Featured Articles — September 3, 2013

132 comments

بھرا ہوا انٹرویو

از

محسن حجازی

حال میں خیبرپختوانخواہ کی صوبائی حکومت نے چند صحافیوں کو سوات کے دورے پر مدعو کیا، اس سلسلے میں جناب سلیم صافی بھی وفد کے ہمراہ تھے۔ واپسی پر جناب سلیم صافی نے دورے کے دوران اپنے مشاہدات ‘ایک دن سوات میں سونامی کے ساتھ‘ کے عنوان کے تحت اپنے ایک کالم میں بھی قلمبند کیے۔درج ذیل فرضی مذاکرہ متذکرہ دورے کے تناظرمیں ہے:

 

میزبان:  طلعت حسین کا کردار، انداز اور شخصیت۔

مہمان: سلیم صافی، رؤف کلاسرہ، ہارون رشید۔

پروگرام کا آغاز ہوتا ہے، کیمرہ مہمانوں سے ہوتا ہوا میزبان پر۔

میزبان: السلام علیکم ناظرین! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں چاروں صوبوں میں چار مختلف جماعتوں کی حکومتیں قائم ہوئی ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، تبدیلی کی بات ہے، نئی جماعت ہے، نیا معاملہ ہے۔ صوبے کے معاملات کس طرح چلائے جا رہے ہیں؟ یہ تو آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا ۔ مگر بجلی کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر صوبائی حکومتیں بھی سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں اور اسی سلسلے میں صوبے بھی اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت دریائے سوات کے کنارے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔ کچھ صحافی حضرات کو بھی بلایا گیا تھا، ہم نے انہیں آج کے پروگرام میں مدعو کیا ہے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ یہ پانی والی بجلی۔۔۔ معاف کیجئے گا یہ آغاوقار والی بجلی نہیں ہے،یہاں ہائیڈرل کی بات ہو رہی ہے۔ سو اپنے شرکا سے ہم جانتے ہیں کہ ان پن بجلی کے منصوبوں کا کیا سلسلہ ہے۔ پینل کسی تعارف کا محتاج نہیں، جناب سلیم صافی، جناب ہارون رشید اور جناب رؤف کلاسرہ۔

تو پہلا سوال صافی صاحب سے۔ جناب! ان منصوبوں کے بارے میں آپ ہمیں کیا بتانا چاہیں گے؟

 

سلیم صافی: دیکھیں۔۔ بات یہ ہے کہ میرا تو کوئی ارادہ تھا نہیں جانے کا۔ جو تجربے پاکستان کی اسلامی تجربہ گاہ میں ہو رہے ہیں، ان میں اب یہ پانی سے بجلی والے تجربے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ حالانکہ بجلی سے پانی کا تعلق ضرور ہے لیکن پانی کا بجلی سے کوئی تعلق نہیں، آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ بجلی نہیں اس لیے پانی نہیں آ رہا ہے، لوگ غسلخانوں میں پھنس بھی جاتے ہیں، (دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اپنے مخصوص انداز میں سنہری گھڑی کلائی میں دکھائی دیتی ہے)لیکن کبھی آپ نے سنا ہو کہ جناب پانی نہیں آ رہا اس لیے بجلی نہیں آ رہی؟

 

میزبان: لیکن صافی صاحب دیکھیں۔۔۔ یہ تعلق یعنی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یک طرفہ ہے؟ ون سائیڈڈ سمجھیں؟

سلیم صافی: جی بالکل، بات مکمل کرلوں پھر آپ اس پر اپنے سوالات کے ستارے ٹانکیں۔توالتجا یہ ہے کہ جناب عالی! تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کو مل بیٹھ کر سر جوڑ کر سوچنا چاہئے کہ اگر ہر جنرل اسٹور ہر کریانے کی دکان پر نسوار کے ساتھ سیل بھی دستیاب ہیں تو پھر مزید پانی کی بجلی کرکے کیا ملے گا؟

 

میزبان: جی درست، آپ کی مختصر رائے آگئی اس پر اب ہم جناب ہارون رشید صاحب سے تبصرہ حاصل کرتے ہیں۔ جی تو ہارون صاحب! آپ کیا فرماتے ہیں بجلی کی پیداوار کے متعلق؟ کیا ترجیحات ہونی چاہئیں؟

ہارون رشید: دیکھئے جناب عالی۔۔! گزارش یہ ہے۔۔۔ کہ آدمی اپنے فہم پر جیتا ہے۔ یہ جو ناقدین ہیں اکثر تاریخی حقائق سے لاعلم ہیں۔ اب کیا ان کو معلوم ہے کہ کس عباسی خلیفہ نے فلپس کی ٹیوب لائٹ لگوائی؟ عباسی دور میں کب انرجی سیورز کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی؟ بجلی سے چلنے والےچراغ کیونکر رائج ہوئے؟ دھواں وہ نہ دیتے تھے۔ تہذیب جناب عالی جن پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے وہ کوئی ایک دو نہیں ہوتے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ درجنوں ہوتے ہیں۔تو یہ بجلی ہمیشہ ہی سے تہذیبوں کے لیے بہت اہم رہی ہے۔ ہمیں تو جتنے بھی پانی کی ہو سکتے بجلی بنا لینی چاہئے جو پانی ڈوب مرنے کے لیے شریف برادران نے بچا رکھا ہے، اس کی بھی بجلی بنا لینی چاہئے جو بچ جائے وہ ‘ماحفوظ’ (محفوظ) کر لی جائے اور پھر جو فاضل بچ رہے، اسے واپس تاریں لگا کر ہندو بنیے کو بیچنے کی بجائے صدیوں پیچھے عباسی دور میں بھجوا دیاجائے تاکہ اسلامی تاریخ مزید روشن ہوجائے۔ لیکن غور آدمی کم کرتا ہے۔

میزبان: بالکل، توانائی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ صنعت اور اس کے نتیجے میں معیشت کا پہیہ ہی توانائی کے گرد گھومتا ہے۔

رؤف کلاسرہ: دیکھیں طلعت! ہمیں گرونڈ ریالٹیز (گراؤنڈ) کو دیکھنا چاہئے، بیرونی دوروں پر جو ہمارے حکمران بجلی ‘زےیا’ (ضائع) کر رہے ہیں۔ وہاں ایرپورٹ کے لونج (لاؤنج) میں اور کوئی سادہ لونج بھی نہیں وی آئی پی لونج میں جو ان کے لیے کھولا جاتا ہے ساری بتیاں جلا دیتے ہیں اے سی چلا دیتے ہیں۔ اب  اس سے جو بجلی کا زیا (زیاں) ہوتا ہے، اس پر تو کسی نے نہیں سوچا کوئی بات نہیں کرتا۔ مثلا یہ چینا (چائنہ) پر وزیراعظم کا جو دورہ ہے، اس میں ایک رپورٹ کے مطابق چار سوچھپن میگاواٹ بجلی ضائع ہوئی۔

میزبان: چار سو چھپن میگا واٹ؟ کلاسرہ صاحب؟یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟

رؤف کلاسرہ: جی جناب عالی چار سو چھپن۔۔۔! اے سی چل رہے تھے، لیٹیں (لائٹیں) آن چھوڑ کر فلیٹوں (فلائٹوں) کے انتظار میں بیٹھے ہیں بیر(باہر) اخباری نمیندوں (نمائندوں) کے پنکھے الگ چل رہے ہیں جس کے دوسو میگاواٹ طلعت میں آپ کو بتاؤں اس کے علاوہ ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اندھیر نگری ہے تو یہ ملک پھر کیسے چلے گا؟

(ہارون رشید اس دوران آنکھیں بندکیے تسبیح گھماتے عالم استغراق میں ہیں)

میزبان: جی تو ناظرین یہ ہمیں ایک نئی بات پتہ چلی ہے کہ بیرونی دوروں پر بھی حکمران بے تحاشا بجلی ضائع کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اور بھی شدید ہوتا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دورے کی ضرورت کیوں پیش آئی کیا وجہ بنی ہم تحریک انصاف کے کسی رہنما کو فون پر لینا چاہ رہے تھے لیکن کوئی بھی رہنما دستیاب نہ ہو سکا زیادہ تر دھرنوں  میں ہیں یا چرنوں میں ہیں۔ تو ہم صافی صاحب سے بات کرتے ہیں کہ دورے کی شروعات کیسی رہیں؟ جی تو صافی صاحب؟

 

سلیم صافی: شروعات تو ٹھیک تھیں لیکن آخر میں گڑبڑ بڑھتی ہی گئی۔ میں تو جانا نہیں چاہ رہا تھا بہت مصروفیات نے گھیر رکھا تھا فون میں نے بند کر دیا، آن کیا تو پھر وزیراعلی صاحب نے کہا ضرور چلیں۔ انکار اب آدمی رات کے دو بجے کیسے کرے؟ تو صبح نوبجے پھر ہیلی کاپٹر میں ہم وہاں سے نکلے۔ دوتین لوگ تھے۔خان صاحب کا اپنا ہیلی کاپٹر تھا جہانگیر ترین صاحب والا۔واپسی پر البتہ وزیراعلی صاحب کے ہیلی کاپٹر میں درجن بھر ممبران قومی اسمبلی آن گھسے۔ پائلٹ نے بہت التجائیں کی کہ جناب یہ ہیلی کاپٹر اتنے وزن سے نہیں اڑے گا، یہ صرف وزیراعلی صاحب کا عادی ہے، اس میں صرف ایک وزیراعلی آ سکتا ہے۔ لیکن وہ نہ مانے۔ ضد پر ہیلی کاپٹر اڑایا گيا تو وہ نہیں اڑا۔ اب آپ بتائیے خالد کہ ایسے حالات میں صوبہ کیسے چلے؟

 

ہارون رشید: (چونک کر قدرے بلند آواز میں): دیکھیں۔۔۔ گزارش یہ ہے کہ  ان وجوہات کا پتہ لگانا چاہئے جس کے سبب ہیلی کاپٹر اڑ نہ سکا۔ کیا الیکشن کمیشن سویا ہوا تھا؟ صافی صاحب کو بھی سمجھنا چاہئے کہ حضوروالا! پرواز اپنے پروں پہ کی جاتی ہے نہ کہ ہیلی کاپٹروں کے پروں پہ بھروسہ کیا جائے۔اگر ان کو جانا ہی تھا تو واسکٹ میں سے اپنے پر نکال لیتے کیا مضائقہ تھا؟ (تیز آواز میں) ان کے پر جلتے ہیں؟ ہیلی کاپٹر کے اڈے سے آگے بس کا اڈہ بھی تھا ہم نے تو اپنی جوانی میں کبھی کسی سے ہیلی کاپٹر کی لفٹ نہیں لی۔ (آوازمزید بلند میز پر ہاتھ مارتے ہوئے) کیسے مان لیں کہ دھاندلی نہیں ہوئی؟ کمال کرتے ہویار؟او کون سا ہیلی کاپٹر؟ کیا ہیلی کاپٹر ہیلی کاپٹر؟ دنیا کے کون سے انقلاب میں ہیلی کاپٹر کا اڑنا ضروری ہے؟ حد ہوگئی یار۔ کوئی معقول بات کریں!

(میزبان قدرے شسدر ماحول کے تناؤ کے اثرات چہرے پر)

رؤف کلاسرہ: دیکھیں طلعت میں تو کہوں گا اس میں عوامی نیمندوں(نمائندے)  کا بھی قصور ہے یہ اتنا مال کھاتے ہیں کہ اتنے اتنے ان کے وزن ہیں کہ زمین کی قوت ان کے اوپر ذرا شدت سے عمل کرتی ہے نیوٹن کے قوانین بھی بے چارے انتہاپسندی کا شکار ہو جاتے ہیں پھر بس زمین کا بھی دل چاہتا ہے ان کو جتنا کھینچ سکے کھینچ لے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اندر ہی گھسا لے۔ اب بے چارہ ہیلی کاپٹر نیوٹن کی مانے یا صوبائی حکومت کا بوجھ ڈھوئے آپ مجھے بتائيں۔

میزبان: بالکل یہ پہلو بھی ہے کلاسرہ صاحب لیکن۔۔۔

ہارون رشید: (تیز آواز میں میز پر ہاتھ مارتے ہوئے) کوئی مال نہیں کھاتے کون مال کھاتا ہے؟ کون سا مال؟ حضور والا وہ دوسرے صوبوں کی حکومتیں یہ تو ابھی بنی ہیں یہ کہاں سے کھا گئے؟ کمال کرتے ہیں یار حد ہوتی ہے کسی بات کی! کوئی معقول بات کرو یار!

میزبان:( گفتگو سمیٹتے ہوئے) ناظرین! پانی سے بجلی پیدا ہو نہ ہو، لیکن یہاں آگ ضرور لگ جائے گی، بہتر ہے کہ ان موضوعات کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھا جائے، اس وقت اپنے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔