مسلم لیگوں کی تاریخ گواہ ہے کے یہ ہمیشہ پنڈی کے دربار کی لونڈیاں رہی ہیں اور آج بھی اسی جذبے اور ترنگ سے دربار میں گنگرو باندھے ناچ رہی ہیں یا نچاہی جا رہی ہیں- اور اس بار پھراسٹبلشمنٹ نے اس روایت کو برقرار رکھتے ہوے نون لیگ کو ٹائلٹ پیپر کی طرح استمال کر کے پھینک دیا- میاں صاحب جو بڑی خوشی سے نیا ٹائی سوٹ پہن کر صبح سویرے سپریم کورٹ پہنچے تھے ایک بار پھر چونا لگنے پر سیخ پا ہو رہے ہیں. لیکن ٹائلٹ پیپر صرف گندگی صاف کرنے لئے ہی بنا ہے اس کے مقدر میں اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے
لاہور ( شفیق اعوان) پاکستان مسلم لیگ نواز کے بعض سرکردہ رہنماؤں نے ایک حالیہ اجلاس میں اس بات پر شدید پشیمانی اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے کہ میمو گیٹ میں انہیں فوج نے استعمال کر کے سیاسی طور پر تنہا کر دیا ہے اور اب ان کو نہ صرف ایک دفعہ پھر اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی سمجھا جانے لگا ہے بلکہ کوئی بھی سیاسی جماعت ان کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ نواز شریف جو سپریم کورٹ میں گیلانی اور زرداری کو نااہل کرانے کے لیے گئے تھے وہ اب خود جال میں پھنسے نظر آتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کو اس ماہ کے آخر میں سننے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیس میں نواز شریف پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی سے پنتیس لاکھ روپے الیکشن لڑنے کے لیے لیے تھے۔
ذرائع کہا کہنا ہے کہ نواز شریف جو چوہدری نثار اور شہباز شریف سے ناخوش ہیں اب سینٹ کے الیکشن میں ایسے امیدوار سامنے لا سکتے ہیں جن کا تعلق پار ٹی میں ان دونوں کے حلقہ اثر سے نہ ہو جس کا مطلب ہو گا نواز شریف اب مزید ان دونوں کا کھیل کھیلنے کو تیار نہیں ہونگے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان سیاسی معاملات پر اختلاف رائے واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا اور رہی سہی کسر میمو سکینڈل پر نواز لیگ کو ہونے والی شرمندگی نے پوری کر دی ہے۔
مسلم لیگ نواز کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف خود بھی میمو سکینڈل پر ہونے والی اس تمام صورت حال سے ناخوش ہیں کیونکہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ انہیں اس سارے معاملے میں استعمال کیا گیا ہے جس سے ان کی اپنی ساکھ تو خراب ہوئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں حاصل کردہ پارٹی کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ رنگ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق تھا کہ انہیں میمو سکینڈل میں استعمال کیا گیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء کا خیال تھا کہ انہیں اس سارے معاملے کو اچھال کر کچھ نہیں ملا بلکہ وہ سب اب سیاسی اور ذاتی شرمندگی کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ہر طرف یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ فوج کو خوش کرنے کے لیے سپریم کورٹ گئے تھے لیکن فوج اور حکومت کی صلح ہونے کے بعد ان کے پاس بیچنے کے لیے کچھ نہیں رہ گیا۔
اس میٹنگ کے شرکاء اس بات پر شدید ناراض تھے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان نے انہیں مروا دیا ہے کیونکہ یہ ان دونوں کا آئیڈیا تھا کہ میمو سکینڈل پر فوج کی حمایت کرکے بہت اچھے سیاسی نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے۔ ماضی میں نثار علی خان اور شہباز شریف رات کے اندھیرے میں جی ایچ کیو راولپنڈی جا کر جنرل اشفاق پرویز کیانی سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور ان خفیہ ملاقاتوں کی خبر جب ایک ٹی وی چینل پر چلی تو اگلے روز چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیا کہ ان کی جنرل کیانی کے ساتھ چھ خفیہ ملاقاتیں ہوئیں تھیں جس کا علم حکومت کو نہ تھا۔ تاہم چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ یہ خفیہ ملاقاتیں دراصل سکیورٹی کے معاملات کو ڈسکس کرنے کے لیے ہوئی تھیں ۔ تاہم نثار علی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اگر یہ ملاقاتیں سکیورٹی کے حوالے سے تھیں تو اس کے لیے رات کے اندھیرے میں جی ایچ کیو وفاقی حکومت سے چھپ کر ملنے کی کیا ضرورت ان پڑی تھی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ سبکی کا سامنا میاں نواز شریف کو ہے کیونکہ وہ نہ صرف مدعی بنے بلکہ وکالت بھی خود ہی کی۔ لیکن اب حسین حقانی کو بھی پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور منصور اعجاز بھی پاکستان آکر گواہی دینے کے لیے تیار نہیں، جس سے واضح ہو رہا ہے کہ میمو گیٹ کے ذریعے سیاسی موقع پرستی کا دروازہ اب بند ہوگیا ہے۔
میٹنگ میں موجود ایک رہنماء نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ نواز شریف نے شہباز اور نثار سے یہ پوچھتے ہوئے کہ آپ کی ضامن اب کدھر ہیں کہا ’تسی مروا دتا اے۔‘ نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’شہباز صاحب ہن تسی ہتھ ہولا رکھو۔‘http://www.topstoryonline.com/nawaz-league-regrets-role-in-memogate