PM Gailani deserve salute for his courageous speech. He is Showing unbelievable guts in this critical time of his government. Leadership of Noon league was expecting that PPP leadership will beg them for help.
But PM gailani Challenge them that He does not need any help from them. He further said that he will prefer to go to the peoples of Pakistan than beg anybody in worse circumstances.
http://www.topstoryonline.com/gilani-nisar-speeches-in-parliament-120113
اسلام آباد ( رؤف کلاسرا ) جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بڑے واضح لفظوں میں کہا کہ انہیں اپنے اقتدار کے لیے مسلم لیگ نواز، فوج یا عدلیہ کی ہرگز بھیک نہیں چاہیے اور اگر کوئی بہت بڑا عذاب آبھی گیا تو بھی وہ ان تنیوں کی بجائے عوام کے پاس جانے کو ترجیح دیں گے۔ اگرچہ وزیراعظم گیلانی کی تقریر سے پہلے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے بھی اپنے نقطہ نظر سے بڑی اچھی تقریر کی اور پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کا خیال تھا کہ اتنی بہترین تقریر کے بعد گیلانی کیا کہہ سکیں گے اور بھلا کیونکر وہ ہاؤس سے ایک مشترکہ قرارداد پاس کرا سکیں گے جس کی انہیں اس وقت شدت سے ضرورت ہے۔ تاہم جب گیلانی کھڑے ہوئے تو ان کی تقریر ختم ہونے تک سب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کھیل بدل گیا ہے اور نواز لیگ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ حکومت کی پچ پر آکر اپنے پتے کھیلے۔
نثار علی خان نے بھی ضد نہیں کی اور جب انہوں نے دیکھا کہ کھیل ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے تو وہ ایوان سے یہ کہہ کر چل پڑے کہ وہ حکومت کی طرف سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر اپنی پارٹی کا جواب سوموار کو دیں گے اور یوں جس ٹکراؤ کے خدشہ کا اظہار کیا جارہا تھا وہ ٹل گیا۔ یہ خطرہ ٹالنے میں جہاں گیلانی کی منفرد تقریر کا عمل دخل تھا وہاں نواز لیگ نے بھی سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیا۔
اس سے پہلے جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بہت سارے خدشات کے درمیان شروع ہوا کیونکہ نواز لیگ ایک دن پہلے کہہ چکی تھی کہ اگر ہاؤس میں وزیراعظم اور صدر کے حق میں کوئی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔ یوں یہ خوف ایوان میں موجود تھا کہ شاید کسی لحمے بھی جذبات بھڑک سکتے جائیں گے اور ایوان کا ماحول بہت خراب ہو سکتا ہے۔ تاہم اس وقت سب کی حیرانی نہ رہی جب چوہدری نثار علی خان نے اٹھ کر پوچھا کہ آخر کون سی قیامت آگئی تھی کہ اس طرح ایمرجنسی میں یہ اجلاس بلایا گیا۔ نثار نے پوچھا کہ وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن نے ان کے خلاف کوئی عدم اعتماد کی تحریک جمع نہیں کرائی تو تحریک کا کیا تک بننا تھا۔
اگرچہ ایوان صدر میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اسمبلی میں فوج اور عدلیہ کے خلاف ایک قرارداد لائی جائے گی اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا بھی قرارداد میں ذکر ہونا تھا، اگر دونوں ادارے اپنی آئینی حدود کو عبور کرتے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اتحادیوں جماعتوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے حکومت کو قائل کیا کہ وہ اپنی قرارداد میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دے تاکہ اسے مشترکہ طور پر ہاوس سے منظور کرا کر ریاست کے تمام اداروں کو پیغام بھیجا جائے کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت بچانے کے لیے متحد ہیں۔ حکومت نے بھی یہ مشورہ مانا اور ایک ایسی قرارداد کا ڈرافٹ لایا گیا جس پر اپوزیشن بھی زیادہ احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نثار علی خان نے ایک دفعہ پھر ایوان میں اچھی تقریر کی جس کے لیے وہ مشہور بھی ہیں۔ نثار نے بہت سارے مناسب نکات اٹھائے جن کا وزیراعظم گیلانی اور ان کی پارٹی کے دیگر ارکان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ جمعہ کو ہونے والے اس اجلاس کی ایک اچھی بات تھی کہ وزیراعظم کے علاوہ اپوزیش لیڈر بھی ایوان میں موجود تھے اور دونوں نے بہت خوبصورت تقریریں کیں جس کو پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں اور ایوان میں موجود ارکان نے بھی پن ڈراپ خاموشی کے ساتھ سنا کہ کہیں کوئی ایک لفظ بھی سننے سے محروم نہ رہ جائیں۔
چوہدری نثار نے اس وقت حکومت کے زخموں پر بڑی شدت سے نمک رگڑا جب انہوں نے حکومتی ارکان کو یاد دلایا کہ جب اسامہ آپریشن کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے آئے تھے تو انہوں نے اٹھ کر سوال پوچھنا شروع ہی کیا تھا کہ ان پر حکومتی ارکان نے سوال پوچھنے کے پاداش میں ایوان میں ان فوجی جرنیلوں کی موجودگی میں ہی ہوٹنگ کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شکوہ کس بات کا ؟ نثار نے سرکاری جماعت کے ارکان کرریگدنا جاری رکھا اور ایک شعر پڑھا جس کو پورے ایوان نے بہت انجوائے کیا
کیوں اداس پھرتے ہوئے، سردیوں کی شاموں میں، اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
نثار نے کہا کہ اب کیوں قرارداد لائی جائی رہی ہے اور کیوں اپوزیش کا تعاون چاہیے جب وہ ایک موقع پر فوج کے لیے ان کی ہوٹنگ کر رہے تھے۔نثار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو بہت اعتراضات ہیں۔ ان کا پہلا مشورہ یہ تھا کہ تصادم سے اجتناب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو اپوزیشن کہیں اور دیکھتی رہتی ہے۔ ان کا اشارہ فوج اور ایجنسیوں کی طرف تھا جن کے ساتھ مل کر سیاستدان حکومت وقت کے خلاف ہمیشہ سازش کرتے ہیں۔ نثار کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا رہا۔ نثار کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کے باوجود اگر ابھی تک حکومت چل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نواز لیگ نے اس ایوان کے باہر کسی اور کی طرف نہیں دیکھا۔
نثار کا کہنا تھا کہ ماضی میں نواز لیگ کی حکومت برطرف ہونے پر مٹھائیاں تک بانٹی گئیں تاہم پھر بھی ان کی پارٹی کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گی۔ نثار نے یہ بھی کہا کہ جب بارہ اکتوبر انسس سو ننانوے کو مارشل لا لگا تو سب سیاسی پارٹیوں نے جنرل مشرف کو خوش آمدید کہا تھا ماسوائے محمود خان اچکزائی اور عاصمہ جہانگیر کے۔ نثار نے طنعہ مارا کہ موجودہ حکومت کا فوج اور عدلیہ سے پھڈا نواز لیگ نے نہیں کرایا بلکہ یہ سب کچھ ان کے اپنے کرتوتوں کا کمال ہے۔
نثار نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رحمن ملک کے ساتھ بھی دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا جس نے سپریم کورٹ کے این آر اور کیس سے متلعق سفارشات والے دن نواز شریف کا معافی نامہ میڈیا کو دیا تھا۔ نثار کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے کاغذ کے ٹکڑے کی بیناد پر ان کی پارٹی قیادت پر حملہ کرنا تھا تو پھر وہ بھی سب کو دکھا سکتے تھے کہ انیس سو اکیاسی میں کون جنرل ضیاء کو ایک درخواست لکھ کر پانچ سال کے لیے ملک سے باہر گیا تھا ؟
نثار نے نام تو نہیں لیا لیکن ان کا واضح اشارہ بے نظیر بھٹو کی طر ف تھا جو اپنے کان کی بیماری کے علاج کے نام پر ملک سے باہر چلی گئی تھیں۔ اس طرح نثار نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں انیس سو ننانونے میں بھی ایک لیڈر ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور پھر دو ہزار سات میں لوٹیں۔ ان کا ایک دفعہ پھر اشارہ بے نظیر بھٹو کی طرف تھا۔ نثار نے بے نظیر بھٹو کے بعد اپنی توپوں کا رخ صدر زرداری کی طرف کرتے ہوئے کہ کہا کہ موصوف اپنے آپ کو تیس مار کہتے ہیں لیکن جب دو ہزار چار میں جیل سے نکلے تو نیویارک جا کر دم لیااور پھر واپسی کا نام تک نہیں لیا۔ نثار نے رحمن ملک کے بارے میں کہا کہ ان کا ایک نک نیم ہے جو وہ یہاں دہرانا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ روزانہ ایک سکینڈل نواز شریف کے بارے میں دیں گیں، اب اتنے دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی نیا سکینڈل نہیں آیا۔
نثار نے طنزیہ کہاکہ ہم مانتے ہیں کہ ہم بہت کمزور لوگ ہیں لیکن ہمیں بھی احساس ہے کہ یہ سب کتنے بہادر ہیں۔
جب نثار نے تقریر ختم کی تو گیلانی جواب دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو سب کا خیال تھا کہ ان کے پاس ان نکات کا جواب نہیں ہوگا جو کہ اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر میں اٹھائے تھے۔
تاہم جب گیلانی تقریر ختم کر چکے تو پتہ چلا کہ اب نثار کے پاس ان کا جواب نہیں تھا لہذا نواز لیگ نے سوموار تک وقت مانگ لیا کہ آیا انہیں پارلیمنٹ کے حق میں آنے والی قراداد کی حمایت کرنی چاہیے کہ نہیں کیونکہ گیلانی نے نواز لیگ کی توقعات کے برعکس ان کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔
نثار کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہ اس اجلاس کو بلانے کی کیا ضرورت تھی، گیلانی کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا میں اس بات پر بحث ہو چکی ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے لہذا یہ اجلاس بلانا ضروری تھا۔ دوسرے گیلانی نے بڑے واضح لفظوں میں کہا کہ انہیں کسی اعتماد کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اس ایوان سے متفقہ طور پر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو آئین کو احترام دینا چاہیے کیونکہ یہ ایک مقدس دستاویز ہے۔
گیلانی نے کہا کہ پاکستان قوم بہت بے صبری ہے اور جب سیاستدانوں کی حکومت آتی ہے تو سب جلدی میں ہوتے ہیں کہ وہ کب گھر جاتے ہیں۔ لہذا اگر نواز لیگ بھی چاہتی ہے کہ وہ جلدی گھر جائیں اور چار سال کافی ہیں تو پھروہ لوگ ایک ترمیم لے آئیں جس کے تحت اس ملک میں انتخابات پانچ کی بجائے چار سال بعد ہونے چاہیں۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمیں چار سال بعد الیکشن کرانے کا مشورہ کسی اور سے نہیں چاہیے بلکہ بہتر ہوگا کہ ہم خود ہی اس میں ترمیم کر لیں تاکہ اس بے صبری قوم کو بھی صبر آجائے گا۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ قوم بہت جذباتی قوم ہے۔ اس پر انہوں نے ایک شعر بھی پڑھا
عمربھر سنگ زنی کرتے رہے
یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ ہماری قوم کا مزاج ہے لہذا بھٹو جیسے لیڈر کی اہمیت کا احساس اب ہو رہا ہے جب کہ وہ زندہ تھے تو ان کو پھانسی چڑھایا گیا۔گیلانی نے کہا کہ ہم ایسا قانون اور آئین بنائیں جس میں کوئی ابہام نہ ہو اور ہمیں تشریح کے لیے کسی اور کے پاس نہ جانا پڑے۔ ان کا اشارہ سپریم کورٹ کی طرف تھا جو ہر کیس کو یہ کہہ کر ٹیک اپ کر لیتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے۔ سپریم کورٹ کی اس نکتہ پر کہ حکومت عوام کے پاس جائے، گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی تیسرا ادارہ یہ بات کیوں کرے کہ ہم عوام کے پاس جائیں۔ اگر جانا ہے تو پھر ہم ترمیم کر لیتے ہیں اور خود فیصلہ کر لیتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ جو چاہے کر سکتی ہے۔
گیلانی نے بڑی سختی سے نثار کی تقریر سے ملنے والے اس تاثر کی تردید کی کہ شاید ان کی حکومت پھنس گئی تھی لہذا اسے اپوزیشن یا نواز لیگ کی اب ضرورت آن پڑی تھی جس کے لیے یہ اجلاس بلایا گیا تھا۔ گیلانی کا نواز لیگ کو کہنا تھا کہ کہ یہ بھول جائیں کہ ہم آپ کے پاس کوئی مدد مانگنے آئے ہیں یا ہمیں این آر او پر آپ کی مدد چاہیے۔ گیلانی نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں نواز لیگ کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں چاہیے ۔ گیلانی نے اس پر بس نہیں کی اور سیدھا جملہ ٹکا دیا کہ ہمیں فوج سے بھی بچنے کے لیے نواز لیگ کی ضرورت نہیں ہے۔
گیلانی نے پریس گیلری کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اپنے ان دوستوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ وہ یہ غلط فہمی نکال دیں کہ ہم یہاں سیاسی شہید ہونے آئے ہیں۔
نواز لیگ کو سیدھا جواب دینے کے بعد گیلانی نے سمجھداری کے نواز لیگ کے زخموں پر مرہم بھی رکھنے کے کوشش جاری رکھی۔ گیلانی نے نواز لیگ کو کہا کہ ہم نے بھی آپ کی طرح جدوجہد کی ہے۔ آپ نے جلاوطنی کاٹی ہے اور ہم نے بھی کوڑے کھائے ہیں اور آپ نے بھی کھائے ہیں۔ اس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شور مچا دیا کہ نواز لیگ تو جنرل ضیاء کے ساتھ بیٹھی تھی اور یہ کوڑے مارنے والے تھے ،کھانے والے نہیں۔
گیلانی نے نواز لیگ کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے بعد سفید جھنڈی لہرانے کافیصلہ کیا اور کہا کہ بارہ اکتوبر کو نواز حکومت کے خلاف جنرل مشرف کی فوجی بغاوت کے بارے میں کہا کہ بتایا جائے کہ دو تہائی اکثریت کی حکومت کو ہٹانے کی کیا تک بنتی تھی۔ اسے کیوں نکالا گیا ؟ گیلانی نے کہاکہ ان کی بے نظیر بھٹو سے اس بغاوت کے بعد بات ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ جنرل مشرف ہم دونوں کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔
گیلانی ابھی بھی نثار کے الفاظ نہیں بھولے تھے اور کہا کہ ہمیں این آر او کے طعنے دیے جاتے ہیں جب کہ جو اس کا خالق تھا وہ تو کہہ رہا ہے کہ وہ دوبئی سے پاکستان لوٹ رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا ۔ جنرل مشرف کہتے ہیں کہ قوم میرا استقبال کرے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا اور ان سے سوال و جواب ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا پہلے ملکی تاریخ میں کبھی کوئی فوجی جنرل اس طرح پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوا، لیکن ان کی حکومت ان جرنیلوں کو لے کر آئی اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ فیصلہ کرے کہ انہیں جمہوریت چاہیے یا آمریت۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر غلطیاں ان کی حکومت نے کی ہیں تو سزا جمہوریت کو کیوں ملے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ غلطیاں کس نے نہیں کیں۔گیلانی نے پوچھا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ ہم نے یہ اجلاس کیوں بلا لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ججوں نے رات کے بارہ بجے اجلاس نہیں بلا لیا تھا جب یہ افواہ پھیلائی گئی کہ حکومت انہیں برطرف کرنے کے لیے ایک نوٹیفیکشن جاری کرنے والی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہ عدالت نے ان سے تحریری ضمانت مانگی تھی کہ ان کو نہیں ہٹایا جائے گا اور انہوں نے لکھ کر نہیں دی تھی اور زبانی وعدہ کیا تھا جس پر وہ قائم ہیں۔
گیلانی نے کہا کہ اگر جج اپنے آپ کو بچانے کے لیے رات گئے ایک افواہ پر اکھٹے ہو سکتے ہیں تو پھر سیاستدان کیوں نہیں۔ گیلانی نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں تو کوے بھی اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ پارلیمنٹ کے پاس آئے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ گیلانی نے کہا کہ وہ ان کے گولیگ ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر یاد دلایا کہ انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی پہلا حکم ان ججوں کو رہا کرنے کا دیا تھا جنہیں فوج نے قید کر رکھا تھا اور پھر انہوں نے ایگزیکٹو آڈرر پر بحال بھی کر دیا۔ گیلانی نے کہا کہ ججوں کی رہائی کی تحریک میں ان پر بغاوت کا مقدمہ بنا تھا اور وہ جیل میں بھی رہے۔
گیلانی نے سپریم کورٹ پر اپنے حملے جاری رکھے اور کہا کہ سپریم کورٹ میں بھٹو کا کیس ری اوپن کرنے کے لیے ریفرنس بھیجا اور انہوں نے جوابا کہا کہ ہم غدار ہیں حالانکہ ایک جج نے خود اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ ہم نے بھٹو کا عدالتی قتل کیا تھا۔ عدالت فیصلہ تو دے چاہے ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو، گیلانی نے کہا۔ گیلانی نے نواز لیگ کو خبردار کیا کہ اگر ان کی حکومت کو نکالا گیا تو پھر یاد رکھیں کہ یہ میلہ ان کو اقتدار میں لانے کے لیے بھی نہیں رچایا جارہا۔ گیلانی نے کہا کہ وہ ہرگز کوئی قرارداد فوج یا عدالت کے خلاف نہیں لانا چاہ رہے۔ انہوں اس موقع پر جوش میں آتے ہوئے کہا کہ اگر زیادہ عذاب آیا بھی تو وہ عوام کے پاس چلے جائیں گے، لیکن نواز لیگ، فوج یا عدلیہ سے بھیک نہیں مانگیں گے !
پرنٹ کریں