پاکستان میں توہینِ رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کا ریکارڈ رکھنے والے اداروں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اِس قانون کے غلط استعمال نے نا صرف غیرمسلم اقلیتوں بلکہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اس قدر سنگین الزامات عائد کرنا، جن میں سے بیشتر ابتدائی پولیس تحقیق ہی میں ثابت نہیں ہو سکے، ملک میں مختلف فرقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت کا پتہ دیتی ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110114_blasphemy_cases_rwa.shtml