ڈاکٹر
(america)
کی اجازت سے واپس آئینگے
-دبئی/اسلام آباد (خبر ایجنسیاں )صدر مملکت آصف علی زرداری نے دبئی میں معمول کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اورجیسے ہی ان کے معالجین اجازت دیں گے وہ وطن واپس آ جائیں گے۔صدر مملکت نے نجی رہائش گاہ کو ایوان صدر کا کیمپ آفس بنا دیا گیا ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایوان صدر کے اہم ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر زرداری نے جمعرات سے دبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ سے معمول کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ ایوان صدر سیکرٹریٹ کا ضروری عملہ ان کی رہائش گاہ پر موجود ہے جبکہ جو عملہ مزید درکار ہے وہ صدر کی رہائش گاہ پر جلد پہنچ جائے گا ۔دوسری جانب صدر زرداری نے وزیر داخلہ رحمن ملک سے جمعرات کواپنی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میںہدایت دی کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اجراءکے عمل کو تیز بنایا جائے۔جس پر وزیر داخلہ رحمن ملک نے چیئرمین نادرا اور ڈی جی پاسپورٹ کو ہدایات جاری کیں کہ وہ فوری طور پر صدر کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور عملے کی تعداد کو دگنا کیا جائے۔دوسری جانب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ جونہی ڈاکٹرز صدر آصف علی زرداری کو واپسی کی اجازت دیں گے وہ واپس آجائیں گے تاہم ان کی واپسی کا فیصلہ آئندہ 72 گھنٹوں میں ہوجائے گا ‘میمو اسکینڈل پارلیمنٹ کے خلاف سازش ہے ‘ حکومت کو فوج یا کسی اور سے کوئی خطرہ نہیں ‘ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے ‘ اب ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو گا‘ آئندہ حکومت بھی پیپلز پارٹی اور اتحادی ہی بنائیں گے۔وہ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس میں پیپلز پارٹی اور حلیف جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے اراکین کو صدر زرداری کی علالت ‘ میمواسکینڈل کی آڑ میں حکومت کے خلاف سازشوں سمیت دیگر معاملات پر اعتماد میں لیا ۔انہوں نے کہا کہ منصور اعجاز پاکستانی نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ساکھ ہے اس کے بیان کو اہمیت نہیں دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود کچھ لوگوں کے منصور اعجاز کے ساتھ رابطے ہیں۔
http://www.jasarat.com/unicode/detail.php?category=3&newsid=82000
Agar Pakistan mein Zardari ki jaan ko khatra hay tu please Zardari ko kisi aur country ka President bana dein.