شیرازی
آپ نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں اور کہاں ہیں، تو لیجئے جواب حاضر ہے
سوویت کے خلاف لڑنے کے لئے ساری دنیا سے مجاہدین افغانستان آئے تھے اور پھر وہیں قیام پزیر ہوے، مقامی قبائل میں شادیاں کیں اور یہیں کے ہو کر رہ گئے کیونکہ ان کی اپنی حکومتوں نے ان پر امریکہ کے دباؤ کے تحت واپسی پر پابندی لگا رکھی تھی
یہی وہ لوگ ہیں جن کو آپ کا میڈیا ہیرو اور آزادی کے مجاہد کہتا تھا اور ساری دنیا ان کی پشت پناہی کرتی تھی
پر جب امریکہ نے خود اس ملک پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے اسی طرح لڑنا شروع کیا جیسے تیس سال قبل کیا تھا
یہ لوگ کوئی آج یا پانچ سال پہلے نہیں آئے، جہاں تک بات رہی کہ کون کہاں ہے تو وہ تو امریکہ کا باپ بھی نہیں جانتا، واللہ اعلم
مشرف ایک فون کال پر لیٹ گیا اور کشمیری مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا، افغانی مسلمانوں کی ناصرف پیٹھ میں خنجر گھونپا بلکہ اپنے کندھے بھی آگے کئے کہ ادھر سے نشانہ مارو
٢٠٠٤ میں پہلی دفعہ امریکی دباؤ میں آ کر قبائلی علاقوں میں فوج کشی شروع کی، ہر صلح کے معاہدے کو سبوتاژ کیا، نیک محمد کو قتل کیا، امریکی نیٹورک کو کھلی چھوٹ دی اور سینکڑوں رے منڈ آ کر فتنہ سازی میں لگ گئے، ادھر مزائل مارتے اور ادھر متاثرین کو استمعال کرتے
میں پوچھتا ہوں کہ آپ جیسے لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ امریکی آمد سے پہلے اس خطے میں کوئی فتنے نہ تھا، یہ سب آپ کے امریکی سرکار کی لگائی ہوئی آگ ہے، لیکن آپ کو نظر نہیں آتی بلکے وہی نظر آتا ہے جو آپ کی سرکار کہتی ہے
Posted 1 year ago on 16 Feb 2011 2:25
#