In case, supreme court and establishment force PM gailani to resign. Then Pervez Elahi as new prime minister will be best option for PPP and other allies before next lection.
He will perform much better against Noon league Gundagardi. It will strengthen Q league before next election. Most of lotas will return to Q league. Ultimately Zia League(Noon league) will be destroyed in the hand of PTI and Q league in next election.
http://www.topstoryonline.com/shujjat-lobbying-for-elahi-amid-crisis
’شجاعت پرویز الہی کو وزیراعظم بنوانے کے لیے سرگرم‘
Published on 15. Jan, 2012
اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) پاکستان کے سابق نگران وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ میمو سکینڈل کے بعد پیدا ہونیو الے بحران کے بعد فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان جہاں اختلافات ختم کرانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، وہاں وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے گرنے کی شکل میں پرویز الہی کو وزیراعظم بنوانے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ وزیراعظم گیلانی خود بھی یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ وزیراعظم رہیں یا نہ رہیں لیکن پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔ گیلانی کے ان مسلسل بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی جانتے ہیں کہ شاید وہ زیادہ دیر تک وزیراعظم نہ رہ سکیں اس لیے انہوں نے جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکومت بچانے کے لیے نواز لیگ ، فوج یا عدالت سے بھیک نہیں مانگیں گے۔
بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ دراصل صدر زرداری اور جنرل کیانی کے درمیان ہفتہ کو ہونے والی غیر معمولی میٹنگ کرانے میں چوہدری شجاعت نے اہم کردار ادا کیا ہے اور صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان سرد مہری توڑنے میں شجاعت کا ہاتھ تھا، جنہیں اس طرح کے مزاکرات کا اہتمام کرانے پر ملکہ حاصل ہے اور جنرل مشرف کے دور میں انہیں ایک ٹربل شوٹر کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ صدر اور جنرل کیانی کے درمیان اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی تھی کیونکہ کچھ دن پہلے جنرل کیانی اور صدر کے درمیان بھی ایک سرد مہری دیکھنے میں آرہی تھی جب جنرل کیانی نے ایوان صدر میں ایک چینی وفد کے اعزاز میں دی گئی ضیافت میں شرکت نہیں کی تھی۔
جنرل کیانی کے اس رویہ پر حامد میر جیو نیوز کے لیے کیے گئے انٹرویو میں جب صدر زرداری سے پوچھا تھا تو انہوں نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا تھا کہ اگر جنرل کیانی ایوان صدر عشائیہ میں شریک نہیں ہوتے تو ان کی مرضی جس سے اندازہ ہوا تھا کہ جنرل کیانی کے صدر زرداری سے بھی تعلقات اچھے نہیں تھے۔ اب کہا جارہا ہے کہ جنرل کیانی نے صدر سے وزیراعظم کے بیان پر شکایت کی ہے کہ وزیراعظم نے یہ کیوں کہا کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے غیرقانونی جوابات کورٹ میں جمع کرائے تھے۔
ذرائع کہتے ہیں کہ فوجی قیادت وزیراعظم گیلانی سے شدید ناراض ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ انہوں نے چینی اخبار کو انٹرویو دے کر جنرل کیانی پر ایسے الزامات لگائے تھے جو ہرگز مناسب نہیں تھے اور اب فوجی قیادت ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اس لیے پیپلز پارٹی کی قیادت اور ان کی اتحادی جماعتوں پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ وزیراعظم گیلانی پر اپنا اعتماد ختم کریں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے خلاف ایک مہم شروع ہو چکی ہے اور صحافیوں کو یکدم ایسی خبریں لیک کی جا رہی ہیں جس کا مقصد وزیراعظم گیلانی پر دباؤ بڑھانا ہے اور ماضی میں جب بھی فوج یہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ اب کسی سیاسی حکومت سے جان چھڑانی تو پھر یکدم ایسی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں جس سے حکومت کو گھر بھجینے میں آسانی ہو جاتی ہے اور میڈیا بھی کھل کر غیرسیاسی قوتوں کا ساتھ دیتا ہے۔
یاد رہے کہ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ایکشن لینا تھا تو اس سے کچھ دن قبل ان کے خلاف یکدم سکینڈلز اخبارات میں آنا شروع ہو گئے تھے اور صحافیوں کو بلا کر ان کے خلاف بریفنگ دی گئی اور ان کے بارے میں سکینڈلز لیک کیے گئے تاکہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی آسان ہو سکے اور وہی ہوا کہ کچھ دن بعد وہی ڈاکٹر قدیر ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے جرائم کا اعتراف کر رہے تھے اور ایک دفعہ پھر کارپوریٹ میڈیا فوجی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے اور ملکی سیاسی قیادت مجرم لگ رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شجاعت حسین کے پاس اس وقت ترپ کا پتہ ہے کیونکہ اگر وہ بھی حکومت سے اپنی حمایت ہٹا لیتے ہیں تو پھر شاید پیپلز پارٹی حکومت کے لیے چلنا مشکل ہوگا اور وزیراعظم گیلانی کو ہٹانا آسان ہو جائے گا ۔ اس لیے اگر پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ وہ اسلام آباد میں حکومت کرتی رہے تو پھر اسے چوہدری شجاعت کی باتیں ماننا پڑیں گیں۔ اگرچہ چوہدری شجاعت حسین اس بات پر راضی ہیں کہ گیلانی کو ہٹا دیا جائے اور وہ ان کی بجائے خورشید شاہ کو وزیراعظم بنانے کی تجویز کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ خورشید شاہ کو وزیراعظم شاید اس لیے نہ بنایا جائے کہ اس طرح اس ملک کے سارے اہم عہدے سندھ کے پاس اکھٹے ہو جائیں گے کیونکہ پہلے ہی ملک کا صدر، چئیرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کا تعلق بھی سندھ سے ہے۔ اس لیے اگر وزیراعظم گیلانی کو ہٹایا جاتا ہے تو پھر یقیناًنیا وزیراعظم پنجاب سے ہی ہوگا۔
اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ پھر نیا وزیراعظم کون ہوگا۔ اس لیے بات یہ ہو رہی ہے کہ شجاعت حسین اور پی ایم ایل کیو کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنا وزیراعظم لائیں کیونکہ اس پارٹی نے اس وقت پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی جب یہ حکومت گرنے والی تھی۔ اس لیے شجاعت حسین بھی یہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں کہ اگر گیلانی کو جانا ہی پڑتا ہے تو پھر نئے وزیراعظم کے نام پر ان کا بھی رول ہونا چاہیے۔ پرویز الہی ماضی میں اپنے آپ کو وزیراعظم بنوانے کے لیے بہت کوششیں کرتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے دو ہزار آٹھ کا انتخاب بھی اپنے آپ کو ایک وزیراعظم کے طور پر لڑا تھا اور اخبارات میں جنرل مشرف کے ساتھ بڑے بڑے اشتہارات دیے جاتے تھے۔
اب حالات اس طرح کے بن گئے ہیں جہاں شجاعت حسین اپنے کزن چوہدری پرویز الہی کو وزیراعظم بنوانے کے لیے لابی کر رہے ہیں اور فوج کو بھی شاید اس پر زیادہ اعتراض نہ ہو کیونکہ شجاعت اور پرویز الہی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلتے رہے ہیں اور فوجی قیادت ان پر اعتبار کرتی رہی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرویز الہی بھی اس طرح صدر زرداری کے لیے عدالت سے لڑنے کے لیے تیار ہوں گے جیسے گیلانی نے لڑائی لڑی ہے کیونکہ گیلانی کی جگہ بننے والے کسی بھی وزیراعظم کو سوئس عدالت کو صدر کے خلاف خط لکھنا پڑے گا اور اگر نہ لکھا تو پھر گیلانی کی طرح اسے بھی توہین عدالت یا جیل جانے کے خطرہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لہذا دیکھنا ہو گا کہ جب گیلانی کو ہٹا کر پرویز الہی کو نیا وزیراعظم بنوانے کے لیے شجاعت حسین کوشش کر رہے ہیںِ تو کیا وہ صدر زرداری کو اس بات کی گارنٹی دے سکیں گے کہ وہ ان کے لیے عدالتوں سے بھی لڑنے کے لیے تیار ہوں گے اور بقول صدر زرداری بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل نہیں ہونے دیں گے۔ ایک مبصر کے بقول شاید یہ واحد بات ہو سکتی ہے جس پر شجاعت حسین اور پرویز الہی کو کئی دفعہ سوچنا پڑے گا کہ آیا انہیں وزارت عظمی کے بھاری پتھر کو اٹھانا چاہیے یا پھر محض چوم کر چھوڑ دینا چاہیے اور مستقبل میں کسی اور موقع کا انتظار کریں جب پرویز الہی کو وزیراعظم بنوایا جا سکے۔