کیا نواز شریف حواس باختہ ہوگیا ہے؟؟؟؟؟
نواز شریف کا مسلم لیگ نوں کے سندھ کے صوبائی الیکشن کے موقع پر کراچی میں خطاب کے دوران ایک مخصوس انداز میں یہ کہنا کہ "نعرے بند کرو - زرداری بھلا نعروں سے چلا جائے گا" اور "میں کراچی میں فوجی عدالتیں قائم کروں گا"، نہ صرف نواز شریف کی حواس باختگی کا کھلا ثبوت ہے بلکہ اسکی سیاسی نا پختگی کا مظہر بھی ہے. اس سے قبل وہ پچھلے چند دنوں میں متعدد قلابازیاں کھا چکا ہے. کبھی وہ ملکی معاملات میں فوج کے کردار کی بات کرتا ہے تو کبھی جمہوریت پسند بن جاتا ہے. کبھی گو زرداری گو کا نعرہ لگاتا ہے تو کبھی زرداری حکومت کو بچانے نکل پڑتا ہے، کبھی فوری انتخابات کا مطالبہ کرتا ہے اور کچھ دنوں بعد فوری انتخابات کے مطالبے سے دستبردار ہو جاتا ہے اور کبھی اسمبلییوں سے استعفے دینے کی بات کرتا ہے اور اگلے ہی لمحے استیفوں سے انکار کر دیتا ہے
اس کی حالت بس سٹاپ پر کھڑے اس مسافر کی ہے جو یکدم دو بسیں آ جانے پر فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کونسی بس میں بیٹھنا ہے. وہ حواس باختگی میں ایک بس کی طرف بھاگتا ہے تو وہ چلنا شروع ہو جاتی ہے. پھر دوسری بس کی طرف بھاگتا ہے تو اسکے دروازے بھی بند ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ ہاتھ ملتا بس سٹاپ پر کھڑا اگلی آنے والی کا انتظار کرنے لگتا ہے
ایک اور مثال سے اسکی کیفیت واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں
ایک سکھ اور ایک مسلمان دوست تھے. سکھ اپنے عقیدے پر پختہ یقین رکھتا تھا جبکہ مسلمان کوڑھی تھا اور اس کا ایمان کمزور تھا. ایک دن وہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے بحث کر رہے تھے کہ کس کا عقیدہ درست ہے؟ سکھ نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ پہاڑ سے نیچے چھلانگ لگاتے ہیں. جس کا عقیدہ ٹھیک ہوگا وہ زندہ سلامت نیچے پہنچ جائے گا. مسلمان نے سکھ سے کہا کہ پہلے تم چھلانگ لگاو میں بعد لگاؤں گا. سکھ نے کہا کہ ٹھیک ہے میں پہلے لگاتا ہوں. سکھ نے اپنے گروو کا نام لیکر چھلانگ لگائی اور نیچے پہنچ گیا. نیچے سے اس نے مسلمان دوست کو آواز دی کہ تم بھی نیچے چھلانگ لگاو. مسلمان نے ڈرتے ڈرتے"یا الله مدد کرنا" کہہ کر چھلانگ لگائی اور آدھے راستے میں بدحواسی سے بولا کہ "گروو جی تسی وی خیال رکھنا". بس پھر کیا تھا وہ زمین پر گرا اور ختم
جس آدمی کا یقین اور ایمان پختہ نہ ہو اور وہ صحیح وقت پر صیحیح فیصلے نہ کر سکے. وہ اسی طرح بد حواس ہوتا ہے اور اسی طرح کے فیصلے کرتا ہے