ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا - اور امریکی موقف
ميں دوہرانا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت پاکستان کی خود مختاری اور عدالتی نظام کا بہت احترام کرتی ہے۔ تاہم، غداری کے لئے ڈاکٹر شاہد آفریدی کو مجرم کے طور پر سزا دينے کے ہم اس پاکستانی فیصلے کے بارے ميں تحفظات رکھتے ہيں کيونکہ ہم ان الزامات کے لئے کوئی بھی بنیاد نہيں دیکھتے۔ امریکی حکومت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ جو کچھ ڈاکٹر شاہد آفریدی نے کیا وہ غداری سے بہت دور ہے۔ ڈاکٹر شاہد آفریدی کو پاکستان پر نظر رکھنے اور جاسوسی کے لئے کبھی نہیں کہا گیا تھا۔ اس نے صرف القاعدہ کے دہشت گرد گروہ کے رہنما کو تلاش کرنے میں مدد کی تھی جس نے پاکستان اور امریکہ کو خطرے ميں ڈال ديا تھا۔ اس کے اس نيک کام کی وجہ سے معصوم پاکستانی اور امریکی زندگیوں کو بچانے ميں کافی مدد ملی۔
مزید برآں، یہ ڈاکٹر شاہد آفریدی کا ایک بہادر، نڈر اور محب وطن فعل تھا، جو دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوا،اور وہ شخص جس کے ہاتھ بہت سے معصوم پاکستانیوں اور دنیا بھر کے دیگر معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔
يہ نوٹ کرنا بھی نہايت ضروری ہے کہ ڈاکٹر آفريدی کا فعل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کئی سالوں کے دوران ان منظور شدہ قانونی قراردادوں کے عين مطابق تھا، جو تمام رکن ریاستوں کو اسامہ بن لادن اور اسکے القاعدہ کے نیٹ ورک کو انصاف کے کٹہرے ميں لانے میں کے لئے پابند کرتی ہے۔
ہميں يہ بھولنا نہيں چاہيۓ کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن نے جولائی 2007 ء ميں پاکستان کی حکومت کے خلاف ایک عام جنگ کا اعلان کيا تھا۔ اس کے علاوہ، القاعدہ اور اس سے منسلک تنظیموں نے پاکستان میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں معصوم لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔
آخر میں، دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی حکومت کی مدد کرنے کے لئے ڈاکٹر شاہد آفریدی کے اقدامات نے نہ صرف انتہا پسندوں کے خلاف پاکستان کی اپنی جاری کوششوں میں حمایت کی ہے بلکہ دنیا کو ایک زیادہ محفوظ جگہ بنانے میں بھی ایک زبردست اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ
تاشفين
ای میل : digitaloutreach@state.gov
Posted 1 year ago on 24 May 2012 18:32
#