سب کو سلام
کچھ دنوں سے سوچ رہا تھا کہہ وہ کیا بات یا احساس ہے جو کہہ ریٹائرڈ فوجی افسروں ، ریٹائرڈ افسر شاہی ،ریٹائرڈ جج ، عمر رسیدہ سیاست دانوں میں اپنے اپنے شعبہ حیات سے نکلنے کے بعد یکایک پیدا ہو جاتا ہے کہہ وہ سچی اور کھری باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں
وہ کیا چیز ہے جو کہہ احتشام ضمیر جیسے سابق فوجی کو اپنا ضمیر صحیح طور پر بیان کرنے پر مجبور کر دیتی ہے
وہ کونسا لمحہ زیاں ہے جو روئیداد خان جیسے شخص کو اپنے ماضی پر شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیتا ہے
وہ کون سا واقعہ ہے جو بریگیڈئیر امتیاز بلا جیسے نخوت سے بھرے ہوۓ خفیہ والے کو صاف گوئی پر مجبور کر دیتا ہے
وہ کونسا جھٹکا ہے جو نواز شریف جیسے سیاست دان کو ہیت مقتدرہ کے مقابل لے آتا ہے
اسپر ہی کچھ دنوں سے سوچ بچار میں مصروف تھا کہہ ایک خیال ذہن میں آیا کہہ وہ کیا ہے جو ان سب کی سابقہ اور موجودہ حالت میں تبدیلی کا ذمہ دار ہے
جب اسطرف کچھ غور کیا تو ایک ہی بات سمجھ میں آئی کہہ ان کی سابقہ اور موجودہ حالت میں جو فرق پڑا ہے وہ انکا اپنے عھدے ، اختیار ، طاقت ، اقتدار سے نکلنے کے بعد ایک عام شہری کی حالت کا ہونا ہے
جب تک یہ لوگ اختیار ، اقتدار ، عھدے اور طاقت میں ہوتے ہیں تو انکے سارے فیصلے اس طاقت ، اس اختیار ، اس اقتدار ، اس عھدے کیلیے ہوتے ہیں ، وہ جب کوئی بھی فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے پیش نظر صرف اور صرف وہ عھدہ، وہ اختیار ، وہ اقتدار اور اس کی بقاء ہوتی ہے ، وہ اسوقت کبھی بھی اس فیصلے اور اسکے نتائج و عواقب کو ایک عام شہری کی حثیت سے نہیں دیکھ رہے ہوتے ، یہ سب لوگ اسوقت اپنے اندر کے ایک عام شہری کی آواز کو بالکل نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں ، یہ سب اسوقت اپنے آپ کو ایک عام شہری سمجھ بھی نہیں رہے ہوتے
چونکہ اس اختیار ، اس اقتدار ، اس عھدے ، اس طاقت کے ارد گرد ایک مراعاتی نظام موجود ہوتا ہے جو کہہ ان کو ایک عام شہری کی حثیت سے سوچنے سے بھی دور رکھتا ہے تو اس کی جھلک ان کے فیصلوں میں براہ راست ہوتی ہے
کسی بھی صحیح عوامی نظام حکومت میں اقتدار ، اختیار اور عھدے کی مراعات کم سے کم رکھی جاتی ہیں بلکہ اقتدار ، اختیار اور عھدہ ایک بھاری ذمہ داری سمجھی اور سوچی جاتی ہے تو اقتدار ، اختیار اور عھدے کے حامل لوگ فیصلے کرتے وقت اپنے اندر کے ایک عام شہری سے وقف رہتے ہیں اور ہمیشہ اسکی آواز پر دھیان دیتے ہیں ، اسکے علاوہ وہ لوگ جو اقتدار ، اختیار اور عھدے کے حامل اشخاص کو مشورہ دینے والے ہوتے ہیں یا ان سے ایک درجہ نیچے ہوتے ہیں تو وہ بھی ایک عام شہری کے کردار اور ہونے کو یاد رکھتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں کو اسکی اہمیت اور یاد دھانی کرواتے رہتے ہیں
پاکستان جیسے ملکوں میں جب اقتدار ، اختیار اور عھدے سے محرومی ہوتی ہے تو یکایک اسکے ساتھ ملنے والی تمام مراعات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے ، اسوقت ایک حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہہ میں تو صرف ایک عام شہری ہوں اور اب کوئی بھی مجھے سلام کرنے والا بھی نہیں ، کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ، ایک عام شہری کے مسائل سے جب واسطہ پڑتا ہے اور ان مسائل کا کوئی حل نظر نہیں آتا تو فوراّ وہ سچ ، وہ ضمیر کے کچوکے ، وہ صاف گوئی ، وہ اختیارات کے ناجائز استمعال کے خلاف کھری باتیں آنا شروع ہو جاتی ہیں
میری ناقص رائے میں جب تک ہم بالا دست طبقوں اور حکمران طبقوں میں یہ احساس پیدا نہیں کریں گیں کہہ آخر کار وہ بھی ایک عام شہری ہیں اور دیر بدیر انکو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہی پڑے گا اور جب تک ہم لوگ اختیار ، اقتدار اور عھدوں کے ساتھ جڑے ظالمانہ اور جونک کی طرح عام شہریوں کا خون چوسنے والے مراعاتی نظام کے خاتمے کیلئے جدوجہد نہیں کرتے اور لوگوں کو اسکا احساس نہیں دلواتے ایک انصاف پر مبنی صحیح عوامی نظام حکومت کا خیال ہمیشہ ایک خواب ہی رہے گا
تمام لوگوں کی رائے کا منتظر رہوں گا
ف ج