انقلابی الیکشن میں حصہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ ننانوے فیصد ہیں یا اشاریہ ننانوے فیصد؟
ابھی تک تو جتنے الیکشنز میں حصہ لیا ہے ان میں تو اشاریہ زیرو ننانوے فیصد ہیں - انقلابی جرات کریں اور الیکشن میں حصہ لیں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ کون کتنے پانی میں ہے؟
ویسے تحریک انصاف کے الیکشن سے راہ فرار اختیار کرنے سے مجھے یقین ہو چلا ہے کہ عنقریب تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں انٹر نیٹ پر الیکشن کروانے کے متعلق رٹ ضرور دائر کی جائے گی. جس کے اہم نکات یہ ہونگے
انتخابات انٹرنیٹ پر کراو - عمران خان کو اقتدار میں لاؤ
ہمارا مطلبہ …. انتخابات انٹرنیٹ پر ہوں تاکہ انقلابیوں کو گرمی میں خراب نہ ہونا پڑے، انتخابات جنرل پاشا کی زیر نگرانی ہوں، ٹی وی چینلز اور ویب سائیٹس پر انتخابی مہم چلائی جائے، جسٹس ریٹایرڈ وجیہ الدین کو انٹرنیٹ الیکشن کمیشن کا سربراہ بنایا جائے
ہمارا منشور …انقلاب کا نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف بناو، فوجیوں کے بوٹ پالش کرکے اقتدار میں آو، تیس دن کے اندر اندر دودھ اور شہد کی نہریں جاری کرنے کی خوشخبری سناو، خلافت راشدہ کے نفاذ کا اعلان کرو اور جلسوں میں مجرے کرواو، ریمنڈ ڈیوس کیس پر عوام کے جذبات مشتعل کرو اور اسکی رخصتی کے وقت جنرل پاشا اور امریکہ کے سفیر سے خفیہ ملاقات کے بعد چھپ جاو اور جب وہ چلا جائے تو باہر نکل کر بڑھکیں لگاو
ایک آدمی ایک ووٹ کا موجودہ جمہوری نظام نا قا بل قبول اور فرسودہ ہے. ہم فرسودہ نظام کے ذریعے ہر گز ہر گز جیت نہیں سکتے کیونکہ یہ پاکستانی عوام اور یہ دیہاتوں میں بسنے والے دس کروڑ گدھے ہمیں ووٹ نہیں دیں گے
انتخابات انٹرنیٹ پر ہوں اور ہر انقلابی کو کم از کم سو آئی ڈیز بنا کر ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو تو ہم نہ صرف قومی اسمبلی کی بلکہ تمام صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کی ساری سیٹیں ہم جیتیں گے. موجودہ سینیٹ کو تحلیل کرنے انٹرنیٹ انتخابات کے ذریعے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے سینیٹ کے نئے اراکین کا انتخاب کیا جائے. اس سلسلے میں ہم جلد ہی سپریم کورٹ میں جائیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری ہمیں مایوس نہیں کریں گے کیونکہ وہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی ٹیلی فون کال پر کانپتے ہوئے ہمارا انٹرنیٹ پر انتخابات کا مطالبہ ضرور منظور کریں گے
انٹرنیٹ پر انتخابات سے قبل ہماری پسند کی نگران مجلس شوریٰ بنائی جائے جس کے سربراہ چاچا کپی المعروف ہارون الرشید ہوں اور ڈاکٹر شاہد مسود، حسن نثار، انصار عباسی، شاہین صہبائی، احمد نورانی، حامد میر اور کامران خان اس مجلس شوریٰ کے ممبر ہوں
اس تمام انتخابی پراسیس سے گزر کر ہمارے قائد انقلاب جناب عمران خان (پندرہ سال میں ایک سیٹ والے) بلا مقابلہ وزیر اعظم منتخب ہو جائیں گے اور مجلس شوریٰ اور انٹرنیٹ الیکشن کے نتیجے میں منتخب اسمبلیاں ہمارے قربانی کی کھالوں اور چندے والے اتحادی سید منور حسن کو صدر مملکت اور الطاف بھائی لال پاسپورٹ والے کو رہبر مملکت منتخب کر لیں گے
ہم اور ہمارے کھال اتارنے والے اتحادی تیس دن کے اندر اندر عوام کی وہ کھال اتاریں گے کہ عوام روتی کپڑا اور مکان والوں اور قرض اتارو ملک سنوارو والوں بھول جائیں گے
:) :)
Posted 3 months ago on 23 Feb 2012 6:42
#