PKPolitics Discuss » Current Issues

Assets to be declared .

(11 posts)
  1. Anwer Kamal
    Member

    Imran asked every one to show assets but never declared his own.At last he promised to he public to show his assets within a week.
    http://www.google.com/url?q=http://www.dawn.com/2011/11/25/imran-announces-to-make-his-assets-public.html&sa=U&ei=CJrZTumACuuaiQeg88XkAw&ved=0CAQQFjAA&client=internal-uds-cse&usg=AFQjCNFlZ8xypqUvYKWqUR59-liXMhjVuQ
    That week has gone away but nothing has come out.
    There is a site telling about some of his assets .
    http://zafarachakzai.blogspot.com/2011/11/2011-5-46-620-66-7.html
    اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اثاثوں اور گوشواروں سے متعلق تفصیلات منظر عام پر آ گئیں، عمران خان نے سال 2011ءکے دوران سوا تین لاکھ روپے کا ٹیکس جمع کرایا جو پچھلے سال کے مقابلے میں 15 لاکھ روپے کم ہے جبکہ قابل ٹیکس آمدنی صرف 5 لاکھ 46 ہزار 620 روپے ظاہر کی گئی ہے، عمران خان نے گھریلو اور ذاتی اخراجات 66 لاکھ 7 ہزار 170 روپے بتائے، اسلام آباد میں دو مکان ظاہر کئے ہیں جس میں سے ایک کی مالیت ظاہر نہیں کی گئی، غیر ملکی اکاﺅنٹس میں ایک لاکھ 83 ہزار 201 ڈالر، ایک ہزار 230 پاﺅنڈز اور 92 ہزار 62 یورو شامل ہیں، 50 لاکھ کی پراڈو، 825 کنال کی زرعی زمین کے بھی مالک ہیں، عمران خان کی طرف سے اپنے بچوں کے نام کوئی جائیداد اور اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی کی طرف سے عمران خان کے اثاثوں بارے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جانب سے جو انکم ٹیکس اس سال جمع کروایا گیا ہے اس کے مطابق عمران خان نے گھر میں استعمال ہونے والی بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی مد میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 89 ہزار 37 روپے خرچ کئے جبکہ اسلام آباد گھر میں زیر استعمال ٹیلی فون اور انٹرنیٹ بلوں کی ادائیگی کی مد میں 91 ہزار 400 روپے خرچ کئے۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے گیس کے بلوں کی مد میں 25 ہزار روپے، سیکورٹی سروسز، پانی کے بل، فائر انشورنس، گراﺅنڈ رینٹ سمیت دیگر مد میں مجموعی طور پر 11 ہزار 149 روپے خرچ کئے ہیں۔ عمران خان نے ٹیکس ایئر 2011ءمیں اندرون و بیرون ملک سفر پر پانچ لاکھ روپے خرچ کئے۔ عمران خان نے زیر استعمال گاڑی کے استعمال اور اس کی مینٹی ننس پر آنے والے اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔ عمران خان نے اسلام آباد کے علاوہ دوسرے متفرق، ذاتی اور گھریلو اخراجات کی مد میں 25 لاکھ 40 ہزار 584 روپے کے اخراجات ظاہر کئے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس ایئر 2011ءمیں 66 لاکھ 7 ہزار 170 روپے کے ذاتی اخراجات ظاہر کئے ہیں۔ انکم ٹیکس گوشوارے میں عمران خان کی طرف سے بچوں کی تعلیم پر اخراجات کی مد میں کوئی رقم ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی کلب ممبر شپ فیس کی مد میں کوئی اخراجات ظاہر کئے گئے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے ٹیکس ایئر 2010ءکے گوشوارے میں قابل ٹیکس آمدنی 82 لاکھ 62 ہزار 898 روپے ظاہر کی گئی تھی جو کہ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2011ءمیں 77 لاکھ 16 ہزار 278روپے کی کمی کے ساتھ صرف 5 لاکھ 46 ہزار 600روپے ظاہر کی گئی ہے۔ عمران خان کی جانب سے ٹیکس ایئر 2010ءمیں جمع کرائے جانے والے انکم ٹیکس گوشوارے میں زرعی آمدنی ساڑھے سات لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی جو ٹیکس ایئر 2011ءکے انکم ٹیکس گوشوارے میں 15 لاکھ 80 ہزار روپے اضافہ کے ساتھ 23 لاکھ 30 ہزارروپے ظاہر کی گئی ہے۔ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2010ءکے انکم ٹیکس گوشوارے کے ساتھ جمع کروائی جانے والی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں عمران خان کی طرف سے وراثت میں ملنے والی جائیداد میں مکان نمبر 2 زمان پارک لاہور، میانوالی میں دو لاکھ کا مکان، موضع رنگیالی بہالیاں فیروز والا، شیخوپورہ میں 163 کنال زمین، گدالہ بھکر میں شیخ ڈگر شیخ میں 141 کنال زمین، بھکر کیچک نمبر 30 الف میں 8 ایکڑ زمین، بھکر میں ڈگر 30 کنال زمین، بھکر کے چک نمبر 185 میں 60 کنال زرعی زمین اور موضع ڈنگیال بھکر میں 170 کنال زمین ظاہر کی گئی ہے اور ویلتھ سٹیٹمنٹ میں عمران خان کی طرف سے وراثت میں ملنے والی زمین کی ملکیت ظاہر نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان کی طرف سے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں اسلام آباد کے علاقے موہرہ نور میں واقع 300 کنال 5 مرلے کا مکان تحفے میں ملا ہے جبکہ عمران خان کی طرف سے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں موہرہ نور میں واقع 6 کنال 16 مرلے کے دوسرے مکان کی مالیت 50 لاکھ 50 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ 105000+25000 مربع فٹ کے اپارٹمنٹ نمبر 8-B-ii، رمنا فور اسلام آباد کی مالیت صرف 11 لاکھ75 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں عمران خان کی طرف سے چک نمبر 104/15Lمیاں چنوں، خانیوال میں 560 کنال زرعی زمین کی ملکیت صرف 50 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے اس کے علاوہ بھکر کے علاقے موضع دگیان میں واقع 265 کنال زمین کی مالیت 42 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ عمران خان کی طرف سے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں دی جانے والی غیر ملکی اکاﺅنٹس کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے بینک الفلاح بلیو ایریا اسلام آباد میں ایک اکاﺅنٹ میں 2870474 میں 1230 پاﺅنڈ بینک الفلاح بلیو ایریا اسلام آباد میں دوسرے اکاﺅنٹ نمبر 02801880 میں ایک لاکھ 81 ہزار 728 ڈالرز ہیں جبکہ بینک الفلاح بلیو ایریا اسلام آباد ہی میں تیسرے اکاﺅنٹ نمبر 02865506 میں 92 ہزار 62 یورو جبکہ اسی بینک کے چوتھے اکاﺅنٹ نمبر 01801070 میں ایک ہزار 473 ڈالر موجود ہیں۔ ویلتھ سٹیٹ منٹ میں عمران خان کی طرف سے سوزوکی بولان QU794 کےلئے 6 لاکھ 8 ہزار روپے کی ایڈوانس ادائیگی ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ پیجرو جیب نمبر BD-7632 ماڈل 2004ءکی مجموعی مالیت 50 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ویلتھ سٹیٹ منٹ میں عمران خان کی طرف سے اپنی ملکیت میں 2 لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر، ایک کروڑ 69 لاکھ 15 ہزار 713 نان بزنس کیش ان ہینڈ ظاہر کی گئی ہے تاہم ویلتھ سٹیٹمنٹ میں عمران خان کی طرف سے اپنے بچوں کے نام کوئی جائیداد اور اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔ عمران خان کی طرف سے ویلتھ سٹیٹ منٹ میں اپنے اثاثہ جات کی مجموعی مالیت 3 کروڑ 94 لاکھ 12 ہزار 312 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس ایئر 2011ءمیں عمران خان نے انکم ٹیکس اور سرچارج کی مد میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 22 ہزار 110 روپے جمع کرائے جس میں فائنل اور فکس ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 53 ہزار 946 روپے ادا کئے گئے۔ عمران خان نے پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 33 ہزار 200 روپے جبکہ بیرونی ممالک سے فراہم کی جانے والی سروسز اور کنٹریکٹس سے حاصل ہونے آمدنی پر ایک لاکھ 98 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2011ءمیں کمیشن پروفیشنل، چارجز فیس سمیت دیگر سروسز کی مد میں مجموعی طور پر 8 لاکھ روپے آمدنی ظاہر کی گئی ہے جبکہ ایئر 2010ءکے انکم ٹیکس کے گوشوارے میں عمران خان نے کمیشن پروفیشنل چارجز فیس سمیت دیگر سروسز کی مد میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 16 لاکھ 13 ہزار 298 روپے کی آمدنی ظاہر کی تھی اس لحاظ سے ٹیکس ایئر 2011ءمیں عمران خان نے کمیشن پروفیشنل چارجز سمیت دیگر سروسز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ایک کروڑ 8 لاکھ 13 ہزار 298 روپے کی کمی ظاہر کی ہے۔ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2011ءمیں کمیشن پروفیشنل چارجز فیس سمیت دیگر سروسز سے حاصل ہونے والی 8 لاکھ روپے کی آمدنی سے 2 لاکھ 53 ہزار روپے نفع و نقصان کی مد میں اخراجات ظاہر کئے گئے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2010ءمیں قابل ٹیکس آمدنی 82 لاکھ 62 ہزار 898 روپے ظاہر کی گئی تھی جبکہ ٹیکس ایئر 2011ءمیں 77 لاکھ 16 ہزار 278 روپے کی کمی کے ساتھ صرف 5 لاکھ 46 ہزار 620 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2010ءمیں انکم ٹیکس سے مسثنیٰ آمدنی 4 لاکھ 32 ہزار 755 روپے ظاہر کی گئی تھی جبکہ ٹیکس ایئر 2011ءمیں عمران خان کی طرف سے انکم ٹیکس سے مسثنیٰ رقم صرف 50 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ عمران خان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2010ءمیں انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ظاہر کردہ آمدنی میں سے 35 ہزار روپے کی آمدنی کیپیٹل گین کی مد میں ظاہر کی گئی ہے جبکہ 3 لاکھ 90 ہزار 755 روپے دیگر ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی جبکہ ٹیکس ایئر 2011ءکے گوشواروں میں ظاہر کردہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ 50 ہزار روپے آمدنی کیپیٹل گین سے ظاہر کئے گئے ہیں۔ عمران خان نے سیلاب متاثرین کی بحالی و امداد کیلئے عائد کردہ 15 فیصد انکم ٹیکس سرچارج کی مد میں مجموعی طور پر 13 ہزار 502 روپے جمع کروائے ہیں۔

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 3:47 #
  2. insaftak
    Member

    The press conference will be held on sunday according to Imran Khan's facebook page.

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 4:04 #
  3. Anwer Kamal
    Member

    Was Ikram ullah Niazi in the list of persons ousted from government services on the charges of corruption ?

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 4:10 #
  4. It does not matter, if Imran Khan declare or not. Peoples of Pakistan trust him. He is never been in power. so, what is the point to ask him to declare his assets?

    He has only one serious issue about sita white. Since, he acknowledged his past mistakes, most peoples( including me)will ignore that mistakes.

    It need lot of guts and courage to acknowledge past mistakes. He is not liar like other leaders, whom signed agreements to save their lives and wealth, but they never want to acknowledge this truth.

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 6:00 #
  5. Anwer Kamal
    Member

    According to Islamic law he should be "Sngsar"

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 6:02 #
  6. It does not matter, if Imran Khan declare or not. Peoples of Pakistan trust him. He is never been in power. so, what is the point to ask him to declare his assets?

    He has only one serious issue about sita white. Since, he acknowledged his past mistakes, most peoples( including me)will ignore that mistakes.

    It need lot of guts and courage to acknowledge past mistakes. He is not liar like other leaders, whom signed agreements to save their lives and wealth, but they never want to acknowledge this truth.

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 6:02 #
  7. Anwer Kamal
    Member

    Asking point is the funds from charity .given by the public for SK and earth quake and flood relief,than Zardari and N$ on politics and media .

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 6:05 #
  8. d0ct0r
    Member

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 10:48 #
  9. insafi111
    Blocked

    Of course, Imran Khan has declared his assets in the past, when he was in the parliament. Last time he did that was in 2007.

    Still he has claimed all along that he has everything in his name and has paid millions in tax. He has offered himself to accountability.

    So his assets are fully declared in every way. Now he simply to declare it in a press conference to make a point. That's a strategy not a legal binding.

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 12:04 #
  10. aftab arif
    Member

    @ Anwer Kamal

    You really are a sick individual, and really need the asylum.

    Posted 5 months ago on 03 Dec 2011 23:21 #
  11. sultanalikhan
    Member

    I think declaration of assets by all in public domain is a very legitimate and constitutional demand, exphasized by Imran Khan...

    without raising questions or whining about it, all must do it and that should be the end of it......

    Posted 5 months ago on 04 Dec 2011 6:24 #

RSS feed for this topic

Reply

You must log in to post.