جو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر ملک ملک دھکے کھا کر ان سے مدد مانگتا ہے تو کیا وہ دوسروں کو الله تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں بناتا ہے؟
باوا جی ۔
اگر وہ سمجھتا ہے کہ جب دوسرے اس کی مدد نہیں کریں گیں تو وہ تباہ اور برباد ہو جائے گا یا دوسروں کی مدد کے بغیر اس کا کام نہیں ہو گا تو وہ بھی دوسروں کو الله تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتا ہے ۔
اس طرح اگر کوئی کہتا ہے کہ میری نوکری چلی گئی تو میں کہاں سے کھاوں گا ۔ یا اگر میرے کاروبار میں نقصان ہو گیا تو میں اپنے بچوں کو کیسے پالوں گا ۔ یا اگر میرا دوست ، شوہر ۔ بیوی ۔ بہن ۔ بھائی میری مدد نہیں کریں گیں تو میرا کیا بنے گا ۔ تو یہ بھی نوکری ۔ کاروبار ۔ دوست ، شوہر ۔ بیوی ۔ بہن ۔ بھائی کو الله تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتے کے مترادف ہے ۔
یہ سب اسباب ہیں ، اصل میں سب کچھ الله تعالیٰ کے خزانے سے اتا ہے ۔
چلیں میں اپکو ایک واقعہ سناتا ہوں شائد پھر اپکو میری سیدھی سی بات سمجھ میں ا جائے ۔
گاوں سے ایک دیھاتی شہر اتا ہے ۔ اس نے پہلے کبھی نلکا نہیں دیکھا ہوتا ۔ ایک جگہ اس کی ایک نلکے پر نظر پڑتی ہے تو یہ دیکھتا ہے کہ لوگ نلکے کی ٹوٹی کھولتے ہیں تو پانی انا شروع ہو جاتا ہے ۔ وہ بڑا خوش ہوتا ہے کہ یہ تو بڑے کام کی چیز ہے ۔ فورآ ایک دکان سے نلکا خریدتا ہے اور گاوں پہنچتے ہی دیور میں سراخ کر کر نلکا اس میں فیٹ کر دیتا ہے ۔ اب جب نلکے کی ٹوٹی کھولتا ہے تو پانی کا نام و نشان نہیں ۔ اسے دکاندار پر بڑا غصہ اتا ہے کہ اس نے اسکو غلط نلکا دیا ہے ۔
اب اپ بتائیں غلطی کس کی ہے دکاندار کی یا دیھاتی کی ؟
ظاہری بات ہے کہ غلطی دیھاتی کی ہے دوکاندار کی نہیں ۔
اس دیہاتی کو نلکے سے پانی اتا ہوا تو نظر ا رہا تھا لیکن اس نلکے کے پیچھے دیور میں جو پائپ لگی ہوئی تھی اور وہ پائپ جو پانی کی ٹینکی کے ساتھ جوڑی ہوئی تھی نظر نہیں ا رہا تھا ۔ اس لیے وہ سمجھا کہ پانی حاصل کرنے کے لیے ایک نلکا ہی کافی ہے ۔
اسی طرح ہمیں رزق نوکری سے ۔ دکان سے ۔ لوگوں سے ملتا ہوا نظر اتا ہے ۔ لیکن جو بھی اتا ہے وہ الله تعالیٰ کے خزانوں سے ا رہا ہوتا ہے ۔
اور ہمیں گولی سے ۔ بم سے ہوتا ہوا نظر اتا ہے لیکن جو بھی ہو رہا ہوتا ہے وہ الله تعالیٰ کے حکم اور ارادے سے ہو رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔
Posted 5 months ago on 01 Dec 2012 22:15
#