السلام و علیکم
اگر آپ نے الطاف حسین کے حالیہ بیانوں پر غور کیا ہو تو آپ نے یہ دیکھا ہو گا کہہ اردو بولنے والوں کے نام پر نفرت اور قتل و غارت کے بعد موصوف کو پنجابی مہاجروں کے درد کے مروڑ اٹھنے شروع ہوۓ ہیں
پنجاب میں کسی شخص نے اپنے آپ کو مہاجر نہیں سمجھا اور نا ہی کہلوایا ہے
دو دن پہلے اس مکار قاتل نے کہا کہہ پانچ کروڑ مہاجر ہندوستان میں واپس جانا چاہیں تو ہندوستان کیسے سمبھالے گا
لوگوں نے اسپر توجہ نہیں ڈی کہہ یہ پانچ کروڑ کا ہندسہ اور شمار کہاں سے آیا ہے ، جبکہ نام نہاد مہاجروں کی آبادی تو ڈیڑھ دو کروڑ سے زیادہ نہیں ہے
لیکن آج موصوف نے بلی تھیلے سے باہر نکال ڈی ہے اور اب پنجاب میں مقامی اور مہاجر کی نفرت اور تقسیم کا اپنا گھناؤناکھیل کھیلنا چاہتا ہے
ملاحظہ ہو آج کا بیان
" لندن . . . . . متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے گزشتہ روز ذمہ داران کے اجلاس سے اپنے خطاب کے بارے میں ایک وضاحتی بیان میں کہاہے کہ گزشتہ روزمیں نے اپنی تقریرمیں ان عناصر کومخاطب کیاتھاجو
پاکستان بنانے کی جدوجہد میں لاکھوں جانوں کی قربانی دینے والے اردوبولنے والے مہاجروں اورپنجابی بولنے والے مہاجروں کے بارے میں کھلم کھلا لعن طعن کررہے ہیں۔
میں نے جو کچھ کہاتھا مہاجروں کی قربانیوں کامذاق اڑانے والوں اورانہیں لعن طعن کرنیوالوں کے متعلق کہاتھالیکن ہوسکتاہے میں اپنے خیالات کی صحیح طورپرترجمانی نہیں کرسکایاپھربعض سندھی قوم پرست اوردانشورمیری بات کی روح اورگہرائی کونہ سمجھ سکے۔ بہرحال میں اس بحث کومزیدآگے بڑھانے کے بجائے پوری سندھی قوم خصوصاً ان تمام قوم پرستوں اور دانشوروں سے جن کی میری بات سے دل آزاری ہوئی ،میں سندھ دھرتی کاباشندہ ہونے کے ناطے ان سے صدق دل سے معذرت چاہتاہوں۔ الطاف حسین نے کہاکہ میرا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے ، سندھ میری دھرتی ماں ہے اورپاکستان میراوطن ہے ۔میں شاہ لطیف بھٹائی کاماننے والاہوں اورامن واستحکام کی خاطر ہر قربانی دینے کیلئے تیارہوں۔ "
http://www.jang.net/urdu/update_details.asp?nid=122900
الطاف حسین اپنی تقسیم اور لاشوں کی گندی سیاست کو اپنے پاس رکھو ، پنجاب میں اس گھٹیا اور خونی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہم اسکو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں
ف ج