پوری دنیا بالخصوص غیرترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سفر کے لیے سب سے آسان ٹرین سروس کو سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں اس پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس سروس پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے اور امریکا، برطانیہ، چین، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ طبقہ بھی سفر کے لیے بیشتر اوقات ٹرین کو ہی استعمال کرتاہے لیکن پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں پر ہمیشہ ریلوے کو حکمرانوں اور ریلوے کے اعلیٰ کارپردازوں نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔
جاوید اشرف قاضی پاکستان ریلوے کی تباہی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں، انہوں نے چین سے 144ریلوے انجنوں کا معاہدہ کیا اور ان میں سے 69انجن منگوالیے، جن میں صرف دو سال کے اندر ہی خرابیاں نکلنا شروع ہوئیں اور اب تک 40انجن خراب ہوچکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود موجودہ حکومت سابقہ معاہدے کے مطابق 75انجن اسی کمپنی سے دوبارہ خرید رہی ہے، حالانکہ معاہدے کے مطابق اس کمپنی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ چین سے منگوائے گئے انجنوں کے مقابلے میں برطانیہ، امریکا اور جاپان کے انجن خطے میںانتہائی پائیدار تصور کیے جاتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس وقت ریلوے کے پاس جو 202انجن قابل استعمال ہیں، ان میں سے اکثر کی عمریں 15سے 40سال کے درمیان کی ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس 520انجن ہیں، جن میں سے 318خراب ہیں، جبکہ تقریباً 5ہزار بوگیاں ایسی ہیں جن میں سے تقریباً 3ہزار کے قریب خراب ہیں یا قابل مرمت ہیں، ہر سال حکومت ریلوے نظام کی بحالی کے لیے اربوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن اس کے باوجود ریلوے تباہی کی طرف گامزن ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟
وزیرریلوے غلام احمد بلور کی تو ان کو شاید ریلوے کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ہے، بعض لوگ تو ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریلوے نظام کو تباہ کررہے ہیں۔
http://alqamar.info/2010/2010/07/20/pakistan-railways.html
وزیرریلوے غلام احمد بلور کی تو ان کو شاید ریلوے کے بارے میں
کچھ علم ہی نہیں ہے، بعض لوگ تو ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریلوے نظام کو تباہ کررہے ہیں۔
Agree with writer because most of the transport own by ANP leadran.