میری طرح بہت ساروں نے معاشرتی علوم کے نصاب میں پڑھا ہو گا کہ محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں جرنیل کی حیثیت سے فوج کی قیادت کی اور سندھ میں فتح حاصل کی
خیر محمد بن قسم پہ بحث کرنا مقصد نہیں اور نا ہی اس وقت کی
تاریخ پہ تبصرہ مقصود ہے، اور نا ہی یہ بحث کرنی ہے کہ شاہی رشتے کا کیا کردار ہوتا تھا، سوال ہے مہارت اور ہنر کا
میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کرتا تھا کہ کیا سولہ سترہ سال کی عمر میں کسی شعبے میں انتہائی مہارت کا درجہ حاصل کیا جا سکتا ہے جب کہ عمر بھی کم، تجربہ بھی کم اور شاید ایک ستر سالہ بوڑھے کے مقابلے میں معلومات بھی کم
ابھی حال ہی میں ایک سولہ سالہ لڑکے نے ایک سوپر گرینڈ ماسٹر کو شطرنج میں مات دی، یہ کوئی تکا نا تھا بلکہ یہ لڑکا صرف چودہ برس کی عمر میں ہی شطرنج کا گرینڈ ماسٹر بن گیا تھا
یہ کوئی ایک بچا نہیں، کئی انتہائی نوجوان لڑکوں نے یہ اعزاز حاصل کیا، امریکا کا بوبی فشر کو ہی لے لیں، اکیلے نے پورے روس کی شطرنج میں دھجیاں اڑا دیں
اگر شطرنج کو معیار بنایا جائے جو کہ ایک انتہائی پیچیدہ کھیل سمجھا ہے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک تیس سالہ تجربے والا سوپر گرینڈ ماسٹر ایک انتہائی نوجوان لڑکے سے بری طرح شکست کھاتا ہے

Another teenager Super Grand Master