا ۔۔۔ تھوڑا۔ اس کا غیر پارلیمانی ورژن آپ مجھے سے ٹوٹر پر پوچھ سکتے ہیں۔ اسی طرح جب میاں نواز شریف کی صحافیوں سے چند لمحے کے لیے چلتے پھرتے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کل آپ کو بتائیں گے اور اچھی خبریں دیں گے۔ میں نے کہا میاں صاحب کوئی اچھی خبرآج بھی دے دیں۔ کہنے لگے، کیا مطلب، میں نے آنکھ ماری، اشارہ کیا، کوڑے تمباکو کا ذکر کیا۔۔ لیکن میاں صاحب انتہائی بے مروتی سے ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھ گئے۔ قبلہ ہارون رشید سچ کہتے ہیں، شریف برادران نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ اس سے تو گیلانی صاحب اچھے تھے۔ سرکاری وفد کے ساتھ سفر، سرکاری جہاز کے مزے اور سب سے بڑھ کر، گیلانی صاحب کی آنکھ میں بہت شرم تھی، بے حد مروت۔۔ ہر صحافی کے لیے اس کی قسمت کا لفافہ اس کی سیٹ پر پہلے سے رکھا ہوتا تھا۔ بال بچوں والوں کو اس طرح شرمندہ نہیں کیا جاتا تھا۔ اچھی پبلسٹی اس کے علاوہ ملتی تھی۔

ٹھیک ہے میاں صاحب ٹھیک ہے۔ اس پر ایک لطیفہ یاد آیا۔ ایک جنرل پریڈ کے معائنے کیلیے پہنچا تو سارے فوجی غائب تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک فوجی حاضر ہوا اور بولا “میں اپنی ماں سے ملنے گیا اور واپسی پر میری بس مس ہو گئی، ٹیکسی بلائی تو وہ خراب ہو گئی، ٹانگے پر سوار ہوا تو اس کا گھوڑا مر گیا، میں نے پھر دوڑ لگائی اور تب یہاں پہنچا ہوں”۔ جنرل کو شک تو ہوا مگر اس نے سوچا چلو فوجی پہنچ تو گیا۔۔ اس کے بعد دس فوجی اکٹھے آئے اور انہوں نے بھی باری باری یہی کہانی سنائی۔ جنرل نے سوچا جب پہلے فوجی کو چھوڑ دیا ہے تو ان کو بھی چھوڑ دیتا ہوں۔
پھر ایک اور فوجی لیٹ آیا اور اس نے بھی وہی کہانی سنانی شروع کر دی کہ میں اپنی ماں سے ملنے گیا اور واپسی پر میری بس مس ہو گئی، ٹیکسی بلائی تو۔۔۔۔۔۔۔۔جنرل اسے ٹوکتے ہوئے بولا “مجھے پتہ ہے آگے کیا ہوا، تمہاری ٹیکسی خراب ہو گئی”۔فوجی بولا، نہیں جناب، ٹیکسی کے راستے میں اتنے زیادہ مرے ہوئے گھوڑے پڑے تھے کہ ڈرائیور کو انہیں ہٹا کر راستہ بنانے میں بہت زیادہ وقت لگ گیا”۔

اگر اس فوج کا جنرل ہماری فوج کے جرنیلوں کی طرح پلاٹ شلاٹ کے وعدے کرلیتا تو سارے فوجی عین ٹایم پر پہنچ جاتے۔ فوجی تو فوجی، خاص قسم کے صحافیوں کی قطاریں لگی ہوتیں۔ اور اس قطار میں سب سے آگے کونسا صحافی ہوتا؟

ایک دھوتی پہنے، تتلاتا ہینڈسم صحافی کتنا پالا گول مٹول لگ لا ہوتا، ہے نا؟