تصور کیجئے، سنگین الزامات کی گٹھڑی اٹھا کر پھرنے والے ایک شخص کو اقتدار میں دیکھ کر پوری قوم دانت پیستی ہے۔ تکلیف اِس قدر ہے کہ یہ سب دیکھ کر بیٹھا نہیں جاتا؛ دانشور بار بار پہلو بدلتے اور کسمساتے ہیں۔ ’ہزاروں سال کی بے نوری‘ کے بعد خدا نے ”انصاف“ کا حق ادا کرنے والی عدالتیں بھی دے رکھی ہیں۔ احتساب ہونے میں پھر کمی کس کی ہے؟ اِس کو کہتے ہیں خدا کی قدرت! ایسے وقت میں اِس احتساب کے اندر کوئی ’ظالم‘ رکاوٹ بنتا تو آپ دیکھتے کس طرح آسمان سر پر اٹھایا جاتا ہے۔ تصور تو کریں، دانشوروں کے ’اجماع‘ کی رو سے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ احتساب۔ اور اِس احتساب میں رکاوٹ کون؟ دستور!
مگر مجال ہے جو ایک کلمہ تو کیا اشارۂ ابرو سے بھی کبھی ”دستور“ کی گستاخی ہوتی ہو! کوئی ”اُف“ بھی تو ہوئی ہو!اندازہ کیجئے، ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لایا کون؟ جمہوریت! ایک ایسے شخص کا احتساب کرنے سے آپ کے ہاتھ باندھ کس نے رکھے ہیں؟ دستور نے!
اِس کو کہتے ہیں ”الجزاءمن جنس العمل“!
خدا کا انصاف آخرت میں ہی نہیں، دنیا میں بھی زبردست ہے!
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَابِ ....!۔
another excerpt from the article...
ظالم دُور دُور کی کوڑی لے آئیں گے، مگر مجال ہے مالک الملک کی شریعت کی عظمت اور تقدس کی طرف ایک بار بھی کبھی ان کی نظر چلی جائے! ’دستور‘ کی پامالی کا رونا بہ آوازِ بلند روئیں گے، مگر حرام ہے جو ایک بار بھی آسمان سے اتری ہوئی شریعت کی پامالی پر درد بھرا کوئی جملہ سرزد ہو جائے! آئینِ محمدی کے صبح شام پامال ہونے پر کسی چشم میں نم کا کوئی شائبہ ہو! یا اِس پہ اپنائی جانے والی اِس سوچی سمجھی اجتماعی خاموشی پر لہجے میں کوئی ندامت تک ہو! ایسی ”دانش“ کے جام بھر بھر کو قوم کو پلانے والے ظالموں کا اُس سزا پر شاید زیادہ حق ہے جس کو یہ ایک ایسے شخص کو دلوانے کیلئے بے چین ہیں جس پر زیادہ سے زیادہ یہ کچھ کروڑ یا کچھ ارب کا غبن ہی ثابت کر سکیں گے! اُس شانِ بے نیازی کے مالک کی تدبیر دیکھو، وہ سزا جو یہ ایک ایسے مبینہ چور کو دلوانا چاہتے جسے حادثاتِ زمانہ نے مسند اقتدار پر جا پہنچایا ہے، مگر اِن کی تجویز کردہ اِس سزا یا اِس محاکمہ کے راستے میں اِن کا وہ ”مقدس دستور“ حائل ہے (جسکا یہ شریعت کی جگہ پر صبح شام نام جپتے ہیں) اُسی سزا کو اِن ’اصلاح کنندگان‘ کی طرف پھیر دیا جاتا ہے جو قوم کے شریعتِ خدواندی کی طرف آنے کی راہ میں حائل ہیں.. کہ یہ سزا اِن ”راہ دکھانے والوں“ کیلئے بھی ہے اور اِنکی دکھائی ہوئی راہ ”چلنے والوں“ کیلئے بھی۔ رہ گیا ’حکمران طبقہ‘ تو اسکا حساب بعد میں!
وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ....!!!۔
Read the complete article here
http://www.eeqaz.com/main/articles/10/20101005_exception_corruption.htm