جناب خان صاحب
آپ کی تحریر میں درد بھی ہے اور مایوسی کی بھی جھلک ہے، کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی
میں ارد گرد دیکھتا ہوں تو دودھ والے سے لیکر سرکاری بابو سب بد دیانت نظر آتے ہیں، ٹماٹر لینا بھی عذاب اور سرکاری بابو سے کوئی کام کرانا درد سر، اوپر سے اس سب کو کوئی غلط بھی نہیں سمجھتا، کوئی دل میں خوف نہیں، کوئی دل میں احساس نہیں، کوئی ضمیر نہیں، یہ کیا ماجرا ہے، ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟
کیا لوگوں کا قصور ہے؟ یا ان پر یہ بدیانتی صدیوں سے ایسے مسلط کی گئی ہے کہ ان کا رہن سہن بن گیا ہے، حافظ ہو یا حاجی، مولوی ہو یا قاری، ڈاکٹر ہو یا انجنئیر، کمپوڈر ہو یا نرس کسی میں انسانیت کیوں نہیں نظر آتی؟
پھر میں جی ٹی روڈ پر گاڑی چلانے والا زمانہ یاد کرتا ہوں اور پھر موٹر وے پولیس کا آنا یاد کرتا ہوں سوچتا ہوں کہ کیسے دو سالوں میں ان پڑھ جاہل ٹرک والا یا چرسی بس والا سب ایک ضابطے کے تحت گاڑی چلانے لگ گئے، یہ کیسے ہوا؟
لوگوں کو گندگی کے ڈھیر پر دھکیل کر یہ سوچنا کہ گندے نالے کے بیچ رہتے ہوے یہ خودی اپنے کو صاف کریں، کوئی تک نہیں بنتی، گزشتہ دنوں دفتر خارجہ سے ایک کام پڑ گیا، بابووں نے بھگا بھگا کر بیحال کر دیا لیکن اف تک نہ کر سکا، رشوت لینا تو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں، کون ہے جو سرکار کا ہاتھ پکڑے؟ کیا عوام نے کرنا ہے؟
عوام بیچاری بھوکی ننگی، بجلی نہیں پانی نہیں، وہ ان بنیادی ضروریات زندگی کے چکروں میں یا تھانہ کچہری کے برطانوی راج کے نظام سے تحفظ کے لئے ووٹ دیتے ہیں، اور پڑھا لکھا طبقہ سمجھ نہیں پاتا کہ آخر یہ اٹھارہ کروڑ عوام کب سمجھے گی، ارے بھائی جب ان کا پیٹ بھرے گا، دو وقت کی روٹی ملے گی، بجلی پانی ملے گا تو آگے سوچیں گے نا
آداب
Posted 1 year ago on 19 May 2011 12:20
#