ہارون الرشید
احتیاط، ابتدا ہی میں احتیاط
اقتدار کا نشہ تباہ کن ہوتا ہے ۔ اسی وقت سے ہوش برباد کرنے لگتاہے ، جب ہونٹ تر کرنے کا امکان اور امید پیدا ہو ۔ حکومت تو اب تحریکِ انصاف کو مل ہی جائے گی لیکن سامانِ سفر اگر یہی ہے تو انجام کہیں توقعات سے مختلف نہ ہو جائے۔ آغاز میں انجام پوشیدہ ہوا کرتا ہے ۔بنیاد ہی میں عمارت کی عمر کا راز ۔
تین دن گزر چکے اور جناب مسعود اشعر کے نکتے پر سوچ رہا ہوں۔ اس پارٹی میں بھی کچرا ہی جمع ہوگیا تو کیا ہوگا؟ صوفی نے کہا تھا : وسوسے قطار اندر قطار آتے ہیں لیکن خیالِ خیر برق کی طرح چمکتا ہے ۔ تھام لینے میں نجات ہے اور راہِ فرار اختیار کرنے میںخرابی۔ان کا قول صادق ہے ، ایک دردمند دل کی پیداوار۔ کہنے کو کہا جاسکتا ہے کہ صاحب، میزان سبھی کے لیے ایک ہونی چاہئیے ۔یہ کیا کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ ایم کیو ایم اور چوہدری لیگ کے اونٹ نظر انداز اور تحریکِ انصاف کے مچھر چھانے جائیں ۔ خدا لگتی مگر یہ ہے کہ دلیل نہیں ، یہ تاویل اور بہانہ ہوگا۔ پاکستان بنانے والی مسلم لیگ اور ملک کی پہلی عوامی جماعت پیپلز پارٹی نے احتیاط روا نہ رکھی تو نتیجہ بھگتنا پڑا۔ کیا یہ بدقسمتی نہ ہوگی کہ ان تاریخی تجربات کو نظر انداز کر دیا جائے؟ نئی نسلوں نے بغاوت کر دی ہے اور ملک کے سیاسی مطلع پر کپتان ایک خیرہ کن طاقت کے ساتھ ابھر رہا ہے ۔ابھی سے احتیاط ، ابھی سے احتیاط!
انسانی تاریخ کے عظیم ترین مغالطوں میں سے ایک یہ ہے کہ حکمت کے نام سے خلوص پر جوڑ توڑ کو ہمیشہ فوقیت دی گئی ۔جیسے تیسے کامیابی حاصل کر لی جائے ۔ ذرا سی مصلحت اور تھوڑی سی دھونس ۔ آخر آخر اسی سے تباہی آیا کرتی ہے ۔
دانشوروں کا بس نہیں چلتا وگرنہ وہ آئین کا حصہ بنا دیں کہ ہر صبح کا آغاز جنرل محمد ضیا ئ الحق پر تبرّے اور فخرِ ایشیا ، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی ثنا سے ہوگا۔ مسلّمہ ہے کہ فوجی اقتدار ہر حال میں تباہ کن ہوتا ہے ۔ اس پر مگر تعجب کہ کتنی سہولت سے بھٹو اقتدار کے مہ وسال کی خرابیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ ضیائ الحق کی فوجی حکومت سے توخیر کا جواز ہی نہ تھا۔ سوال مگر دوسرا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ایسا بیدار مغر کیوں نہ توازن رکھ سکا۔ ان کے حامی اہلِ فکر و نظرکیوں نہیں ؟ کیا یہ بھٹو نہ تھے ، جنہوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کی فیصلہ کن اکثریت کے باوجود انہیں اقتدار سونپنے کی مخالفت کی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کیا وہ حصہ دار نہ بنے؟ فیڈرل سیکیورٹی فورس کے نام سے انہوں نے ذاتی فوج تشکیل نہ دی تھی ؟ بلوچستان پر وہ فوج چڑھانے کے مرتکب نہ ہوئے؟ کیا ان کے عہدِ اقتدار میں پریس پابہ زنجیر نہ تھا ؟ جناب حسین نقی سمیت بہت سے آزاد اخبار نویس گرفتار نہ ہوئے اور کیا ان کے اخبارات قتل نہ کر دئیے گئے ؟ 23مارچ 1977 کو لیاقت باغ میں خان عبدالولی خاں سمیت اپوزیشن لیڈروں کے مشترکہ جلسہ ئ عام پر گولیوں کی بارش نہ ہوئی تھی ؟ خود اپنے ساتھیوں کے لیے انہوں نے دلائی کیمپ کیاآباد نہ کیا تھا ۔ ناقابلِ تردید شواہد کے باوجود پیپلز پارٹی کے کسی ایک بھی دانشور کو اظہارِ صداقت کی توفیق کیوں نہ ہو سکی؟ آٹا پیسنے اور چاول صاف کرنے کے چھوٹے چھوٹے کارخانوں سمیت ، بہت سی صنعتوں کو سرکاری تحویل میں لے کر کیا اقتصادی تباہی کی بنیاد نہ رکھی گئی ؟کیا ملک سے ذہانت کا فرار تب شروع نہ ہوا تھا؟ بھٹو کے کارنامے بجا اور کوئی کورچشم ہی ان سے انکار کر سکتاہے ، مگر ان کی پہاڑ ایسی غلطیاں ؟ پھر یہی نہیں بلکہ ان کے ہر مخالف کو امریکی ایجنٹ قرار دینے اور دیتے رہنے کی عجیب و غریب روش ؟ کیا بہادر اور بے باک ڈاکٹر نذیر احمد ، نجیب اور نیک دل خواجہ محمد رفیق ، گمنام اور غیر متعلق نواب محمد احمد خان کسی او رعہد میں قتل ہوئے ؟ کارنامے ان کے گنوائے جاتے ہیں اور بجا طور پر مگر وہ بھیانک اور ہولناک غلطیاں ؟مذہبی فرقہ پرستوں کو ہم مطعون کر تے ہیں اور کرنا ہی چاہئیے مگر کیایہ سیاسی فرقہ پرستی نہیں؟ بھٹو حیرت انگیز ذہنی صلاحیت کے آدمی تھے۔ حسنِ تقریر ہی نہیں ، حسن تحریر بھی۔ شخصیت انہوں نے دلکش پائی تھی اور نئی نسل ان کی پشت پر کھڑی تھی ۔ اپنے دور ہی کے نہیں ، وہ اگلے زمانے کے آدمی نظر آتے تھے ۔ کیسے ہی بڑے عالمی لیڈر کے مقابل وہ کھڑے ہوتے ، جچتے اور چہک سکتے تھے۔ خوش چہرہ ، خوش لباس ، بے حد عرق ریزی کرنے والے ، بے پناہ متحرک مگر انتقام کی خو ایسی تھی کہ خدا کی پناہ۔ دوسروں کو حقیر سمجھتے اور اتنا حقیر کہ حیرت ہوا کرتی۔ ان کی زندگی ہی میں ان کے ایک مداح نے یہ لکھا تھا :
تم اتنا اونچا اڑے کہ سنائی ،دکھائی نہ دیتے تھے
تم اتنا اونچا اڑے کہ پہاڑوں کو ٹیلے سمجھنے لگے
اکیلے پھرو اب ہوا کی طرح جس کے پیچھے چلے تھے
اس بے پناہ آدمی کے المناک انجام سے کسی نے عبرت نہ پائی ۔بے حدسوگ کا ایک بے کراں نغمہ پورے ملک کے سارے ماحول پر چھا گیا۔اب تک چھایا ہواہے ۔ان کی مانیے تو یہ ہے کہ اس عقبری میں تو ہرگز کوئی خامی ، کوئی کمی اور کمزوری تھی ہی نہیں۔ دنیا ہی ساری سفاک ہے ۔سچے اور کھرے کو وہ قتل کر دیتی ہے ۔زندگی سرتاپا سیاہی ہے ، تاریک مغز اور تاریک دل ہے ۔ ارے بھائی ، رک کر کبھی سوچو تو سہی۔ بے شک اس آدمی کے خلاف چلایا جانے والا مقدمہ ناقص تھا۔ بے شک ججوں پر دبائو تھا اور ترغیب بھی ۔کوئی کلام نہیں کہ گواہ سرکاری اہتمام سے لائے گئے مگر جیتے جاگتے نواب محمد احمد خاں کو آخر کسی نے تو قتل کرایا تھا ؟ کون تھا وہ ؟ مقرر ، مصور اور مفکر محمد حنیف رامے کو آخر کسی نے شاہی قلعے میںقید کر رکھاتھا ؟ کس نے؟ معراج محمد خاں جیل میں ڈالے گئے اوربرسوں پڑے رہے ؟ کیا یہ جنرل محمد ضیا ئ الحق کا دور تھا یا اسی فخرِ ایشیا کا؟
قائد اعظم ثانی میاں محمد نواز شریف مد ظلہ العالی کا دور ابھی کل کی بات ہے بلکہ آج کی ۔ تفصیل کی حاجت ہی نہیں ۔ بس ایک سوال پوچھ لیجئے اور دہن سے جھاگ بہتی دیکھئے ۔ کیا ان کے اثاثوں میں ہزار وںگنا اضافہ ان کے عہدِ اقتدار میں نہ ہواتھا؟کیا وہ بڑے پیمانے کی مالی بد عنوانیوں ، حتیٰ کہ بیرون ِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کے ذمہ دار نہیں ؟ کہہ کر تو دیکھئے ، پھر آپ کا گریبان ہوگا اور ان کے ہاتھ !
اس روش، اسی روش نے ہمیں برباد کیا ہے اوربری طرح برباد ۔قائد اعظم(رح) جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں وگرنہ لیڈر بھی دوسروں جیسے ہوتے ہیں ۔ اچھے بھی اگر ہوں تو احتساب کی نگاہ ان پر رہنی چاہئیے ۔ جب میں نے یہ عرض کیا کہ مسلسل پیش قدمی اور مقبولیت میں پیہم اضافے کے باوجود ، نون لیگ اب بھی بڑی قوت ہے تو کپتان کے مدّاح بہت بگڑے ۔ ایک نے کہا: لیجئے یہ آگئے، نواز شریف کے حامی ۔ دوسرے سے اختلاف کی جسارت کی توبولا:آپ کی ذہنی صحت پر مجھے شبہ ہے ۔ برصغیر کا ایک خاص مزا ج ہے ۔ احساسِ کمتری ، دکھاوا اور شخصیت پرستی ۔ جہاں آصف زرداری کو نیلسن منڈیلا کہا جائے ،وہاں اور کیا ممکن نہیں ۔ کپتان سے تو خوبیاں ہی بہت منسوب ہیں اور بہت سی بجا طورپر ۔ بہادر ہے ، بے باک، دردمند، ایثار کیش ، صداقت شعار اور بدترین حالات کا رجائیت پسند۔ ایسا ہی مقبول اور محبوب آدمی قیادت کا اہل ہوتا ہے مگر تاریخ یہ کہتی ہے کہ ایسے غیر معمولی لیڈروں کی وجہ سے گاہے بعض خرابیاں بھی تیزی سے جڑ پکڑتی اور بے قابو ہو کر معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتی ہیں ۔ جب ایک شخص ہی کومعیارِ حق مان لیا جائے توظاہر ہے کہ اختلاف کرنے والا گردن زدنی ہو گا۔ اس نکتے کے علاوہ مہذب او رہوش مند مسعود اشعر نے جس کی نشان دہی کی ہے ، اور بھی پہلو ہیں ، کپتان کے حامیوں کو جن پر غور کرنا چاہئیے ۔اقتدار کا نشہ تباہ کن ہوتا ہے ۔ اسی وقت سے ہوش وہ برباد کرنے لگتاہے ، جب ہونٹ تر کرنے کا امکان اور امید پیدا ہو ۔ حکومت تو اب تحریکِ انصاف کو مل ہی جائے گی لیکن سامانِ سفر اگر یہی ہے تو انجام کہیں توقعات سے مختلف نہ ہو جائے۔ آغاز ہی میں انجام پوشیدہ ہوا کرتا ہے ۔بنیاد ہی میں عمارت کی عمر کا راز۔ ابھی سے احتیاط، ابھی سے احتیاط۔