http://www.topstoryonline.com/tareen-qureshi-rift-in-imran-party
اسلام آباد ( مریم حسین) پیپلز پارٹی چھوڑ کر عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمودحسین بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ نہیں بن پارہی اور دونوں میں اس کھچاؤ کی وجہ سے دلچسپ باتیں سننے کو مل رہی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ رسہ کشی عمران خان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
جہانگیر ترین کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب اسلام آباد سے ملتان عمران خان کو لینے کے لیے جہانگیر ترین نے اپنا ذاتی جہاز بھیجا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب شاہ محمود قریشی بھی اس میں سوار ہو گئے حالانکہ جہاز میں ان کے لیے کوئی سیٹ نہیں رکھی گئی تھی اور نہ ہی عمران نے ترین کو قریشی کے ان کے ساتھ سفر کرنے کے بارے میں بتایا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی اپنے چھوٹے بھائی مرید حسین قریشی کو تحریک انصاف میں لانے کے لیے عمران خان کو ملتان اپنے گھر لانا چاہتے تھے۔ قریشی نے عمران کو کہا ہوا تھا کہ ان کا بھائی پیپلز پارٹی چھوڑنے کو تیار نہیں، لہذا عمران اس کی منت سماجت کریں۔
حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ مرید قریشی اپنے بڑے بھائی سے ہٹ کر کوئی سیاسی حیثیت نہیں رکھتے۔ بلکہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد جب شاہ محمود نے قومی اسمبلی کی نشست رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی صوبائی نشست چھوڑی تو ضمنی انتخابات میں ان کے بھائی مرید حسین اپنے بڑے بھائی کی جیتی ہوئی سیٹ پر واہلہ خاندان کے امیدوار سے شکست کھا گئے تھے۔ اس وقت شاہ محمود اسی طرح وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھیر گھار کر اپنے بھائی کی انتخابی مہم کے لیے بھی لے گئے تھے اور شکست کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کی سبکی ہوئی تھی۔
تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے شاہ محمود قریشی کی اپنے بھائی کی اہمیت بنانے کی ترکیب پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ کہ اگر عمران اسی طرح غیر ضروری مطالبات مانتے رہے تو وہ اپنے لیے مسائل کھڑے کرینگے کیونکہ پھر یہ روایت چل نکلے گی کہ ہر دوسرا سیاستدان انہیں اپنے اہل خانہ کو منانے کا کہے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین گروپ جس نے انیس دسمبر کو عمران خان کو جوائن کیا تھا وہ شاہ محمود قریشی کی بعض چیزوں سے خوش نہیں۔ ان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب یہ گروپ جس میں ترین کے علاوہ اسحاق خاکوانی، اویس خان لغاری، جمال خان لغاری، غلام سرور خان وغیرہ شامل تھے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے پہنچا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں شاہ محمود قریشی سٹیج پر سب سے بڑی کرسی پر پہلے ہی برابرجمان ہیں۔ اس پر جب عمران سے چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ عمران نے بھی قریشی کو اس فنکشن میں شریک ہونے کی دعوت نہیں دی تھی اور اس کا احساس سب کو اس وقت ہوا جب فنکشن میں شاہ محمود قریشی کو کسی نے بولنے کی دعوت نہیں دی اور مایئک براہ راست عمران کو دیا گیا کہ وہ تقریر کریں۔
اس سے پہلے کہ عمران بات شروع کرتے کہ شاہ محمود قریشی نے ہاتھ بڑھا کر ان سے یہ کہہ کر مایئک لے لیا کہ وہ بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر عمران نے تھوڑی سی حیرانی کا اظہار کیا اور پھر مایئک یہ کہہ کر بڑھا دیا کہ شاہ محمود قریشی کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ قریشی نے جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کو ویلکم کیا اور مایئک واپس عمران کو لوٹا دیا۔
ذرائع کہتے ہیں کہ عمران نے شاہ محمود قریشی کو جہانگیر ترین گروپ کی جوائنگ کے موقع پر نہیں بلایا تھا اور وہ خود ہی وہاں پہنچے تھے جہاں ان سے ان کے عینکوں کا کاروبار کرنے والے دوست ناصر علی خان کو گشتی سفیر لگانے پر صحافی رؤف کلاسرا نے ایک ایسا سوال داغ دیا جس کا وہ جواب نہ دے سکے اور ایک مذاق بن کر رہ گئے۔
جب جہانگیر ترین کا جہاز اسلام آباد آیا تو ان کا خیال تھا کہ عمران اکیلا ہوگا اور شاہ محمود قریشی کو ملتان ہونا چاہیے تاکہ وہ عمران کو وہاں ریسو کر سکیں۔ تاہم عمران کے ساتھ قریشی بھی اسلام آباد سے روانہ ہوئے اور ملتان پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ اسحاق خاکوانی اور دیگر لوگ بھی شامل تھے۔ تاہم سب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب شاہ محمود قریشی نے ترین کے جہاز سے اترتے ہی عمران کو ساتھ لیا اور وہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔ جہانگیر ترین اور ان کے دیگر ساتھی یہ توقع کر رہے تھے کہ شاہ محمود قریشی انہیں بھی اپنے ساتھ گھر جانے کے پیشکشں کریں گے لیکن وہ حیران رہ گئے جب ایک دفعہ بھی جھوٹے منہ ہی سہی قریشی نے جہانگیر ترین اور دیگر کو دعوت نہ دی کہ وہ بھی ان کے ساتھ ان کے گھر چلیں اور اس تقریب میں شریک ہوں جو ان کے بھائی مرید حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے منعقد کرائی جارہی تھی۔
ذرائع کہتے ہیں کہ یہ بات جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کو اچھی نہیں لگی کہ اسلام آباد سے ترین کے جہاز پر آنا تھا تو قریشی بن بلائے اس پر سوار ہو گئے لیکن اب اگر ملتان گھر تک جانا تھا تو انہوں نے جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کے دیگر لوگوں سے رسماً بھی نہیں پوچھا کہ وہ اب کیا کریں گے اور ان کے ساتھ گھر کیوں نہیں چلتے اور تقریب میں شریک کیوں نہیں ہوتے۔اسی طرح عمران خان جب مرید حسین قریشی کے منت ترلے سے فارغ ہو کر وکیلوں کے فنکشن میں گئے تو بھی جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کو جان بوجھ کر قریشی نے وہاں نہیں بلایا اور انہیں تقریب اور میڈیا سے دور رکھا تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ ان کے علاوہ سرائیکی علاقے سے کوئی اور بھی لیڈر اس پارٹی میں شریک ہے۔
ہم جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب عمران خان کراچی جانے کے لیے ملتان ائرپورٹ پر کھڑے جہانگیر ترین کے ذاتی طیارے پر سوار ہونے کے لیے پہنچے تو ایک دفعہ پھر شاہ محمود قریشی ان کے ساتھ تھے۔ ترین کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ شاید قریشی عمران کو اپنے گھریلو تنازعات میں استعمال کرنے کے بعد اب انہیں ائرپورٹ سے الوداع کرکے لوٹ جائیں گے۔ تاہم ان سب کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب طیارہ عمران کو لے کر جانے لگاتو شاہ محمود قریشی بھی اچانک بھاگ کر اس پر چڑھ گئے تا کہ وہ بھی ان کے ساتھ اسی جہاز میں کراچی جا سکیں۔عمران اور اس کے ساتھی توقع کر رہے تھے کہ قریشی کمرشل فلائٹ سے کراچی پہنچے گے۔
مبصرین کے خیال میں شاہ محمود قریشی اس وقت جہانگیر ترین گروپ سے شدید خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ گروپ نہ ٖصرف بڑا ہے بلکہ وسائل بھی ان کے پاس زیادہ ہیں۔