قائد اعظم نے قیام پاکستان کے بعد متعدد بار سول اور ملٹری ملازمین کو باور کرایا تھا کہ آزادی کے بعد ایک نیا ملک پاکستان قائم ہو چکا ہے جو ایک آزاد ریاست ہے۔ لہٰذا اب وہ عوام کے آقا نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں۔ اسٹیفن پی کوہن اپنی معروف کتاب ’’پاکستان آرمی‘‘ میں لکھتے ہیں
پاکستان کے یوم آزادی 14 اگست 1947 ء پر محمد علی جناح نے، جو ابھی ابھی گورنر جنرل بنے تھے، ایک پاکستانی نوجوان کو ڈانٹا۔ اصغر خان کے مطابق ( جو پاکستانی فضائیہ کے ایئر مارشل بنے) اس افسر نے شکایت کی تھی کہ “بجائے اس کے کہ ہمیں ان عہدوں پر اپنے وطن کی خدمت کا موقع دیا جائے ۔ جہاں ہماری فطری صلاحیتوں اور دیسی فطانت کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے اہم عہدے ماضی کی طرح غیر ملکیوں کو دئیے جا رہے ہیں۔ تینوں عسکری سروسز میں برطانوی افسران کو سربراہ بنایا گیا اور کلیدی سینئر عہدوں پر متعدد غیر ملکی متعین ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ پاکستان کے اُمور یوں چلائے جائیں گے”. جناح کا جواب محکم تھا۔ انہوں نے اس افسر پر واضح کر دیا کہ وہ یہ نہ بھولے کہ مسلح افواج عوام کے خادم ہیں اور قومی پالیسی آپ نہیں بناتے ہم سویلین افراد ان مسائل کا فیصلہ کرتے ہیں اور یہ ہمارا کام ہے کہ ان فرائض کا تعین کریں جو آپ کو تفویض کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے فوجی افسر کو یہ الفاظ کہے
مت بھولو کہ تم ریاست کے ملازم ہو۔ تم پالیسی نہیں بناتے ۔ عوام کے نمائندے فیصلہ کرتے ہیں کہ ملک کو کیسے چلانا ہے۔ تمہارا کام صرف اپنے سول حاکموں کے فیصلوں پر عمل کرنا ہے
قائداعظم کےاقوال سول اور ملٹری ملازمین کیلئے ضابطہ اخلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں سرکاری ملازمین کی ذمہ داریوں اور فرائض کا تعین کیا گیا ہے۔ اُن کی ملازمت کی حدود قائم کی گئی ہیں۔ اور انہیں سیاست سے الگ رہنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ قائد اعظم کو سول اور ملٹری آفیسروں کے بارے میں جو خدشات تھے ان کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب ایوب خان کو مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری دی گئی۔سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو رپورٹ پیش کی کہ ایوب خان نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور اس کا رویہ پیشہ وارانہ نہیں ہے۔ قائد اعظم نے فائل پر لکھا
میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں ۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا
قائد اعظم کی وفات کے بعد ایوب خان اپنی پوزیشن مستحکم بنانے میں کامیاب ہو گئے اور 1950ء میں جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل (Ajdjutant General) بن گئے۔ یہ فوج میں ایک اہم پوزیشن تھی۔ اس منصب کی وجہ سے وہ طاقت کے مراکز کے قریب ہو گئے ۔ پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے اپنی مدت ختم ہونے پر ایوب خان کو نیا کمانڈر انچیف بنانے کی سفارش کی اور وزیر اعظم کو انتباہ کیا کہ اس کی سیاسی خواہشات پر نظر رکھی جائے
قائد اعظم نے فرمایا کہ میرے ذہن میں کوئی شک نہیں کہ فوج کا جذبہ زبردست ہے ، اس کا حوصلہ بلند ہے اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ فوج کا ہر افسر اور جوان چاہے وہ کسی نسل یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو، ایک سچے پاکستانی کی طرح کام کر رہا ہے۔اگر آپ یہی جذبہ جاری رکھیں اور کامریڈوں کی طرح اور سچے پاکستانیوں کی طرح بے غرضی سے اپنا کام جاری رکھیں تو پاکستان کو کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ میں ایک اور بات کہنے پر مجبور ہوں کیونکہ مجھے ایک یا دو نہایت اعلیٰ فوجی افسروں سے گفتگوکرکے احساس ہوا وہ یہ کہ انہیں اُس حلف کے مقصد کا اندازہ نہیں ہے جو افواج پاکستان نے اٹھایا ہے۔ بلا شبہ حلف صرف ایک تحریر ہے مگر اصل اہمیت اس جذبے اور نیت کی ہے جس کے تحت یہ حلف اُٹھایا گیا۔لیکن یہ ایک اہم تحریر ہے اور میں موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے آپ کی یاداشت کو تازہ کرتے ہوئے مجوزہ حلف کی تحریر آپ کے سامنے پڑھنا چاہوں گا
میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں آئین اور سلطنت پاکستان کا وفادار رہوں گا (آئین اور گورنمنٹ آف ڈومینیئن پاکستان کے الفاظ کو ذہن میں رکھیئے) اور میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے ڈومینیئن آف پاکستان کی افواج کی ذمہ داریاں ، دیانت داری اور وفاداری سے پوری کروں گا۔ اپنی ملازمت کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے، بری ، بحری اور فضائیہ جہاں پر حکم ملے گا ڈیوٹی کروں گا اور اپنے افسروں کے احکامات بجا لاؤں گا
قائد اعظم کی پکار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیوم نظامی
Posted 1 year ago on 21 May 2011 8:12
#