لڑکپن کی کچھ یادیں تادم ساتھ رہتی ہیں اور کبھی چپکے سے خیال کے کسی گوشے سے نکل کے کسی اور ہی زمانے میں لے جاتیں ہیں. کچھ ایسا ہی آج کی فارغ رات ہمارے ساتھ گزرا.
یونیورسٹی کی اس دلربا کا خیال جانے کہاں سے وارد ہوا. قصّہ مختصر، اس نازلین کا حال جاننے کو فیس بک کا رخ کیا اور کچھ ہی کلکس میں اس کی اور میری ایک مشترکہ دوست کی فرینڈز لسٹ تک آ پوھچا. دھڑکتے دل کے ساتھ سکرول ڈاون کیا اور جیسے جیسے لسٹ میں "ن" تک پوھچا ویسے ویسے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی چلے گیں اور یکایک ایک چھانناکے سے کرچیاں بکھر گیں
!!!
وہ قاتلا ایک نجوان کے گلے میں بانہیں ڈالی تصویر میں مسکرا رہی تہی.
اس لمحے ان اشعار کی آمد ہوئی
عشق کا سوگ یوں منائیں گے
رات آنکھو میں ہی بتایں گے
خونےجگر میں ڈبو کے انگلیا
رقص بسمل کا نوحہ سنائیں گے
یونیورسٹی میں ایک طرف تو اس کے مکسڈ سگنلز اور دوسری طرف یار دوستوں کا یہ بتانا کے وہ کہیں اور انٹرسٹڈ ہے بسس اس ہی شش و پنج میں حال ا دل ہی بیا نا کر سکے.
Such a loser!
اس واردات ا قلبی کو بوجوہ کسی اور سے بیان نہیں کر سکتے اسس لئے سوچا اپنے پیکےپولتیکس کے دوستو سے غم غلط کیا جاتے.
آپ لوگ بھی اپنا قصّہ بیان کیجیے اور اس محفل میں شریک ہوکے صواب دارین حاصل کیجیے.
اور میں اپنی بقیہ رات فیض احمد فیض کے سہارے کاٹتا ہوں