Category Archives: News

Gallup Survey on Panama Leaks

Gallup Pakistan released the results of the survey today on Panama Leaks issue. The complete survey with detailed methodology can be accessed from their website.

ballot

Polling For By-Elections In NA-154 On Wednesday

Polling for NA-154 by-elections on Wednesday
Election Commission will deploy army troops at polling stations to ensure a smooth and peaceful polling process

Election campaign for by-elections in NA-154 Lodhran will end at 12 tonight. The polling will be held on Wednesday.
The aspiring candidates are making last ditch efforts to convince voters in their favour.
Meanwhile, Election Commission of Pakistan has completed arrangements for the by-elections.
According to the Election Commission, twenty candidates are contesting the by-elections.
Out of them, twelve are independents and eight contesting on tickets of different political parties.
The Commission has also decided to depute Pakistan Army inside and outside polling stations to ensure free, fair and transparent polling.

shc2

Rangers Appeal In Dr Asim Hussain Case


Rangers appeal against change of prosecutor in Dr Asim Hussain case.
A Division Bench of the Court headed by Justice Naimatullah Phullapoto will hear the case.

KARACHI: Sindh Rangers have appealed against change of prosecutor in Dr. Asim Hussain Case in Sindh High Court.
Rangers have pleaded in the application that decision of change of the prosecutor is based on mala fide intention therefore it should be declared as null and void.
The Sindh High Court has accepted the Rangers’ plea for hearing. A Division Bench of the Court headed by Justice Naimatullah Phullapoto will hear the case.
It may be recalled that the Sindh government has replaced Mushtaque Jahangiri with Nisar Ahmed Durani as new public prosecutor in the Dr. Asim case.

Powerlines

10,000MW To Be Added To National Grid: Finance Minister


Finance Minister says Government will add 10,000MW electricity to national grid during its tenure.
Work underway on 24000 MW power projects.

LAHORE: Finance Minister Ishaq Dar says the Government will add ten thousand MW of electricity in the national grid during its tenure.
Addressing a function in connection with Orange Line Metro Train project in Lahore on Monday, he said work is underway on power projects of twenty-four thousand MW.
The Minister described the Orange Line Metro Train project as historic.
He said under the leadership of Prime Minister Nawaz Sharif, the country is moving forward in the right direction. He said economic indicators have been changed from minus to plus as a result of steps taken by the government.
Speaking on the occasion, Minister for Planning and Development Ahsan Iqbal said China-Pakistan Economic Corridor will usher in a new era of progress and prosperity for all the provinces of the country. He said energy projects being implemented under the CPEC, will help overcome shortage of energy in the country.

CPECRail

New Railway Track To Be Build Under CPEC

Government plans new railway tracks under CPEC
New railway tracks will be laid from Gwadar to Quetta and Jacobabad via Besima.

The Government has planned laying and upgradation of Railway tracks under China-Pakistan Economic Corridor.
Under the plan, new railway tracks will be laid from Gwadar to Quetta and Jacobabad via Besima.
Five hundred and sixty kilometers track will be laid from Bostan to Kotla Jam on Main Line-II via Zhob and Dera Islamil Khan. In addition, six hundred and eighty two kilometers new track will also be laid from Havelian to Khunjrab.
According to the plan, upgradation of 1872 kilometers railway track from Karachi to Peshawar via Kotri, Multan Lahore and Rawalpindi including Taxila-Havelian with dualization of track from Shahdara to Peshawar will ALSO be carried out.
One thousand two hundred and fifty-four kilometer railway track from Kotri to Attock City via Dadu-Larkana-Jacobabad-D.G.Khan-Bhakkar-Kundian will also be upgraded.

wpid-wp-14495874963551

Hamid Mir’s Twitter Account Hacked

The twitter account of renowned journalist Hamid Mir has been hacked. Few absurd tweets have been made through this account. One tweet regarding the Prime Minister of Pakistan Nawaz Sharif and Indian foreign minister Sushma Siraj was made which suddenly gathered attention of the tweeps due to it’s absurdity.

wpid-psx_20151208_203050.jpg

It has been confirmed by Geo News and various colleagues of Hamid Mir that the account is hacked as well as the mobile number associated with the account is also blocked.

abikcol

London Plan – 7

لندن پلان – حصہ ہفتم  

یہ آوازیں تھیں عمران خان اور عارف علوی کی ۔

عمران خان : یس آ ۔۔۔ ڈاکٹرصاحب ۔

عارف علوی: بھائی صاحب یہ درخواست یہ تھی کہ یہ پی ٹی وی کے اندر گُھس کر نشریات بھی بند ہوگئی ہے۔ تو وہ تو فریز ہیں۔

عمران خان: اچھا ہے ۔۔۔۔ اچھا ہے۔ یہ اسی کے حقدار ہیں۔ اس ****** کوچھوڑنا نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ نوازشریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیاجاسکے۔ ہمیں دکھانا ہے کہ تمام صورتحال ان کے قابو سے باہرہوچکی ہے۔ کیونکہ ۔ ۔ ۔ ورنہ یہ استعفیٰ نہیں دے گا۔ یہ کل ڈال رہے ہیں اُس کے اوپر وہ جو جوائنٹ سیشن ہے۔

عارف علوی: ہاں ہاں اُسی پر ڈال رہے ہیں۔

عمران خان : میں چاہ رہا ہوں کہ اُس سے پہلے استعفیٰ دے۔

عارف علوی: اچھا رات کو ہم نے اپنا ساری پریس ریلیز بھی تیار کرلی تھی کہ ایم کیوایم والے جب فون کریں گے الطاف۔ ہم انتظار کرتے رہے اڑھائی تین بجے لیکن فون آیا نہیں۔ ہم نے پریس ریلیزبھی تیار کرلی تھی اور ہم نے کہنا کیا ہے اور ادھر سے کیا آنا تھا۔ فاروق ستار سے بھی کافی تفصیل سے بات ہوئی ۔۔۔

عمران خان : ابھی کوشش کرلیں کیونکہ آج بڑا اہم دن ہے

عارف علوی : دیکھیں میں ۔۔۔ میں ۔۔ میں ۔۔۔ دے رہا ہوں

عمران خان: آپ کو آج زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنا ہے تاکہ کل تک نتیجہ نکل سکے۔

عارف علوی: یہ تو بات ہے۔ میں دے رہا ۔۔ چلتا ہوں ابھی

عمران خان : او۔ کے۔

عارف علوی : خدا حافظ

عمران خان اور عارف علوی کی افشا ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو

**********************************************************

دسمبر 2012 کے اواخر میں جب علامہ طاہرالقادری “ سیاست نہیں ریاست بچاو” کے نعرے کے ساتھ پاکستان میں نازل ہوئے تو یہ ان کی سیاست میں ایک لمبے عرصے کے بعد غیرمتوقع واپسی تھی۔ شیخ الاسلام کی یوں اچانک آمد بعد میں ڈی چوک پر ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگئی اور اس سارے کھیل کا مقصد پاکستان میں ہونے والے متوقع عام انتخابات کو ٹھکانے لگانا تھا۔ سب سے دلچسپ پہلو اس کھیل کا یہ تھا کہ پاکستانی میڈیا اس کھیل کے اندرعلامہ طاہرالقادی کے ماضی کو بھولتے ہوئے ان کے تازہ تازہ تیارکردہ پیغام پریقین کرنے کا درس دیتا رہا۔ لیکن جو بات ہمیشہ سے نظرانداز رہی وہ یہ تھی کہ ہرطرح کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود بھی پاکستان کی عوام نے شیخ الاسلام کی پرفریب باتوں پر دھیان دینا گوارہ نہ کیا۔ ڈی چوک پر یہ دھرنا تین دن تک جاری رہا اور پھر اچانک ہی ایک لالی پاپ نما ڈھیلے ڈھالے معاہدے کے طے ہوتے ہی یہ سہ روزہ سمیٹ لیا گیا اور شیخ الاسلام واپس کینیڈا کا رستہ اختیار کرتے پائے گئے۔ کیا یہ کہانی واقعی ہی اتنی سادہ تھی؟ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس دھرنے کا بھی ایک پس منظر تھا اور اس کا بھی ایک ہدایت کار موجودتھا۔ 2009 کے موسم گرما کے بعد سے عمران خان کی صورت میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنے لیے ایک نیازمند وزیراعظم کی تراش خراش میں دن رات ایک کیے ہوئی تھی۔ جنرل احمدشجاع پاشا اس تمام مشق کی باگ دوڑ خود سنبھالے ہوئےتھے اور یہ بات اب ڈھکی چُھپی نہیں رہی۔ موصوف اکثر لوگوں کو تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا حکم نما مشورہ دیتے پائے جائے لیکن ساتھ میں ہی یہ کہانی بھی سناتے کہ یہ مشورہ میں ذاتی حیثیت میں دے رہا ہوں اور جنرل کیانی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ۔ کوئی سادہ طبعیت شخص تو اس بات پر یقین کرلے گا لیکن پاکستانی تاریخ سے ذرا سی واقفیت رکھنے والے لوگ بھی اس دعویٰ پر یقین کرنے سے انکار ہی کریں گے۔ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر فائز کرنے میں ہماری فوجی قیادت کس قدر سنجیدہ تھی، اس بات کا اندازہ اسی امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جیسے ہی ان کی صفوں کےاندر اس بات کا یقین پُختہ ہوگیا کہ عمران خان کے لیے انتخابات جیتنا ناممکن ہے ، جس کی توثیق دسمبر 2012 میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے بھی کردی تھی جب پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب میں ہونے والی آٹھ نشستوں میں سے سات پر بھاری فرق سے فتح حاصل کر لی تھی، تو نوازشریف کی اقتدار میں ایک بار پھر آمد کا رستہ روکنے کے لیے انتخابات کا ہی بوریا بستر گول کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ان دنوں افواج پاکستان کے اعلیٰ افسران کی اکثریت سرعام یہ بات کہتے پائی جاتی کہ پاکستان کے دو صوبوں میں تو جنگ چل رہی ہے۔ تیسرے کے نتائج کا ہمیں پہلے سے ہی علم ہے تو انتخابات کیا صرف پنجاب کے اندر ہونگے؟۔ اس سوچ کا نتیجہ علامہ طاہرالقادری کی آمد کی صورت میں نکلا۔ چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں، جو کہ خود کچھ عرصے بعد سابق ہونے جارہے تھے، کے حکم پر اس دھرنے کے انتظامات بھی جنرل ظہیرالاسلام نے ہی کیے تھے۔ ڈی چوک پر تشریف فرما اداکار اور آبپارہ میں تشریف فرما ہدایت کار کے درمیاں پیغام رسانی کے فرائض شیخ رشید انجام دیتے رہے ۔ بہت سی “امیدوں” کے ساتھ دیے جانے والے اس دھرنے میں عمران خان کو بھی شمولیت کا حکم ملا تھا اور وہ اس فعل کے لیے اپنا بیانیہ تیار کرتے ہوئے تحریک انصاف کےکارکنان کو تیار رہنے کا حکم بھی جاری کرچکے تھے۔ لیکن نوازشریف نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کو رائیونڈ میں اکٹھا کرکے واضح الفاظ میں پیغام دیا کہ انتخابات کا التواء کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا – یہ اجتماعی پیغام اتنا زود ہضم ثابت ہوا کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہی کینیڈوی انقلاب کا بوریا بستر لپیٹ لیا گیا۔ لندن پلان کے حوالے سے جیسے ہی علامہ طاہرالقاددی کا نام سامنے آیا تو پاکستانی عوام کے ذہنوں میں ان کے پہلے دھرنے کی کہانی ایک دم سے تازہ ہوگئی۔ صرف علامہ طاہرالقادری کی شمولیت ہی یہ بات ثابت کررہی تھی کہ اس کھیل کے کرداروں کی ڈوریں کہاں سے ہل رہی ہیں۔ شیخ الاسلام کے بارے پاکستان کے اندر ایک عام تاثر یہی ہے کہ وہ انتہائی موقع پرست واقع ہوئےہیں۔ ان کی پوری تاریخ یہاں دہرانا تو ممکن نہیں لیکن ان کی جانب سے دیے جانے والے پہلے دھرنے کی یادوں سے ہی اکثرلوگوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اب کی بار وہ کونسے گُل کھلانے جارہے ہیں۔ علامہ صاحب کی حالت یہ ہے کہ ان کے ساتھ ان کے اپنے مریدین اور ان کے ادارے کے ملازمین کے علاوہ کوئی دوسرا شخص چلنےکو تیار نہیں ہوتا۔ لندن پلان کے اندر شامل ان کے ساتھی اور بعد میں کزن کے رُتبے پر فائز ہونے والے عمران خان خود ان سے کنی کتراکے گزرجاتے اگر ہدایتکاروں کی جانب سے واضح حکم نہ ملا ہوتا۔ علامہ طاہرالقادری کی اس کھیل میں شمولیت ان کی اپنے مریدین کو لانے اور انہیں لمبے عرصے تک جمائے رکھنے کی نیت سے کی گئی تھی لیکن علامہ صاحب کے ساتھ ان کی شہرت نے اس تحریک کے آغاز سے قبل ہی اس میں شرمساری کا جو عنصر شامل کردیا تھا اس پر کسی بھی موقع پر قابو نہیں پایا جاسکتا تھا اور ایسا ہی ہوا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لانگ مارچ کے دوران بھی ان کا جلوس اپنے کزن کے مقابلے بہت بڑا تھا اور دھرنوں کے دوران بھی ان کے جلوس کے حاضرین کی وجہ سے ہی اس تھیٹر کا بھرم قائم رہ سکا لیکن اس مقصد کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ شروع سے مخالفین کو انگلیاں اٹھانے کا موقع فراہم کرتا رہا۔ اپنے مریدین کو زبردستی بٹھائے رکھنے کے ساتھ اقلیتی برادریوں سے کرائے پرمستعار حاضرین جمع کرنے کی کہانیاں بمع ثبوت سامنے آتی رہیں۔ انتہائی بُرے حالات میں وقت گزارتے ان حاضرین کے روزہ مرہ کے معاملات نے مقامی آبادی کو اس جمگھٹے سے شدید متنفر کردیا۔ شیخ الاسلام کی جانب سے اس کھیل میں شمولیت صرف اور صرف فوجی افسران کے حکم پر ہوئی تھی اور دھرنوں کے دوران بھی ان کا یہ عالم تھا کہ اگر دو دن تک انھیں کسی اعلیٰ فوجی افسر کا فون نہیں آتا تو ان کی جانب سے پہلی دھمکی یہی ہوتی تھی کہ ہم اپنا بوریا بستر سمیٹ کر روانہ ہورہے ہیں۔ بالآخر انھوں نے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی جنرل ظہیرالاسلام نے آبپارہ میں واقع اپنا دفتر خالی کیا، علامہ طاہرالقادری نے ڈی چوک خالی کردیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لندن پلان کی دیوار کی تعمیر کے دوران علامہ طاہرالقادری کی شمولیت کو اگر پہلی ٹیڑھی اینٹ گردانا جائے تو بالکل بھی غلط نہ ہوگا۔

عمران خان لندن پلان نامی سازش کے کھیل میں مرکزی کردار رہے ہیں۔اسی طرح لندن پلان کی ناکامی کا مرکزی کردار بھی کسی کو ٹھہرایا جاسکتا ہے تو وہ بھی عمران خان ہی ہونگے۔ انھیں اس بارات کو دولہا بنایا گیا تھا۔ عام تاثر یہی ہے کہ لندن پلان کی کامیابی کی صورت میں سب سے زیادہ فائدے میں بھی وہی رہتے کیونکہ وزارتِ عظمی کا وہ تاج ان کے سر پر سجتا جو انتخابی رستے سے ان کے حصے میں آتا نہ پہلے دکھائی دیتا تھا اور آج کے حالات میں تو یہ ناممکنات میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن لندن پلان پر عملدرآمد کے مختلف مراحل پر انھوں نے جس انداز سے اس کھیل کی قیادت کا ڈھونگ رچایا اس سےعمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہا ۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ عمران خان نے اس سارے ڈھونگ کا جواز 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کو بنایا لیکن یہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب کےعوام جانتے ہیں کہ انھوں نے کسے ووٹ دیا تھا اور ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا شخص ہی وزارت عظمیٰ کی مسند پر تشریف فرما ہے نہ کہ کوئی دوسرا۔ لیکن عمران خان نے اس مینڈیٹ کی توہین کرکے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے وہ جرم صرف ناسمجھی کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اس کے پیچحھے ان کی وہ غیرسیاسی اور غیرجمہوری سوچ تھی جس کے تحت اگر وہ وزارت عظمیٰ کی شیروانی زیب تن نہیں کرسکتے تو پھر اس کا حق وہ کسی دوسرے کو بھی دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے افواج پاکستان کا کندھا استعمال کرنے میں نہ تو ماضی میں گریز کیا اور نہ ہی اس دفعہ۔ لانگ مارچ اور پھر دھرنے کے آغاز سے پہلے اور اس کے دوران بھی ان کی تمام تر حرکیات سے واضح سے تھا کہ وہ ایسا ماحول تیار کرنے کے درپے تھےجس کے تحت افواج پاکستان ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر سے دخل انداز ہوتی ، نوازشریف کو ہتھکڑیاں لگا کر گُمشدہ کرتی اسلام آباد سے اور چند دن بعد انھیں کراچی سے گرفتارکرتے ہوئے لانڈھی جیل منتقل کردیتی۔ اس کے بعد عمران خان کو سیلیوٹ مارتے ہوئے ایوان وزیراعظم کی چابی ان کے حوالے کرتے ہوئے خود بیرکوں میں واپس چلی جاتی۔ یہی وہ سوچ تھی جس کے تحت وہ راحیل شریف کے ایک بلاوے پر باچھیں پھیلائے بھاگے بھاگے آرمی ہاوس پہنچے تھے لیکن نتیجہ ہاتھ کو آیا منہ کو نا لگا کے مصداق رہا۔ عمران خان کی سوچ صرف غیرسیاسی ہی نہیں بلکہ ناپُختہ بھی ہے۔ وہ سیاسیت کو ابھی تک کسی کرکٹ میچ کے دوران پھینکا گیا ایک باولنگ سپیل ہی سمجھتے ہیں جس میں ان کی چند اچھی گنیدوں کا نتیجہ فوری طور پر کسی وکٹ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ انھیں ریاستی معاملات کی کتنی سمجھ ہے ۔۔۔ اس کا اندازہ لگانے کے ان کی عارف علوی کے ساتھ ہونے والی وہ گفتگو ہی کافی جس میں وہ اس خواہش کا اظہار کررہے ہیں کہ نوازشریف کو پارلیمان کےمشترکہ اجلاس سے پہلے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا جائے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ ابھی تک اپنے مخالفین کی سیاسی حیثیت تو دور ایک وزراعظم کو حاصل شدہ اختیارات اور ان کے سامنے موجود آپشنز سے ہی واقف نہیں ۔اگر ایسا نا ہوتا تو وہ ایسی سیاسی حرکیات سے گریز ہی کرتے جس میں پاکستان کے ایک شہر میں واقع ایک کلومیٹر کے اندر ایک سویلین ادارے پر پر چند مسلح افراد کے قبضے کے بعد ملک کے کئی اداروں پر اختیار رکھنے والا وزیراعظم استعفیٰ دینے پر مجبورکیاجاسکتا ہو- اسی طرح انھوں نے ہمیشہ کی طرح غیرمنطقی مطالبات کے ساتھ ساتھ بے بنیاد، کھوکھلے اور جذباتی نعروں کی بھرمار کیے رکھی۔ ان کی جانب سے جس دعوے نے سب سے زیادہ ہلچل پیدا کی وہ” ہفتے کی رات تک ایمپائر کی انگلی کھڑی ” ہوجانے کا تھا۔ آپ کو یہ جان کر شاید بالکل بھی حیرت نہ ہو کہ یہ دعویٰ کسی سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی یا ٹھوس معلومات کی بنیاد نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے پیچھے ان کے موجودہ پیر اور بعد میں نکاح خواں کا رُتبہ پانے والے “درویش” کی جانب سے نکالی گئی فال کارفرما تھی۔ یہ ان کی زمینی حقائق سے نارسائی ہی تھی جس کے تحت وہ خودکو مقبولیت کی اس معراج پر فائز سمجھتے ہیں جہاں اگر وہ شہر کےاندر کھڑے ہوجائیں تو لاکھوں لوگ ان کے گرد جمع ہوجائیں۔ اسی سلسلے کی ابتدائی اقساط میں ذکر کیا جاچُکا ہے کہ کس طرح انھیں منصوبہ سازوں کی جانب سے مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ لانگ مارچ کا آغاز علامہ طاہرالقادی کے ساتھ مل کر کریں تاکہ لوگوں کی متوقع بے رُخی پر پردہ ڈالا جاسکے۔ لیکن انھیں اپنی مقبولیت کا زعم لے ڈوبا اور انھوں نے اکیلا ہی نکلنے کا فیصلہ کرکے اپنے پاوں پر وہ کلہاڑی ماری جس کا نتیجہ لانگ مارچ کے آغاز سے قبل ہی انھیں ناکام کرگیا۔ لیکن جو بات ان کےلیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی وہ ان کی جانب سے کی گئی وہ بیہودہ گفتگو تھی جس میں انھوں نے پاکستان کے اندر ہر اس شخص ، جس نے ان کی ہاں میں ہاں ملانے سے احتراز کیا، کی پگڑی اچھالنے میں ذرا دیر نہ لگائی ۔ انکی زبادن درازیوں سے کوئی محفوظ نہ رہ سکا لیکن اس کا اثرالٹا ہوا۔ حکومت کے وہ تمام حامی جو کہ کسی نہ کسی وجہ سے حکومت سے ناراض ہوچکےتھے وہ بھی عمران خان کی اخلاق باختہ گفتگو کے نتیجے میں حکومتی ہمدردوں میں دوبارہ سے شامل ہوگئے۔ عمران خان کو اپنی زبادن درازیوں کے سبب گوجرانوالہ اور گکھڑ جیسے مزید واقعات کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا اگر مسلم لیگی قیادت اپنے کارکنان کو مسلسل روکے نہ رکھتی۔ اورجب عمران خان کو اپنی حکمت عملی کی کامیابی کا کوئی رستہ نظر نا آیا تو انھوں نے ایسا کھیل کھیلنے سے بھی گریز نہ کیا جس کے اندر پاکستانی شہر بند ہوتے، عوام کے کاروبار و روزگار تباہ ہوتے،لاشیں گرتیں اور وہ بھی صرف اس لیے کہ عمران خان ایک دفعہ شیروانی زیب تن کر سکیں۔ شیروانی پہننا تو انھیں نصیب ہوئی لیکن وہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے لیے نہیں بلکہ نکاح نامے پر دستخط کرنے کے لیے۔ قصہ مختصر یہ کہ لندن پلان کی کامیابی کے اگر کوئی امکانات تھے بھی تو وہ عمران خان نےاپنی لایعنی حرکتوں سے ختم کرڈالے۔ محاورہ ہے کہ بندر کے ہاتھ میں اگر بندوق پکڑادی جائے تو وہ پہلی گولی اپنے پاوں پر چلاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ لندن پلان کے “قائد” نے کیا۔

افواج پاکستان کے ذکر کے بغیر تو لندن پلان کی کہانی مکمل ہو ہی نہیں ہوسکتی۔ لندن پلان کی تیاری، اس پر عملدرآمد اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کو ہدایات دینے میں پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنیسی کے ہی کچھ لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ کون تھے اور ان کے کیا مقاصد تھے ۔۔۔ اس پر تفصیلی بات ہوچکی ہے۔ لیکن اگر یہ کہاجائے کہ یہ حمایت صرف ان بیس بائیس لوگوں تک ہی محدودتھی تو یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہوگی۔ سب سے اہم مسئلہ تو یہ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کا سربراہ اس سازش کا سرغنہ بنا بیٹھا تھا لیکن آرمی چیف کو خبر ہی نہ تھی۔ کئی فوجی جرنیل اس ساری رام کتھا میں ۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمرکاب تھے لیکن آرمی چیف کو خبر ہی نہ تھی۔ ملک کا وزیرداخلہ وزیراعظم اور سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ ، آرمی چیف کے سامنے تمام تر ثبوت رکھتا ہے اور آرمی چیف اس وقت بھی اپنی لاعلمی کا ہی اظہار کرتاہے۔ افواج پاکستان کے بے شمار اعلیٰ افسران بمع اہل و عیال ان دھرنوں میں شریک ہوتے رہتے ہیں اور آرمی چیف کو خبر ہی نہیں۔ افواجِ پاکستان کا کوئی نہ کوئی اعلیٰ افسر ہر دوسرے تیسرے روز علامہ طاہرالقادری کو فون کرکے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے پر مامور ہوتا ہے اور آرمی چیف کو خبر ہی نہیں۔ ان کے ماتحت افسران میڈیا چینلز اور اخبارات کی ہیڈلائنز تک کے فیصلے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اور آرمی چیف کو خبر ہی نہیں۔ خُدا خُدا کرے کُفر تب ٹوٹتا ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوازشریف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینے کے بعد ان سمیت کئی لوگوں کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرچُکے ہیں۔ ایسےوقت میں منصوبہ سازوں کے سرغنہ کی گواہیاں دلوا کر اپنی بے گناہی ثابت کی جاتی ہے اور پھر دھرنوں کے قائدین کو بُلا کر انھیں ناکامی کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ راحیل شریف نے اس ماحول سے فائدہ اٹھانے سے گریز کیا لیکن کیا واقعی ہی انھوں نے گریز کیا یا پھر ان کے خیال میں ایسے کسی اقدام کے لیے انھیں مناسب ماحول دستایب نہیں ہوسکا؟ اگرچہ اس بات کو نگلنا خاصا مشکل ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کی سطح یہ سب ہوتا رہے اور آرمی چیف کو کانوں کان خبر نہ ہوسکے لیکن ہم پھر بھی اس سلسلے میں پر خوش گمانی کا رستہ اختیار کرتے ہوئے انھیں اس بات کا کریڈٹ تو دے سکتے ہیں کہ انھوں نے ملک کے اندر ایک اور آمریت کی بنیاد نہیں رکھی۔ لیکن یہ شکوہ کرنے میں بھی خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں کہ 28 اگست کے دن جو کچھ ہوا ۔۔۔ اس کے بعد اگر وزیراعظم نے افواج پاکستان کی لاج رکھی تھی تو افواجِ پاکستان کو بھی ایسی ہی خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کی لاج رکھنی چاہئیے تھی نہ کہ آئی ایس پی آر کے ذریعے جمہوریت کُش حملے کا سامنا کرتے وزیراعظم کے دامن میں ایک اور چھید کیا جاتا۔ کیا وجہ تھی کہ جب پاکستان کی پولیس کے جوان دھرنے والوں کوعطا کردہ “مجاہدین” کے ہاتھوں پِٹ رہے ہوتے تھے تو فوج اور رینجرز کے جوان کچھ دور کھڑے یہ مناظر دیکھ رہے ہوتے تھے لیکن ان کی مدد یا بچاو لیے ایک انچ قدم آگے نہ بڑھاتے؟ پی ٹی وی پر حملہ آوروں کو پاک فوج زندہ باد کے نعروں کے درمیان گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ کیوں پاک فوج کے پانچ جرنیل آرمی چیف پر دباو ڈالتے رہے کہ ملکی بھاگ دوڑ سنبھال لی جائے؟ کیوں کورکمانڈرکانفرنس کی پریس ریلیزمیں دھرنوں والی سرکار کے ساتھ رم رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا؟ کہانی بڑی واضح ہے اور اس سے زیادہ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے لندن پلان کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ فوج کی جانب سے اس بارے میں واضح فیصلہ نا کرسکنا بھی ہے۔

لندن پلان کا نشانہ تو پاکستان کی جمہوریت تھی لیکن اس کے نتیجے میں جس شخص کو سب سےزیادہ صعوبتیں برداشت کرنا پڑتیں اس کا نام ہے نوازشریف۔ نوازشریف اپنے ماتحت فوجی افسروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے اور پھر انتہائی مشکل حالات سے گزرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ایوان وزیراعظم کے اندربندوقوں کے سائے میں استعفیٰ کا مطالبہ اور اس کے جواب میں نوازشریف کا انکار ، ملک کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ان کا گُمشدہ ہوجانا، ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ایک خستہ حال ہوائی میں جہاز میں سفر، گُمشدگی اسلام آباد سے اور گرفتاری کراچی سے ، بکتربند گاڑیوں میں عدالتوں تک لایا جانا اور پھر پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے سنانے والے ججوں کے سامنے پیشیاں، اپنے وکیلوں کا قتل ہونا اور پھر پی سی او زدہ عدالتوں سے سزا پانا تو ان کے لیے ماضی کا قصہ تھا۔ اب کی بار تو انہیں سڑکوں پر گھیسٹتے ہوئے سزا دینے کا ارادہ بنایا گیا تھا۔ نوازشریف اس تمام منصوبہ بندی سےواقف تھے لیکن پھربھی ان تمام خطرات کے باوجود وہ ایک دفعہ پھر سے انتہائی ثابت قدم رہے اور اس دباو کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے مسلسل انکاری رہے جس کا انھیں سامنا تھا۔ انھوں نے نہ صرف جنرل ظہیرالاسلام کو توسیع دینے سے انکار کیا بلکہ فاتح کارگل کو بیرون ملک جانے کی اجازت سے بھی انکار عین اس وقت کیا جب باہر بیٹھے لوگ پھانسی کے پھندے کے لیے ان کے گلے کا سائز ماپنے میں مصروف تھے۔ مخالفین کی جانب سے انتہائی گھٹیا، بے ہودہ اور ذاتی حملوں پر مبنی الزامات کے بوچھاڑکا مقابلہ بھی انھوں نے انتہائی تحمل مزاجی اور شائستگی کے ساتھ کیا۔ تمام تر دباو کے باوجود بھی وہ نہ صرف اپنی جماعت کو اپنے ساتھ متحد رکھنے میں کامیاب رہے بلکہ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی جیتتے ہوئے مخالفین کو تنہا کرکے رکھ دیا۔ ان کی صفوں میں چوہدری سرور جیسے لوگ بھی شامل تھے جو کہ گورنرہاوس کے اندر تو نوازشریف کی وجہ سے موجود تھے لیکن ان کی تمام تر ہمدردیاں عمران و قادری کے ساتھ تھیں۔ ان کی صفوں میں چوہدری نثار علی خان جیسے لوگ بھی مجود تھے جو اپنی تمام تر ناراضگی کے باوجود بھی ان کے ساتھ مخلص رہے۔ یہ چوہدری نثار علی خان کی ہی حکمت عملی تھی جس کے تحت لانگ مارچ کے آغاز تک گومگو کی کیفیت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برقرار رکھی گئی۔ اور یہ گومگو کی کیفیت ہی تھی جس کے تحت تصادم کے ڈر سےعمران خان کی حامی رنگ برنگی مخلوق لاہور میں ان کے ساتھ نکلنے سے گریزاں تھی۔ سب سے اہم بات تو یہ تھی کہ اس کھیل سے نمٹنے کے لیے نوازشریف نے تنہا فیصلے کرنے کی بجائے اپنے حکومتی و جمہوری اتحادیوں کے ساتھ مشاورت مسلسل جاری رکھی اور چند ایسے فیصلے بھی کیے جن کی حمایت ان کی اپنی جماعت و حکومت کے چند انتہائی بااخیتار لوگ بھی کرنے سے گریزاں تھے۔ اگرچہ ان کی اس مشاورت کا حصہ سراج الحق بھی تھے جو اس تمام کھیل کے دوران وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے رہے لیکن یہ اسی مشاورت کا ہی نتیجہ تھا کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ لندن پلان کمزوری کا شکار ہوتا گیا۔ بالآخر اس کے کرداروں کی حالت یہ ہوگئی کہ کنٹینردو سے ایک ہوگئے اور پھر باقی بچنے والے کنٹینر پر کھڑے لوگوں کی تعداد اس کے سامنے موجود حاضرین سے بھی دوگنی ہوگئی۔ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اپنے مخالفین کی ضروت سے زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے مقابلے میں نوازشریف جس صبروتحمل سے ان کے پھولے غباروں سے ایک ایک کرکے ہوا نکالتے رہے ، اس نے اس سازش کی قدرتی موت کا ساماں کردیا۔

لندن پلان کیوں ناکام ہوا؟ اس کے کئی وجوہات ہیں جس میں سے چیدہ چیدہ کا ذکر یہاں کردیا گیا۔ لیکن لندن پلان کو ناکام بنانے میں جو محرک سب سے اہم رہا وہ تھا میثاق جمہوریت اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا سیاسی و جمہوری اتحاد ۔ اس اتحاد میں شامل سیاستدانوں کی اکثریت بار بار کی آمریتوں سے تنگ آکر اب فصلہ کرچُکی ہے کہ چاہے آسمان گر پڑے ، ہم نے حکومتیں بنانے اور گرانے کا اختیار اب خفیہ ہاتھوں کے حوالے نہیں کرنا۔ اس دفعہ اس اتحاد میں اگرچہ اپنے ذاتی تعلقات کی وجہ اعجازالحق بھی شامل تھے لیکن اس اتحاد کا دائرہ جس قدر پھیلے گا ، پاکستانی جمہوریت کے اسی قدر بہتری کی خبر ہوگی۔ بہت سے لوگ لندن پلان کی ناکامی کاذمہ دار جاوید ہاشمی کو ٹھہراتے ہیں لیکن میرے نزدیک جاوید ہاشمی کا اس کارنامے میں کردار اتنا ہی تھا جتنا کسی انگلی کٹواکر شہیدوں میں نام لکھوانے والے شخص کا ہوسکتا ہے۔ لندن پلان کی ناکامی کے ذمہ دار وہ پاکستانی عوام ہیں جو ایسے ہر کھیل کو اب بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کھیل تماشوں سے اس قدر تنگ ہیں کہ 2013 کے انتخابات کے دوران تحریک انصاف کو راولپنڈی اسلام آباد سے لاکھوں ووٹ دینے والے عوام نے ۔۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے ہی اس پُتلی تماشے کو ان لاکھوں ووٹوں میں سے دس فیصد حمایت بھی بہم نہ پہنچائی۔ مسلسل جشن کے اعلانات، انقلاب کی دُہائیوں اور اہم اعلانات کے اعلانات بھی مدد نہ کرسکے اور ملکی تاریخ کا دھارا بدل دینے کے دعویدار اس کارواں کی حالت گلی محلے میں لگنے والی مداری سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ دوسری طرف پارلیمان کے اندر موجود اسی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں نے اپنے تمام تر اختلافات کو ایک طرف رکھااور اپنے منتخب کردہ وزیراعظم کے ساتھ یوں کھڑے ہوگئے کہ کسی طالع آزما کو ادھر کا رُخ کرنے ہمت نہ ہوسکی۔ آصف علی زرداری، مولانا فصل الرحمان، محمودخان اچکزئی، میر حاصل بزنجو،اسفندیارولی جیسے لوگوں نے تمام تر زہرفشانیوں کا سامنا کیا لیکن جمہوریت کی کشتی سے چھلانگ لگانے کی بجائے اس کی حفاظت کی اور لندن پلان کو اس کی موت تک پہنچا کر ہی دم لیا۔ لندن پلان اپنا تمام ترجلوہ دکھانے کے بعد ناکامی سے دوچار ہوچکا۔ اس کے منصوبہ ساز یا تو سابق ہو چکے یا پھر کھڈے لائن لگائے جاچکے۔ اس کھیل کے کردار بھی تویا ہسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں یا پھر مداری کی پٹاری کے سانپ بن کر رہ چکے۔ لیکن لندن پلان ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ضرور رہے گا جس میں ہم سب کے لیے کسی نہ کسی پہلو سے بے شمار سبق موجود ہونگے۔

**********************************************************

یہ منظر تھا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا اورتقریر کرہے تھے مشاہداللہ خان

” آپ نے طاہرلقادری اور عمران خان اس پارلیمان کو بہت گالیاں دیں ہیں۔ میں انھیں دس سے ضرب دے کر تمہیں واپس کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ آپس میں آدھی آدھی بانٹ لینا”۔

پھروہ اس دھرنا گروپ کی حالت پر بات کرتے ہوئے حسب معمول شعر و شاعری کا سہارہ لیتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ

آج تم نہ رام کے دشمن نہ ہنومان کے دوست
تم نہ کافر کے ثناخواں نہ مسلمان کے دوست
تم نہ اشلوک کے ساتھی ہو نہ ایمان کے دوست
تم تو سِکوں کے لپکتی ہوئی چھنکاروں میں
اپنی ماوں کو اٹھا لاتے ہو بازاروں میں

سپیکر: اگر اجازت دیجئے تو شعر کا آخری حصہ حذف کررہا ہوں

مشاہداللہ خان: یہ شعر بہت بڑے شاعر کا ہے اور اسے حذف کرکے آپ میرے ساتھ نہیں شاعر کے ساتھ زیادتی کریں گے

سپیکر : جی میں سمجھ رہا ہوں لیکن سیاق و سباق کی وجہ سے ایسا کررہا ہوں۔

مشاہداللہ خان: سیاق و سباق کا کیا ہے ۔۔۔۔ اور یہ میری بھی مائیں اور بہنیں بیٹھی ہیں نا جن کو لے کر آئے ہیں یہ۔ غلط بات میں کرتا نہیں ہوں آگے جو آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے 18 ستمبر 2014 کے دن سینیٹرمشاہداللہ خان کی تقریر سے اقتباس

**********************************************************

پسِ تحریر: لندن پلان کے بارے میں اس قدر تفصیل کے ساتھ لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ تمام کہانی ترتیب کے ساتھ سامنے لائی جاسکے۔ میری جانب سے رقم کیے جانے والی تمام باتیں حقائق و واقعات کی روشنی میں لکھی گئیں ہیں ۔ جسے بھی ان باتوں سے اختلاف ہو وہ اپنی تحقیق کرنے کے بعد میری تصحیح کرسکتا ہے۔ میں اپنے اس مہربان کا شکرگزار ہوں گا۔ اسی بات کے ساتھ لندن پلان کی کہانی کا اختتام کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہوں گا۔ اللہ حافظ

London Plan – 1

London Plan – 2

London Plan – 3

London Plan – 4

London Plan – 5

London Plan – 6

MIQ2

About: The Author:

Mudassar Iqbal is an IT Professional serving abroad with a passion for politics and can be reached at@danney707 on Twitter