حکومتِ پاکستان نے پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں نافذ سو سالہ پرانے قانون فرنٹیئر کرائم ریگولیشن میں ترامیم کے تحت فاٹا ٹربیونل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جسے ہائیکورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔
صدر آصف زرداری نے تیرہ اگست کو ایف سی آر میں ترامیم کا اعلان کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔
صدر کے ترجمان سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بارے میں اعلٰی حکام کا ایک اجلاس دو روز پہلے منعقد ہوا تھا جس میں ان تمام ترامیم کی توثیق کر دی گئی تھی لیکن صدر نے قبائلی علاقے کے لوگوں کے لیے آزادی کے دن کے موقع پر اس کا اعلان کیا ہے اور اس اعلان کے بعد اب قانون ترامیم کے ساتھ قابل عمل ہوگیا ہے۔
فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پہلے ایف سی آر کے تحت ملزم کے پاس اپیل کا حق نہیں تھا لیکن اب ان قبائلی علاقوں میں فاٹا ٹربیونل قائم کیے جائیں گے جس کا اختیار ہائی کورٹ کے برابر ہوگا اور یہ ہائی کورٹ صوبہ سرحد کا ہائی کورٹ نہیں ہوگا بلکہ فاٹا ٹربیونل ہوگا جہاں ملزمان اپیل کر سکیں گے۔
اب قبائلی ایجنسوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات میں اتنی کمی کی گئی ہے کہ وہ من مانی نہ کر سکے۔
فرحت اللہ بابر
ان کے مطابق اب کسی ملزم کو گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور اس کے علاوہ اب مفرور ملزم کا سارا قبیلہ ذمہ دار نہیں ہوگا بلکہ مفرور ملزم کے والد کی طرف کے رشتہ دار ہی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔
صدارتی ترجمان نے بتایا کہ پہلے صرف مذہبی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سرگرمیوں کی اجازت تھی لیکن اب سیکولر جماعتیں بھی وہاں اپنا منشور پیش کر سکیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اب مدرسے اور مذہب کے نام پر سیاست نہیں ہوگی بلکہ وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت ہے اور وہاں وہ بتا سکتی ہیں کہ عسکریت پسندی کیا ہے اور جہاد کیا ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کرائم ریگولیشن ایک انتظامی حکم نامہ تھا جو سو سال پہلے ان قبائلی ایجنسیوں میں رائج کر دیا گیا تھا لہذا صدر کے پاس یہ آئینی اختیار ہے کہ وہ تمام کا تمام ریگولیشن منسوخ کرکے نیا ریگولیشن نافذ کرے یا اس میں ترامیم کریں۔
خیال رہے قبائلی علاقے کے لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ ایف سی آر کی بعض شقیں غیر انسانی ہیں اور انھیں ختم کیا جائے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق اب قبائلی ایجنسوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات میں اتنی کمی کی گئی ہے کہ وہ من مانی نہ کر سکے۔
After so many years of independance, a non-human Law is scrapped eventually!