اسٹبلشمنٹ کی ٹائلٹ پیپر جماعت کی نہ اہلی کا یہ حال ہے کے اب تک آزمائی ہوئی ناکام سکیموں میں عوام کے اربوں روپے کا ضیاں کر چکے ہیں اور تو اور اب تک سینکڑوں لوگ صرف اور صرف خادم اعلیٰ کی غفلت کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں، کبھی ڈینگی تو کبھی جعلی سرکاری ادویات، کبھی دانش سکول تو کبھی سستے تندور؟
اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کے خود کو خادم اعلیٰ کہنے والے حضور عوام کی نمائندہ پنجاب اسمبلی میں آنے کو توہین سمجتھے ہیں. خادم اعلیٰ بڑے دھڑلے سے اٹھارویں ترمیم کو پاس کروانے کا کریڈٹ لیتے پھرتے ہیں لیکن طاقت کی صوبوں کو منتقلی کے بعد حاصل ہونے والی ذمداریوں سے خود کو استثنیٰ سمجتھے ہیں جیسے سرکاری پیسے سے خریدی ادویات کی جانچ پڑتال وغیرہ جو اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کو منتکل ہو چکی ہے.
اور سب سے شرم کی یہ بات ہے کے سب سے زیادہ لوڈ شیدڈنگ پنجاب میں ہو رہی ہے حلانکے پنجاب میں نہ دہندگان کی تعداد باقی صوبوں کے برعکس سب سے کم ہے، یہ اسی اٹھارویں ترمیم کا کمال ہے جس کے تحت باقی صوبے سب سے پہلے اپنی بجلی کی ضروریات پوری کریں گے اور پھر پنجاب کو بجلی مہیا کریں گے. لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پنجاب کی صنعتیں بری طرح سے تباہ ہو رہی ہیں اور لوگوں میں بیروزگاری بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے. یہ سب پنجاب کی حکمران جماعت نواز لیگ کا ہی کمال ہے جسنے اپنے صوبے کے لوگوں کی بھلائی کو ملحوز خاطر رکھے بغیر اٹھارویں ترمیم پر دستخط کر دیے اور آج پنجاب کے غریب عوام اس کی سزا بھگت رہے ہیں اور پنجاب کے ٹھیکیدار اپنے محلوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں.
.