اب تو ہر کوئی پہچان گیا ہے زندیق اعلیٰ کی حقیقت
قاتل اعلیٰ کا فرمان : منصور اعجاز ہماری اور ادویات وفاق کی ذمّے داری
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جو خود کو پہلے خادم اعلیٰ اور اب صرف خادم پنجاب لکھوانا پسند کرتے ہیں ووٹ لے کر مسند پر بیٹھتے ہیں لیکن مزاج آمرانہ پایا ہے۔ افسروں کی سنتیں ہیں اور انہیں ہی سناتیں ہیں۔تمام اہم وزارتیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں کہ بھائی نواز شریف نے نااہل لوگوں کو ٹکٹ دیے جبکہ سیکریٹریز نوکری میں ہوتے ہوئے وزیر نہیں بن سکتے۔
بھٹو نے فیکٹریاں قومیا لی تھیں اس لیے اسے سخت ناپسند کرتے ہیں لیکن اس کی نقالی میں جوش خطابت دکھاتے ہوئے سٹیج پر مائیک ضرور گراتے ہیں۔ تقریروں میں اپنے ہی خلاف حبیب جالب کے شعر پڑھتے ہیں کہ
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے، ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
اب ان سے بڑا مصلحت کوش کون ہے جو سائے طویل ہوتے ہی جی ایچ کیو کا قصد کرتے ہیں۔ سویلین کو فوج سے زیادہ بلڈی سمجھتے ہیں تبھی گھوسٹ سکولوں کا سراغ لگوانا ہو یا واپڈا کے میٹر پڑھوانے ہوں ان کا انتخاب وردی والے ہوتے ہیں۔ بعد میں چاہے یہی وردی والے انہیں اٹک قلعے میں بند کردیں جہاں بقول ان کے ان پر سانپ بھی چھوڑے گئے، بھئی اب آپ آستین کے سانپوں سے اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔
بڑے ہو کر وزیراعظم بننا چاہتے ہیں، اسے لیے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے ایکٹنگ وزیراعظم والی کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ جتنے غیر ملکی دورے وزیراعظم کریں اتنے یہ بھی کریں۔ جتنی صوبائی خودمختیاری کا اظہار موصوف کرتے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے پاکستان فیڈریشن نہیں کنفیڈریشن ہے، کم از کم پنجاب کے حوالے سے۔ اور ان کی اس روش کا تعلق اٹھارہویں ترمیم سے ہر گز نہیں ہے۔ اس کا تعلق قومی مفاد سے ہے جس کا اظہار اگر کبھی کسی چھوٹے صوبے کی قیادت نے کیا تو غدار کہلائے گی۔
بطور خادم پنجاب دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتکاری ایسے کرتے ہیں جیسے پنجاب علیحدہ ریاست ہے، کیونکہ کنفیڈریشن میں بھی خارجہ تعلقات مرکز کے پاس ہوتے ہیں ۔
میمو کیس کے اہم کردار منصور اعجاز سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے پاکستان آنے سے ہچکچا رہے ہیں، بلکہ انکار کر چکے ہیں۔ ان کو سکیورٹی فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے یا پھر بہت برے حالات ہوئے تو فوج کی مدد لی جا سکتی ہے۔ لیکن پنجاب کا یہ درشنی پہلوان اکھاڑے سے باہر بڑھک لگائے بغیر کیسے رہ سکتا تھااور کر دی منصور اعجاز کو فول پروف سکیورٹی کی پیشکش بالکل ایسے جیسے ریمنڈ ڈیوس کو لاہور سے بگرام بھیجتے ہوئے فراہم کی تھی۔
خادم پنجاب ترکی، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ براہ راست معاہدے کرسکتا ہے، چیف آف آرمی سٹاف کو راتوں کو مل سکتا ہے اور منصور اعجاز کو تحفظ کی ضمانت دے سکتا ہے لیکن جعلی اور غیر معیاری ادویات سے اگر صوبے میں سو سے زائد ہلاکتیں ہو گئی ہیں اور یہ تعداد بڑھنے کا خطرہ ہے تو بے چارہ خادم کیا کرے ادویات تو وفاق کی ذمہ داری ہے۔
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم، اس دکھ کو دوا کیا لکھنا ۔۔۔ کیا لکھنا
http://www.topstoryonline.com/shahbaz-policy-on-drugs-and-mansoor
Posted 3 months ago on 28 Jan 2012 2:24
#