عدلیہ تحریک کے حق میں کیا گیا لانگ مارچ بہت اہم واقعہ ہے-اس میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ عدلیہ کی بحالی میں فوج یا کیانی کا کوئی مثبت کردار نہ تھا بلکہ فوج عدلیہ کی بحالی کی سخت مخالف تھی- مگر جب نواز شریف نے لانگ مارچ شروع کیا تو اسٹبلشمنٹ کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی- اسٹبلشمنٹ کے کارندے (کامران خان وغیرہ) نے راتوں رات اپنا مؤکف تبدیل کر لیا- جو بڑھ چڑھ کے عدلیہ بحالی کی مخالفت یہ کہ کر کرتے تھے کے اس کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے خالی اگزیکٹو آرڈر کے زریع عدلیہ بحالی کے حامی بن گئے- جب سب کچھ فوج کے ہاتھ سے نکل گیا تو جرنل کیانی نے اعتزاز احسن کو فون کر ڈالا- فون تو درحقیقت اسٹبلشمنٹ کی شکست کا اعتراف تھا مگر اسٹبلشمنٹ کے کارندوں نے اس فون والے واقع کو ایسا روپ دیا جیسے کیانی نے ہی عدلیہ بحال کرائی ہو-
اسٹبلشمنٹ یہ نہیں چاہتی تھی کہ عدلیہ بحالی کا تمغہ صرف نواز شریف کو ملے اور ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو- اسٹبلشمنٹ نہیں چاہتی کے کوئی لیڈر اسکدر بڑا ہو جاتے کہ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکے- کوئی لیڈر اسکدر بڑا ہو جاتے کہ واحد حل اسے ذوالفقار اور بینظیر بھٹو کی طرح قتل کرنا رہ جاتے- لہذا جمہوریت دشمن عناصر نے ایک میڈیا کمپین کے ذریع اس گھنونے پروپگنڈے کا آغاز کیا جس میں نواز شریف سے عدلیہ بحالی کا کریڈٹ چھینے کی کوششیں کی گئیں-
فوج کا عدلیہ بحالی میں کوئی کردار نہ تھا- اس حقیقت کو اسٹبلشمنٹ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تبدیل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوئی ہے- اسٹبلشمنٹ کو اب تک ناکامی کی سوا کچھ نصیب نہیں ہوا اور آیندہ بھی نہ ہو گا-
اب بات کرتے ہیں جناب عمران خان کی- یہ حضرت لوگوں کو جھوٹے خواب دکھا رہے ہیں- بالکل ویسے جیسے اعتزاز احسن نے نادانستہ طور پر اپنی نظم "جیت ہمارا مستقبل ہے" میں لوگوں کو دکھاے تھے- اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ اگر عدلیہ بحال ہو گئی تو
روٹی کپڑا اور گھر اپنا
جنتا کو ہم دلوائیں گے
آٹا بجلی پانی اور کھنڈ سب کو سستے دام ملے گا
بیروزگاروں کو ہرممکن روزگار اور کام ملے گا
صرف عدلیہ کی بحالی سے روٹی کپڑا مکان اور روزگار سب کو نہیں مل سکتا تھا- پھر کہوں گا کے نیت نیک تھی مگر وعدہ غلطی سے بہت بڑا کیا گیا تھا- عدلیہ بحالی سے بہت کچھ تبدیل ہوا مگر عام آدمی کی زندگی میں شاید کوئی واضح تبدیلی نہیں آ سکی-
عمران خان بھی یہی کر رہے ہیں- بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں- افسوسناک بات یہ ہے کہ انکے مرشد انکی باتوں پر یکین بھی کر لیتے ہیں- "زمینی حقائق" یہ ہیں کے عوام کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی ایک شخص نہیں لا سکتا- بڑی تبدیلی سال دو سال یا دس سالوں میں بھی آنا مشکل ہے- بڑی تبدیلی لانے میں شاید پچاس ساٹھ سال بھی لگ جائیں- نہ عدلیہ بحالی سے لوگوں کی بھوک مٹ گئی اور نہ کرپشن کا خاتمہ ہو گیا- یہاں تک کہ لوگوں نے خودکشیاں کرنا بھی نہ چھوڑیں- اگر اسٹبلشمنٹ کی سازش کامیاب ہو بھی گئی اور عمران خان کسسی صورت اقتدار میں آ بھی گئے تب بھی وہ کوئی تبدیلی نہ لاسکیں گے- ان کے پاس کو ٹیم نہیں جو تبدیلی لا سکے- ان کے پاس مسائل کا کوئی واضح حل بھی نہیں ہے- شاید انہیں اصل مسائل کے بارے میں کچھ معلوم بھی نہیں ہے-
تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سابک آمروں کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا- آمروں نے یہ سمجھ کے حکومت پر قبضہ کیا کے وہ یکدم تبدیلی لے آئیں گے مگر "زمینی حقائق" کا جب سامنا کرنا پڑا تو منہ کے بل گرے اور ملک و قوم کے لیے بدترین حاکم ثابت ہوۓ- یاد رہے کے جمہوری حکومتوں کو ہر وقت اسٹبلشمنٹ کی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جبکے آمروں کو ایسی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی- پھر بھی یہ ناکام ہو جاتے ہیں- ناکام اسلیے ہوتے ہیں کے انکا تعلق عوام سے نہیں ہوتا اور یہ عوام کے مسائل سے ناآشنا ہوتے ہیں- اگر کچھ مسائل کی شناخت کر بھی پاتے ہیں تو ان کے پاس کوئی ایسی دوا ہی نہیں ہوتی جس سے یہ ملکی حالات میں تبدیلی لا سکیں -
نواز شریف کا عدلیہ بحالی میں مؤثر کردار اور آمروں کی مسلسل ناکامی بیان کرنے کا واحد مقصد ہے کے عوامی لیڈرس کا آمروں کے ساتھ مقابلہ کرنا- عوامی لیڈرس کی طاقت کا اندازہ کرانا اور آمروں اور نام نہاد انقلابیوں کی ناکامیوں کی وجہ بیان کرنا-
PKPolitics Discuss » Political Parties
عوامی لیڈرس انقلابی اور آمر
(2 posts)-
Posted 1 year ago on 20 Apr 2011 10:23 #
-
Time to have a debate on this. A lot has changed in the last eight months. Imran Khan has now got a team. Can that team steer Pakistan out of crisis?
Posted 4 months ago on 28 Dec 2011 7:08 #
Reply
You must log in to post.