PKPolitics Discuss » Current Issues

نواز، فوج یا عدالت سے اقتدار کی بھیک نہیں چاہیے: گیلانی

(18 posts)
  1. PM Gailani deserve salute for his courageous speech. He is Showing unbelievable guts in this critical time of his government. Leadership of Noon league was expecting that PPP leadership will beg them for help.

    But PM gailani Challenge them that He does not need any help from them. He further said that he will prefer to go to the peoples of Pakistan than beg anybody in worse circumstances.

    http://www.topstoryonline.com/gilani-nisar-speeches-in-parliament-120113
    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا ) جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بڑے واضح لفظوں میں کہا کہ انہیں اپنے اقتدار کے لیے مسلم لیگ نواز، فوج یا عدلیہ کی ہرگز بھیک نہیں چاہیے اور اگر کوئی بہت بڑا عذاب آبھی گیا تو بھی وہ ان تنیوں کی بجائے عوام کے پاس جانے کو ترجیح دیں گے۔ اگرچہ وزیراعظم گیلانی کی تقریر سے پہلے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے بھی اپنے نقطہ نظر سے بڑی اچھی تقریر کی اور پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کا خیال تھا کہ اتنی بہترین تقریر کے بعد گیلانی کیا کہہ سکیں گے اور بھلا کیونکر وہ ہاؤس سے ایک مشترکہ قرارداد پاس کرا سکیں گے جس کی انہیں اس وقت شدت سے ضرورت ہے۔ تاہم جب گیلانی کھڑے ہوئے تو ان کی تقریر ختم ہونے تک سب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کھیل بدل گیا ہے اور نواز لیگ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ حکومت کی پچ پر آکر اپنے پتے کھیلے۔
    نثار علی خان نے بھی ضد نہیں کی اور جب انہوں نے دیکھا کہ کھیل ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے تو وہ ایوان سے یہ کہہ کر چل پڑے کہ وہ حکومت کی طرف سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر اپنی پارٹی کا جواب سوموار کو دیں گے اور یوں جس ٹکراؤ کے خدشہ کا اظہار کیا جارہا تھا وہ ٹل گیا۔ یہ خطرہ ٹالنے میں جہاں گیلانی کی منفرد تقریر کا عمل دخل تھا وہاں نواز لیگ نے بھی سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیا۔
    اس سے پہلے جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بہت سارے خدشات کے درمیان شروع ہوا کیونکہ نواز لیگ ایک دن پہلے کہہ چکی تھی کہ اگر ہاؤس میں وزیراعظم اور صدر کے حق میں کوئی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔ یوں یہ خوف ایوان میں موجود تھا کہ شاید کسی لحمے بھی جذبات بھڑک سکتے جائیں گے اور ایوان کا ماحول بہت خراب ہو سکتا ہے۔ تاہم اس وقت سب کی حیرانی نہ رہی جب چوہدری نثار علی خان نے اٹھ کر پوچھا کہ آخر کون سی قیامت آگئی تھی کہ اس طرح ایمرجنسی میں یہ اجلاس بلایا گیا۔ نثار نے پوچھا کہ وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن نے ان کے خلاف کوئی عدم اعتماد کی تحریک جمع نہیں کرائی تو تحریک کا کیا تک بننا تھا۔
    اگرچہ ایوان صدر میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اسمبلی میں فوج اور عدلیہ کے خلاف ایک قرارداد لائی جائے گی اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا بھی قرارداد میں ذکر ہونا تھا، اگر دونوں ادارے اپنی آئینی حدود کو عبور کرتے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اتحادیوں جماعتوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے حکومت کو قائل کیا کہ وہ اپنی قرارداد میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دے تاکہ اسے مشترکہ طور پر ہاوس سے منظور کرا کر ریاست کے تمام اداروں کو پیغام بھیجا جائے کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت بچانے کے لیے متحد ہیں۔ حکومت نے بھی یہ مشورہ مانا اور ایک ایسی قرارداد کا ڈرافٹ لایا گیا جس پر اپوزیشن بھی زیادہ احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ نثار علی خان نے ایک دفعہ پھر ایوان میں اچھی تقریر کی جس کے لیے وہ مشہور بھی ہیں۔ نثار نے بہت سارے مناسب نکات اٹھائے جن کا وزیراعظم گیلانی اور ان کی پارٹی کے دیگر ارکان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ جمعہ کو ہونے والے اس اجلاس کی ایک اچھی بات تھی کہ وزیراعظم کے علاوہ اپوزیش لیڈر بھی ایوان میں موجود تھے اور دونوں نے بہت خوبصورت تقریریں کیں جس کو پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں اور ایوان میں موجود ارکان نے بھی پن ڈراپ خاموشی کے ساتھ سنا کہ کہیں کوئی ایک لفظ بھی سننے سے محروم نہ رہ جائیں۔
    چوہدری نثار نے اس وقت حکومت کے زخموں پر بڑی شدت سے نمک رگڑا جب انہوں نے حکومتی ارکان کو یاد دلایا کہ جب اسامہ آپریشن کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے آئے تھے تو انہوں نے اٹھ کر سوال پوچھنا شروع ہی کیا تھا کہ ان پر حکومتی ارکان نے سوال پوچھنے کے پاداش میں ایوان میں ان فوجی جرنیلوں کی موجودگی میں ہی ہوٹنگ کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شکوہ کس بات کا ؟ نثار نے سرکاری جماعت کے ارکان کرریگدنا جاری رکھا اور ایک شعر پڑھا جس کو پورے ایوان نے بہت انجوائے کیا
    کیوں اداس پھرتے ہوئے، سردیوں کی شاموں میں، اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
    نثار نے کہا کہ اب کیوں قرارداد لائی جائی رہی ہے اور کیوں اپوزیش کا تعاون چاہیے جب وہ ایک موقع پر فوج کے لیے ان کی ہوٹنگ کر رہے تھے۔نثار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو بہت اعتراضات ہیں۔ ان کا پہلا مشورہ یہ تھا کہ تصادم سے اجتناب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو اپوزیشن کہیں اور دیکھتی رہتی ہے۔ ان کا اشارہ فوج اور ایجنسیوں کی طرف تھا جن کے ساتھ مل کر سیاستدان حکومت وقت کے خلاف ہمیشہ سازش کرتے ہیں۔ نثار کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا رہا۔ نثار کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کے باوجود اگر ابھی تک حکومت چل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نواز لیگ نے اس ایوان کے باہر کسی اور کی طرف نہیں دیکھا۔
    نثار کا کہنا تھا کہ ماضی میں نواز لیگ کی حکومت برطرف ہونے پر مٹھائیاں تک بانٹی گئیں تاہم پھر بھی ان کی پارٹی کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گی۔ نثار نے یہ بھی کہا کہ جب بارہ اکتوبر انسس سو ننانوے کو مارشل لا لگا تو سب سیاسی پارٹیوں نے جنرل مشرف کو خوش آمدید کہا تھا ماسوائے محمود خان اچکزائی اور عاصمہ جہانگیر کے۔ نثار نے طنعہ مارا کہ موجودہ حکومت کا فوج اور عدلیہ سے پھڈا نواز لیگ نے نہیں کرایا بلکہ یہ سب کچھ ان کے اپنے کرتوتوں کا کمال ہے۔
    نثار نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رحمن ملک کے ساتھ بھی دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا جس نے سپریم کورٹ کے این آر اور کیس سے متلعق سفارشات والے دن نواز شریف کا معافی نامہ میڈیا کو دیا تھا۔ نثار کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے کاغذ کے ٹکڑے کی بیناد پر ان کی پارٹی قیادت پر حملہ کرنا تھا تو پھر وہ بھی سب کو دکھا سکتے تھے کہ انیس سو اکیاسی میں کون جنرل ضیاء کو ایک درخواست لکھ کر پانچ سال کے لیے ملک سے باہر گیا تھا ؟
    نثار نے نام تو نہیں لیا لیکن ان کا واضح اشارہ بے نظیر بھٹو کی طر ف تھا جو اپنے کان کی بیماری کے علاج کے نام پر ملک سے باہر چلی گئی تھیں۔ اس طرح نثار نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں انیس سو ننانونے میں بھی ایک لیڈر ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور پھر دو ہزار سات میں لوٹیں۔ ان کا ایک دفعہ پھر اشارہ بے نظیر بھٹو کی طرف تھا۔ نثار نے بے نظیر بھٹو کے بعد اپنی توپوں کا رخ صدر زرداری کی طرف کرتے ہوئے کہ کہا کہ موصوف اپنے آپ کو تیس مار کہتے ہیں لیکن جب دو ہزار چار میں جیل سے نکلے تو نیویارک جا کر دم لیااور پھر واپسی کا نام تک نہیں لیا۔ نثار نے رحمن ملک کے بارے میں کہا کہ ان کا ایک نک نیم ہے جو وہ یہاں دہرانا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ روزانہ ایک سکینڈل نواز شریف کے بارے میں دیں گیں، اب اتنے دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی نیا سکینڈل نہیں آیا۔
    نثار نے طنزیہ کہاکہ ہم مانتے ہیں کہ ہم بہت کمزور لوگ ہیں لیکن ہمیں بھی احساس ہے کہ یہ سب کتنے بہادر ہیں۔
    جب نثار نے تقریر ختم کی تو گیلانی جواب دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو سب کا خیال تھا کہ ان کے پاس ان نکات کا جواب نہیں ہوگا جو کہ اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر میں اٹھائے تھے۔
    تاہم جب گیلانی تقریر ختم کر چکے تو پتہ چلا کہ اب نثار کے پاس ان کا جواب نہیں تھا لہذا نواز لیگ نے سوموار تک وقت مانگ لیا کہ آیا انہیں پارلیمنٹ کے حق میں آنے والی قراداد کی حمایت کرنی چاہیے کہ نہیں کیونکہ گیلانی نے نواز لیگ کی توقعات کے برعکس ان کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔
    نثار کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہ اس اجلاس کو بلانے کی کیا ضرورت تھی، گیلانی کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا میں اس بات پر بحث ہو چکی ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے لہذا یہ اجلاس بلانا ضروری تھا۔ دوسرے گیلانی نے بڑے واضح لفظوں میں کہا کہ انہیں کسی اعتماد کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اس ایوان سے متفقہ طور پر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو آئین کو احترام دینا چاہیے کیونکہ یہ ایک مقدس دستاویز ہے۔
    گیلانی نے کہا کہ پاکستان قوم بہت بے صبری ہے اور جب سیاستدانوں کی حکومت آتی ہے تو سب جلدی میں ہوتے ہیں کہ وہ کب گھر جاتے ہیں۔ لہذا اگر نواز لیگ بھی چاہتی ہے کہ وہ جلدی گھر جائیں اور چار سال کافی ہیں تو پھروہ لوگ ایک ترمیم لے آئیں جس کے تحت اس ملک میں انتخابات پانچ کی بجائے چار سال بعد ہونے چاہیں۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمیں چار سال بعد الیکشن کرانے کا مشورہ کسی اور سے نہیں چاہیے بلکہ بہتر ہوگا کہ ہم خود ہی اس میں ترمیم کر لیں تاکہ اس بے صبری قوم کو بھی صبر آجائے گا۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ قوم بہت جذباتی قوم ہے۔ اس پر انہوں نے ایک شعر بھی پڑھا
    عمربھر سنگ زنی کرتے رہے
    یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
    گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ ہماری قوم کا مزاج ہے لہذا بھٹو جیسے لیڈر کی اہمیت کا احساس اب ہو رہا ہے جب کہ وہ زندہ تھے تو ان کو پھانسی چڑھایا گیا۔گیلانی نے کہا کہ ہم ایسا قانون اور آئین بنائیں جس میں کوئی ابہام نہ ہو اور ہمیں تشریح کے لیے کسی اور کے پاس نہ جانا پڑے۔ ان کا اشارہ سپریم کورٹ کی طرف تھا جو ہر کیس کو یہ کہہ کر ٹیک اپ کر لیتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے۔ سپریم کورٹ کی اس نکتہ پر کہ حکومت عوام کے پاس جائے، گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی تیسرا ادارہ یہ بات کیوں کرے کہ ہم عوام کے پاس جائیں۔ اگر جانا ہے تو پھر ہم ترمیم کر لیتے ہیں اور خود فیصلہ کر لیتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ جو چاہے کر سکتی ہے۔
    گیلانی نے بڑی سختی سے نثار کی تقریر سے ملنے والے اس تاثر کی تردید کی کہ شاید ان کی حکومت پھنس گئی تھی لہذا اسے اپوزیشن یا نواز لیگ کی اب ضرورت آن پڑی تھی جس کے لیے یہ اجلاس بلایا گیا تھا۔ گیلانی کا نواز لیگ کو کہنا تھا کہ کہ یہ بھول جائیں کہ ہم آپ کے پاس کوئی مدد مانگنے آئے ہیں یا ہمیں این آر او پر آپ کی مدد چاہیے۔ گیلانی نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں نواز لیگ کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں چاہیے ۔ گیلانی نے اس پر بس نہیں کی اور سیدھا جملہ ٹکا دیا کہ ہمیں فوج سے بھی بچنے کے لیے نواز لیگ کی ضرورت نہیں ہے۔
    گیلانی نے پریس گیلری کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اپنے ان دوستوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ وہ یہ غلط فہمی نکال دیں کہ ہم یہاں سیاسی شہید ہونے آئے ہیں۔
    نواز لیگ کو سیدھا جواب دینے کے بعد گیلانی نے سمجھداری کے نواز لیگ کے زخموں پر مرہم بھی رکھنے کے کوشش جاری رکھی۔ گیلانی نے نواز لیگ کو کہا کہ ہم نے بھی آپ کی طرح جدوجہد کی ہے۔ آپ نے جلاوطنی کاٹی ہے اور ہم نے بھی کوڑے کھائے ہیں اور آپ نے بھی کھائے ہیں۔ اس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شور مچا دیا کہ نواز لیگ تو جنرل ضیاء کے ساتھ بیٹھی تھی اور یہ کوڑے مارنے والے تھے ،کھانے والے نہیں۔
    گیلانی نے نواز لیگ کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے بعد سفید جھنڈی لہرانے کافیصلہ کیا اور کہا کہ بارہ اکتوبر کو نواز حکومت کے خلاف جنرل مشرف کی فوجی بغاوت کے بارے میں کہا کہ بتایا جائے کہ دو تہائی اکثریت کی حکومت کو ہٹانے کی کیا تک بنتی تھی۔ اسے کیوں نکالا گیا ؟ گیلانی نے کہاکہ ان کی بے نظیر بھٹو سے اس بغاوت کے بعد بات ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ جنرل مشرف ہم دونوں کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔
    گیلانی ابھی بھی نثار کے الفاظ نہیں بھولے تھے اور کہا کہ ہمیں این آر او کے طعنے دیے جاتے ہیں جب کہ جو اس کا خالق تھا وہ تو کہہ رہا ہے کہ وہ دوبئی سے پاکستان لوٹ رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا ۔ جنرل مشرف کہتے ہیں کہ قوم میرا استقبال کرے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا اور ان سے سوال و جواب ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا پہلے ملکی تاریخ میں کبھی کوئی فوجی جنرل اس طرح پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوا، لیکن ان کی حکومت ان جرنیلوں کو لے کر آئی اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ فیصلہ کرے کہ انہیں جمہوریت چاہیے یا آمریت۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر غلطیاں ان کی حکومت نے کی ہیں تو سزا جمہوریت کو کیوں ملے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ غلطیاں کس نے نہیں کیں۔گیلانی نے پوچھا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ ہم نے یہ اجلاس کیوں بلا لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ججوں نے رات کے بارہ بجے اجلاس نہیں بلا لیا تھا جب یہ افواہ پھیلائی گئی کہ حکومت انہیں برطرف کرنے کے لیے ایک نوٹیفیکشن جاری کرنے والی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہ عدالت نے ان سے تحریری ضمانت مانگی تھی کہ ان کو نہیں ہٹایا جائے گا اور انہوں نے لکھ کر نہیں دی تھی اور زبانی وعدہ کیا تھا جس پر وہ قائم ہیں۔
    گیلانی نے کہا کہ اگر جج اپنے آپ کو بچانے کے لیے رات گئے ایک افواہ پر اکھٹے ہو سکتے ہیں تو پھر سیاستدان کیوں نہیں۔ گیلانی نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں تو کوے بھی اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ پارلیمنٹ کے پاس آئے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ گیلانی نے کہا کہ وہ ان کے گولیگ ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر یاد دلایا کہ انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی پہلا حکم ان ججوں کو رہا کرنے کا دیا تھا جنہیں فوج نے قید کر رکھا تھا اور پھر انہوں نے ایگزیکٹو آڈرر پر بحال بھی کر دیا۔ گیلانی نے کہا کہ ججوں کی رہائی کی تحریک میں ان پر بغاوت کا مقدمہ بنا تھا اور وہ جیل میں بھی رہے۔
    گیلانی نے سپریم کورٹ پر اپنے حملے جاری رکھے اور کہا کہ سپریم کورٹ میں بھٹو کا کیس ری اوپن کرنے کے لیے ریفرنس بھیجا اور انہوں نے جوابا کہا کہ ہم غدار ہیں حالانکہ ایک جج نے خود اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ ہم نے بھٹو کا عدالتی قتل کیا تھا۔ عدالت فیصلہ تو دے چاہے ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو، گیلانی نے کہا۔ گیلانی نے نواز لیگ کو خبردار کیا کہ اگر ان کی حکومت کو نکالا گیا تو پھر یاد رکھیں کہ یہ میلہ ان کو اقتدار میں لانے کے لیے بھی نہیں رچایا جارہا۔ گیلانی نے کہا کہ وہ ہرگز کوئی قرارداد فوج یا عدالت کے خلاف نہیں لانا چاہ رہے۔ انہوں اس موقع پر جوش میں آتے ہوئے کہا کہ اگر زیادہ عذاب آیا بھی تو وہ عوام کے پاس چلے جائیں گے، لیکن نواز لیگ، فوج یا عدلیہ سے بھیک نہیں مانگیں گے !
    پرنٹ کریں

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 4:47 #
  2. bsobaid
    Member

    Good stuff

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 5:13 #
  3. arif786
    Member

    100percent...he deserves respect and support from all democratic forces...it is them today ...would be IK and MNS tomorrow ... no matter what they should stick together and protect their insttitution ...

    Even if they are booted out ... people will respect them for that ... andhistory will prove them to be on the right side

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 5:29 #
  4. qaisernadeem
    Member

    Najam Sethi says: "I know it like I know my wife's name is Jugnu Mohsin, that, PPP is always in search of opportunities to serve the Army, and that is their only policy with regards to Army".

    These statements are nothing but political posturing to deal with Nawaz Sharif's itch of removing the government before the senate elections and perhaps more importantly to appease his supporters which is evident by the comments on this thread!

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 6:03 #
  5. blacksheep
    Member

    میرے خیال میں وزیرِ اعظم نے یہ انتہائی عمدہ بات کی ہے اور غالباً میں نے اس وزیرِاعظم کی زبان سے اتنی اچھی بات پہلی دفعہ سُنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی سیاسی چال ہو۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میرے نزدیک اس بات کی اہمیت بہت زیادہ ہے جو گیلانی صاحب نے عدلیہ کیلئے کہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کہ آئین کی تشریح کا اختیار اور پارلیمنٹ کے اختیارات کا لامحدود ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں عدلیہ کے پارلیمنٹ پر بالادست ہونے شدید مخالف ہوں اور اگر آئین کو آسان کردیا جاتا ہے تو عدلیہ کی پارلیمنٹ پر بالادستی ختم ہونے میں مدد ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس عدلیہ نے بھی جو آئین کا بنیادی ڈھانچہ کا تصور دیا ہوا ہے اور اس کے علاوہ جس طریقے سے آئین کی تشریح کے نام پر آئین کو اپنی مرضی سے ڈھالنے کا جو سلسلہ ہے یہ آگے چل کر پاکستان کیلئے بہت مشکلات کھڑی کرے گا۔۔۔۔۔۔۔ ہماری پارلیمنٹ کو جوڈیشیل ایکٹیوازم کو لگام ڈالنی ہوگی اور ساتھ ساتھ سوموٹو نوٹس کے اختیار کے اوپر بھی بحث شروع کرنی چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔
    جس طرح ہمارے جج صاحبان نے ازخود ہی اپنے آپ کو محافظِ آئین کا درجہ دیا ہوا ہے اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا تصور متعارف کرایا ہوا یہ میرے خیال میں وقت کو ایک جگہ روکنے یا ماضی کا اَسیر رہنے کی کوشش ہے جو خلافتی حضرات کو تو سُوٹ کرسکتی ہے لیکن کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسی سوچ کا چلنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت عرصہ سے میرا بھی یہی نقطہِ نظر رہا ہے کہ عدلیہ نے یہ جو انتظامیہ کا کردار ادا کرنا۔۔۔۔۔۔ ازخود اپنے آپ کو آئین کا محافظ قرار دینا اور لوگوں کا ایمانی ٹمپریچر ناپنا شروع کردیا ہے یہ آگے چل کر ہمارے لئے بہت مشکلات پیدا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبران جو کہ خود آئین بناتے ہیں اور آئین اور اس میں ترامیم کا اختیار رکھتے ہیں وہ ایک متفقہ طور پر ایک ترمیم منظور کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ حضرات اس ترمیم کے خلاف عدالت میں چلے جاتے ہیں اور عدالت ان کو سننا شروع کردیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ حیرت کی بات ہے کہ اب ہمارے جج یہ فیصلہ کریں گے کہ پارلیمنٹ کیا ترمیم کرسکتی ہے اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ججوں کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ پارلیمنٹ کیا قانون بناسکتی ہے اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ آج گیلانی صاحب کی تقریر میں ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ لامحدود اختیارات رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جو چاہے قانون بنائے اور آئین(ترمیم) بنا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ انتہائی اہم نکتہ ہے اور آئندہ کے کچھ سالوں میں یہ ایشو اور زیادہ ابھر کر سامنے آتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڑھ سال پہلے ہمارے چیف جسٹس صاحب نے ایک کمال کی دُرفطنی چھوڑی تھی کہ پارلیمنٹ کو لامحدور اختیارات دینے سے ملک سیکولرازم کی طرف جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ عاصمہ جہانگیر صحیح کہتی ہے کہ سب کچھ عدالت ہی طے کرے گی تو پارلیمنٹ کو ختم کریں اور عدالت کو ہی سب کچھ سنبھال لینا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں ہماری پارلیمنٹ کو اِس وقت سے ہی عدلیہ کو نکیل ڈالنی ہوگی اور ابھی سے یہ نہ ہوا تو جس طرح آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو انتہائی مضبوط تصور کیا جاتا ہے بیس پچیس سال بعد لوگ عدلیہ کیلئے بھی کچھ ایسا ہی کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ جوڈیشئل ایکٹوازم اور سوموٹو نوٹس پر پارلیمنٹ کو ایک چَیک رکھنا ہوگا ورنہ سویلین یونہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے آج یاد آتا ہے کہ دو ہزار سات میں جب عدلیہ کی تحریک شروع ہوئی اور چیف جسٹس کی بحالی کے بعد عدلیہ نے ملکی سیاست میں ایک بھرپور کردار ادا کرنا شروع کردیا تو نذیر ناجی نے ایک بات کہی تھی کہ یہ سب ڈرامہ عدلیہ کا روٹی میں سے اپنا حصہ آزادانہ طلب کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر اس وقت تو جذبات کے بہاؤ میں یہ بات دَب گئی لیکن آج اس جملہ کی سچائی بہت کھل کر سامنے آگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 6:22 #
  6. blacksheep
    Member

    آئین کی تشریح دوسروں کو نہ کرنی پڑے

    پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ قائد حزبِ اختلاف اور اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ایسا آئین بنائیں جس کی تشریح دوسروں کو نہ کرنا پڑے۔
    وزیراعظم گیلانی نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’اگر آپ اور قوم حکومت کو پانچ سال تک برداشت نہیں کر سکتے تو آئینی قرارداد کے ذریعے اس کی مدت کم کردیں۔‘
    انھوں نے مزید کہا کہ’یہاں ایک سو تین ترامیم ہو چکی ہیں، یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ادارے قائم رہتے ہیں۔‘
    انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان کے اعتماد کا ووٹ لینے کی بات ہے تو پارلیمان نے متفقّہ طور پر منتخب کیا ہے۔
    پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’حزبِ اختلاف کو شاید یہ غلط فہمی ہےکہ ہم این آر او یا فوج سے بچنے کے لیے اسمبلی میں آئے ہیں۔‘
    انہوں نے کہا کہ وہ شہید ہونے یا اداروں کے ٹکراؤں کے لیے بھی اسمبلی میں نہیں آئے۔

    Source

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 6:24 #
  7. arif786
    Member

    totally 100% valid points..i know there are grave dangers...but this short term conflict would lead to a resolution of long standing disputes on the supremacy of parliament ...

    just like the conflict between Mush and judiciary helped strengthen judiciary...we need to have a strong but unbisased judiciary...

    this conflict will lead tomost supreme, strong and competent parliament

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 6:39 #
  8. Qaiser Nadeem@

    Najam sethi is not prophet. His every saying is not true. Pak army is in war. Government and everybody should help them and cooperate with them. But if army will target and conspire against democratic government then he should stop appeasing them. I think, now government stop that. that is why they fired defence secretary.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 11:15 #
  9. salaudin
    Member

    You guys ought to be kidding us ! He deserves respect ??? for what ??? destroying the country ?? What was courageous in it ??
    He wants to save the kursi of his own along with his klan; so they do not get charged for corruption which they should. And, here we have "jahiliyas" asking us to support a "master jahiliya".

    The ignorance does stop amazing me.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 11:27 #
  10. salaudin
    Member

    The government and the constitution should work for the PEOPLE, it should not be the other way round. If the constitution fails to serve the people, shred it into a million pieces and write a new one; the one that works for the people.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 11:29 #
  11. khanamer
    Member

    Funny!!! after 4 years of begging and tipping and destroying almost all the institutes of Pakistan now PM Gillani (BTW ask him how his son is doing with all the looted money from Hajies) is talking about respect and principal and constitution... LMAO

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 11:45 #
  12. salaudin@,khanamer@

    Pakistan is in these problems since day one. These all problems are not created by this government. Most of these problem are because of past policies.

    One big reason for these problem is Chief justice Iftikhar Ch. and all pco judiciary. They are partial, bias and politically motivated. Judiciary, intentionally targeting PPP government and making obstacles in their everyday functions.

    Supreme court is only responsible for gas and electric shortage. Because they are intentionally blocking every plan and move from this government to solve these shortage. They are playing Noon league game to make handicap this government. Supreme court is making minor irregularities as excuse to block government to solve these shortage.

    Chief justice Iftikhar Ch. and supreme court ne pechaly 3 saal se es government ko yaargmaal bana rakha ha.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 12:16 #
  13. No doubt, There may be some corruption issues but most of these corruption stories are just anti PPP campaign.

    Anti PPP peoples could not find even one new single corruption issue against Zardari in past 4 years. They are just attacking past cases. But nobody want to talk about past crimes of Judiciary, army and other leaders.

    After failing to find new case against Zardari, Now opponent attacking Gailani and other PPP leaders. Most of these allegations are false and just propaganda.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 12:25 #
  14. salaudin
    Member

    @msyedh
    Give all of us a break. This government destroyed PIA, Railways and many more not to mention electric and gas shortage. The list is never ending one so please do not get me started on this.
    Assuming that the PeePeePee government inherited it, did not they know what they are inheriting ? What did they do to fix it; to make the life better.
    And now, you are blaming it all on CJ. Could you not find a better escape goat to justify the Bhotto-worshipers' corruption ??
    Stop worshiping PPPPPP and for once think about Pakistan(is). You probably would be able to sleep better at night.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 12:28 #
  15. salaudin
    Member

    No doubt, There may be some corruption issues but most of these corruption stories are just anti PPP campaign.

    Which planet do you live on dude ??? WTH are you talking about ?? Steel mill, PIA, Railways, OGDC .... the list just goes on. Get out of BB's mazar and look around, and for once use your brain.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 12:31 #
  16. salaudin@
    PIA and Railway are in lose, even before this government but i agree, that railway is going worse now. PIA is showing some signs of improvement in past few months.

    But these all problems are because of shortage of funds. No body want to pay tax. Pakistan is lowest tax paying country.

    Last year, Government tried to increase taxes but most parties stand up to block this. Army is taking most of the budget. After army budget, there are not enough funds to solve other issues. plus population is growing too fast compare to government finance sources.

    I am not Piplya. I don't have any connection with them. I never vote for PPP. But tried my best to find truth and say truth.

    I know most of you guys has political connection with different parties and part of political propaganda. It is not true in my case.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 12:44 #
  17. salaudin@

    Which problems you are talking these are not new. Now there is free media that is why everybody over playing these issues for political benefits.

    Posted 4 months ago on 14 Jan 2012 12:47 #
  18. pkpolitician
    Member

    گیلانی صاحب ہمیں پتہ ہے آپ کو اور آپ کے مہان چور صدر کو امریکہ سے بھیک ملی ہوئی ہے۔ اگر آپ نے اور آپ کے مہان چور صدر نے شرافت سے اقتدار نہیں چھوڑا تو وہ دن دور نہیں جب قوم ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس سے تم لوگوں کو ذلیل کر کے نکالے گی اور سڑکوں پر گھسیٹے گی۔

    Posted 4 months ago on 15 Jan 2012 19:09 #

RSS feed for this topic

Reply

You must log in to post.