PKPolitics Discuss » Future of Pakistan

How to bring peace in Pakistan

(17 posts)
  1. khan_gee007
    Member

    ڈاکٹرفریداحمدپراچہ

    اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ہر ایک نعمت، انسان پر اللہ رب العالمین کا احسان ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین نے اپنے کلام پاک میں ان میں سے کسی چیز کو اپنا احسان نہیں کہا، بلکہ ارشاد فرمایا: لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ (اٰل عمرٰن۳:۱۶۴) ’’درحقیقت اہلِ ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک پیغمبر اُٹھایا‘‘۔ گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اس کائنات کے ذرے ذرے پر اللہ رب العالمین کا احسان عظیم ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندے کو رب سے ملایا۔ انسانی غلامی کی زنجیر یں توڑدیں۔ طوق غلامی ختم کردیے۔ انسان کو انسانیت عطاکی۔ اسے شعور آدمیت بخشا، اس کے فکر ونظر کے زاویے تبدیل کردیے۔ اس کا شرف آدمیت بلند کیا۔اس کے دل و دماغ کی دنیا کو بدل کے رکھ دیا۔ اسے امن و سلامتی،عدل وانصاف، رحم دلی و خدا ترسی، صداقت و ایفاے عہد، انسانی حقوق کی پاسداری اور اپنے رب سے وفاداری عطا کی۔
    نبی کریمؐ کی تعلیمات اور آپؐ کی حیات طیبہ اس زمانے کے لیے ہی نہیں بلکہ آج کے لیے بھی اور آج کے لیے ہی نہیں، قیامت تک آنے والے زمانوں کے لیے ایک کامل واکمل، ارفع و اعلیٰ، بلند و بالا اور نہایت روشن و منور اسوۂ حسنہ اور بہترین نمونہ ہے۔ آپؐ کو اللہ رب العالمین نے وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (انبیاء ۲۱:۱۰۷)، ارشاد فرماکر ہمیں یہ بتادیا ہے کہ آپ ایک جہان کے لیے نہیں، معلوم ونامعلوم تمام جہانوں کے لیے، ایک دورکے لیے نہیں بلکہ لوح ایام سے اُبھرتے ہوئے تمام ادوار کے لیے، ایک طبقۂ زندگی کے لیے نہیں بلکہ تمام طبقات زندگی کے لیے سراپا رحمت بن کر آئے ہیں۔ اس لیے اگر آج ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہماری انفرادی واجتماعی زندگی رحمتوں سے بھر جائے، ہمارے گھر جنت کا نمونہ بن جائیں اور ہمارا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ اور عدل وانصاف کا بلند مینارہ بن جائے، تو پھر ہمیں یہ نسخۂ کیمیا صرف دامن مصطفیؐ ہی سے مل سکتاہے۔
    اگر ہم پاکستان کے تناظرمیں بات کریں، تو ہمیں یوں محسوس ہوتاہے کہ آج ہم اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزررہے ہیں۔ امن عامہ کی صورت حال انتہائی دگرگوں ہے۔ کسی کی عزت، جان اور مال اگر محفوظ ہے تو یہ صرف اللہ کریم کی خاص مہربانی ہے۔ وگرنہ یہاں انسانی جان نہ چوکوں چوراہوں پر محفوظ ہے، نہ بھرے بازاروں اور سڑکوں، شاہراہوں پر۔ انسان نہ اپنے گھر میں محفوظ ہے اور نہ خدا کے گھر میں۔ پاکستان میں پایدار امن قائم کرنا ہماری خواہش ہی نہیں، فوری اور اشد ضرورت بھی ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ آج امن عامہ کے حوالے سے ہمیں کون سے چیلنج درپیش ہیں۔ اس لحاظ سے موجودہ صورت حال دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے: ۱۔بدامنی کی عمومی صورت حال، ۲۔نائن الیون کے بعد سے پیدا شدہ خصوصی حالات۔
    l بدامنی کی عمومی صورت حال: ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم میں چوریاں، ڈکیتیاں معمول بن گیا ہے۔ کارچوری،رسہ گیری اور رہزنی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوگیاہے۔ روزانہ ہزاروں موبائل اور خواتین کے پرس چھینے جاتے ہیں۔ قتل وغارت گری میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ انتقام کی آگ میں اندھے ہو کر لوگ مخالفین کو عورتوں، بچوں سمیت ذبح کردیتے ہیں۔ تاوان وصول کرنے کے لیے پھول جیسے مسکراتے بچوں کو اغوا کیا جاتاہے، اور پھر تاوان ادا کرنے کے باوجود ماؤں کواپنے بچوں کی مسلی ہوئی لاشیں ملتی ہیں۔ منشیات کا کاروبار عروج پر ہے۔ گویا کہ معاشرہ انسانی روپ اختیار کیے ہوئے بھیڑیوں کی گرفت میں آچکاہے۔
    نائن الیون کے بعد خصوصی حالات
    یہ حالات انتہائی کرب ناک اور خطرناک ہی نہیں انتہائی شرم ناک بھی ہیں۔ اب تک ۳۰ہزار سے زیادہ بے گناہ افراد کا لہو بہہ چکاہے، اور ابھی اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف چھیڑی گئی عالمی جنگ میں پاکستانی قوم کو اپنے کچھ اور معصوموں کے لہو کا خراج اور معاشی بدحالی کی صورت میں مزید تاوان جنگ ادا کرنا پڑے گا۔
    l ڈرون حملے: ۲۰۰۴ء کے بعد سے پاکستان پر عملاً جنگ مسلط کردی گئی ہے۔ آئے روز فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور امریکی طیارے میزائلوں کے ذریعے عورتوں، بچوں، بوڑھوں سمیت بے گناہ شہریوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑا دیتے ہیں۔ اس طرح کے حملوں کی اجازت نہ پاکستان کاآئین دیتاہے، نہ اقوام متحدہ کاچارٹر اور نہ خود امریکا کے اپنے قوانین ہی، لیکن یہ غیر انسانی عمل تسلسل سے جاری ہے۔ امریکی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق کسی دہشت گرد ٹارگٹ اور بے گناہ افراد کی ہلاکتوں میں تناسب ایک اور ۵۰ کا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں کُل ۱۱۸ڈرون حملے ہوئے، ۵۸۴؍افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے مطلوب ٹارگٹ صرف دو تھے۔ اب تو ایک دن میں ۴،۴ ڈرون حملے معمول بن گئے ہیں۔ ریمنڈ کی گرفتاری کے بعد کچھ تعطل آیا تھا لیکن اس کی رہائی کے بعد ایک ہی دن ۱۲ حملے کیے گئے جس میں جرگے کے عمائدین سمیت ۴۱ افراد شہید ہوگئے۔
    l خودکش اور دھشت گردحملے: ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے غصے اور انتقام سے بھرے ہوئے ۱۵سے ۲۰ سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی خود امریکا ،بھارت اور اسرائیل کا ایک نیٹ ورک خود کش حملوں کے لیے استعمال کررہاہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری، اس سے برآمد ہونے والے جاسوسی آلات، تصاویر اور موبائل کی سموں سے اس کے وزیرستان کے دہشت گردوں سے رابطوں سے یہ حقیقت کھل گئی ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے،جہاد کو بدنا م کرنے، اسلام کو دہشت گردی کا دین ظاہر کرنے اور پاکستان کو غیر محفوظ ملک ثابت کرکے اس کے ایٹمی اثاثوں پر عالمی پابندیاں لگوانے کے مقاصد کے تحت پاکستان کی مساجد،مزارات،امام بارگاہوں، جلسوں اور جلوسوں پر حملے امریکا خود ہی کروا رہاہے۔
    l ٹارگٹ کلنگ: پورے ملک میں کسی حد تک لیکن کراچی میں بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کاسلسلہ عروج پر ہے۔ کسی بھی جرم کے بغیر محض کسی خاص زبان بولنے کی بنیاد پر بے گناہ مزدوروں، رکشاو بس ڈرائیوروں،ریڑھی ٹھیلے والوں کو قتل کردیا جاتاہے۔ بھتہ خوری اور ناجائز قبضوں کے لیے بھی انسانی جانوں سے کھیلا جاتاہے۔ اب تک ہزاروں افراد اس سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں، جب کہ کسی ایک بھی واقعے کے قاتل کو سزا نہیں ملی۔ کراچی کے سانحات میں ۱۲مئی، ۹اپریل، ۱۲ربیع الاول،۱۰محرم الحرام، ۲۷اکتوبر اور بے گناہ شہیدہونے والوں میں حکیم محمد سعید، صلاح الدین، محمد اسلم مجاہدوغیرہ جیسے رہنما شامل ہیں۔
    امن عامہ کی صورت حال کے لحاظ سے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہاں پر بھی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے پنجابی اساتذہ،تاجروں اور پولیس اہلکاروں کا قتل ہوا۔ اکبر بگٹی کی ٹارگٹ کلنگ نے حالات میں جو آگ لگائی ہے، اس کی وجہ سے بھارت اور امریکا بلوچستان میں پاکستان مخالف جذبات کو بڑھانے کی سازشیں کررہے ہیں۔ بلوچ رہنماؤں اور جوانوں کی اغوا کے بعد مسخ شدہ لاشوں کا ملنابھی قیامت خیزی میں اضافہ کررہاہے۔
    l لاپتا افراد اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی: گذشتہ پانچ چھے برسوں سے سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کا لاپتا ہونا،اور پھر عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے باوجود برآمد نہ ہونا لمحہ فکریہ بھی ہے اور ایک المیہ بھی! ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغوا کرکے امریکا کے حولے کرنے اور امریکی عدالت کا اسے صرف مسلمان ہونے کے جرم میں ۸۶سال قید دینے کے واقعے نے بھی نوجوان نسل میں بے پناہ اضطراب پیدا کیاہے۔
    l ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ : ۲۷ جنوری ۲۰۱۱ء کو لاہور میں دن دہاڑے ایک امریکی جاسوس اور قاتل نے تین بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کردیا۔ اس کے بعد سے امریکا کامسلسل دباؤ بڑھتا رہا ہے کہ قاتل کو بغیر مقدمہ چلائے اور جاسوس سے بغیر معلومات حاصل کیے اسے امریکا کے حوالے کردیا جائے۔ اس معاملے نے عوام میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سانحے کی طرح حکمران طبقے کی بے حسی اور ملک کی بظاہربے بسی کا احساس زیادہ اُجاگر کردیا۔ اب اسے قصاص و دیت قانون کے تحت آزاد کر کے امریکا بھجوانے سے اس شدت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔
    پایدار امن کیسے؟
    پاکستان میں امن عامہ کی مخدوش عمومی صورت حال اور نائن الیون کے بعد سے پیدا ہونے والے خصوصی حالات کاتقاضا ہے کہ پاکستان میں پایدار امن قائم کیا جائے۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ پایدار امن صرف اسوۂ حسنہؐ کی روشنی میں ہی قائم ہوسکتاہے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے، اس خطے میں ایک مثالی اور پایدار امن قائم فرمایا جہاں دن کے اُجالوں میں قافلے لٹتے اور رات کے اندھیروں میں شب خون مار کر مردوں کو قتل اور عورتوں بچوں کو غلام بنالیاجاتاتھا۔ جہاں بیٹیاں زندہ دفن کر دی جاتی تھیں اور بات بات پر تلواریں میان سے باہر نکلتی تھیں۔ جہاں انتقام درانتقام کے سلسلے برسوں اور نسلوں تک چلتے تھے۔ بقول مولانا حالی:

    کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا
    کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
    یوں ہی ہوتی رہتی تھی تکرار ان میں
    یوں ہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں

    نبی کریمؐ اور ا ن کے لائے ہوئے دین نے جزیرۃ العرب میں وہ مثالی امن قائم کیا کہ سونے کے زیوارت سے مزین ایک عورت کو تنہا صنعاسے حضر موت تک کے طویل سفر میں اللہ کے علاوہ کسی اور کاڈر نہ رہا۔ اس امن کی پایداری یہ ہے کہ ۱۵سو سال بعد آج بھی ان علاقوں میں جرائم کی شرح قریباًنہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں پایدار امن کا قیام صرف اسلامی نظام کے قیام ہی سے ممکن ہے۔ اس لیے کہ اسلامی نظام کے قیام کامقصد ہی قیام خیر اور رفع شرہے:
    اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْر)الحج۲۲:۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
    یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جو فتنہ و فساد،ظلم وزیادتی، جبرواستبداد،قہر و تعدی، استحصال واستیصال اور بدامنی و دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرتاہے۔ اس سلسلے میں تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:
    lداخلی انقلاب : اسلام انسان کو اندر سے مکمل تبدیل کردیتاہے۔ اس کے نفس امارہ کو نفس لوامہ اور پھر نفس مطمئنہ میں بدلتاہے۔ وہ توحید ربانی، محبت و اطاعت رسولؐ، احساس جواب دہی اور فکر آخرت کے عقیدوں اور نظریات و جذبات سے پتھر دلوں، یعنی قلوب قاسیہ کو یاد الٰہی سے نرم دلوں، یعنی قلوب خاشعہ میں بدل دیتاہے۔ یہ اتنی بڑی تبدیلی ہے کہ جس سے انسان اپنے ان جرائم کا خود اعتراف کرتاہے جسے کرتے ہوئے دنیاکی کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ کوئی دعویٰ نہیں، لیکن انسان آخرت کی دائمی سزا کے بدلے اس دنیا کی سخت ترین سزا کو بھی برداشت کرنے پر تیار ہوجاتاہے۔ اندر کی تبدیلی سے امتناع شراب کے قانون پر برسوں،مہینوں یا دنوں میں نہیں چند گھنٹوں میں اس طرح سے عمل ہوجاتاہے کہ پورا معاشرہ اس سے پاک ہوجاتاہے۔
    lجرم کے محرکات کا خاتمہ : اسلام نے ان تمام اسباب کا خاتمہ کیا یا ان کی اصلاح کی کہ جن کی وجہ سے انسان مجرم بنتاہے، مثلاً حُبِ دنیا اور حُبِ مال کو وہن کہاگیا۔ اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُکہہ کر کثرت کے جنون کو وجۂ ہلاکت قرار دیا۔ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَکہہ کر بتایا گیا کہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ غصہ جرائم کو جنم دیتاہے چنانچہ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ کے پیغام سے عفو و درگزر کا سبق دیا گیا۔ تکبر، حسد، تمسخر، بہتان، بدگمانی،غیبت،بُرے القاب،جھوٹ، بددیانتی، خیانت،دھوکا دہی، ذخیرہ اندوزی سے معاشرے میں جرائم بڑھتے ہیں۔ اسی طرح شراب منشیات،جوا، فحاشی، سود،بدکاری، رشوت، سفارش بھی معاشرے میں مجرموں کی افزایش کرتے ہیں۔ ان سب کو حرام قرار دیا گیا۔ گویا کہ اسلام نے جرم کے سرچشموں اور بنیادوں کو ہی ختم کردیا۔
    l انسانی حقوق : خطبۂ حجۃ الوداع کی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق انسانی کا عظیم الشان چارٹر دیا ہے۔ اس چارٹر میں آپ نے انسانی جان کی حرمت،معاشرتی مساوات، جاہلیت کے انتقام درانتقام سلسلوں کے خاتمے،شخصی حقوق: تحفظ جان، تحفظ مال، تحفظ کی بہترین تعلیمات دیں۔ میاں،بیوی،بہن بھائیوں، ماں، باپ اولاد، رشتہ داروں،یتیموں، محتاجوں، ضعیفوں، بیماروں، غلاموں، مزدوروں، پڑوسیوں، دوستوں، مسافروں، اساتذہ، شاگردوں، راہگیروں، غرضیکہ ہر طبقے کے الگ الگ حقوق متعین کیے۔ حقوق العباد کے سلسلے میں یہ بہترین تصور دیا کہ بندوں کے حقوق کی پامالی پر معافی کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس نہیں رکھا بلکہ بندوں کو ہی دے دیا ہے، یعنی جب تک جس کا حق مارا گیاہے وہ خود معاف نہیں کرے گا، انسان کی قیامت کے دن رہائی نہیں ہوسکے گی، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حقوق العباد کی پامالی کی سزا کے طور پر قیامت کے روز اپنی نمازوں، روزوں اور عبادات کے اجر سے ہی محروم ہوجائے۔
    lحقوق نھیں فرائض : دنیا میں حقوق مانگے اور دیے جاتے ہیں۔ اسلام حقوق سے پہلے فرائض کی بات کرتاہے۔ چنانچہ اگر فرائض اداہوجائیں تو حقوق طلبی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نیز اسلام نے حقوق و فرائض میں بہترین توازن و اعتدال قائم کردیاہے۔ اس طرح سے معاشرہ کسی بھی کشاکش اور کش مکش کے بغیر ہی جنت نظیر بن جاتاہے۔
    lقوم نھیں اُمت: بلوچستان کا معاملہ ہو یا کراچی کا، علاقائی مطالبات ہوں یا لسانی تعصبات، اسلام کے تصوراُمت سے خودبخود ختم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ اسلام شعوب و قبائل کو صرف ذریعۂ تعارف قرار دیتاہے، وجۂ تفاخر نہیں۔ قرآن پاک میں مسلمانوں کو کہیں بھی قوم نہیں کہا گیا، جہاں بھی کہاگیاہے اُمت کہاگیاہے۔ اس لیے کہ قومیں عصبیتوں سے بنتی ہیں اور اُمت عقیدے سے۔ قوم زبانوں،علاقوں،نسلوں سے وجود میں آتی ہے اور اُمت ایمان سے بنتی ہے۔
    l نظام عبادات : اسلام نے تصوراُمت اور معاشرتی مساوات کو اپنے نظام عبادات کا حصہ بنا دیا ہے۔ قیام امن کے لیے اسلام کی عظیم الشان بنیادیں محض اخلاقی تعلیمات نہیں، بلکہ عبادات کا مستقل حصہ ہیں۔ اسلام دن میں پانچ مرتبہ امیر وغریب، اعلیٰ و ادنیٰ،افسرو ماتحت، کارخانے دار و مزدور،عربی و عجمی، گورے و کالے، پنجابی و سندھی، بلوچی وپٹھان اور مہاجر وغیرمہاجر کو ایک صف میں کھڑا کردیتاہے۔ یہاں کوئی علاقائی تقسیم نہیں،کوئی معاشرتی درجہ بندی نہیں۔ کوئی لسانی و مادی تفاوت نہیں۔ اسی طرح حج و عمرہ کے موقعے پر تمام علاقائی لبادے اتروالیے جاتے ہیں۔ یہاں کج کلا ہوں کے تاج،عماموں کے پیچ، جبہ و دستار اور شیر وانیاں و وردیاں اتر جاتی ہیں۔
    l امن کے ادارے : اسلام امن کو وعظ و تلقین تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کے قیام کے لیے بہترین ادارے بھی وجود میں لاتاہے۔ ان اداروں میں خاندان اہم ترین ادارہ ہے کہ یہیں سے شفقت ومحبت ہی نہیں تزکیہ وتربیت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ دوسرا اہم ادارہ مسجد ہے جوکہ ایک محلے کو وحدت کی لڑی میں پرو دیتا ہے، اور جہاں دن میں پانچ مرتبہ اہل محلہ ملتے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ تیسرا اہم ادارہ مکتب، یعنی نظام تعلیم ہے۔ تعلیم ہی ایک بہترین انسان وجود میں لاتی ہے، جو ایثار و قربانی کا پیکر اور انسانی حقوق کا عملی محافظ ہوتاہے۔ چوتھا اہم ادارہ ریاست ہے کہ ریاست ہی بناؤ بگاڑ کا مرکز ہوتی ہے۔ ریاست ہی نظام تعلیم تشکیل دیتی اور میڈیا کو اخلاقی ضابطوں کا پابند بناتی ہے۔ ریاست ہی اپنے اداروں، پولیس، فوج اور عدلیہ کے ذریعے معاشرے میں امن قائم اور انصاف فراہم کرتی ہے۔ اسلامی ریاست اگرچہ انعام خدا وندی ہے۔ لیکن اہل ایمان کو انعام کا انتظار کرنے کے بجاے اس انعام کا حق دار بننے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہی مقصدِ بعثتِ رسول ؐ ہے: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا o (الفتح ۴۸:۲۸) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے‘‘۔
    l امن و سلامتی کی تعلیمات: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن و سلامتی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے جہاں بہترین تعلیمات دی ہیں، وہاں انماالمؤمنون اخوہ کا فرمان ربی پہنچایا ہے، اور المسلم اخو المسلم کہہ کر بتادیا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے بے گناہ قتل کرنا کفر قرار دیا ہے۔ ومن یقتل مومنا معتمداً فجزاؤہ جہنم کہہ کر قاتل کا ٹھکانہ جہنم قرار دیا ہے۔ ایک انسان کے قتل کوپوری انسانیت کا قتل کہاگیاہے۔ بتادیا ہے کہ خود کشی حرام موت ہے۔ ایک مسلمان کی حرمت کو خانۂ کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ جس کسی نے ہم میں سے کسی پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ پوری دنیاکا تباہ وبرباد ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مومن کے ناحق قتل ہونے سے ہلکا ہے۔ ذمی یا معاہدکے ناحق قاتل کے لیے فرمایا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ۴۰ سال کی مسافت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔
    l امن وسلامتی کا ماحول: ان تعلیمات کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی کے ماحول کو پیدا کرنے کے لیے نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔ سلام کیا ہے؟ سلامتی کی دعا اور جواب دعاہے۔ دوسرے کے لیے سلامتی کی خواہش و تمنا کا اظہار ہے۔ جس معاشرے میں دن رات کروڑوں انسان ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوں وہاں بدامنی اور قتل وغارت کیسے ہوسکتی ہے۔ ہرمسلمان کے دوسرے پر چھے حق بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں سلام اور اس کا جواب، چھینک پر الحمد للّٰہ اور یرحمک اللّٰہ کا اظہار،بیمار کی تیمارداری،جنازے میں شرکت وغیرہ شامل ہیں۔ مسکراہٹ کو صدقہ اور کارعبادت قرار دے کر مسلمانوں کے معاشرے کو مسکراتے ہوئے چہروں کا معاشرہ بنادیا ہے۔
    l بھترین عدالتی نظام اور کڑی سزائیں : قیام امن میں اہم ترین حصہ عدالتی نظام کا ہوتاہے۔ اسلام نے بہترین عدالتی نظام دیا ہے جس میں عدلیہ کی آزادی، اراکین عدلیہ کی صفات، عدالتی طریقۂ کار،قانون شہادت، غرضیکہ ہر پہلو کو بہترین انداز میں مفصل بیان کیا گیا ہے۔ اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰیز (المائدہ ۵:۸) ’’عدل کرو، یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘، کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْط (النساء ۴:۱۳۵) ’’انصاف کے علَم بردار بنو‘‘، وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْل ط (النساء ۴:۵۸) ’’اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو‘‘، اور دیگر آیات کے ذریعے عدل وانصاف پر بہت زیادہ زور دیاگیاہے۔ اسی طرح اسلام نے چوری، ڈکیتی، رہزنی،بدکاری،بہتان طرازی،شراب نوشی، فساد فی الارض،دہشت گردی وغیرہ جیسے جرائم کے لیے سخت ترین اور عبرت ناک سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ چند افراد کی سزاؤں کے نتیجے میں پورا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔
    l پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام :پاکستان میں پایدار امن صرف اسلامی نظام کے نفاذ کے ذریعے ہی قائم ہوسکتاہے۔ اسلامی نظام کا نفاذ قیام پاکستان کا مقصد وجود، آئین پاکستان کا لازمی تقاضا اور قرارداد مقاصد کا عملی پہلو ہے، نیز اہالیان پاکستان کی تمناؤں کا مرکز ہے۔ اسلامی نظام کے قیام میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں کہ آئین پاکستان اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان بھی کرتاہے، اور پاکستان میں اسلام کو سرکاری مذہب بھی قرار دیتاہے۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے کم وبیش تمام مروجہ قوانین پر قرآن وسنت کی روشنی میں نظرثانی اور تدوینِ نو کا کام بھی مکمل کرلیا ہے۔ اب اگر اہالیان پاکستان اپنے ووٹ کی طاقت کے ذریعے قرآن وسنت کی عملی بالادستی کا راستہ ہموار کردیں، تو ان شاء اللہ پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ امن کے قیام کے لیے قانون کی حکمرانی، امریکی بالادستی اور مداخلت کے خاتمے، ڈرون حملوں کی فوری بندش جو کہ نفرت اور اشتعال انگیزی کا باعث بن رہے ہیں، اور اس ضمن میں پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تو درپیش فوری مسائل کو حل بھی کیا جاسکتا ہے اور اسلامی نظام کے قیام کی منزل بھی قریب آسکتی ہے۔

    Source :http://jamaat.org/beta/site/article_detail/235

    Posted 11 months ago on 11 Jun 2011 21:17 #
  2. scindian
    Member

    Pakistan has urgent need of kamal Atta Turk

    Posted 11 months ago on 12 Jun 2011 17:10 #
  3. wazirabadi
    Member

    سُوْرَةُ الْمَآىِٕدَة- آیات ٥٤-٥٦
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ﴿تو پھر جائے﴾ اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبُوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبُوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے،جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔
    تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسُول اور اہلِ ایمان کو اپنا رفیق بنالے اُسے معلوم ہوکہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 4:05 #
  4. spruce
    Member

    kick out taliban .....
    kick out MQM next lineage of taliban

    kick out those who believe hatered and killings...
    ..
    then
    --
    peace will be at ur door.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 4:13 #
  5. saladin89
    Member

    We need an honest leader who is not involved in corruption and other wrongdoings. The leader requires vision, and needs to have justice is foremost agenda

    (1) Justice for everyone, whatever class they may be from, everyone in Pakistan, to poor to rich. For this to be achieved the police will need major reforms. The court system and judiciary need to be independent, what we see from both courts and police they are influenced with parties. This needs to stop.

    (2) We need to get out of this so called war on terror, this is crippling the economy and innocent lives are geeting washed away.

    (3) We need to have these corrupt leaders accountable, whether it be land mafia or other corruption that has been taken place.

    (4) We require people to pay taxex, this can be only done by aleader who pays his own tax and has his assets in Pakistan. So that poor can be helped.

    (5) We have had the same old faces and parties for the last two decades, who have looted and killed for power. PPP, PML N and MQM have to go, especially the first 2, otherwise we can never have peace in Pakistan.

    (6) We need a leader that thinks of poor, not looting the poor and putting money in foreign bank accounts and buying palaces with the looted money.

    We require a leader, which unfortunatly since quaid e azam we have not had. Or maybe we could have if we make the right choice and realise that these hukumran are all zaalim.
    If not Pakistan will have diffculties in finding any kind of peace.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 4:26 #
  6. wazirabadi
    Member

    سُوْرَةُ الْبَقَرَة- آیات ٢٠٤-٢١٠
    انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن ِ حق ہوتا ہے۔ جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہو تی ہےکہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل ِ انسانی کو تباہ کرے۔۔۔۔حالانکہ اللہ ﴿جسے وہ گواہ بنا رہاتھا﴾ فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جا تا ہے کہ اللہ سے ڈر ، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے ۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضا ئے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہےاو ر ایسے بندوں پر اللہ بہت مہر بان ہے۔ اے ایمان لانے والوں! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔﴿ان ساری نصیحتو ں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہو ں ، تو ﴾کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالاجائے؟۔۔۔۔آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 4:59 #
  7. veestar
    Member

    This week, the world felt what
    Pakistan feels every day. America came near financial bankruptcy , China witnessed terrorist attacks in Xinjiang, Israel faced mass demonstrations on rising cost of living, London faced massive civil disorder and violence between gangs, Dow Jones performed like Karachi Stock Exchange on a bad day, yet life will go on. ....i wish i could ask them all .... how u do you feel now

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 6:32 #
  8. Hussain Farooqui
    Member

    We need to change our colonial style system and dissolve all big land holdings. Colonial period Feudal lords are the biggest obstacle in improving literacy rate. Without abolishing the feudalism, we can't improve the literacy rate to convert the nation into an educated nation. Only an educated nation can solve the the painful problems of Pakistanis.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 7:07 #
  9. scandinavian
    Member

    @HF

    I agree with you, but mark my words. The present leaders from PPP, PML A-Z etc.will NEVER do that since they are an integral part of the system you want to abolish.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 9:24 #
  10. khanamer
    Member

    The policies of current govt is to divide and rule, the govt have managed to create civil-war like situation in Karachi, where they have everyone in govt. The Govt have achieved the target of killing 10-15 peoples a day in Karachi, and they are making sure by introducing further reforms that the killing must go on for another year or two.

    In Balochistan where again the PPP is in govt. they have created the civil-war like situation, the govt have no intentions what so ever to try Musharaf ( as per the instruction of Balochistan High Court) they have not adopted any single policy or strategy which can provide relief to the people there.

    In Khyber-Pakhtoonkha, ANP is in govt, and they have somehow managed to control the things but the province is subject to the terrorism penetrating from the other side of durand line, ANP govt should be appreciated on these grounds that they somehow managed to restore some peace in the province

    In Punjab, again PML-N is in Govt, and the performance of the province is somewhat better than other three ( anything is better than Zero)but now govt have opened a new Pandora box, they have used the wrong to settle a right issue, the issue of making more province, the need of the hour was to form a committee just like it was done for 18th Ammendment, and let them handle the issue, but instead, Babar Awan and Jamshed Dasti took the matter in their hand and are not trying their best to create anarchy in this province.

    So the peace in Pakistan can be restored but the PPP led govt is thinking and acting otherwise.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 10:23 #
  11. Hussain Farooqui
    Member

    scandinavian

    As long as feudal system is existent, no true democracy can be established. Feudal class people always get elected from the platforms of different political parties. As a matter of fact, every political party accommodates feudal class people to avail their negative potential of taking votes from their peasants. Since the so called democracy is established mostly by the feudal class people, so no parliament will do anything positive in the favour of the nation.

    The dictators like Ayub, Yahaya, Zia and Musahraff could abolish the feudal system. If anyone of the mentioned dictators had abolished dictatorship, he would be one of the greatest heroes of the Pakistani history after Jinnah Saheb.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 10:48 #
  12. scandinavian
    Member

    @Khanamer

    I agree to a wide extent, but the present governments performance is NOT zero. It is NEGATIVE. As you already have mentioned they have only made negative "politics" of divide and rule WITHIN their OWN country.

    Re. Punjab government, then their performance is also far from satisfactory. PML has been indulged in friendly opposition and hasn't performed to the expectations of the poor people either. They are always busy making tinkering and no concrete steps have been taken to make a real and positive change in any field.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 10:59 #
  13. Hussain Farooqui
    Member

    scandinavian

    I agree with you that the performance of the present govt. is not zero but -negative. They have already pushed the national institutions like Railways and PIA to the brink of total collapse. The purpose seems to be looking the real estates and other these institutions after their collapse. The previous govts. looted these national institutions, but the present govt. is killing our institutions to make billions and trillions out of the dead bodies of our national institutions.

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 11:08 #
  14. shafiq12
    member

    Pakistan has urgent need of kamal Atta Turk

    Mushraff is no less than Kamal Atta Turk....

    Posted 9 months ago on 13 Aug 2011 11:40 #
  15. toamin
    member

    کمال پاشا کو تو اب اس کے اپنے ترک نہیں مانتے، پر ہماری سوئی اس برطانیہ کے جاسوس پر ہی لگی رہتی ہیں، قصور ہمارے سرکاری سلیبس یعنی مطالعہ پاکستان کا ہے جس نے فرضی ہیرو بنا کر پیش کئے ہوے ہیں

    Posted 9 months ago on 16 Aug 2011 15:28 #
  16. TruthBites
    Members

    We Muslims are in this worst position bcoz we are far away from Quraan teachings, Specially in Pakistan corruption is legal nobody stops them.

    Army, govt, chief justice all are scared from other things but not ALLAH.

    iF they fear ALLAH in real sense then how they can sleep in peace while each and every day innocent people are dying in Pakistan. They got the solution but they keep shut their mouths and do take any action bcoz they love their own benefits first and they want to stay in power.

    Shame to all of them. We as nation salute our army soldiers but our generals have sold themselves.

    Why chief justice dont take so-motto when people die in karachi every day. or govt is not following his orders, why he is not using his powers,, all is drama.

    govt has 1 and half year left and chief justice is just crying and giving statements only. useless he is.

    Why our army generals are quite when innocent people are dying and they know india and america are involved in it.

    Fear ALLAH only and not only read arabic of Quraan, understand this precious message of ALLAH.

    Posted 9 months ago on 17 Aug 2011 12:47 #
  17. saladin89
    Member

    Get rid off PPP, PML N and MQM

    bring PTI u should inshallah get some kind of peace.

    Posted 9 months ago on 17 Aug 2011 13:22 #

RSS feed for this topic

Reply

You must log in to post.