@ Sweettruth
Why is he telling after 40 years to our nation?
یہ باتیں نئی نہیں ہیں
اصغر خان یہ باتیں قومی اتحاد کے ہر جلسے میں کیا کرتے تھے
اصغر خان ماضی کے عمران خان ہیں جنکی پارٹی میں نواز شریف اور اعتزاز احسن جیسی قد اور شخصیات تو موجود تھیں لیکن تنظیمی ڈھانچہ نہ تھا
آیندہ انتخابات کے نتایج کے بعد لوگ کہیں گے کہ عمران خان ماضی کا اصغر خان ہے
اسٹبلشمنٹ اور امریکہ نے اصغر خان کو بھی وہی سبز باغ دکھائے تھے جو آج عمران خان کو دکھائے جا رہے ہیں
اصغر خان تو شہنشاہ ایران سے جو اسوقت اس خطے میں امریکہ کا چوکیدار تھا اپنی حکومت کی منظوری کی سند بھی لے آئے تھے لیکن بعد میں فیصلے اور حالات بدل گئے
اصغر خان بھی ایک آمرانہ سوچ رکھتے تھے اور انہوں نے کبھی اپنی پارٹی میں کسی کو ابھرتے برداشت نہیں کیا - یہی وجہ تھی کہ انکی پارٹی کوئی مقام حاصل نہ کر سکی
انیس سو ستتر کے الیکشن میں قومی اتحاد نے انکو انکی حیثیت سے زیادہ سیٹیں دے دیں اور انہیں امیدوار تک نہ مل سکے اور زبردستی لوگوں کو پکڑ پکڑ کر الیکشن لڑوایا گیا
پچھلے دنوں جب اصغر خان نے استیفہ دے کر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تو مجھے حیرت ہوئی تھی کہ اصغر خان نے استیفہ کس کو دیا تھا کیونکہ پارٹی میں تو کوئی دوسرا تھا ہی نہیں
اس سے زیادہ حیرت پھر اسوقت ہوئی جب یہ خبر اخبارات میں چھپی کہ اصغر خان نے تحریک استقلال تحریک انصاف میں ضم کر دی
کمال ہے ابھی پہلے سوال کا جواب نہیں ملا تھا کہ اصغر خان نے آستیفہ کس کو دیا تھا پھر اصغر خان نے آستیفہ دے کر بھی تحریک استقلال تحریک انصاف میں ضم کر دی
اس سے اصغر خان کی سیاسی حثیت اور اصول پرستی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں
جو لوگ انکے ایماندار ہونے کا دعوا کر رہے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کبھی اقتدار میں آئے ہی نہیں تو کرپشن یا بے ایمانی کیسی؟
Posted 3 months ago on 30 Jan 2012 22:27
#