http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/06/090601_cleric_fatwa_nj.shtml
مصر کے اعلٰی اسلامی رہنما کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اور یہ صرف’ڈی ٹرنٹ‘یعنی دوسروں کوباز رکھنے کے کی غرض سے رکھنے چاہئیں۔
مصر کے مفتی علی جمعہ (جنہیں مصری لہجے میں علی گوما کہا جاتا ہے )نے کہا ہے کہ اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال سے اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے کیونکہ ان سے انسانی جانوں کا ضیا ہو تا ہے۔
مصر کے خبر رساں ادارے مینا کے مطابق مفتی علی جمعہ نے اس طرح کی خبروں کے بعد یہ فتویٰ جاری کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسلامی اصولوں کے تحت جوہری ہتھیاروں کا استعمال جائز ہے۔مفتی علی جمعہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کے دوران بھی شہریوں کو ہلاک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
مصر کے گرینڈ مفتی کا یہ فتوٰی امریکی صدر براک اوباما کے مصر کے دورے سے کچھ پہلے ہی آیا ہے جو چار جون کو مصر کے دورے پر آرہے ہیں۔جہاں وہ مسلم دنیا کے ساتھ امریکی تعلقات پر تقریر کریں گے۔
ترکی کے اپنے حالیہ دورے میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ کی لڑائی اسلام کے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نےمسلم دنیا کے ساتھ ایک عظیم اشتراک کی اپیل کی۔
مصر کا کہنا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنانا چاہتا اور ماضی میں بھی اس نے جوہری اسلحہ سے پاک خطے کی اپیل کی تھی۔نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ مصر کا اشارہ اسرائیل کی جانب ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ مشرقِ وسطی میں وہ واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس اس طرح کے ہتھیار ہونے کا شبہ ہے۔
پاکستان ایسا واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس جوہری اسلحہ ہے۔اسرائیل اور مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔