PKPolitics Discuss » Current Issues

خادم اعلیٰ کے مفتے سے بھاگ لے!

(5 posts)
  1. qaisernadeem
    Member

    اب تک ایک سو نو مفت میں مرگئے اور ڈھائی سو کے لگ بھگ ناقص ادویات کھا کر ہسپتالوں میں موت کے فرشتے سے مفت میں نبرد آزما ہیں لیکن لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آج بھی دل کے امراض کے لیے مفت ادویات کی تقسیم کی قطاریں اتنی ہی طویل ہیں۔ ثابت ہوا کہ لاچاری و مجبوری کی کیفیت بہادری سے زیادہ طاقت ور ہے۔

    حکومتِ پنجاب نے سیکریٹری صحت، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ اور ہسپتال کے سٹور کیپر سمیت کئی اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ دوا ساز کمپنیوں کے کچھ ذمہ داران پولیس کی تحویل میں ہیں۔ لیکن یہ اقدامات کرنے والے خادمِ اعلٰی میاں شہباز شریف کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ استعفٰی کی پیشکش تو درکنار، وہ تو وزارتِ صحت کا قلمدان کلیجے سے الگ کر کے کسی اہل شخص کے حوالے کرنے کو بھی تیار نہیں۔

    مزید یہ ہورہا ہے کہ ناقص ادویات کا سکینڈل صوبے اور وفاق کی ٹیموں کے درمیان فٹ بال بن چکا ہے۔ کبھی الزام کی کک لگا کر اسے لاہور کی طرف پھینکا جارہا ہے تو کبھی اسلام آباد کی جانب۔
    اس سے بھی بڑا سانحہ شاید یہ ہے کہ پاکستان میں جولائی دو ہزار دس کے بعد سے ادویات کے معیار اور رجسٹریشن کے معاملات دیکھنے کے لیے کسی مرکزی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا عملاً وجود نہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کا محکمہ بھی صوبوں کے حوالے ہوگیا ہے جبکہ وفاقی ڈرگ اتھارٹی کا عارضی چارج کیبنٹ، دفاع اور وزیرِ اعظم کی پرنسپل سیکرٹری محترمہ نرگس سیٹھی کے پاس ہے۔ اس بے حسی کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے کہ نیشنل ڈرگ اتھارٹی بظاہر فوت ہوچکی ہے لیکن جنازہ پڑھانے پر کوئی آمادہ نہیں۔
    مگر سب سے زیادہ قصور خود عوام کا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ غریب کیوں ہیں؟ دوسری بات یہ کہ وہ آخر جینا کیوں چاہتے ہیں؟ اور کسی وجہ سے اگر جینا چاہتے ہیں تو مفت دوا، تعلیم اور چھت کی خواہش کے ساتھ کیوں جینا چاہتے ہیں؟ پھر تو ایسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئیے۔

    دو ہزار دس کے پاکستان میں آنے والے ملک گیر سیلاب کے بعد بحالی کے سلسلے میں حکومتِ سندھ کو سیلاب متاثرین کے لیے مفت مکانات کی تعمیر کی مد میں جو رقم دی گئی تھی آج بھی اس میں سے ڈھائی ارب روپے جوں کے توں ہیں اور دو برس بعد ایک مکان بھی نہیں بن سکا۔

    دو برس پہلے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت پچاس ہزار بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت ملنی تھی آج تک کوئی نہیں بتاتا کہ کتنے اور کون سے نوجوان اس سکیم سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوسکے۔
    مفت دوا ہو کہ تعلیم کہ مکان کہ روزگار، غریب کے نام پر یہ سب اربوں روپے کا ایک اور کاروبار ہے۔ پنجاب میں دو روپے کی سستی روٹی کی سکیم زبردست تشہیر کے ساتھ شروع ہوئی اور پھر ایک دن کروڑوں روپے کے بلیک ہول میں غائب ہوگئی۔ کیا غربت ختم ہوگئی یا جن کی مفاداتی روٹیاں پکنی تھیں پک چکیں؟ اور کیا کبھی کسی نے انہیں بھی دو روپے کی روٹی لیتے دیکھا جو اس سکیم کے مالیاتی لطف اٹھا رہے تھے۔

    مگر مجبوروں کو کون بتائے کہ آج کل کے فری فار آل لوٹ مار زمانے میں تو داتا صاحب بھی اپنے بے چاروں کو ڈھنگ کا کھانا فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ مزار کے باہر سینکڑوں دوکانوں پر پلاؤ کے نام پر محض سرخ مرچ، نمک اور پانی والے ابلے چاول اور دال داتا کا لنگر کہہ کر بانٹے جاتے ہیں۔
    کیا عجب کہ داتا صاحب بھی آج حیات ہوتے تو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بےکس لائن میں دکھائی پڑتے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/2012/01/120129_baat_say_baat_sa.shtml

    Posted 3 months ago on 29 Jan 2012 22:33 #
  2. qaisernadeem
    Member

    Muft dawayun nay zindigi cheen li.

    Posted 3 months ago on 30 Jan 2012 5:21 #
  3. zingaro
    Member

    With due respect, I do agree that a sensible health minister should have resigned on such an incident but blaming SS for it on the basis of distribution of free medicine is unfair. I believe that if SS has ordered to distribute free medicine then it would have been in the public interest. The only problem is purchasing of sub-standard and expired medicine, for which a proper drug testing department should be there. Yesterday Gilani was saying that Punjab government has created hurdles in the formation of Drug Testing Regulatory Authority. Ishaaq Dar has denied the charges. I don't know what is truth but I feel that we should be fair in our opinions. One should not oppose every thing SS does just because of difference of political affiliation.

    Posted 3 months ago on 30 Jan 2012 6:17 #
  4. @Qaiser Nadeem

    Your well written post reflects the overall plight of our nation; it is not only incompetent health department of Punjab Govt but also the whole Govt system is facing same plight day in day out.

    Posted 3 months ago on 30 Jan 2012 15:15 #
  5. qaisernadeem
    Member

    ST,

    I didn't write that, Wusutullah Khan from BBC wrote that.

    Zing,
    Let me put it this way, imagine if in a proper democratic country i.e. England etc, if a government hospital handed out counterfeit medicine leading to the deaths of hundreds of people, who would you blame and would that government be allowed to continue?

    This is such a serious matter that in any other country it would rock the government to it's core. But here PMLN controlled media is mum because of billions being spend by Zandeeq Azam to save the Munafiq Aala.

    Shahbaz Sharif is the most despicable person in Pak politics, he loves to be photographed while handing out a bag of rice to poor as if it's something great? It's his god damn duty, he wants all the authority and praise for good deeds but no accountability and responsibility for blunders much like the Generals.

    Posted 3 months ago on 31 Jan 2012 2:01 #

RSS feed for this topic

Reply

You must log in to post.