http://www.topstoryonline.com/peoples-party-planning-to-get-land-musharraf-plane-in-lahore
لاہور (شفیق اعوان) جنرل مشرف کے پاکستان واپسی کے اعلان کے بعد اب پیپلز پارٹی حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف دوبئی سے پاکستان لوٹتے ہیں تو ان کا طیارہ کراچی کی بجائے لاہور اتارا جائے اور انتقام سے بھرے اور چار سال سے مسلسل دعوے کرنے والے شریف برادرز کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی دھوان دھار دھکیوں پر عمل کرتے ہوئے جنرل مشرف کو نواز شریف کو بارہ اکتوبر کو ہتھکڑیاں لگوا کر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرنے کے الزامات پر اب گیارہ برس بعد پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار کر ا لیں۔
پیپلزپارٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں جنرل پرویزمشرف کے جلسے کے بعد پیپلز پارٹی کے چند سرکردہ لیڈروں نے سر جوڑ کر یہ تجویز ڈسکس کی ہے کہ اگر جنرل مشرف اپنے وعدے کے مطابق جنوری کے آخر میں لوٹتے ہیں تو پھر بہتر ہوگا کہ انہیں کراچی کی بجائے لاہور ائرپورٹ پر اترنے دیا جائے۔ پارٹی لیڈروں کے خیال میں اس کا مقصد یہ ہے کہ عوام اور میڈیا دیکھ سکیں کہ شریف برادران جو پچھلے چار سالوں میں پیپلز پارٹی پر اتنی تنقید کرتے رہے ہیں کہ اس پارٹی نے جنرل مشرف کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلانے کی بجائے گارڈ اف آنر دے کر ایوان صدر سے روانہ کیا ا، اب وقت پڑنے پر اتنی جرات نہیں کر سکے کہ وہ خود انہیں گرفتار کر سکتے جب وہ پنجاب میں اقتدار میں تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف سعودیوں سے ملنے کے بعد پاکستان واپس آئیں گے اور ان ملاقاتوں میں وہ سعودی بادشاہ سے نواز شریف پر دباؤ ڈلوائیں گے کہ وہ ان کی واپسی پر کوئی مسئلہ کھڑا نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت پہلے ہی امریکن دباؤ پر یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف کوئی مقدمہ وہ اپنی طرف سے قائم نہیں کریں گے خصوصاً وہ آرٹیکل چھ کے تحت ان پر غداری وغیرہ کا کوئی مقدمہ نہیں چلائے گی۔
آرٹیکل چھ اس وقت کسی شخص پر لگ سکتا ہے جب وزارت قانوں ایک ریفرنس بنا کر پارلیمنٹ یا عدالت کو بھیجے اور آج تک جب سے یہ قانون بنا ہے اس کا کسی حکومت نے استعمال نہیں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب نے انیس سو تہتر کا آئین بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ اس قانون کا استعمال صرف حکومت وقت کر سکے گی کیونکہ انہیں یہ بھی خوف تھا کہ اگر یہ حق کسی عدالت یا دوسرے ادارے کو دیا گیا تو پھر ممکن تھا کہ ان کے اپنے مخالفیں ان پر مشرقی پاکستان کے حوالے سے لگنے والے الزامات پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی بھی شروع کرا سکتے تھے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ فوج نے پھر بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔
نواز شریف وطن واپسی کے بعد مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ جنرل مشرف پر بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلائیں گے۔ نواز شریف اپنے مذاکرات میں بھی پیپلز پارٹی حکومت پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ جنرل مشرف کے خلاف کاروائی کریں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے انکاری رہی ہے اور اس وجہ سے ان پر مسلم لیگ نواز بھی تنیقد کرتی آئی ہے۔ اس بیک گراونڈ میں اب پیپلز پارٹی کی حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ بہتر ہوگا کہ جنرل مشرف کے معاملے پر مسلم لیگ نواز کو بھی ایکسپوز کیا جائے کہ اگر پیپلز پارٹی جنرل مشرف کے خلاف بیرونی دباؤ پر کوئی کارروائی نہیں کر سکی تھی تو پھر لوگ یہ بھی دیکھ لیں کہ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود شریف برادرز بھی اتنی جرات نہیں کر سکیں گے کہ وہ پاکستان آرمی کے سابق سربراہ کو ائیر پورٹ پر گرفتار کر لیں۔
ذرائع کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کسی صورت میں بھی جنرل پرویز مشرف پر ہاتھ نہیں ڈال سکے گی اور اس بات کو پیپلز پارٹی آنیو الے دنوں میں استعمال کر سکے گی کہ جب موقع آیا تو جنرل مشرف پر مقدمات قائم کر کے کارروانی کرنے سے ڈر گئی تھی۔ یوں پیپلز پارٹی نے اپنے اوپر لگنے والے اس الزام کو دھونے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ صرف وہ اکیلے جنرل مشرف کے خلاف ایکشن لینے سے خوفزدہ نہیں تھے، ان کے جانی دشمن شریف برادران بھی وقت پڑنے پر بھاگ گئے تھے۔

