(From My Internet Collections)
دشمن کون؟ (ماخوذ
کئی روز سے جنگ جاری تھی لیکن طاقتور حملہ آور باوجود اپنی بھرپور کوشش اور شدید جانی و مالی نقصان کے باوجود شہر کی فصیل پار نہیں کر پا رہا تھا۔ یہاں تک کہ بات اپنی شکست قبول کر لینے تک پہنچ چکی تھی کہ طاقتور حملہ آور فوج کا ایک جوان اپنے سالار کے پاس پہنچا اور درخواست کی کہ چند دن کے لیے پسپائی اختیار کر لی جائے اور اسے موقع دیا جائے کہ وہ شہر والوں کی تباہی کا سامان کر سکے۔ سالار مطمئن تو نہیں تھا مگر اس نے سوچا کہ جوان بہت ہوشیار ہے ایک موقع دینے میں کیا ہرج ہے اور تھوڑے التواء اور آرام سے سپاہ بھی تازہ دم ہو جائے گی۔
نوجوان نے شہر کے دروازے پر جا کر پناہ طلب اور کہا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ شہر والوں نے نوجوان کی درخواست باخوشی قبول کر تے ہوئے نا صرف اسے پناہ دی بلکہ اس کی بھرپور مدد بھی کی گئی۔اب وہ روزانہ شام کو مجلس میں جاکر سب سے آخر میں بیٹھ جاتا۔ امام صاحب واعظ کرنے کے بعد سب کو سوال کا موقع دیتے ۔
ٹھیک تیسرے دن جب امام صاحب صورۃ کہف کی تشریح فرما رہے تھے۔ جس میں یہ مسئلہ اٹھا کہ اصحاب کہف کی اصل تعداد کیا تھی۔ کچھ علماء کے خیال میں ان کی تعداد چار تھی اور ساتھ ان کا کتا بھی تھا ، کچھ کے نزدیک وہ پانچ تھے اور کتے کو شام کر کے اس کی تعداد چھ ہوجاتی تھی۔ کچھ کے نزدیک ان کی تعداد آتھ تھی اور کتے کی شمولیت کے بعد ان کی تعداد نو ہو جاتی تھی۔ تمام مباحثہ دیکھنے کے بعد اس جوان نے بھی جھجکتے ہوئے سوال کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے یوں گویا ہوا۔
جوان۔ ’’میں ابھی ابھی نیا نیا مسلمان ہوا ہے اور میں یہ نہیں جانتا کہ مجھے بھی سوال کرنے کی اجازت ہے یا کہ نہیں؟ اور ویسے بھی میرا سوال کچھ ایسا ہے جس کا شاید آپ کو علم نہ ہو اور شاید جس کی اہمیت بھی کچھ نہ ہو۔؟‘‘
امام۔ ’’ضرور ضرو۔ اگر کوئی بھی خلش یا کوئی بھی سوال دل میں ہے تو ان شاء اللہ بھی اس کی مقدور بھر تسلی کرنے کی ضرور کوشش کروں گا۔ علم کے معاملے میں اللہ کا مجھ پر بہت فضل ہے۔‘‘
جوان۔ جھجھکتے ہوئے۔ ’’میں صرف یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ اس کتے کا رنگ کیا تھا؟‘‘
جوان کے سوال پر تمام مجمعے کی نظریں امام صاحب کی طرف اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ اور امام صاحب اپنی بغلیں جھانکتے ہوئے فرمانے لگے۔
’’سفید۔ اس کتے کا رنگ سفید تھا۔‘‘
جوان نے مزید کوئی سوال نہ کیا لیکن شام کووہی جوان شہر کے دوسرے طرف والی مسجد میں پہنچ گیا۔ وہاں پر امام صاحب کے خطاب کے بعد اس نے اپنے پہلے والے طریقے سے امام صاحب سے سوال کیا کہ ’’امام صاحب اصحاب کہف کے کتے کا رنگ کیا تھا۔ ‘‘
امام صاحب نے جواب دیا کہ اس کا رنگ سیاہ تھا۔
جوان نے دوبارہ امام سے کہا کہ کیا آپ بھرپور یقین سے کہہ رہے ہیں کہ اس کتے کا رنگ سیاہ ہی تھا۔
امام صاحب نے پھر سے جواب دیا کہ یقیناً اس کتے کا رنگ سیاہ ہی تھا۔
شام کو جوان پھر سے پہلی والی مسجد کی مجلس میں پہنچ چکا تھا اور اب کے بارے اسی انداز میں اس کا سوال یہ تھا کہ ’’امام صاحب آپ نے مجھے بتایا تھا کہ اصحاب کہف کے کتے کا رنگ سفید تھا اگر کوئی شخص اس کو سیاہ بولے تو کیا وہ درست کہہ رہا ہو گا‘‘
امام نے جواب دیا ۔’’نہیں۔ وہ شخص نہ صرف نابلد بلکہ گودی اور پورا احمق بھی ہو گا۔‘‘ جوان خاموش رہا۔ لیکن اگلے دن وہ پھر سے شہر کے دوسری طرف والی میں پہنچ کر پوچھ رہا تھا کہ ’’امام صاحب اگر کوئی شخص آپ کو علم سے نابلد، گوی اور احمق بلائے تو وہ شخص کیسا ہو گا؟‘‘
یہ سن کر امام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اس کے نتھنوں سے ہوا اور ہونٹوں سے جھاگ نکلنے لگی اور اس کے مریدین کی حالت غصے سے امام سے بھی بد تر ہو رہی تھی۔
’’میرے بارے مین ایسا کس نے کہا‘‘ امام صاحب گرجے۔
’’شہر کے دوسری طرف والے امام صاحب‘‘ جوان نے جواب دیا۔
’’وہ بدبخت اور کمینہ انسان خود کیا ہے جو دوسروں کے بارے اسی گھٹیا زبان استعمال کرتا ہے۔میں آج سب کے سامنے کہتا ہوں غور سےاچھی طرح سن کر زہن نشین کر لو اس باطل امام کے پیچھے نماز پڑھنا بہت ہی غلط اور ناجائز امر ہو گا۔‘‘
اگلے ہی دن دونوں طرف کے مریدین کے گلے ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھے اور شام تک آدھا شہر جل کر راکھ ہو چکا تھا۔
جوان بڑے مزے سے اپنے حکمران کے پاس پہنچا اور اسے کہا کہ اب حملہ کریں آپ کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اور وہ ہی ہوا طاقتور حملہ آور نے اپنی تمام تر بربریت کے ساتھ حملہ کر کے اس قوم کو ایسا تباہ کیا کہ اس قوم کی روح تک زخموں سے پر ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازراہ تذکرہ۔ آپ کے امام کے مطابق کتے کا رنگ کون سا تھا؟؟؟؟؟
