PKPolitics Discuss » Social and Cultural Issues

Bail Out

(3 posts)
  1. pakistan4all
    Member

    بیل آؤٹ
    دنیا کی تمام زبانوں اور اس کے بولنے والوں کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ ایک فقرے کا استعمال کم وبیش ایک ہی انداز میں کرتے ہیں، اور وہ فقرہ ہے کہ، مرنے والا تو مرگیا، ساری مصبیتیں ہمارے لیئے چھوڑ گیا۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ہر برسراقتدار آنے والا ہر حکمران اس بات کا رونا روتا ہے کہ جانیوالی حکومت اسقدر بری اور نااہل تھی کہ اس کا پھیلایا ہوا گند ہم اب تک صاف کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں سابق سینیٹر انور بیگ تو ایک مرتبہ اتنے جذباتی ہوگئے موصوف فرمانے لگے کہ چالیس سال کا گند ہم ایک دن میں ختم نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں اس چالیس سال کے دورانیہ میں پیپلز پارٹی کے سابقہ تینوں ادوار بھی شامل ہیں۔ اور اس چوتھے دور میں کیسے اپنے تین ادوار کے گند سمیت تمام صفائی ممکن ہے۔ بالکل بجا ارشاد فرمایا بیگ صاحب، لیکن آپ یہ فرمانا چاہیں گے کہ تمام صفائی کی خاطر آپ کو کتنے دن درکار ہیں، اوران درکار دنوں میں ایک دن کا دورانیہ کتنے برس پر محیط ہوگا، یعنی بقول شاعر
    اس نے وعدہ کیا تھا آنے کا پانچویں روز
    سن لیا ہوگا کہ زندگانی ہے چار یوم کی
    لیکن اس وقت میرا موضوع نہ تو بیگ صاحب کا جذباتی بیان ہے، اور نہ ہی شاعر صاحب ہیں بلکہ میرا مسلہء، میری شکایت یا میرے دکھ کا باعث تو شخص ہے، جس کے مرحون منت 1951 میں یہ دنیا لفظ " بیل آؤٹ " سے متعارف ہوئی۔ میں کسی بھی سرچ انجن پر یہ تلاش نہ کرپایا کہ وہ کونسے عوامل تھے جو کہ بیل آؤٹ کے لفظ کی تخلیق کا باعث بنے ۔ یہ ممکن ہے کہ 1951 کے بعد اس کا استعمال شائد اتنا نہ ہوا ہو کہ یہ عام فہم لفظ کے زمرے میں شمار ہونے لگا ہو، لیکن یہ لفظ متروک میں بھی جگہ نہ پاسکا۔ اب اسے میری کم علمی کہیں، میری جہالت کہیں یا پھر میرے بونگے پن کا بونگا انداز کہہ لیں کہ پہلی بار اس لفظ کی بازگشت امریکی صدر براک حسین اوباما کے منہ سے سنائی دی۔ جب صدر امریکا نے ملک کی ڈوبتی اور ہچکولے کھاتی ہوئی صنعت اور میعشت کو سہارا دینے کی غرض سے مثبت رویے کے اظہار کے طور پر ایک پیکج کا اعلان کیا،اور اس پیکج کو بیل آؤٹ کا نام دیا گیا۔اور اس بیل آؤٹ پیکج یا پروگرام کے ذریعے ایک اندازے کے مطابق تمام ملکی ترقی کی اکائیوں کی مالی مدد کی۔ اس مالی مدد کا مطلب یا مقصد یہ تھا کہ ڈوبتی ہوئی صنعت کو سہارا دیکر ملکی معیشت کو ڈوبنے سے بچایا جا سکے، بس کے ساتھ ہی ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگاہی کے سانے بند باندھا جائے۔ یہ اور بات ہے کہ بیل آؤٹ پیکج کے ملنے کے بعد بحالی معیشت کے ضمن میں کچھ کرنے کی بجائے معیشت کی ان اکائیوں کے ڈائریکٹرصاحبان اور دوسرے فعال ممبران نے اس سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے اپنے بونس اور واجبات کی مد میں ایک کثیر رقم استعمال کرلی،اور بقایا رقم کے استعمال کے بارے میں کوئی ایسی حفقیقت یا تیدیلی محسوس نہیں ہوتی،جس سے کہ یہ اندازہ ہو کہ بحالی معیشت کی گاڑی واپس ٹریک پر آگئی ہے۔۔ اس بیل آؤٹ پیکج میں سب سے زیادہ توجہ ہاؤسنگ انڈسٹری کی صنعت کو دی گئی، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ اس پیکج کے تحت ان مکان مالکان کی مدد کی جاسکے،جو کہ بیروزگاری اور دوسرے بہت سے اندیکھے حالات کی وجہ سے مکان کی مارگیج تسلسل سے دینے سے محروم ہوگئے تھے ، لیکن تمام بنک اور تمام اداروں نے بیل آ‌ؤٹ کے تحت تو فائدہ اٹھا لیا، یا یہ کہیں کہ ذاتی اور انفرادی حیثیت میں تو ایک مخصوص طبقے نے فوائد حاصل کر لیئے ،مگر افسوس صد افسوس تیسری دنیا ، آمرانہ طرز حکومت اور وراثتی بادشاہت کے کی طرز پرچلنے والے ممالک کی مانند اس بیل آؤٹ سے براہ راست غوام النّاس کو کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوا، اور اگر کوئی مستفید ہوا بھی تو وہ اس قدر معمولی ہے کہ مثال نہیں بن سکتا۔ کیونکہ بیروزگاری کی شرح میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں آیا، ہر گلی میں دو چار مکانات پر برائے فروخت کا بورڈ منہ چڑا رہا ہوگا۔ یہ سب کچھ بیل آؤٹ کے باوجود ہے۔ اس لفظ نے کچھ کیا ہویا نہیں ، کوئی جادو دکھایا ہو یا نہیں، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ یہ لفظ پاکستان میں غیرمعمولی طور پر مشہور ہوگیا ، بالکل اس انداز میں جسطرح پاکستان الیکٹرونک میڈیا پر انڈین گانے، انڈین فلمیں ، اںڈین فنکاروں کے حالات زندگی، انڈین بالی وڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کا ہر چینل پر ہر روز ذکر، یا پھر پاکستانی سیاستدانوں کے مکروفریب کی داستانیں، ملکی وسائل کی بندر بانٹ، سرکاری اداروں کی روزانہ کی بنیاد پر زبوں حالی۔ معاف کریں بات میں بیل آؤٹ کی کررہا تھا اور لے بیٹھا پاکستان ۔ میرا بھی کوئی حال نہیں،میں بھی چینلز پر نشر ہونے والے ٹاک شوز کا میزبان یا مہمان ہوگیا،کہ بات شروع کہیں سے کرتا ہوں اور لے کہیں جاتا ہوں۔ اللہ پاک میرے حال پر رحم فرما اور مجھے اپنے موقف پر قائم رہنے کی توفیق دے آمین ثمہ آمین۔ ہاں تو جیسے ہی لفظ بیل آؤٹ نے امریکا مي جڑ پکڑی اور پاکستانی حکمران طبقے کے سیاستدانوں کو یہ پتہ چلا کہ اس بیل آؤٹ میں ڈوبتی معیشت اور انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی غرض سے حکومت رقم مہیا کرتا ہے،تو پاکستان میں ایک نیا مالی سونامی آگیا، اور ہر محکمے کا وزیر منہ پھاڑ کر اور ہاتھ پھیلا کر بیل آؤٹ کی بھیک مانگنے پہنچ گیا۔ ان کی حالت بالکل ان فقیروں کی مانند ہے،جس طرح کہ آپ کسی دربار یا کسی مزار پر بھیک مانگنے والے بھکاری کو خیرات دیں، تو اگلے ہی منٹ آپ کے چاروں طرف ان پروفیشنل بھکاریوں کا جم غفیر لگ جائے گا، اور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائینگے کہ کسی خیرات دیں اور کسے نہ دیں۔ لیکن یہاں ایک بات یہ بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ فقیر کو ملنے والی ساری خیرات پر اس کا حق نہیں ہوتا، بلکہ اس میں حصہ دار بھی ہوتے ہیں، جو کہ اپنا اپنا حصہ ہرروز سوج غروب ہونے سے پہلے وصول کر لیتے ہیں، ان تمام حصے بخروں کے بعد اصل فقیر کے حصے میں اتنا ہی آتا ہے کہ اگلے روز وہ ایک بار پھر حیرات بیل آؤٹ کی لائین میں کھڑا ہونے کی غرض سے دھکم پیل میں مصروف ہوگا۔ اس وقت یہ حال بلکہ اس سے زیادہ وقیر وزراء قطار باندھے کھڑے ہیں کہ ان کی زیرنگرانی چلنے والی وزارت کو اگر فوری طور پر بیل آؤٹ کے نام پر خیرات نہ ملی تو وہ ڈوب جائیں گے۔ اس وقت ریلوے، پی آئی اے ، پاکستان سٹیل، واپڈا یہ تمام وہ ادارے ہیں، جو کہ تباہی کے عمل میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں، واپڈا میں بیل آؤٹ سے قبل بجلی کے بحران پر قابو ّانے کی غرض سے رینٹل پاور پلانٹ کا شور بلند ہوا، اور ملک میں کئی قسم کے رینٹل پلانٹس مختلف ناموں سے ۂگنے کی غرض سے لائے گئے۔ یہ مانا کہ نام مختلف تھے ،مگر کئی کے پس پردہ مالکان وہ حضرات تھے، جو کہ قوم کے غم میں گھلنے کی غرض سے حکومت کا حصہ بلکہ صمد بونڈ حصہ تھے۔ اب تک کتنے رینٹل پاور پلانٹ آ چکےہیں ، کتنوں نے کام شروع کردیا ہے،اور بقایا کتنے عرضے بجلی بنا شروع کردیں گے۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ ایک پلانٹ دکھا کر اس کی پیمینٹ دو دفع وصول کر لی گئی۔ یعنی پالے سکھر میں اور اس کے بعد لاڑکانہ میں۔ وہ تو چیف جسٹس صاحب اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے ساتھ ہیں ، جب یہ بات ان کے نوٹس میں آئی تو بےایمانوں کا منہ کالا اور سچ کا بول بالا ہوا کہ ادا کی گئی رقم واپس خواںے میں جمع کرانا پڑی۔ ویسے شنید ہے کہ ان پلانٹ کے مالک کا نام آصف علی بھٹو ( زرداری ) ہے۔ دوسری طرف پاکستان ریلوے ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر گاڑیاں بند کی جارہی ہیں، گارياں لیٹ کی جارہی ہے، لیکن بدتمیز مسافر ہیں کہ سفر کرنے سے باز نہیں آرہے۔ انڈیا سے ثقافت تو ہم پہلے ہی بیل آؤٹ پیکج کے نہ ہونے کے باوجود لے چکنے ہیں، اور اب ہم رینٹل انجن بھی لینے کی تیاری کر رہے ہیں،کیونکہ ہر وہ چیز جو کہ رینٹل کی جائیگی، اس میں کمیشن بھی فوری بنیاد پر ملنے کا امکان ہوگا۔ ماضی کی کامیاب ایئر لائین یعنی پی آئی اے حال کی ناکام ترین۔ اس کی تباہی کی ابتداء وہاں سے شروع ہوئی جب لٹیروں نے جیالوں کو نوازنے کی غرض سے تمام برطرف شدہ جیالوں کو اس روز سے بحال کردیا، جس روز وہ برطرف کیئے گئے تھے ، انہیں نہ صرف بحال کیا گیا، بلکہ بقایاجات بھی دیئے گئے۔ اس ضمن میں وہ لوگ جو کہ دوسرے ممالک میں نہ صرف سکونت اختیار کر چکے تھے، بلکہ وہاں کی شہریت بھی اختیار کر چکے تھے، وہ لوگ واپس آئے، بقایاجات وصول کیئے اور واپس چلے گئے۔ اور یہ ہی حال وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کا بھی ہوگا،کیونکہ بقایاجات وہ بھی لے چکا ہے، اور اب بونس پر کام چلا رہا ہے، لہذا جیسے ہی حکومت ختم ہوگی، وہ بھی واپس برطانیہ چلا جائیگا۔ ویسے جانیوالوں میں یہ اکیلا نہیں ہوگا،اور بھی بہت سوں نے بیگ تیار کرکے رکھے ہوئے ہیں۔ اور جیسے ہی ان کی بیل آؤٹ کی مدت ختم ہوگی یہ سب اپنے اپنے آقاؤں کے دیس سدھار جائیں گے۔ پاکستان اسٹیل جو کہ ایک منعف بخش ادارہ تھا،لیکن افسوس اس کی آنکھیں اب بیل آؤٹ کی راہ تک رہی ہیں۔ یہ بے ایمانیاں اور کمشین گیری میں نے صرف مرکز میں ہیں، اگر صوبوں کی طرف نکلوں تو جگہ کم پڑ جائیگی، لیکن ان کی بے ایمانی کی داستانیں ختم نہیں ہونگی۔ سیاستدانوں کا یہ برسراقتدار ٹولہ اس وقت بیل آؤٹ بیل آؤٹ چلا رہا ہے، میرے اندازے کے مطابق واقعی انہیں بیل آؤٹ کی اشد ضرورت ہے،کیونکہ بیل آؤٹ صرف رقم سے منسلک کرنا بیل آؤٹ سے زیادتی ہوگی۔ انہیں ضروت ہے اخلاقی بیل آؤٹ کی ، عدم برداشت کے خاتمے کے لیئے برداشت کے بیل آؤٹ کی، مذہبی شدت پسندی، جس میں کہ اب تشدد کا عنصر اپنی انہتاء کو پہنچ چکا ہے، اس رحجان کے خاتمے کی خاطر مذہبی رواداری کے بیل آؤٹ پیکج کی ضرورت ہے۔ حسد، بغض اورلالچ کے خاتمے کی لیئے بیل آؤٹ۔ جھوٹ ریاکاری اور مکاری کے خاتمے کا بیل آؤٹ پیکج، سیاستدانوں کے یو ٹرن، مفاد پرستی ، ضمیر فروشی اور وطن فروشی کے خاتمے کا بیل آؤٹ پیکج ، اقرباء پروری اور ملتان پروری کے خاتمے کے لیئے میرٹ کے اجراء کا بیل آؤٹ ، غرض اور کتنے بیل آؤٹ متعارف کراؤں۔ لیکن یہ تمام بیل آؤٹ ان چکنے گھڑوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا، کیونکہ یہ بے پیندے کے لوٹے ہیں۔

    Posted 6 months ago on 01 Nov 2011 5:47 #
  2. itni lumbi urdu kon perey ga? :s

    Posted 6 months ago on 01 Nov 2011 10:55 #
  3. pakistan4all
    Member

    RhyMe, This is not the matter of reading lumbi Urdu, I tried my best to discuss current political turmoil. When it comes the matter of Pakistan, i always prefer to read every line related column,which help me to know the current situation,

    Posted 6 months ago on 01 Nov 2011 14:34 #

RSS feed for this topic

Reply

You must log in to post.