قرآن پاک کی بے حرمتی عدم برداشت اور تعصب کی انتہا ہے ،اوباما
واشنگٹن ... امریکا کے صدر بارک اوباما نے امریکی پادری کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف افغانستان میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کو انتہائی ظالمانہ قرار دیا ہے ۔ایک بیان میں صدر اوباما نے کہا کہ قران سمیت کسی بھی مذہبی کتاب کی بے حرمتی انتہائی عدم برداشت اور تعصب پر مبنی اقدام ہے۔ لیکن اس کے جواب میں معصوم لوگوں پر حملے اور انہیں قتل کرنا بھی انتہائی ظالمانہ اقدام ہے اور یہ سماجی اصولوں اور انسانی عظمت و وقار کے منافی ہے۔ صدر اوباما نے کہاکہ کوئی بھی مذہب معصوم لوگوں کو قتل کرنے جیسے اقدامات کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس طرح کی قابل شرم اور افسوس ناک کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے ایسی مشترکہ انسانی اقدار وضع کی جائیں جس کی مثال افغان عوام کی مدد کے دوران اپنی جان دینے والے اقوام متحدہ کے کارکنوں نے پیش کی ہے ۔ صدر اوباما کا یہ بیان امریکی پادری کے ہاتھوں قران پاک کی بے حرمتی کے خلاف افغانستان میں مظاہروں کے دوران اقوام متحدہ کے سات اہل کاروں سمیت سترہ افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے
http://www.jang.com.pk/jang/apr2011-daily/03-04-2011/u67138.htm
............................................................
امریکی صدر اور حکومت کو صرف اقوام متحدہ کے کارکنوں کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد ہی کیوں قران جلانے کی مذمت کرنا یاد آیا؟ اگر امریکی حکومت اور امریکی صدر یہ کام بارہ دن پہلے کر لیتے اور پادری ٹیری جونز کو مذہبی منافرت پھیلانے پر جیل بھیجا ہوتا تو کیا اس نقصان سے بچا نہیں جا سکتا تھا؟ کہتے ہیں کہ
جو مکہ لڑائی ختم ہونے کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر مار لینا چاہیے